Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

دُنیا کا ایک قحط

!A FAMINE OF THE WORD
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 فروری، 2013، خُداوند کے دِن کی شام
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 3, 2013

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ دِن آتے ہیں جب میں اس ملک میں قحط ڈالوں گا نہ روٹی کا نہ پانی کا، بلکہ خدا کے کلام کا قحط لوگ سمندر سے سمندر تک اور شمال سے مشرق تک خداوند کے کلام کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے، لیکن نہ پائیں گے۔ اس روز خوبصورت عورتیں اور جوان مرد پیاس سے بے ہوش ہو جائیں گے‘‘ (عاموس 8:‏11۔13).

عاموس بحیرۂ مُردار کے قریب ایک چھوٹا سے گاؤں ٹیکواہ سے آیا تھا۔ وہ یہوداہ کی جنوبی سلطنت کے بیابان سے آیا تھا۔ لیکن خُداوند نے اُسے دور شمال میں، اسرائیل کی بادشاہت میں بھیج دیا، جو یہوداہ سے علٰیحدہ ہو چکی تھی۔ اُن کے بادشاہ، یروبعام اوّل نے بیت ایل میں پرستش کا ایک جھوٹا مقام قائم کیا تھا۔ اُس بُت پرستانہ جگہ کی پرستش کا کاہن اِمصیاہ تھا۔عاموس نے کہا کہ یہوداہ پر خُداوند کا فیصلہ پڑنے کے قریب تھا۔ اُس کی شعلہ بیاں منادی نے جھوٹے نبی اِمصیاہ کو مجبور کر دیا تھا کہ اُس کی ملامت کرے۔ ڈاکٹر چارلس ایل۔ فعین برگ Charles L. Feinberg نے کہا،

ڈھیٹ خود سر اور بے دین انسان کے لیے خُدا کی مرضی اور مقصد کا باضابطہ اعلان [ہمیشہ] ناخوشگوار ہی رہا ہے۔ اور ایسا ہی عاموس کے دِنوں میں بھی تھا۔ خُدا کا کلام ناقابلِ اختلاف نہیں گیا تھا۔ امصیاہ، جو کہ بیت ایل میں سنہری بچھڑے کا سردار کاہن تھا، اُس نے نبی پر یروبعام [بادشاہ] کے سامنے اِلزام لگایا ... بے دین امصیاہ غداری کے بےبنیاد الزام سے شروع کرتا ہے اور اختتام خطرے والی بات کے ساتھ کرتا ہے کہ نبی کے الفاظ کے نتیجے میں شاید بغاوت یا انقلاب ہو ... امصیاہ عاموس کے الفاظ کو توڑموڑ کرایسے پیش کرتا ہے کہ وہ بادشاہ کے خلاف محسوس ہوتے ہیں ... اب امصیاہ .... نبی کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک یہوداہ بھاگ جائے ... کہ وہ بیت ایل میں مذید اور تبلیغ نہیں کرے ... کیونکہ شہر سلطنت کے مذہب کی جاگیر ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے ٹھکانوں میں سے تھا (چارلس ایل۔ فعین برگ، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پی ایچ۔ ڈی۔، ادنٰی نبی The Minor Prophets، موڈی پریس Moody Press، اشاعت 1982، صفحات 113، 114)۔

عاموس نے بےدین کاہن کو جواب دیا، اور اُس کو کہا،

’’عاموس نے امصیاہ کو جواب دیا کہ میں نہ نبی ہُوں نہ نبی کا بیٹا۔ میں تو ایک چرواہا اور گولر کا پھل بٹورنے والا تھا۔ لیکن خدا نے مجھے ریوڑ کے بیچ میں سے لے لیا اور مجھ سے کہا کہ جا، میری قوم اِِسرائیل سے نبوت کر۔ سواب تُو خداوند خدا کا کلام سُن۔ تُو کہتا ہے کہ اِسرائیل کے خلاف نبوت نہ کر، اور اضحاق کے گھرانے کے خلاف کلام نہ کر۔ اس لیے خداوند یوں فرماتا ہے کہ تیری بیوی شہر میں طوائف بنے گی، اور تیرے بیٹے اور تیری بیٹیاں تلوار سے مارے جائیں گے۔ تیری زمین ناپ کر تقسیم کی جائے گی، اور تُو ناپاک ملک میں مرے گا۔ اور اِسرائیل اپنے وطن سے دُور ضرور جلاوطنی میں جائے گا‘‘ (عاموس 7:‏14۔17).

