Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا

THE ASCENSION OF CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
10 فروری، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 10, 2013

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

یبوسُی اسرائیل کے دشمن تھے۔ اُنہوں نے یروشلیم کے شہر پر قبضہ خُدا کے لوگوں کے ذریعے باقی بچی ہوئی زمین کے لے چُکنے کے کافی عرصہ بعد کیا تھا۔ لیکن داؤد اور اُس کے لوگوں نے آخر کار شہر پر فتح کر لی۔ داؤد کو یاد تھا کہ کیسے اُس کے سپاہیوں نے یروشلیم کی بُلندیوں پر دھاوا بولا تھا۔ یہ خُداوند کا پہاڑ کوہِ صِیّون تھا، جہاں خُدا کی ہیکل ہونی تھی۔ گیتوں اور خوشی کے نعروں کے ساتھ، داؤد عہد کا صندوق اوپر کوہِ صِیّون پر اُس جگہ جہاں اُسے رکھا جانا تھا لایا تھا۔ لیکن داؤد نے اِس زمینی نظارے سے بھی پرے دیکھا۔ اُس نے مسیح کو آسمان پر چڑھتے ہوئے دیکھا، اور جاتے ہوئے اپنے ساتھ قیدیوں کو لے جاتے ہوئے دیکھا، اور اُس کے لوگوں کے لیے کامیابی سے جیتتے ہوئے دیکھا، تاکہ وہ اُن کے درمیان بطور اُن کے خُدا اور نجات دہندہ کے بس سکے۔ اور اِسی لیے، زبور 68 میں داؤد نے لکھا،

’’جب تو عالمِ بالا پر چڑھا، تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا: تو نے لوگوں سے بلکہ سرکشوں سے بھی ہدیے قبول کیے، تاکہ، تو اے خُداوند خُدا وہاں سکونت کر سکے‘‘ (زبور68:‏18)۔

ایک ہزار سال بعد خُدا کی روح کے ذریعے سے پولوس رسول نے اُن الفاظ کو ہمارے داؤد، خُداوند یسوع مسیح کے لیے جب وہ واپس آسمان پر خُداوند کے داہنے ہاتھ بیٹھنے کےلیے اُٹھائے گئے ادا کیے۔اور یوں رسول نے زبور 68:‏18 کا حوالہ دیا، اِس کو جی اُٹھے مسیح کے لیے استعمال کرتے ہوئے،

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

خُداوند یسوع مسیح آسمان پر سے نیچے آیا جب وہ بیت الحم کی چرنی میں ایک بچے کے طور پر آیا۔ وہ مذید اور نیچے آیا جب وہ ’’ایک غمگین انسان‘‘ بنا، اور رنج سے آشنا ہوا‘‘ (اشعیا 53:‏3)۔ وہ اور نیچے آیا جب ہمارے گناہ اُس پر گتسمنی کے باغ میں لاد دیے گئے، جب وہ اُس کا سانس پھول گیا اور وہ سخت درد و کرب کا اظہار کیا اور پسینہ ’’خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکایا‘‘ (لوقا22:‏44)۔ اور مذید اور زیادہ نیچے آیا جب اُس نے ’’اپنے آپ کو فروتن کردیا اور موت بلکہ صلیبی موت تک فرمانبردار رہا‘‘ (فلپیوں2:‏8)۔ اور وہ مذید اور نیچے آیا جب اُس کا بدن قبر میں رکھا گیا۔ جیسا کہ پولوس رسول نے کہا، ’’وہ زمین کے نیچے کے علاقوں میں بھی اُترا تھا‘‘ (افسیوں4:‏9)۔ اُس کا اُترنا لمبا اور تاریک تھا، ذِلت، تکلیف اور موت میں۔ تاریکی اور چھوڑے جانے کے احساس کی گہرائی میں وہ چلا اُٹھا، ’’اے میرے خُدا، اے میرے خُدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ (متی 27:‏46)۔ قبر کی گہرائی میں وہ لیٹا تھا جب رومی سپاہیوں نے اُس کی قبر کو مہر بند کر دیا اور پہرہ لگایا۔

لیکن تیسرے دِن، صبح ہی صبح، زلزلہ آیا، اور خُدا کے فرشتے نے دروازے پر سے پتھر کو لڑھکا دیا؛ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا اور اُس اندھیری قبر سے باہر چل کر صبح کی روشنی میں باہر آیا!

ھیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
تین اُداس دِن جلدی سے گزر گئے؛
   وہ جلال کے ساتھ مُردوں میں سے جی اُٹھا؛
ہمارے جی اُٹھے سربراہ کو تمام جلال ہو! ہیلیلویاہ!
   ھیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
(’’اختلاف ختم ہو گیا The Strife Is O’ er ‘‘ فرانس پاٹ
   Francis Pott نے ترجمہ کیا، 1832۔1909)۔

اُس شاندار ایسٹر کی صبح مسیح نے اپنا جلالی اُوپر جانا شروع کیا! یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ مُردوں میں سے ہڈیوں اور گوشت کے جسم کے ساتھ جی اُٹھا تھا، وہ زمین پر رہا، اور ’’دُکھ سہنے کے بعد اُس نے اپنے زندہ ہو جانے کے کئی قوی ثبوت بھی بہم پہنچائے اور وہ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتا رہا‘‘ (اعمال1:‏3)۔ مریم مگدیلینی اور جیمس نے اُسے تنہا دیکھا۔ گیارہ شاگردوں نے اُسے دیکھا جب وہ اُن کے درمیان کھڑا تھا، ’’اور اُنہوں نے اُسے بُھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ پیش کیا، اُس نے لیا اور اُن کے روبرو کھایا‘‘ (لوقا24:‏42، 43)۔ دو نے اماؤس کی طرف جاتے ہوئے راستے میں اُس سے بات چیت کی۔ پانچ سو بھائیوں نے ایک ہی وقت میں اُسے دیکھا۔ اُس نے شاگردوں سے کہا، ’’مجھے چُھو کر دیکھو؛ کیونکہ روح کی ہڈیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا تم مجھ میں دیکھ رہےہو‘‘ (لوقا24:‏39)۔ تھوما نے اُس کے ہاتھوں کے سوراخوں میں اپنی انگلیاں ڈالیں، اور یہاں تک کہ اُس کی پسلی میں لگے ہوئے زخم کو جو اُس نیزے سے بنا تھا جس نے صلیب پر اُسے چھیدا تھا دبایا۔ یہ حقیقت کہ یسوع واقعی مرا تھا اُس شگاف والے زخم سے ثابت ہو گئی تھی۔ اور یہ حقیقت کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا تھوما کے جی اُٹھے خُداوند کو چھونے سے ثابت ہو گئی تھی۔ بِلا شک و شبہے کے خُداوند یسوع مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا!

ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!
موت کی قوتوں نے اپنا پورا زور لگا لیا،
   لیکن مسیح نے اُن کے لشکر کو منتشر کردیا؛
آؤ پاک خوشی کے نعرے للکار کر لگائیں۔ ہیلیلویاہ!
   ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ! ہیلیلویاہ!

جب اُس نے اُن پر ثابت کر دیا کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا، مسیح اپنے شاگردوں کو زیتون کے پہاڑ پر لے گیا۔ اور اُن کے دیکھتے دیکھتے، ’’وہ اُوپر اُٹھا لیا گیا؛ اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا‘‘ (اعمال1:‏9)۔ یقیناً شاعر غلط نہیں تھا جب اُس نے کہا،

سُنہرے بربط بج رہے ہیں، فرشتوں کی آوازیں گونج رہی ہیں،
   موتیوں سے جڑے پھاٹک کُھل گئے ہیں، بادشاہ کے لیے کُھل گئے:
مسیح، جلال کا بادشاہ، یسوع، محبت کا شہنشاہ،
   اُوپر آسمان میں اپنے تخت کے لیے فتح کے ساتھ چلا گیا ہے۔
اُس کا تمام کام مکمل ہوا، ہم خوشی سے گاتے ہیں؛
   یسوع اُٹھا لیا گیا ہے: ہمارے بادشاہ کو جلال ہو!
(’’سنہرے بربط بج رہے ہیں Golden Harps Are Sounding‘‘
      شاعر فرانسس آر۔ ہیورگال Francis R. Havergal، ‏1836۔1879)۔

خُداوند یسوع مسیح اُس آسمانی جگہ پر واپس چلا گیا ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ اوہ مسیح، تو کائنات کا بادشاہ ہے! تو باپ کا ابدی بیٹا ہے! تو آسمان کی بُلندی میں، جلال کے ساتھ، قوت کے لبادے میں، بادشاہوں کے بادشاہ اور خُداؤں کے خُدا تخت پر بیٹھا ہے،!

