Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کا دشمن

THE ANTICHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
30 دسمبر، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, December 30, 2012

’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا: کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا، جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں، اور وہ مردِ گناہ ظاہر نہ ہو جائے، جس کا انجام ہلاکت ہے‘‘ (2۔ تھِسّلُنیِکیوں 2:3).

ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan نے گذشتہ شب اِس آیت کے پہلے حصے پر بات واعظ باعنوان ’’ارتداد The Apostasy‘‘ میں کی تھی۔ تھسلُنیکیوں کے شہر میں مسیحیوں نے جھوٹے نبیوں کو کہتے سُنا تھا کہ وہ پہلے ہی شدید بہت بڑی مصیبت میں رہ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی نے پولوس کو بھی اُنہیں یہ کہتے ہوئے ایک جعلی خط بنایا تھا۔ اِن مسیحیوں نے اپنی زندگی شہنشاہ کیلیگویولا
 Emperor Caligula ‏(37۔41بعد از مسیح) کے اور نیرو بادشاہ (54۔68 بعد از مسیح) کے شروع کے دور حکومت میں گزاری تھی۔ یہ بہت سے گروہوں سے لمبے عرصے سے اذیتیں برداشت کر رہے تھے، جن میں کافر بت پرست، غیر مسیحانہ یہودی، اور خود شہنشاہ شامل ہیں۔ ڈاکٹر جے ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’چونکہ وہ مصیبت میں مبتلا تھے، کسی کے لیے یہ کہنا بہت آسان تھا، ’اچھا، یہ بہت بڑی مصیبت ہے جس میں ہم ہیں ... ہم پہلے ہی اِس میں ہیں‘‘ (ڈاکٹر جے ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ ڈی۔، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانے Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحہ 412؛ 2۔ تھسلُنیکیوں 2:2 پر ایک یاداشت)۔

اِس لیے پولوس رسول نے اُنہیں خط لکھا اور کہا،

’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا: کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا، جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں، اور وہ مردِ گناہ ظاہر نہ ہو جائے، جس کا انجام ہلاکت ہے‘‘ (2۔ تھِسّلُنیِکیوں 2:‏3).

وہ اُنہیں بتا رہا تھا کہ بہت بڑی مصیبت ابھی تک نہیں آئی تھی۔ ڈاکٹر میکجی نے کہا کہ بہت بڑی مصیبت ’’نہیں آ سکتی تھی جب تک کہ دو شرائط کی تکمیل نہیں ہو جاتی: (1) ’پہلے وہاں ایمان سے برگشتگی آئے گی‘ اور (2) وہ مرد گناہ ظاہر ہوگا جس کا انجام ہلاکت ہے۔‘ اِن دونوں باتوں کا [بہت بڑی مصیبت] شروع ہو سکے اِس سے پہلے ہونا ضروری تھا...‘‘ (میکجی، ibid. ، صفحہ 413)۔

اِس لیے پولوس رسول نے اُنہیں بتایا کہ اِرتداد (وہ انحراف) کو ابھی آنا ہے، اور مسیح دشمن، ’’مرد گناہ یعنی جہنم کے بیٹے‘‘ کو بہت بڑی مصیبت کے شروع ہونے سے پہلے ظاہر ہونا ہوگا۔

گذشتہ رات کے واعظ میں ڈاکٹر کیگن نے اِرتداد کے پس منظر کو سمجھایا تھا، اُس ’’ایمان سے برگشتگی کو۔‘‘ اُنہوں نے ظاہر کیا کہ کیسے یہ صدیاں گزرنے کے ساتھ بڑھی تھی، جس کا آغاز روشن خیالی سے شروع ہوا، جب تک کہ مرکزی مسیحی اشخاص مُرتد نہ ہو گئے، جیسے کہ وہ آج ہیں – اس حد تک چلے گئے کہ اُنہوں نے بائبل میں کوئی غلطی نہیں ہے کو جُھٹلایا، مسیح کی جسمانی طور پر جی اُٹھنے کو جُھٹلایا، اور اُس کی صلیب پر کفاراتی موت کو جُھٹلایا، جب کہ ایسی باتوں کو شہہ دی جیسے کہ ہم جنس شادیاں اور اِشتراکیت۔ یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے، اور سر کے بل کھڑا ہوگا جیسے ہی مرتد کلیسیا سات سالہ مصائب کے دور میں داخل ہونے کے لیے تیار کھڑی ہوگی۔

