Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ایک مبشر کا کام

THE WORK OF AN EVANGELIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
25 نومبر، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو

’’مبشر کا کام انجام دے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:‏5)۔

لفظ جس کا ترجمہ ’’مبشر‘‘ کیا گیا نئے عہد نامے میں صرف تین مرتبہ ظاہر ہوتا ہے۔ یہ ہماری تلاوت میں دیا گیا ہے، اور اعمال 21:‏8 میں اور افسیوں 4:‏11 میں۔ یونانی کا لفظ ’’انجیل کی تبلیغ کرنے والا ظاہرکرتا‘‘ (انگور کی بیل) ہے۔ افسیوں 4:‏11 میں مبشروں کو نعمتوں والے لوگوں کے طور پر درج کیا گیا ہے، جو ’’رسولوں‘‘ اور ’’انبیاء کے بعد آتے ہیں۔ ’’مبشران وہ لوگ ہیں جو گرجہ گھر کو خُدا کی طرف سے میسح میں نجات نہ پائے ہوئے لوگوں کےلیے مسیح میں نجات کی خوشخبری کی تبلیغ کے لیے عنایت کیے جاتے ہیں۔ تیموتاؤس ایک پادری تھا، جس کو پولوس رسول نے ’’مبشر کا کام انجام دینے کے لیے‘‘ کہا۔ اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک پادری کو اُن میسح میں نجات نہ پائے ہوئے لوگوں کو جو اُس کے گرجہ گھر میں آتے ہیں، اور اُن مسیح میں نجات نہ پائے ہوئے لوگوں کو جو گرجہ گھر میں ادھر اُدھر دُنیا سے آتے ہیں خوشخبری کی تبلیغ کے ذریعے سے یہ کام سر انجام دینا چاہیے۔ رسول نے جو تیموتاؤس سے کہا، پھر، وہ سب مبشروں پر لاگو ہوتا ہے، ’’ایک مبشر کا کام سرانجام دو۔‘‘ ڈاکٹر جان گل Dr. John Gill ‏(1697۔1771) نے کہا، ’’ایسا کام سرانجام دینے کے لیے کسی ایک کو اخلاقی تقریریں نہیں کرنی ہیں... بلکہ امن، معافی، راستبازی،زندگی اور یسوع مسیح کے ذریعے سے واحد نجات اور خُدا کے مفت فضل سے تبلیغ کرنی چاہیے‘‘ (جان گل، ڈی۔ڈی۔، نئے عہدنامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد سوئم، صفحہ 340؛ 2۔ تیموتاؤس 4:‏5 پر ایک یاداشت)۔

اب یہ انتہائی سادہ نظر آنا چاہیے۔ پادریوں کو واحد مسیح کے ذریعے سے نجات کی تبلیغ کے لیے کہا جاتا ہے۔ اور یہی ہے جو مبشر نے صدیوں سے کیا ہے، اِس کے باوجود، اِن آخری ایام میں، انتہائی بے شمار مبشروں نے سب کچھ ملا جلا کر رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ سلیمان نے کہا، ’’خُدا نے نوع انسان کو راست کار بنایا لیکن انسان نے بہت سے بندشیں تجویز کیں‘‘ (واعظ 7:‏29)۔

بشارتِ انجیل کے واعظ کی تبلیغ کرنے کے بجائے، بہت سے مبشر ’’تفسیراتی‘‘ کہلائے جانے والے واعظ پیش کرتے ہیں، جن کے آخر میں ایک بُلاوا بھی ’’منسلک‘‘ ہوتا ہے۔ اُن میں سے بے شمار کو تو یہاں تک کہ معلوم ہی نہیں ایک بشارت انجیل کے واعظ کی تیاری کیسے کرنی ہے! اور جو ’’بُلاوے‘‘ وہ اپنی ’’تفاسیر‘‘ کے اختتام پر رکھتے ہیں اکثر خوشخبری کا تزکرہ کیے بغیر ہی پیش کیے جاتے ہیں – جس میں مسیح کی موت اور دوبارہ جی اُٹھنے کے بارے میں کہیں کوئی ذکر ہی نہیں ہوتا ہے! میرے لیے یہ افسوس ناک ہے۔ ہمیں وہ کرنے کی ضرورت ہے جو رسول نے ہمیں انتہائی سادہ زبان میں کرنے کے لیے کہا تھا – ’’ایک مبشر کا کام سرانجام دو‘‘!

