Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آخری ایام میں مستقل دُعّا

PERSISTENT PRAYER IN THE LAST DAYS
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
7 اکتوبر 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, October 7, 2012

میرے ساتھ اپنی بائبل میں سے لوقا اٹھارواں باب کھولیے۔ یہ سکوفیلڈ مطالعۂ بائبل کے صفحہ 1100 پر ہے۔ مہربانی سے خُدا کے کلام کو پڑھنے کے لیے کھڑے ہو جائیے۔

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے؛ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی: ایک شہر میں ایک قاضی تھا، وہ نہ تو خدا سے ڈرتا تھا، نہ اِنسان کی پرواہ کرتا تھا۔ اُس شہر میں ایک بیوہ بھی تھی جو اُس قاضی کے پاس آتی رہتی تھی اور اُس سے التجا کیا کرتی تھی کہ میرا اِنصاف کر اور مجھے مُدّعی سے نجات دلوا۔ پہلے تو اُس نے کچھ دھیان نہ دیا لیکن جب یہ سلسلہ جاری رہا تو اُس نے اپنے جی میں کہا: سچ ہے کہ میں خدا سے نہیں ڈرتا اور اِنسان کی پروا بھی نہیں کرتا؛ لیکن یہ بیوہ مجھے پریشان کرتی رہتی ہے۔ اِس لیے میں اُس کا اِنصاف کروں گا۔ ورنہ یہ تو روز روز آ کر میرا ناک میں دم کر دے گی۔ خداوند نے کہا: سُنو، یہ بے اِنصاف قاضی کیا کہتا ہے۔ پس کیا خدا اپنے چُنے ہوئے لوگوں کا اِنصاف کرنے میں دیر کرے گا جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے رہتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ وہ اُن کا اِنصاف کرے گا اور جلد کرے گا۔ پھر بھی جب ابنِ آدم آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘ (لوقا 18:1۔8).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

اِس سے گذشتہ باب آخری ایام میں بائبل کی پیشنگوئی کی تفصیل کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ مسیح نے کہا، ’’اور جیسا نوح کے دِنوں میں ہوا تھا، ویسا ہی ابنِ آدم کے دِنوں میں ہوگا‘‘ (لوقا 17:26)۔ مسیح نے کہا کہ وہ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے ’’اور نوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا، پھر طوفان آیا اور سب کو ہلاک کر دیا‘‘ (لوقا 17:27)۔ پھر اُس نے آخری ایام کا موازنہ لوط کے دِنوں سے یہ کہتے ہوئے کیا، ’’وہ لوگ کھانے پینے اور خرید و فرخت کرنے، درخت لگانے اور مکان تعمیر کرنے میں مشغول تھے؛ لیکن جس دِن لوط سدوم سے باہر نکلا، آگ اور گندم نے آسمان سے برس کرسب کو ہلاک کر ڈالا‘‘ (لوقا 17:28۔29)۔ اور مسیح نے یہ موازنہ یہ کہتے ہوئے ختم کیا،

’’اِبنِ آدم کے ظہور کے دِن بھی ایسا ہی ہوگا‘‘ (لوقا 17:30).

یہ کہنے کے بالکل ہی فوراً بعد، لوقا کے اگلے باب میں ’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے؛ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1)۔ پھر اُس نے بے انصاف قاضی کی یہ تمثیل سُنائی، اور اِسے یہ کہتے ہوئے ختم کیا،

’’ پھر بھی جب ابنِ آدم آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘
       (لوقا 18:8).

