Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

حنوک کا پیغام

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 67)
THE MESSAGE OF ENOCH
(SERMON #67 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
9 دسمبر، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, December 9, 2012

’’جب حنوک پینسٹھ برس کا تھا تب اُس کے ہاں متوسلح پیدا ہُوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔ حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور پھر خدا نے اُسے اُٹھا لیا اور وہ نظروں سے غائب ہو گیا‘‘ (پیدائش 5:‏21۔24).

نسلِ انسانی کے بزرگ حنوکEnoch سیلاب سے پہلے، قدیم دُنیا میں رہتے تھے۔ تلاوت کہتی ہے وہ 65 برس کے تھے جب اُن کا بیٹا متوسلح پیدا ہوا تھا۔ اُن کے ابتدائی 65 برسوں میں اُن کے ساتھ کیا ہوا اِس کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ یہ ایک بدکار دور تھا – جو عظیم سیلاب کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ حنوک جب تک 65 برس کا نہ ہوگئے مذہبی نہیں تھے۔ شاید اُنہیں اُن کے اردگرد بدکاری کی وجہ سے ایک قسم کے مذہب میں سکون رہا ہوگا۔ ہمیں نہیں بتایا گیا ہے کہ حنوک کی خُداوند کے ساتھ کوئی مخصوص تعلق داری تھی جب تک کہ اُن کے بیٹا نہ پیدا ہو گیا۔ ڈاکٹر میکجی Dr. McGee نے کہا یوں لگتا ہے کہ بچے نے اُنہیں خُدا کی طرف رجوع کرایا تھا۔ یہ کبھی کبھی اُس وقت ہوتا ہے جب انسان باپ بنتا ہے۔ لیکن یہ ایک بہت بدکار اور بےدین زمانہ تھا،اُس دور کی طرف بڑھ رہا تھا جب

’’خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ بدی کی طرف مائل رہتے ہیں‘‘ (پیدائش 6:‏5).

ڈاکٹر ایم۔آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے اشارہ دیا کہ یہ مذہبی ارتداد، سفر ، شہر تعمیر کرنے، ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے، بڑی بڑی زرعی کامیابیاں پانے، موسیقی، اور بے مثل ظلم و تشدد کا ایک دور تھا (ایم۔آر۔ڈیحان، ایم۔ڈی۔، نوح کے دن The Days of Noah، ژونڈروان Zondervan، اشاعت 1979، صفحہ 41)۔ دوسرے لفظوں میں، وہ دُنیا جس میں حنوک رہ رہے تھے بہت حد تک ہماری جیسی آج کی دُنیا تھی۔ اور یسوع نے کہا، ’’جیسا کہ نوح کے دنوں میں ہوا تھا، ویسا ہی ابن آدم کی آمد کے وقت ہوگا‘‘ (متی 24:37)۔ یہ ہے وہ دُنیا جس میں حنوک رہتے تھے۔ یہ بہت حد تک ہمارے شہر اور ہماری دُنیا جیسی تھی۔ ہر بات جو ہم حنوک کے بارے میں جانتے ہیں کلام پاک کے تین حوالوں میں پیش کی گئی ہے۔ آج رات ہم اُن تینوں کو ہی دیکھنے جا رہے ہیں۔ کلام پاک کے اُن حوالوں میں ہم تین باتیں دیکھیں گے۔

I۔ اوّل، حنوک خُداوند کے ساتھ چلتا رہا۔

ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’جب حنوک پینسٹھ برس کا تھا تب اُس کے ہاں متوسلح پیدا ہُوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی‘‘ (پیدائش 5:‏21۔23).