ہمیں کبھی بھی نہیں یہ فرض کرنا چاہیے کہ لوگ جانتے ہیں کہ مسیح اُن کے گناہوں کے لیے مرا تھا! ہمیں کبھی بھی نہیں یہ فرض کرنا چاہیے کہ وہ جانتے ہیں یسوع اُن کی راستبازی کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا! مجھے ایک بوڑھی چینی خاتوں کے ساتھ بات کرنا یاد ہے جو سالوں تک گرجہ گھر میں آتی رہی تھیں جہاں اُنہیں بائبل کی پیچیدہ ’’تفاسیر‘‘ پیش کی جاتی تھیں۔ لیکن جب میں نے اُن سے پوچھا کہ کیسے ایک شخص نجات پاتا ہے تو اُن کی سمجھ ایک کھوئے ہوئے رومن کاتھولک سے بہتر نہ تھی! ہمیں کبھی بھی نہیں،کبھی بھی، فرض نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے سُننے والے بچائے گئے ہیں، یا یہاں تک کہ خوشخبری کی اصولی باتیں جان گئے ہیں!

نئے عہد نامے میں ایک آدمی کو خصوصی طور پر ’’مبشر‘‘ کہا گیا ہے۔ اُسے اعمال 21:‏8 میں’’فلپس مبشر‘‘ کہا گیا۔ تلاوت میں جو میرے واعظ دینے سے پہلے ڈاکٹر چین Dr. Chan نے کی، ہم ایک مبشروں کے اجلاس کے بارے میں پڑھتے ہیں جس کا اہتمام فلپس مبشر نے کیا تھا۔ مبشروں کے اجلاس کی بہت سی خصوصیات اِس حوالے میں پیش کی گئی ہیں۔ بغیر کسی تفضیل میں جائے بغیر جو اُس مخصوص مبشروں کے اجلاس کے لیے انوکھی تھیں، میں بہت سی عام خصوصیات کی طرف اشارہ کروں گا جو کہ خُدا کی برکت شُدہ بشارت انجیل کی عبادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔

I۔ اوّل، جب فلپس نے منادی کی تھی تو وہ شدید جوشیلی تھی۔

میں وہ حوالہ دوبارہ پڑھوں گا جو ڈاکٹر چین Dr. Chan نے اِس واعظ سے پہلے پڑھا تھا۔

’’چناچہ فلپس سامریہ کے ایک شہر میں گیا اور وہاں مسیح کی منادی کرنے لگا۔ جب لوگوں نے فلپس کی باتیں سُنیں اور معجزے دیکھے تو وہ سب کے سب بڑے شوق سے اُس کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ کئی لوگوں میں سے بدروحیں چلاتی ہوئی نکلیں اور بہت سے مفلوج اور لنگڑے شفایاب ہوئے۔ جس سے شہر والوں کی بڑی خوشی ہوئی‘‘ (اعمال 8:‏5۔8)۔

میرے خیال سے آپ وہ حوالہ پڑھنے سے ہی محض جوش محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ ایک انجیلی بشارت کا اجلاس تھا جو ایک حیات نو میں بدل گیا تھا! میں یہ کئی مرتبہ ہوتا ہوا دیکھ چُکا ہوں۔ ایک ایسے اجلاس میں ہونے کے مقابلے میں، ایک بہتر کلام کی چاہت کے لیے، اِس سے زیادہ کوئی اور بات بھڑکیلی اور جوشیلی نہیں ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی ایسے اجلاس میں اپنی گھڑی کی جانب دیکھنے کے بارے میں سوچے گا ہی نہیں! کئی سال پہلے ایک مغربی ریاست میں ایک بنیاد پرست پبتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں مَیں ایسی ہی ایک عبادت میں موجود تھا۔ اجلاس رات گئے تک جاری رہا۔ اُس کے ختم ہونے کا وقت 7:30 بجے شام کو تھا، لیکن وہ جاری اور جاری ہی رہا۔ اندازہ کریں کیا ہوا ہوگا؟ کوئی ایک شخص بھی اجتماع گاہ سے باہر نہیں گیا تھا! کوئی ایک بھی! وہاں بچوں والی مائیں تھیں جن کے بچے بچوں کی دیکھ بھال والے اداروں [نرسری] میں تھے، لیکن وہ اُن کے بارے میں مکمل طور پر بھول گئیں تھیں! ہر کوئی خوشخبری کا ایک انتہائی سادہ واعظ سُننے کے بعد یسوع مسیح پر محسور تھا۔ اُس شام کی عبادت میں اُمید کے ساتھ پچتر لوگوں نے مسیح میں نجات پائی تھی۔ لوگ رو رہے تھے۔ لوگ چلا رہے تھے۔ لوگ گا رہے تھے۔ یہ بہت تحریک پیدا کر دینے والا تھا – اب تک کی سب سے زیادہ جوشیلی عبادت جس میں میں شامل ہوا۔