’’اِس کا غالباً مطلب ایمان کی وہ قسم ہے جو غریب بیوہ [اس تمثیل میں] کے پاس ہے ... اُس قسم کے ایمان کے ساتھ جو خُدا کے سامنے دِن اور رات فریاد کرتے ہیں‘‘ (ولیم میکڈونلڈWilliam MacDonald، بائبل کے یقین کرنے والوں کا تبصرہ Believer’s Bible Commentary، تھامس نیلسن اشاعت خانے Thomas Nelson Publishers، 1989، صفحہ 1438؛ لوقا 18:8پر یاداشت)۔ یوں مسیح پوچھ رہا تھا کہ جب وہ واپس آئے گا تو کیا وہ مستقل دُعّا میں ایمان دیکھ پائے گا۔

ڈاکٹر جے ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے واضح کیا کہ مسیح نے آخری ایام کا نوح اور لوط کے زمانے کے ساتھ موازنہ کیا تھا۔ دونوں معاملات میں لوگوں کی توجہ زندگی کے مادی لوازمات پر تھی – کھانا، پینا،خریدوفروخت کرنا، درخت اُگانا اور تعمیرات کرنا۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ اُن کےپاس وقت نہیں تھا، اور خُدا کی باتوں پر توجہ کرنے کا رجحان نہیں تھا۔ وہ زمانہ وہ نہیں تھا جب لوگ دُعّا کیا کرتے تھے۔ اِس لیے 18 باب میں، مسیح نے کم ایمان کے زمانے میں مستقل دُعّا کے بارے میں بات کی تھی۔ لوقا 18:1 سے تعلق رکھتے ہوئے ڈاکٹر میکجی نے کہا،

      اُنہوں نے آخری ایام کو نوح کے [اور لوط] کے زمانے کے ساتھ جوڑا تھا، کہ وہ مشکل دن ہونگے – ایسے دِن جو ایمان کے لیے معاون نہیں ہونگے۔ اِس لیے وہ اُن سے اُن دِنوں میں ایمان کی زندگی کے بارے بات چیت کرتا ہے جو ایمان سے مُبرا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اِس لمحے انتہائی مناسب و معقول ہے۔ ہم اُن دِنوں میں رہ رہے ہیں، جیسا کہ اُنہوں نے اشارہ دیا، جب لوگوں کے دِلوں میں خوف کا احساس نہیں رہا۔ اِس تمثیل میں جو ہمارے پاس ہے وہ موجودہ وقت کے لیے دُعّا پر ایک معقول پیراگراف ہے۔ غور کریں کہ اُنہوں نے کہا یسوع چاہتا تھا کہ اِس تمثیل سے اُنہیں معلوم ہو؛ یعنی کہ اِسی وجہ سے لوگوں کو ہمیشہ دُعّا کرنی چاہیے اور ہمت نہیں ہارنی چاہیے (جے۔ ورنن میکجی،ٹی ایچ۔ ڈی۔، بائبل کے ذریعے Thru the Bible، تھامس نیلسن، 1983، جلد چہارم، صفحہ 326؛ لوقا 18:1 پر یاداشت)۔

چینی گرجہ گھر پر میرے دیرینہ پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِن Timothy Lin تھے۔ ڈاکٹر لِن بے شمار سیمنریوں میں علم الہٰیات اور بائبل کی زبانوں کے پروفیسر بھی تھے۔ ڈاکٹر لِن نے کہا کہ لوقا 18:8 ’’دُعّا میں ایمان کا حوالہ دیتی ہے۔ اور ہمارے خُداوند کا بیان ایک رنج و غم میں کہی ہوئی بات ہے کہ اُس کی کلیسیا اُس کی دوسری آمد کے آنے تک دُعّا پر ایمان کھو چُکی ہو گی‘‘ (ٹموتھی لِن، پی ایچ۔ ڈی۔، کلیسیا کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth، لاس اینجلز کا پہلا بپتسمہ دینے والا چینی گرجہ گھر، 1992 ، صفحات 94، 95)۔

میں اِس بات پر قائل ہوں کہ یہی تھا جو مسیح کے کہنے کا مطلب تھا جب اُس نے کہا،

’’ پھر بھی جب ابنِ آدم آئے گا تو کیا وہ زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘
       (لوقا 18:8).

