Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح کی تبلیغ

THE PREACHING OF NOAH
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
13 جنوری، 2013، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, January 13, 2013

’’ اور پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا‘‘ (2۔ پطرس 2:‏5).

یہ تلاوت جملے کا ایک حصّہ ہے۔ اِسے ہونا بھی چاہیے، کیونکہ آیت چار سے لیکر نو تک ایک ہی جملہ ہے۔ یہ نئے عہد نامے میں لمبے ترین جملوں میں سے ایک ہے۔ باب کا آغاز جھوٹے نبیوں کے بیان کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ پھر رسول اِن بدعتیوں کےعذاب کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ ماضی میں خُدا کا گناہ کے فیصلےکی تین مثالوں سے پہلے آتا ہے۔ اوّل، فرشتوں کا فیصلہ جنہوں نے گناہ کیا تھا۔ دوئم، نوح کے دور میں نوع انسانی کا فیصلہ۔ سوئم، سدوم اور عموراہ کے شہروں کا فیصلہ۔ اِس حصے کا اختتام اِس تین مثالوں کے بتانے سے ہوتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ خُدا جانتا ہے ’’کہ دین داروں کو آزمائشوں سے کیسے بچانا ہے اور بدکاروں کو روز عدالت تک سزا میں کیسے گرفتار رکھنا ہے‘‘ (2۔پطرس 2:‏9)۔ آج شام کومیرے واعظ کا موضوع فیصلے کی دوسری مثال ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُدا نے

’’…پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا‘‘ (2۔ پطرس 2:‏5).

ہم شاید تلاوت کو تین حصّوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: سامعین، مبشر، اور فیصلہ۔

I۔ اوّل، سامعین

اِس سے پہلے کہ ہم نوح مبشر کے بارے میں بات کریں، ہمیں اُس کے سامعین کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے – وہ لوگ جنہیں اُس نے تبلیغ کی تھی۔ ہماری تلاوت میں اُنہیں ’’پرانے زمانے کے لوگ‘‘ کہا گیا ہے، وہ لوگ جو عظیم سیلاب سے پہلے زندہ تھے۔ کلام پاک کی بہت چند آیات اُن کے بارے میں ہمیں بتاتی ہیں۔ لیکن جو ہمیں اُن کے بارے میں معلوم ہے وہ انتہائی معلوماتی ہے۔ اِن لوگوں کے بارے میں جاننا انتہائی اہم ہےکیونکہ یسوع نے کہا تھا کہ اِس زمانے کے ختم ہونے سے پہلے کی آخری نسل نوح کے دِنوں کےلوگوں کی طرح کی ہوگی۔ اُس نے کہا، ’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابن آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:‏37)۔ اُن دِنوں میں لوگ کیسے ہوتے تھے؟

وہ مادہ پرست تھے۔ یہ اُن کے بارے میں اہم بات تھی۔ باقی سب کچھ اُن کی مادہ پرستی ہی میں سے نکلتا تھا۔ یسوع نے ہمیں بتایا کہ اُن کی توجہ کا مرکز ’’کھانے پینے اور شادی کرنے کرانے میں تھی اور یہ سب کچھ نوح کے کشتی میں داخل ہونے تک ہوتا رہا‘‘ (متی 24:‏38)۔ اُن کی زندگیاں خوراک اور مزے کرنے پر مرکوز تھیں۔ وہ زندگی کی اچھی باتیں چاہتے تھے، اور اِس کے علاوہ اُنہیں کسی بات کی پرواہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر فرانسس شیفر Dr. Francis Schaeffer نے کہا کہ ہمارے دور میں مسیحی اقدار اِس قدر کمزور پڑ گئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت صرف ذاتی امن اور دولتمندی کے لیے جیتی ہے۔ ڈاکٹر شیفر نے کہا،