لیکن میں نے اکثر بہت سی بشارت انجیل کی عبادتوں میں کم درجے کے جوشیلے پن کا تجربہ کیا ہے۔ گیت گانے میں اپنی ایک مخصوص قوت ہوتی ہے۔ تبلیغ محسور کُن ہوتی ہے، اور دعائیں ہر ایک کی توجہ اپنی طرف مرکوز کروا لیتی ہیں۔ کوئی سوچتا ہے کہ خُدا اِس قسم کی عبادت میں زندگی کو تبدیلی کر دینے والا کچھ کرنے جا رہا ہے! یہی ہے طریقہ جو سامریہ میں تھا – اور یہی طریقہ ہے جو ایک اچھی بشارت انجیل کی عبادت میں ہوتا ہے!

II۔ دوئم،فلپس نے مسیح کی منادی کی تھی۔

’’چناچہ فلپس سامریہ کے ایک شہر میں گیا اور وہاں مسیح کی منادی کرنے لگا‘‘
      (اعمال 8:‏5)۔

یہی طریقہ تھا جو اُنہوں نے اعمال کی پوری کتاب میں کیا تھا ’’ایک مبشر کا کام‘‘! اُنہوں نے مسیح کی منادی کی تھی! اُنہوں نے مسیح کی منادی کی تھی! اُنہوں نے مسیح کی منادی کی تھی! یہی طریقہ ہے جو سامریہ میں تھا۔ فلپس مبشر نے اُنہیں مسیح کی منادی کی تھی۔‘‘ یہی طریقہ تھا جب پطرس نے غیر یہودی کورنیلئیس کے اہل خانہ کو منادی کی تھی۔ پطرس نے کہا،

’’[ہم نے] اُس کے مُردوں میں سے زندہ ہو جانے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا پیا تھا۔ اور اُس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں میں منادی کریں اور گواہی دیں کہ یسُوع ہی وہ ہے جسے خدا نے زِندوں اور مُردوں کا مُنصِف مُقرّر کیا ہے۔ سارے نبی اُس کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ جو کوئی اُس پر ایمان لاتا ہے وہ اُس کے نام سے گناہوں کی معافی پاتا ہے‘‘ (اعمال 10:‏41۔43).

پطرس نے اُن کو مسیح کی منادی کی تھی! ایسا ہی اُس وقت بھی ہوا تھا قبرص اور کرین کے مسیحی انطاکیہ میں آئے تھے اور یونانیوں کو خُداوند یسوع کی منادی سُنانے لگے تھے۔ اور خداوند کا ہاتھ اُن پر تھا: اور لوگ بڑی تعداد میں ایمان لائے اور خداوند کی طرف رجوع ہوئے‘‘ (اعمال 11:20، 21)۔ اور ایسا ہی طریقہ تھا جو اعمال کی تمام کتاب میں تھا! مسیح کی منادی کی تھی! مسیح کی منادی کی تھی! مسیح کی منادی کی تھی! پولوس بشارت انجیل کے پیغام سے اِس قدر سرشار تھا کہ اُس نے کرنتھیوں کے حیرت زدہ لوگوں کو بتایا،

’’میں نے فیصلہ کیا ہُوا تھا کہ جب تک تمہارے درمیان رہوں گا مسیح یعنی مسیحِ مصلوب کی منادی کے سِوا کسی اور بات پر زورنہ دوں گا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:2).

