Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اُس نے واعظ سُنے تھے لیکن کبھی بھی نہیں بچایا گیا تھا!

!HE HEARD THE SERMONS BUT WAS NEVER SAVED
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
2 دسمبر، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, December 2, 2012

’’کیونکہ ہیرودیس یوحنا سے خوفزدہ رہتا تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا۔ وہ اُس کا بڑا احترام کرتا تھا اور اُس کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہ یوحنا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا لیکن سُنتا شوق سے تھا‘‘ (مرقس 6:‏20).

ہرودیس انطیپاس Herod Antipasعظیم ہرودیس کے بیٹوں میں سے ایک تھا، جو اُس وقت حکمران تھا جب یسوع پیدا ہوا تھا۔ ہرودیس انطیپاس ’’ہرودیس ٹیٹراچ Herod the Tetrarch‘‘ کہلاتا تھا کیونکہ وہ ایک چھوتھائی گلیل کا حکمران بنایا گیا تھا۔ گلیلیوں کی طرف سے اُس کو ہرودیس بادشاہ بھی کہا گیا تھا۔ اُس نے ہیرودیاس سے شادی کی تھی جو اُس کے بھائی فلپس کی بیوی تھی۔ یوحنا اصطباغی دل برداشتہ ہو گیا تھا کہ اسرائیل میں حکمران سے ایک ایسا آہانت آمیز گناہ سرزد ہو جائے گا۔ اُس نے انتہائی شدت کے ساتھ ہیرودیس کی اس بات کے لیے مذمت کی۔ ہیرودیس نے یوحنا کو قید کرو دیا کیونکہ ہیرودیاس چاہتی تھی کہ وہ ایسا کرے۔ وہ یوحنا اصطباغی سے ہیرودیس کے ساتھ اُس کی شادی کرنے کے خلاف بولنے کی وجہ سے نفرت کرتی تھی۔ اُسے ’’لومڑی‘‘ کہہ کر (لوقا13:‏32) یسوع نے ہیرودیس کے مکارانہ اور دھوکہ باز کردار کی ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔ ہیرودیس انطیپاس وہمی، بزدل اور دوغلا تھا۔ ’’ہیرودیاس کا [یوحنا اصطباغی] کے خلاف جھگڑا ہوا تھا، اور اُسے قتل کردیا گیا ہوتا؛ لیکن وہ ایسا کر نہ سکی‘‘ (مرقس 6:‏19)۔

’’کیونکہ ہیرودیس یوحنا سے خوفزدہ تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا۔ وہ اُس کا بڑا احترام کرتا تھا اور اُس کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہ یوحنا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا لیکن سُنتا شوق سے تھا‘‘ (مرقس 6:‏20).

اِس باب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہیرودیس یوحنا اصطباغی کا احترام کرتا تھا، وہ اُس کی تبلیغ شوق سے سُنتا تھا، اور بہت سے ایسی باتوں کو کیا جنہیں کرنے کے لیے یوحنا نے اُسے کہا تھا، اور اِس کے باوجود وہ دائمی طور پر انتقال کر گیا۔

چند ہفتے قبل میں فیلکس Felix رومی گورنر کے بارے میں بات کر رہا تھا جس کو پولوس رسول نے اعمال 24 باب میں تبلیغ کی تھی۔ فیلکس کانپ گیا تھا جب پولوس نے بات کی تھی، لیکن اُس نے توبہ نہیں کی تھی اور مسیح پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ وہ اکثر پولوس کو سُننے کے لیے بُلا لیا کرتا تھا، ’’اور اُس سے گفتگو کرتا تھا‘‘ (اعمال 24:‏26)۔ لیکن وہ کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ میں نئے عہد نامے میں کسی دوسرے آدمی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جس نے بہت سے واعظ سُنے ہوں اور نجات نہ پائی ہو۔ میرے بات کرنے کے بعد مسٹر گریفتھ نے مجھے ہرودیس ٹیٹراچ کے بارے میں یاد دلایا، جس کی بات ہماری تلاوت میں کی گئی ہے،

’’کیونکہ ہرودیس یوحنا سے خوفزدہ رہتا تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا۔ وہ اُس کا بڑا احترام کرتا تھا اور اُس کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہ یوحنا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا لیکن سُنتا شوق سے تھا‘‘ (مرقس 6:‏20).