اُن دِنوں میں، پیشنگوئی حیرت انگیز لگتی تھی۔ قوم خوشحالی اور طاقت کی بُلندی پر تھی۔ لیکن عاموس نے خُداوند کا پیغام سُنایا۔ اُس نے منادی کی کہ خُدا کی طرف سے چار فیصلے صادر ہوں گے۔ خُداوند کا پہلا فیصلہ اسرائیل پر تھا کہ وہ جلاوطنی میں غلامی میں جائیں گے۔

’’اس لیے میں تمہیں دمشق سے پرے اسیری میں بھیجوں گا، خداوند فرماتا ہے جو قادرِ مطلق ہے‘‘ (عاموس 5:‏27).

اسرائیل پر خداوند کا دوسرا فیصلہ تھا کہ وہ اُجاڑ و بیابان ہو جائے گی۔

’’اضحاق کے بلند مقام بربادہو جائیں گے اور اِسرائیل کے مُقدّس مقام ویران ہو جائیں گے؛ اور میں یروبعام کے خلاف تلوار لے کر اُٹھوں گا‘‘ (عاموس 7:‏9).

خُداوند کا تیسرا فیصلہ تھا کہ ہر جگہ پر موت کا راج ہوگا۔

’’خداوند فرماتا ہے کہ اس دِن ہیکل کے نغمے ماتم میں بدل جائیں گے۔ ہر طرف بہت سی لاشیں پڑی ہوں گی؛ خاموش!‘‘ (عاموس 8:‏3).

موت کا راج ہر جگہ پر ہوگا۔ وہ چند جو بچ جائیں گے وہ اپنی لاشوں کو شہر سے باہر حیرت زدہ خاموشی میں لے جائیں گے۔ لیکن خُدا کی طرف سے چوتھا فیصلہ دوسروں سے بالکل مختلف تھا۔ چوتھے فیصلے کو دوبارہ سے سُنیں۔

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ دِن آتے ہیں جب میں اس ملک میں قحط ڈالوں گا نہ روٹی کا نہ پانی کا، بلکہ خدا کے کلام کا قحط لوگ سمندر سے سمندر تک اور شمال سے مشرق تک خداوند کے کلام کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے، لیکن نہ پائیں گے۔ اس روز خوبصورت عورتیں اور جوان مرد پیاس سے بے ہوش ہو جائیں گے‘‘ (عاموس 8:‏11۔13).

اِس کے بارے میں سوچیں! غلامی، بربادی اور موت کی اُن تنبیہات کے اختتام پر – خُدا کے فیصلے کا عروج خُداوند کے کلام کے سُننے کا قحط ہوگا۔ لیکن بالکل صحیح معنوں میں سمجھا جائے تو وہ تمام فیصلوں میں سے سب سے بدترین ہے! غلامی، بربادی، اور موت کو تو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خُدا کے کلام کا کھو جانا تمام اُمید ختم کردیتا ہے۔

پادری رچرڈ وومبرانڈ Richard Wurmbrand ‏(1909۔2001) نے رومانیہ میں اشتراکیت پسندوں کی قید میں چودہ سال گزارے۔ اُن پر تشدد کیا گیا تھا اور اُنہوں نے ہر چیز کھو دی تھی – ہر چیز، جو ہے، ماسواءے خُدا کے کلام کے! اور خُدا کے کلام نے ہی اُنہیں اُس تمام تشدد اور تکلیف میں سے گزرنے اور سہنے کی ہمت دی! وینگ مینگداؤ Wang Mingdao ‏(1909۔1991) نے چین میں اشتراکیوں کی قید میں بیس سال گزارے۔ جب ایک انٹرویو لینے والے نے اُن سے پوچھا کہ اُن کی قید کے دوران کیا بات اُن کے لیے سب سے زیادہ اہم رہی تھی، وینگ نے کہا، ’’کلام۔‘‘ اِن لوگوں کے اپنے دِلوں میں بائبل کا کلام تھا، اور اِس نے اُنہیں اپنے ایمان کے لیے قید میں جو کئی سال اُنہوں نے گزارے اُس میں سکون فراہم کیا۔ ایک فرد کے لیے اِس سے بڑھ کر کوئی اور سزا ہو ہی نہیں سکتی، یا ایک قوم کے لیے، کہ خُدا اُن کا فیصلہ ’’خُدا کے کلام کے سُننے‘‘ کا قحط بھیج کر کرتا ہے‘‘ (عاموس 8:‏11)۔ یہ تلاوت میں پیش کیا گیا فیصلہ ہے۔