اِس کا مطلب ہے کہ آخری ایام کی مادہ پرستی اور افراتفری میں، مسیحی مستقل دُعّا میں ایمان کھو دیں گے۔ اِس لیے مسیح نے تمثیل پیش کی تھی۔

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

اِس کا مطلب ہے کہ دُعّا کرتے رہنا مت چھوڑیئے کیونکہ جوابات ایکدم نہیں ملتے ہیں! یسوع نے کہا،

’’مانگو تو تمہیں دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے۔ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے لیے دروازہ کھول دیاجائے گا کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اُسے ملتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے اور جو کوئی کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے‘‘ (متی 7:7۔8).

اصلی یونانی زبان میں گرائم کے لحاظ سے زمانے کا جو استعمال کیا گیا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح کا مطلب ’’مستقل پوچھتے رہنا‘‘، ’’مستقل کھٹکھٹاتے رہنا‘‘، ’’مستقل تلاش کرنا‘‘ تھا۔ ولیم میکڈونلڈ نے کہا، ’’لہٰذا یہاں ہمیں ایک دعوت دی گئی ہے پوچھنے اور پوچھتے رہنے کی؛ تلاش کرنے اور تلاش کرتے رہنے کی، کھٹکھٹانے اور کھٹکھٹاتے رہنے کی‘‘ (ibid.، صفحہ 1228؛ متی 7:7، 8 پر یاداشت)۔

مسیح نے وعدہ کیا تھا کہ اِس طرح کی مستقل دُعّاؤں کو جواب دیا جائے گا۔ یسوع نے کہا، ’’یہ تمہارے لیے کھولا جائے گا‘‘ (متی 7:7)۔ اُس نے کہا، ’’یہ کھولا جائے گا‘‘ (متی 7:8)۔ ڈاکٹر جان آر۔ رائس John R. Rice نے کہا، مستقل دُعّا میں جواب کا ایک وعدہ ہے۔ اب بے انصاف قاضی کی تمثیل میں بیوہ بے دین قاضی کو پریشان کرتی تھی کہ بالاآخر اُس نے اُس کی سُنی... پھر وعدہ کیا ’ کیا خدا اپنے چُنے ہوئے لوگوں کا اِنصاف کرنے میں دیر کرے گا جو دِن رات اُس سے فریاد کرتے رہتے ہیں؟،‘ لوقا 18:7 (جان آر۔ رائس، ڈی۔ڈی۔، دُعّا: مانگنا اور پانا Prayer: Asking and Receiving، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers، اشاعت 1970، صفحہ 194)۔

میں اپنی دُعّاؤں کا جواب کافی عرصے تک مسلسل مانگنے کے بعد پا چکا ہوں۔ ستمبر 1961 میں جب میں مسیحی ہوا تھا اُس کے فوراً بعد سے میں نے تقریباً ہر روز خُدا سے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں حیات نو کے لیے دُعّا مانگنی شروع کر دی تھی۔ زیادہ عرصہ نہیں گذرا ڈاکٹر مرفی لم Dr. Murphy Lum نے مجھے یاد دلایا کہ میں ہر دفعہ جب بھی اُس گرجہ گھر میں دُعّا کے لیے بلایا جاتا تھا حیات نو کے لیے دُعّا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ جب مجھے کھانے پر فضل کے لیے دُعّا کا کہا جاتا تھا یا کسی اور بات کے لیے دُعّا کے لیے بُلایا جاتا تھا، جس کا حیات نو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا تھا، ڈاکٹر لم نے مجھے یاد دلایا کہ میں ہمیشہ حیات نو کے لیے دُعّا ضرور کرتا تھا۔ وہاں پر حیات نو کے لیے دُعّا شروع کرنے کے تقریباً آٹھ سال بعد، یہ آیا، ایک صبح بالکل اچانک جب ہم اوپر پہاڑوں میں ایک گرمیوں کا کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ بے شک، دوسرے بھی دُعّا کر رہے تھے۔ لیکن ڈاکٹر لم نے واضح کیا کہ میں نے مسلسل سالہا سال لگاتار دُعّا کرنی جاری رکھی تھی جب تک کہ خُدا کی قوت نیچے اُس گرجہ گھر پر حیات نو کا ایک عظیم سلسلہ بن کر نہیں آئی تھی۔

