Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

کیا آپ یسوع کی آمد ثانی کے لیے تیار ہیں؟

?ARE YOU READY FOR THE RAPTURE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
25 نومبر، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 25, 2012

’’جیسا نوح کے دنوں میں ہوا تھا ویسا ہی ابن آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نوح کی کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہونگے، ایک لے لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خُداوند کس دن آئے گا‘‘ (متی 24:37۔42)۔

مسیح نے ہمیں بتایا تھا کہ تاریخ کے اختتام پر دُنیا کیسی ہوگی۔ اِس موجودہ دُنیا کے خاتمے سے صرف کچھ دیر پہلے، آخری دِنوں میں لوگ کیسے رہ رہے ہونگے اُسے ظاہرکرنے کے لیے یسوع نے ایک عظیم نشان دیا۔ اُس نے کہا،

’’کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نوح کی کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی‘‘ (متی 24:38۔39)۔

میں قائل ہو چکا ہوں کہ ہم اب اُن دِنوں میں ہی رہ رہے ہیں۔ فیصلہ کسی بھی لمحے صادر ہونے والا ہے، لیکن ہم ایسے رہ رہے ہیں جیسے ایسا کبھی ہو گا ہی نہیں۔

کچھ عرصہ پہلے میں لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ یونیورسل شہر کے ایک فینسی ریستوران میں گیا۔ اُس ریستوران میں دُنیا جہاں کے ہر قسم کے قابل تصور کھانوں کے انبار تھے۔ مختلف انواع کے کھانوں کا سب سے بڑا ذخیرہ تھا جو میں نے اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ لوگ اُس وقت تک کھاتے تھے جب تک کہ اُن کا ضرورت سے زیادہ پیٹ نہ بھر جائے۔ میں ماسوائے نوح کے دنوں کے بارے میں سوچنے کے اور کچھ نہ کرسکا۔ مسیح نے کہا، ’’کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے ... اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی‘‘ (متی 24:38، 39)۔

ایک دوسرے دِن میں نے اخبار میں پڑھا کہ امریکیوں نے شکرگزاری کی عید منانے کے لیے 581 ملین پونڈز کے ٹرکی پرندے خریدے ہیں۔ لیکن خبر کہتی تھی کہ ’’204 ملین پونڈز [ٹرکی پرندے] کا گوشت عید کی چُھٹی کے بعد کوڑے میں چلا جائے گا۔‘‘ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ امریکی اتنا سارا ٹرکی پرندے کا گوشت پھینک دیں گے جو چین میں ہر مرد عورت اور بچے کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوگا! اِس کے بارے میں سوچئے – چین میں ہر مرد، عورت اور بچہ – ایک ارب لوگ! خبر مذید اور کہتی ہے، ’’پورے مکمل سال میں، امریکی جوٹھے کھانے میں 165 ڈالر [پھینک] دیتے ہیں‘‘ (دی لاس اینجلز ٹائمز The Los Angeles Times، 20 نومبر، 2012، صفحہ بی 3)۔ ہم ہر سال اتنا سارا کھانا پھینکتے ہیں جو ایک مہینے کے لیے انڈیا، چین اور افریقہ کے ہر شخص کو کھانا کھلانے کے لیے کافی ہوتا ہے! ہم آشائش میں رہ رہے ہیں، جوٹھے کھانے پر اربوں ضائع کردیتے ہیں جبکہ دُنیا میں بے شمار لوگ بھوکوں مر رہے ہیں۔ اِس وقت کے دوران ہم ’’چھٹیوں‘‘ کی تیاری کے لیے مزید اربوں روپے خرچ دیں گے – جب ہمارے لوگ زیادہ خوراک اور مشروبات خود ٹھونستے رہیں گے۔ لیکن ہمارے لوگوں میں سے بہت کم کرسمس اور نئےسال کے دوران خُدا کے بارے میں سوچیں گے۔ ماضی میں 1949 میں بلی گراھم نے کہا، گرجہ گھر میں عبادات میں شمولیت کے لیے ناکام ہونا گناہ ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’اپنے آپ کو اکٹھا جمع کرنے میں کوتاہی مت کرو۔‘ ہم میں سے کچھ کے لیے یہ ایک کافی لمبا عرصہ ہو چکا ہے جب سے ہم نے متواتر گرجہ گھر کی عبادات میں شمولیت کی تھی۔ یہ خُدائے قادر مطلق کے خلاف ایک گناہ ہے‘‘ (بلی گراھم Billy Graham، ہمارے دور میں حیات نو Revival in Our Time، وین کیمپن پریس Van Kampen Press، 1950، صفحہ 112)۔