یہاں، پھر، ایک آدمی ہے جو اُن کی تصویر پیش کرتا ہے جو گرجہ گھر آتے ہیں اور شوق سے واعظ سُنتے ہیں، جو اپنی زندگی میں کچھ باتوں کو بدلتے ہیں، لیکن توبہ نہیں کرتے اور مسیح پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اگر آپ گرجہ گھر آتے رہے ہیں، لیکن مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہیں، تو ہیرودیس کی زندگی میں بے شمار باتوں کو سوچیئے اور اُن کا اپنے ساتھ موازنہ کیجیے۔

I۔ اوّل، ہیرودیس یوحنا کو سراہتا تھا۔

’’کیونکہ ہیرودیس یوحنا سے خوفزدہ رہتا تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا ...‘‘ (مرقس 6:‏20).

میتھیو ھنری Matthew Henry نے کہا، ’’یہ ممکن ہے کہ ایک انسان کے پاس شاید بہت زیادہ احترام ... اچھی منادیوں کے لیے… اور اِس کے باوجود وہ [خود ہی] ایک بُرا انسان ہو۔‘‘

آپ ایک مبشر کا احترام کر سکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ’’ایک راستباز اور پاک آدمی‘‘ ہے – اور پھر بھی نجات نہیں پاتے ہیں۔ مجھے ایک آدمی یاد ہے جو چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں آیا کرتا تھا جب میں وہاں پر تھا۔ اُس نے کہا کہ پادری ڈاکٹر لِن Dr. Lin ایک عظیم انسان تھے، جیسا کہ بلا شُبہ وہ تھے۔ یہ آدمی سوچتا تھا کہ ڈاکٹر لِن اِس قدر عقلمند اور بائبل کے پاک اُستاد تھے کہ وہ چاہتا تھا اُس کا تمام خاندان ایک اور بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر سے منتقل ہو کر یہاں آ جائیں تاکہ وہ تمام ہر اِتوار کو ڈاکٹر لِن کو سُن سکیں۔ وہ اتوار کو گرجہ گھر میں سرمست ہو کر بیٹھ جاتا جب کہ ڈاکٹر لِن بولتے تھے۔ وہ تقریباً ہر مرتبہ جب آپ اُس سے بات کریں ڈاکٹر لِن کا حوالہ دیتا تھا۔ لیکن کچھ سالوں کے بعد اُس نے پراسرار جیکب بوعحیم Jacob Boehme ‏(1575۔1624) نامی جرمنی کے مصنف کی تصانیف کو پڑھنا شروع کر دیا۔ بوعحیم ایک انتہائی مخصوص طرز کا، غیر روایتی مصنف تھا، جس نے کلام پاک کی بہت سی عجیب اور تمثیلی تاویلیں لکھیں۔ یہ آدمی ڈاکٹرلِن کو بوعحیم کے حوالے دینے لگا، اور یہاں تک کہ دعائیہ عبادتوں میں بوعحیم کی تصانیف کے حصوں کو پڑھتا۔ وہ اِس پُراسرار شخص میں اِس قدر کھو گیا کہ اُس نے ڈاکٹر لِن کے ساتھ بحث کی اور گرجہ گھر چھوڑ دیا۔ ماضی میں سوچتے ہوئے، مجھے شک ہوتا ہے کہ آیا وہ آدمی واقعی مسیح میں تبدیل ہوا تھا۔ اُس نے ڈاکٹر لِن کا احترام کیا اور تعظیم دی۔ لیکن آخر میں، ہیرودیس انطیپاس کی طرح، اُس نے مبشر کو مسترد کر دیا جیسا کہ ہیرودیس نے بالاخر یوحنا اصطباغی کو مسترد کر دیا تھا۔