اپنی زندگی کے پہلے 65 برسوں کے دوران اُس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کا تزکرہ کلام پاک میں کیا جاتا۔ غالبا وہ ایک بُرا شخص نہیں تھا۔ لیکن وہ کوئی ایسا شاندار ایماندار بھی نہیں لگتا تھا۔ لیکن اُس وقت سے جب اُس کا بیٹا متوسلح پیدا ہوا تھا اُس نے خُدا کے ساتھ چلتے رہنا شروع کیا، ’’اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ... ‘‘ (پیدائش 5:‏22)۔ مجھے یہاں آپ کو یہ بتانے کے لیے رُکنا پڑے گا کہ عظیم سیلاب سے پہلے اِس دور میں، لوگ کی عمریں آج کے لوگوں کی عمروں سے کہیں زیادہ ہوتی تھیں۔ یہ بہت حد تک اِسلیے تھا کیونکہ زمین آسمان میں پانی کی ایک چھتری کے نیچے تھی، جو سورج کی بنفشی شعاعوں کو چھانتی تھی، اور ایک کافی زیادہ متوازن اور صحت بخش ماحول پیدا کرتی تھی، جس سے ایک یکساں درجہ حرارت مہیا ہوتا، اور طوفانوں اور ہوا کی بہت بڑی بڑی حرکات میں رکاوٹ پیدا ہوتی۔ یہ ماحول، اور اِس کے ساتھ ساتھ شدید غذائیت سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں نے انسان کی زندگی کو صدیوں تک دراز کردیا۔

اِس سیلاب سے پہلے کی دُنیا میں، حنوک خُدا کے ساتھ چلتا رہا تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ خُداوند کو پسند تھا۔ اُس نے کیسے خُداوند کو خوش کیا تھا؟ ہمیں عبرانیوں 11 باب میں بتایا گیا ہے کہ ’’وہ خُداوند کو پسند تھا۔ کیونکہ ایمان کے بغیر خُداوند کو پسند آنا ممکن نہیں‘‘ (عبرانیوں 11:‏5، 6)۔ خُدا کے ساتھ اکٹھے چلنے کا مطلب قربت اور پیارہوتا ہے،اور یہ خُداوند اور انسان کے درمیان اُس وقت تک موجود نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ انسان ایمان کے ذریعے سے بچایا نہیں گیا ہے۔ یاد رکھیے کہ حنوک آپ کی اور میری طرح تھا۔ وہ ایک گنہگار پیدا ہوا تھا، اور آدم کی اولاد سے تھا۔ اِس لیے اُس کو معافی اور صفائی کی ضرورت تھی جیسا کہ ہمیں ہوتی ہے۔ کوئی بھی خُداوند کے ساتھ نہیں چل سکتا جب تک کہ اُس کا گناہ معاف نہیں ہوتا ہے اور وہ ایمان کے ذریعے سے راستباز نہیں ہوتا ہے۔ عبرانیوں 11:‏6 کہتی ہے، ’’ایمان کے بغیر خُداوند کو پسند آنا ممکن نہیں‘‘۔ لہذا ایمان کے ذریعے سے حنوک کو خُدا نے پسند کیا تھا، جیسا کہ آج ہم ہیں۔ اگر آپ خُداوند کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ خُداوند یسوع مسیح میں یقین کرنے کے ذریعے سے شروع کریں۔ عظیم ترین بزرگی گناہ کے اعتراف سے اور ایمان کے ذریعے سے مسیح کو اپنا لینے سے شروع کرنی چاہیے۔ کلام پاک کہتا ہے، ’’چونکہ اب تم نے مسیح یسوع کو اپنا خداوند مان لیا ہے، اِس لیے اُس کی رفاقت میں زندگی گزارو‘‘ (کلسیوں 2:‏6)۔ ہم نے بہت سے نوجوان لوگوں کو خُدا کے ساتھ چلتے رہنے کی کوشش کرتے ہوا دیکھا ہے، لیکن وہ لڑکھڑائے اور ناکام ہوئے کیونکہ اُن کا مسیح میں حقیقی ایمان نہیں تھا۔ ایمان کے ذریعے سے حنوک خُداوند کی رضامندی میں آیا تھا، اور ایمان کے ذریعے سے خُداوند کے ساتھ چلتا رہا تھا – یہاں تک کہ سیلاب سے پہلے کے شیطانی اور گناہ سے بھرپور دور میں بھی۔

