Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اتنا زیادہ مت سوچیں

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 69)
DON’T LINGER TOO LONG
(SERMON #69 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
27 جنوری، 2013، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 27, 2013

’’ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اُن مردوں نے اُس کا اور اُسکی بیوی اور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُنہیں حفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گئے کیونکہ خداوند اُن پر مہربان ہُوا تھا‘‘ (پیدائش 19:‏16).

پیدائش کا اُنیسواں باب سُدوم کے شہر کی ایک انتہائی بداخلاق تصویر پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر جے۔ ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے اِسکا موازنہ لاس اینجلز کے شہر کے ساتھ کیا، جس میں وہ رہتے ہیں۔ اُس عظیم اور بدکار شہر میں لوط نامی ایک شخص اپنی بیوی اور اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ خُدا سُدوم کو ایک ہولناک فیصلے میں تباہ کرنے والا تھا۔ لیکن اُس نے دو فرشتوں کو لوط اور اُس کے خاندان کو شہر سے باہر نکالنے کی راہنمائی کے لیے فیصلے کے عمل پزیر ہونے سے پہلے بھیجا۔ اِس کے باوجود لوط سوچ میں پڑ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ شہر نے تباہ ہو جانا تھا، لیکن ہو ہچکچایا تھا۔ ایسا کرنے سے وہ ہمیں ایک بیدار گنہگار کی یاد دلاتا ہے۔ لوط کی مانند، بیدار گنہگار جانتا ہے کہ فیصلہ ہونے والا ہے۔ لوط کی مانند، وہ جانتا ہے کہ اُس گناہ سے منہ موڑ لینا چاہیے، دُنیا سے باہر نکلنا ہے اور یسوع کے پاس آنا ہے۔ لیکن جیسے لوط سدوم میں سوچ میں پڑ گیا تھا، ایک بیدار گنہگار شاید ہچکچائے، پیچھے ہٹ جائے،اور سوچ میں پڑا رہے، یسوع کے پاس آئے بغیر۔

کچھ لوگ نجات دہندہ کے پاس جلدی آ جاتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے میں وہ نجات پا جاتے ہیں۔ لیکن بہت سے دوسرے ٹھہر جاتے ہیں،اور سوچ میں پڑ جاتے ہیں، اور خطرے کی جگہ پر ایک لمبے عرصے کے لیے ہچکچاتے ہیں۔ پیغامبروں کے طور پر لوط کو خطرے سے نکالنے کےلیے فرشتے بھیجے گئے تھے۔ اور اِسی لیے آج گنہگاروں کو تباہی کے راستے سے پرے رہنمائی کرنا اور مسیح کی طرف لانا ایک ’’فرشتوں والا‘‘ کام ہے۔ اگر ہمیں اُن فرشتوں کی مانند ہونا ہے، اور اپنے دوستوں اور پیاروں کو نجات دلانے کے لیے استعمال ہونا ہے، تو ہمیں وہی کرنا چاہیے جو اُن فرشتوں نے کیا، اور اُنہیں فیصلے سے دور ہونے کے لیے مجبور کرنا چاہیے اور مسیح کے پاس لانا چاہیے۔ یہ ایک کھوئے ہوئے شخص کے لیے خُدا کے رحم کا ایک نشان ہوتا ہے جب اُس کے پاس دوست یا رشتہ دار ہوتے ہیں جو اُسے مسیح کے پاس آنے کے لیے حوصلہ دیتے ہیں۔ اِس لیے تلاوت ہمیں بتاتی ہے، ’’خُداوند اُس پر مہربان ہوا تھا۔‘‘ جب وہ آپ سے بچائے جانے کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں تو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ لفظ ’’فرشتے‘‘ کا مطلب ’’پیغام لانے والا‘‘ ہوتا ہے۔ وہ جو آپ کو مسیح کے پاس آنے کے لیے ہمت بندھاتے ہیں خُدا کے فرشتے ہیں، خُدا کے پیغام لانے والے ہیں۔ ایک مبشر کی حیثیت سے، میں اُن میں سے ایک ہوں۔ ہم خوشی منائیں گے اگر ہم آپ کو سوچ میں پڑنے سے روکنے اور مسیح کے پاس لانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ خُدا کا رحم ہم جیسے پیغام لانے والوں کو آپ کو فیصلے کے شعلوں سے بچانے کے لیے بھیجتا ہے!