دوسری بات جو پولوس نے ہمیں بتائی وہ یہ تھی کہ ’’مرد گناہ‘‘، مسیح کا دشمن، سات سالہ بہت بڑی مصیبت سے پہلے ظاہر ہوگا۔ اُس نے کہا، ’’... وہ دِن نہیں آئے گا، جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں، اور وہ مردِ گناہ ظاہر نہ ہو جائے، جس کا انجام ہلاکت ہے۔‘‘ اِس واعظ میں بائبل اِس ’’مرد گناہ‘‘ اِس ’’جہنم کے بیٹے‘‘ مسیح کے دشمن کے بارے میں کیا کہتی ہے اِس پر بات کروں گا

I۔ اوّل، مسیح کے دشمن کے ظاہر ہونے کا وقت۔

مہربانی سے اپنی بائبل میں سے دانی ایل 9:‏24 کھولیے۔ کھڑے ہوں اور باآوازِ بُلند آیت 27 سے پڑھنا شروع کریں۔

’’تیرے لوگوں اور تیرے مُقدّس شہر کے لیے ستر ہفتے مقرر کیے گئے ہیں جن کے اختتام تک خطا کاری پر قابو پالیا جائے، گناہ کا خاتمہ ہو، بدکرداری کا کفّارہ دیا جائے، ابدی راستبازی قائم ہو، رویا اور نبوّت پر مہر ہو اور پاک ترین مقام ممسوح کیا جائے۔ پس تُو جان اور سمجھ لے کہ یروشلم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کیے جانے کا حکم صادر ہونے سے لے کر ممسوح فرمانروا کی آمد تک سات ہفتے اور پھر باسٹھ ہفتے گزر جائیں گے۔ اسے اس کے بازاروں اور فصیل اور خندق سمیت تعمیر کیا جائے گا۔ لیکن یہ مصیبت کے ایّام میں ہوگا۔ باسٹھ ہفتوں کے بعد ممسوح کو ختم کر دیا جائے گا اور اس کا کچھ نہ رہے گا اور آنے والے حکمران کے لوگ شہر اور مقدِس کو تباہ کر دیں گے۔ اس کا انجام سیلاب کی وجہ سے ہوگا، جنگ آخر تک ہوتی رہے گی اور تباہیوں کا حکم دیا جا چکا ہے۔ اور وہ ایک ہفتہ کے لیے بہتوں سے عہد باندھے گا اور اس ہفتہ کے بیچ میں وہ ذبیحے اور ہدیئے موقوف کر دے گا اور وہ ہیکل کے موڑ پر ایسی نفرت انگیز شَے رکھے گا جو تباہی پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے لیے مقّرر کیا ہُوا انجام اس پر نازل ہو جائے گا‘‘ (دانی ایل 9:‏24۔27).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اِن ’’ہفتوں‘‘ سے پریشان مت ہوئیے گا۔ عبرانی لفظ میں ’’ہفتوں‘‘ کے ترجمہ کا یہاں محض مطلب ’’سات‘‘ ہوتا ہے۔ سیاق و سباق (9:‏2) پر غور کرنے سے اور ’’دِنوں‘‘ کے لفظ کے اضافے سے وہ جب ہے تو مطلب یہ نکلتا ہے (10:‏2۔3) جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ہفتہ، حوالہ جس کو ہم نے ابھی پڑھا ہے، اُس میں اِس کا مطلب سات سال ہیں۔

