Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

گنہگاروں کے لیے روٹی مانگنا

ASKING BREAD FOR SINNERS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
14 اکتوبر 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, October 14, 2012

میرے ساتھ بائبل میں سے لوقا 11:5 کھولیئے۔یہ سکوفیلڈ مطالعہ بائبل میں صفحہ 1090 پر ہے۔ مہربانی سے تلاوتِ کلامِ پاک کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

’’پھر اُس نے اُن سے کہا: فرض کرو کہ تُم میں سے کسی کا ایک دوست ہے۔ وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جاکر کہتا ہے کہ اَے دوست! مجھے تین روٹیاں دے؛ کیونکہ میرا ایک دوست سفر کرکے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں۔ اور وہ اندر سے جواب میں کہتا ہے: مجھے تکلیف نہ دے دروازہ بند ہے اور میں اورمیرے بال بچّے میرے ساتھ بستر میں ہیں، میں اُٹھ کر تجھے دے نہیں سکتا۔ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اُس کا دوست ہے، وہ اُٹھ کر نہ بھی دے تو بھی اُس کے بار بار اصرار کرنے کے باعث ضرور اُٹھے گا اور جتنی روٹیوں کی اُسے ضرورت ہے دے گا۔ پس میں تُم سے کہتا ہوں: مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا، ڈھونڈتے رہو گے تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو گے تو تمہارے لیے کھول دیا جائے گا۔ کیونکہ جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ تُم میں سے کون سا باپ ایسا ہے کہ جب اُس کا بیٹا روٹی مانگے تو اُسے روٹی نہیں بلکہ پتھر پکڑا دے؟ یا تُم میں سے کون سا باپ ایسا ہے کہ جب اُس کا بیٹا مچھلی مانگے تو اُسے مچھلی نہیں بلکہ سانپ پکڑا دے؟ یا انڈا مانگے تو اُس کے ہاتھ میں بچھو تھمادے۔ پس جب تُم بُرے ہوکر بھی اپنے بچّوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہوتو کیا آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں‘‘ (لوقا 11:5۔13).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے مذہبی اور عوامی زندگی پر پیو فورم Pew Forum [عوامی جرگہ] کے ذریعے ایک مطالعے میں کہا گیا کہ امریکہ میں پروٹسٹنٹز کی تعداد گذشتہ چالیس سالوں میں 14 فی صد کم ہو گئی ہے۔ 1972میں 62 % امریکی پروٹسٹنٹ تھے۔ آج یہ تعداد کم ہو کر 48 % رہ گئی ہے، وقت کے اِس دورانیے میں 14 % کی کمی۔ صرف گذشتہ دس سالوں میں یونائٹیڈ میتھوڈسٹ کلیسیا United Methodist Church تقریبا 800 ہزار کے قریب کم ہو گئی (لاس اینجلز ٹائمز Los Angeles Times،10۔اکتوبر، 2012، صفحہ AA1)۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جو گرجہ گھر جانا چھوڑ چکے ہیں ’’اُن میں سے ’’کثیر تعداد نے مذہبی تنظیموں کی پیسے، طاقت،حکومت اور سیاست کےلیے ضرورت سے زیادہ فکرمندی کے سحر سے آزادی کا اظہار کیا۔‘‘ رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا بہت سے لوگوں کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ اُن کی روحانی ضروریات اُن پروٹسٹنٹ گرجہ گھروں میں آج پوری ہوتی ہیں۔ یہ خصوصی طور پر نوجوان لوگوں کے لیے سچ ہے، جو گرجہ گھروں کو جوق در جوق چھوڑ رہے ہیں۔

ابھی ابھی ہم نے کلام پاک کا جو حوالہ پڑھا تھا وہ وجہ پیش کرتا ہے کہ کیوں بہت سے نوجوان لوگ گرجہ گھروں کو چھوڑ رہے ہیں۔ آیت چھ میں یسوع نے وجہ پیش کی ہے،

’’کیونکہ میرا ایک دوست سفر کرکے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں‘‘ (لوقا 11:6).