یسوع، نجات دہندہ، ہمیشہ اور ہمیشہ تک حکومت کرتا ہے؛
   اُسے تاج پہنائیں! اُسے تاج پہنائیں! نبی اور کاہن اور بادشاہ!
مسیح آ رہا ہے! دُنیا پر فاتح پا کر،
   قوت اور جلال خداوند کے ہی ہیں:
اُسکی ستائش کریں! اُسکی ستائش کریں! اُس کی شاندار عظمت کے بارے میں بتائیں،
   اُسکی ستائش کریں! اُسکی ستائش کریں! ہمیشہ کے لیے خوشی سے بھرپور گیت میں!
(’’اُسکی ستائش کریں! اُسکی ستائش کریں! ! Praise Him! Praise Him‘‘
     شاعر فینی جے۔ کراسبے Fanny J. Crosby‏، 1820۔1915)۔

جو ہمیں واپس ہماری تلاوت کی طرف لے آتا ہے،

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

اور تلاوت سے ہمیں مسیح کے واپس آسمان پر جانے کے بارے میں تین عظیم سچائیوں کا پتا چلتا ہے۔

I۔ اوّل، مسیح کی فتح اُس کے آسمان پر اُٹھائے جانے میں دیکھی گئی تھی۔

مسیح زمین پر نیچے خُدا اور انسان کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے آیا تھا۔ وہ جنگ جو اُس نے لڑی وہ گوشت اور خُون یعنی انسان کے خلاف نہیں تھی، ’’بالکہ سلطنتوں کے خلاف تھی، اختیار والوں کے خلاف تھی، اِس تاریکی کی دُنیا کے حکمرانوں کے خلاف تھی، شرارت کی روحانی فوجوں کے خلاف تھی جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں6:‏12)۔ مسیح، گناہ، موت اور جہنم کے خلاف لڑا تھا۔ وہ خُدا سے نفرت اور جھوٹے مذہب سے پیار کے خلاف لڑا تھا۔ وہ شیطان اور اُس کے آسیبوں کے خلاف لڑا تھا۔ اُس نے اُن دشمنوں سے اُس وقت تک لڑائی کی جب تک کہ اُس نے خُون کے بڑے قطرے پیسنے کی جگہ پر نہ بہا لیے، اور ’’اپنی جان موت کے لیے نہ اُنڈیل دی‘‘ (اشعیا53:‏12)۔ لیکن جب جنگ کا خاتمہ ہوا، وہ مُردوں میں سے فاتح بن کر جی اُٹھا اور باپ کے تخت کے لیے آسمان میں چلا گیا!

ذلت، مصائب اور بےحُرمتی اب اُس سے کوسوں دور ہیں۔ وہ حقارت آمیز مسکراہٹ والے صدوقیوں اور الزامات لگانے والے فریسیوں کی پہنچ سے پرے اوپر چلا گیا ہے۔اب یہودہ اُس کو چوم نہیں سکتا۔ پیلاطُوس اب اُس کو کوڑے نہیں لگوا سکتا۔ ہیرودیس اب اُس کا تمسخر نہیں اُڑا سکتا۔ وہ اپنے دشمنوں کی پہنچ سے اب ہمیشہ کے لیے انتہائی دور ہے!

وہ جو ہمیں بچانے کے لیے آیا تھا، وہ جس نے خُون بہایا اور مرگیا،
   اب اپنے باپ کے پاس جلال کے ساتھ تاج پہنے ہوئے ہے؛
کبھی بھی مذید تکلیف برداشت نہ کرنے کے لیے، کبھی بھی نہ مرنے کے لیے،
   یسوع، جلال کا بادشاہ، آسمان میں اوپر چلا گیا ہے۔
(’’سُنہرے بربط بج رہے ہیں Golden Harps Are Sounding‘‘، ibid.)۔

زمین پر مسیح کا کام ختم ہو چکا تھا۔ جب وہ صلیب سے چلایا تھا، ’’تمام ہوا‘‘ ہماری نجات کے لیے مذید کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اب وہ اپنے تخت پر سردار کاہن کے طور پر ہمارے لیے مصالحت کرانے کے لیےبیٹھا ہے۔ اب اُس کا نام ہر نام سے اعلٰی و ارفع ہے، اور تمام چیزیں اُس کے تحت کر دی گئی ہیں! یہ مسیح ہے جس پر ہم بھروسہ کرتے ہیں، اور جسے ہم پیار کرتے ہیں!

