Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

خُدا جو اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اور چُھپاتا ہے

THE GOD WHO HIDES AND REVEALS HIMSELF
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
28 اکتوبر، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, October 28, 2012

’’اے اسرائیل کے خُدا اور نجات دینے والے، یقیناً تُو خُدا ہے جو نظروں سے پہناں ہے‘‘ (اشعیا 45:15)۔

روسی خلاباز خرمین ٹائٹوو Gherman Titov نے جب وہ خلا سے واپس آیا تو خُدا کی حضوری سے انکار کیا۔ اُس نے کہا، ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں کہیں ایک خُدا ہے، لیکن پوری دُنیا کے گرد تمام دِن چکر لگانے پر، میں نے اردگرد ڈھونڈا اور اُسے دیکھ نہیں پایا۔ میں نے کوئی خُدا یا فرشتے نہیں دیکھے... میں خُدا میں یقین نہیں رکھتا۔ میں انسان میں یقین رکھتا ہوں۔‘‘

لیکن امریکی خلاباز جیمس اے۔ میکڈیویٹ James A. McDivitt نے اُسے جواب دیا۔ جیمنی 4 Gemini میں 62 مرتبہ زمین کے گرد چکر لگانے کے بعد، میکڈیوِیٹ نے کہا، ’’میں نے خُدا کو اپنے خلائی جہاز کی کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکتے ہوئے نہیں دیکھا،جیسا کہ میں نے خُدا کو زمین پر اپنی گاڑی کی وِنڈشیلڈ میں سے جھانکتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لیکن میں اُس کے کاموں کو ناصرف ستاروں میں بلکہ جب میں باغ میں پھولوں کی سیر کرتا ہوں پہچان سکتا ہوں۔ اگر آپ زمین پر خُدا کے ساتھ ہو سکتے ہو، تو پھر آپ خلا میں بھی خُدا کے ساتھ ہو سکتے ہو۔‘‘

یہ دونوں آدمی واضح طور پر اُن کے درمیان فرق ظاہر کرتے ہیں جو خُدا میں یقین رکھتے ہیں اور وہ جو خُدا میں یقین نہیں رکھتے۔ دہریہ خُدا کی جسمانی شکل کو ڈھونڈتا ہے۔ جب وہ اُسے نہیں دیکھ پاتا، تو غلط سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہاں کوئی خُدا نہیں ہے۔ دوسری طرف، مسیحی خُدا کے سمجھ سے بالا تر کاموں میں اُس کی تخلیق دیکھتے ہیں۔

ہماری تلاوت ظاہر کرتی ہے کہ خُدا مادیت پرست پر ظاہر نہیں ہوتا ہے، جو تقاضہ کرتا ہے کہ خُدا ڈھول بجاتا، چیختا چلاتا ہوا اُس کے پاس آئے، اور کھڑکی سے جھانک رہا ہو۔ مضحکۂ خیز! بائبل میں کہیں بھی ہمیں نہیں ملتا کہ خُدا دہریوں کو اپنی موجودگی کا ’’ثبوت‘‘ اِس طریقے سے دیتا ہے۔ ہماری تلاوت کہتی ہے،

’’اے اسرائیل کے خُدا اور نجات دینے والے، یقیناً تُو خُدا ہے جو نظروں سے پہناں ہے‘‘ (اشعیا 45:15)۔

غورکریں کہ تلاوت محض کسی خُدا کی طرف حوالہ نہیں دیتی ہے۔ یہ فرقوں یا دُنیا کے دوسرے مذاہب کے جھوٹے خُداؤں کی بات نہیں کرتی ہے۔ تلاوت صرف سچے خُدا کی بات کرتی ہے، ’’اسرائیل کا خُدا، نجات دہندہ۔‘‘ یہ سچا خُدا ہے جو گنہگار آدمی سے اپنے آپ کو چُھپاتا ہے، اور اپنے آپ کو صرف اُنہی پر ظاہر کرتا ہے جنہیں وہ بچاتا ہے – ’’اے اسرائیل کے خُدا، نجات دہندہ۔‘‘ تو پھر آئیے چند منٹوں کے لیے خُدا کے اِن دو پہلوؤں پر غور کرتے ہیں – یہ حقیقت کہ وہ اپنے آپ کو اِس گنہگار دُنیا سے چُھپاتا ہے، اور یہ حقیقت کہ وہ اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کرتا ہے جن کو وہ بچاتا ہے۔