کیسا ایک اعتراف! ’’میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں۔‘‘ یہ ہے جو بہت سے نوجوان لوگ محسوس کرتے ہیں جب وہ آج گرجہ گھر میں جاتے ہیں۔ وہ بس محسوس کرتے ہیں کہ گرجہ گھر اُنہیں ایسی کوئی بھی چیز مہیا نہیں کرتا جس کی اُنہیں ضرورت ہے! اگر وہ کچھ سُنتے ہیں تو وہ صرف پیسے، حکمرانی اور سیاست کی باتیں ہوتی ہیں! گرجہ گھروں کے پاس اُنہیں تسلی دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اُن کی خاطر تواضع کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ما سوائے کچھ سیاسی فکرمندی، یا بے جان آیت بہ آیت بائبل کی تعلیمات! اُن کی خاطر تواضع کے لیے کچھ بھی نہیں ہے! کوئی جان نہیں! کوئی حقیقت نہیں! کوئی زندگی نہیں! اُن کی خاطر تواضع کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں!

یہ ایسا ہی تھا جو میں نے محسوس کیا جب میں پہلی مرتبہ اپنے لڑکپن میں گرجہ گھر آیا تھا۔ میرے پڑوسی لوگ مجھے ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر لے گئے تھے جب میں تیرہ سال کا تھا۔ میں کچھ سالوں تک اُن عملی سرگرمیوں کی وجہ سے جو نوجوان لوگوں کے لیے تھیں گرجہ گھر جاتا رہا تھا۔ لیکن میں نے خُدا کے بارے میں بہت کم سوچا تھا۔ اُس گرجہ گھر میں واقعی ایسا کچھ نہیں تھا جو مجھے روحانی طور پر اپنی جانب کھینچتا۔ آخر کار میں گرجہ گھر نہ جانے کے لیے بالکل رضامند ہی تھا۔ لیکن مجھے جیمس ہڈسن ٹیلر James Hudson Taylor کی سوانح حیات، جو چین کے لیے ایک بانی مشنری تھے، اور جان ویزلی کے شمارے کا مختصر کیا ہوا نسخہ پڑھنے کا موقع ملا۔ اُن دو کتابوں میں جیتی جاگتی مسیحیت کے بارے میں پڑھ کر میں محسور ہو گیا تھا۔ میں نے مقدس مقامات کے مسافر کی پیش قدمی Pilgrim’s Progress میں نوجوان شخص کی مانند محسوس کیا جو چِلایا تھا، ’’زندگی! زندگی!‘‘ جب وہ مسیح کی تلاش میں تباہی کے شہر City of Destruction سے روانہ ہوا تھا۔ روحانی زندگی کی تلاش کرتے ہوئے، میں نے ایک چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں شمولیت اختیار کر لی۔ اُس چینی گرجہ گھر میں شمولیت اختیار کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد، ڈاکٹر ٹموٹھی لِن اُس گرجہ گھر کے پادری بن گئے۔ ڈاکٹر لِن نے دُعّا، میسح کی دوسری آمد، حیات نو، اور دوسرے روحانی موضوعات پر خصوصی زور دیا۔ اُس وقت تک یہ بائیولا کالج Biola College میں ایک چھوٹے گرجہ گھر کی عبادت گاہ میں تبدیل ہو گیا تھا، جب میں نے ڈاکٹر چارلس جے۔ ووڈ بریج Dr. Charles J. Woodbridge کا مسیح کی دوسری آمد پر ایک طاقتور واعظ سُنا۔ اُس عبادت میں، اور اُس گرجہ گھر میں، مَیں نے آخر کار روحانی غذا پا لی تھی۔ اِس سے پہلے، جب میں انگریزوں کے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں جاتا تھا، اُن کے پاس میرے سامنے خاطر تواضع کے لیے رکھنے کو کچھ بھی نہیں تھا! عبادت محض مذہبی ہوتی تھی، اور واعظوں اور بائبل کے مطالعے میں کوئی زندگی نہیں ہوتی تھی، میری روح کی پیاس کو بجھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا! یوں لگتا تھا کہ سب کچھ اوسط عمر کی خواتین اور اُن کے شوہروں کو خوش کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ یہ ایک پُراثر متحرک، للکارنے والا مذہب نہیں تھا۔ وہاں اُس گرجہ گھر میں جانا ایک خشک مُردنی تجربہ تھا۔ وہاں میرے جیسے نوجوان آدمی کی دلچسپی کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ جو ہمیں ہمارے کلام کے حوالے کی طرف لے جاتا ہے، جسے سکوفیلڈ بائبل کے مطالعے میں ’’ملتجیانہ دوست کی تمثیل Parable of the Importunate Friend ‘‘ کہا گیا ہے۔