اُن کی انجیلی بشارت اِس قدر مسیح پر مرکوز تھی کہ شہنشاہ نیرو کے بارے میں یہ کہتے ہوئے بتایا گیا ہے، ’’یہ مسیح ایک مُردہ یہودی کی پوجا کرتے ہیں!‘‘ افسوس! مگر وہ صرف آدھا درست تھا! جی ہاں، مسیح مُردہ تھا، لیکن پطرس نے ناراض عدالت عالیہ کو بے خوفی سے کہا تھا،

خدا نے اُسی کو فرمانروا اور مُنّجی ٹھہرا کر اپنے داہنے ہاتھ کی طرف سر بلندی بخشی تاکہ وہ اِسرائیل کو توبہ کی توفیق اور گناہوں کی معافی عطا فرمائے۔ ہم اِن باتوں کے گواہ ہیں اور پاک رُوح بھی شاہد ہے، جسے خدا نے اپنے فرمانبرداروں کو عطا کیا ہے‘‘ (اعمال 5:‏31۔32).

یہ ہے خوشخبری کی منادی کرنا! یہ ہے اصلی انجیلی بشارت! یہ ہے ایک مبشر کا کام کرنا! خُدا کرے کہ امریکہ اور دُنیا میں ہر مبشر اُسی طرح سے آج مسیح کی منادی کرے! اپنے گیتوں کی کتاب میں سے حمد و ثنا کا گیت نمبر 6 گائیں!

میں اوپر ان دیکھی چیزوں کی کہانی سُنانے سے پیار کرتا ہوں،
   یسوع اوراُس کے جلال کی، یسوع اور اُس کے پیار کی۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ سچ ہے؛
   یہ میری چاہتوں کو اِس طرح سے تسلی دیتی ہے کہ کوئی اور بات دے ہی نہیں سکتی۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا،
   یسوع اور اُس کے پیار کی پرانی کہانی، پرانی کہانی سُنانے کے لیے۔

مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے؛ یہ مذید اور شاندار ظاہر ہوتی ہے
   ہمارے سُنہرے خوابوں کے تمام سنہرے تصورات کے مقابلے میں۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، اِس نے میرے لیے اتنا کچھ کیا تھا؛
   اور صرف یہی وجہ ہے کہ میں اب یہ تمہیں سُنا رہا ہوں۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا،
   یسوع اور اُس کے پیار کی پرانی کہانی، پرانی کہانی سُنانے کے لیے۔

مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے؛ اِس کو دہرانا خوشگوار ہوتا ہے
   ہر دفعہ جب میں یہ سُناتا ہوں، یوں لگتا ہے، اور زیادہ شاندار میٹھی ہے۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، کیونکہ کچھ نے تو کبھی سُنی بھی نہیں ہے
   خُدا کا پیغام خود خُدا کے اپنے پاک کلام سے۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا،
   یسوع اور اُس کے پیار کی پرانی کہانی، پرانی کہانی سُنانے کے لیے۔

مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، اُن کوجو اِسے بہترین جانتے ہیں
   جو دوسروں کی طرح اُسے سُننے کے لیے بھوکے اور پیاسے لگتے ہیں۔
اور جب جلال کے نظاروں میں، میں نیا گیت گاتا ہوں، نیا گیت،
   یہ پرانی، پرانی کہانی ہوگی جس کو میں نے اتنا عرصہ پیار کیا ہے۔
مجھے کہانی سُنانے سے پیار ہے، یہ جلال میں میرا مرکزی موضوع ہوگا،
   یسوع اور اُس کے پیار کی پرانی کہانی، پرانی کہانی سُنانے کے لیے۔
(مجھے کہانی سُنانےسے پیار ہے I Love to Tell the Story‘‘ شاعر اے۔ کیتھرین ھینکی
     A. Catherine Hankey، ‏1834۔1911)۔