سر رابرٹ اینڈرسن Sir Robert Anderson نے اپنی کتاب آنے والا شہزادہ The Coming Prince، میں نقطہ اُٹھایا کہ دانی ایل 9:‏26 کے 69 ہفتے (یا 483 انبیانہ سال) 14مارچ، 445 قبل از مسیح میں یروشلم شہر (نحمیاہ 2:‏1۔8) کو دوبارہ تعمیر کرنے کے حکم کے ساتھ شروع ہوتے ہیں۔ مسیح یروشلم میں اپنی مسیحیت کا اعلان کرنے کےلیے 6 اپریل 32 بعد از مسیح میں داخل ہوئے تھے۔ سر رابرٹ اینڈرسن نے کہا کہ یروشلم کو دوبارہ تعمیر کروانے کے حکم کے جاری ہونے اور ’’مسیحا شہزادے‘‘ کی عوام میں آمد کے درمیان – مارچ 14، قبل از مسیح 445 اور 6 اپریل، 32 بعد از مسیح، یہاں پر ٹھیک 360 دِنوں کے 483 انبیانہ سال ہیں، اور لیپ سالوں leap years کے 116 دِنوں کا اضافہ کرنے پر، یہ ہمیں 6 اپریل، 32 بعد از مسیح میں لے جاتا ہے – یروشلم کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فرمان جاری ہونے سے لیکر یسوع کی موت سے پہلے اتوار تک، جب وہ یروشلم میں ایک گدھے پر سوار ہو کر اپنے آپ کو مسیحا تسلیم کروانے کے لیے آیا تھا۔ ڈاکٹر جے۔ ڈوائٹ پینتیکوست Dr. J. Dwight Pentecost نے کہا، ’’دانی ایل کی پیشن گوئی کی سچائی اِس بات سے مانی جاتی ہے کہ اُس نے بیان کیا ’باسٹھ ہفتوں کے بعد ممسوح کو ختم کر دیا جائے گا‘ (دانی ایل 9:‏26)‘‘ (جے۔ ڈوائٹ پینتیکوست J. Dwight Pentecost، ٹی ایچ۔ ڈی۔، آنیوالی باتیں: بائبل میں انسان اور دُنیا کی حتمی تقدیر کا مطالعہ Things to Come: A Study in Biblical Eschatology، ژونڈروان Zondervan، 1971، صفحہ 246)۔ اپریل 11، 32 بعد از مسیح میں یسوع کی موت خط میں دانی ایل کی پیشن گوئی کو مکمل کرتی ہے! یہ اِس قدر درست اور تفصیل کے ساتھ ہے کہ کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع ہی کے مسیحا ممکن ہو سکتا ہے!

اب، دانی ایل 9:‏27 میں، ہمارے پاس سالوں کا 70 واں ہفتہ ہے۔ اِس سالوں کے 70ویں ہفتے کو مسیحی اختیارکے دِنوں کے دوران ملتوی کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر لوئیس ٹی ٹالبوٹ Dr. Louis T. Talbot‏(1889۔1976) بائیولا یونیورسٹی کے مرحوم چانسلر نے کہا، ’’اُنہتر ہفتے سالوں کے ہفتے تھے؛ اِس لیے ہم جانتے ہیں کہ سترواں ہفتہ سالوں کا ہفتہ ہوگا [بہت بڑی مصیبت کے دور کے سات سال]۔ وضاحتی دور، جو کلیسیا کے دور کے طور پر جانا جاتا ہے، اُنہترویں اور سترویں ہفتوں کے درمیان رخنہ ڈالتا ہے ... دانی ایل 9:‏27 کا اپنا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے، ہم پاتے ہیں کہ مسیح کا دشمن ’ایک ہفتے کے لیے بہتوں سے عہد باندھے گا۔‘ یہ مسیح کے دشمن کے وعدے کے مطابق، سترویں ہفتے میں توسیع کے لیے دانی ایل کے لوگوں [یہودیوں] کے ساتھ ایک عہد ہوگا‘‘ (لوئیس ٹی ٹالبوٹ، ڈی۔ ڈی۔، زمانوں کے لیے خُدا کے منصوبے God’s Plan for the Ages، عئیرڈمینز اشاعتی کمپنی Eerdmans Publishing Company، اشاعت 1977، صفحات 156، 157)۔