کسی موقعے پر آدمی کو مبشر کو دیکھنے سے بھی پرے دیکھنا پڑتا ہے اور وہ خود مسیح کو دیکھتا ہے۔ مبشر تو لوگوں کو ہدایت کرنے کے لیے ہے جب تک کہ وہ توبہ نہیں کرتے اور یسوع مسیح میں بھروسہ نہیں پا لیتے (دیکھیے 2۔ تیموتاؤس 2:25)۔ ہیرودیس کبھی بھی یوحنا اصطباغی کو سراہنے اور تعظیم دینے سے پرے نہیں گیا تھا۔ وہ کبھی بھی یسوع کے پاس نہیں آیا تھا، اور کبھی بھی بچایا نہیں گیا تھا۔ سپرجئین Spurgeon نے کہا،

      حالانکہ اُس نے یوحنا سے پیار کیا، [ہیرودیس] نے کبھی بھی یوحنا کے اُستاد کی تلاش نہیں کی۔ یوحنا کبھی بھی کسی کو اپنا شاگرد بنانا نہیں چاہتا تھا، لیکن وہ چلاتا تھا، ’’دیکھو خُدا کا برّہ۔‘‘ ہیرودیس ایک طرح سے کہہ سکتے ہیں یوحنا کا پیروکار تھا، لیکن کبھی بھی یسوع کا پیروکار نہیں تھا۔ آپ کے لیے مبشر کو سُننا اور اُسے پیار کرنا اور اُسے سراہنا آسان لگتا ہے، اور پھر بھی مبشر کا اُستاد آپ کے لیے بالکل انجانا ہوتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے پیارے دوستوں، اپنے میں سے کسی کے ساتھ بھی ایسا نہ ہونے دیں گے... یہ مسیح ہے جس کے پاس آپ کو ضرور جانا چاہیے: ہماری ساری منادی کا انت یسوع مسیح ہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ براہ راست اُس کے پاس جائیں، اُس سے معافی کے طلبگار ہوں، اُسی سے دوبارہ بچایا جانا یعنی نجات مانگیے، اُس سے دِل کی تبدیلی چاہیں، اُس سے ایک نئی زندگی چاہیں، کیونکہ سب کچھ ضائع چلا جائے گا اگر آپ نے مبشروں میں سے سب سے زیادہ وفادار مبشر کو سُنا، اور مبشر کے اُستاد کو نہیں سُنا اور خوشخبری کی فرمانبرداری نہیں کی۔ تو آپ ہیرودیس ہونگے، اور اِس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہونگے، جب تک کہ فضل آپ کی مسیح کی پاس راہنمائی نہ کرے (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ’’یوحنا اور ہیرودیس John and Herod،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، جلد چھبیسXXVI، پلگرم
 اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1972، صفحہ 404)۔

II۔ دوئم، ہیرودیس بہت سی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا جب یوحنا کو تبلیغ کرتے ہوئے سُنتا تھا۔

’’کیونکہ ہیرودیس یوحنا سے خوفزدہ رہتا تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا۔ وہ اُس کا بڑا احترام کرتا تھا اور اُس کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہ یوحنا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا… ‘‘ (مرقس 6:‏20).

بہت سی ایسی باتیں جن کی تبلیغ یوحنا نے کی اُن کے بارے میں سُن کر ہیرودیس پریشان تو ضرور ہوتا تھا۔ لیکن اُس نے ہیرودیاس سے چُھٹکارا حاصل نہیں کیا تھا۔ وہ اُس کی اپنی بھانجی تھی،اور اُس کے اپنے بھائی کی بیوی رہ چکی تھی۔ وہ اُس کے اپنے بھائی کے بچوں کی ماں تھی۔ اور اِس کے باوجود ہیرودیس نے اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ دیا تھا، جو اُس کے ساتھ کئی سالوں تک وفادار رہی تھی، اور اُس کی جگہ اِس مکار، بےدین عورت ہیرودیاس کو اپنا لیا تھا۔ ہیرودیس اُس کے ساتھ زنائے محرم کر رہا تھا۔ اِس عورت کا اثر اُس پر لعنت اور تباہی تھا۔

بہت سے مرد اور عورتیں ایک مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص سے قریبی رشتہ رکھنے کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ بائبل کہتی ہے،

’’بے ایمانوں کی بُری صحبت سے دُور رہو‘‘ (2۔ کرنتھیوں 6:‏14).

بائبل کہتی ہے،

’’اُن میں سے نکل کر الگ رہو‘‘ (2۔ کرنتھیوں 6:‏17).