اور ہمیں کبھی بھی وہ فوائد نہیں بھلانے چاہیے جو ہمیں اُس کے وسیلے سے ملتے ہیں۔ یہ اُسی کے وسیلے سے ہے کہ ہمیں تمام برکات ملتی ہیں۔ ’’وہ آسمان پر چڑھا۔‘‘ ’’وہ قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔‘‘ اُس نے ’’لوگوں کو تحفے دیئے۔‘‘ آئیے مسیح کے آسمان میں اُس کے تخت کے لیے چڑھنے پر خوشی منائیں۔ اُس کا آسمان پر چڑھنا اُس کی جیت کا پختہ ثبوت ہے، اور اُس کی فتح کی تصدیق ہے! تمام باتیں جو ہماری نجات کے لیے چاہیے اب آسمان پر چڑھے مسیح میں ملتی ہیں۔ سچی، اُس کا آسمان پر چڑھنا للکار کر کہتا ہے، ’’تمام ہوا‘‘ – ہماری نجات کے لیے وہ سب جس کی ضرورت ہے خُدا کے داہنے ہاتھ پر جلال کے ساتھ مسیح یسوع پایا جاتا ہے!

II۔ دوئم، مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے نے ہمارے تمام دشمنوں کو شکست دی۔

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا … ‘‘
       (افسیوں 4:‏8)۔

ہم غلام تھے۔ ہم شیطان کی غلامی میں گناہ کے قیدی تھے، ’’جس کی روح اب تک نافرمان لوگوں میں تاثیر کرتی ہے‘‘ (افسیوں2:2)۔ ہم شہوت کے قیدی تھے، ہم خطاؤں کے قیدی تھے، ہم خود اپنے دِلوں کی مکاری کے قیدی تھے۔ لیکن ’’مسیح قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔‘‘ کبھی بھی مت بھولیں کہ آپ اُن تمام دشمنوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے۔ کبھی مت بھولیں کہ آپ ایک نااُمید غلام تھے جیسے مصر میں اسرائیل کے بچے تھے، اور جیسے فرعون تھا، شیطان نے آپ کو ظالم قید میں جکڑا ہوا تھا۔ لیکن مسیح، ہمارے موسٰی نے، آپ کو آزاد کیا! اپنے آسمان پر اُٹھائے جانے سے، ’’وہ قیدیوں کے اپنے ساتھ لے گیا!‘‘ اوہ، اُس کے پاک نام کی ستائش ہو!

بِلاشک و شبہ یہاں آج صبح کچھ ایسے ہیں جو ابھی تک ڈراؤنی تاریکی کے شہزادے، شیطان کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ آپ ’’اُس کے ذریعے سے اُس کی مرضی سے غلام بنا لیے جاتے ہیں‘‘ (2۔ تیموتاؤس2:‏26)۔ لیکن مسیح آپ کو اُس غلیظ آسیب سے آزاد کرانے کے لیے واپس آسمان میں چڑھا چکا ہے۔ جی اُٹھے مسیح پر بھروسہ کریں، اور وہ آپ کو شیطان کے پھندے سے آزاد کرائے گا، گناہ کے جرم سے آزاد کرائے گا، اور موت کے ڈنک سے آزاد کرائے گا! میں جانتا ہوں کہ یہ سچ ہے کیونکہ مسیح نے ایسا میرے لیے کیا ہے! ’’وہ قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا‘‘ اور اپنے قادرمطلق ہاتھ سے مجھے نجات دی ہے!