دانی ایل 9:‏26 میں، ’’آنے والا حکمران‘‘ مسیح کا دشمن ہے، حتمی دُنیا کا آمر حکمران۔ مصائب کا دور یعنی بہت بڑی مصیبت، جو دانی ایل کا 70واں ہفتہ ہے، اُس وقت شروع ہوگا جب مسیح کا دشمن [دجال] ’’ایک ہفتے کے لیے ... عہد باندھے گا‘‘ (دانی ایل 9:‏27)۔ یوں، اسرائیل کے ساتھ اِس معاہدے کا مانا جانا سات سالہ مصائب کے دور یعنی بہت بڑی مصیبت کے آغاز کا نشان ہوگا، جو دانی ایل کے سترویں ہفتے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔‘‘

لوگوں نے سوچا تھا کہ بہت سے لوگ دشمن مسیح [دجال] تھے۔ 1930 کی دہائی کے دوران کچھ مخصوص بائبل کے تفسیردانوں نے سوچا کہ ھٹلر دجال تھا۔ دوسروں نے کہا یہ میسولینی Mussolini تھا۔ بعد میں کچھ نے سوچا کہ جان ایف کینیڈی مسیح دشمن [دجال] تھا۔ اِس کے بعد بھی، 1970 کی دہائی میں، یہ کہا جانا بالکل جائز طور پر مشہورہو گیا تھا کہ ڈاکٹر ھنری کسینگر Dr. Henry Kissinger دشمن مسیح [دجال] تھے۔ اب کچھ لوگ یہ سب کچھ مسٹر اوباما کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ تمام کے تمام اندازے غلط تھے۔ اِن میں سے کسی نے بھی یہودیوں کے ساتھ سات سالہ معاہدہ نہیں کیا جو یہودیوں کو اپنی ہیکل دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ جب آپ دیکھیں کہ دُنیا کا کوئی راہنما ایسا کر رہا ہے، تو آپ جان جائیں گے کہ یہ ہی پیشن گوئی کیا ہوا مسیح کا دشمن [دجال] ہے، لیکن اِس سے پہلے نہیں۔

’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا: کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا، جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں، اور وہ مردِ گناہ ظاہر نہ ہو جائے، جس کا انجام ہلاکت ہے‘‘ (2۔ تھِسّلُنیِکیوں 2:‏3).

’’مرد گناہ،‘‘ کون ہے مسیح کا دشمن، اُس وقت تک ’’ظاہر‘‘ نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایک سات سالہ ’’عہد‘‘ یا معاہدہ نہیں کرتا۔ پھر، اور صرف پھر، ’’وہ مرد گناہ، جہنم کا بیٹا آشکارہ ہوگا۔‘‘