اِس تمثیل میں ایک آدمی کا دوست آدھی رات کو اُسے ملنے کے لیے آتا ہے۔ اُس کے پاس اُس کی خاطر تواضع کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ہے، رات کے اُس وقت اُس مہمان کو دینے کے لیے کوئی روٹی نہیں تھی۔ لہذا وہ اپنے نزدیک ہی ایک دوست کے گھر پرجاتا ہے اور دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے، اور کہتا ہے، ’’دوست مجھے تین روٹیاں تو دینا۔‘‘ اُس کے پڑوسی کے بند دروازے کے پیچھے سے اُسے پڑوسی یہ کہتا ہوا سُنائی دیتا ہے کہ وہ بستر میں ہے اور اُٹھنا نہیں چاہتا ہے۔ لیکن وہ شخص اُس کے انکار کو قبول نہیں کرتا ہے! وہ دروازے پر کھٹکھٹاتا رہتا ہے جب تک کہ اُس کا دوست اُٹھتا نہیں ہے اور اُسے روٹی نہیں دے دیتا جو وہ اپنے مہمان کے لیے چاہتا ہے۔ یسوع تمثیل کو استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے،

’’پس میں تُم سے کہتا ہوں: مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا، ڈھونڈتے رہو گے تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو گے تو تمہارے لیے کھول دیا جائے گا۔ کیونکہ جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا‘‘ (لوقا 11:9۔10).

اور یسوع تمثیل کا اختتام ہمیں یہ بتاتے ہوئے کرتا ہے کہ روٹی کس کو ظاہر کرتی ہے – ’’تو کیا تمہارا آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا نہ فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‘‘ (لوقا 11:13)۔ روٹی پاک روح کی نمائندگی کرتی ہے۔

آج صبح آپ میں سے کئی یہاں پہلی مرتبہ آئے ہیں۔ آپ میں سے کئی اور بے شمار یہاں گرجہ گھر میں صرف چند ایک ہفتوں سے ہی آ رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے اعتراف کرنا ہے کہ ہمارے پاس بھی آپ کی خاطر تواضع کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے جو آپ کی روح کو تسلی دے گا، اور آپ کو متاثر کرے کہ آپ کو مسیح کے شاگرد بننے کے لیے متاثر کرے۔ تمثیل میں آدمی کی مانند، ہمارے پاس آپ کو دینے کے لیے ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ کی روحانی بھوک کوتسلی دے! اگر ہم اپنے آپ پر انحصار کریں، تو ہمارے پاس آپ کے لیے کچھ نہیں ہے ما سوائے چند ایک حمد وثنا کے گیتوں، ایک واعظ، اور ایک سالگرہ کی تقریب کے! یہی تمام ہے جو ہمارے پاس آپ جیسے دوستوں کے لیے ہے! ہمارے پاس ایسا طاقتور اور زندگی بدل دینے والا کچھ نہیں ہے جو ہم آپ کو پیش کریں۔ اِس لیے ہم خُدا سے شکایت کرتے ہیں،

’’کیونکہ میرا ایک دوست … میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں‘‘ (لوقا 11:6).

