Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ناقابلِ تباہ کتاب

THE INDESTRUCTIBLE BOOK
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
4 نومبر، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو

’’یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم بِن یوسیاہ کے عہد کے چوتھے سال میں خداوند کا یہ کلام یرمیاہ پر نازل ہُوا: ایک طومار لے اور اُس میں وہ سب کلام درج کر جو میں نے اِسرائیل، یہوداہ اور دوسری تمام قوموں کے متعلق ابتدا سے یعنی یوسیاہ کے عہد سے جب کہ میں نے تجھ سے کلام کا آغاز کیا آج تک تجھ سے کیا۔ شاہِ یہوداہ کے لوگ جب ان تمام مصیبتوں کا حال سُنیں، جنہیں میں ان پر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہُوں تو ان میں سے ہر ایک اپنی بُری روش سے باز آئے اور میں اُن کی بدکاری اور اُن کے گناہ کو معاف کر دُوں گا‘‘ (یرمیاہ 36:1۔3).

یہودہ کی قوم نے خُدا کے خلاف گناہ کیا تھا۔ یہ بہت بڑے گناہ، اِرتداد اور بغاوت کا وقت تھا۔ آج شب ہم اُس جیسے ہی دور میں رہ رہے ہیں۔ لیکن پریشانی کے بیچ میں ہمارے پاس کلام پاک کا یہ عظیم حوالہ موجود ہے، یرمیاہ چھتیس باب۔

میں نے اِس باب کو بار بار پڑھا جب میں بائبل کو مسترد کر دینے والی جنوبی بپتسمہ دینے والی سیمنری Southern Baptist seminary میں 1970 کی ابتدائی دہائی میں پڑھ رہا تھا۔ کمرۂ جماعت میں پروفیسرز ہر صبح بائبل پر حملہ کرتے۔ لیکن جب میں اپنے کمرے میں واپس پہنچتا میں اِس باب کو رات کے بعد رات پڑھنے میں انتہائی سکون محسوس کرتا۔ بائبل میں یہ ایک عظیم باب ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بائبل کہاں سے آئی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کیوں بدکار لوگ بائبل سے نفرت کرتے ہیں، اور وہ کیسے اِسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کیسے خُدا بائبل کو محفوظ رکھتا ہے، اور جو اِسے مسترد کرتے ہیں اُن کے لیے وہ فیصلہ جو انتظار کر رہا ہے۔

میں عام طور پر بائبل میں سے پورے باب پر تبلیغ نہیں کرتا ہوں، مگر ہمیں آج رات کو وہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حوالہ اِس قدر زرخیز ہے، اور اِرتداد کے اِس دور میں جس میں ہم رہ رہے ہیں اِس کی اِسی قدر ضرورت ہے۔ تو پھر میرے ساتھ آئیے، جب ہم یہ باب پڑھیں، جو ہمیں واضح طور پر دکھاتا ہے کہ بائبل خُدا کا کبھی تباہ نہ ہونے والا کلام ہے! یہ باب کم از کم چار سوالات کے جواب فراہم کرتا ہے۔

I۔ اوّل، بائبل کہاں سے آئی ہے۔

جواب یرمیاہ 36:1۔2 میں پیش کیا گیا ہے۔ اِن آیات کو دیکھیں۔

’’یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم بِن یوسیاہ کے عہد کے چوتھے سال میں خداوند کا یہ کلام یرمیاہ پر نازل ہُوا: ایک طومار لے اور اُس میں وہ سب کلام درج کر جو میں نے اِسرائیل، یہوداہ اور دوسری تمام قوموں کے متعلق ابتدا سے یعنی یوسیاہ کے عہد سے جب کہ میں نے تجھ سے کلام کا آغاز کیا آج تک تجھ سے کیا‘‘ (یرمیاہ 36:1۔2).

یہ کلام یرمیاہ کے پاس خُداوند کی طرف سے آیا تھا، ’’لکھ ... تمام الفاظ جو میں نے تجھ سے کہے ہیں۔‘‘ یہ بائبل کی خُدائی ہدایات کی وضاحت ہے۔ پولوس رسول نے کہا،

’’اور کس طرح تُو بچپن سے اُن مُقدّس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یُسوع پر ایمان لاکر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں۔ ہر صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے وہ تعلیم دینے، تنبیہہ کرنے، سُدھارنے اور راستبازی میں تربّیت دینے کے لیے مفید ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:15۔16).

