Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ آدمی جو شکر گزار ہونا بھول گیا تھا –
شکرگزاری پر ایک واعظ

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 65)

THE MAN WHO FORGOT TO BE THANKFUL –
A THANKSGIVING SERMON
(SERMON #65 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
18 نومبر، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 18, 2012

’’لیکن ساقیوں کے سردار نے یُوسُف کا خیال تک نہ کیا بلکہ اُسے بھلا دیا‘‘
(پیدائش 40:23).

ساقیوں کے سردار نے فرعون کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ اُس قید میں ڈال دیا گیا تھا، اُسی قیدخانے میں جہاں یوسف تھا۔ اب یوسف ایک عبرانی تھا، ایک ایسے جرم کے الزام میں جو اُس نے نہیں کیا تھا۔ کیونکہ خُداوند اُس کے ساتھ تھا، اِس لیے قید خانے کے پہرہ دار نے تمام قیدیوں کو یوسف کی نگرانی میں دے دیا تھا۔ قید کی اپنی پہلی رات مصری ساقی نے ایک خواب دیکھا۔ اُس نے یوسف سے اِس کا مطلب پوچھا۔ یوسف نے کہا وہ اُس کے خواب کی تعبیر خُدا کی مدد سے بتائے گا۔ پھر یوسف نے ساقی کے خواب کی تعبیر بتائی، اُسے بتایا کہ فرعون کے حکم پر اُسے رہا اور دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ ساقی نے وعدہ کیا کہ اگر وہ رہا ہو گیا تو فرعون کے سامنے یوسف کی بے گناہی کا تزکرہ کرے گا۔ تین دن بعد یوسف کی خواب کی تعبیر سچ ثابت ہوئی، اور ساقیوں کے سردارکو رہا کیا گیا اور فرعون کے دربار میں اُس کی جگہ پر دوبارہ بحال کیا گیا۔

یوسف کو اب یقین تھا کہ دربار میں اُس کا ایک دوست ہے جو فرعون سے بات کرے گا، اور اُسے یوسف کے بے گناہی کے بارے میں بتائے گا۔ لیکن ہفتے مہینوں میں بدل گئے،اور ساقیوں کے سردار کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ساقی مکمل طور پر یوسف کو نہیں بُھلاتا۔ لیکن وہ بلاشُبہ اُس کی التجا فرعون کے سامنے پیش کرنے سے خوفزدہ تھا۔ اِس سے شاید فرعون کو غصہ آ جاتا اور وہ اُسے دوبارہ قید خانے میں نہ ڈلوا دیتا۔ یا ہو سکتا ہے کہ کوئی دوسری وجہ تھی۔ بہرحال ساقیوں کا سردار یوسف کو بھول گیا۔ اگر یوسف نے ساقی کو نقصان پہنچایا ہوتا تو وہ آدمی اُسے بُھلا نہ پاتا۔ لیکن چونکہ یوسف نے اُس کی مدد کی تھی، وہ جلد ہی اُسے بھول گیا۔ ’’لیکن ساقیوں کے سردار نے یوسف کا خیال تک نہ کیا بلکہ اُسے بھلا دیا‘‘ (پیدائش 40:23)۔

احسان فرموشی کی کیسی ایک تصویر! مسخ شُدہ نسل انسانی کے لیے نا شکرا ہونا کتنا عام ہے! وہ ساقی ایک ایسا آدمی تھا جو شکرگزار ہونا بھول گیا تھا۔ آج کے اِن شیطانی دِنوں میں یہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی خوبی ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’لیکن یاد رہے کہ آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے لوگ خُودغرض، زَردوست، شیخی باز، مغرور، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، ناپاک ... ہوں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:1۔2).