پھر، بھی، خُداوند کے ساتھ حنوک کے چلنے کا مطلب تھا کہ اُس کو خود اپنے اندر خُداوند کی موجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔ آپ کبھی بھی ایک شخص کے ساتھ نہیں چل سکتے جس کو آپ ذاتی طور پر نہیں جانتے ہیں۔ حنوک نے اپنے ساتھ خُدا کی موجودگی کی آگاہی کے ساتھ زندگی بسر کی تھی۔ یہ ہمیں ظاہر کرتا ہے کہ حنوک ایک دعاگو بندہ تھا۔ جب وہ خُدا کی قربت میں ہوتا وہ خُدا کے ساتھ ایسے بات کرتا، جیسے کسی قریبی دوست کے ساتھ کرتا تھا۔ خُدا نے حنوک سے لیکر بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ ایسا کیا تھا۔ خُدا ہمیں اپنے راز بتاتا ہے، خُداوند کا راز، جو وہ صرف اُن پر ظاہر کرتا ہے جو اُسے پیار کرتے اور اُسے جانتے ہیں، اور ہم اُسے اپنی خوشیاں، اپنے دُکھ اور اپنے گناہ اعتراف میں بتاتے ہیں۔ ہم اپنے خوف اور پریشانیوں کا وزن خُدا کے سامنے ہلکا کرتے ہیں جو ہمیں سنبھالتا ہے۔ اور وہ ہمیں ہماری جانب اُس کے پیار کا احساس دلاتا ہے۔ یہی طریقہ ہے جس سے حنوک خُدا کے ساتھ چلتا رہا۔ اور اُس نے ایسا کبھی کبھار نہیں کیا تھا۔ اور خُداوند کے ساتھ تین سو سال تک چلتا رہا تھا! کیسی ایک شاندار رفاقت! تین سالوں کی ایک رفاقت! اگر حنوک نے کسی اور کے ساتھ اتنی لمبی رفاقت رکھی ہوتی، تو شاید وہ اُس سے اُکتا جاتا۔ لیکن وہ خُدا کے ساتھ تین صدیوں تک رفاقت میں رہا، اور یہ اِتنا شاندار تھا کہ ایک دِن وہ وقت اور جگہ سے پرے چلتا چلا گیا، جب تک کہ وہ جنت میں نہیں پہنچ گیا، جہاں وہ اب بھی خُداوند کی حضوری میں چل رہا ہے۔ اِس کے علاوہ، اُس نے رفاقت کے دوران ترقی بھی کی ہے۔ تین سالوں کے اختتام کے بعد اُس نے خُدا کی موجودگی سے اور لطف اُٹھایا، اُس نے اور زیادہ سمجھا، اُس نے مذید اور پیار کیا، اُس نے اور زیادہ پایا،اور وہ اور زیادہ دوسروں کے لیے دے سکا ہوگا، کیونکہ وہ آگے چلا گیا تھا اور فضل میں بڑھتا رہا تھا۔ جیسے حنوک خُدا کی رفاقت میں آگے چلتا چلا گیا، میں دعا کرتا ہوں کہ آپ بھی ایسے ہی بڑھتے جائیں۔ گفتگو خُدا کے ساتھ ہماری رفاقت کا صرف نقطہ آغاز ہوتی ہے! اپنی رفاقت کا آغاز مسیح پر بھروسہ کرنے سے شروع کریں، اور روزانہ کی دعا کے ذریعے سے اپنی رفاقت کو جاری رکھیں۔

II۔ دوئم، حنوک خُدا کے لیے بولتا تھا۔

وہ نا صرف خُداوند کے ساتھ بولتا تھا بلکہ خُدا کے لیے بھی بولتا تھا۔ یاد رکھیے کہ حنوک نے بہت برائی کے دور میں زندگی گزاری تھی۔ وہ اُس دور میں تھا جب گناہ نے زمین کو ڈھانپنا شروع کیا تھا۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اِس سے پہلے ہی خُداوند نے نوع انسانی کی بدکاری دیکھی اور اُن تمام کو زمین کے چہرے سے سیلاب کے پانیوں میں بہا لے گیا ماسوائے نوح اور اُس کے خاندان کے۔ حنوک نے اُن دنوں میں زندگی گزاری جب لوگ خُدا کا تمسخر اُڑاتے تھے اور اپنی جنسی خواہشات کے پیچھے چلتے تھے۔ ہم یہ یہودہ کی کتاب میں حنوک کے بارے میں پڑھنے سے جانتے ہیں۔ مہربانی سے یہودہ کی کتاب کھولیں، جوآیت 14 سے پڑھنا شروع کریں گے،