I۔ اوّل، وہ ایک ایسا خُدا ہے جو اپنے آپ کو چُھپاتا ہے۔

اشعیا نبی نے کہا، ’’یقیناً تُو خُدا ہے جو نظروں سے پنہاں ہے... ‘‘ بے شک، وہ اپنے آپ کو گنہگار آدمی سے چُھپاتا ہے۔ اُنسٹھویں باب میں، اشعیا نبی نے کہا، ’’تمہاری بدکاری نے تمہیں اپنے خُدا سے دور کر دیا، اور تمہارے گناہوں نے اُسے تم سے ایسا روپوش کیا، کہ وہ سُنتا نہیں‘‘ (اشعیا 59:2)۔

جب ہمارے پہلے والدین نے باغ عدن میں گناہ کیا تھا، وہ فوراً خُدا سے جُدا ہو گئے تھے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو اُس سے چُھپا لیا تھا۔ پھر اُنہیں باغ سے باہر نکال دیا گیا اور پھر کھبی وہ خُدا کی قربت نہ پا سکے۔ اُن کا پہلا بیٹا ’’اُن کی مانند‘‘ اور ’’اُن کی اپنی صورت پر‘‘ جیسا کہ اُس کا گنہگار باپ تھا پیدا ہوا (پیدائش 5:3)۔ چونکہ کائن ایک گنہگار پیدا ہوا تھا اِس لیے اُس نے اپنے باپ ہی کی طرح خُدا کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اُس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا اور خُدا نے اُسے لعنت دی۔ توبہ کرنے کے بجائے، کائن نے خُدا سے شکایت کی،

’’غور سے سُن، آج تُو مجھے وطن سے نکال رہا ہے اور میں تیرے حضُور سے رُوپوش ہو جاؤں گا…‘‘ (پیدائش 4:14).

’’اور قائن خدا کے حُضور سے نکل گیا اور عدن کے مشرق میں نود کے علاقہ میں جا بسا...‘‘ (پیدائش 4:16).

لفظ ’’سر ہلانا Nod‘‘ کا مطلب ’’آوارہ گردی کرنا‘‘ ہے۔ توبہ کرنے کے بجائے کائن خُدا کے حضوری سے چلا گیا اور ایک آوارہ گرد بن گیا، ’’زمین میں ایک مفرور اور ایک بنجارہ‘‘ (پیدائش 4:12)۔ میرے خُدا! ہم نے ایسا اکثر کہاں دیکھا ہے! گرجہ گھر میں ایک نوجوان شخص بغاوت کرتا ہے، گناہ کرتا ہے، توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے، اور گرجہ گھر کو چھوڑ دیتا ہے، ’’خُدا کی حضوری سے دور‘‘ چلا جاتا ہے، اور تاحیات کا ایک آوارہ گرد بن جاتا ہے، زمین میں ’’ایک مفرور اور ایک بنجارہ‘‘! کس قدر افسوس ناک بات ہے!

یہ تمام بائبل میں بالکل واضح ہے کہ گناہ کی وجہ سے خُدا اپنے آپ کو باغی آدمی سے چُھپا لیتا ہے۔ اشعیا 1:15 میں خُدا نے گناہ کے بوجھ تلے دبی قوم سے کہا،

’’اور جب تُم دعا میں اپنے ہاتھ اُٹھاؤ گے، تو میں تُم سے مُنہ پھیر لُوں گا: تُم چاہے کتنی دعائیں کرو، میں نہ سُنوُں گا: تمہارے ہاتھ خُون آلودہ ہیں‘‘ (اشعیا 1:15).