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ دِن آتے ہیں جب میں اس ملک میں قحط ڈالوں گا نہ روٹی کا نہ پانی کا، بلکہ خدا کے کلام کا قحط لوگ سمندر سے سمندر تک اور شمال سے مشرق تک خداوند کے کلام کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے، لیکن نہ پائیں گے‘‘ (عاموس 8:‏11۔12).

یوں ہم نے تلاوت کا پس منظر، اور اِس کی ایک مختصر سے وضاحت دیکھ لی ہے۔ لیکن دو معاملات ہیں جو اِس سے تعلق رکھتے ہیں جن کو میں پیش کروں گا۔

I۔ اوّل، نظریہ جو ہم تلاوت سے سیکھتے ہیں۔

خُدا نے کہا، ’’میں اِس ملک میں قحط ڈالوں گا ... خُداوند کے کلام کو سُننے کا۔‘‘ یہ حادثاتی طور پر نہیں ہوگا۔ خُدا نے کہا ’’میں اِسے بھیجوں گا‘‘۔

ہمیں نہیں سوچنا چاہیے کہ کلام کی یہ قحط صرف بائبل کو پڑھنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اُن کے پاس بلاشُبہ توریت تھی، موسیٰ کی پہلی پانچ کتابیں۔ اُن کے پاس وہ اُن کے گھروں میں ہوتی ہیں کیونکہ یہ گول کر کے رکھی ہوئی دستاویزات تھیں [سکرول Scroll] مگر وہ اِسے سبت کے روز تلاوت میں سُن سکتے تھے۔ یہ قحط تبلیغ کا تھا، ذہنوں پر چھا جانے والی انبیانہ تبلیغ۔ ڈاکٹر فعین برگ نے کہا،

خُدا اسرائیل کے لیے اپنے لامحدود پیار میں اُسے اپنے خادموں کے ذریعے سے واپس اُس کی اطاعت اور چُنیدہ راستے پر اُس کی مرضی کے مطابق ڈالنے کے لیے پیغامات بھیجتا ہے۔ لیکن اِن نبیوں کی ... مخالفت کی جاتی تھی؛ اُن کے پیغامات کی تحقیر کی جاتی تھی؛ اور اُنہیں [منادی کرنے سے رُکنے] کے لیے کہا جاتا تھا۔ اب خُداوند [یہوداہ] سے کہتا ہے کہ چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی نبیوں کے ذریعے جب اِس کلام کو یہوداہ کے پاس لایا گیا تحقیر کی، اِس لیے یہودہ کو تمام انبیانہ باتوں کا اختتام جاننا تھا۔ خُداوند کا کلام اُس سے واپس لے لیا جائے گا (فعین برگ، ibid.، صفحہ 118)۔

جب لوگ روح سے معمور منادی سُننا نہیں چاہتے ہیں، تو خُدا اِسے واپس لے لیتا ہے – یہ ایک عدالتی سزا ہے۔ بائبل میں اِس کی بے شمار مثالیں ہیں۔ ساؤل بادشاہ نے سیموئیل کے انبیانہ کلام کو مسترد کیا تھا، اور خُدا نے اُس سے مذید کلام نہ کیا تھا (1۔ سیموئیل 28:‏6)۔ حزقی ایل کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں،

’’جب دہشت آئے گی تب وہ امن ڈھونڈیں گے لیکن نہ پائیں گے۔ آفت پر آفت آئے گی اور افواہ پر افواہ سُنائی دے گی۔ وہ نبی سے رویا طلب کرنے کی کوشش کریں گے، کاہن سے شریعت کی تعلیم اور بزرگوں سے مشورت جاتی رہے گی‘‘ (حزقی ایل 7:‏25۔26).