’’ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اُن مردوں نے اُس کا اور اُسکی بیوی اور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُنہیں حفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گئے کیونکہ خداوند اُن پر مہربان ہُوا تھا‘‘ (پیدائش 19:‏16).

اب، اِس صبح میں آپ میں سے اُن کے ساتھ پہلے بات کرنے جا رہا ہوں جو خُدا کے پیغام بر ہیں۔ پھر میں آپ میں سے اُن سے بات کروں گا جو ابھی تک سوچ میں پڑے ہوئے ہیں، یسوع کے پاس آنے کے بجائے ابھی تک ٹھہرے ہوئے ہیں۔

I۔ اوّل، میں خُدا کے پیغام لانے والوں سے بات کروں گا۔

سدوم کے شہر میں فرشتے بطور پیغام بر آسمان سے اپنا کام کرنے کے لیے نیچے آئے تھے۔ کبھی کبھی آپ میں سے وہ جو بطور گواہ جاتے ہیں محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو سراہا نہیں جاتا ہے۔ آپ کھوئے ہوؤں کے پیچھے جاتے ہیں اور اُنہیں خوشخبری سُنانے کے لیے اندر لاتے ہیں۔ لیکن وہ جن کے پاس آپ جاتے ہیں عموماً شکرگزار نہیں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ آپ کی جانب باغی ہو جاتے ہیں۔ وہ آپ سے بات کرنے اور اُنہیں یسوع پر بھروسہ کرنے کے بجائے اُمید کے بغیر زندگی گزارتے رہنے کو ترجیح دیتے ہوں گے۔ اِس بات پر اتنے حیرت زدہ مت ہوں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا کہتے یا کرتے ہیں، یہ اُتنا بُرا نہیں ہوگا جتنا اُنہوں نے یسوع کے ساتھ جو کچھ کیا تھا۔ مسیح یسوع دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1۔ تیموتاؤس 1:‏15)۔ لیکن اَس کے بارے میں سوچیں کہ یسوع کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اُس کی اپنی ماں اور اُس کے اپنے بھائیوں نے یقین نہیں کیا تھا۔ اُس کے عزیزوں نے کہا، ’’وہ اپنے آپے میں نہیں ہے‘‘ (مرقس 3:‏21) – اُنہوں نے کہا کہ اُسکا دماغ پھر گیا تھا! مذہبی رہنماؤں نےکہا، کہ اُس میں ’’بدروح‘‘ تھی – کہ وہ سامری تھا (یوحنا 8:‏48)۔ اُنہوں نے تو یہاں تک ... کہ اُس پر برسانے کے لیے پتھر تک اُٹھا لیے تھے‘‘ (یوحنا 8:‏59)۔ جب پولوس رسول نے فِستُس کے سامنے گواہی دی تھی، تو اُس نے کہا، ’’پولوس، تو دیوانہ ہو گیا ہے، علم کی زیادتی نے تجھے پاگل کر دیا ہے‘‘ (اعمال 26:‏24)۔ پولوس رسول کا نیرو بادشاہ سے مسیح کے بارے میں گواہی دینے پر سر قلم کروا دیا تھا۔ خود یسوع مسیح کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اُسے کھوئی ہوئی دُنیا کو خُوشخبری کی اچھی نوید سُنانے کے لیے مصلوب کر دیا گیا تھا۔ اور یسوع نے کہا تھا،

’’اگر دنیا تُم سے دشمنی رکھتی ہے تو یاد رکھو کہ اُس نے پہلے مجھ سے بھی دشمنی رکھی ہے۔ اگر تُم دنیا کے ہوتے تو دنیا تمہیں اپنوں کی طرح عزیز رکھتی لیکن اب تُم دنیا کے نہیں ہو کیونکہ میں نے تمہیں چُن کر دنیا سے الگ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا تُم سے دشمنی رکھتی ہے میری یہ بات یاد رکھو کہ کوئی نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اگر دنیا والوں نے مجھے ستایا ہے تو وہ تمہیں بھی ستائیں گے۔ اگر اُنہوں نے میری بات پر عمل کیا تو تمہاری بات پر بھی عمل کریں گے‘‘ (یوحنا 15:‏18۔20).