ذاتی امن وسکون کا مطلب ہوتا ہے کہ میری ذاتی زندگی کے ضابطے میں میری عمر رفتاں کے دوران کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرے بچوں اور اُن کے بچوں کی عمر رفتاں پر کیا نتیجہ نکلے گا۔ دولتمندی کا مطلب ایک انتہائی شدید اور کبھی نہ ختم ہونے والی خوشحالی ہے – چیزوں سے بنی ہوئی ایک زندگی، چیزیں اور مذید اور چیزیں – کبھی نہ ختم ہونے والے اعلِی سطح کے مال کی کثرت کے ذریعے سے کامیابی ہے (فرانسس اے۔ شیفر، پھر ہمیں کیسے زندگی گزارنی چاہیے؟
 How Should We Then Live?
، ریول Revell ، 1976، صفحہ 205)۔

جب میں نوجوان تھا تو میں حیران ہوا کرتا تھا کہ کیوں لوگ ایک تصوراتی،مہنگی گاڑی رکھنے کے بارے میں فکرمند ہوتے تھے، وہ کیوں محسوس کرتے تھے کہ اُن کے پاس وہ ہونا چاہیے جسے وہ ’’زندگی کی عمدہ چیزیں‘‘ کہتے تھے۔ میں کوئی ہپّی نہیں تھا۔ بالکل بھی نہیں تھا۔ لیکن میں ایک چھوٹی سُرمئی ڈاج داڑٹ [گاڑی] اور ایک اپارٹمنٹ میں ایک چھوٹے سے کمرے سے کافی سکون میں تھا۔ یہاں تک کہ آج بھی میں ایک سولہ سال پرانی ٹویوٹا کرولا چلاتا ہوں۔ میرے پاس دو جوڑے ہیں جو میں پہن سکتا ہوں۔ یہ میرے لیے بہت کافی نظر آتا ہے۔ میرا اپنا گھر نہ ہوتا اگر میری ماں نے مجھے وراثت میں دیا نہ ہوتا۔ بائبل کہتی ہے، ’’خواہ تمہاری دولت بڑھ بھی جائے اِس پر اپنا دِل نہ لگاؤ‘‘ (زبور 62:‏10)۔ آپ کے ساتھ واقعی ایمانداری سے میں کہتا ہوں، میں بالکل بھی ایک ایسے شخص کو سمجھ نہیں سکتا جس کی زندگی ذاتی امن و سکون اور خوشحالی کے اردگرد گھومتی ہے۔ جب میں اٹھارہ برس کا تھا میں نے ایک سین والے ڈرامے میں ایک بوڑھے مالدار آدمی کا کردار ادا کیا تھا جو لوقا کے بارہویں باب میں دولتمند نادان کی تمثیل پر مشتمل تھا۔ جیسے ہی میں دِل کے دورے کے وجہ سے مردہ ہو کر گرا، خُدا کی آواز سپیکروں میں سے گرجتی ہوئی آئی، ’’اے نادان! اِسی رات تیری جان تجھ سے طلب کر لی جائے گی، پس جو کچھ تو نے جمع کیا ہے وہ کس کے کام آئے گا؟ چناچہ جو اپنے لیے تو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن خُدا کی نظر میں دولتمند نہیں بنتا اُسکا بھی یہی حال ہوگا‘‘ (لوقا 12:‏20، 21)۔ نوح کے دِنوں میں لوگ بھی اُسی دولتمند نادان کی مانند تھے۔ اور مادہ پرستی ہمارے زمانے میں بھی بکثرت ہے۔

پھر، بھی، اُن کے ذہن بدکاری سے بھرے پڑے تھے۔ پیدائش 6:‏5 ہمیں بتاتی ہے کہ

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:‏5).