دوبارہ میکاہ نے 3:‏6، 7 میں کہا کہ خُدا یہوداہ کا انصاف نبیوں کو کلام سُنانے سے روکنے کے ذریعے کرے گا۔ ڈاکٹر فعین برگ نے کہا کہ خُدا نے ’’الہٰی صِلّوں کی سچائی کے لیے ایسی مخالفت‘‘ پر انبیانہ تبلیغ کو خاتمہ کر دیا (ibid.)۔

بےدین امصیاہ نے عاموس سے کہا، ’’اب بیت ایل میں اور نبوت نہ کرنا کیونکہ یہ بادشاہ کا مَقدِس اور سلطنت کا دارالخلافہ ہے‘‘ (عاموس 7:‏13)۔ اور اِس طرح خُدا نے اسرائیل کا فیصلہ ’’خُدا کا کلام سُننے کے‘‘ قحط کو بھیجنے سے کیا (عاموس 8:11)۔

نئے عہد نامے میں، خداوند یسوع مسیح یہ کہتے ہوئے یروشلم پر رویا تھا، ’’میں نے کئی دفعہ چاہا کہ تیرے بچوں کو اِس طرح جمع کر لوں جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے جمع کر لیتی ہے لیکن تو نے نہ چاہا، دیکھو تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے... اور یسوع وہاں سے نکل آیا اور ہیکل سے چلا گیا‘‘ (متی 23:‏37، 38؛ 24:‏1)۔ ایک اور موقع پر، گدرینیوں کے آدمیوں کو بدروحوں سے شفا دینے کے بعد، سارے شہر کے لوگ یسوع سے ملنے کے نکلے: اور جب اُنہوں نے اُسے دیکھا، وہ اُسکی منت کرنے لگے کہ وہ اُن کے علاقے سے باہر چلا جائے‘‘ (متی 8:‏34)۔ وہ واقعی علاقے سے نکل گیا تھا۔ اور کبھی وہاں دوبارہ واپس نہیں گیا تھا۔ اُنہوں نے اُسے مسترد کیا تھا، اور اُس نے اُنہیں اُن کے گناہوں میں مرنے کےلیے چھوڑ دیا تھا۔ اعمال کی کتاب میں ’’پولوس کو روح کی گہرائی تک تنگ کیا گیا تھا، جب اُس نے یہودیوں کو گواہی دی تھی کہ یسوع ہی مسیح تھا‘‘ (اعمال18:‏5)۔

’’اور جب یہودی پولوس کے برخلاف ہو کر گالیوں پر اُتر آئے تو اُس نے احتجاج کے طور پر کپڑے جھاڑے اور اُن سے کہا، تمہارا خون تمہاری ہی گردن پر ہو۔ میں اِس سے پاک ہوں: اب سے میں غیر یہودیوں کے پاس جاؤں گا‘‘ (اعمال 18:‏6).

2۔ توایخ کے آخری باب میں ہم اِس قسم کے فیصلے کو دوبارہ پڑھتے ہیں۔

’’خداوند اُن کے باپ دادا کے خدا نے بار بار اُن کے پاس اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اپنا پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔ لیکن اُنہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا، اُس کے کلام کی تحقیر کی اور اُس کے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی۔ حتیٰ کہ خداوند کا قہر اپنے لوگوں کے خلاف ایسا بھڑکا کہ جس کا کوئی چارہ نہ تھا۔ چنانچہ وہ شاہِ بابل کو اُن پر چڑھا لایا جس نے اُن کے جوانوں کو مقدس ہی کے اندر تلوار سے قتل کیا اور اُس نے کسی نوجوان مرد یا عورت، بوڑھے اور عمر رسیدہ کو نہ چھوڑا۔ خدا نے اُن سب کو نبوکد نضر کے ہاتھ میں دے دیا‘‘ (2۔ تواریخ 36:‏15۔17).

یوں ہم بائبل میں سے دیکھتے ہیں کہ وہ خُدا اکثر مضبوط انبیانہ تبلیغ کو فیصلے کے طور پر ہٹا دیتا ہے جب اِسے مسترد کیا جاتا ہے۔ یہ خُدا کی طرف سے عدالتی سزا ہے۔ یہ نظریہ ہے جو ہم اپنی تلاوت سے سیکھتے ہیں۔

II۔ دوئم، تلاوت کا اِطلاق۔

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ دِن آتے ہیں جب میں اس ملک میں قحط ڈالوں گا نہ روٹی کا نہ پانی کا، بلکہ خدا کے کلام کا قحط لوگ سمندر سے سمندر تک اور شمال سے مشرق تک خداوند کے کلام کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے، لیکن نہ پائیں گے۔ اس روز خوبصورت عورتیں اور جوان مرد پیاس سے بے ہوش ہو جائیں گے‘‘ (عاموس 8:‏11۔13).