نوجوان لوگوں کو کرسمس اور نئے سال پر اپنے گرجہ گھروں میں ہونے کے لیے کہنے پر مجھ پر ’’قانون پرست‘‘ کا الزام لگایا جا چکا ہے۔ کیا بلی گراھم ’’قانون پرست‘‘ تھا جب اُس نے کہا کہ گرجہ گھرنہ جانا ’’خُدائے قادر مطلق کے خلاف گناہ ہے‘‘؟ یا کیا وہ سچ کہہ رہا تھا؟ میں کچھ باتوں میں اُس سے متفق نہیں ہوں،لیکن وہ بالکل درست تھا جب اُس نے کہا کہ گرجہ گھر نہ جانا ایک گناہ ہے!

بائبل کہتی ہے کہ نوح ’’ایک راستبازی کی منادی کرنے والا‘‘ تھا (2۔ پطرس 2:5)۔ نوح نے اپنی نسل کے لوگوں کو توبہ کے لیے، اپنے طور طریقے بدلنے کے لیے، خُدا کے لیے جینے کے لیے کہا تھا۔ لیکن وہ اُس پر ہنسے تھے۔ اُنہوں نے سوچا کہ وہ ایک قانون پرست بوڑھا احمق تھا۔ اُنہوں نے جاری رکھا ’’کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے رہنا، نوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا، اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی‘‘ (متی 24:38، 39)۔ میں بلی گراھم کے ساتھ کہتا ہوں کہ اِس طرح سے زندگی گزارنا یہ ’’خُدائے قادر مطلق کے خلاف ایک گناہ ہے‘‘! میں کہتا ہوں کہ آپ کو کرسمس اور نئے سال کی شام کو اپنے گرجہ گھر میں ہونا چاہیے۔ جب میں ایک لڑکا تھا ہم ہمیشہ کرسمس پر گرجہ گھر جاتے تھے۔ ہم ہمیشہ نئے سال کی رات گرجہ گھر پر گزارتے تھے۔ کیا ہم اِس قدر پیٹو اور تفریح کے دیوانے بن گئے ہیں کہ ہم اب اِس قسم کی تبلیغ بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایسے نہیں جی رہے جیسے وہ نوح کے دنوں میں جیتے تھے؟ اگر آپ اس طرح جی رہے ہیں،تو فیصلہ آپ پر صادر ہوگا جیسے اُن پر ہوا تھا، ’’جب طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔‘‘ مادیت پرستی کے طرز کی زندگی جو زیادہ تر لوگ جی رہے ہیں وہ اُس کا خاتمہ خُدا کے فیصلے، عذاب اور جہنم میں ہوگا۔ کسی کو بتائیں میں نے یہ کہا! یہ بالکل سچائی ہے۔ ’’ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی‘‘

مسیح حقیقی مسیحیوں کو اُس کے ساتھ آسمان میں رہنے کے لیے ہوا میں لینے کے لیے آئے گا۔ یہ ’’آمد ثانی‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ اتنا ہی اچانک ہوگا جتنا اچانک طوفان آیا تھا۔ اور بہت کم لوگ اِس کے لیے تیار ہونگے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’خُداوند خود بڑی للکار اور مُقرب فرشتہ کی آواز اور خُدا کے نرسنگے کے پُھونکے جانے کے ساتھ آسمان سے اُترے گا اور وہ سب جو مسیح میں مر چکے ہیں زندہ ہو جائیں گے۔ پھر ہم جو زندہ باقی ہونگے اُن کے ساتھ بادلوں پر اُٹھا لیے جائیں گے تاکہ ہوا میں خُداوند کا استقبال کریں... ‘‘ (1۔تسالونیکیوں 4:16۔17)۔

