Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوجوان مالدار سردار

THE RICH YOUNG RULER
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
13 جنوری، 2013، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 13, 2013

اب اِس صبح میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی بائبل میں سے مرقس دس باب آیت سترہ کو کھولیں۔ یہ ایک مالدار نوجوان سردار کا واقعہ ہے۔یہ اِس قدر اہم واقعہ ہے کہ پاک روح نے اِسے متی، مرقس اور لوقا تینوں اناجیل میں یکساں نقطۂ نظر کے طورپراندراج کیا ہے۔ پطرس کے علاوہ اناجیل میں کسی دوسرے آدمی کے مقابلے میں نوجوان مالدار سردار کو زیادہ جگہ دی گئی ہے۔ یہ اِس بات کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے کہ اُس نوجوان آدمی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ آج ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اُس کے لیے نئے عہد نامے کی کہانیوں میں سے یہ ایک سب سے زیادہ اہم کہانی ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اِسے غور سے سُنیں۔

’’یسُوع گھر سے نکل کر جارہا تھا کہ راستہ میں ایک آدمی دوڑ تا ہوا آیا اور اُس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر پُوچھنے لگا: اَے نیک اُستاد! میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بن سکوں؟ یسُوع نے اُس سے کہا: تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے؟ نیک تو صرف ایک ہی ہے یعنی خدا۔ تُو اِن حکموں سے تو واقف ہے کہ خون نہ کر، زِنانہ کر، چوری نہ کر، جھوٹی گواہی نہ دے، فریب سے کام مت لے، اپنے ماں باپ کی عزت کر۔ اُس نے یسوع سے کہا اُستاد! اِن سب پر تو میں لڑ کپن سے عمل کرتا آرہاہوں۔ یسُوع نے اُسے پیار بھری نظر سے دیکھا اور کہا: ایک بات پر عمل کرنا ابھی باقی ہے۔ جا اپنا سب کچھ بیچ دے اور رقم غریبوں میں بانٹ دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ اور آ صلیب اُٹھا اور میرے پیچھے ہو لے۔ یہ سُن کر اُس کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی اور وہ غمگین ہو کر چلا گیا۔ بات یہ تھی کہ وہ بڑا ہی مالدار تھا۔ تب یسُوع نے لوگوں پر نظر دوڑاکر اپنے شاگردوں سے یوں کہا: دولتمندوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کس قدر مشکل ہے!اُس کے الفاظ سُن کر شاگرد حیران رہ گئے۔ لہذا یسوع نے پھر سے کہا: بچو! دولت پر بھروسہ رکھنے والوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مشکل ہے۔ کسی دولتمند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا زیادہ آسان ہے۔ شاگرد نہایت حیران ہُوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے: پھر کون نجات پا سکتا ہے؟ یسُوع نے اُن کی طرف دیکھ کر کہا: یہ اِنسانوں کے لیے تو ناممکن ہے لیکن خدا کے لیے نہیں، کیونکہ خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے‘‘ (مرقس 10:‏17۔27).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

ہم اِس آدمی کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں۔ متی 19:‏20 ہمیں بتاتی ہے کہ وہ نوجوان تھا۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ تیس سال سے کم عمر کا تھا۔ لوقا 18:18 ہمیں بتاتی ہے کہ وہ ایک ’’سردار‘‘ تھا۔ ڈاکٹر گِل نے کہا اِس کا مطلب ہے کہ وہ ایک شہری مجسٹریٹ تھا، ’’شاید شریعت کے عالموں میں سے ایک۔‘‘ مرقس 10:‏22 ہمیں بتاتی ہے کہ اُس کے ’’پاس بہت دولت تھی۔‘‘ اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیوں متی، مرقس اور لوقا نے اُس کے بارے میں بتانے کے لیے اِس قدر زیادہ جگہ لی۔ وہ ایک نوجوان امیر آدمی تھا، جس کی بہت اونچی ساکھ تھی۔ تقریباً کوئی مبشر بھی آج، اِس طرح کے شخص کو اپنے گرجہ گھر میں شامل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوگا!