ڈاکٹر کیتھ ایم۔ بیلی Dr. Keith M. Bailey، جو کہ مسیح اور مشنری اتحادیوں کے ہوم سیکریٹری تھے اُنہوں نے ایک دفعہ کہا،

      میرے خیال میں اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر A. W. Tozer ایک نبی تھے۔ وہ اپنی نسل کے زیادہ تر لوگوں سے کافی پرے دیکھ سکتا تھا۔ وہ پہچاننے اور تجزیہ کرنے کے قابل تھے کہ کیا بات کلیسیا کو اُس کی جڑ سے گلاسڑا رہی تھی۔ انبیانہ سمجھ کے لحاظ سے، وہ مسح کی ہوئی قوت اور اہلیت کے ساتھ اِس سچائی کے لیے بولنے میں جرأت مند تھے (ڈاکٹر کیتھ ایم۔ بیلی میں اِسے بدعت کہتا ہوں! I Call It Heresy! کی تمہید میں مصنف ڈاکٹر اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، مسیحی اشاعت خانےChristian Publications، اشاعت 1974 ، صفحہ 6)۔

درج ذیل دو بیانات ڈاکٹر ٹوزر کی جانب سے ہیں۔ اوّل، اُنہوں نے کہا،

      شیطان اُس مبلغ کے لیے کسی قسم کی پریشانی نہیں کھڑی کرے گا جواپنی جماعت سے بہت سختی کے ساتھ خوفزدہ ہے اور اپنی نوکری کے لیے اِس حد تک پریشان ہوتا ہے کہ وہ تیس منٹوں تک تبلیغ کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اُس کا خلاصہ یہ ہے ’’اچھے بنو اور تم بہتر محسوس کرو گے۔‘‘ آپ جتنا چاہیں اُتنا ہی اچھے بن سکتے ہیں اور اِس کے باوجود جہنم جاتے ہیں اگر آپ نے اپنا بھروسہ یسوع مسیح پر نہیں رکھا ہوا ہے! شیطان کسی ایسے مبلغ کے لیے پریشانی کھڑی کرنے پر اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ہے جس کا واحد پیغام ہی ’’اچھے بنو!‘‘ ہے۔ (اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر، ڈی۔ڈی۔، یسوع کو کسی نے مصلوب کیا؟ Who Put Jesus on the Cross? کتاب کا نام اے۔ ڈبلیو۔ ٹوزر کے بہترین The Best of A. W. Tozer، تشکیل دیے وارن ڈبلیو۔ وائیعرسبی Warren W. Wiersbe، بیکر کتاب گھر Baker Book House، اشاعت 1986، صفحات 230، 231)۔

دوبارہ ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،

      واعظ گاہ میں کھڑے ہو کر واعظ دینے کی موزوں خوبیوں والا شخص ایک اوسط مذہبی جماعت کے ساتھ گزارا کر سکتا ہے اگر وہ اُنہیں صرف ’’چارہ ڈالتا رہے‘‘ اور اُنہیں اپنے راستے پر چلنے دیتا ہے۔ اُن کی انتہائی زیادہ تعریف کرتے رہو اور کبھی بھول کر بھی نہ کہو کہ وہ غلط ہیں، اور وہ مطمئین ہونگے۔ جبکہ دوسری طرف، وہ شخص جو سچ کی تبلیغ کرتا ہے اور اپنے سُننے والوں کی زندگیوں میں اِس کو لاگو کرتا ہے کیلوں اور کانٹوں کو محسوس کرے گا۔ وہ ایک سخت زندگی گزارے گا، لیکن ایک جلالی زندگی۔ خُدا ایسے ڈھیر سارے مبلغ پیدا کرے۔ کلیسیا کو اُن کی انتہائی ضرورت ہے (ibid.، صفحہ 142)۔

لیونارڈ ریون ھِل Leonard Ravenhill ڈاکٹر ٹوزر کے دوست تھے۔ اصل میں ڈاکٹر ٹوزر نے ریون ھِل کی عظیم کتاب کیوں حیات نو سُست رفتار ہوتا ہے Why Revival Tarries، کا تعارف لکھا تھا۔ اپنی کتاب امریکہ مرنے کے لیے بہت کم عمر ہے America is Too Young to Die، ریون ھِل نے کہا،