’’حنوک نے بھی جو آدم سے ساتویں پُشت میں تھا اِن کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی کہ دیکھو! خداوند اپنے لاکھوں مُقدّسوں کے ساتھ آتا ہے تاکہ سب لوگوں کا اِنصاف کرے اور سارے بے دینوں کو سزا کا حکم دے، اِس لیے کہ اُنہوں نے بے دینی سے مجبور ہو کر بہت سے بے دینی کے کام کیے ہیں، اور خداوند بے دین گنہگاروں کو بھی سزا کا حکم دے گا کیونکہ اُنہوں نے اُس کے خلاف بڑی سخت باتیں کہی ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ بڑبڑاتے اور شکایت کرتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور اپنے متعلق بڑے بول بولتے ہیں اور اپنے فائدہ کے لیے دُوسروں کی خُوشامد کرتے ہیں۔ لیکن عزیزو! اِن باتوں کو یاد رکھو جو ہمارے خداوند یسُوع کے رسول پہلے کہہ چُکے ہیں؛ اُنہوں نے تُم سے کہا تھا کہ آخری دنوں میں ٹھٹھّا کرنے والے ظاہر ہوں گے جو اپنی بے دینی کی خواہشوں کے مطابق چلیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تفرقے ڈالتے ہیں۔ یہ نفسانی لوگ ہیں اور رُوح سے بے بہرہ ہیں‘‘
(یہودہ 14۔19).

اپنی نسل کے لیے حنوک کا پیغام نرم اور سکون پہنچانے والا نہیں تھا۔ اُس نے انصاف کی بات کی تھی۔ اُس نے دلچسپی سے، مسیح کی دوسری آمد کی بات کی – اُس وقت ماضی میں، سیلاب سے پہلے!

’’حنوک نے بھی جو آدم سے ساتویں پُشت میں تھا اِن کے بارے میں یہی پیشن گوئی کی تھی کہ دیکھو! خداوند اپنے لاکھوں مُقدّسوں کے ساتھ آتا ہے تاکہ سب لوگوں کا اِنصاف کرے اور سارے بے دینوں کو سزا کا حکم دے، اِس لیے کہ اُنہوں نے بے دینی سے مجبور ہو کر بہت سے بے دینی کے کام کیے ہیں۔ اور خداوند بے دین گنہگاروں کو بھی سزا کا حکم دے گا کیونکہ اُنہوں نے اُس کے خلاف بڑی سخت باتیں کہی ہیں ‘‘ (یہودہ 14۔15).

آخاہ! لوتھر Luther نے کہ حنوک نے ’’شیطان کی کلیسیا اور اُس کاہن کی نسل کے خلاف خُداوند اور اُس کی کلیسیا کے لیے گواہی دینے میں بہت بڑی جرأت کی تھی‘‘ (لینسکی Lenski)۔ اُس نے خُداوند کے غیظ و غضب اور مسیح کی دوسری آمد کے پیغام کے ساتھ اُن کی کھالیں اُدھیڑ ڈالی تھیں! میرا خیال ہے کہ یہی اِس نسل کو بھی سُننے کی ضرورت ہے! اِنہوں نے پیاری چھوٹی چھوٹی باتیں جوئیل آسٹن اور اِسی طرح کے لوگوں سے سُنی ہیں۔ میرے خیال میں طلاق، آزاد جنسی ملاپ، اسقاط حمل، خوراک کا ضیائع، بُلند بے ھنگم موسیقی، منشیات اور اوباما کے اِس بے دین دور میں اُنہیں حنوک کی تبلیغ کی ایک اچھی تیز دوا کی ضرورت ہے!

’’حنوک نے بھی جو آدم سے ساتویں پُشت میں تھا اِن کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی کہ دیکھو! خداوند اپنے لاکھوں مُقدّسوں کے ساتھ آتا ہے تاکہ سب لوگوں کا اِنصاف کرے…‘‘ (یہودہ 14۔15).