یہ نوجوان آدمی یسوع کے پاس بھاگتا ہوا آیا تھا۔ جب وہ یسوع کے پاس پہنچا تو دوزانو ہو گیا۔ پھر اُس نے یسوع سے پوچھا، ’’اَے نیک اُستاد! میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بن سکوں؟‘‘ اُس نے یسوع کے پاس آنے سے بالکل دُرست کام کیا تھا۔ وہ بالکل دُرست وقت پر آیا تھا – جب وہ نوجوان تھا۔ اُس نے صحیح سوال پوچھا تھا، ’’میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بن سکوں؟‘‘ وہ دُرست نقطۂ نظر کے ساتھ آیا تھا – عاجزی میں۔ اُس نے درست جواب پایا تھا – بالکل ٹھیک طریقے سے کیا کرنا چاہیے۔ لیکن اُس نے غلط قدم اُٹھایا تھا – اُس نے یسوع سے اپنا منہ موڑ لیا تھا، اپنے راستے ہو لیا تھا، اور کبھی بھی نجات نہیں پا سکا تھا۔

اُس نے کیوں منہ مُوڑ لیا تھا؟ اِس کی سادہ سی وجہ ہے۔ اُس نے کہا، ’’میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بن سکوں؟‘‘ یسوع نے اُسے بتایا کیا کرنا چاہیے، اور اُس نے اُسے مسترد کیا۔ اِسی لیے وہ اُداس ہو گیا تھا، اور غمگین چلا گیا تھا۔

بائبل کہتی ہے، ’’یسوع نے اُسے پیار بھری نظروں سے دیکھا‘‘ (مرقس 10:‏21)۔ مہربانی سے مجھے نہ بتائیں کہ یسوع نے اُسے سخت جواب دیا تھا کیونکہ اُسے اُس کی پرواہ نہیں تھی۔ مہربانی سے اتنے نہ گریں! جی نہیں، یسوع نے اُسے سخت جواب اِس لیے دیا تھا کیونکہ وہ اُسے پیار کرتا تھا۔ ’’یسوع نے اُسے پیار بھری نظروں سے دیکھا‘‘ (مرقس 10:‏21)۔ میں نے یہ پایا ہے کہ ’’سخت‘‘ مبشر ہی وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو پیار کرتے ہیں۔ یہ ’’نرم‘‘ مبشر ہوتے ہیں جو آپ کو پیار نہیں کرتے ہیں۔ یہ نرم مبشر ہوتے ہیں جو واقعی آپ کے بارے میں کوئی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔

کوئی بھی کرسٹل کیتھیڈرل کے رابرٹ شُلر Robert Schuller سے زیادہ نرم نہیں ہو سکتا تھا۔ جب جان وائن John Wayne مر رہا تھا تو اُس نے شُلر کو کہلا بھیجا کہ آئے اور اُسے ملے۔ جان وائن نے شُلر سے پوچھا چونکہ وہ مر رہا تھا اِس لیے اُسے کیا کرنے کی ضرورت تھی۔ شُلر نے اُسے بتایا کہ اُسے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں تھی، کہ وہ پہلے سے ہی ٹھیک ہے۔ جب میں نے یہ پڑھا تو مجھے اِس نے بہت غصے سے بھر دیا۔ آپ دیکھیں، میں نے جان وائن کو پیار کیا۔ وہ ایک عظیم امریکن تھا، اور میں نے اُسے پیار کیا تھا۔ لیکن میرے لیے یہ بالکل واضح تھا کہ شُلر کو آدمی کی جان کی بالکل بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ شُلر کو جو چاہیے تھا وہ جان وائن اور اُس کے خاندان سے جتنے بھی پیسے حاصل کر سکتا ہو کر لے۔ آپ جن لوگوں کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتے ہیں اُنہی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ جن لوگوں سے آپ پیار کرتے ہیں اُنہی سے سچ بولتے ہیں۔ یہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ۔ ’’اگر آپ ایک آدمی سے پیار کرتے ہیں تو آپ اُسے سچ بتاتے ہیں! اور یہی بالکل ٹھیک طریقے سے یسوع نے کیا تھا!