لوتھر نے کہا، ’’جب لوگ بدکار ہونا شروع ہوتے ہیں، وہ خُدا کا خوف کرتے ہیں نہ اُس میں یقین کرتے ہیں، لیکن اُس کی، اُس کے کلام کی، اور منادی کی تحقیر کرتے ہیں ... یہ بےدینی نوح کے دور میں بہت تیزی سے پھیلی تھی‘‘ (مارٹن لوتھر، ٹی ایچ۔ ڈی۔، پیدائش پر لوتھر کا تبصرہ Luther’s Commentary on Genesis، ژونڈروان Zondervan،‏1958، جلد اوّل، صفحہ 128؛ پیدائش، 6باب پر رائے)۔

چونکہ بندوق چلانے سے بےشمار خون خرابے ہو چکے ہیں، اِس لیے سیاست دان اب کہہ رہے ہیں کہ بندوقوں کو لے لیے جانے کی ضرورت ہے اور کہ، وہ کہتے ہیں، یہ ظلم و تشدد کو روکے گا۔ اِس قسم کی نادان باتیں مجھے دِل شکستہ کر دیتی ہیں۔ ہمارے پاس نسل در نسل بندوقیں رہی ہیں۔ ہمارے پاس جب میں بچہ ہوتا تھا تو زیادہ بندوقیں ہوتی تھیں۔ جب میں صرف دس برس کی عمر کا تھا تو میری اپنی رائفل اور چھروں والی بندوق تھی۔ 1949 سے لیکر1953 تک میں ایریزونا میں ریگستان میں رہتا تھا۔ اُن دِنوں میں تقریباً ہر نوجوان شخص کی اپنی بندوق ہوتی تھی۔ لیکن اُس زمانے میں ہماری بڑے پیمانے پر خون ریزی نہیں ہوتی تھی۔ اب کیا فرق ہے؟ یہ وہ گند ہے جو ہالی ووڈ بچوں کے دماغوں میں آج اُنڈیل رہا ہے!

لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times ‏(1/7/13، صفحہ D1) میں ایک نئی کہانی تھی جس کا عنوان تھا، ’’نئے خونی مظاہروں کا منصوبہ بن چکا ہے، لیکن NBC کی بڑی ہستیاں اِس تصور کے خلاف احتیاط برت رہی ہیں کہ وہ حقیقی ظلم و تشدد کے لیے اُکسا رہے۔ مضمون میں لکھا ہے، ’’حالیہ بڑے پیمانے پر گولیاں چلنے سے ... ٹیلی ویژن کی بڑی ہستیوں کو ایک مرتبہ پھر چھوٹی سکرین پر بڑھتے ہوئے ظلم و تشدد کا جس پر تنقید نگار تکرار کرتے ہیں انصاف کرنے کے لیے مجبور کر رہی ہیں ... حقیقی دُنیا کی خون ریزیوں کو ہوا دیتی ہے۔‘‘ اُن ہالی ووڈ کے پیسوں کے لالچیوں کا سوچ کر مجھے قے آ جاتی ہے! اُن کی خونی فلموں اور ٹیلی ویژن کے ڈراموں نے ایک پوری نسل کو تباہ وہ برباد کر دیا ہے۔ یہ مجھے بیمار کر دیتے ہیں۔ ضرور ایسا ہی ہوگا جو نوح نے بھی محسوس کیا ہوگا!

’’اب زمین خدا کی نگاہ میں بگڑ ہو چُکی تھی اور ظلم و ظلم و تشدد سے بھری ہُوئی تھی۔ خدا نے دیکھا کہ زمین بہت بگڑ چُکی ہے کیونکہ زمین پر سب لوگوں نے اپنے طور طریقے بگاڑ لیے تھے۔ چنانچہ خدا نے نُوح سے کہا: میں سب لوگوں کا خاتمہ کرنے کو ہُوں کیونکہ زمین اُن کی وجہ سے ظلم سے بھر گئی ہے۔ اِس لیے توجہ دے، میں یقیناً نوع اِنسان اور زمین دونوں کو تباہ کر ڈالوں گا‘‘ (پیدائش 6:‏11۔13).

میں آپ نوجوان لوگوں کو کچھ بتانا چاہتا ہوں، اور میں اِس کو اتنا واضح کر دینا چاہتا ہوں جتنا میرے لیے ممکن ہو سکتا ہے۔ اپنا دھیان مادہ پرستی سے باہر نکالیں اور مال و دولت بنانے کے بارے میں سوچنا کم کر دیں – اور آسمان میں خزانہ جمع کرنے کے بارے میں ذرا زیادہ سوچنا شروع کر دیں!