دلدلی ریت سے اُس نے مجھے اُٹھایا،
   گداز ہاتھوں سے وہ مجھے اُٹھاتا ہے،
رات کے سایوں سے روشنی کے میدانوں میں،
   اوہ، اُس کے نام کی ستائش کریں، اُس نے مجھے اُٹھایا!
(’’اُس نے مجھے اُٹھایا He Lifted Me‘‘ شاعر چارلس ایچ۔ گیبرئیل
   Charles H. Gabriel،‏ 1856۔1932)۔

III۔ سوئم، آسمان میں چڑھا مسیح ہمیں تحفے مہیا کرتا ہے۔

پوری تلاوت کہتی ہے،

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

افسیوں چار باب کے سیاق و سباق میں، ہم کچھ تحفوں کے بارے میں پڑھتے ہیں جو آسمان میں چڑھا مسیح ہمیں پیش کرتا ہے۔

’’اور یہ جو اُترا وہی ہے جو سب آسمانوں سے بھی اُوپر چڑھ گیا تاکہ ساری کائنات کو معمور کرے، اُسی نے بعض کو رسول مُقّرر کیا، بعض کو نبی، بعض کو مُبشّر اور بعض کو کلیسیا کے پاسبان اور بعض کو اُستاد‘‘ (افسیوں 4:‏10۔11).

اُس نے ہمیں رسول عطا کیے، جنہوں نے ہمارے پڑھنے کے لیے نئے عہد نامے کا زیادہ تر حصہ لکھا۔ اُس نے ہمیں خبردار کرنے کے لیے نبی بھیجے۔ وہ انجیل کی منادی کے لیے ہمیں مبشر عطا کرتا ہے۔ وہ ہماری رہنمائی کے لیے پادری پیش کرتا ہے۔ وہ ہمیں بائبل کو سمجھانے اور اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے کے لیے اِساتذہ مہیا کرتا ہے۔ اُس نے نعمتوں سے معمور یہ لوگ دیے ہیں،

’’ تاکہ مُقدّس لوگ خدمت کرنے کے لیے مکمل طور پر تربیت پائیں اور مسیح کے بدن کی ترقی کا باعث ہوں۔ یہاں تک کہ ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کو پورے طور پر جاننے اور اُس پر ایمان رکھنے میں ایک ہو جائیں اور کامل اِنسان بن کر مسیح کے قد کے اندازے تک پہنچ جائیں۔ تب ہم آیندہ کو ایسے بچے نہ رہیں گے کہ ہمیں ہر غلط تعلیم کی تیز ہوا پانی کی لہروں کی طرح اِدھر اُدھر اُچھالتی رہے اور ہم چالباز اور مکار لوگوں کے گمراہ کردینے والے منصوبوں کا شکار بنتے رہیں۔ بلکہ ہمیں محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہنا ہے اور مسیح کے ساتھ پیوستہ ہوکر بڑھتے جانا ہے کیونکہ وہی کلیسیا کا سر ہے۔ اُسی کی وجہ سے بدن کے تمام اعضاء باہم پیوستہ ہیں اور بدن اپنے ہر جوڑ کی مدد سے قائم رہتا ہے۔ چنانچہ جب ہر عضو اپنا اپنا کام صحیح طور پر کرتا ہے تو سارا بدن ترقی کرتا اور محبت میں بڑھتا جاتا ہے‘‘ (افسیوں 4:‏12۔16).

آمین! رسولوں کی تصانیف کو پڑھیں۔ وہ آسمان میں چڑھے مسیح کی طرف سے تحفے ہیں! رسولوں کے الفاظ کو سُنیں، اور اُن سے مستفید ہوں۔ یہ الفاظ آسمان میں چڑھے مسیح کی طرف سے تحفے ہیں! اپنے پادری کو سُنیں اور اُس کے لیے خُداوند کا شکرایہ ادا کریں۔ وہ آسمان میں چڑھے مسیح کی طرف سے تحفہ ہے۔ ایسا ہی نعمتوں سے معمور اساتذہ کے لیے کریں جو وہ آپ کی رہنمائی کے لیے بھیجتا ہے! جی ہاں، ’’اُس نے لوگوں کو تحفے دیے۔‘‘ اُس کے نام کی ستائش کریں!

اپنے آسمان پر اُٹھائے جانے میں ایک اور عظیم تحفہ جو اُس نے ہمیں دیا ہے وہ اُس کا دوسری مرتبہ واپس آنے کا وعدہ تھا۔ زمین پر اُس کا اُترنا آسمان پر واپس اُٹھائے جانے کی یقین دہانی تھی، اور اُس کا اُوپر واپس جانا اُس کے دوبارہ واپس آنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’اگر میں جاکر تمہارے لیے جگہ تیار کروں، تو واپس آکر، تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا…‘‘ (یوحنا 14:‏3).