مالدار نوجوان سردار یسوع کے سامنے دوزانو ہوا تھا، اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث بننے کے لیے اُسے کیا کرنے کی ضرورت تھی یہ پوچھا تھا۔ یسوع نے اُس کے چہرے پر نظر ڈالی اور اُسے پیار کیا۔

’’یسُوع نے اُسے پیار بھری نظر سے دیکھا اور کہا: ایک بات پر عمل کرنا ابھی باقی ہے۔ جا اپنا سب کچھ بیچ دے اور رقم غریبوں میں بانٹ دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ اور آ صلیب اُٹھا اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (مرقس 10:‏21).

نوجوان آدمی نے ایک لمحے کے لیے اِسکے بارے میں سوچا، اور پھر وہ چلا گیا۔

’’یہ سُن کر اُس کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی اور وہ غمگین ہو کر چلا گیا۔ بات یہ تھی کہ وہ بڑا ہی مالدار تھا‘‘ (مرقس 10:‏22).

یسوع آج بھرپور سختی کا تقاضہ کرتا ہے۔ لیکن ہمیں آج کی انجیلی بشارت کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے ’’صندوق سے باہر نکل‘‘ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اِس نوجوان آدمی کو کیوں ’’ہمیشہ کی زندگی کا وارث بننے‘‘ کے لیے، نجات پانے کے لیے اپنے تمام دولت چھوڑنی چاہیے ہے؟ جواب مرقس 10:‏24 میں پیش کیا گیا ہے، جب یسوع نے کہا،

’’ بچو! دولت پر بھروسہ رکھنے والوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مشکل ہے‘‘ (مرقس 10:‏24).

تمام کا تمام حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ مالدار آدمی کو اپنی دولت پر بھروسہ تھا۔ وہ مسیح پر کیسے بھروسہ کر سکتا تھا جب کہ اِسکے بجائے اُس کا دِل دولت پر بھروسہ کرتا تھا؟ یسوع نے کہا، ’’تم خُدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے‘‘ (متی 6:‏24)۔ آپ خُدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے ہیں! بائبل کہتی ہے، ’’جو لوگ دولت مند ہونا چاہتے ہیں وہ آزمائش میں مبتلا ہو کر بہت سی بیہودہ اورمُضر خواہشوں کھے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور تباہی اور ہلاکت کے دریا میں غرق ہو جاتے ہیں‘‘ (1۔تیموتاؤس6:‏9)۔ نوجوان سردار مسیح پف بھروسہ نہیں کر سکا ہو گا کیوں کہ اُسکا دل اُس کی دولت پر بھروسہ کرتا تھا۔ اُس کا کیسے مسیح پر بھروسہ ہوگا، جب اُس کا دل دولت پر بھروسہ کرتا تھا؟