اگر ہم مسیح کے لیے وفادار گواہ بننے جا رہے ہیں تو ہمیں سُدوم میں فرشتوں کے ساتھ کیا ہوا، یا مسیح کے ساتھ کیا ہوا یا پولوس رسول کے ساتھ کیا ہوا اِس کے مقابلے میں اِس گناہ سے بھرپور دُنیا سے کسی بہتری کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔

جب آپ کو مسترد کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے مسیح کے لیے گواہی دی، تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ نجات دہندہ نے کہا،

’’مبارک ہو تُم جب اِبنِ آدم کے سبب سے لوگ تُم سے کینہ رکھیں، اور تمہیں الگ کر دیں، تمہاری بے عزتی کریں اور تمہارے نام کو بُرا جان کر کاٹ دیں۔ اُس دِن خوش ہونا اور خوشی کے مارے اُچھلنا کیونکہ تمہیں آسمان پر بڑا اجر حاصل ہوگا، اِس لیے کہ اُن کے باپ دادا نے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا تھا‘‘ (لوقا 6:‏22۔23).

’’اُس دِن خوش ہونا‘‘! ’’آسمان میں تمہارا اجر بہت بڑا ہے‘‘! ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

تجدید نو کی قیمت، لوگوں کا دِل جیتنے کی قیمت،
   کئی گھنٹوں کی دعائیں، بوجھ، آنسو؛
گنہگاروں کے ساتھ التجائیں حالانکہ اکیلا، ایک اجنبی،
   اوپر حاصل کرنے پر تلافی کی گئی ہے۔
حاصل کرنے کے لیے، بہت زیادہ حاصل کرنے کےلیے!
   یہاں نیچے لوگوں کا دِل جیتنے کی قیمت کے لیے۔
(’’تجدید نو کی قیمت The Price of Revival‘‘ شاعر جان آر۔ رائس
     John R. Rice، ڈی۔ ڈی۔، 1895۔1980)۔

شدت گرمی، لگاتار مشقت، اور سختی کے باوجود،
   اُن ٹوٹے ہوئے دِلوں پر جنہیں ہم نہیں جیت سکتے؛
غلط سمجھا گیا کیونکہ ہمارے لیے مخصوص [سوچا گیا] تھا،
   مگر ہمارے گناہ کے علاوہ ہمیں کوئی اور پچھتاوا نہیں ہوگا۔
آج ہم کاٹیں گے، نہیں تو اپنی سُنہری فصل کو کھو دیں گے!
   آج ہمیں کھوئے ہوئے بشروں کو جیتنے کے لیے موقع دیا گیا ہے۔
ہائے پھر کچھ پیاروں کو جلائے جانے سے بچانے کے لیے،
   آج ہم جائیں گے کچھ گنہگاروں کو اندر لانے کے لیے۔
(’’کتنا کم وقت So Little Time ‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
       Dr. John R. Rice، ‏1895۔1980 )۔

اور اب کچھ الفاظ اُن کے لیے جو کھوئے ہوؤں کو ٹیلی فون کرتے ہیں، خُوشخبری سُننے کے لیے اور گرجہ گھر میں اندر آنے کے لیے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اپنا بہت وقت اُنہیں گرجہ گھر میں اندر لانے کے لیے فون کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کیسے وہ کبھی کبھی جواب دینے سے انکار کر دیتے ہیں جب آپ اپنا نمبر واپس کال کرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ کیسے وہ آپ کے ساتھ گستاخانہ الفاظ بولتے ہیں۔ میں جانتا ہوں، یہاں تک کہ آپ سے وعدہ کرنے کے بعد بھی، وہ کیسے آپ کو فون پر کبھی کبھی لکھ کر پیغام دیتے ہیں اور آخری منٹ میں آنا ملتوی کر دیتے ہیں۔ ایسے وقتوں میں، حوصلہ مت ہاریں۔ یاد رکھیں کہ کیسے سُدوم کے لوگوں نے پیغامبر فرشتوں کے ساتھ سلوک کیا تھا۔ یاد رکھیے کہ اُنہوں نے یسوع کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا تھا، اور پولوس کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا تھا۔ اور اُن وقتوں میں، ڈاکٹر رائس کا پسندیدہ گیت یاد رکھئیے،

دُنیا کو مجھے چھوڑنے اور میری تحقیر کرنے دو،
   اُنہوں نے میرے نجات دہندہ کو بھی چھوڑا تھا؛
انسانوں کے دِلوں اور چہروں نے مجھے دھوکہ دیا تھا؛
   یہ سچ نہیں ہے، تم آدمی جیسے نہیں ہو؛
اور جبکہ تم مجھے پر ھنستے ہو،
   حکمت کا خُدا مجھے قوت اور پیار دیتا ہے،
دشمن شاید نفرت کریں، اور دوست شاید مجھ سے اجتناب کریں؛
   اپنا چہرہ دکھائیں، اور تمام روشن ہوتا ہے۔