یہاں رسول ہمیں بتاتا ہے کہ تمام ’’پاک کتابیں‘‘ ’’خُدائی الہام کے ذریعے سے دی گئی‘‘ ہیں۔ یونانی میں ’’خُدائی ہدایات‘‘ کے لفظ کا ترجمہ ’’تھیعوپنی اُسٹوس theopneustos ‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’خُدا کا سانسوں سے کہنا‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ خود کلام پاک خُدا کی طرف سے سانسوں میں کہا گیا۔ پولوس نے تیموتاؤس کو بتایا تھا کہ خود تحاریر خُدا کی طرف سے سانسوں میں کہی گئیں تھی۔ تحاریر انسان کی طرف سے نہیں آئی ہیں، اور نہ ہی پھر خُدا نے اُن پر پھونک ماری تھی۔ نہیں، خُدا نے وہی الفاظ سانسوں میں کہے اور انسان کو اُنہیں لکھنے کے لیے کہا۔

یسوع نے اِس بات کو واضح کیا جب اُس نے کہا، ’’انسان صرف روٹی سے ہی زندہ نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خُدا کے مُنہ سے نکلتی ہے‘‘ (متی 4:4)۔ پاک کتاب کا ہر لفظ ’’خُدا کے منہ سے نکلا ہے۔‘‘

پھر، 2۔ پطرس 1:21 میں ہم پڑھتے ہیں کہ کلام پاک ’’میں نبوت کی کوئی بات انسان کی اپنی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ لوگ پاک روح کے الہٰام سے خُدا کی طرف سے کلام کرتے تھے۔‘‘ یونانی میں لفظ ’’تحریک‘‘ کا ترجمہ ’’فیرو phero‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب ’’ساتھ لے کر چلنا‘‘ ہے۔ اِس لیے خُدا کے برگزیدہ لوگ پاک روح کے ساتھ چلتے تھے جیسے خُدا اُنہیں کلمات لکھنے کے لیے دیتا تھا۔ خُدا انبیاء کے ذہنوں کے ساتھ ساتھ چلا تھا تاکہ جو الفاظ وہ لکھیں وہ براہ راست خُدا کی طرف سے ادا کیے گئے تھے۔ سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon نے کہا،

       [پاک کتاب] کی یہ جلد زندہ خُدا کا کلام ہے: ہر لفظ کو قادرمطلق کی انگلی سے لکھا گیا تھا؛ اِس میں موجود ہر لفظ دائمی ہونٹوں سے ادا کیے گئے تھے؛ ہر جملے کی املا پاک روح کے ذریعے سے کی گئی تھی۔ ال بیعت، کہ موسیٰ کو اُس کے انگارے جیسے قلم کے ساتھ اُس کی تاریخوں کو لکھنے کے لیے کام پر رکھا گیا تھا، خُدا نے اُس قلم کی راہنمائی کی تھی [اور ایسا ہی بائبل میں ہر کتاب کے ساتھ ہے]۔ یہ خُدا کی آواز ہے، انسان کی نہیں ہے؛ الفاظ خُدا کے الفاظ ہیں... یہ بائبل خُدا کی بائبل ہے، اور جب میں اِسے دیکھتا ہوں، تو مجھے اِس میں سے ایک آواز اُبھرتی ہوئی سُنائی دیتی ہے، جو کہہ رہی ہے، ’’میں خُدا کی کتاب ہوں: انسان، مجھے پڑھ ۔ میں خُدا کی تحریر ہوں؛ میرے صفحے کھول، کیونکہ مجھے خُدا کے ذریعے سے قلمبند کیا گیا تھا؛ اِسے پڑھ، کیونکہ وہ میرا مصنف ہے‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ’’بائبل کے بارے میں جواہرات کا ایک صندوق A Coffer of Jewels About the Bible،‘‘ صفحات 45۔46)۔

خُداوند یسوع مسیح نے بائبل کی بات تسلسل سے جامع اور دائمی خُدا کے کلام کے طور پر کی تھی۔ اُنہوں نے کہا، ’’آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں کبھی نہ ٹلیں گی‘‘ (متی 24:35)۔ اُنہوں نے کہا، ’’پاک کلام غلط نہیں ہو سکتا‘‘ (یوحنا 10:35)۔ اُنہوں نےکہا، ’’جو کوئی اِس زناکار اور خطا کار قوم میں مجھ سے اور میرے کلام سے شرماتا ہے تو ابنِ آدم بھی جب وہ اپنے باپ کے جلال میں ... ‘‘ (مرقس 8:38)۔