ہمارے گرجہ گھر میں اپنے دوست یا رشتہ دار کو لانے سے خوفزدہ مت ہوں۔ اُنہیں آنے والی قیامت کے بارے میں سُن لینے دیجیے۔ اِس سے اُنہیں فائدہ ہوگا! اکثر ایک چُھبنے والا لفظ ہی دراصل ہوتا ہے جس کی لوگوں کو اُن کی غفلت اور گناہ کی نیند سے جھنجھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے! ویسے، کیا آپ آنے والی قیامت کے لیے تیارہیں؟ کیا آپ خُداوند کی غیظ و غضب اور مسیح کے انصاف کے لیے تیار ہیں جو ہماری قوم اور ہماری دُنیا پر پڑنے والا ہے؟ کیا آپ تیار ہیں؟ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُدا سے ملنے کی تیاری کر‘‘ (عاموس 4:‏12)۔ کیا آپ تیار ہیں؟ آپ کے خُفیہ گناہوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کے گناہ سے بھرپور خیالات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کا مسیح کو بار بار مسترد کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کیسے اپنے دل اور دماغ میں اِس قدر دھیڑ سارے گناہ کے بوجھ کے ساتھ خُداوند کے حضوری میں کھڑے ہو سکتے ہیں؟ حنوک خُداوند کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ حنوک خُدا کے لیے بولا تھا۔ لیکن یہاں اور بھی ہے۔

III۔ سوئم، حنوک کو خُدا کے ساتھ ہونے کے لیے موت سے پہلے ہی اُٹھا لیا گیا تھا۔

مہربانی سے عبرانیوں 11:‏5 کھولیے۔ کھڑے ہوں اور اِسے باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’ایمان ہی سے حنوک اپنی مَوت سے پہلے ہی اُٹھا لیا گیا اور اُس کا پتا نہ چلا کیونکہ خدا نے اُسے اُٹھا لیا تھا۔ اُس کے اُٹھائے جانے سے پہلے اُس کے حق میں گواہی دی گئی کہ وہ خداوند کو پسند تھا‘‘ (عبرانیوں 11:‏5).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اِس سے پہلے پیدائش کی کتاب میں ہم نے پڑھا،

’’حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا: اور پھر خدا نے اُسے اُٹھا لیا اور وہ نظروں سے غائب ہو گیا‘‘ (پیدائش 5:‏24).

’’وہ نظروں سے غائب ہو گیا؛ کیونکہ خُداوند نے اُسے اُٹھا لیا۔‘‘ اِسکا کیا مطلب ہوتا ہے؟ جواب عبرانیوں 11:‏5 میں پیش کیا گیا ہے، ’’حنوک اپنی مَوت سے پہلے ہی اُٹھا لیا گیا اور اُس کا پتا نہ چلا کیونکہ خدا نے اُسے اُٹھا لیا تھا ... ‘‘ دوبارہ، معمول کے مطابق، کنگ جیمس بائبل جدید نسخوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ نئی کنگ جیمس میں یہ یوں بیان کیا گیا ہے، ’’اُس کو لے لیا گیا تھا۔‘‘ دی نیو انٹرنیشنل ورژن NIV میں یوں لکھا گیا ہے، ’’اِس زندگی سے لے لیا گیا تھا۔‘‘ لیکن حقیقت میں یونانی لفظ کا مطلب ’’تبدیل ہونا، منتقل ہونا، اُٹھا لیا جانا‘‘ ہے۔ (فریٹز رائینیکر Fritz Reinecker، پی ایچ۔ ڈی۔، یونانی نئے عہدنامے کے لیے زباندانی کی لغت A Linguistic Key to the Greek New Testament، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1980، صفحہ 707؛ عبرانیوں 11:‏5 پر ایک یاداشت)۔

ایک مرتبہ پھر موڈیMoody کی توضیح کے لیے، ’’کنگ جیمس بائبل جدید نسخوں پر بہت زیادہ اچھے طریقے سے روشنی ڈالتی ہے!!‘‘ جی نہیں، حنوک کو صرف ’’لے لیا گیا‘‘ نہیں تھا۔ اُس کو زمین پر سے آسمان کےلیے ’’موت سے پہلے اُٹھا لیا گیا تھا translated‘‘! جیسا کہ مسٹر مینسیا Mr. Mencia اور مسٹر سونگ Mr. Song نے انگریزی سے ھسپانوی اور چینی زبان میں ترجمہ کیا، لہذا حنوک اِس دُنیا سے تیسرے آسمان میں ایک اور وسعت میں خُداوند کے ساتھ ہونے کے لیے ’’موت سے پہلے اُٹھا لیا گیا‘‘تھا!