یہی ’’آمد ثانی‘‘ ہے، مسیحیوں کا زمین سے اوپر کی ہوا میں مسیح کو ملنے کے لیے چُنے جانا۔ یہ پلک جھپکتے ہی ہو جائے گا۔ پولوس نے کہا، ’’یہ پلک جھپکتے ہی ہو جائے گا یعنی ایک دم جب آخری نرسنگا پھونکا جائے گا: کیونکہ سارے مُردے نرسنگے کے پھونکے جانے پر غیر فانی جسم پا کر زندہ ہو جائیں گے اور ہم سب بدل جائیں گے‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:52)۔ حقیقی مسیحوں کے جسم جلالی جسموں میں تبدیل ہو جائیں گے، اور ہم مسیح کو بادلوں میں ملنے کے لیے پلک جھپکتے میں چُنے جائیں گے۔

اوہ، خوشی، اوہ مسرت! کیا ہمیں مرے بغیر جانا چاہیے،
   کوئی بیماری نہیں، اُداسی نہیں، خوف اور رونا نہیں،
اپنے خداوند کے ساتھ جلال میں بادلوں پر حاضر ہونا،
   جب یسوع قبول کرتا ہے ’’اُس کے اپنے۔‘‘
اوہ خداوند یسوع، کتنا عرصہ، کتنا عرصہ، ہم مسرت کا گیت چلا کا گاتے ہیں،
   مسیح واپس آ گیا! ھیلیلویاہ! ھیلیلویاہ! آمین،
ھیلیلویاہ! آمین۔
(’’مسیح واپس آ گیا Christ Returneth‘‘ شاعر ایچ۔ ایل۔ ٹرنر H. L. Turner، 1878)۔

لیکن ’’یسوع کی آمد ثانی‘‘ اِس قدر اچانک ہو جائےگی کہ آج صبح یہاں آپ میں سے کچھ لوگ اُس کے لیے تیار بھی نہیں ہونگے۔ واپس اپنی تلاوت پر جاتے ہوئے، مسیح نے کہا کہ ’’اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابن آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہو گی۔ اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہونگے ایک لے لیے جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہونگی؛ ایک لے لی جائے گی اور ایک چھوڑ دی جائے گی‘‘ (متی 24:39۔41)۔ اِن آیات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ھنری ایم مورس نے کہا،

اِس سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اُس کی آمد کا پہلا واقعہ، ایمانداروں کی یکدم بے خودی، یہاں مرکزی موضوع ہے۔ وہ جو لے لیا جائے گا خُداوند کے ساتھ ہوتا ہے، جب کہ اُس کے ساتھ کام کرنے والا ساتھی، مسیح میں ایمان نہ رکھنے والا، عظیم مصائب کو برداشت کرنے کے لیے [چھوڑا جاتا] ہے (ھنری ایم۔ مورس،پی ایچ۔ ڈی۔، محافظوں کا مطالعۂ بائبل The Defender’s Study Bible، ورلڈ اشاعتی خانے World Publishing، 1995، صفحہ 1045؛ متی 24:40 پر یاداشت)۔

آمد ثانی کے موقعہ پر اوپر میسح کے ساتھ ہونے کے لیے ’’ایک لے لیا جائے گا۔‘‘ ’’اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے گا‘‘ زمین پر ’’مصائب کے دھشت ناکیوں سے گزرنے کے لیے اُس کو چھوڑا گیا۔ اِس سے پہلے متی 24 باب میں، مسیح نے کہا،

’’کیونکہ اُس وقت کی مصیب ایسی بڑی ہوگی، کہ دُنیا کے شروع سے نہ تو اب تک آئی ہے اور نہ پھر کبھی آئے گی‘‘ (متی 24:21)۔

اگر آپ حقیقی مسیحی نہیں ہیں تو آپ اُس وقت کی ایسی بڑی مصیبت میں سے گزرنے کے لیے پیچھے چھوڑ دیے جائیں گے۔ آپ زمین پر واقعی جہنم میں سے گزریں گے۔ آپ ایسی دھشت ناکیوں کا تجربہ کریں گے جن میں سے کوئی دوسری نسل نہیں گزری تھی۔