اور جب ہم آپ کے لیے دُعّا کرتے ہیں، خُدا ہمیں یہ کہتا ہوا ظاہر ہوتا ہے، ’’مجھے تکلیف نہ دے: دروازہ اب بند ہے... میں اُٹھ کر تجھے دے نہیں سکتا‘‘ (لوقا 11:7)۔ خُدا ہمیں جواب نہیں دیتا ہے، حالانکہ ہم ہر ہفتے کو آپ کے لیے دُعّا مانگتے اور روزہ رکھتے رہیں ہیں۔ مجھے آپ کے سامنے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہم نے کبھی کبھی یوں محسوس کیا ہے کہ سب کچھ چھوڑ دیں۔ شیطان نے ایک کے بعد دوسری رکاوٹ ہمارے سامنے کھڑی کی جب بھی ہم نے آپ کو روٹی دینے کے لیے خُدا سے دُعّا مانگی اور روزے رکھے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے شیطان ہر ہفتے کے اختتام پر، ہماری دُعّاؤں کا جواب نہ ملنے کے لیے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اُس نے واقعی مجھے ایک حادثے میں مارنے کی کوشش کی تھی، تاکہ مجھے شام کی عبادت میں مستقل دُعّا کرتے رہنے پر تبلیغ کرنے سے روک سکے۔ ہم بہت دشواریوں اور مشکلوں سے ’’شیطان کے منصوبوں کے خلاف مقابلہ کرنے کے‘‘ قابل ہوتے ہیں (افسیوں 6:11)۔ اور خُدا ابھی تک آپ کے لیے ہماری دُعّاؤں کا جواب دیتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ خُدا یہ کہتا ہوا لگتا ہے، ’’مجھے تکلیف نہ دے: دروازہ اب بند ہے... میں اُٹھ کر تجھے دے نہیں سکتا‘‘ (لوقا 11:7)۔

لیکن ہمارے مسیحی بہنوں اور بھائیوں کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسیح نے ہمیں اِس تمثیل میں کیا بتایا،

’’میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگرچہ وہ اُس کا دوست ہے، وہ اُٹھ کر نہ بھی دے تو بھی اُس کے بار بار اصرار کرنے کے باعث ضرور اُٹھے گا اور جتنی روٹیوں کی اُسے ضرورت ہے دے گا‘‘ (لوقا 11:8).

یونانی زبان میں لفظ ’’ملتجیانہ importunity‘‘ کا مطلب ’’بے شرمی سے ثابت قدم رہنا‘‘ ہے۔ ڈاکٹر آر۔ سی۔ ایچ۔ لینسکی Dr. R.C.H. Lenski نے کہا،

      اِس فقیر کو اپنے دوست کو اِس طرح پریشان کرتے ہوئے کوئی شرمندگی نہیں تھی؛ وہ دوستی کا بہت زیادہ ناجائز فائدہ اُٹھا رہا تھا؛ اِس کے باوجود وہ اپنی بے شرمی کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ مثال دُعّا کے لیے ایک مضبوط حوصلہ افزائی ہے، کہ ہمیں دُعّا کرتے رہنے سے کوئی چیز منع نہ کرسکے؛ اور حوصلہ افزائی منطقی وعدے میں موجود ہے کہ ہماری دُعّاؤں کو جواب ملے گا جیسے کہ یسوع نے آیت 9 میں صریحاً بیان کیا ہے (آر۔ سی۔ایچ۔ لینسکی،پی ایچ۔ ڈی۔، مقدس لوقا کی انجیل کی تاویل The Interpretation of St. Luke’s Gospel، اوگسبرگ اشاعت گھر Augsburg Publishing House، ایڈیشن 1961، صفحات 625۔626)۔

’’اپنی [بے شرم ثابت قدمی] کی وجہ سے وہ اُٹھے گا اور اُسے اُتنا دے گا جتنے کی اُسے ضرورت ہے۔‘‘ آمین! ہمیں بے شرمی کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ جی ہاں! آیت 9 اور 10 میں یسوع نے واضح کہا،

’’ مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا، ڈھونڈتے رہو گے تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو گے تو تمہارے لیے کھول دیا جائے گا۔ کیونکہ جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا‘‘ (لوقا 11:9۔10).