یرمیاہ 36:2 میں غور کریں کہ خُدا نے نبی سے کہا، ’’اُس میں وہ سب کلام درج کر جو میں نے کیا۔‘‘ اِس لیے یہاں، اور تمام بائبل میں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ یہی ’’الفاظ‘‘ ہیں جو خُدا سے بطور خُدائی ہدایات کے دیے گئے تھے۔ یہ تصورات نہیں تھے، یا کہانیاں، جو خُدائی ہدایات کے ذریعے سے دی گئیں تھی۔ نہیں، یہ پاک ’’الفاظ‘‘ تھے جو ’’خُدا کے مُنہ سے خُدا کی سانسوں میں کہے‘‘ گئے تھے۔ یرمیاہ 30:2 میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا نے یرمیاہ کو بتایا، ’’جو کلام میں نے تجھ سے کیا وہ سب ایک کتاب میں لکھ لے۔‘‘

اِس لیے، ہم اپنے ہاتھوں میں انگریزی میں ترجمہ کی ہوئی بائبل اُٹھائے ہوئے ہیں۔ ہم یقین کر سکتے ہیں، سینکڑوں صحائف سے کہ اصلی عبرانی اور یونانی الفاظ خُدا کی طرف سے ’’سانسوں میں کہے‘‘ گئے تھے، اور انسانی مصنفین نے بالکل وہی عبرانی اور یونانی الفاظ جو اُنہوں نے خُدا سے پائے لکھے تھے۔ وہ [یرمیاہ] مجھے یہ کلام خود سُناتا گیا اور میں نے سیاہی سےاِسے طومار میں لکھا۔‘‘ خُدا نے یرمیاہ کو الفاظ دیے تھے۔ اُس نے یہ خود اپنے مُنہ کے ساتھ ادا کیے۔ اور باروک نے اُنہیں طومار میں لکھا۔ اِس طرح سے ہم نے اپنی خُدا کی سانسوں میں کہی گئی بائبل پائی!

ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney نے اپنے گیتوں میں سے ایک میں کہا،

میں جانتا ہوں کہ بائبل خُدا کی طرف سے بھیجی گئی،
   پرانا عہدنامہ، اور ساتھ ساتھ نیا عہد نامہ؛
پاک اور الہٰامی، زندہ کلام،
   میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے۔
میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے،
   تمام کی تمام مکمل خُدا کی طرف سے الہٰی،
میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے۔
   (’’میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے I Know the Bible is True‘‘ شاعر ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B.B. McKinney ، 1886۔1952)۔

II۔ دوئم،بائبل سے کیوں نفرت کی جاتی ہے۔

یہاں کوئی غلطی مت کیجیے گا۔ آج لاتعداد ہزاروں لوگ بائبل سے نفرت کرتے ہیں – بالکل جیسے بے شماروں کے ذریعےسے اس کی ہمیشہ نفرت کی جاتی ہے۔ ایسا اس قدر کیوں ہے؟ آیت دو کو دوبارہ دیکھیں،

’’ ایک طومار لے اور اُس میں وہ سب کلام درج کر جو میں نے اِسرائیل، یہوداہ اور دوسری تمام قوموں کے متعلق ابتدا سے یعنی یوسیاہ کے عہد سے جب کہ میں نے تجھ سے کلام کا آغاز کیا آج تک تجھ سے کیا‘‘ (یرمیاہ 36:2).

آخری چند الفاظ پر غور کیجیے، ’’وہ سب کلام جو میں نے اِسرائیل، یہوداہ اور دوسری تمام قوموں کے متعلق ... اِسی لیے لوگ بائبل سے نفرت کرتے ہیں! یہ اُن کے خلاف بولتی ہے! لوگ بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُنہیں بتاتی ہے کہ وہ گنہگار ہیں۔ کوئی ایسی دوسری کتاب نہیں لکھی گئی جو گناہ کی ملامت اور انسان کے ضمیر کو چُبھتی ہے جتنی بائبل کرتی ہے۔

دہریہ بائبل سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ اُسے احمق کہتی ہے – احمق اپنے دِل میں کہتا ہے کوئی خُدا ہے ہی نہیں‘‘ (زبور 14:1)۔

بُت کی پوجا کرنے والے بُدھ مت کے پیروکار بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ کہتی ہے کہ بتوں کی پوجا کرنے والے ’’بے وقوف نکلے‘‘ (رومیوں 1:22)۔