جب ڈاکٹر بیلی سمتھ Bailey Smith مغربی بپتسمہ دینے والے اجتماع کے صدر تھے تو اُنہوں نے کہا،

بڑی مصیبت کے وقت کے دوران، وہاں آسمان سے اولے برسیں گے جن میں ہر ایک کا وزن 100 پونڈز ہوگا۔ اُس وقت تمام زمین پر واقعی آگ لگی ہوگی۔ بائبل بچھوؤں کا بتاتی ہے جو اتنے بڑے ہونگے جتنے بڑے لوگ اور جو تمام زمین پر چل رہے ہونگے اور اُنہیں ڈس رہے ہونگے جنہوں نے مسیح کو اپنی زندگی وقف نہیں کی ہوگی۔ وہ جو پیچھے چھوڑ دیئے جائیں گے اُن کے ساتھ ایسی بڑی مصیبت کے حتمی وباؤں کے دوران سفاکانہ ہولناکیاں رونما ہونگی (بیلی ای۔ سمتھ، ڈی۔ڈی۔ Bailey E. Smith, D.D.,، حقیقی انجیلی بشارت کی تبلیغ Real Evangelistic Preaching،براڈمین پریس Broadman Press، 1981، صفحہ 138)۔

اگر آپ سچے دِل سے مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے ہونگے تو آپ پیچھے چھوڑ دیے جائیں گے، اور اُس بڑی مصیبت کی وباؤں اور ’’سفاکانہ ہولناکیوں‘‘ میں سے گزریں گے۔

کیا میں آپ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ جی ہاں، بالکل یہی ہے جو میں کرنے کی کوشش کررہا ہوں! کچھ چند ہفتے پہلے میرے خاندان اور میں نے ایک چینی پادری جہنیں میں کئی سالوں سے جانتا ہوں کی فارغ الخدمتی کی ضیافت میں شمولیت کی تھی۔ جب اُس پادری کے بیٹے نے بات کی اُس نے کہا کہ سالوں پہلے اُس نے مجھے مسیح کی دوسری آمد پر تبلیغ کرتے ہوئے سُنا تھا، اور اِس نے اُسے خوفزدہ کر دیا تھا۔ اصل میں اُس نے اُسے اِس قدر خوفزدہ کر دیا تھا کہ اُس نے یسوع پر بھروسہ کیا اور نجات پائی تھی جب میں نے وہ واعظ دیا تھا! لیکن میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ میں آپ کو میسح پر بھروسہ کرنے کے لیے اتنا خوفزدہ نہیں کر سکتا ہوں۔ واحد پاک روح ہی یہ کر سکتا ہے۔ جب پاک روح آپ کو خوفزدہ کرتا ہے، تو آپ جان نیوٹن John Newton کے ساتھ مل کر کہنے کے قابل ہو جائیں گے، ’’یہ فضل تھا جس نے میرے دِل کو خوفزدہ ہونا سیکھایا تھا۔‘‘ صرف خُداوند کا حیرت انگیز فضل ہی آپ کو اِس قدر خوفزدہ کر سکتا ہے کہ آپ نجات کے لیے یسوع کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لیکن اِس کے بارے میں سوچیئے۔ یہ باتیں ہونے والی ہیں – اور آپ اِس سب سے گزرنے کے لیے چھوڑ دیے جائیں گے، جیسا کہ ڈاکٹر بیلی سمتھ نے بیان کیا،

بڑی مصیبت کے وقت کے دوران، وہاں آسمان سے اولے برسیں گے جن میں ہر ایک کا وزن 100 پونڈز ہوگا۔ اُس وقت تمام زمین پر واقعی آگ لگی ہوگی۔ بائبل بچھوؤں کا بتاتی ہے جو اتنے بڑے ہونگے جتنے بڑے لوگ اور جو تمام زمین پر چل رہے ہونگے اور اُنہیں ڈس رہے ہونگے جنہوں نے مسیح کو اپنی زندگی وقف نہیں کی ہوگی۔ وہ جو پیچھے چھوڑ دیئے جائیں گے اُن کے ساتھ ایسی بڑی مصیبت کے وقت حتمی وباؤں کے دوران سفاکانہ ہولناکیاں رونما ہونگی۔