طاقتور دُعّا کی ’’بے شرمی سے ثابت قدمی‘‘ ہی بالکل وہی پاتی ہے جو مانگا جاتا ہے! مسیح نے ہمیں بتایا کہ دُعّا میں مانگو، ڈھونڈو،اور کھٹکھٹاؤ۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا، ’’ہمیں اِن آیات کا ترجمہ یوں کرنا چاہیے ’میں تم سے کہتا ہوں، مانگتے رہو، اور یہ تمہیں دیا جائے گا؛ کھٹکھٹاتے رہو اور یہ تمہارے لیے کھول دیا جائے گا۔ کیونکہ ہر کوئی جو مانگتا رہے گا پائے گا؛ اور اُس کے لیے جو کھٹکھٹاتا رہے گا یہ کھول دیا جائے گا‘۔ یونانی میں زبان کی قسم ایک مسلسل مانگنے، ڈھونڈنے اور کھٹکھٹانے کو شامل کرتی ہے۔ یہاں خُدا برکت کی جو یقین دہانی دلاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر کوئی جو واقعی مانگتا رہے گا پائے گا، اور ہر کوئی جو واقعی ڈھونڈتا رہے گا پائے گا، اور ہر کوئی جو خُدا کے دروازے پر گنہگاروں کی روٹی کے لیے کھٹکھٹاتا رہے گا اُس کے لیے دروازہ کھولا جائے گا اور روٹی دی جائے گی۔ جی ہاں، اُتنی ہی روٹیاں جتنی گنہگاروں کے لیے اُسے ضرورت ہوگی جو خُدا اُس کے پاس بھیجتا ہے!‘‘ (جان آر۔ رائس، ڈی۔ ڈی۔، دُعّا: مانگنا اور پاناJohn R. Rice, D.D., Prayer: Asking and Receiving ،خُدا کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، ایڈیشن 1970، صفحات 94، 95 )۔ ڈاکٹر مارٹن لائید۔جونز Dr. Martyn Lloyd-Jones نے کہا،

      میں آپ کو ایسے لوگوں کی سوانح حیات پڑھنےکی تجویز دیتا ہوں جنہیں گزری ہوئی صدیوں میں خُدا نے کلیسیا میں استعمال کیا، خاص طور پر حیات نو میں۔ اور آپ یہی مقدس بے باکی پائیں گے ... اوہ، میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، یہی تو دُعّا کا مکمل راز ہے۔ تھامس گُڈون Thomas Goodwin [پیوریٹن] افسیوں 1:13 میں روح کی مہر لگنے کی اپنی تاویل میں ایک شاندار اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اِس کے لیے اُس پر داعویٰ کرو، اِس کے لیے اُس پر داعویٰ کرو۔‘‘ [خُدا] کو اکیلا مت چھوڑو۔ اُسے اُس کے اپنے وعدوں کے ساتھ، جیسے کہ وہ تھے، تنگ کرتے رہو۔ اُسے بتاؤ جو اُس نےکہا ہے کہ وہ کرنے جا رہا ہے۔ اُس کو کلام پاک کا حوالہ دو ... یہ اُسے خوش کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بچہ شاید زبان دراز ہو، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، اِس کے باوجود باپ یہ پسند کرتا ہے۔ اور خُدا ہمارا باپ ہے، اور وہ ہمیں پیار کرتا ہے،اور ہمیں اُس کے اپنے وعدوں کے لیے التجا کرتا ہوا، اُس کے اپنے الفاظ کا اُس کے سامنے حوالہ دیتے ہوئے، اور اِس بات کی روشنی میں یہ کہتے ہوئے، کیا تو [مجھے جواب دینے سے] اجتناب کر سکتا ہے؟ سُننا پسند کرتا ہے۔ یہ خُدا کے دِل کو مسرور کرتی ہے۔ اُس پر داعویٰ کریں! [یعنی کہ، تقاضہ کریں کہ وہ آپ کو جواب دے کیونکہ اُس نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا ہے!] (ڈی۔ مارٹن لائیڈ۔جونز، ایم۔ڈی۔، D. Martyn Lloyd-Jones, M.D.، حیات نو Revival، کراسوے کُتب خانہ Crossway Books، 1987، صفحہ 197)۔