میکا نبی نے کہا،

’’ تب وہ خداوند کو پُکاریں گے، لیکن وہ اُن کی نہ سُنے گا: ان کے بُرے اعمال کے سبب سے وہ ان سے اپنا مُنہ پھیرلے گا‘‘ (میکا 3:4).

دوبارہ اشعیا نبی نے کہا،

’’کیونکہ تُو نے ہم سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے اور اپنے گناہوں کے باعث ہمیں پگھلا ڈالا‘‘ (اشعیا 64:7).

ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber (1783۔1826) نے اپنی عظیم حمد میں یہ سچائی بہت واضح کی،

مقدس، مقدس، مقدس! حالانکہ اندھیرا تجھے چُھپا لیتا ہے،
   حالانکہ گنہگار آدمی کی آنکھ تیرے جلال کو دیکھ نہیں پاتی،
صرف تو ہی مقدس ہے؛ تیرے علاوہ کوئی اور نہیں ہے،
   قوت، محبت اور پاکیزگی میں کامل۔
(’’مقدس، مقدس، مقدس! Holy, Holy, Holy!‘‘ شاعر ریجینلڈ ھیبر Reginald Heber

II۔ دوئم، اُس نے اپنے آپ کو بے گواہ نہیں چھوڑا۔

یہی ہے جو پولوس رسول نے لُسترہ میں بتوں کے پوجنے والوں سے کہی۔ پولوس نے اُنہیں بتایا کہ خُدا نے تمام لوگوں کو ’’اپنی اپنی راہ پر چلنے دیا۔ تو بھی اُس نے اپنے آپ کو بے گواہ نہیں چھوڑا‘‘ (اعمال 14:16۔17)۔ اُس نے کہا کہ بارش اور خوراک، اور دوسری اچھی چیزیں، اِس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ خُدا زندہ ہے۔ رومیوں کے پہلے باب میں، پولوس رسول نے کہا،

’’کیونکہ خدا کی ازلی قدرت اورالُوہیّت جو اُس کی اَن دیکھی صِفات ہیں دنیا کی پیدائش کے وقت سے اُس کی بنائی ہُوئی چیزوں سے اچھّی طرح ظاہر ہیں۔ لہٰذا اِنسان کے پاس کوئی عذر نہیں‘‘ (رومیوں 1:20).

پولوس رسول نے کہا کہ تخلیق شُدہ دُنیا، اور تخلیق کردہ پودے، پھول، جانور اور اِن کے علاوہ، ظاہر کرتے ہیں کہ کہیں کوئی خالق ہے جس نے اِنہیں سب سے پہلے بنایا ہے۔ یہی امریکی خلا باز میکڈیویٹ کا مطلب تھا جب اُس نے کہا، ’’میں نے خُدا کو اپنے خلائی جہاز کی کمرے کی کھڑکی میں سے جھانکتے ہوئے نہیں دیکھا،جیسا کہ میں نے خُدا کو زمین پر اپنی گاڑی کی وِنڈشیلڈ میں سے جھانکتے ہوئے نہیں دیکھا۔ لیکن میں اُس کے کاموں کو ناصرف ستاروں میں بلکہ جب میں باغ میں پھولوں کی سیر کرتا ہوں پہچان سکتا ہوں۔‘‘ داؤد بادشاہ نے کہا،

’’آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے؛ اور فِضا اُس کی دستکاری دکھاتی ہے‘‘
       (زبُور 19:1).

ڈاکٹر ھنری ایم۔ مورس نے Dr. Henry M. Morris کہا، ’’آسمانوں سے ظاہر کیا گیا ’خُدا کا جلال، واحد صرف ستاروں میں دیکھی جانے والی لامحدود قوت، تنوع، اور پیچیدگی میں دیکھا جاتا ہے، بلکہ خُداوند یسوع مسیح میں بھی، ’خُدا کے جلال کی چمک‘‘‘ (عبرانیوں 1:3) (ھنری ایم مورس، پی ایچ۔ ڈی۔، مطالعۂ دفاع بائبل The Defender’s Study Bible، ورلڈ اشاعت خانے World Publishing، 1995؛ زبور 19:1 پر توجہ طلب بات)۔