اگر آپ کبھی بھی حقیقی مسیحی نہیں ہوئے ہیں، تو آپ اُن ’’سفاکانہ ہولناکیوں‘‘ کو سہنے کے لیے پیچھے چھوڑ دیے جائیں گے۔

’’اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہونگے، ایک لے لیا جائے گا اور دوسرا چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خُداوند کس دن آئے گا‘‘ (متی 24:40۔42)۔

’’لیکن،‘‘ آپ شاید کہہ سکتے ہیں، ’’میں توبہ کر لوں اور پھر اُس وقت نجات پا لوں گا۔‘‘ میں اِس پر انحصار نہیں کروں گا! بائبل تعلیم دیتی ہے کہ لوگ اُس ناخوشگوار وقت میں توبہ کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔ اِس میں لکھا ہے،

’’اُن لوگوں نے جو اِن آفتوں کا شکار ہونے سے بچ گئے تھے اپنے اُن کاموں سے توبہ نہ کی جو اُن کے ہاتھوں سے سرزد ہوئے تھے ... نا ہی اُنہوں نے اپنے [گناہوں] سے توبہ کی‘‘ (مکاشفہ 9:20، 21)۔

’’اور لوگ درد کے مارے اپنی زبانیں کاٹنے لگے، اور اپنے دُکھوں اور ناسوروں کی وجہ سے آسمان کے خُدا پر کفر بکنے لگے لیکن اُنہوں نے اپنی حرکتوں سے توبہ نہ کی‘‘ (مکاشفہ 16:10، 11)۔

آپ دیکھیں، آپ اپنی مرضی سے کسی وقت بھی جب آپ توبہ کرنا چاہیں توبہ نہیں کر سکتے۔ بائبل کہتی ہے، ’’ممکن ہے کہ خُدا اُنہیں توبہ کی توفیق دے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:25)۔ یہ خُدا ہی ہے جو توبہ دیتا ہے۔ اُس بڑی مصیبت کے اِس مرحلے تک خُدا کسی ایک کو بھی توبہ کرنے اور نجات پانے کے لیے فضل عطا نہیں کرے گا۔ پھر اُس وقت ہر کسی کو منصفانہ طور پر سختی سے لیا جائے گا، اور اُن کے بارے میں کہا جائے گا، ’’خُدا نے اُنہیں ناپسندیدہ خیالوں اور نامناسب حرکات کا شکار ہونے دیا‘‘ (رومیوں 1:28)۔ اپنے گیتوں میں سے ایک میں ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا ضمیر جلا دیا جاتا ہے، بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا دِل پتھر کی مانند ہوتا جاتا
ہے۔ بہت دیر ہوگئی ہے اگر میری روح مجھے معاف نہیں کرتی ہے! بہت دیر ہوجاتی ہے جب میری زندگی کی
سانس ختم ہوتی ہے۔
یہ دیر ہو گئی ہے، اوہ، اِس قدر دیر! اِس کے باوجود یسوع دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے۔
   اور یسوع، پیارا نجات دہندہ، ایک مرتبہ پھر بُلا رہا ہے۔
(’’بہت عرصہ میں نے نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
      Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

اُس وقت آپ کے لیے پھر بہت دیر ہو جائے گی! بہت دیر! لامحدود حد تک بہت دیر! آپ اپنے دانتوں سے زبانیں کاٹ لیں گے، اور اپنے دُکھوں اور ناسوروں کی وجہ سے آسمان کے خُدا پر کفر بکنے لگے، لیکن اُس دِن میں آپ توبہ نہیں کر پائیں گے! (مکاشفہ 16:10، 11)۔ بہت ہی دیر! بہت ہی دیر! ’’بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا ضمیر جلا دیا جاتا ہے۔ بہت دیر ہو جاتی ہے جب میرا دِل پتھر کی مانند ہو جاتا ہے۔ بہت دیر ہو جاتی ہے [جب خُدا کی] روح مجھے بُھلا دیتی ہے۔ بہت دیر ہو جاتی ہے جب میری زندگی کی سانس ختم ہو جاتی ہے!‘‘ جیسا کہ ڈاکٹر سمتھ نے کہا، ’’وہ جو پیچھے چھوڑ دیئے جائیں گے اُن کے ساتھ ایسی بڑی مصیبت کے وقت حتمی وباؤں کے دوران سفاکانہ ہولناکیاں رونما ہونگی۔‘‘ کیا آپ اُن میں سے ایک ہونگے جو پیچھے چھوڑ دیے جائیں گے جب آمد ثانی پر یسوع اپنے لوگوں کو قبول کرنے کے لیے آئے گا؟