فضل سے جلال کے لیے تم جلدی کرو،
   ایمان سے لیس ہو کر اور دعا میں پرواز کرتے ہوئے؛
آسمان کا دائمی دِن تمہارے سامنے ہے،
   خود خُدا کا اپنا ہاتھ تمہاری رہنمائی کرے گا۔
جلد ہی تمہارا زمینی مشن بند ہو جائے گا،
   تیری ہجرت کے دِن سُبک رفتاری سے گزر جائیں گے،
اُمید پھل دینے کے خوشی میں بدل جائے گی،
   حضوری کے لیے ایمان اور ستائش کے لیے دعا۔
(’’یسوع، میں اپنی صلیب اُٹھا چکا ہوں Jesus, I My Cross Have Taken‘‘
       شاعر ھنری ایف۔ لائٹ Henry F. Lyte، ‏1793۔1847)۔

ہمت مت ہاریں! اُس دِن خوش ہوں! آسمان میں آپ کا اجر عظیم ہے! آمین!

II۔ دوئم، میں اُن کے ساتھ چند الفاظ کہوں گا جو سوچ میں پڑے ہوئے ہیں۔

’’ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اُن مردوں نے اُس کا اور اُسکی بیوی اور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُنہیں حفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گئے کیونکہ خداوند اُن پر مہربان ہُوا تھا‘‘ (پیدائش 19:‏16).

اِس موقع پر میں ضرور کہنا چاہتا ہوں، کہ یہ چھوٹا سا واعظ سپرجئین کے ایک واعظ میں سے سرسری طور پر اخذ کیا گیا ہے، جو مبشروں کا شہزادہ ہے (’’سوچ میں پڑنے والے جلدبازی کرتے ہیں Lingerers Hastened، ایم ٹی بی نمبرMetropolitan Tabernacle Pulpit number 789 )۔ سپرجئین نے کہا،’’مجھے اب اپنے بھائیوں کو چھوڑنا دینا چاہیے۔ خود کو سوچ میں پڑے ہوؤں سے مخاطب ہونے کے لیے جن کی تعداد اب بہت زیادہ موجود ہے، جو سُدوم کے پھاٹکوں پر سوچ میں پڑے ہوئے ہیں، نجات نہ پائے ہوئے اور تباہی کے خطرے میں ہیں۔‘‘ آپ انتظار کر رہے ہیں، اور انتظار کر رہے ہیں، اور انتظار کر رہے ہیں، بار بار اور بار بار ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔ لیکن آپ یسوع کے پاس نہیں آتے ہیں۔ آپ سُدوم کے پھاٹک پر سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔

آپ کیوں انتظار کرتے اور سوچ میں پڑتے ہیں؟ میرے خیال میں لوط سوچ میں پڑا تھا کیونکہ شہر میں اُس کی جائیداد تھی، اور وہ اُسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ شاید اُس کی بھیڑوں کے ریوڑ اُس وقت کی سُدوم کی زرخیز زمینوں میں چرتی تھیں۔ کیا آپ سوچ میں پڑتے ہیں کیونکہ آپ خوفزدہ ہیں کہ کہیں آپ اپنے کاروبار یا کیرئیر میں سے کچھ کھو نہ دیں؟ میرے دوست، آپ کچھ بھی کھو دیں، اپنی جان تو مت کھوئیں! وہ دِن آئے گا جب آپ اپنی جان کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اپنے سارے روپے پیسوں کو بے قیمت دیکھیں گے جو آپ کے پاس ہے۔