جب کوئی ستاروں کو، درختوں کو پھولوں کی پیچیدگی کو اور قدرت کی دوسری چیزوں کو دیکھتا ہے، تو اُسے اِن کے پیچھے خُدا کا ہاتھ دیکھنا چاہیے۔ اِسے ماہرین الٰہیات ’’قدرتی الٰہام‘‘ کہتے ہیں۔

جب میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، جب میں گرجہ گھر بھی نہیں جایا کرتا تھا، تو میں اکثر خُدا کی اصلیت کو اپنی دادی کے باغیچے میں محسوس کرتا تھا۔ میں رس سے بھرے پھولوں میں چھپ جاتا اور شہد کی مکھیوں کو دیکھتا، اور میں اُن خاموش لمحوں میں وہاں خُدا کی حضوری کو محسوس کرسکتا تھا۔

بعد میں، ایریزونا کی ریگستان میں، آسمانی بجلی اور کڑک اِس قدر طاقتور ہوتی تھیں کہ ہمارا چھوٹا سے گھر اندھیرے میں چکاچوند ہو جاتا تھا، اور اُس کی بنیادیں ہل جاتی تھیں۔ اِس میں، بھی، میں نے خُدا کی قوت اور حضوری کو محسوس کیا۔ قدرتی الٰہام کے ذریعے سے، میرے ابھی بائبل پڑھنے یا واعظ سُننے سے پہلے،میں جان گیا کہ ایک خُدا تھا!

مجھے ایک شکرخورے کو پکڑنا یاد ہے۔ میں تقریباً 8 سال کا تھا۔ میں نے شکر خورے کو ہاتھ میں پکڑے رکھا تھا۔ اچانک وہ نکل بھاگا اور تیر کی مانند اوپر آسمان میں اُڑ گیا۔ مجھے واضح طور پر یاد ہے کہ میں سوچتا تھا کوئی انسان اتنا چھوٹا اور اِس کے باجود اِس قدر پیچیدہ کھلونا نہیں بنا سکتا۔ مجھے یہ سوچنا یاد ہے کہ صرف خُدا ہی ایسی چھوٹی سی اور اِس کے باوجود اتنی پیچیدہ چیز جیسی کہ شکرخورا ہے بنا سکتا ہے!

ایک اور خُدا کی حضوری کے لیے قدرتی ’’گواہی‘‘ انسان کا ضمیر ہے۔ پولوس رسول نے ضمیر کے گواہ ہونے کی بات کی تھی۔ اُس نے کہا،

’’البّتہ جب وہ قومیں جو شریعت نہیں رکھتیں اور طبعی طور پر شریعت کے مطابق کام کرتی ہیں تو شریعت نہ رکھتے ہوئے بھی وہ اپنے لیے ایک شریعت ہیں ۔ اس طرح وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شریعت کے احکام اُن کے دلوں پر نقش ہیں اور اُن کا ضمیر بھی اِس بات کی گواہی دیتا ہے اور اُن کے خیالات بھی کبھی اُن پر اِلزام لگاتے ہیں کبھی انہیں برّی ٹھہراتے ہیں‘‘ (رومیوں 2:14۔15).