’’حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا: اور پھر خدا نے اُسے اُٹھا لیا اور وہ نظروں سے غائب ہو گیا‘‘ (پیدائش 5:‏24).

عبرانی لفظ ’’وہ نظروں سےغائب ہو گیا‘‘ کے ترجمہ کا مطلب ’’وہ چلا گیا تھا‘‘ ہے۔ ’’پھر خُدا نےاُسے اُٹھا لیا‘‘ میں لفظ ’’اُٹھا لیا‘‘ ’’لاکاچ laqach‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’لے لیا گیا‘‘ یا ’’کھینچ لیا گیا‘‘ ہوتا ہے۔ یہ وہی [عبرانی] لفظ شامل کرتا ہے جو 2۔ سلاطین 2:‏3،‏5 میں ایلیاہ کے آسمان کی طرف اُٹھا لیے جانے میں استعمال ہوا تھا‘‘ (لینسکی Lenski)۔ ’’اور ایلیاہ ایک بگولے میں آسمان کی طرف اُٹھا لیا گیا‘‘ (2۔ سلاطین 2:‏11)۔ کچھ یہودی رواجوں کے مطابق حنوک کو آسمان میں اُسی طریقے سے اُٹھا لیا گیا تھا جیسا کہ ایلیاہ کو آسمان میں اُٹھا لیا گیا تھا۔ لیکن یہ صرف قیاس آرائی ہے کیونکہ بائبل ہمیں ایسی کوئی تفضیل پیش نہیں کرتی ہے‘‘ (میک آرتھر MacArthur)۔

ایک بات تو یقینی ہے – حنوک کا آسمان میں اُٹھا لیا جانا ایک طرح سے ایمانداروں کا زندہ بادلوں پر یسوع کے استقبال کے لیے اُٹھا لیے جانے کی ایک قسم ہے۔ یہ اُس وقت کی نشادہی کرتا ہے جب حقیقی مسیحیوں کو اِس دور کے اختتام پر اوپر آسمان میں لے لیا جائے گا۔ وہ ’’ایک لمحے میں، پلک کے چھپکنے میں‘‘ خُدا کی طرف سے اُٹھا لیے جائیں گے (1۔ کرنتھیوں 15:‏52)۔ پولوس رسول نے کہا،

’’کیونکہ خداوند خُود بڑی للکار اور مُقرّب فرشتہ کی آواز اور خدا کے نرسنگے کے پھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مر چُکے ہیں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہوں گے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خداوند کا استقبال کریں اور ہمیشہ اُس کے ساتھ رہیں‘‘ (1۔ تھِسّلُنیِکیوں 4:‏16۔17).

یہ الفاظ حقیقی مسیحیوں کو بہت آرام و سکون پہنچانے کے لیے موجود ہیں۔ لیکن اِن سے ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے وہ جو مسیح میں نجات نہیں پائے ہوئے ہیں کے دلوں میں دھشت اختیار کر جائے۔

میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ ایک مبشر کو لوگوں کو بائبل کی پیشن گوئی کے ساتھ خوفزدہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن میں اِس سے متفق نہیں ہوں۔ تمام نئے عہد نامے میں بائبل کی پیشنگوئی سے تعلق رکھنے والی ہولناک دھمکیاں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر 2۔ تسالونیکیوں میں لکھا ہے،

’’خداوند یسُوع اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہُوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا۔ اور اُنہیں سزا دے گا جو خدا کو نہیں جانتے اور ہمارے خداوند یسُوع مسیح کی خوشخبری کو نہیں مانتے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہلاک کر دئیے جائیں گے اور خداوند یسُوع مسیح کے چہرہ اور اُس کی قدرت کے جلال کو کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔ یہ اُس کی آمد کے دِن ہوگا جب وہ اپنے لوگوں میں جلال پائے گا... ایمان لائے ہو‘‘ (2۔ تھسلنیکیوں 1:‏7۔10).