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

میں نے دُنیاوی بیوی کے لیے مسز ہائیمرز کے ملنے سے دس سال سے بھی زیادہ پہلے دُعّائیں مانگنی شروع کی تھیں۔ میں سالہا سال، دُعّا کرتا رہا کرتا رہا۔ پھر ایک رات میں مسز ہائیمرز سے مِلا۔ کچھ ہی دیر بعد میں جان گیا تھا کہ آخر کار خُدا نے میری ڈھیروں دُعّاؤں کا جواب دیا تھا۔

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

کوئی اُمید نظر نہیں آتی تھی کہ میری ماں کبھی نجات پائیں گی۔ خود میں شک کرتا تھا کہ یہ کبھی ہو سکے گا۔ لیکن میں دُعّا کرتا رہا کرتا رہا اور کرتا رہا۔ پھر ایک دوپہر کو، جب میں نیویارک میں تھا، خُدا نے میرے دِل سے بات کی اور کہا، ’’تمہاری ماں اب نجات پا جائے گی۔‘‘ کُچھ ہی دِنوں کے اندر ہی اندر ڈاکٹر کیگن نے میری ماں کو مسیح کے لیے راہنمائی دِلائی، اور وہ اَسّی سال کی عمر میں ایک شاندار مسیحی بن گئی۔

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

اِس کے باوجود، کئی مرتبہ، خُدا ہماری دُعّاؤں کا بہت جلد جواب دیتا ہے۔ ڈاکٹر رائس نےکہا، ’’بہت بہت مرتبہ خُدا اُن کی سُن لیتا ہے جو کسی مسئلے کے بارے میں ایک ہی مرتبہ دُعّا کرتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں‘‘ (ibid.، صفحہ 195)۔ گذشتہ بُدھ کو، جب میں روزے پر اِس صبح کا واعظ لکھ رہا تھا، میں نے اچانک مِٹ رومنی Mitt Romney کے لیے دُعّا کرنے کو محسوس کیا۔ اُس رات گورنر رومنی کو صدر اوباما کے لیے تقریر کرنی تھی۔ تعجب کی بات تھی کہ بار بار جب میں واعظ لکھ رہا تھا، میں نے مسٹر رومنی کے لیے دُعّا کرنا مسحوس کیا۔ خُبروں کی دُنیا میں ہر کسی نے اُن کے بارے میں لکھا تھا کہ وہ ہار گئے، یہ کہتے ہوئے کہ اُن کے پاس کوئی موقعہ نہیں تھا۔ خود میں بھی تمام اُمید ہار چُکا تھا کہ اُنہیں کوئی موقعہ ملے گا۔ لیکن یہ میں ہی تھا، جو اُس دِن بار بار اُن کے لیے دُعّا کیے جا رہا تھا۔ میں نے اُن کے لیے تفصیل سے دُعّا کی کہ وہ بالکل وہی جانیں جو اُنہوں نے کہنا ہے، کہ وہ پرسکون رہیں، کہ وہ باہمت اور اپنے آپ میں پُریقین نظر آئیں۔ پھر، تقریر کے شروع ہونے سے بالکل پہلے، میں نے دوبارہ اُن کے قوت سے بھرپور اور پرسکون ہونے کے لیے دُعّا کی تھی۔