جب میں 1970 کی ابتدائی دہائی میں سان فرانسسکو کے علاقے میں تبلیغ کر رہا تھا، بہت سے نوجوان لوگ اُس گرجہ گھر میں آئے جو میں نے شروع کیا تھا۔ اور اُن میں سے بہت سے بچائے گئے تھے۔ گذشتہ اگست اُس گرجہ گھر کی 40 ویں سالگرہ کے موقعے پر مجھے وہاں واپس جا کر بات کرنے کا موقع ملا تھا۔ 1970 کی دہائی میں گائے جانے والے گیتوں میں سے ایک گیت جو ہم اکثر گایا کرتے تھے وہ تھا جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے اِس واعظ سے قبل گایا تھا۔ اُن الفاظ کو دوبارہ سُنیے، جب میں اِسے گانے کی کوشش کروں۔

زندگی جنگ اور بندوقوں سے بھری پڑی تھی،
   اور ہر کوئی فرش پر روندا جا رہا تھا،
میری خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہو چکے ہوتے۔
   بچے مر گئے، دِن سرد ہوتے گئے،
روٹی کا ایک ٹکڑا سونے کی تھیلی خرید سکتا تھا،
   اپنا ذہن بدلنے کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں ہے،
آپ کس طرح اِس قدر اندھے ہو سکتے ہیں؟
   نجات دہندہ نے بُلایا،لیکن آپ نہیں گئے،
بیٹا آ چکا ہے اور آپ پیچھے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔

شوہر اور بیوی بستر میں سوئے ہوئے ہیں،
   وہ ایک آواز سُنتی ہے اور اپنا سر گھماتی ہے – وہ جا چکا ہے۔
میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہو چکے ہوتے۔
   دو آدمی اوپر پہاڑ پر جا رہے ہیں،
ایک غائب ہو جاتا ہے اور دوسرا ساکن کھڑا چھوڑ دیا جاتا ہے،
   میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہو چکے ہوتے۔
اپنا ذہن بدلنے کے لیے آپ کے پاس وقت نہیں ہے،
   آپ کس طرح اِس قدر اندھے ہو سکتے ہیں؟
نجات دہندہ نے بُلایا،لیکن آپ نہیں گئے،
   بیٹا آ چکا ہے اور آپ پیچھے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔
آپ پیچھے چھوڑ دیئے گئے ہیں،
   آپ پیچھے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔
(’’میں خواہش کرتا ہوں کہ ہم سب تیار ہو چکے ہوتے I Wish We’d All Been Ready ‘‘ شاعر
لیری نارمن Larry Norman، 1947۔2008؛ پادری نے ترمیم کی)۔

’’اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہونگے، ایک لے لیا جائے گا اور دوسر چھوڑ دیا جائے گا۔ دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی۔ ایک لے لی جائے گی اور دوسری چھوڑ دی جائے گی۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خُداوند کس دن آئے گا‘‘ (متی 24:40۔42)۔