اور شروع کرنے کے لیے ایک اچھی جگہ آیت 9 اور 10 کا حوالہ دینا ہے،

’’پس میں تُم سے کہتا ہوں: مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا، ڈھونڈتے رہو گے تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو گے تو تمہارے لیے کھول دیا جائے گا۔ کیونکہ جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا‘‘ (لوقا 11:9۔10).

پھر کہیں، ’’خُداوندا، تو نے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تجھ سے مانگتا رہوں گا تو تُو مجھے جس کے لیے میں دُعّا کروں دے گا۔ اب، خُداوندا، میں تجھے اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے بُلاتا ہوں۔ میں مانگ رہا ہوں۔ میں کھٹکھٹا رہا ہوں۔ اوہ خُداوند، میں توقع کرتا ہوں کہ تو دروازہ کھول اور مجھے بالکل وہی دے جو میں مانگ رہا ہوں۔ اوہ، خُداوند، تو نے کہا تھا کہ ہر کوئی جو مانگنا جاری رکھے گا پائے گا۔ اب میں جو تو نے کہا تھا کر رہا ہوں، اے خُداوندا۔ میں تجھ سے مانگنا جاری رکھ رہا ہوں۔ تو نے لوقا 11:10 میں وعدہ کیا تھا کہ جو کچھ میں مانگوں گا تو مجھے دے گا۔ اوہ، خُداوندا، میں توقع کرتا ہوں کہ تو لوقا 11:10 میں اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا! میں تقاضا کرتا ہوں کہ تو میری التجا مجھے عطا کر دے! میں اِس کے لیے تجھ سے – تیرے وعدے کی بنیاد پر داعویٰ کرتا ہوں! میں اِس کے لیے تجھ پر داعویٰ کرتا ہوں! میں اِس کے لیے تجھ پر داعویٰ کرتا ہوں! اور میں تجھے تنگ کرنا اور تجھ پر دھونس جمانا جاری رکھوں گا، جب تک کہ تو مجھے وہ دے نہ دے جس کے لیے میں نے دُعّا کی تھی!‘‘ یہ طریقہ ہے پرانے وقتوں میں عورتوں اور آدمیوں کے دُعّا کرنے کا، جب خُدا نے جنت کےدروازے کھول دیے اور حیات نو اُنڈیلی۔ اور اِسی طرح سے آدمی اور عورتیں آج عوامی جمہوریۂ چین میں دُعّا کرتے ہیں۔ اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ ہر ہفتے ہزاروں لاکھوں لوگ چین میں مسیحیت قبول کر کے تبدیل ہو رہے ہیں! وہاں پر مسیحی بے شرمی کے ساتھ آسمان کے دروازوں پر کھٹکھٹاتے رہتے ہیں جب تک کہ خُدا جو وہ مانگتے ہیں دے نہ دے!