ڈاکٹر ٹموتھی لِن Dr. Timothy Lin چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں میرے تئیس سال تک پادری رہے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’ضمیر پیدائشی ہوتا ہے، خُدا کی سانس سے بیجا گیا جو انسان کو خُدا کی موافق شخصیت دیتا ہے ... رومیوں 2:14۔15 میں بیان کیا گیا ہے [کہ ضمیر] دونوں پیدائشی اور کائناتی ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا، آدم اور حوّا کے گناہ کرنے چکنے کے بعد، ضمیر نے اُنہیں جرم کا ایک احساس دلایا تھا جس کی وجہ سے ’اُنہوں نے اپنے آپ کو خُدا کی حضوری سے چُھپا لیا تھا،‘ پیدائش 3:8 ‘‘ انسان کا ضمیر ایک قدرتی ذہنی صلاحیت ہے جو لوگوں کو اچھے اور بُرے کی پہچان کراتا ہے۔ ڈاکٹر ھنری سی۔ تھائیسن Dr. Henry C. Thiessen نے کہا، ’’انسان میں اِسی اچھے اور بُرے کی پہچان کے احساس کی موجودگی ہے ... اِس لیے انسان میں ضمیر دونوں خُدا کی حضوری، اور کسی حد تک خُدا کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ یعنی کہ یہ ناصرف ہم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا ہے، بلکہ کہ وہ بہت تیزی سے اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کی پہچان کرتا ہے ... یہ بھی لاگو ہوتا ہے کہ ہر بدکاری کی سزا دی جائے گی‘‘ (ھنری سی۔ تھائیسن، پی ایچ۔ ڈی۔، درجہ بہ درجہ علم الہٰیات میں تعارفی لیکچرIntroductory Lectures in Systematic theology، عئیرڈ مین اشاعت کمپنی Eerdmans Publishing Company، اشاعت 1971، صفحہ 35)۔

یہ ’’ضمیر میں خُدا کا منکشف ہونا‘‘ کہلاتا ہے۔ ضمیر کے بنیاد پر، فلسفی [عمینوئیل Immanuel] کانت Kant نے خُدا، آزادی اور لافانیت میں یقین کیا‘‘ (تھائیسن Thiessen، ibid.، صفحہ 34)۔ جب ایک نئے سرے سے جنم لیا ہوا مسیحی جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے، تو وہ اُس سے پریشان ہوتا ہے، اور خُدا پھر دور ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یوں، ہر مسیحی تجربے کے ذریعے سے جان جاتا ہے کہ خُدا ضمیر کے ذریعے سے بات کرتا ہے، کیونکہ جب وہ جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے وہ خُدا کی حضوری کا احساس کھو دیتا ہے۔

اِس طرح، خُدا نے اُسے بےگواہ نہیں چھوڑا ہے۔ وہ لوگ جو مسیحی نہیں ہیں وہ قدرت میں خُدا کے کاموں کو دیکھ سکتے ہیں۔ وہ محسوس کر سکتے ہیں کہ خُدا اُن کے گناہ کا انصاف اُن کے ضمیر میں کرتا ہے۔ لیکن خُدا کی حضوری کے یہ قدرتی ثبوت گناہ کے ذریعے سے مسیحی میں غیر تبدیل شُدہ لوگوں میں غیر واضح ہوتے ہیں۔ اگر اُنہیں اُن کے گھروں اور سکولوں میں خُدا کی حقیقت کو مسترد کرنا سیکھایا جاتا ہے، تو وہ قدرت اور خود اپنے ضمیر میں خُدا کے ہاتھ کو بہت کم دیکھنے کے قابل تیزی سے ہو جائیں۔ وہ شاید خُدا کے لیے اِس قدر بے حس ہو جائیں کہ وہ اشتراکیت پسند خلاباز کے ساتھ مل کر کہیں، ’’میں نے اردگرد ڈھونڈا اور خُدا کو نہیں پایا۔ میں نے کسی خُدا کو نہیں دیکھا۔ میں خُدا میں یقین نہیں کرتا ہوں۔ میں انسان میں یقین کرتا ہوں۔‘‘

جب انسان خود اپنے ضمیر اور قدرت میں خُدا کی گواہی کے لیے اتنا بے حِس ہو جاتا ہے، تو وہ پھر وہ ہوتا ہے جسے بائبل ’’احمق‘‘ کہتی ہے۔ اِس طرح، بائبل ہمیں بتاتی ہے،

’’احمق اپنے دِل میں کہتا ہے، کوئی خدا ہے ہی نہیں۔ وہ بگڑ گئے ہیں، اور اُن کے اعمال نفرت انگیز ہیں… ‘‘ (زبُور 14:1).