’’ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، ناپاک۔‘‘ ’’آخری ایام‘‘ میں اِس نسل کی کیسی ایک تفضیل! ساقیوں کا سردار بہت سے لوگوں کی آج تصویر پیش کرتا ہے، ’’لیکن ساقیوں کے سردار نے یوسف کا خیال تک نہ کیا بلکہ اُسے بھلا دیا‘‘ (پیدائش 40:23)۔ یہ ایک ایسی نسل ہے جو ’’ناشکری‘‘ اور ’’ناپاک‘‘ ہے۔ تین اہم موقعے ہیں جہاں پر نوجوان لوگ شکرگزار ہونا بھول جاتے ہیں۔

I۔ اوّل، بہت سے اپنے والدین کے ناشکرگزار ہوتے ہیں۔

بائبل کہتی ہے، ’’اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر۔‘‘ یہ دو مرتبہ پرانے عہد نامے میں کہا گیا ہے (خروج 20:12؛ اِستثنا 5:16) اور چھے مرتبہ نئے عہد نامے میں کہا گیا ہے (متی 15:4؛ 19:19؛ مرقس 7:10؛ 10:19؛ لوقا 18:20؛ افسیوں 6:2)۔ یہ حکم بغیر کوئی شرائط دیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہتا ہے، ’’اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر اگر وہ تیرے ساتھ اچھے ہیں۔‘‘ جی نہیں، یہ سادگی سے کہتا ہے کہ اُن کی عزت کرو۔ جب آپ ایک روتے ہوئے بچے کو اُسکی ماں کی بانہوں میں دیکھیں، تو کیا یہ آپ کو یاد نہیں دلائے گا کہ آپ کی ماں نے آپ کے ساتھ بھی ایسا کیا تھا؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کی ماں نے آپ کے لیے کیا کچھ کیا تھا، آپ کے گندے کلوٹ بدلنے، آپ کا دھیان رکھنا، آپ کے کپڑے دھونا اور استری کرنا، آپ کو آپ کے کھانے کھلانا، آپ کے لیے دعائیں کرنا، آپ کا انتظار کرنا جب آپ دیر سے آتے تھے، آپ کے بارے میں پریشان ہونا اور سوچنا جیسے کہ آپ اُن کا کوئی قیمتی خزانہ ہوں؟

میں خُدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میری ماں نے مجھے چھے ماہ کی عمر میں بولنا سیکھایا تھا۔ میں خُدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے کہانیاں پڑھتی تھیںجب میں ایک چھوٹے بچے کے طور پر اکثر بیمار ہوتا تھا، اُن دِنوں میں ٹیلی ویژن نہیں ہوتا تھا۔ میں اب بھی، اُن کے کئی سال ہوئے جا چکنے کے بعد بھی، اپنے ماتھے پر اُن کا ہاتھ اور اپنے گال پر اُن کا چومنا محسوس کر سکتا ہوں۔ میں ہر روز اپنی پیار ماں کے لیے خُدا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیا آپ کرتے ہیں؟ آخری مرتبہ کب آپ نے اُن سے کہا تھا کہ آپ اُن سے کتنا پیار کرتے ہیں؟

خانہ جنگی کے دوران تھیڈیئس سٹیونز Thaddeus Stevens امریکہ کے ایک انتہائی اثرورسوخ والے حکومتی شخص تھے۔ وہ ایک ٹانگ سے لنگڑے تھے۔ اُن کے ماں نے دن اور رات کام کیا کہ اُن کے بیٹے کی تعلیم حاصل کرنے میں مدد ہو سکے۔ جب وہ ایک کامیاب وکیل بن گئے، تو وہ اُنہیں ہر ہفتے سونے کا ایک ٹکڑا اُس بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں جہاں وہ جاتی تھیں چندے میں ڈالنے کے لیے دیتے تھے۔ آج کے دِن تک، ہر موسم بہار اور گرما میں آپ اُن کے قبر کے پاس گلاب اور دوسرے پھول اُگتے ہوئے پائیں گے۔ اپنی وصیت میں تھیڈیئس سٹیونز نے پیسوں کی ایک بڑی رقم اپنی ماں کی قبر پر پھولوں کو مستقل رکھنے کے لیے چھوڑی۔

سکاٹ لینڈ کے ایک گرجہ گھر کے صحن میں عظیم مشنری ڈاکٹر ڈیوڈ لیونگزسٹن Dr. David Livingstone اور اُن کے بھائی بہنوں نے ایک کُتبہ نصب کروایا۔ یہ الفاظ اُس پر کُنندہ تھے،

نیل لیونگزسٹن
   اور اُن کی بیوی،ایگنس ھنٹر،
آرام گاہ کو دکھانے کے لیے
اور خُدا کو اُن کے بچوں کے لیے شکرگزاری
   کے اظہار کے لیے
غریب اور نیک [خُدائی] والدین کے لیے۔