اور آدھی رات کو جو ملتجیانہ آدمی، اپنے دوست کے دروازے پر کھٹکھٹاتے ہوئے ’’روٹی‘‘ مانگتا ہے وہ کیا ہے؟ کیوں، وہ روٹی جسے مانگنا، تلاش کرنا، اور ڈھونڈنا وہ جاری رکھتا ہے پاک روح تھی! اِس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے جس کی گنہگاروں کو ضرورت ہوتی ہے؟ آیت 13 کے آخر میں، مسیح نے کہا، ’’اِس سے زیادہ اور کتنی آسمانی باپ اُنہیں پاک روح افراط سے عطا فرمائے گا جو اُس سے مانگتے ہیں؟‘‘ (لوقا 11:5۔13)۔ سکوفیلڈ کے نوٹس یہاں ایک بات بھولتے ہیں۔ دُعّا کا جنگجو اپنے لیے پاک روح نہیں مانگ رہا ہے۔ وہ آیت 6 میں اپنے کھوئے ہوئے دوست کے لیے پاک روح کی دُعّا مانگ رہا ہے، جس کے لیے اُس نے کہا،

’’ میرا ایک دوست سفر کرکے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں۔‘‘

بے شک، اگر آپ کی دُعّاؤں کے جواب میں خُدا پاک روح نہیں دیتا ہے، تو آپ کے پاس کھوئے ہوئے گنہگار کی خاطر تواضع کے لیے کچھ بھی نہیں ہے! ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے کہا،

      یسوع نے اِس سبق کے بالکل اختتام تک کچھ بھی بالکل ٹھیک الفاظ میں نہیں بتایا ... دُعّا کرتے رہنے پر، کہ وہ شاگردوں کو پاک روح کے لیے دُعّا کرنے کی تعلیم دے رہا تھا... جو حقیقتاً حیات نو لاتی ہے، گنہگاروں کو سزا کے تحت لاتی ہے اور اُنہیں مسیح میں نجات پانے کے لیے تبدیل کرتی ہے، جو خُدا کے بندوں کو حکمت اور قوت اور قیادت دیتی ہے! جب ہم گنہگاروں کے لیے روٹی کی دُعّا کرتے ہیں، اِس کا حقیقتاً مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ضروت ہے ... خُدا کی پاک روح کی (رائس، ibid.، صفحہ 96)۔

میں اب اُن سے ہمکلام ہوں جو ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں۔ تمثیل میں پاک روح کو روٹی سے مماثلت دی گئی ہے۔ پاک روح ہے جس کی آپ کو کسی بھی اور چیز سے زیادہ کی ضرورت ہے! جب تک کہ ہمارے گرجہ گھر کی عبادت میں پاک روح آپ کے لیے نیچے نہیں آتی آپ اپنے گناہوں کی سزا کے تحت کبھی نہیں آئیں گے۔ یسوع نے کہا،

’’ جب وہ مددگار آجائے گا، وہ گناہ کی دنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘
       (یوحنا 16:8).

ہم پاک روح کے لیے دُعّا کررہے ہیں کہ وہ نیچے آئے تاکہ آپ جیسے کھوئے ہوئے گنہگار کو اپنے دِل میں ہولناک گناہ کو محسوس کرا سکے، آپ کو خستہ حال اور انتہائی گناہ سے بھرپور محسوس کر سکے۔ اگر پاک روح آپ کو اِس میں سے کبھی بھی کچھ بھی محسوس نہیں کراتی تو آپ واقعی کبھی بھی اپنے لیے مسیح کی ضرورت کو محسوس نہیں کر سکیں گے۔

پھر، اِس کے علاوہ، ہم خدا کی روح کے لیے دُعّا کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو مسیح کی طرف مکمل نجات کے لیے کھینچے۔ یسوع نے کہا،

’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے‘‘ (یوحنا 6:44).

اِس لیے، ہم خُدا سے دُعّا کر رہے ہیں کہ وہ اپنی روح آپ کو یسوع کے طرف کھینچنے کے لیے بھیجے، کیونکہ صرف یسوع ہی آپ کو گناہ اور جہنم سے بچا سکتا ہے۔