انسان جتنا گناہ کرتا جاتا ہے اُتنا ہی اُس کا ضمیر خراب ہوتا جاتا ہے، اور اُس کی روحانی سمجھ بوجھ مفلوج ہو جاتی ہے۔ پس، بائبل کہتی ہے کہ انسان، اپنی قدرتی حالت میں، ’’گناہوں میں مُردہ‘‘ ہے (افسیوں 2:5)۔ خُدا اپنے آپ کو اُن سے چھپاتا ہے جو گناہ میں مُردہ ہیں۔

’’اَے اسرائیل کے خدا اور نجات دینے والے، یقیناً تو خدا ہے جو نظروں سے پنہاں ہے‘‘ (اشعیا 45:15).

III۔ سوئم، وہ اپنے آپ کو بائبل میں ظاہر کرتا ہے۔

ہماری تلاوت کہتی ہے چُھپا ہوا خُدا ’’نجات دہندہ‘‘ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو گنہگار انسان پر ظاہر کرتا ہے خُدا ہونا چاہیے۔ اور بالکل یہی ہے جو اُس نے کیا ہے اُنہیں بچانے کے لیے جنہیں اُس نے چُنا ہے۔

خُدا اپنے آپ کو مقدس کتابوں کے ذریعے سے منکشف کرتا ہے۔ پولوس رسول مقدس کتابوں کے بارے میں کہتا ہے ’’اور کس طرح تُو بچپن سے اُن مقدس کتابوں سے واقف ہے، جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کرنجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہے‘‘ (2۔تیموتاؤس 3:15)۔ گنہگار انسان کے لیے بائبل خود خُدا کے منکشف ہونے کا وسیلہ ہے۔ پطرس رسول نے کہا کہ بائبل ’’ایک روشنی ہے جو اندھیرے میں چمکتی ہے‘‘ (2۔ پطرس 1:19)۔ اِسی لیے ہم ہمیشہ بائبل میں سے آپ کے لیے تبلیغ کرتے ہیں۔ یہ بائبل کے ہی ذریعے سے ہے کہ کھوئے ہوئے لوگ یسوع مسیح، اُس کے بیٹے کے ذریعے سے خُدا سے نجات ڈھونڈ سکتے ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’پس ایمان کی بنیاد پیغام کے سُننے پر ہے اور پیغام کی بنیاد مسیح کے کلام پر‘‘
      (رومیوں 10:17).

بائبل خُدا کا کلام ہے۔ بائبل ہمیں نجات کے لیے یسوع کی طرف لے جاتی ہے۔

جب مں ایک چھوٹا لڑکا تھا، میں نے محسوس کیا تھا کہ کہیں ایک خُدا ہے جب میں نے شکرخورے کو دیکھا، اور اپنی دادی کے باغیچے میں پیچیدہ پھولوں کو دیکھا۔ پھر، ایریزونا کے ریگستان میں، میں نے خُدا کی قوت اور شہانت کو محسوس کیا جب میں نے آسمانی بجلی کی کڑک کو دیکھا، اور بادلوں کی گھن گرج میں اپنے گھر کو لرزتے ہوئے محسوس کیا۔ میں نے خُدا کی حقیقت کو بطور منصف اپنے ضمیر میں دیکھا جب میں نے گناہ کیا۔ لیکن میں اِس کا نام نہیں جانتا تھا۔ میں اُس کو ’’اسرائیل کے خُدا، نجات دہندہ‘‘ کے طور پر نہیں جانتا تھا۔

میں نے خُدا کو اچھا بننے سے ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ میں نے خُدا کو مذہبی بننے سے ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ حتٰی کہ میں نے اپنی کوششوں میں مذہبی ناظم یعنی پادری بننے کا فیصلہ کیا تاکہ خُدا کے ساتھ امن پا سکوں۔ میں کسی طور پر مارٹن لوتھر Martin Luther (1483۔1546) کی مانند تھا، ایک عظیم اصلاح کار، جس کی مسیح میں تبدیلی ہم آج شام 6:30 بجے ایک اعلٰی درجے کے فلم میں دیکھیں گے۔ لیکن میں ابھی تک کھویا ہوا تھا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کتنا ’’نیک‘‘ اور مذہبی بن گیا تھا میں پھر بھی ایک کھویا ہوا گنہگار ہی تھا۔