اُس کے دوبارہ واپس آنے کا وعدہ ہر سچے مسیحی کے لیے ایک بہت ہی عظیم تحفہ ہے، ’’اُن کی مانند غم نہ کرو، جنہیں کوئی اُمید نہیں رہی ہے‘‘ (1۔ تسالونیکیوں 4:‏13)۔ اِس دُنیا کے لوگوں کے پاس بالکل بھی کوئی اُمید نہیں ہے! لیکن مسیحیوں کے پاس بہت بڑی اُمید ہے،

’’کیونکہ خداوند خُود بڑی للکار اور مُقرب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے پھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مر چکے ہیں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں اور ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں۔ پس تُم اِن باتوں سے ایک دُوسرے کو تسلی دیا کرو‘‘ (1۔ تھسلنیکیوں 4:‏16۔18).

یہ ہی ہماری اُمید ہے، اور یہاں تک کہ ’’اُس مبارک اُمید یعنی اپنے عظیم خُدا اور منجی یسوع مسیح کے جلالی ظہور کے منتظر رہیں‘‘ (طِطُس 2:‏13)۔ مسیح کی اِس زمین پر واپسی کی وہ ’’مبارک اُمید‘‘ سب سے عظیم تحفوں میں سے ایک ہے جو اُس کے آسمان پر واپس جانے سے ہمارے لیے محفوظ کی گئی ہے۔ اُس کا اوپر جانا اُس کے دوبارہ نیچے آنے کی یقین دہانی کراتا ہے! جب وہ آسمان پر اُٹھایا گیا، فرشتوں نے کہا، ’’یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم لوگوں نے اِسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے‘‘ (اعمال 1:‏11)۔ آمین!

وہ دوبارہ واپس آ رہا ہے،
   وہ دوبارہ واپس آ رہا ہے،
عظیم جلال اور قوت کے ساتھ،
   وہ دوبارہ واپس آ رہا ہے!
(’’وہ دوبارہ واپس آ رہا ہے He Is Coming Again‘‘
      شاعر میبل جانسٹن کیمپ Mabel Johnston Camp،‏ 1871۔1937)۔

مسیح کا اُوپر آسمان پر اُٹھایا جانا ہمیں یقین دھانی کراتا ہے کہ وہ ہمارے لیے دوبارہ واپس آئے گا۔ وہ معتبر اُمید ایک تحفہ ہے جو آسمان میں اُٹھایا گیا مسیح اپنے لوگوں کو دیتا ہے، ’’اُن کی مانند غم نہ کرو، جنہیں کوئی اُمید نہیں رہی ہے۔‘‘ کتنا عظیم تحفہ ہے! آمین اور آمین! لیکن اِس کے علاوہ بھی کچھ اور ہے۔

مسیح میں نجات نہ پائے ہوؤں کے لیے، آسمان میں اُٹھایا گیا مسیح پاک روح نیچے بھیجتا ہے۔ یسوع نے کہا،

’’مگر میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ میرا یہاں سے رُخصت ہو جانا تمہارے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہیں آئے لیکن اگر میں چلا جاؤں گا تو اُسے تمہارے پاس بھیج دُوں گا۔ جب وہ مددگار آجائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے، وہ دُنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:‏7۔8).

آسمان پر اُٹھائے گئے مسیح نے کہا، ’’میں اُسے تمہارے پاس بھیجوں گا۔‘‘ وہ ’’گناہ کی دُنیا کو تنبیہہ کرنے‘‘ کے لیے پاک روح کو نیچے بھیجتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا کام نہیں ہے۔ یہ پاک روح کا ’’اوّلین ترین کام‘‘ ہے، اُس کا سب سے زیادہ اہم کام۔ مسیح پاک روح کو آپ جیسے کھوئے ہوئے گنہگاروں کو اُن کے گناہ کے تحت سزا میں لانے کے لیے بھیجتا ہے۔ جب آپ گناہ سے بھرے ہوئے اور کھوئے ہوئے محسوس کرتے ہیں، یہ اِس لیے نہیں ہوتا ہے کہ آپ عجیب ہیں یا ’’پُراسرار‘‘ ہیں۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ پاک روح آپ کو آپ کے گناہ دکھا رہا ہے، اور آپ کو آنے والے فیصلے سے خبردار کر رہا ہے۔ پاک روح آپ کے ضمیر کو سزا کے تحت لاتا ہے، اور آپ کو گناہ سے پاک صاف ہونے کے لیے مسیح کے خون کی ضرورت کا احساس دلانے کا سبب بنتا ہے۔ پاک روح کے تحفے کو مذاق میں مت لیں۔ اُس کے گناہ کے تحت لانے کے کام کے فرمانبردار ہوں اور یسوع کے پاس ایمان کے ساتھ آئیں۔ مسیح آپ کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور آپ کو خُداوند کے ساتھ امن و سکون بخشے گا!