لوط کی بیوی کیوں سوچ میں پڑ گئی تھی؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اُس کی دوسری بیٹیاں اور بیٹے بھی تھے، جو شہر چھوڑنے کے لیے نہیں جا رہے تھے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ لوط کی دوسری بیٹیاں ہوں، کیونکہ وہ دو جو اُسکے ساتھ تھیں غیر شادی شُدہ تھیں، اور اِس کے باوجود ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس کے داماد تھے جنہوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا تھا جب لوط نے اُنہیں آنے والے فیصلے کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ حقیقت کہ لوط کے داماد تھے ظاہر کرتی ہے کہ اُس کی دوسری شادی شدہ بیٹیاں تھیں۔ کیا لوط کی بیوی سوچ میں پڑ گئی تھی، اور پھر پیچھے دیکھا تھا، کیونکہ اُس کے بیٹیاں تھیں جنہیں چھوڑنا اُس کی برداشت سے باہر ہوگا؟ کیا اُس کے دوست بھی تھے جنہوں نے شہر نہیں چھوڑا ہوگا؟ ایسا ہو سکتا ہے کہ دونوں سچے ہوں۔ اگر آپ سوچ میں پڑے ہوئے ہیں، اور مسیح کے پاس نہیں آ رہے ہیں، تو کیا آپ کی بھی وجہ یہی تو نہیں ہے؟ میں آپ کو بتاتا ہوں، یہ بہتر ہوگا کہ اپنے تمام خاندان اور اپنے تمام دوستوں کو بھی کھو دیں، بجائے اِس کے کہ اُن کی دوستی اور خیال کو رکھنے کے اپنی جان کھو دیں! بندھن کو توڑ دیں، اگر یہ آپ کو تباہ کرنے کے لیے باندھتا ہے۔چھری کے ساتھ کاٹ دیں، اور اُس سیدھے ہاتھ کو بھی کاٹ دیں، اور اُس سیدھی آنکھ کو بھی پھوڑ دیں، جلدی کہیں اِن کے بدلے میں جہنم کی آگ میں غائب نہ ہونا پڑ جائے،‘‘ سپرجیئن نے کہا – اور وہ ایسا کہنے میں سچے تھے!

میں نہیں جانتا ہوں کہ کیوں لوط کی بیٹیاں سوچ میں پڑ گئی تھیں۔ لیکن اُن کے غالباً شہر میں دوست تھے جنہیں وہ کھونا نہیں چاہتی تھیں۔ آپ میں سے کچھ نوجوان لوگوں کے شاید کھوئے ہوئے دوست ہوں جن سے علیحدہ ہونے سے آپ خوفزدہ ہوں۔ شاید آپ خوفزدہ ہوں کہ وہ آپ پر ہنسیں گے۔ لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ جب آپ مریں تو مشہور ہونے اور جہنم کے آگ میں جھونکے جانے کے مقابلے میں اپنا مذاق اُڑوایا جانا اور آسمان میں جانا کہیں درجے بہتر ہے! آپ کا شاید جہنم میں جانے پر مذاق اُڑایا جائے، لیکن آپ کا اِس سے دوبارہ باہر نکلنے پر مذاق نہیں اُڑایا جا سکتا ہے!

سوچیں! اِس دُنیا میں حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا ہے جو آپ کی جان کو کھو دینے کے مقابلے میں بہتر ممکن ہو سکتا ہے؟ آپ کیوں باہر آنے اور یسوع کے پاس جانے سے انکار کرتے ہیں؟ آپ کیوں سوچ میں پڑے ہوئے ہیں؟ اگر یہ گنہگاروں کی دوستی کی وجہ سے ہے، تو آپ ایک دیوانے کی طرح سوچ میں پڑ گئے ہیں! اوہ، خُدا کرنے آپ کی دیوانگی جلد سے علاج پا جائے اِس سے پہلے کہ ہمیشہ کے لیے بہت تاخیر ہو جائے!

کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ خطرے میں نہیں ہیں؟ پھر میں آپ کے لیے افسردہ ہوؤں گا، کیونکہ خطرہ بہت شدید ہے۔ جب لوگ مرتے ہیں، تو وہ کتوں کی طرح نہیں مرتے ہیں! اُن کی روحیں زندہ رہتی ہیں! یہاں ایک دِن آ رہا ہے جس میں آپ خُدا اور مسیح کے عظیم سفید تخت کی حضوری میں کھڑے ہوں گے۔ آپ کی بے اعتقادی خطرے کو دور نہیں لے جاتی ہے۔ خُدا آپ کے گناہ پڑھے گا، تمام کے تمام، اپنی کتابوں میں سے۔ اور آپ کا نصیب دائمی آگ ہوگی۔ آپ جو خُدا کو بھول جاتے ہیں اُنہیں کانپنا چاہیے، کیونکہ اُس کے اپنے الفاظ کہتے ہیں، ’’شریر اور وہ سب قومیں جو خُدا کو بھلا دیتی ہیں عالم اسفل میں [جھونکی] جاتی ہیں‘‘ (زبور 9:‏17)۔