بائبل کہتی ہے،

’’اِس لیے جو کوئی بھی دُنیا کا دوست ہوگا خُدا کا دشمن ہے‘‘ (یعقوب 4:4).

ہم نے نوجوان لوگوں کو اِس قدر شدت کے ساتھ کھوئے ہوئے دوستوں کے اثرمیں بے قابو دیکھا ہے کہ وہ اُس شخص کو چھوڑ کر مسیح کے پاس نہیں آتے ہیں۔ سپرجئین نے کہا، ایک مسیح میں غیر تبدیل شُدہ شخص کے اثر میں رہنا ہمیشہ سے خطرناک رہا ہے، چاہے وہ کتنے ہی اخلاقی کیوں نہ ہوں... خُدا آپ کو اِس سے نکلنے کی ہمت دے [ورنہ] آپ کا انجام بھی ہیرودیس کی مانند ہو گا، اور اِس سے زیادہ نہیں‘‘ (ibid.، صفحہ 406)۔

بہت سی ایسی باتیں جن کی تبلیغ یوحنا نے کی اُن کے بارے میں سُن کر ہیرودیس ’’پریشان تو ضرور ہوتا‘‘ تھا – لیکن اُس نے اپنے آپ سے اِس قابل نفرت عورت کو دور نہیں کیا۔ یوحنا اصطباغی نے اُسے خبردار کیا تھا، ’’تجھے اپنے بھائی کی بیوی اپنے پاس رکھنا جائز نہیں‘‘ (مرقس 6:‏18)۔ اگر اُس نے توبہ کی ہوتی اور اُسے دور کر دیا ہوتا، اور یسوع پر بھروسہ کیا ہوتا، ہیرودیس بچایا جا چکا ہوتا۔ ’’لیکن،‘‘ کوئی شاید کہہ سکتا ہے، ’’اُس کے لیے یہ کام کرنا ایک انتہائی دشوار بات رہی ہوگی۔‘‘ جی ہاں، میں جانتا ہوں کہ ایک کھوئے ہوئے دوست کو چھوڑنا یا ایک چاہت بھرے گناہ کو چھوڑنا ہمیشہ ’’دشوار‘‘ لگتا ہے۔ لیکن ایسےگناہ کے ساتھ چپکے رہنے کا انجام بھی ہمیشہ دشوار ترین ہوتا ہے۔ اِسی لیے آخرمیں ہیرودیاس نےہیرودیس کو چالاکی سے دھوکے میں لا کر اُس مبشر کو قتل کروا دیا جس کی وہ کبھی عزت کرتا تھا۔ اور اُس نے ایک جلاد کو یوحنا اصطباغی کا سر قلم کرنے کے لیے بھیج دیا، اور اُس نے اُس کا[یوحنا] سر ایک پلیٹ میں رکھ کر اُس گھٹیا اور قابل مذمت عورت کو پیش کیا جسے وہ مسیح سے زیادہ چاہتاتھا!

سپرجئین نے کہا، ’’لہذا یہ بہت سے نااُمید سُننے والوں کے ساتھ ہو چکا ہے؛ وہ اُنھی مبشروں کے جن کے سامنے وہ کبھی کپکپاتے تھے اُنھی پر تہمت دھرنے والے اور اُنھی کو اذیت دینے والے بن جاتے ہیں، اور اِس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اُن کے سرقلم کردیتے ہیں۔ کچھ وقت کے بعد لوگوں کوسرزش کیا جانا اچھا نہیں لگتا، اور وہ اپنی ناپسندیدگی میں ہی جاری رہتے ہیں جب تک کہ وہ اُن باتوں پر جنہیں وہ کبھی احترام دیتے تھے ہنسی نہ اُڑانا شروع کر دیں... خبردار رہیں! میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں، خبردار رہیں! کیونکہ گناہ کا راستہ نشیب میں جاتا ہے۔ ایک شخص شاید ایک مبشر ہو سکتا ہے ... اور اِس کے باوجود، اگر اُس کو مخصوص حالات میں رکھا جائے تو وہ اُس سچائی کے لیے جسے وہ کبھی مانا کرتا تھا ایک نفرت کرنے والا اور ایک جلاد بن سکتا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 407)۔