اپنے مصلوب کیے جانے سے ایک رات پہلے، یسوع اپنے شاگردوں کو گتسمنی باغ کے اندھیروں میں لے گیا۔ شاگرد سو گئے تھے جبکہ یسوع نے دعا کی۔ اُس باغ میں دنیا کے گناہوں کو اُس پر لاد دیا گیا تھا۔ ہمارے گناہوں کے بوجھ نے اُسے کچل دیا تھا، اور پسینہ … خون کی بڑی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا‘‘ (لوقا 22:‏44)۔ جس وقت وہ دعا کر رہا تھا سردار کاہنوں کی طرف سے افسروں کا ایک گروہ آیا اور اُسے گرفتار کر لیا۔ وہ اُسے سردار کاہن کے پاس لے گئے۔ اُنہوں نے ’’اُس کے منہ پرتھپڑ مارے‘‘ (لوقا 22:‏64)۔ اُنہوں نے اُس کی داڑھی کے بال نوچ ڈالے اور اُس کے منہ پر تھوکا (اشعیا 50:‏6)۔ پھر وہ اُس کو رومی گورنر پینطس پیلا طوس کے پاس لے گئے۔ پیلاطوس نے اُسے اُس وقت تک کمر پر کوڑے لگوائے جب تک کہ خون اُس کی ٹانگوں تک بہہ کر نہیں آنے لگا۔ اُنہوں نے کانٹوں کا ایک تاج بنایا اور اُسے اُس کے سر میں گھونپ دیا۔ خون اُس کے چہرے سے بہہ کر اُس کی آنکھوں میں ٹپکنے لگا۔ اُنہوں نے اُس کی خون سے بھری کمر پر ایک صلیب لاد دی اور اُسے جس جگہ مصلوب کیا جانا تھا وہاں کے لیے لے کر چل دیے۔ اُنہوں نے اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے۔ اُنہوں نے اُس کی صلیب بُلند کی۔ وہ وہاں پر لٹکا رہا اور ہجوم اُس پر آوازیں کستا اور اُس کا تمسخر اُڑاتا رہا۔ اُس نے دعا کی، ’’اے باپ، اُنہیں معاف کر؛ کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں‘‘ (لوقا 23:‏34)۔ آخر کار وہ ایک بُلند آواز کے ساتھ چیخا، ’’اے باپ، میں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں‘‘ (لوقا 23:‏46)۔ اُس نے کہا، ’’پورا ہوا؛ اور سر جھکا کر جان دے دی‘‘ (یوحنا 19:‏30)۔

اُنہوں نے اُس کے مردہ جسم کو صلیب پر سے اُتارا اور اُسے ایک نئے مقبرے میں رکھا۔ اُنہوں نے مزار کو مہربند کیا اور رومی پہرے داروں کو وہاں نگرانی اور قبرستان کے ڈاکوؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے مقرر کیا۔

اتوار کی صبح سویرے مریم مگدلینی اور ایک اور مریم مقبرے پر آئیں اور خُداوند کے فرشتے کو اُس پتھر پر بیٹھا ہوا دیکھا جو دروازے سے لڑھکایا جا چکا تھا۔ فرشتے نے کہا، ’’ڈرو مت،میں جانتا ہوں تم یسوع کو ڈھونڈ رہی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ وہ یہاں نہیں ہے بلکہ جیسا اُس نے کہا تھا، جی اُٹھا ہے‘‘ (متی 28:‏5، 6)۔ اُس رات جی اُٹھا مسیح اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا۔ اُس نے اُن کے ساتھ کھانا کھایا اور اُنہوں نے اگلے چالیس دِنوں میں اُسے کئی مرتبہ دیکھا۔ اُنہوں نے اُسے چھو کر دیکھا اور دیکھا کہ وہ ایک روح نہیں تھا، لیکن اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھے جسم کی ’’گوشت اورہڈیاں‘‘ تھیں (لوقا 24:‏39)۔ اُس نے اُن چالیس دِنوں کے دوران اُنہیں کئی باتیں سیکھائیں۔ آخر کار، اُس نے اُن سے کہا،

’’مجھے آسمان اور زمین پر پورا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اِس لیے تُم جاؤ اور ساری قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُنہیں باپ، بیٹے اور پاک رُوح کے نام سے بپتسمہ دو، اور اُنہیں یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور دیکھو! میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں۔ آمین‘‘ (متی 28:‏18۔20).

’’جب وہ اُنہیں برکت دے رہا تھا تو اُن سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اُٹھالیا گیا‘‘
       (لوقا 24:‏51).

آپ کو وہ کہانی سُنانا میری ذمہ داری ہے! وہ خوشخبری ہے! وہ میری ذمہ داری ہے! وہ ہر مبشر کی ذمہ داری ہے! ’’ایک مبشر کا کام سر انجام دو‘‘!!! آہ! لیکن یہاں مذید اور ہے!