آخری آیت ہدایت پیش کرتی ہے – ’’جاگتے رہو: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خُداوند کس دِن آئے گا‘‘ (متی 24:42)۔ یہ ہے جس کی آپ کو کرنے کی ضرورت ہے۔ جاگتے رہیں اور تیار رہیں۔ کیا آپ اُس دِن کے لیے تیار ہیں؟ بائبل کہتی ہے، ’’اپنے خُداوند کو ملنے کے لیے تیار رہ‘‘ (عاموس 4:12)۔ کیا آپ تیار ہیں؟ آپ کو توبہ ضرورکرنی چاہیے۔ آپ کو ضرور اپنے خود غرضانہ اور گناہ سے بھرپور طرز زندگی سے منہ موڑ لینا چاہیے۔ آپ کو اتوار کی صبح اور اتوار کی شام کو گرجہ گھر میں ضرور ایک نئی زندگی جینی چاہیے۔ میں ایک بپتسمہ لیا ہوا پرانے زمانے کی ’’نشانی‘‘ ہوں۔ میں مقامی گرجہ گھر میں یقین رکھتا ہوں۔ میں اِس بات کا قائل ہوں کہ آپ کو اپنے مقامی گرجہ گھر میں ہر اتوار کی صبح اور شام کو موجود ہونے کی ضرورت ہے۔ آپ کو ’’بتوں کی پرستش چھوڑ کر زندہ اور سچے خُدا کی عبادت کرنے کے لیے‘‘ رجوع کرنا چاہیے (1۔ تسالونیکیوں 1:9)۔ اور آپ کو مسیح کے پاس ایمان کے ساتھ ضرور آنا چاہیے۔ اگر آپ مسیح کے پاس نہیں آتے ہیں، تو آپ نجات نہیں پائیں گے بے شک اگر آپ گرجہ گھر بھی آئیں۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ وہ آپ کو زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ وہاں آسمان میں خُدا کے داہنے ہاتھ پر ہے۔ آپ کو اُس کے پاس ایمان کے ساتھ ضرور آنا چاہیے۔ یسوع نے کہا، ’’جو کوئی میرے پاس آئے گا میں اُس اپنے سے جُدا نہیں ہونے دوں گا‘‘ (یوحنا 6:37)۔ یسوع نے کہا، اے محنت کشو اور بوجھ سے دبے لوگو، میرے پاس آؤ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28)۔ ہم حمد و ثنا کا گیت نمبر سات گانے جا رہے ہیں۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے صفحے کو اِس کے لیے پلٹیں۔ آئے کھڑے ہوں اور اِسے گائیں۔

جب ہم دعا کرتے ہیں اور التجا کرتے ہیں،
   جب آپ اپنی روح کی انتہائی گہری ضرورت کو دیکھتے ہیں،
جب ہمارا باپ آپ کو گھر بُلاتا ہے،
   تو کیا تم، اے گنہگار، نہیں آؤ گے؟
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟

آپ نے بہت دور دور تک آوارہ گردی کی؛
   ایک اور دِن کا خطرہ مول مت لیں؛
مسیح سے اپنا رُخ مت موڑئیے،
   مگر آج اُس کا فضل قبول کریں۔
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟

جس وقت ہم اگلا بند گائیں، اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آپ نجات پا چکے ہیں، اپنی تشریف چھوڑیے اور کمرے کے پچھلی جانب چلے جائیے۔ ڈاکٹر کیگن آپ کو ایک پرسکون جگہ پر لے جائیں گے جہاں ہم آپ کے ساتھ یسوع کے پاس آنے کے لیے بات چیت کر سکتے ہیں۔ جلدی سے جائیں جبکہ ہم گیت گاتے ہیں۔

اِس دُنیا میں آپ ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں
   پریشان ذہن کے لیے محض امن؛
مسیح کے پاس آئیں، اُسی پر یقین کریں،
   امن اور خوشی آپ پا لیں گے۔
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
ابھی کیوں نہیں؟ ابھی کیوں نہیں؟
   ابھی کیوں نہیں یسوع کے پاس آتے؟
(’’ابھی کیوں نہیں؟ Why Not Now? ‘‘ شاعر ڈانیئل ڈبلیو۔ وھٹل Daniel W. Whittle،
      1840۔1901؛ پادری سے ترمیم کیا گیا)۔

مسٹر لی Mr. Lee، مہربانی سے دعا میں ہماری رہنمائی کریں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: 1۔ تسالونیکیوں 4:15۔17 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’میں خواہش کرتا ہوں ہم سب تیار ہو چکے ہوتے I Wish We’d All Been Ready‘‘
(شاعرع لیری نارمن Larry Norman، 1947۔2008)۔ پادری نے ترمیم کیا)۔