شیکسپیئر نے لیئر بادشاہ میں فانی دُکھ کی گہرائی محسوس کرائی، جہاں بوڑھا بادشاہ چلا اُٹھتا ہے، ’’سانپ کے دانت سے بھی نوکیلا ہوتا ہے ایک ناشکرے بچے کا ہونا۔‘‘ ناشکری ہمیشہ ایک بُری بات رہی ہے، لیکن سب سے زیادہ بد صورت جب اِس کا مظاہرہ ایک بچے کا اپنی والدین کے سامنے ہو۔ شیکسپیئر نے کہا،

احسان فراموشی،چاہے سنگدل وحشی میں ہو،
مذید ڈراؤنی ہوتی ہے، جب تمہیں سمندری بلا کے بجائے،
ایک بچے میں نظر آئے!

آخری وقت کب تھا جب تم نے اپنی ماں کو بتایا تھا کہ تم اُسے پیار کرتے ہو؟ آخری وقت کب تھا جب تم نے اپنے باپ کا تمہیں پالنے پر شکریہ ادا کیا تھا؟ والدین کے ساتھ ناشکرا پن بچوں میں ایک بدکار اور ظالم چیز ہے۔ ’’لیکن ساقیوں کے سردار نے یوسف کا خیال تک نہ کیا بلکہ اُسے بھلا دیا۔‘‘

II۔ دوئم، بہت سے دوستوں اور محسنوں کے ساتھ ناشکرے ہوتے ہیں۔

یسوع نے دس کوڑھیوں کو شفا دی اور اُنہیں کاہنوں کے پاس یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ وہ شفایاب ہو گئے تھے۔ لیکن اُن میں سے صرف ایک یسوع کا شکریہ ادا کرنے کے لیے آیا تھا۔ نجات دہندہ نے کہا، ’’کیا دسوں کوڑھ سے پاک صاف نہیں ہوئے؟ پھر وہ نو کہاں ہیں؟ کیا اِس پردیسی کے سوا دوسروں کو اتنی توفیق بھی نہ ملی کہ لوٹ کر خُدا کی تمجید کرتے‘‘ (لوقا 17:17۔18)۔