اب تک آپ نے انجیل کے صرف حقائق سُنے تھے۔ آپ نے صرف یہ سُنا کہ یسوع آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پرمرا تھا۔ آپ نے صرف سُنا تھا کہ یسوع کا خون آپ کے تمام گناہوں کو دھو سکتا ہے اور خُدا کی حضوری میں آپ کو راستباز ٹھہرا سکتا ہے۔ آپ نے صرف سُنا تھا کہ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے، اور اوپر آسمان میں زندہ ہے، ایک اور وسعت میں آپ کے لیے دُعّا کر رہا ہے۔ آپ نے صرف یہ حقائق سُنے تھے، لیکن آپ نے ان کا اپنی زندگی میں کبھی تجربہ نہیں کیا۔ اور آپ کبھی بھی اُن شاندار حقائق کا تجربہ نہیں کر سکتے اگر آپ اِتوار کے اِتوار کو صرف گرجہ گھر میں بیٹھیں اور صرف اُن کے بارے میں سُنیں۔ اُن حقائق کو صرف سُننے سے بھی کچھ زیادہ آپ کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے نہیں تو آپ کبھی بھی نہیں بچائے جا سکیں گے!

پاک روح کو ضرور نیچے آنا چاہیے اور آپ کو گناہ سے بھرپور محسوس کرانا چاہیے۔ پاک روح کو ضرور نیچے آنا چاہیے اور آپ کو یسوع کی طرف کھینچنا چاہیے۔ پاک روح کو چاہیے کہ وہ آپ کو جیتے جاگتے مسیح کے ساتھ الہٰی۔انسانی سامنا کرائے۔ یہ مسیح کی طرف کھینچے جانے کے لیے ایک معجزہ کے برابر ہوگا۔ یہ آپ کے لیے ایک معجزہ ہوگا کہ آپ نئے سرے سے جنم لیں۔ اور صرف خُدا کی روح آپ کی زندگی میں یہ معجزہ رونما کر سکتی ہے۔ اگر آپ کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہماری عبادتوں میں پاک روح موجود نہیں ہے تو ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں،

’’کیونکہ میرا ایک دوست … میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں‘‘ (لوقا 11:6).

اِسی لیے ہم نے گذشتہ روز آپ کی نجات کے لیے دُعّا مانگی اور روزہ رکھا ہے۔ ہم مانگتے رہنا جاری رکھتے ہیں۔ ہم ڈھونڈتے رہنا جاری رکھتے ہیں۔ ہم کھٹکھٹاتے رہنا جاری رکھتے ہیں – جب تک کہ خُدا آسمان کھول نہ دے اور آپ کو مسیح میں نجات پانے کے لیے اپنی روح نہ بھیج دے۔ یسوع نے کہا کہ ’’باپ پاک روح انہیں عطا کرتا ہے [کرے گا] جو اُس سے مانگتے ہیں‘‘ (لوقا 11:13)۔ اور ہم آپ کے لیے دُعّا کر رہے ہیں۔ ہم خُدا سے مانگ رہے ہیں کہ وہ اپنی روح آپ کو گناہ کے تحت سزا میں لانے کے لیے بھیجے، اور ایک معجزانہ مسیح میں نجات پانے کی تبدیلی کے تجربہ کے لیے آپ کو مسیح کی طرف کھینچے!

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں جیسے ہی مسٹر لی Mr. Lee آپ کو گناہ کے تحت سزا میں لانے، اور یسوع کی طرف کھینچنے کے لیے تاکہ اُس کے قیمتی خون کے ذریعے سے گناہ سے پاک صاف ہوں، خُدا سے اُس کی روح کو بھیجنے کی دُعّا کرنے کے لیے آتے ہیں۔ (مسٹر لی Mr. Lee دُعّا کرتے ہیں)۔ ’’تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں۔‘‘ کورس گائیے!

تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں، تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں،
   تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں،
میں تمہارے لیے دُعّا کر رہا ہوں۔
   (’’ تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں I Am Praying For You ‘‘ شاعر ایس۔ او‘ مالے کلاہ S.O’Malley Clough، 1837۔1910)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا
                               ’’تمہارے لیے میں دُعّا کر رہا ہوں I Am Praying for You‘‘
                                                       (شاعر ایس۔ او‘مالے کلاھ S. O’Malley Clough ، 1837۔1910)۔