وہ جو ہم جنس کے ملاپ کی وکالت کرتے ہیں بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ کہتی ہے، ’’اِسی وجہ سے ... خُدا نے اُنہیں ناپسندیدہ خیالوں اور نامناسب حرکات کا شکار ہونے دیا‘‘ (رومیوں 1:26، 28)۔

اسقاطِ حمل کی وکالت کرنے والے بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ کہتی ہے، ’’تو خون نہ کر‘‘ (خروج 20:13)۔

نظریۂ ارتقا کے ماننے والے بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ کہتی ہے، ’’خُدا نے خلق کیا‘‘ (پیدائش 1:1؛ 1:24؛ 1:27، وغیرہ)۔

باغی گنہگار بائبل سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ اُن کے گناہ پر روشنی ڈالتی ہے۔

’’اور سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نُور دنیا میں آیا ہے مگر لوگوں نے نُور کی بجائے تاریکی کو پسند کیا کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے۔ جو کوئی بُرے کام کرتا ہے وہ نُور سے نفرت کرتا ہے اور اُس کے پاس نہیں آتا۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ اُس کے بُرے کام ظاہر ہو جائیں‘‘ (یوحنا 3:19۔20).

III۔ سوئم، باغی گنہگار بائبل کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

وہ طومار، جس پر یرمیاہ کے مُنہ سے خُدا کے الفاظ لکھے گئے تھے، بدکار بادشاہ یہویقیم کے لیے پڑھے گئے تھے۔ دیکھیے آیت 22۔

’’وہ نواں مہینہ تھا اور اب بادشاہ جاڑے کے خصوصی محل میں بیٹھا ہُوا تھا اور اُس کے سامنے انگیٹھی جل رہی تھی۔ جب یہودی طومار کے تین یا چار ورق پڑھ لیتا تب بادشاہ اُنہیں محّرر کے چاقو سے کاٹ لیتا اور انگیٹھی میں پھینک دیتا۔ اس طرح سے پورا طومار آگ میں جلا دیا گیا۔ بادشاہ اور اُس کے تمام حاضرین جنہوں نے یہ کلام سُنا، اُنہوں نے نہ تو خوف کا اظہار کیا اور نہ اپنے کپڑے چاک کیے‘‘ (یرمیاہ 36:22۔24).

اُس بدکار باغی بادشاہ نے خُدا کے کلام کو جلا دیا تھا، ایک ایک صفحہ کر کے! اِس میں نیا کیا ہے؟ یقیناً یہ حقیقت نہیں کہ گنہگار بائبل سے نفرت کرتے ہیں! اُنہوں نے ہمیشہ سے اِس سے نفرت کی ہے۔ باغ عدن میں، شیطان نے عیاری سے حوّا کو سرگوشی کی تھی، ’’کیا واقعی، خُدا نے کہا؟‘‘ (پیدائش 3:1)۔ پھر شیطان نے براہ راست بائبل کی حقیقت سے انکار کیا جب اُس نے حوّا کے ساتھ جھوٹ بولا اور کہا، ’’تم ہرگز نہیں مرو گے‘‘ اگر تم خُدا کے کلام کی نافرمانی کرتے ہو (پیدائش 3:4)۔ اور اُس وقت سے شیطان مکار گنہگاروں کو بائبل پر حملہ کرنے اور منسوخ کرنے کے لیے راہنمائی کرتا رہا ہے۔

لوگ اکثر کہتے ہیں وہ بائبل کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ غوروفکر کرتے ہیں، یا زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ لیکن اُنہوں نے صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ اُنہوں نے بائبل کو مسترد کیا اِس کی اصل وجہ یہ ہے کیونکہ وہ خُدا کے دشمن ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’اِس لیے کہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے۔ وہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

بائبل سے نفرت کرنے والا مسیح میں غیر تبدیل شُدہ، جسمانی نیت کا ذہن اُن کی زیادہ اور زیادہ پاک صحائف کے خلاف بغاوت کے لیے راہنمائی کرتا ہے۔ صِدقیاہ بادشاہ یرمیاہ سے زیادہ ذہین نہیں تھا۔ اور وہ یقیناً زیادہ تعلیم یافتہ بھی نہیں تھا! نہیں، اُس نے بائبل اِس لیے نہیں جلائی تھی کہ وہ ذہین یا تعلیم یافتہ تھا! اُس نے بائبل کو جلایا تھا کیونکہ اُس کا مکار، جسمانی نیت کا ذہن ’’خُدا کے خلاف بغاوت رکھتا‘‘ تھا۔