اور خُداوند یسوع مسیح نے خبردار کیا تھا کہ، آسمان میں بادلوں پر اُس کے استقبال کے لیے اُٹھا لیے جانے پر،

’’جو کنواریاں تیار تھیں دلہا کے ساتھ شادی کی ضیافت میں اندر چلی گئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ بعد میں باقی کنواریاں بھی آگئیں اور کہنے لگیں: اَے خداوند! اَے خداوند! ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ لیکن اُس نے جواب دیا: سچ تو یہ ہے کہ میں تمہیں جانتا ہی نہیں۔ لہٰذا جاگتے رہو کیونکہ تمہیں نہ تو اُس دِن کا پتا ہے نہ اُس گھڑی کی خبر ہے‘‘ (متی 25:‏10۔13).

یہی طریقہ ہے جو آسمان میں یسوع کے استقبال کے لیے بادلوں پر اُٹھا لیے جانے کا ہوگا۔ اگر آپ تیار نہیں ہوتے ہیں تو دروازہ ’’بند‘‘ کر دیا جائے گا۔ آپ چیخ سکتے ہیں، جیسا کے بلاشک وشبہ نوح کے دن لوگ چلائے تھے، اور کشتی کی دروازے کو پیٹتے رہے تھے۔ لیکن آپ کے لیے یہ بہت دیر ہو جائے گی، جیسی کہ یہ اُن کے لیے ہو گئی تھی۔ آپ زمین پر ناقابل بیاں دھشتناکیوں کے لیے چھوڑ دیے جائیں گے۔ آپ کے دِل اور دماغ کے گناہ آپ کو ملامت کریں گے۔ آپ کا ریکارڈ یسوع کے خون سے پاک صاف ہونا چاہیے، ورنہ آپ کے پاس آسمان میں اُس کے استقبال کے لیے بادلوں میں اُٹھا لیے جانے کے کوئی اُمید نہیں ہوگی۔ بالکل بھی کوئی اُمید نہیں ہوگی!

ماضی میں 1970 کی ابتدائی دہائی میں سان فرانسسکو کے نزدیک میں نے ایک گرجہ گھر شروع کیا تھا جہاں لوگ گیت گایا کرتے تھے جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے اِس واعظ سے قبل گایا تھا۔ میں نے اِس کو واضح کرنے کے لیے صرف چند ایک الفاظ کی ترمیم کی ہے،

زندگی بندوقوں اور جنگ سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا رہا تھا،
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوتے۔
   بچے مرے، دِن سرد ہوتے چلے گئے،
روٹی کا ایک ٹکڑا سونے کی ایک تھیلی خرید سکتا تھا،
   میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہوئے ہوتے۔
اپنا ذہن بدلنے کے لیے کوئی وقت نہیں بچا ہے،
   آپ کس طرح اِس قدر اندھے ہو سکتے ہیں؟
نجات دہندہ نے بُلایا لیکن آپ نے نہیں سُنا،
   بیٹا آ چکا ہے اور آپ پیچھے چھوڑے جا چکے ہیں۔

شوہر اور بیوی بستر میں سوئے ہوئے ہیں،
   وہ آواز سُنتی ہے اور سر گھماتی ہے – وہ جا چکا ہے۔
میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے۔
   دو آدمی اوپر پہاڑ پر جا رہے ہیں،
ایک غائب ہو جاتا ہے اور ایک ساکن کھڑا چھوڑ دیا جاتا ہے،
   میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے۔
اپنا ذہن بدلنے کے لیے کوئی وقت نہیں بچا ہے،
   آپ کس طرح اِس قدر اندھے ہو سکتے ہیں؟
نجات دہندہ نے بُلایا لیکن آپ نے نہیں سُنا،
   بیٹا آ چکا ہے اور آپ پیچھے چھوڑے جا چکے ہیں،
آپ پیچھے چھوڑے جا چکے ہیں،
     آپ پیچھے چھوڑے جا چکے ہیں،
(’’ میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے
   I Wish We’d All Been Ready‘‘ شاعر لیری نارمن
        Larry Norman، ‏1947۔2008؛ پادری نے ترمیم کیا)۔