III۔ سوئم، فلپس نے اُن کی توجہ حاصل کر لی تھی۔

’’جب لوگوں نے فِلپّس کی باتیں سُنیں اور معجزے دیکھے تو وہ سب کے سب بڑے شوق سے اُس کی طرف متوجہ ہونے لگے‘‘ (اعمال 8:‏6).

فلپس نے کافروں کے اُس ہجوم پر اختیار پا لیا تھا! تصور کی کسی بھی حد تک، جادو کے ذریعے کچھ کر کے بھی آپ اُس کے تخیل کی ایک سہل ’’بائبل کی تفسیر‘‘ اُنہیں بتا نہیں سکتے ہیں! ہمارے بہت سے گرجہ گھروں میں اتوار کی صبح تیس منٹوں کے لیے ادھر اُدھر کی ہانکنا، جھاگ بھری مکاری دکھانا سامریوں کے اُس دیوانے ہجوم کے ذریعے سے حقارت آمیز ذلالت کے ساتھ دھتکارا اور مذاق کا نشانہ بنایا جا چکا ہوگا! لیکن فلپس نے اِس طرح سے منادی نہیں کی تھی! لوگوں نے فلپس کے واعظ کو ’’توجہ دی‘‘ تھی کیونکہ اُس کی منادی انسان کی دانائی کے دلفریب لفظوں کے ساتھ نہیں تھی، مگر اُس کی منادی انسان کی دانائی کے پُر اثر الفاظ سے خالی تھی، لیکن اُن سے پاک روح کی قوت ظاہر ہوتی تھی‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:‏4)۔

یہ تھا طریقہ جس سے فلپس منادی کرتا تھا۔ یہ تھا طریقہ جس سے پولوس منادی کرتا تھا۔ اور یہی تھا وہ طریقہ جس سے پطرس نے پینتیکوست کے روز منادی کی تھی۔ پطرس خُدا کا کلام پینتیکوست کے روز ’’اپنی آواز بُلند کر کے‘‘ کہتا ہے (اعمال 2:‏14)! یہی طریقہ تھا وائٹ فیلڈ Whitefield کی منادی کا! یہی طریقہ ویزلی Wesley کی منادی کا تھا! یہی طریقہ ھوول ھیرس Howell Harris کی منادی کا تھا! یہی طریقہ دانی ایل رولینڈ Daniel Rowland کی منادی کا تھا! یہی طریقہ کرسمس ایوانز Christmas Evans کی منادی کا تھا! یہی طریقہ رچرڈ بیکسٹر Richard Baxter کی منادی کا تھا! اور یہی طریقہ ہے جس طرح سے ہمیں آج منادی کرنے کی ضرورت ہے – جی ہاں! یہی طریقہ ہے جس طرح سے ہمیں اب منادی ضرور کرنی چاہیے – اوباما کے دور میں – دُنیا کے آخر میں! خُداوند ہماری مدد کرے! ’’ایک مبشر کا کام سرانجام دو‘‘!

IV۔ چہارم، فلپس نے اُن کے جذبات کو جھنجھوڑ دیا تھا۔

حقیقی انجیلی بشارت کی منادی ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہے! ’’کئی لوگوں میں سے بدروحیں چلاتی ہوئی نکلیں اور بہت سے مفلوج اور لنگڑے شفایاب ہوئے‘‘ (اعمال 8:‏7)۔ حقیقی انجیلی بشارت کی تبلیغ کو ہمیشہ ایک جذباتی ردعمل ملتا ہے – اور اکثر ایک آسیبی ردعمل بھی! لوگوں کے جذبات کو جھنجھوڑے بغیر آپ ایک مبشر کا کام آرام سے سرانجام نہیں دے سکتے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا! ڈاکٹر لائیڈ جونز Dr. Lloyd-Jones نے کہا، ’’منادی میں وہ جنون کہاں ہے جو ہمیشہ سے ماضی میں عظیم منادیوں کی خصوصیت رہا ہے؟ کیا جدید مبشرکو تحریک اور سرشاری بہا کر نہیں لے جاتی جیسا کہ ماضی کے عظیم مبشر اکثر ہوا کرتے تھے؟ … میں دوبارہ کہتا ہوں کہ ایک آدمی جو اِن باتوں کے بارے میں بات کر سکتا ہے [بغیر جوش و جذبہ کے] اُس کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ واعظ گاہ میں ہو؛ اور اُسے کبھی بھی کسی واعظ گاہ میں داخل ہونے کے اجازت نہیں ہونی چاہیے‘‘ (ڈی۔ مارٹن لائیڈ۔جونز، ایم۔ڈی۔D. Martyn Lloyd-Jones, M.D.، مبشر اور منادی Preaching and Preachers، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1971، صفحات 90، 97)۔