II۔ دوئم، دشمن مسیح کا منشور اور اُس کی تباہی۔

دوسری بات جو میں چاہتا ہوں کہ آپ جانیں دشمن مسیح [دجال] کا منشور ہے۔ پہلے، وہ اسرائیل کے ساتھ ایک امن کا معاہدہ کرے گا، جو دانی ایل کے 70ویں ہفتے سے شروع ہوگا، جو کلام پاک میں ’’بہت بڑی مصیبت‘‘ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے (متی 24:‏21؛ مکاشفہ 7:‏14)۔ لیکن ’’ہفتے کے بیچ میں وہ ذبیحے اور ہدیے موقوف کر دے گا‘‘ (دانی ایل 9:‏27)۔ ڈاکٹر ٹالبوٹ نے کہا، ’’وہ یہودیوں کو اسرائیل کی سرزمین کو مکمل دے دے گا... یہودی اپنے ہیکل کی پرستش کو برقرار کر لیں گے ... بالکل اُسی جگہ پر جہاں پرانی یہودیوں کی ہیکل تھی۔ اِسرائیل کو اِن جائز وعدوں [کے ذریعے] سے دھوکہ دیا جائے گا، جس کو یرمیاہ نے بطور ’’جہنم کے ساتھ ایک عہد‘‘ بیان کیا ہے ... مسیح کا دشمن [دجال] اپنے عہد کو اسرائیل کے ساتھ دانی ایل کے سترویں ہفتے [سات سالوں کی بہت بڑی مصیبت میں سے ساڑھے تین سال میں] کے درمیان میں توڑے گا ... [پھر] الٰہی عزت کی چاہت کرے گا – اور وہ بالکل اُسی مقام پر اپنی پرستش کروانا چاہے گا جہاں خُدا کو عزت دی جاتی ہے ... تمام لوگوں کو اُسے الٰہی عزت دینے پر مجبور کرنے کے لیے، دشمن مسیح [دجال] یروشلم میں یہودیوں کی ہیکل میں ’مقدس مقام پر‘ اپنا عکس نصب کروائے گا، اور خود کو بطور خُدا پرستش کروانے کا تقاضہ کرے گا۔ ایسا کرنے میں، وہ ’ذبیحے اور ہدیے موقوف کروا دے گا (یہودیوں کی عبادتی ہیکل میں)، اور وہ ہیکل کے موڑ پر ایسی نفرت انگیز شے رکھے گا جو تباہی پیدا کرتی ہے۔‘ یوں دانی ایل 9:‏27 اِس کفر کے انجام کو بیان کرتی ہے ... اسرائیل کے ساتھ دشمن مسیح [دجال] کا عہد، جو پہلے دانی ایل کے سترویں ہفتے کیا گیا تھا، مذہبی آزادی کی ضمانت دے گا؛ لیکن وہ اپنے عہد کو محض ایک ’کاغذ کا ٹکڑا‘ گردانے گا۔ وہ اسرائیل کو یہودہ کی پرستش کے حق سے محروم کر دے گا، اور تقاضہ کرے گا کہ اُس کی بطور خُدا پرستش کی جائے۔ اِس کے علاوہ، وہ جو ’حیوان کی علامت‘ لگوانے سے انکار کریں گے، اُس کو بیعت دیں گے، اُس دِن نہ ہی تو خرید سکیں گے اور نہ ہی بیچ سکیں گے۔ اُس کی آخری انتباہ ہوگی: ’میری پرستش کرو یا بھوکے مرو!‘ ‘‘ (ٹالبوٹ، ibid. ، صفحہ 161، 162)۔

لیکن اسرائیل کے زیادہ تر لوگ مسیح کے دشمن [دجال] کی پرستش سے انکار کر دیں گے۔ یہ سترویں ہفتے کو دوسرے آدھے حصے کی نشانی ہوگا، جس کو مسیح نے بیان کیا تھا جب اُس نے کہا،

’’کیونکہ اُس وقت کی مصیبت ایسی بڑی ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ تو اب تک آئی ہے اور نہ پھر کبھی آئے گی۔ اگر اُن دِنوں کی تعداد گھٹائی نہ جاتی تو کوئی شخص نہ بچتا لیکن چُنے ہُوئے لوگوں کی خاطر اُن دِنوں کی تعداد کم کردی جائے گی‘‘ (متی 24:‏21، 22).

اِس لیے یسوع نے مصیب کے دوسرے آدھے حصے کو ’’بہت بڑی مصیبت‘‘ کہا تھا۔ ہزاروں لاکھوں یہودی اور غیر اقوام کے لوگ جنہوں نے مسیح کے دشمن [دجال] کی پرستش کرنے سے انکار کیا تھا، اور اُس کا نشان قبول کیا تھا، شہید کر دیے جائیں گے۔ اُن میں سے بہتیرے ہوں گے

’’…جن کے سر یسُوع کی گواہی دینے اور خدا کے کلام کی وجہ سے کاٹ دیئے گئے تھے۔ اُن لوگوں نے نہ تو اُس حیوان کو نہ اُس کی مورت کو سجدہ کیا تھا، نہ اپنے ہاتھوں پر اُس کا نشان لگوایا تھا…‘‘ (مکاشفہ 20:‏4).