یا آپ سوچ میں پڑ جاتے کیونکہ آپ کو بچاؤ کے راستے پر شک ہوتا ہے؟ میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ اِس لیے نہیں ہے کیونکہ آپ کو اِس کی سمجھ نہیں آتی ہے۔ اگر آپ اِس گرجہ گھر میں چاہے تھوڑے ہی عرصے کے لیے آ چکے ہوں، تو میں یقین کرتا ہوں کہ آپ اِسے ضرور سمجھتے ہوں گے۔ میں اِس کو بار بار تقریباً ہر واعظ میں واضح کر چکا ہوں: ’’خُداوند یسوع مسیح میں یقین کریں، اور آپ نجات پا جائیں گے‘‘ (اعمال 16:‏31)۔ ’’میرے پاس آؤ .... اور میں تمہیں آرام دوں گا‘‘ (متی11:‏28)۔ ’’اُس کے بیٹے یسوع مسیح کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک صاف کرتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 1:‏7)۔ جو کوئی بھی یسوع میں ایمان لاتا ہے، اور اُس کے پاس آتا ہے، اُس کے خون کے ذریعے سے تمام گناہوں سے پاک صاف کیا جائے گا، اور ہمیشہ کی زندگی پائے گا۔ کیا آپ اِس قسم کے بچاؤ کے راستے کو مسترد کرتے ہیں؟ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اِس پر یقین کریں گے اور یسوع کے ذریعےسے بچائے جائیں! ہزاروں اب زمین پر اور ہزاروں لاکھوں آسمان میں یسوع کا یقین کر چکے ہیں، اور اب خوشی منا رہے ہیں کیونکہ اُن کے گناہ مٹ چکے ہیں اور وہ بچائے گئے ہیں! نجات کے راستے پرشک مت کریں۔ یہ ہی آپ کی واحد اُمید ہے! مسیح کو مسترد کرتے ہیں تو آپ اپنی روح کی واحد اُمید کو مسترد کرتے ہیں۔ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں جب آپ خُدا کے اکلوتے بیٹے کی خوشخبری کو مسترد کرتے ہیں!

یہ ممکن ہے کہ آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ آپ کسی پسندیدہ گناہ میں جاری رہنا چاہتے ہیں؟ خُدا آپ سے آج صبح کہتا ہے، ’’کیا آپ اپنے گناہوں کو اپنے پاس رکھیں گے اور جہنم جائیں گے، یا کیا آپ اُنہیں چھوڑ دیں گے، اور مسیح میں بھروسہ کریں گے، اور بچائے جائیں گے؟‘‘ خُدا کرے کہ آپ درست چناؤ کریں۔ لیکن اُس پسندیدہ گناہ کو چھوڑ دینا چاہیے۔ کوئی بھی گناہ جو آپ رکھتے ہیں نجات کے برابر نہیں ہوسکتا۔ آپ کو اِسے ضرور پاک روح کی قوت میں پھینک دینا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ اُس گناہ کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں، تو آپ جہنم کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں، اور آپ ہمیشہ کے لیے اِسے جھیلیں گے

’’شعلے جنہیں کوئی مداخلت نہیں جانتی،
 حالانکہ نمکین آنسو ہمیشہ کے لیے بہتے رہتے ہیں۔‘‘

اِس کے باوجود شاید میں نے آپ کے سوچ میں پڑنے کے لیے صحیح وجہ کو نا چھوا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ شاید آپ کے پاس ایک کاہل روح ہو، جو یسوع تک پہنچنے اور اُس پر بھروسہ کرنے میں انتہائی سُست ہو۔ لیکن آپ کو ضرور اُس کے پاس آنا چاہیے ورنہ آپ نیست و نابود ہو جائیں گے! کیا آپ کی نظر میں آپ کی روح کی اِس قدر کم قیمت ہے کہ آپ جہنم کے دہانے پر سونا اور اونگھنا جاری رکھ سکتے ہیں؟ اپنے آپ کو جنجھوڑیں! جاگیں! ورنہ ایک دِن آپ ’’عذاب میں مبتلا ہو کر ... جہنم میں‘‘ اپنی آنکھیں اُٹھائیں گے (لوقا 16:‏23)۔