کچھ ہفتے پہلے میں ڈاکٹر مرفی لم Dr. Murphy Lum کے فارغ الخدمتی کی ضیافت کی تقریب میں تھا۔ وہاں بہت سے لوگ تھے جنہیں میں چینی گرجہ سے جانتا تھا۔ جب ڈاکٹر لم Dr. Lum کے اپنے بیٹے نے بات کی، اُس نے ذکر کیا کہ اُس نے مجھے مسیح کی دوسری آمد پر واعظ دیتے ہوئے سُنا تھا، اور اُس نے اُسے خوفزدہ کر دیا، اور وہ نجات پا گیا تھا۔ ایک آدمی جو اُسی میز پر میرے ساتھ بیٹھا تھا اُس نے کہا کہ اُس نے مجھے جہنم پر ایک واعظ دیتے ہوئے سُنا تھا، اور اِس نے اُسے میرے لیے بہت، بہت غصے میں بھر دیا تھا۔ ’’لیکن،‘‘ اُس نے کہا، ’’ایک دم اچانک میں نے محسوس کیا کہ مجھے نجات پا لینی چاہیے تھی،‘‘ اور اُس نے مسیح پر بھروسہ کیا۔ یہی طریقہ ہے اِسی طرح سے یہ ہونا چاہیے۔ ’’ایک مبشر کا کام سرانجام دو۔‘‘

ایسا کرنے کے لیے آپ کو خوشخبری کے بارے میں محض بتانے کے مقابلے میں مذید اور زیادہ کی ضرورت ہے۔ آپ خوشخبری کو کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیں گے جب تک کہ آپ جذباتی طور پر متحرک نہ ہوں – ناراض یا خوفزدہ! آپ کے دِل کو تحریک ہونی چاہیے، ’’کیونکہ انسان دل سے ایمان پاتا ہے‘‘ (رومیوں 10:10)۔

میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مسیح اِس دُنیا کا انصاف کرنے کے لیے آ رہا ہے۔ فیصلے پہلے ہی نازل ہو رہے ہیں۔ عفریتی آندھی طوفانوں پر نظر ڈالیں۔ عفریتی سیلابوں پر نظر ڈالیں، عفریتی برفانی طوفان، ریاست ہائے متحدہ کا سوختہ غرب اوسط، دھشت گرد جو ایک گندے بم سے پورے شہروں کا صفایا کر سکتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو نظر نہیں آتا ہے؟ آپ کے ساتھ کیا ہوگا جب ’’بڑا والا‘‘ لاس اینجلز سے ٹکرائے گا – جب زمین پھٹ جاتی ہے اور آپ جہنم میں گرتے ہیں؟ آپ کی جان کے ساتھ کیا ہوگا جب آپ کا جسم مُردہ خانے میں سرد اور اکڑا ہوا پڑا ہوگا؟ آپ کے ساتھ کیا ہوگا اگر آپ جیسے ہیں ایسے ہی چلے جاتے ہیں – گرجہ گھر پر تماشا کرتے ہوئے! اپنی جان کے ساتھ تماشا کرتے ہوئے! خُدا کے ساتھ تماشا کرتے ہوئے – اور خُداوند آپ کو سزا دیے بغیر نہیں جانے دیگا، کیونکہ ہمارا خُداوند ایک ہڑپ کر دینے والی آگ ہے!