جو آئعن ایچ۔ میورے Iain H. Murray نے اِس کے بارے میں کہا مجھے پسند ہے۔ میورے نے کہا کہ پرانی انجیل بشارت ضمیر کو خبردار کرتی تھی، گنہگار کو دکھاتی تھی کہ ’’خُدا جس توبہ کا تقاضہ کرتا ہے وہ کوئی عمومی تبدیلی نہیں، دُکھ کا عارضی احساس نہیں، مگر زندگی کی ایک مکمل تبدیلی ہے۔‘‘ مسیح نے نوجوان مالدار سردار کو جو کچھ اُسکے پاس تھا بیچنے کو کہا تھا، اور غریبوں کو دینے کو کہا تھا، ’’اور آ، صلیب اُٹھا، اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (مرقس 10:‏21)۔ آئعن میورے نے کہا، یہ بِلاشبہ ’’شرعی تبلیغ‘‘ تھی، مگر ایک آدمی کو فرمانبرداری کی تکمیل کے لیے یوں بُلانے کا مقصد نجات کے لیے مستند کرنا نہیں تھا، اِس کے بجائے یہ اُس کے لیے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ اِس سے کتنا دور تھا۔ ہمارے خُداوند نے یہ صلاح اِس لیے نہیں پیش کی کیونکہ اُس نے سوچا تھا کہ آدمی فرمانبردار ہوگا، بلکہ کیونکہ آدمی نے سوچا کہ وہ ہوگا۔ اور ہر قدرتی آدمی اپنی خود اعتمادی میں اِسی طرح سوچتا ہے۔ لٰہذا شریعت نتیجے میں کہتی ہے، ’فرمانبرداری کو جانچنے کی کوشش کرو! اِس کے ساتھ اتنے ہی ہو لو جتنا کہ تم ہو سکتے ہو‘ ... ایک مسیح میں غیر تبدیل شُدہ آدمی کو یوں کرنے کے لیے بُلایا جاتا ہے کیونکہ وہ جتنا اِس کو اپناتا ہے، اُتنی ہی زیادہ نا اُمید ہونے کے لیے جستجو پائی جاتی ہے۔ اُسے پتا چلتا ہے کہ نا صرف اُس کا طرز عمل بلکہ اُس کی خود کی فطرت غلط ہے۔ معیار جو درکار ہے ناقابل پہنچ ہے۔ فطرتاً وہ پیار نہیں کر سکتا ہے، وہ پاکیزہ نہیں ہو سکتا ہے، وہ خُدا میں مسرور نہیں ہو سکتا ہے۔ ’پھر کون نجات پا سکتا ہے؟‘ حیرت زدہ شاگردوں نے مالدار نوجوان سردار کے مسیح کے خالص تقاضے کو سُن کر پوچھا، اور اُنہیں وہ جواب موصول ہوا جو آج بھی سچ ہے، ’یہ انسانوں کے لیے تو ناممکن ہے لیکن خُدا کے لیے نہیں‘ ... جہاں ایک جان نجات کے لیے رہنمائی پاتی ہے وہ شریعت کے ساتھ نہیں ہے کہ وہ قصور تلاش کر لے گا بلکہ اُس کے خود کے ساتھ ہے۔ شریعت سے پہلے خود اُس کا اپنا ضمیر اُسے ملامت کرتا ہے، اور وہ خود سے اعتراف کرتا ہے کہ وہ ناصرف قصوروار ہے بلکہ جو کچھ اُس کرنا چاہیے وہ کرنے کے لیے بےبس بھی ہے... جاناتھن ایڈورڈ Jonathan Edwards کے الفاظ میں: ’جدوجہد کی ایسی سنجیدگی اور کامل پن،ایک عام ذریعہ ہے جس کا خُدا استعمال کرتا ہے لوگوں کی خُود کے ساتھ شناسائی میں لانے کے لیے، اُن کے اپنے دِلوں کی بصیرت کے لیے، اُن کی اپنی بےبسی کے احساس کے لیے ... یہ ہمارا اپنا تجربہ ہے، اور تلاش کرنا ہے کہ ہم کیا ہیں، کہ خدا عام طور پر ہمیں خود پر تمام تر منحصر ہونے سے باہر نکلنے کے ذریعے کے طور پراستعمال کرتا ہے‘ ... اِس قسم کا ایک آدمی دعا کرے گا،جیسی کہ ولیم ولبرفورس William Wilberforce نے ایک دفعہ کی تھی، ’اے خُدا، مجھے مجھ سے نجات دِلا!‘‘‘ (آئعن ایچ۔ میورے، پرانی انجیلی بشارت The Old Evangelicalism، سچائی پر بھروسہ کرنے والوں کا بینر The Banner of Truth Trust، ‏2005، صفحات 10۔14)۔

مسیح چاہتا تھا کہ مالدار سردار خود اپنے دِل کی خودغرضی کو دیکھے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ [مالدار سردار] دیکھے کہ اُس کا دِل خُدا کے بجائے دولت پر بھروسہ کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ [مالدار سردار] دیکھے کہ اُس کا دِل کتنا غلط تھا، کہ وہ اصل میں خُدا سے بالکل بھی پیار نہیں کرتا تھا، کہ وہ اصل میں مادی چیزوں پر بھروسہ کرتا تھا، اور خُدا میں بالکل بھی بھروسہ نہیں کرتا تھا۔