       یہاں عظیم تبلیغ کا قال پڑا ہوا ہے، ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی منادی کا قحط ہے، دِل کو توڑ دینے والی، روح کو چیر دینے والی منادی کا قحط پڑا ہوا ہے، اُس تبلیغ کا قحط پڑا ہوا ہے جسے ہمارے اباؤاجداد جانتے تھے جو لوگوں کو تمام رات جگائے رکھتی تھی کہ کہیں وہ جہنم میں نہ چلے جائیں۔ میں دھراتا ہوں، ’’یہاں خُدا کے کلام کا قحط ہے۔‘‘ یہاں پُراثر خوشخبری کی تبلیغ کا قحط ہے (لیونارڈ ریون ھِل، امریکہ مرنے کے لیے ابھی بہت کم عمر ہے America is Too Young to Die، بیت عنیاہ کی رفاقت Bethany Fellowship، 1979، صفحہ 80)۔

میں سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر ٹوزر اور لیونارڈ ریون ھِل بالکل درست تھے۔ ’’یہاں اُس تبلیغ کا قحط پڑا ہوا ہے جسے ہمارے اباؤاجداد جانتے تھے جو لوگوں کو تمام رات جگائے رکھتی تھی کہ کہیں وہ جہنم میں نہ چلے جائیں۔‘‘ جی ہاں، آج اُس قسم کی تبلیغ کا قحط پڑا ہوا ہے، یہاں تک کہ انتہائی قدامت پسند گرجہ گھروں میں بھی۔

لیکن یہی تو ہی جس کی آپ کو اگر مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں تو سُننے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو واعظ گاہ میں میرے پیچھے کھڑے ہیں، ڈاکٹر چین Dr. Chan، ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan، مسٹر گریفتھ Mr. Griffith، مسٹر لی Mr. Lee، مسٹر پرودھومی Mr.Prudhomme، مسٹر سونگ Mr. Song، اور مسٹر مینسیا Mr. Mencia جیسے لوگ، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سچائی بولنے کی قیمت ادا کی ہے، سخت سچائی بولنے کی، گناہ پر خُدا کے فیصلے کی سچائی، یہ سچائی کہ آپ کو نئے سرے سے ضرورجنم لینا چاہیے، کہ آپ کو ضرور مسیح میں تبدیل ہونا چاہیے – ورنہ آپ جہنم میں چلے جائیں گے۔ یہ آج اکثر سُننے میں نہیں آتا ہے۔ لیکن یہی سچائی ہے! خُداوند یسوع مسیح نے کہا،

’’یہ لوگ ہمیشہ کی سزا پائیں گے… ہمیشی کےلیے جلتی رہنے والی آگ جو ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ (متی 25:‏46،‏41).

ہمیں آپ کو سچائی ضرور بہ ضرور بتانی ہے۔ ہمیں عاموس نبی کی مانند بُلایا گیا ہے، آپ کوسچائی بتانے کے لیے۔ ہمیں سچ کو چھپانا نہیں چاہیے۔ ہمیں خُداوند کی طرف سے آپ کو سچ بتانے کے لیے پابند کیا گیا ہے! ہمیں پاک روح کے ذریعے سے قوت دی گئی ہے کہ آپ کو سچ بتائیں! پاک تثلثی خُدا کی حضوری میں آپ کو آپ کی کھوئی ہوئی حالت کے بارے میں اعلانیہ بتانے کے لیے خُداوند یسوع مسیح کی طرف سے ہمیں پابند کیا گیا ہے! آپ کھوئے ہوئے ہیں! آپ کھوئے ہوئے ہیں! مسیح نے کہا کہ شیطان اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہمیشہ کی آگ‘‘ آپ کا مقدر ہے (متی 25:‏41)۔