یہ اُس وقت تک نہیں ہوا تھا جب تک کہ میں نے بائبل میں سے ایک قوت بخش واعظ نہیں سُنا تھا کہ میں نے یسوع کے لیے دیکھا اور نجات پائی تھی۔ میرے تمام اچھے کاموں اور مذہب نے مجھے خُدا کے بالکل بھی قریب نہیں کیا تھا۔ میں نے تو مشنری تک بننے کا فیصلہ کیا تھا، اور ایک چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں مشن کے میدان میں جانے کی تیاری کے لیے شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن اِس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ یہ اُس وقت تک نہیں ہوا تھا جب تک کہ میں نے ڈاکٹر چارلس ووڈبریج Dr. Charles Woodbridge کی خوشخبری پر تبلیغ نہیں سُنی تھی کہ میں بچایا گیا تھا۔ پھر، وقت کے ایک لمحے میں، یسوع میرے پاس آیا – اور میں اُس کے ذریعے سے بچایا گیا تھا۔ میں اپنے آپ کو خود نہیں بچا سکتا تھا۔ میں خُدا کے ساتھ امن کو اپنے مذہب، وابستگی، یا دعاؤں کے ذریعے سے نہیں پا سکا تھا۔ میں کھویا ہوا تھا 28ستمبر، 1961 کی اُس صبح تک، جب یسوع نے مجھے اپنے طرف کھینچا تھا، اور اپنے پاک خون سے میرے گناہوں کو دھو ڈالا تھا! پھر، وقت کے اُس لمحے میں، میں جان گیا کہ پولوس رسول کا کیا مطلب تھا جب اُس نے کہا،

’’ہم ایمان کی بنا پر راستباز ٹھہرائے گئے ہیں اِس لیے ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہماری خدا کے ساتھ صلح ہو چُکی ہے‘‘ (رومیوں 5:1).

اُس لمحے، میں یقینی طور پر جان گیا تھا کہ یسوع میری جگہ پر مرا تھا، میرے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، حتٰی کہ میرے۔ پھر، اُس لمحے، میں نے ایمان سے جی اُٹھے مسیح کو دیکھا تھا۔ پھر وہ خُدا جس نے اپنے آپ کو مجھ سے چُھپا لیا تھا میری روح کا ’’نجات دہندہ‘‘ اور میری زندگی کا خُداوند بن گیا! ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ کا سامنا زندہ مسیح کے ساتھ ہو جائے، کیونکہ تنہا وہ ہی آپ کو گناہ اور بے اعتقادی سے، قیامت اور جہنم سے بچا سکتا ہے! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: زبور 19:1۔11 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا
’’تو کتنا عظیم ہے How Great Thou Art ‘‘ (شاعر کارل جی۔ بوبرگ Carl G. Boberg ،
1859۔1940؛ مترجم سٹوآرٹ کے۔ حائن Stuart K. Hine، 1899۔1989)۔

لُبِ لُباب

خُدا جو اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اور چُھپاتا ہے

THE GOD WHO HIDES AND REVEALS HIMSELF

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اے اسرائیل کے خُدا اور نجات دینے والے، یقیناً تُو خُدا ہے جو نظروں سے پہناں ہے‘‘ (اشعیا 45:15)۔

I.   اوّل، وہ ایک ایسا خُدا ہےجو اپنے آپ کو چُھپاتا ہے، اشعیا 59:2؛
پیدائش 5:3؛ 4:14، 16، 12؛ اشعیا 1:15؛ میکا 3:4؛
اشعیا 64:7 ۔

II.  دوئم، اُس نے اپنے آپ کو بے گواہ نہیں چھوڑا،
اعمال 14:16۔17؛ رومیوں 1:20؛ زبور 19:1؛ عبرانیوں 1:3؛
رومیوں 2:14۔15؛ زبور 14:1؛ افسیوں2:5 ۔

III. سوئم، وہ اپنے آپ کو بائبل میں ظاہر کرتا ہے، 2۔ تیموتاؤس 3:15؛
2۔ پطرس 1:19؛ رومیوں 10:17؛ 5:1 ۔