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

آسمان میں اُٹھائے گئے مسیح کے سب سے زیادہ اہم تحفوں میں سے ایک جو وہ ہمیں بخشتا ہے اُس کے قیمتی خون کا ہے! مسیح کا خون آپ کے لیے بالکل ابھی دستیاب ہے۔ یہ وہاں ہے، اُوپر آسمان میں، مسیح کے ساتھ۔ اور بائبل کہتی ہے، ’’اُس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا1:‏7)۔ وہ لمحہ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، اُسکا خون آپ کو تمام گناہ سے پاک کر دیتا ہے – اور آپ خُداوند سے ملنے کےلیے تیار ہو جائیں گے اور ہمیشہ کے لیے اُس کے ساتھ بہت خوش رہیں گے! ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ نجات دہندہ پر بھروسہ کریں، اور اُس کے پاک خون سے اپنے تمام گناہ سے پاک صاف کیے جائیں! آمین!

اگر آپ نجات پانے کے بارے میں ہم سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، اور ایک حقیقی مسیحی بننا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے اجتماع گاہ کے پچھلی جانب چلے جائیں جب کہ ہم گیتوں کے ورق میں سے حمد و ثنا کا گیت نمبر سات گاتے ہیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پرسکون مقام پرلے جائیں گے جہاں ہم گفتگو اور دعا کر سکتے ہیں۔ ابھی جائیں جبکہ ہم گاتے ہیں۔

یسوع پیارا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں،
   اور وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا اُس کا پیارا نام ہے،
اور یہی وجہ ہے کہ میں اُس اِس قدر پیار کرتا ہوں؛
   اوہ، یسوع پیارا ترین نام ہےجو میں جانتا ہوں۔
(’’یسوع پیارا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں Jesus is the Sweetest Name I Know‘‘
      شاعر لیلٰی لانگ Lela Long‏، 1924)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan مہربانی سے اُن کے لیے جنہوں نے ردعمل کا اظہار کیا ہے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھومی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: افسیوں 4:4۔13۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
(’’سنہرے بربط بج رہے ہیں Golden Harps Are Sounding‘‘ شاعر فرانسس آر۔
ہیورگال Francis R. Havergal‏، 1836۔1879)۔

لُبِ لُباب

مسیح کا آسمان پر اُٹھایا جانا

THE ASCENSION OF CHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب وہ آسمان پر چڑھا تو قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گیا، اور لوگوں کو تحفے دیے‘‘ (افسیوں 4:‏8)۔

(زبور 68:‏18؛ اشعیا 53:‏3؛ لوقا 22:‏44؛ فلپیوں 2:‏8؛
افسیوں 4:‏9؛ متی 27:‏46؛ اعمال 1:‏3؛
لوقا 24:‏42، 43، 39؛ اعمال 1:‏9)

I.   اوّل، مسیح کی فتح اُس کے آسمان پر اُٹھائے جانے میں دیکھی گئی تھی، افسیوں 6:‏12؛
اشعیا 53:‏12۔

II.  دوئم، مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے نے ہمارے تمام دشمنوں کو شکست دی، افسیوں 2:2؛
2۔ تیموتاؤس 2:‏26۔

III. سوئم، آسمان میں چڑھا مسیح ہمیں تحفے مہیا کرتا ہے، افسیوں 4:‏10۔11،‏12۔16؛
یوحنا 14:‏3؛ 1۔ تھسلنیکیوں 4:‏13، 16۔18؛ طیطس 2:‏13؛ اعمال 1:‏11؛
یوحنا 16:‏7۔8؛ 2۔ یوحنا 1:‏7۔