ہمیں بےعزتیاں اور زخم یاد رہتے ہیں،لیکن ہم میں سے کتنے کم اُنکا کا شکریہ ادا کرنا یاد رکھتے ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی ہوتی ہے۔ بچے کے طور پر بے شمار مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنے کے بعد، میں ہمیشہ حیران ہوتا تھا جب کوئی میری مدد یا حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ آج صبح میں خُدا کا شکریہ ادا کرتا ہوں اُن کے لیے جنہوں نے ایسا کیا۔ مجھے ڈاکٹر اور مسز ھنری ایم۔ میک گوون Dr. and Mrs. Henry M. McGowan یاد ہیں ہیں،جو پہلے مجھے بپتسمہ دینے والے گرجھ گھر لے کر گئے، جنہوں نے ہر رات کے بعد دوسری رات مجھے اپنے گھر آنے دیا، جب میں ایک کھویا ہوا اور تنہا نوعمر تھا۔ مجھے مسٹر رے فلپس Mr. Ray Phillips یاد ہیں ہیں،جنہوں نے سب سے پہلے مجھے لوگوں میں بولنا سیکھایا۔ مجھے مرفی اور لورنا لم Murphy and Lorna Lum یاد ہیں ہیں، جنہوں نے مجھے اپنا پن خوش آمدید کر کے محسوس کرایا جب میں ایک چینی گرجھ گھر میں واحد انگریز لڑکا تھا۔ مجھے مسز گووین ڈیولین Mrs. Gwen Devlin یاد آتی ہیں،جنہوں نے، جہاں میں کام کرتا تھا سب کے چلے جانے کے بعد، جب میں یہ محسوس کرتا تھا کہ میں نہیں جا سکوں گا، ہر دِن کے بعد رات کو کالج جانا جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ مجھے مسٹر جین ولکرسن Gene Wilkerson یاد ہیں ہیں، جو پچاس سالوں سے میرے دوست ہیں۔ کتنا سکون محسوس ہوتا ہے یہ جان کر کہ اگر میرے پاس کہیں بھی رہنے کو جگہ نہ ہو تو میں کسی بھی رات اُن کے گھر جا سکوں اور سو سکوں۔ اِس قسم کا خیال شاید اُس کو عجیب لگے جس کے پاس سونے کے لیے ہر وقت جگہ ہو۔ لیکن میرے جیسے غریب لڑکے کے لیے، مسٹر ولکرسن جیسے دوست کو ہونا واقعی ایک حقیقی سکون تھا۔ مجھے ڈاکٹر تموتھی لن Dr. Timothy Lin یاد ہیں ہیں۔ بعض اوقات وہ مجھ پر بہت سخت ناراض ہوتے تھے، لیکن اُن کے بغیر میں آج کچھ بھی نہ ہوتا۔ میں نے اُنہیں اپنے تمام دِل سے پیار کیا کیونکہ اُنہوں نے مجھے تقریباً ہر وہ بات بتائی جو میں منادی کرنے کے بارے میں جانتا ہوں۔ مجھے میری بیوی یاد ہے، جو ہمیشہ میرے لیے موجود ہوتی ہے، جو ہمیشہ پیار کرتی ہے، جو ہمیشہ مدد کرتی ہے، جو ہمیشہ خدمت کرتی ہے۔ مجھے ڈاکٹر کیگن یاد ہیں، میرے اب تک کے انتہائی عزیز ترین اور سب سے اچھے دوست۔ مجھے ’’وہ 39‘‘ میں سے ہر ایک یاد ہیں، وہ لوگ جنہوں نے قربانی دی تاکہ ہم اپنے گرجہ گھر کی عمارت نہ گنوا بیٹھیں۔ یہ اور دوسرے، وہ لوگ ہیں،جن کے بارے میں اکثر میں اپنی دعاؤں میں یاد سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی ایسی کوئی فہرست تیار کی ہے؟ کیا آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو بتایا کہ آپ اُن کے کتنے شکر گزار ہیں؟

ایک غریب لڑکا ہوتے ہوئے، میری مدد یا حوصلہ افزائی کرنے کے لیے چند لوگوں کے ساتھ، میں احسان کے اِس قدر بوجھ تلے تھا کہ میں اپنی تمام زندگی کے دوران، اُن جیسے لوگوں کا جن کا میں نے تزکرہ کیا، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ایسا کرنا ہمیشہ دِل کو تسکین پہچانا ہوتا تھا۔ اُن کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اِس نے ہمیشہ مجھے بہتر محسوس کرایا ہے۔ اور میں تجویز دیتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں! ایک اچھا دوست اور ایک اچھا گرو، سونے کے قیمت کے برابر ہوتے ہیں!

یہ بروٹس Brutus کا خنجر نہیں تھا، لیکن بروٹس کا احسان فراموش دِل تھا، جس نے قیصر Caesar کو مارا تھا۔ جیسا کہ شیکسپیئر اِسے لکھتا ہے،

مگر جب پُروقار قیصر نے اُسے خنجر گھونپتے دیکھا،
احسان فراموشی تھی، جو غدار کی بانہوں سے زیادہ مضبوط تھی،
اُسے کافی شکستہ دِل کیا: پھر اُس کا مضبوط دِل پھٹ گیا؛
اور، اپنے لبادے میں چہرہ چُھپائے ہوئے،
یہاں تک کہ پومپے کے بت کے قدموں میں،
جو تمام خون سے بھرا تھا، عظیم قیصر مر گیا۔
   – جولیئس سیزر، III، 2۔