اور ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے سلسلہ وار قاتلوں اور خون چوسنے والی بلاؤں سے اپنا دھیان ہٹائیں – اور اپنا دھیان ویڈیو گیمز سے ہٹائیں – تمام ویڈیو گیمز سے – اور اپنا دھیان بائبل پر لگائیں، اور اپنے گرجہ گھر میں، اور دعاؤں میں! اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ ہالی ووڈ کے امیر تاجروں کے ساتھ، اور خون میں لت پت، ذہنی مردہ لوگوں کے ساتھ جیسے نوح کے دور میں تھے جہنم میں جانے کے لیے جا رہے ہیں! کسی کو بھی بتائیں میں نے یہ کہا تھا! اور جب میں نے یہ کہا تھا تو میں بہت سنجیدہ تھا!

نوح کے سامعین بالکل ہالی ووڈ والوں کی مانند تھے۔ اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی نہیں بچا تھا۔ آپ اُن لوگوں کو نہیں بچا پائیں گے چاہے آپ اُن کے سامنے گُھٹنوں پر ہو کراور ہاتھ جوڑ کر بھی منتیں کریں! ’’نوح کے زمانے‘‘ کے سزا کے ذریعے درستگی کے لیے زیر اثر ہونے والے لوگ خُدا کے خلاف تیار ہو چکے تھے۔ اور خُدا نے ’’انہیں چھوڑ دیا‘‘ (رومیوں 1:‏24)۔

II۔ دوئم، مبشر۔

’’[خُدا نے] پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا‘‘ (2۔ پطرس 2:‏5).

نوح بائبل کا اُستاد نہیں تھا۔ وہ ایک مبشر تھا۔ یونانی لفظ ’’کیریکس keryx‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’پیغام رساں‘‘ ہوتا ہے۔ اُس نے ایک پیغام رساں ’’عوام میں چلانے والے کے طور پر‘‘ (شدت کے ساتھ) راستبازی کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill ‏(1697۔1771)‏ نے کہا، ’’یہودی کہتے ہیں کہ نوح ایک نبی تھا؛ اور وہ اُسے ایک مبشر کی حیثیت سے بھی پیش کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ ہمیں پرانی دُنیا کو عملی قدم اُٹھانے پر قائل کرنے کے لیے اُس کے کہے ہوئے الفاظ بتاتے ہیں‘‘ (جان گِل، ڈی۔ڈی۔، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، دی بپٹسٹ سٹینڈرڈ بئیرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد سوم، صفحات 597۔598)۔

پھر ڈاکٹر گِل نے قدیم ربّیوں کا حوالہ دیا، جنہوں نے پیش کیا وہ جو وہ کہتے تھے کہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو نوح نے استعمال کیے تھے، ’’تم اپنے بُرے طریقے اور کاموں سے باز آ جاؤ، ایسا نہ ہو کہ سیلاب کا پانی تم پر چڑھ آئے اور آدمیوں کےبچوں کی تمام نسل ختم ہو جائے‘‘ (گِل، ibid.،)۔ ڈاکٹر آر۔سی۔ایچ۔ لینسکی Dr. R. C. H. Lenski ‏(1864۔1936) نے کہا،