کیا یہ آپ کے لیے ایک کھیل ہے؟ کیا آپ نے پاک روح کو حقارت سے رد کیا ہے؟ کیا آپ نے خفیہ گناہ کیے ہیں جو آپ سوچتے ہیں کہ کبھی بھی پکڑے نہیں جائیں گے؟ کیا آپ کا دل شیطانی خیالوں اور کُفر سے بھرا ہوا ہے؟ اوہ، میں آج رات آپ کو بتاتا ہوں، آپ میں سے کچھ کے لیے تقریباً بہت دیر ہو چکی ہے! اور یہاں کسی کے لیے بہت دیر ہو گئی ہے – اگر آپ معافی دینے والے مسیح کے خون کے بغیر ایک اور دِن گزار دیں گے! یسوع سے اپنا منہ مت پھیریں! اِسے دوبارہ مت کریں! اِسے دوبارہ مت کریں! میں آپ کو خبردار کرتا ہوں – یسوع سے اپنا منہ مت پھیریں۔ اِس سے پہلے کہ فیصلہ نازل ہو یہ اُس پر بھروسہ کرنے کے لیے آپ کا آخری گھنٹہ ہو سکتا ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ آپ کو خبردار کروں۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ ایک مبشر کا کام سر انجام دوں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے حمد و ثنا کا گیت نمبر 8 گائیں۔

بہت عرصہ میں نے نجات دہندہ کو نظر انداز کیا۔ بہت عرصہ جیسے میں اپنے گناہ کے ساتھ جکڑا رہا۔
   بہت عرصہ میں اپنے مسترد کیے جانے کو بخشتا رہا، اور اب میں یسوع کے بغیر کھویا ہوا ہوں۔
یہ دیر ہو گئی ہے، اوہ، اِس قدر دیر! اِس کے باوجود یسوع دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے۔
   اور یسوع، پیارا نجات دہندہ، ایک مرتبہ پھر بُلا رہا ہے۔

بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا ضمیر جلا دیا جاتا ہے، بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا دِل پتھر کی مانند ہوتا جاتا ہے۔ بہت دیر ہوگئی ہے اگر میری روح مجھے معاف نہیں کرتی ہے! بہت دیر ہوجاتی ہے جب میری زندگی کی سانس ختم ہوتی ہے۔
یہ دیر ہو گئی ہے، اوہ، اِس قدر دیر! اِس کے باوجود یسوع دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے۔
   اور یسوع، پیارا نجات دہندہ، ایک مرتبہ پھر بُلا رہا ہے۔

مسیح کو مسترد کرنے کے لیے ایک گھنٹہ بہت زیادہ ہے۔ ایک اور دِن میں شاید بہت دیر ہو جائے۔
   آج ہی نجات کا دِن ہے۔ اے یسوع، میں نہیں منہ موڑوں گا۔
یہ دیر ہو گئی ہے، اوہ، اِس قدر دیر! اِس کے باوجود یسوع دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے۔
   اور یسوع، پیارا نجات دہندہ، ایک مرتبہ پھر بُلا رہا ہے۔
(’’بہت عرصہ میں نے نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
     Dr. John R. Rice، ‏1895۔1980)۔

اگر آپ مسیح میں نجات پانے کے بارے میں ہمارے ساتھ بات کرنا چاہتے ہوں، مہربانی سے کمرے کے پچھلی جانب ابھی چلے جائیں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ سے یسوع پر بھروسہ کرنے کے بارے میں بات چیت کر سکیں گے۔ مسٹر لی Mr. Lee مہربانی سے دعا میں ہمارے رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: اعمال 8:‏5۔8 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’بہت عرصہ میں نے نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ (شاعر
ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، ‏1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

ایک مبشر کا کام

THE WORK OF AN EVANGELIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’مبشر کا کام انجام دے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:‏5)۔

(واعظ 7:‏29)

I۔   اوّل، جب فلپس نے منادی کی تھی تو وہ شدید جوشیلی تھی،
اعمال 8:‏5۔8 .

II۔  دوئم، فلپس نے مسیح کی منادی کی تھی، اعمال 8:‏5؛ 10:‏41۔43؛
11:‏20، 21؛
1۔ کرنتھیوں 2:2؛ اعمال 5:‏31۔32؛ لوقا 22:‏44، 64؛
اشعیا 50:‏6؛ لوقا 23:‏34، 46؛ یوحنا 19:‏30؛ متی 28:‏5، 6؛
لوقا 24:‏39؛ متی 28:‏18۔20؛ لوقا 24:‏51 .

III۔ سوئم، فلپس نے اُن کی توجہ حاصل کر لی تھی، اعمال 8:‏6؛
1۔ کرنتھیوں 2:‏4؛ اعمال 2:‏14 .

IV۔ چہارم، فلپس نے اُن کے جذبات کو جھنجھوڑ دیا تھا، اعمال 8:‏7؛
رومیوں 10:10 .