میں ہر وقت حیرت زدہ اور گہری افسردگی محسوس کرتا ہوں اُن لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے ہمارے گرجہ گھر کے لوگوں سے ’’لیا‘‘ – اور پھر شکریہ کا ایک لفظ کہے بغیر چلے گئے۔ میں ہمارے گرجہ گھر کے ایک رہنما کے بارے میں سوچ رہا ہوں، جس کو ہمارے سکول میں جگہ دی گئی تھی، جیسے اُس کی بیوی کو دی تھی، لیکن شکریے کا ایک لفظ ادا کیے بغیر وہ چھوڑ کر چلے گئے، اور گرجہ گھر کو منقسم کیا۔ میں ایک نوجوان آدمی کے بارے میں سوچ رہا ہوں جس کی میری ماں نے بہت مدد کی تھی، لیکن ایک رات وہ چھوڑ کر چلا گیا، اور میری ماں کا شادی کا تحفہ، چاندی کی چھریوں اور کانٹوں کا ایک سیٹ چُرا کر لے گیا، اور اُنہیں رونے پر مجبور کر دیا، کیونکہ اُنہوں نے اُسے اپنا دوسرا بیٹا سمجھا تھا۔ خُدا آپ کے مدد کرے کہ آپ کبھی بھی اُس جیسے اتنے بزدل احسان فراموش نہ ہوں! میں حیرانگی سے سوچتا ہوں کہ کیسے اِن جیسے لوگ اپنے آپ کو نسل انسانی کا رُکن گردان سکتے ہیں! لائق مذمت! ایسے لوگوں کے بارے میں پولوس رسول نے کہا،

’’اگرچہ وہ خدا کے بارے میں جانتے تھے لیکن اُنہوں نے اُس کی تمجید اور شکرگزاری نہ کی جس کے وہ لائق تھا۔ بلکہ اُن کے خیالات فضول ثابت ہُوئے اور اُن کے ناسمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ عقلمند ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن بے وقوف نکلے‘‘ (رومیوں 1:21:22).

’’لیکن ساقیوں کے سردار نے یوسف کا خیال تک نہ کیا، بلکہ اُسے بھلا دیا۔‘‘ میں یہاں ایک لمحے کے لیے ضرور رُکنا چاہوں گا اور ڈاکٹر کلیرنس میکاڑٹینی Dr. Clarence Macartney (1879۔1957)، کا جو پریسبائی ٹیرئین عبادت گزار پادری تھے، اِس واعظ کے آئیڈیے کے لیے، اور چند ایک مثالوں کے لیےشکریہ ادا کروں گا۔ ڈاکٹر میکاڑٹینی کا 1957 میں انتقال ہو گیا تھا۔

III۔ سوئم،بہت سے خُدا کے ناشکرگزار ہوتے ہیں۔

پولوس رسول نے کہا کہ دُنیا کے کافر لذت پسند ہو گئے کیونکہ وہ خُدا کی تمجید کرنے اور اُس کی شکرگزاری کرنے کے لیے ناکام ہوئے تھے۔ کافر قوموں کے لیے اُس نے کہا،

’’اگرچہ وہ خدا کے بارے میں جانتے تھے لیکن اُنہوں نے اُس کی تمجید اور شکرگزاری نہ کی جس کے وہ لائق تھا۔ بلکہ اُن کے خیالات فضول ثابت ہُوئے اور اُن کے ناسمجھ دلوں پر اندھیرا چھا گیا‘‘ (رومیوں 1:21).

ناشکرگزاری خُدا کے خلاف ایک گناہ ہے۔ ہم اکثر اُن برکات کے لیے جو خُدا نے ہمیں عطا کی ہیں شکریہ ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔ یہ ایک گناہ ہے۔ پولوس رسول نے کہا، ’’ہرایک بات میں شکریہ ادا کرو‘‘ (1۔تسالونیکیوں 5:18)۔

میری ماں نے مسیح میں نجات نہیں پائی تھی جب تک کہ وہ 80 برس کی نہ ہو گئیں۔ وہ زندگی کے بارے میں ذہنی دباؤ اور اُداسی کا شکار ہوتی تھیں، لیکن یہ سب کچھ بدل گیا جب وہ آخرکار یسوع کے پاس آئیں اور اُس میں تبدیل ہو کر نجات پائی۔ میری اُن کے ساتھ آخری گفتگو میں، میں نےدیکھا کہ مسیح نے کیسے اُن کا دِل بدل دیا تھا۔ وہاں وہ ہسپتال میں تھیں، ایک بڑے آپریشن کو جھیلنے کے بعد۔ لیکن وہ خُدا کی شکرگزاری کے ساتھ لبریز تھیں، حالانکہ وہ موت کا سامنا کر رہی تھیں۔ ہم نے اُن کے پسندیدہ صدر لنکن کے بارے میں بات چیت کی۔ ہم نے اُن کے پسندیدہ چُھٹی کے دِن ’’شکرگزاری کا دِن‘‘ کے بارے میں بات چیت کی۔ اُنہوں نے وہ گیت میرے ساتھ گایا،