      یہ پوچھا گیا ہے کہ پطرس کو کیسے پتا چلا نوح ’’راستبازی کا پیغام رساں‘‘ تھا جب کہ پرانا عہد نامہ اُسے صرف ’’ایک راستباز آدمی‘‘ کہتا ہے۔ یہ ایک حقیر سوال لگتا ہے۔ کیا نوح اُن 120 سالوں کے دوران ساکت رہا تھا؟ کیا خُدا نے دُنیا کو آنے والی طغیانی سے انجان رکھا تھا؟ کیا پطرس نے بغیر الٰہام کے لکھا تھا؟
      120 سالوں کے وہ تاخیر فضل کے موسم میں ایک اضافہ تھا۔ نوح کی تبلیغ لوگوں کو راستبازی کی طرف لانے کے لیے تھی تاکہ خُدا کو شاید سیلاب بھیجنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے۔ خُدا نے سدوم اور عموراہ کو بخش دیا ہوتا اگر دس راستباز وہاں مل گئے ہوتے، لیکن وہاں نوح کے دور کی ساری دُنیا میں دس بھی نہ تھے (پیدائش 18:‏32)؛ وہاں صرف آٹھ تھے [نوح، اُس کی بیوی، اُس کے تین بیٹے، اور اُن کی بیویاں]۔ ’’راستبازی‘‘ ملکیت افشا کرنے کا ایک مقصد ہے، یہ امتیاز ظاہر کرنے والی خصوصیت نہیں ہے، ’’ایک راستباز پیغام رساں‘‘ نہیں۔ اِس لفظ کو مکمل طور پر[قانونی] شریعت کے قانوں میں حقائق یا ثبوت کی تحقیقات کے استعمال یا اطلاق کے احساس کے ساتھ سمجھنا ہے۔ نوح نے اُس خصوصیت کا اعلان کیا تھا جس میں خُدا کی منصفانہ منظوری ہے تاکہ بے دین شاید توبہ کر لیں اور یوں شاید خُدا کی طرف سے راستباز ٹھہرائے جائیں۔ لیکن اُنہوں نے اُس کی باتوں کو دھتکار دیا، اُس کی کشتی کا مذاق اُڑایا، [اور] ’’بےدین لوگوں کی ایک دُنیا‘‘ ہی رہے (آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی، ٹی ایچ۔ ڈی۔،
 مقدس پطرس، مقدس یوحنا اور مقدس یہودہ کے مراسلوں کی تفسیر
 The Interpretation of the Epistles of St. Peter, St. John and St. Jude
، اوگسبرگ اشاعتی گھر Augsburg Publishing House، اشاعت 1966، صفحہ 312)۔

خُدا نے نوح کے دِنوں کے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ پاک روح ہمیشہ کے لیے انسان کے ساتھ کوشش نہیں کرے گی؛ یعنی کہ، پاک روح ہمیشہ اُنہیں سزا کے تحت نہیں لائے گا اور اُنہیں توبہ کی جانب مبذول نہیں کرائے گا۔ لوتھر نے کہا کہ وہ الفاظ، ’’میری روح ہمیشہ کے لیے انسان کے ساتھ کوشش نہیں کر پائے گی‘‘ بالکل وہی الفاظ تھے جن کی نوح نے ’’عوامی پرستش میں دُنیا کو تبلیغ کی تھی۔ اُس کے کہنے کا جو مطلب تھا وہ یہ تھا، ’ہم بےکار تعلیم دیتے اور تنبیہہ کرتے ہیں، کیونکہ دُنیا خود کو سُدھارنے کی اجازت ہی نہیں دے گی۔‘ یہ تاویل ایمان کے ساتھ اور کلام پاک کے ساتھ متفق ہوتی ہے، کیونکہ جب آسمان سے خُدا کے کلام کا الٰہام ہوا ہے، صرف چند ہی تبدیل ہوئے تھے، جبکہ اکثریت نے خود کو حرض و طمع، غلاظت اور دوسری اخلاقی بُرائیوں کے حوالے کرنے کے لیے اِس کی تحقیر کی... اِسی لیے یہ خُداوند کا سب سے بڑا انصاف تھا، جب پاک محب وطن [نوح] کے منہ کے ذریعے سے اُس نے انسان کے ساتھ مذید اور کوشش نہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یوں کرنے سے اُس نے اعلان کیا کہ اُس کی تعلیم کا کوئی مقصد نہیں تھا اور وہ مذید اب اِس دُنیا کو اپنا بچانا والا کلام عطا نہیں کرے گا۔ اِس لیے وہ جن کے پاس کلام ہے بخوشی اِسے پا سکتے ہیں، خُداوند کا اِس کے لیے شکر ہو، اور ’جب تک خُداوند مل سکتا ہے اُس کے طالب ہو، اور جب تک وہ نزدیک ہو اُسے پکارو،‘ اشعیا 55:‏6‘‘ (لوتھر، ibid.، صفحات 129، 130)۔