آپ شاید کہہ سکتے ہیں، ’’یہ مجھے خوفزدہ کرتا ہے!‘‘ اچھا ہے! اگر یہ آپ کوآپ کے گناہ سوچنے کے لیے اور مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے تحریک دیتا ہے، تو اچھا ہے! عظیم اصلاح پرست لوتھر Luther ‏(1483۔1546) نے کہا،

یہ ضروری ہے، اگر آپ مسیح میں تبدیل ہو جائیں، کہ آپ دھشت زدہ ہوتے ہیں، یعنی کہ، آپ کے پاس ایک خبردار اور کپکپا دینے والا ضمیر ہے۔ پھر، اِس شرط کے تخلیق کیے جانے کے بعد، آپ کو [مسیح] کو گرفت میں لینا چاہیے۔ خُداوند ... نے اپنا بیٹا یسوع مسیح دُنیا میں دھشت زدہ گنہگاروں کو خُدا کے رحم کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا۔ یہی طریقہ ہے کہ مسیح میں تبدیلی رونما ہوتی ہے؛ دوسرے ذرائع غلط ذرائع ہیں (زبور 51:‏13 کی تفسیر؛ اے۔ ڈی۔ 1532)۔

اگر آپ کا ضمیر خبردار ہے اور اپنے گناہ سے دھشت زدہ ہے، میں آپ کو ایمان کے ساتھ یسوع کے پاس آنے کے لیے کہتا ہوں، اور اُس کے خون سے پاک صاف ہونے کے لیے کہتا ہوں۔ آمین۔

اگر آپ ہمارے ساتھ مسیح کا آپ کے گناہ پاک صاف کرنے کے بارے میں بات کرنا پسند کریں، تو مہربانی سے اجتماع گاہ کی پچھلی جانب ابھی چلے جائیے، اور ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ کی نجات کے بارے میں بات کر سکیں گے۔ جلدی سے جائیے۔ ڈاکٹر چین Dr. Chan، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کیجیے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت مسٹر کائیو ڈونگ لی
Mr. Kyu Dong Lee نے کی تھی: متی 25:‏10۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ میں خواہش کرتا ہوں ہم تمام تیار ہوئے ہوتے I Wish We’d All Been Ready‘‘
(شاعر لیری نارمن Larry Norman، ‏1947۔2008؛ پادری نے ترمیم کیا)۔

لُبِ لُباب

حنوک کا پیغام

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 67)
THE MESSAGE OF ENOCH
(SERMON #67 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب حنوک پینسٹھ برس کا تھا تب اُس کے ہاں متوسلح پیدا ہُوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اس کے ہاں اور بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ حنوک کی کل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔ حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور پھر خدا نے اُسے اُٹھا لیا اور وہ نظروں سے غائب ہو گیا‘‘ (پیدائش 5:‏ 21۔24).

(پیدائش 6:‏ 5؛ متی 24:‏ 37)

I.   اوّل، حنوک خُداوند کے ساتھ چلتا رہا تھا، پیدائش 5:‏ 21۔23؛ عبرانیوں 11:‏ 5، 6؛
کُلسیوں 2:‏ 6 .

II.  دوئم، حنوک خُدا کے لیے بولتا تھا، یہودہ 14۔19؛ عاموس 4:‏ 12 .

III. سوئم، حنوک کو خُدا کے ساتھ ہونے کے لیے موت سے پہلے ہی اُٹھا لیا گیا تھا،
عبرانیوں 11:‏ 5؛ پیدائش 5:‏ 24؛ 2۔ سلاطین 2:‏ 11؛ 1۔ کرنتھیوں 15:‏ 52؛
1۔ تسالونیکیوں 4:‏ 16۔17؛ 2۔ تسالونیکیوں 1:‏ 7۔10؛ متی 25:‏ 10۔13۔