جب زندگی کی موجوں پر طوفان آپ کو اُچھالتے ہیں،
   جب آپ یہ سوچ کر کہ سب کچھ ہار گئے حوصلہ ہارتے ہیں،
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنیں،
   اور خُدا نے آپ کے لیے کیا کچھ کیا اِس سے آپ حیران ہو جائیں گے۔
(’’اپنی برکات کو گنو Count Your Blessings‘‘ شاعر جانسن اوٹمین، جونئیر
     Johnson Oatman, Jr.، 1856۔1926)۔

پھر ماں نے کہا، ’’رابرٹ، یہ کتنا حیران کر دینے والا ہے جوکچھ خُدا نے ہمارے لیے کیا ہے!‘‘ حالانکہ وہ ہسپتال میں موت کا سامنا کر رہی تھیں، خُدا نے اُنہیں اُن بے شمار برکات کے لیے جو اُس نے ہمیں عطا کی تھیں ایک شکرگزار دِل دیا تھا۔

جس وقت میں واعظ کا یہ حصہ لکھ رہا تھا ایک عورت نے مجھے فون کیا جو اپنی اُس بیٹی کے لیے پریشان تھی جو گناہ میں گِھر چکی تھی۔ میں نے اُسے وہ پڑھ کر سُنایا جو ابھی میں نے اپنی ماں کے بارے میں کہا۔ میں نے اُس سے کہا کہ شکر ادا کرے کہ اُس کی بیٹی ابھی تک زندہ تھی، کہ وہ اب بھی اُس کے لیے دعا کر سکتی ہے، کہ خود اُس کی اپنی زندگی میں بے شمار برکات موجود ہیں، کہ پولوس رسول کہہ سکے، ’’ہر بات میں شکر ادا کرو‘‘ حالانکہ وہ اپنی منادی میں بہت سی دشواریوں اور آزمائشوں سے گزر چکا تھا۔

نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
اور خُدا نے تمہارے لیے کیا کچھ کیا اِس سے تم حیران ہو جاؤ گے۔

سب سے بڑا تحفہ جو خُدا نے ہمیں عطا کیا ہے اُس کا بیٹا، خُداوند یسوع مسیح ہے۔ پولوس کے پاس الفاظ کا ذخیرہ تھا، لیکن جب وہ یسوع کے بارے میں بات کرتا تھا، اُس کے الفاظ کم پڑ جاتے تھے۔ وہ صرف اتنا ہی کہہ پاتا، ’’شکر خُدا کا اُس کی اُس بخشش کے لیے جو بیان سے باہر ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 9:15)۔

پادری رچرڈ وومبرانڈ Richard Wurmbrand نے رومانیہ کی اشتراکیت پسندوں کی قید میں انجیل کی منادی کے لیے 14 سال گزارے۔ مہینوں کے تنہائی کی قید، سالوں کی جسمانی اذیت، بھوک اور ٹھنڈ سے مسلسل تکلیف سے، دماغ سے خیالات مٹانے اور ذہنی ظلمت کی دماغی اذیت کا تجربہ جو پادری وومبرانڈ نے کیا۔ اُنہوں نے کیسے یہ سب کچھ برداشت کیا اور اِس کے باوجود اِس تمام میں سے ایک فاتح مسیحی بن کر نکلے؟ اُنہوں نے کہا،

اگر دِل یسوع مسیح کے پیار سے پاکیزہ ہوتا ہے، اگر دِل یسوع کو پیار کرتا ہے، تو کوئی بھی تمام اذیتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے... اگر آپ یسوع کو ایسے ہی پیار کرتے ہیں جیسے مریم نے کیا تھا، جس نے مسیح کو ایک بچے کی طرح بانہوں میں سمیٹا تھا… تو پھر آپ ایسی اذیتوں کو مقابلہ کر سکتے ہیں (رچرڈ وومبرانڈ، ٹی ایچ۔ ڈی۔، مسیح کے لیے اذیت سہی Tortured for Christ، جاندار قربانی کی کتابیں Living Sacrifice Books، اشاعت 1998، صفحہ 38)۔