آج رات تنبیہہ کے طور پر آپ میں سے کچھ کےلیے، میں کہتا ہوں کہ خُدا ہمیشہ آپ کے ساتھ کوشش نہیں کرے گا۔ اور جب پاک روح اپنا کام روکتا ہے، تو آپ کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہو سکیں گے۔ آپ یقینی طور پر ایسے ہی لعنتی قرار دیے جائیں گے جیسے نوح کے دِنوں میں وہ بے دین لوگ قرار دیے گئے تھے۔

III۔ سوئم، فیصلہ۔

’’[خُدا نے] پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین میں [پر] طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا‘‘ (2۔ پطرس 2:‏5).

لفاظ ’’میں‘‘ یونانی زبان سے نہیں ہے۔ اِسے یوں پڑھا جانا چاہیے، ’’بےدینوں کی زمین پرسیلاب بھیج کر۔‘‘

ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ نوح اور اُس کے خاندان کے علاوہ باقی تمام لوگ زمین پر سے غائب ہو گئے تھے۔ بائبل کہتی ہے،

’’شریر اور وہ سب قومیں جو خدا کو بھلا دیتی ہیں، عالم اسفل میں اُتر جاتی ہیں‘‘ (زبُور 9:‏17).

خُداوند یسوع مسیح نے کہا،

’’وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:‏14).

عظیم سیلاب میں ’’بے دینوں کی تمام دُنیا‘‘ غائب ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر گِل نے کہا، ’’اُن کی ایک پوری دُنیا تھی؛ اور اِس کے باوجود یہ اُنہیں خُدا کے قہر سے محفوظ نہ رکھ سکی۔ [یہ] خُدا خود تھا، جس نے پاتال کے چشمے اُبل دیے تھے، اور آسمان کی کھڑکیاں کھول دی تھیں، اور تمام نسل انسانی، آدمیوں، عورتوں اور بچوں اور ہر جاندار،ماسوائے جو نوح کے ساتھ کشتی میں تھے سب کو تباہ کر دیا تھا: اور ... یہ نہیں سوچا جانے چاہیے کہ اُن کی سزا یہیں ختم ہو گئی ہے؛ [قدیم ربّیوں نے کہا]، ’سیلاب کی نسل کا آنے والی دُنیا میں کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے‘‘‘ (گِل، ibid.، صفحہ 598)۔

تعداد سے حفاظت نہیں ہوتی ہے۔ ہم یہاں ایک رائے شماری کرنے والے کے ساتھ معاملات طے نہیں کر رہے ہیں۔ ہم خُدا سے معاملات کر رہے ہیں۔ اگر ساری دُنیا توبہ کرنے سے انکار کر دیتی ہے اور بچائی جاتی ہے، تو پھر ساری کی ساری دُنیا کو خُدا کی طرف سے دائمی عذاب کے لیے سزاوار ہونا چاہیے۔ دُنیا چاہے اِس کا مذاق اُڑائے۔ لیکن یہ ہی خُدا کا تبدیل نہ ہونے والا سچ ہے۔

’’شریر اور وہ سب قومیں جو خدا کو بھلادیتی ہیں، عالم اسفل میں اُتر جاتی ہیں‘‘ (زبُور 9:‏17).

’’وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:‏14).

اب، پھر، ایک آخری خیال۔ کیوں نوح کے زمانے کے لوگوں نے توبہ نہیں کی اور حفاظت کے لیے کشتی میں نہیں آئے؟ کشتی مسیح کی ایک قسم، یا تصویر ہے۔ مسیح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا تھا، اور ہمیں زندگی دینے کے لیے مردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ لیکن نجات پانے کے لیے آپ کو مسیح کے پاس آنا پڑتا ہے، جیسا کہ نوح کے زمانے کے لوگوں کو کشتی میں آنا پڑا تھا۔ کیوں اُن میں سے کسی نے بھی توبہ نہیں کی تھی اور کشتی میں حفاظت کے لیے نہیں آئے تھے؟