جیسا کہ آپ شاید جانتے ہی ہیں، اُن میں سے کچھ جو اِس گرجہ گھر سے شدت کے ساتھ نفرت کرتے ہیں، اور ہم پر درندگی سے حملہ کرتے ہیں، کبھی ہمارے دوست ہوا کرتے تھے، جو ہمارے ساتھ دعا کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے پیار کرتے ہیں۔ اُن کی نفرت کی جڑ اِس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اُنہوں نے گناہ سے پیار کیا، اور اِس پر ملامت کیے جانے پر نفرت کی۔ یسوع نے کہا،

’’اگر تُم دنیا کے ہوتے تو دنیا تمہیں اپنوں کی طرح عزیز رکھتی لیکن اب تُم دنیا کے نہیں ہو کیونکہ میں نے تمہیں چُن کر دنیا سے الگ کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا تُم سے دشمنی رکھتی ہے‘‘ (یوحنا 15:‏19).

III۔ سوئم، ہیرودیس کا ضمیر اُسےسکون نہیں لینے دے گا۔

اِس واعظ کے شروع ہونےسے پہلے ڈاکٹر چین Dr. Chan نے کلام پاک کو جو حصہ پڑھا اِن الفاظ سے شروع ہوتا تھا،

’’اور ہیرودیس بادشاہ نے [یسوع] کو سُنا… اور اُس نے کہا، کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا مُردوں میں سے زندہ ہوگیا ہے، اِسی لیے تو اُس میں معجزے دکھانے کی قُدرت ہے‘‘ (مرقس 6:‏14).

میتھیو ھنری نے کہا، ’’وہ یوحنا سے ڈرتا رہا جب تک وہ زندہ رہا، اور اب، جب اُس نے سوچا کہ اُس سے [چُھٹکارہ] پالیا، تو اُس کے مرنے پر دس گنا زیادہ اُس سے ڈرتا ہے۔ کوئی شاید روحوں اور دیوانے پن کے آسیب میں اتنا ہی گِھر سکتا ہے جتنا کہ ملامت کرتے ہوئے ضمیر کی دھشت کے ساتھ۔‘‘

آخر میں،ہیرودیس کی کوئی بھی کاریگری اور سیاسی چالاکیاں اُس کو بچا نہ سکیں۔ اریتاس بادشاہKing Aretas ، جو ناباٹیئن Nabatean کا حکمران تھا اور جس کی بیٹی ہیرودیس کی پہلی بیوی تھی، جسے ہیرودیاس کو اپنانے سےپہلے ہیرودیس نے چھوڑ دیا تھا، اُس نے اپنی بیٹی کا انتقام لینے کے لیے ہرودیس کے خلاف فوجیں بھجیں تھیں۔ اور اِس نے ہیرودیس انطیپاس کے زوال کا آغاز کیا۔ آخر کار اُسے رومی شہنشاہ کالیگیولا Caligula کے حضور پیش کیا گیا تھا۔ شہنشاہ نے اُس کی تمام دولت چھین لی اور اُسے فرانس کے ایک گمنام علاقے میں جلا وطن کر دیا۔ بعد میں اُسے کو سپین میں دربدر کیا گیا تھا، جہاں وہ غربت میں مرا تھا۔ یوں اُس کی زمینی زندگی کا خاتمہ ہوا، ’’اور اُس نے عالم ارواح میں عذاب میں مبتلا ہو کر اپنی آنکھیں اوپر اُٹھائیں‘‘ (لوقا 16:‏23)۔

ہیرودیس نے یوحنا اصطباغی کو تبلیغ کرتے ہوئے سُنا تھا، ’’اور جب وہ اُس کو سُنتا تھا، تو پریشان تو ضرور ہوتا تھا، لیکن اُسے شوق سے سُنتا تھا‘‘ – لیکن اُس نے کبھی بھی توبہ نہیں کی تھی، اور کبھی بھی یسوع پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔ یوحنا نے یسوع کی منادی اُس کو کی تھی، لیکن اُس نے کبھی بھی نجات دہندہ پر بھروسہ نہیں کیا تھا۔