اُن کے اوپر آسمان میں چلے جا چکنے کے بعد، یوحنا رسول نے ہمیں اُن کی ایک جھلک پیش کی تھی جو اُس بہت بڑی مصیبت کے دوران شہیدوں کے طور پر مارے جائیں گے۔

’’پھر بزرگوں میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کہ یہ سفید جامے پہنے ہوئے لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ اور میں نے جواب دیا کہ اَے میرے آقا! یہ تو تجھے ہی معلوم ہے۔ تب اُس نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون میں دھو کر سفید کیے ہیں‘‘ (مکاشفہ 7:‏13،‏14).

ڈاکٹر ٹالبوٹ نے کہا،

      [اسرائیل کی بھلائی کے لیے] خُدا دانی ایل کے سترویں ہفتے کو بہت تیزی سے اختتام کی طرف لائے گا۔ خُداوند یسوع جلال میں واپس آئے گا۔ وہ اپنے لوگوں کا چلانا سُنے گا، اور اُنہیں خطرے اور گناہ سے خستہ حال دُنیا کو مسیح کے دشمن [دجال] کے اقتدار سے بچانے کے لیے نیچے آئے گا۔ وہ اپنے راستباز انصاف سے دُنیا کو پاکیزہ کرے گا؛ پھر وہ ’’سمندر سے لیکر سمندر تک اور دریا سے لیکر دُنیا کے آخری سروں تک حکومت کرے گا۔‘‘
      مجھے تعجب ہوتا ہے اگر میں کسی ایسے سے بات کر رہا ہوں جو مسیح کو بطور نجات دہندہ اور خُداوند کے مسترد کرتا ہے؟ میرے دوست، اگر آپ یسوع کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر مسترد کرتے ہیں تو آپ اُس کو بطور اپنے منصف کے ملیں گے۔ یسوع صلیب پر آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے مرا تھا۔ کیا آپ ... اِس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہو جائے یسوع کو قبول کریں گے؟ (ٹالبوٹ، ibid.، صفحہ 163)۔

یہ میری دعا ہے کہ اِس سے پہلے کے بہت بڑی مصیبت کے ناخوشگوار واقعات اِس گناہ سے بھرپور، خُدا کی چھوڑی ہوئی دُنیا پر پڑیں، آپ اپنے گناہ سے توبہ کریں اور یسوع پر ابھی بھروسہ کریں! مسیح کا دشمن [دجال] تباہ ہو گیا ہے۔ اُس کو ’’زندہ گندھک کے ساتھ جلتی ہوئی جھیل میں‘‘ جھونک دیا جائے گا (مکاشفہ 19:20)۔ ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ ابھی یسوع پر بھروسہ کریں، تاکہ آپ کو اُس ناخوشگوار انصاف کا تجربہ نہ کرنا پڑے! آمین۔ مسٹر لی Mr. Lee، مہربانی سے ہماری دعا میں رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: 2۔ تھسّلُنیکیوں 2:‏1۔9.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’اوہ آؤ، اوہ آؤ، عمانوئیل O Come, O Come, Emmanuel‘‘ (لاطینی 12صدی سے؛
ترجمہ کیا جان ایم۔ نیلعے John M. Neale،‏ 1818۔1866)۔

لُبِ لُباب

مسیح کا دشمن

THE ANTICHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا: کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا، جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں، اور وہ مردِ گناہ ظاہر نہ ہو جائے، جس کا انجام ہلاکت ہے‘‘ (2۔ تھِسّلُنیِکیوں 2:‏3).

I۔ اوّل، دشمن مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت، دانی ایل 9:‏24۔27 .

II۔ دوئم، دشمن مسیح کا منشور اور اُس کی تباہی، متی 24:‏21؛
مکاشفہ 7:‏14؛ دانی ایل9:‏27؛ متی 24:‏21، 22؛ مکاشفہ 20:‏4؛
مکاشفہ 7:‏13، 14؛ 19:‏20 .