میرے خیال میں پہلی وجہ بےاعتقادی تھی۔ اُنہوں نے بالکل بھی یقین نہیں کیا تھا جو خُدا نے آنے والے فیصلے کے بارے میں کہا تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے توبہ نہیں کی اور حفاظت کے لیے کشتی میں نہیں آئے تھے۔

میرے خیال میں بہت سوں کے لیے دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی طرز زندگی کو بدلنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ خُدا کے قہر وغضب کے مقابلے میں جس طرح سے رہ رہے تھے اُس کو بدلنے سے زیادہ خوفزدہ تھے، اِس لیے اُنہوں نے توبہ نہیں کی اور حفاظت کی کشتی میں نہیں آئے تھے۔

میرے خیال میں اُن میں سے بہتوں کے لیے تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ خوفزدہ تھے کہ اُن کے خاندان والے اور دوست احباب اُن کے بارے میں کیا سوچیں گے اگر اُنہوں نے توبہ کی اور کشتی میں سوار ہوئے۔ منشیات، شراب نوشی اور غیرقانونی جسمانی ملاپ کے مقابلے میں زیادہ تر لوگوں کو منحرف ہو جانا معمولی بات لگتی تھی۔ میرے دوست احباب کیا سوچیں گے؟ میرا خاندان کیا سوچے گا؟ وہ دوست احباب اور خاندان والوں کے مذاق اُڑانے سے خوفزدہ تھے، اِس لیے اُنہوں نے توبہ نہیں کی اور حفاظت کی کشتی میں سوار نہیں ہوئے تھے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ ایسے کسی خوف کو توبہ کرنے اور مسیح کے پاس جانے سے دور رکھنے کے لیے ایسا کرنے دیں گے؟ کوئی کہتا ہے، ’’لیکن میرے ساتھ کیا ہوگا اگر میں یسوع کے پاس آتا ہوں اور سنجیدہ مسیح بنتا ہوں؟‘‘ مجھے بالکل ایمانداری سے کام لینا ہوگا۔ میں نہیں جانتا آپ کے ساتھ کیا ہوگا اگر آپ حقیقی مسیحی بن جاتے ہیں۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوگا اگر آپ ایسا بننے سے خوفزدہ ہوتے ہیں،

’’مگر بزدلوں ... کی جگہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی: یہ دُوسری موت ہے‘‘ (مکاشفہ 21:‏8).

میں دعا کرتا ہوں اِس سے پہلے کہ خُدا آپ سے اپنا پاک روح لے لے اور آپ کو ختم ہو جانے کے لیے چھوڑ دے، جیسا کہ اُس نے کیا تھا جب وہ ’’بے دینوں کے دُنیا پر سیلاب لایا‘‘ تھا، آپ مسیح پر بھروسہ کریں گے (2۔پطرس 2:‏5)۔ اگر آپ مسیحی بننے کے لیے ہمارے ساتھ کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، تو ابھی اجتماع گاہ کے آخر کی طرف قدم بڑھائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے جہاں ہم آپ سے بات کر سکیں گے اور آپ کے ساتھ دعا کر سکیں گے۔ ڈاکٹر چین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر کائیو ڈونگ لی Mr. Kyu Dong Lee نے کی تھی: پیدائش 6:‏5۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میرے ساتھ برداشت کرو Abide With Me‘‘
(شاعر ھنری ایف لائٹ Henry F. Lyte‏، 1793۔1847)۔

لُبِ لُباب

نوح کی تبلیغ

THE PREACHING OF NOAH

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اور پُرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر طوفان بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نُوح کو اور سات دیگر اشخاص کو بچالیا‘‘ (2۔ پطرس 2:‏5).

(2۔ پطرس 2:‏9)

I.   اوّل، سامعین، متی 24:‏37، 38؛ زبور 62:‏10؛ لوقا 12:‏20، 21؛
 پیدائش 6:‏5، 11۔13؛ رومیوں 1:‏24۔

II.  دوئم، مبشر، 2۔ پطرس 2:‏5 .

III. سوئم، فیصلہ، زبور 9:‏17؛ متی 7:‏14؛ مکاشفہ 21:‏8۔