آج صبح آپ میں سے کچھ یہاں ایسے ہیں جو ہمارے گرجہ گھر میں تبلیغ سُننے آئے ہیں۔ آپ آتے تو ہیں، لیکن آپ توبہ نہیں کرتے ہیں، اور آپ یسوع پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ میں آپ کوخبردار کرتا ہوں، آپ کا انجام بھی ہیرودیس انطیپاس سے کوئی اچھا نہیں ہوگا۔ آپ بہت سے کام کرتے ہیں۔ آپ شاید گرجہ گھر کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ آپ شاید سکوفیلڈ مطالعہ بائبل بھی رکھتے ہیں۔ آپ شاید حمدوثنا کے گیت بھی گاتے ہیں، اور آپ شاید انجیلی بشارت کے لیے بھی جاتے ہوں۔ جی ہاں، آپ شاید بہت سے کام کرتے ہوں، جیسا کہ ہیرودیس نے کیے۔ لیکن یسوع کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ہیرودیس نے یسوع کو ضرور ایک بار دیکھا تھا، بہت اختصار سے،نجات دہندہ کے مصلوب ہونے سے بالکل پہلے۔ لیکن ’’ہیرودیس نے اپنے جنگی آدمیوں کے ساتھ... اُس کا تمسخر اُڑایا ... اور اُسے دوبار پیلاطوس کے پاس بھیج دیا‘‘ جو رومی گورنر تھا (لوقا 23:‏11)۔ اِس وقت تک ہیرودیس کا دِل گناہ سےاِس قدر سخت ہو چکا تھا کہ اُس نے خُدا کے بیٹے کا اُس کے چہرے پر تمسخر اُڑایا! یہی آپ کے ساتھ بھی ہوگا، اگر آپ واعظ سُنتے رہیں اور یسوع پر بھروسہ کرنے سے انکار کرتے رہیں۔ حالانکہ وہ آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا تھا، اور ہماری راستبازی کے لیے دوبارہ جی اُٹھا تھا، ایک دِن آپ کو بھی سخت دلی اور جہنم کی دائمی آگ کے لیے چھوڑ دیا جائے گا، جیسا ہیرودیس انطیپاس کےساتھ ہوا تھا۔ اُس نے واعظ سُنے تھے، لیکن وہ کبھی بھی بچایا نہیں گیا تھا! اوہ، خُدا نہ کرے کہ آپ کا یہ ناخوشگوار انجام ہو! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan
نے کی تھی: مرقس 6:‏14۔20 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’تقریباً قائل ہو گیاAlmost Persuaded ‘‘ (شاعر فلپ پی۔ بلسPhilip P. Bliss ‏، 1838۔1876).

لُبِ لُباب

اُس نے واعظ سُنے تھے لیکن کبھی بھی نہیں بچایا گیا تھا!

!HE HEARD THE SERMONS BUT WAS NEVER SAVED

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’کیونکہ ہیرودیس یوحنا سے خوفزدہ رہتا تھا، اِس لیے کہ یوحنا ہیرودیس بادشاہ کی نظر میں ایک راستباز اور پاک آدمی تھا۔ وہ اُس کا بڑا احترام کرتا تھا اور اُس کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ وہ یوحنا کی باتیں سُن کر پریشان تو ضرور ہوتا تھا لیکن سُنتا شوق سے تھا‘‘ (مرقس 6:‏20).

(لوقا 13:‏32؛ مرقس 6:‏19؛ اعمال 24:‏26)

I.   اوّل، ہیرودیس یوحنا کو سراہتا تھا، مرقس 6:‏20الف؛ حوالہ دیکھیے 2۔ تیموتاؤس 2:‏25 ۔

II.  دوئم، ہیرودیس پریشان تو ضرور ہوتا تھا جب وہ یوحنا کو
تبلیغ کرتے ہوئے سُنتا تھا، مرقس 6:‏20ب؛
2۔ کرنتھیوں 6:‏14، 17؛ یعقوب 4:4؛ مرقس 6:‏18؛ یوحنا 15:‏19 .

III. سوئم، ہیرودیس کا ضمیر اُسے سکون نہیں لینے دے سکے گا، مرقس 6:‏14؛
لوقا 16:‏23؛ 23:‏11 .