جب پطرس نے اچانک محسوس کیا کہ اُس کا دِل کس قدر مکار اور بے اعتقادہ تھا ’’تو وہ یسوع کے پاؤں پر گر کر یہ کہنے گا؛ اے خُداوند میں گنہگار آدمی ہوں‘‘ (لوقا 5:‏8)۔ مالدار نوجوان سردار یسوع کے سامنے دوزانو ہوا تھا، مگر اپنے دِل کی گنہگاری کو اعتراف کرنے اور اُسے محسوس کرتے رہنے کے بجائے، ’’وہ یہ کہے جانے پر افسردہ تھا، اور غمگین چلا گیا تھا‘‘ (مرقس 10:‏22)۔

میں نے یہ دہرائے جاتے ہوئے اکثر دیکھا ہے۔ لوگ کہیں گے کہ وہ نجات پانا چاہتے ہیں۔ لیکن جب ہم اُنہیں دکھاتے ہیں کہ اُن کے دِل غلط ہیں، وہ دُنیا کی چیزوں پر بھروسہ کر رہے ہیں، کہ اُن کے پاس واقعی میں خُدا کے لیے کوئی پیار نہیں ہے، تو وہ غمگین چلے جاتے ہیں، اور جلد یہ بدیر گرجہ گھر سے گمراہ ہو جاتے ہیں۔

لیکن پھر ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں، اُس لڑکی کی مانند جس نے کہا تھا، ’’ میں خود سے کس قدر کراہت کرتی ہوں‘‘ – اُس لڑکی کی مانند جس نے کہا، ’’میں کس قدر بیہودہ گنہگار ہوں۔‘‘ پطرس کی مانند وہ اپنے گُھٹنوں پر ہوئے اور کہا، ’’مجھے سے دور رہ، کیونکہ میں ایک گنہگار آدمی ہوں۔‘‘ یہ پطرس کی طرح کے لوگ ہیں جو نجات پاتے ہیں۔ دوسرے، جلد یا بدیر، اپنی خودغرضی اور گناہ سے چمٹے ہمیشہ غمگین جاتے ہیں۔

آئیے ایک منٹ کے لیے نوجوان مالدار سردار کے پاس واپس چلتے ہیں۔ اُس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہوگا اگر اُس نے اصل میں وہی کیا ہوتا جو یسوع نے کہا تھا؟ کیوں، وہ شاید یہودہ کی جگہ پر بارہواں شاگرد بن سکتا تھا! لیکن چونکہ وہ یسوع کے بجائے دولت پر بھروسہ کرتا تھا، اِس لیے ہمیں تو اُس کا نام بھی معلوم ہوا! اگر اُس نے یسوع کی فرمانبرداری کی ہوتی تو اُس کا نام کو وقت کی گزرتی صدیوں میں – گایا جاتا، تعریف ہوتی، اور عزت ملتی!

نوجوان سردار کے چلے جانے کے بعد،پطرس نے کہا، ’’دیکھ ہم تو سب کچھ چھوڑ کر تیرے پیچھے چلے آئے ہیں‘‘ (مرقس 10:‏28)۔ وہ صحیح تھا۔ اُنہوں نے اپنے مچھلیوں کے جال اور پیسوں کا لین دین چھوڑ دیا تھا اور اُس کے پیچھے ہو لیے تھے۔ آپ کہتے ہیں، ’’یہ اتنا نہیں تھا جتنا نوجوان سردار کو چھوڑنا پڑتا تھا۔‘‘ جی نہیں یہ نہیں تھا، مگر اُنہوں نے اپنا سب کچھ جو اُن کے پاس تھا چھوڑ دیا تھا، اور یہ آج کے اِرتداد کے اِن دِنوں میں زیادہ تر لوگوں کے کرنے کے مقابلے میں کہیں بہت زیادہ ہے۔ اور یسوع نے پطرس اور دوسرے شاگردوں کو کہا،

’’میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جن لوگوں نے میری اور اِنجیل کی خاطر اپنے گھریا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے وہ اِسی دنیا میں رنج اور مصیبت کے باوجود گھر، بھائی، بہنیں، مائیں، بچے اور کھیت سو گُنا زیادہ پائیں گے اور آنے والی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کریں گے‘‘ (مرقس 10:‏29۔30).