میں نے مدہوش شرابیوں اور نشیئوں کو بائبل کے خلاف ایسے لیے دلائل استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ناقابلِ یقین پروفیسرز گولڈن گیٹ علم الہٰیات کی سیمنری میں استعمال کرتے تھے جب میں 1970 کی دہائی میں وہاں پڑھتا تھا۔ کیوں اُن ’’عالم‘‘ کہلائے جانے والے پروفیسروں نے بائبل کے خلاف یہی دلائل استعمال کیے جو نشیئوں اور جنس کا غلط استعمال کرنے والوں نے کیے؟ جواب بالکل سادہ ہے۔ وہ مسیح میں غیر تبدیل شُدہ تھے۔ وہ صرف ’’قدرتی لوگ‘‘ تھے کیونکہ اُنہوں نے کبھی بھی نئے سرے سے جنم کا تجربہ کیا ہی نہیں تھا! بائبل کہتی ہے،

’’جس میں خدا کا پاک رُوح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ صرف پاک رُوح کے ذریعہ سمجھی جا سکتی ہیں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:14).

جب تک کہ ایک گنہگار مسیح میں تبدیل شُدہ نہیں ہوتا ہے، وہ قدرتی طور پر بائبل کے خلاف بغاوت کرے گا، اور اُس پر حملہ کرے گا، جیسا کہ اُس بدکار بادشاہ نے کیا تھا، جس نے یرمیاہ کے دِنوں میں بائبل کو آگ میں جھونک دیا تھا۔ وہ جو بائبل پر حملہ کرتے اور تنقید کرتے ہیں ہمیشہ نجات پائے بغیر لوگ ہوتے ہیں، جو کم از کم شیطان کی روح کی ایک یقینی تاثیر میں ہوتے ہیں (افسیوں 2:2)۔ ڈاکٹر میکینی نے کہا،

بے شک دشمن بے خوف روح کے ساتھ انکار کرتے ہیں،
   پیغام پرانا لیکن ابھی تک نیا ہے،
اِس کا سچ ہر مرتبہ جب بتایا جاتا ہے میٹھا ہوتا ہے،
   میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے۔
میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے،
   تمام کی تمام مکمل خُدا کی طرف سے الہٰی،
میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے۔

IV۔ چہارم، خُدا کیسے اپنے کلام کو محفوظ کرتا ہے۔

مکار بادشاہ یہویقیم نے محرر کا چاقو لیا اور خُدا کے کلام کے اوراق کاٹ دیے۔ پھر اُس نے بائبل کے اوراق کو انگیٹھی کے بھڑکتے شعلوں میں جھونک دیا۔ ’’ اِس کے باوجود بادشاہ اور اُس کے تمام حاضرین جنہوں نے یہ کلام سُنا، اُنہوں نے خوف کا اظہار نہ کیا‘‘ (یرمیاہ 36:24)۔ مکاروں کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ، ’’نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف ہے‘‘ (رومیوں 3:18)۔ گنہگار صرف خُدا کی روح کے ذریعے سے گناہ کی سزایابی کے تحت اور خوف میں مبتلا کیے جا سکتے ہیں۔ لوگ کبھی بھی آنے والے فیصلے سے خوفزدہ نہیں ہونگے جب تک کہ خُدا اُن کے اندھے دِلوں کو نہیں کھولے گا!

اب یرمیاہ کی کتاب کی واحد نقل جلا دی گئی تھی – اُس کا ہر ایک لفظ! تو کیا یہ بائبل کے اِس حصّے کا آخر تھا؟ نہیں، یہ آخر نہیں تھا! آیت 27 پر نظر ڈالیے۔

’’جب بادشاہ نے اس طومار کو جلا دیا جس میں باروک نے یرمیاہ کے بیان کیے ہُوئے الفاظ تحریر کیے تھے تب خداوند کا کلام یرمیاہ پر نازل ہُوا۔ دوسرا طومار لے اور اُس پر وہ تمام الفاظ پھر سے تحریر کر جو پہلے طومار میں تھے جسے شاہِ یہوداہ یہو یقیم نے جلا دیا‘‘ (یرمیاہ 36:27۔28).

آیت 32 پر نظر ڈالیے۔

’’چنانچہ یرمیاہ نے دوسرا طومار لیا اور اُسے باروک بِن نیریاہ محّرر کو دیا جس نے شاہِ یہوداہ یہویقیم کے آگ میں جلائے ہُوئے طومار میں کی تمام باتیں یرمیاہ کے مُنہ سے دوبارہ سُن کر اُس میں تحریر کیں... ‘‘ (یرمیاہ 36:32).