لہذا، سوال یہاںپر آ کر ختم ہو جاتا ہے – کیا آپ مسیح سے پیار کرتے ہیں؟ اگر آپ کرتے ہیں، تو آپ خُدا سے اُس کے بیٹے کے لیے شکریہ ادا کر سکتے ہیں اور اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ پر کتنی آزمائشیں آئیں۔ لیکن اگر آپ مسیح سے پیار نہیں کرتے ہیں، توجلد ہی یا تاخیر سے سہی زندگی آپ کو ایسا دل کا درد دے گی جو آپ کی تمام اُمیدوں کو نگل جائے گا۔

میں آج صبح آپ سے التجا کرتا ہوں کہ یسوع کے پاس آئیں، اُس پر بھروسہ کریں، اور نجات پائیں! اِس دُنیا میں واقعی مسیح کے بغیرکوئی اُمید نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ اُسے جانتے ہیں، تو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کیا ہوتا ہے، آپ رسول کے ساتھ مل کر کہنے کے قابل ہونگے، ’’شکر خُدا کا اُس کی اُس بخشش کے لیے جو بیان سے باہر ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 9:15)۔ حقیقی شکرگزاری اُن کے دِلوں سےنکلتی ہے جنہوں نے مسیح کے پیار کا تجربہ کیا ہوتا ہے، جو ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا اور ہمیں اُمید اور زندگی دینے کے لیے جو دُنیا پر سبقت لے جاتی ہیں مُردوں میں سے جی اُٹھا۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے حمد و ثنا کا گیت نمبر تین گائیں۔ یہ میری ماں کا پسندیدہ حمد و ثنا کا گیت تھا۔

جب زندگی کی موجوں پر طوفان آپ کو اُچھالتے ہیں،
   جب آپ یہ سوچ کر کہ سب کچھ ہار گئے حوصلہ ہارتے ہیں،
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اور خُدا نے تمہارے لیے کیا کچھ کیا اِس سے تم حیران ہو جاؤ گے۔
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا؛
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی بے شمار برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا۔

کیا تم کبھی پیار کے بوجھ تلے دبے ہو؟
   کیا صلیب تمہیں بھاری لگتی ہے جسے برداشت کرنے کے لیے تم بلائے گئے ہو؟
اپنی بے شمار برکات کو گنو،ہر شک دور ہو جائے گا،
   اور جیسے جیسے دِن گزرتے جائیں گے تم گنگنا رہے ہوگے۔
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا؛
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی بے شمار برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا۔

جب تم دوسروں پر اُن کے سونے اور جائیداد کے ساتھ نظر ڈالتے ہو،
   سوچو کہ مسیح نے تم سے اپنی ان کہی دولت کا وعدہ کیا ہے؛
اپنی بے شمار برکات کو گنو، جنہیں پیسہ خرید نہیں سکتا
   نہ ہی آسمان پر انعام، اور نہ ہی بُلندی پر تمہارا گھر۔
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا؛
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی بے شمار برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا۔

لہذا، چاہے کتنی ہی چھوٹی یا بڑی کشمکش میں گھرے ہوؤ،
   حوصلہ مت ہارو،خُدا سب سے بالا ہے؛
اپنی بے شمار برکات کو گنو، فرشتے حاضر ہو جائیں گے،
   تمہارے سفر کے اختتام کے لیے تمہیں سکون اور مدد ملتی ہے۔
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا؛
نام بنام ایک ایک کر کے اپنی تمام برکات کو گِنو،
   اپنی بے شمار برکات کو گنو، دیکھو خُدا نے تمہارے لیے کیا کِیا۔
(’’اپنی برکات کو گنو Count Your Blessings‘‘ شاعر جانسن اوٹمین، جونئیر Johnson
Oatman, Jr.، 1856۔1926)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan نےکی تھی: کلسیوں 3:12۔15 ۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھMr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’تیری وفاداری عظیم ہے Great is Thy Faithfulness‘‘ (شاعرتھامس او۔ چسحوم Thomas O. Chisholm، 1866۔1960)،

OUTLINE