اخباری دنیا میں ہر ایک کی حیرانگی کے لیے، گورنر رومنی، جب وہ تقریر کے لیے سٹیج پر چل کر گئے ایک نئے شخص کی مانند لگتے تھے ۔ خبروں کے دُنیا میں ہر کوئی اُن کی کارکردگی سے دنگ رہ گیا تھا۔ وہ حیرت زدہ رہ گئے تھے کہ رومنی نے بہت آسانی سے تقریر جیت لی تھی۔ تبصرہ نگار پیٹرک جے بُکیھنن Patrick J. Buchanan نے تین صدروں کے لیے بطور اسسٹنٹ کام کیا تھا۔ اِس کے باوجود مسٹر بُکیھنن نے فوکس نیوز Fox News میں کہا کہ اب تک اُنہوں نے جتنی بھی کارکردگیاں دیکھیں رومنی کی سب سے بہترین تھی! ہر کوئی انتہائی حیرت زدہ تھا! لیکن اُس رات کے آخر میں خُدا نے میرے دِل سے کہا، ’’میں نے آج تمہاری دُعّائیں سُن لی تھیں۔‘‘ مسٹر لی Mr. Lee نے مجھے بتایا کہ اُس دِن اُنہوں نے بھی مسٹر رومنی کے لیے دُعّا کی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ آیا رومنی انتخاب میں جیتیں گے، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ اُنہوں نے وہ تقریر میری دُعّا اور دوسروں کے دُعّاؤں کے جواب میں جیتی تھی۔ دُعّا ایک وسیلہ ہے جس کے ذریعے سے خُدا لوگوں کو برکت دیتا ہے۔ دُعّا کرتے رہنا مت چھوڑیے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ جواب آنے میں کتنی دیر لگتی ہے!

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

جان نیوٹن John Newton نے ’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace‘‘ لکھا تھا۔ اُنہوں نے حمدوثنا کا وہ گیت بھی لکھا تھا جو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے اِس واعظ سے پہلے گایا تھا،

آؤ، میری جان، تمہارا لباس تیار ہے،
   یسوع دُعّا کا جواب دینے سے پیار کرتا ہے؛
اُس نے خود تمہیں دُعّا کرنے کے لیے کہا ہے،
   اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا،
اِس لیے وہ تمہیں انکار نہیں کرے گا۔

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہوؤ؛
   اپنے ساتھ ڈھیروں دُعّائیں لے کر جاؤ؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔
   (’’آؤ، میری جان، تمہار لباس تیار ہے Come, My Soul, Thy Suit Prepare‘‘
     شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807)۔

اِس ہی سال کے شروع میں نے ہمارے گرجہ گھر میں چھ نوجوان لوگوں کے لیے دُعّا کرنی شروع کی تھی۔ وہ تمام چھ کے چھ ایک لمبے عرصے سے گرجہ گھر کے لیے آتے رہے تھے – اُن میں سے زیادہ تر کئی سالوں سے۔ اِس کے باوجود اُنہوں نے ابھی تک مسیح میں نجات نہیں پائی تھی۔ میری تبلیغ میں سے کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو اُن تک پہنچتا ہوا دکھائی دیتا ہو، یا اُنہیں تحریک دے سکے۔ ایسا کچھ بھی جو میں نے اُنہیں اکیلے میں کہا اُن کی مدد کرتا ہوا ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے میں اُن کے لیے سنجیدگی سے دُعّا کرنی شروع کرتا گیا، خُدا نے اچانک مجھ پر آشکارہ کیا کہ اُنہیں کیا کہنا ہے۔ یہ کچھ ایسا تھا جس کے بارے میں مَیں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن اچانک، اُن میں سے ایک نے مسیح میں نجات پا لی۔ پھر دو اور نے، اور پھر تین اور نے۔ یہ اِس قدر آسان لگا تھا۔ لیکن اِس سے پہلے یہ ناممکن لگتا تھا۔ وہ تمام چھ کے چھ بہت جلدی تین ہفتوں کے اندر ہی اندر مسیح میں نجات پا گئے تھے! یہ حیات نو کی ایک چھوٹی سے جھلک تھی! کیسا ایک معجزہ! مستقل دُعّا کرتے رہنے کا کیسا ایک جواب!

مجھے احساس ہوا کہ میں نے ’’کُھب کر دُعّا کی‘‘ تھی جیسا کہ پرانے وقتوں کے لوگ اِسے کہتے تھے۔ میں دُعّا کرتا رہا تھا جب تک کہ جواب نہیں آیا۔ یہ نوجوان لوگ اب مردوں میں سے زندہ ہیں! وہ تمام اب زندگی سے بھرپور ہیں، دوسروں کی نجات پانے کے لیے دُعّا کرتے ہوئے، اور گرجہ گھر میں نئے نوجوان لوگوں کے لانے کے لیے کام کرتے ہوئے! خُدا دُعّا کا جواب دیتا ہے! ہمت مت ہاریں! جب تک جواب نہیں مل جاتا دُعّا کرتے رہیں!