مجھے ابھی، بالکل اِسی لمحے کہنا چاہیے، آپ خطرے میں ہیں! میں کبھی کبھی کانپتا ہوں جب میں سوچتا ہوں کہ مجھے آپ میں سے کچھ کے سامنے آخری عدالت میں ایک گواہ کے طور پر کھڑا ہونا ہوگا، مجھے کہنا پڑے گا، ’’وہ شخص خوشخبری کو جانتا تھا، لیکن اُس نے کہا، ’ابھی نہیں! ابھی نہیں! میں اِسے کچھ مذید دیر کے لیے ملتوی کرتا ہوں،‘ جب تک کہ ہمیشہ کے لیے تاخیر نہیں ہوجاتی!‘‘ اور یہ واقعی انتہائی آسان ہے! آپ کو صرف یسوع پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے اور آپ زندگی پائیں گے! اِس قدر سادہ! اِس قدر آسان! اور اِس کے باوجود وہ سُدوم کے دروازے پر سوچ میں پڑ جاتے ہیں!

میں آپ سے التجا کرتا ہوں، یہاں ہر ہفتے کے بعد بیٹھے نہ رہیں، کہیں آپ خوشخبری کی آواز کے تلے سوتے سوتے شعلوں میں نہ گِرجائیں؛ اور پھر جہنم میں دھنستے جائیں، نااُمید اور بغیر کسی وجہ کے۔

اب، یہ کون ہو گا؟ ہر بات کا انحصار اِس بات پر ہوتا ہے کہ آپ خداوند یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو آپ ہمیشہ کے لیے سفید لبادے کے ساتھ جلال میں ہونگے۔ لیکن اگر آپ اُس پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں، پھر آپ، جنہیں اِس بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر آنا بہت پسند ہے، آپ جو ہنسنے اور بات چیت کرنے سے پیار کرتے ہیں، اور عبادتوں کے بعد ہمارے ساتھ کھانا کھاتے ہیں – آپ کو جلد ہی فیصلے کے ناخوشگوار آواز سُنائی دے گی، ’’ہمیشہ جلتی رہنے والی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘ (متی 25:‏41)۔ اُس دِن میرے ساتھ انصاف کا کم از کم یہ ایک کام کر دیجیے گا – خُدا کو بتانا کہ میں نے آپ کو اُس کے غصے سے دور ہونے کے لیے اور یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے خبردار کیا تھا۔

اُس کے پاس سادہ ایمان کے ساتھ آئیں۔ اُس کے پاس آئیں اور وہ آپ کے گناہ پاک صاف کر دے گا! جی ہاں! وہ آپ کو معاف کر دے گا! جی ہاں! یسوع آپ کو بچائے گا، اور وہ یہ ابھی کرے گا! مسٹر لی Mr. Lee مہربانی سے آئیں اور دعا میں ہماری رہنمائی کریں (دعا)۔ اگر آپ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan کے ساتھ بچائے جانے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں، اور حقیقی مسیحی بننا چاہتے ہیں، تو مہربانی سے جب کہ میں بات کرتا ہوں،اپنی نسشت چھوڑ دیں اور اجتماع گاہ کی پچھلی جانب ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر دعا اور مشاورت کے چند الفاظ کے لیے لے جائیں گے۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: پیدائش 15:‏1۔18 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اگر آپ اتنا زیادہ سوچ میں پڑیں گے If You Linger Too Long‘‘
(شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، ‏1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

اتنا زیادہ مت سوچیں

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 69)
DON’T LINGER TOO LONG
(SERMON #69 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ اُن مردوں نے اُس کا اور اُسکی بیوی اور اُس کی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا اور وہ اُنہیں حفاظت کے ساتھ شہر سے باہر لے گئے کیونکہ خداوند اُن پر مہربان ہُوا تھا‘‘ (پیدائش 19:‏16).

I.   اوّل، میں خُدا کے پیغامبروں سے بات کروں گا، 1۔ تیموتاؤس 1:‏15؛ مرقس 3:‏21؛
یوحنا 8:‏48، 59؛ اعمال26:‏24؛ یوحنا15:‏18۔20؛ لوقا6:‏22۔23 .

II.  دوئم، میں اُن کے ساتھ چند الفاظ کہوں گا جو سوچ میں پڑے ہوئے ہیں،
زبور 9:‏17؛ اعمال16:‏31؛ متی11:‏28؛ 1۔یوحنا1:‏7؛ لوقا 16:‏23؛
متی 25:‏41 .