بائبل واحد کتاب ہے جو کبھی بھی تباہ نہیں کی جا سکتی ہے! کیوں؟ کیونکہ بائبل ناقابل تباہ ہے۔ پطرس رسول نے کہا، ’’خُدا کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے‘‘ (1۔ پطرس 1:25)۔ اشعیا نبی نے کہا، ’’گھاس مُرجھا جاتی ہے اور پھول جھڑ جاتے ہیں، لیکن ہمارے خُدا کا کلام ابد تک قائم ہے‘‘ (اشعیا 40:8)۔ اور زبور نویس نے کہا، ’’اے خُداوند تیرا کلام ابدی ہے، وہ آسمان پر مستقل طور پر قائم رہتا ہے‘‘ (زبور 119:89)۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا کہ وہ آیت (زبور 119:89 میں) ’’یقینی طور پر پاک صحائف کے ابدی کردار کی تعلیم دیتی ہے جو آسمان میں طے اور محفوظ کیے جاتے ہیں‘‘ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔، ہمارے خُدا کی سانسوں سے کہی گئی کتاب – بائبل Our God-Breathed Book – The Bible، خداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، اشاعت 1969، صفحہ 358)۔

آپ یقین کر سکتے ہیں کہ بائبل سچی ہے کیوں ایسا بائبل کہتی ہے! اور ’’خُدا کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے‘‘ (1۔ پطرس 1:25)۔ یسوع مسیح آسمان سے نیچے آیا، آپ کے گناہ خود پر لاد لیے، اور صلیب پر مرنے کے لیے چلا گیا – آپ کی بدکاریوں اور آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ اور مسیح ’’دفن کیا گیا، اور کتاب مقدس کے مطابق تیسرے روز زندہ ہو گیا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:4)۔ اپنے گناہوں سے مُنہ موڑیں اور مسیح پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو گناہوں، جہنم اور قبر سے بچائے گا۔ آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: زبور 119: 9۔18 .
اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
“I Know the Bible is True” (by Dr. B. B. McKinney, 1886-1952).
’’میں جانتا ہوں کہ بائبل سچی ہے‘‘

لُبِ لُباب

ناقابلِ تباہ کتاب

THE INDESTRUCTIBLE BOOK

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم بِن یوسیاہ کے عہد کے چوتھے سال میں خداوند کا یہ کلام یرمیاہ پر نازل ہُوا: ایک طومار لے اور اُس میں وہ سب کلام درج کر جو میں نے اِسرائیل، یہوداہ اور دوسری تمام قوموں کے متعلق ابتدا سے یعنی یوسیاہ کے عہد سے جب کہ میں نے تجھ سے کلام کا آغاز کیا آج تک تجھ سے کیا۔ شاہِ یہوداہ کے لوگ جب ان تمام مصیبتوں کا حال سُنیں، جنہیں میں ان پر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہُوں تو ان میں سے ہر ایک اپنی بُری روش سے باز آئے اور میں اُن کی بدکاری اور اُن کے گناہ کو معاف کر دُوں گا‘‘ (یرمیاہ 36:1۔3).

I.   اوّل، بابئل کہاں سے آئی، یرمیاہ 36:1۔2؛ 2۔ تیموتاؤس 3:15۔16؛ متی 4:4؛ 2۔ پطرس
1:21؛ متی 24:35؛ یوحنا 10:35؛ مرقس 8:38؛ یرمیاہ 30:2؛ 36:18۔

II.  دوئم، بائبل سے کیوں نفرت کی جاتی ہے، یرمیاہ 36:2؛ زبور 14:1؛ رومیوں 1:22،
26، 28؛ خروج 20:13؛ پیدائش 1:1، 24، 27؛ یوحنا 3:19۔20۔

III. سوئم، بائبل کے ساتھ باغی گنہگار کیا کرتے ہیں، یرمیاہ 36:22۔24؛ پیدائش 3:1، 4؛
رومیوں 8:7؛ 1۔ کرنتھیوں 2:14؛ افسیوں 2:2۔

IV. چہارم، خُدا اپنا کلام کیسے محفوظ رکھتا ہے، یرمیاہ 36:24؛ رومیوں 3:18؛ یرمیاہ
36:27۔28، 32؛ 1۔ پطرس 1:25؛ اشعیا 40:8؛ زبور 119:89۔