دوسروں کو ہنسنے دیں۔ اُنہیں ہماری تبلیغ کا تمسخر اُڑانے دیں۔ اُنہیں مسترد کرنے دیں جو ہم کہتے ہیں، بالکل جیسے بدکار امصیاہ نے عاموس نبی کے انتباہ کو مسترد کر دیا تھا۔ ہمیں پابند کیا گیا ہے وہ کہنے کے لیے جو عاموس نے اُس گناہ سے بھرے شخص کو کہا تھا، ’’تو ناپاک ملک میں مرے گا: اور [تو] اِسرائیل اپنے ملک سے دور یقیناً جلاوطنی میں جائے گا‘‘ (عاموس 7:‏17)۔ آپ کی سوچ سے پہلے موت آپ کو آ دبوچے گی۔ اور آپ کی روح سر کے بل ہمیشہ کے لیے جلنے والی آگ میں دھنستی جائے گی! دوسروں کو مذاق اُڑانے اور ھنسنے دیں، اور ہماری توہین کرنے دیں جیسے جھوٹے نبی نے عاموس کی توہین کی تھی۔ لیکن ہم خُداوند کےکلام کو سُنانا نہیں روک سکتے۔ خُداوند کا کلام! خُداوند کا کلام! خُداوند کا کلام آپ سے کہتا ہے کہ آپ ’’دئمی سزا میں ڈالے جائیں گے ... ہمیشہ تک جلتی رہنے والی آگ میں۔‘‘ یہ ہے خُدا کا کلام – خداوند یسوع مسیح کا!

اوہ، اُس کے کلام کو اہمیت دیں! اوہ، اُس کےکلام کو سمجھیں! اوہ، اُس کے کلام پرتوجہ دیں! اوہ، اُس کے کلام سے خوف کھائیں! اوہ، یسوع مسیح کے پاس فوراً آئیں۔ تنہا وہ ہی آپ کو نجات دے سکتا ہے! تنہا وہ ہی اپنے قیمتی خون سے آپ کے گناہ پاک صاف کر سکتا ہے! تنہا وہ ہی آپ کو راستبازی کا لبادہ پہنا سکتا ہے! تنہا وہ ہی آپ کو آسمان کے لیے مناسب تیار کر سکتا ہے – اور تنہا وہ ہی آپ کو دائمی شعلوں سے بچا سکتا ہے! توبہ کریں، یسوع پر بھروسہ کریں، اور اُس کا خون آپ کے گناہ دھو ڈالے گا، اور آپ نجات پا جائیں گے!

میں ایک گیت گانے جا رہا ہوں، اگر میری بات آپ کے ضمیر تک پہنچ گئی ہے تو اپنی نشست چھوڑیں اور اِس اجتماع گاہ کی پچھلی جانب چلے جائیں جبکہ میں گاتا ہوں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ سے نجات دہندہ کے خون سے نجات پانے اور گناہ سے پاک صاف ہونے کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ بالکل ابھی جائیں جبکہ میں گیت گاتا ہوں۔

وہاں خون سے بھرا ایک چشمہ ہے
   عمانوئیل کی رگوں سے کھینچا گیا:
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں، اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
   اور گنہگار، اُس سیلاب کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں،
اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں۔
   (’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر
       William Cowper، ‏1731۔1800)۔

ڈاکٹر چعین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر ایبل پرودھمی Mr. Abel Prudhomme نے کی تھی: عاموس 7:‏10۔17 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’خون سے بچایا گیا Saved By the Blood‘‘ (شاعر ایس۔ جے۔ ھینڈرسن S.J. Henderson‏، 1902).

لُبِ لُباب

دُنیا کا ایک قحط

!A FAMINE OF THE WORD

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’خداوند خدا فرماتا ہے کہ وہ دِن آتے ہیں جب میں اس ملک میں قحط ڈالوں گا نہ روٹی کا نہ پانی کا، بلکہ خدا کے کلام کا قحط لوگ سمندر سے سمندر تک اور شمال سے مشرق تک خداوند کے کلام کی تلاش میں بھٹکتے پھریں گے، لیکن نہ پائیں گے۔ اس روز خوبصورت عورتیں اور جوان مرد پیاس سے بے ہوش ہو جائیں گے‘‘ (عاموس 8:‏11۔13).

(عاموس 7:‏14۔17؛ 5:‏27؛ 7‏:9؛ 8:‏3)

I.   وّل، تلاوت سے جو نظریہ ہم سیکھتے ہیں، 1۔ سیموئیل 28‏:6؛
حزقی ایل 7:‏25۔26؛ میکاہ 3:‏6، 7؛ عاموس7:‏13؛ متی 23، 37، 38؛
متی 24:‏1؛ 8:‏34؛ اعمال 18:‏5، 6؛ 2۔ تواریخ 36:‏15۔17 .

II.  دوئم، تلاوت کا اِطلاق، متی 25:‏46، 41؛ عاموس 7:‏17 .