’’یسُوع چاہتا تھا کہ شاگردوں کو معلوم ہوکہ ہمّت ہارے بغیر دُعّا میں لگے رہنا چاہئے۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں یہ تمثیل سُنائی‘‘ (لوقا 18:1).

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہوؤ؛
   اپنے ساتھ ڈھیروں دُعّائیں لے کر جاؤ؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔

آج رات آپ یہاں ہیں، اور آپ نے ابھی تک مسیح میں نجات نہیں پائی ہے۔ ہم آپ کے لیے دُعّا کر رہے ہیں۔ آپ مجھے بار بار کہتے ہوئے سُن چکے ہیں کہ میسح نے آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کےلیے صلیب پر جان دے دی، اور کہ اُس نے اپنا قیمتی خون آپ کو تمام گناہ سے پاک صاف کرنے کے لیے بہایا۔ آپ مجھے بار بار کہتے ہوئے سُن چکے ہیں کہ یسوع مُردوں میں سے جسمانی طور پر جی اُٹھا، اور آسمان میں خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھنے کے لیے واپس اُٹھایا گیا، ایک اور وسعت میں، آپ کو زندگی دینے کے لیے۔ اِس کے باوجود اُمید کا یہ شاندار پیغام آپ کو ایک طلسماتی کہانی کی مانند لگتا ہے، جیسے کوئی ’’بے بنیاد کہانی‘‘ کی مانند ہو، جیسا کہ ڈاکٹر جے۔ گریشام میکیھن Dr. J. Gresham Machen نے اِس کے بارے میں لکھا۔ لیکن اب ہم دُعّا کررہے ہیں کہ خُدا اِن عظیم سچائیوں کو آپ کے دِلوں میں دہکتے کوئلوں کی مانند جلائے – کہ خُدا آپ کو گناہ کے تحت سزا میں لائے – اور آپ کو اپنے بیٹے خُداوند یسوع مسیح کی طرف کھینچے۔ اور ہم آپ کے لیے دُعّا کرتے رہنا نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ آپ یسوع مسیح میں نہ ہو جائیں، اور گناہ، موت اور جہنم سے اُس کے ذریعے سے بچائے نہ جائیں! خُدا کرے کہ آپ کے لیے ہماری دُعّاؤں کو خُدا جلد ہی پورا کرے! اور میں آج رات اپنے لوگوں سے کہتا ہوں، جان نیوٹن کے الفاظ میں،

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہوؤ؛
   اپنے ساتھ ڈھیروں دُعّائیں لے کر جاؤ؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔

’’جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہوؤ۔‘‘ اِسے گائیے!

جب تم بادشاہ کے حضور میں جا رہے ہوؤ؛
   اپنے ساتھ ڈھیروں دُعّائیں لے کر جاؤ؛
کیونکہ اُس کی قوت اور فضل ایسا ہے
   کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا،
کوئی بھی کبھی ضرورت سے زیادہ مانگ نہیں سکتا۔

ہمارے گرجہ گھر میں آتے رہنے والے کھوئے ہوئے نوجوان لوگوں کے لیے دُعّا کرتے رہیں، جب تک کہ خُدا اُنہیں یسوع کی طرف کھینچ نہ لے! دُعّا کرتے رہنا مت چھوڑیے! دُعّا کرتے رہیں جب تک کہ خُدا آپ کی دُعّاؤں کا جواب نہ دے دے! آمین!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
’’آؤ، میری جان، تمہار لباس تیار ہے Come, My Soul, Thy Suit Prepare‘‘
(شاعر جان نیوٹن John Newton، 1725۔1807)۔