کیا آپ اِس پریقین کرتے ہیں؟ کیا آپ یقین کرتے ہیں کہ یسوع یہ چیزیں اُن لوگوں کو دے گا جو توبہ کرتے اور اُس پر بھروسہ کرتے ہیں؟ اگر آپ اُس پر ایسا یقین کرتے ہیں، تو پھر کون سی بات آپ کو اُس پر بھروسہ کرنے سے روک رہی ہے؟ لیکن اگر آپ اُس پر یقین نہیں کرتے ہیں تو پھر آپ گرجہ گھر آنے کی بھی تکلیف کیوں کرتے ہیں؟ اگر آپ کو اُس کے وعدے کا یقین نہیں ہے، تو کیوں نہیں ابھی چلے چاتے ہیں، اور زندگی گزاریں اور مرجائیں جیسے کہ نوجوان مالدار سردار نے زندگی گزاری اور مر گیا؟ آپ جانتے ہیں، وہ واقعی مرا تھا۔ تقریباً 37 سال بعد، رومی آئے اور یروشلم کو تباہ و برباد کر دیا۔ یہ تب ہی ہوا تھا جب نوجوان سردار نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا – اُس کی دولت، اُس کی جائیداد، اور اُس کی جان۔ مسیح کو مسترد کرنے کے سینتیس سال بعد، اُس نے کسی نہ کسی طور اپنا سب کچھ کھو دیا تھا!

اب سے 37 سال بعد امریکہ کیسا ہوگا؟ میں اِس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا ہوں۔ یہ کوئی اچھا نظرنہیں آتا، کیا اچھا نظرآتا ہے؟ کیوں اپنی جان کو اِس طرح کی مرتی ہوئی قوم میں چند سال کے لطف کے لیے گنوانے کا خطرہ مول لیں؟ کیوں وہ خطرہ مول لیں جب کہ آپ ’’اِسی دنیا میں رنج اور مصیبت کے باوجود گھر، بھائی، بہنیں، مائیں، بچے اور کھیت سو گُنا زیادہ پاسکتے ہیں اور آنے والی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرسکتے ہیں‘‘؟ ایک بکّے ہوئے مسیحی کی زندگی کے مقابلے میں کوئی زندگی مالدار نہیں ہے۔ ہمارے گرجہ گھر کی افراد سے پوچھیں۔ اُن میں سے ہر ایک آپ کو بتائے گا کہ یہ سچ ہے! اُن میں سے ہر ایک آپ کو بتائے گا،

’’نہ دُنیا سے محبت رکھو نہ دُنیا کی چیزوں سے۔ جو کوئی دُنیا سے محبت رکھتا ہے اُس میں خدا باپ کی محبت نہیں ہے۔ کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش اور زندگی کا غرور، وہ خدا کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہے۔ دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں ختم ہو جائیں گی لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ہمیشہ تک باقی رہتا ہے‘‘ (1۔ یوحنا 2:‏15۔17).

یسوع کے پاس آئیں۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو ایک بھرپور اور مالدار زندگی دے گا جو آپ کبھی بھی اُس کے بغیر نہیں پا سکیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ سچ ہے۔ میں نے اِس کا تجربہ خود اپنی زندگی میں کیا ہے۔ اِس لیے میں دوبارہ آپ سے کہتا ہوں، یسوع صلیب پر مرا تاکہ آپ کے گناہوں کو معافی مل سکے۔ وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے آپ کو دائمی زندگی دینے کے لیے جی اُٹھا۔ خودغرضانہ اور گناہ سے بھرپور زندگی سے منہ موڑیں، اور اپنے تمام دِل کے ساتھ یسوع پر بھروسہ کریں۔ آپ کو کبھی بھی افسوس نہیں ہوگا کہ آپ نے ایسا کیا!

اگر آپ مسیحی بننے کے بارے میں ہم سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں، مہربانی سے ابھی اجتماع گاہ کے پچھلی جانب چلے جائیے۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پرسکون مقام پر لے جائیں گے جہاں ہم گفتگو اور دعا کر سکیں گے۔ مسٹر لی Mr. Lee مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: لوقا 12:‏16۔21 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہیروں کی ملکیت Acres of Diamonds‘‘ (شاعر آرتھر سمتھ Arthur Smith‏، 1959)۔