Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بائبل کی پیشنگوئی میں اونگھتے ہوئے گرجہ گھر

SLUMBERING CHURCHES IN BIBLE PROPHECY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
23 ستمبر، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, September 23, 2012

دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی اور وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں
(متی 25:5).

آج صبح کی ہماری تلاوت پر میں نے کبھی کوئی واعظ نہیں سُنا ہے۔ اِس کے باوجود مجھے یہ ایک انتہائی اہم پیشنگوئی لگتی ہے۔ میں نے کئی سالوں تک اِس پر غور کیا ہے۔ بائبل پر غور و فکر کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے میرے پادری ڈاکٹر ٹیموتھی لِن Timothy Linنے کہا کہ ’’آخری ایام کے مسیحیوں نے [غور و فکر] کے بارے میں بالکل بُھلا دیا ہے... بہت دفعہ، بائبل پڑھنے کے فوراً بعد، ہم بھول جاتے ہیں جو ہم نے بالکل ابھی پڑھا ہوتا ہے۔ لیکن، اگر ہم اِس پیغام پر غور و فکر کریں... آہستہ آہستہ، ہم بائبل کی ہر آیت میں مفید نئی بصیرت پا لیں گے‘‘ (ٹیموتھی لِن، پی ایچ۔ ڈی۔، گرجہ گھر کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth ، پہلا بپتسمہ دینے والا چینی گرجہ گھر First Chinese Baptist Church ، 1992، صفحات 14، 15)۔

بہت دفعہ مبلغین فوراً اپنی تفسیروں کو پڑھنے لگ جاتے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ آیت کا مطلب کیا ہے۔ بعض اوقات یہ معاون ہوتا ہے۔ لیکن تفسیر کو دیکھنے سے پہلے، ہمیں حوالے کے بارے میں سوچنا چاہیے، اپنے ذہنوں میں دہرانا چاہیے، اور اُس پر غور و فکر کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، آج صبح جب ہم اپنی تلاوت کو پڑھتے ہیں، ہمیں ایک لمبے عرصے تک اِس پر سوچنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم نہیں جان پائیں گے کہ آج یہ کیوں ضروری ہے۔ پیوریٹن تبصرہ نگار میتھیو پُول Matthew Poole نے مکمل حوالے کی ایک عمدہ تفسیر پیش کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دس گرجہ گھر اعتراف کرتی ہوئی کلیسائیں ہیں۔ اُن میں سے آدھی تبدیل مسیح میں نجات پا گئیں ہیں اور دوسری آدھی نجات نہیں پاتی ہیں۔ لیکن وہ تمام کی تمام سو رہی ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ تمثیل [مسیح کے] آنے کے وقت کی بے یقینی سے انتظار کرنے کی ہوشیاری اور ذمہ داری کو ظاہر کرتی ہے‘‘ (مقدس بائبل پر میتھیو پُول کا تبصرہ Matthew Poole’s Commentary on the Holy Bible، جلد سوئم، سچائی کے علمبردار Banner of Truth، دوبارہ اشاعت 1990، متی 25:1۔13 آیت پر ایک یاداشت)۔

یہ اچھے نکات ہیں۔ لیکن میتھیو پُول سےکچھ رہ گیا جو ہماری تلاوت میں اشد ضروری ہے۔ شاید اُن سے یہ اِس لیے رہ گیا کیونکہ وہ کافی عرصہ پہلے 17ویں صدی میں رہ رہے تھے،اور یہ ان کے زمانے میں گرجہ گھروں کو بیان نہیں کرتی تھی۔ یا شاید اُن سے یہ بائبل کی پیشنگوئی سے متعلق اُن کے تعصب کی وجہ سے رہ گیا۔ معاملہ جو بھی ہو، اُن سے وہ رہ گیا جو میری نظر میں انتہائی اہم ظاہر ہوتا ہے، جو بائبل کے ورق میں سے اُچھل کر میرے ذہن میں آگیا جیسے ہی میں نے اِس تلاوت پر دھیان و گیان کیا۔

’’جبکہ دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘ (متی 25:5).

مسیح نے ایسا کیوں کہا تھا کہ ’’وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘؟ اِس کا مطلب ہے، وہ تمام کے تمام جو گرجہ گھر میں کھو گئے ہیں، اور وہ بھی جو نجات پائے ہوئے ہیں، جیسے ہی مسیح کی دوسری آمد کا وقت ہو گا اونگھتے اونگھتے سو جائیں گے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ پیشنگوئی کے اُستاد جیسے ہی یہ پڑھیں گے، اُن کی سانس پھول جائے گی، اور اِس پر بہت زیادہ باتیں کریں گے! اِس کے باوجود وہ نہیں کرتے ہیں۔ ایک پیشنگوئیانہ تبصرہ کہتا ہے، ’’یہ حقیقت کہ وہ تمام سو گئیں تھیں ’جب کہ دولہا کے آنے میں دیر ہو گئی‘ کلیسیائی دور کے دوران یہودیوں کی بے عملی کے وقت کے لیے لاگو ہوتا ہے، جبکہ دلہنوں کا مجتمع ہے۔‘‘ مضحِکہ خیز! اِس حوالے میں یہودی کے بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے! ایسا کچھ بھی نہیں! یہ واضح ہے کہ یہ حوالہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں دُنیا کے خاتمے اور مسیح کی دوسری آمد سے بالکل پہلے، گرجہ گھروں کے آخری ایام کے لیے ایک تنبیہہ پیش کرتا ہے۔ حوالہ پر غور و فکر کرنے سے، اور ہمارے گرجہ گھروں کی حالت پر نظر ڈالنے سے، یہ شیشے کے طرح واضح ہے کہ یہ اب ہم سے ہمارے دور میں بات کرتا ہے۔ ’’دُولہا‘‘ خُداوند یسوع مسیح ہے۔ جبکہ وہ اپنی دوسری آمد میں تاخیر کرتا ہے، آخری ایام میں زیادہ تر گرجہ گھر اونگھ اور سو رہے ہیں! یہ ہے جو اِس کا مطلب ہے! اور یہ ہے جو آج ہم اپنے گرجہ گھروں میں دیکھتے ہیں، خاص طور پر مغربی دُنیا میں۔

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

اِس بات پر بھی غور کریں کہ یہ رات کو ہوتا ہے، اور آدھی رات تک جاتا ہے۔ اِس لیے یہ آیت اُن مسیحیوں کی بات کرتی ہے جو رات کو جب جاگنا ہوتا ہے تو اونگھتے اور سو جاتے ہیں! اِس آخری دور کی پیشن گوئی کی واضح مثال اِس حقیقت میں اُجاگر ہوتی نظر آتی ہے کہ پوری مغربی دُنیا میں ہمارے گرجہ گھر اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں بند کر رہے ہیں!

اوہ، لیکن ہمیں وہ نہیں کہنا چاہیے! یہ شاید کسی کو پریشان کردے! بے چارے یہودی لوگوں پر الزام دھر دینا کافی محفوظ ہوتا ہے، جیسا کہ اِس تبصرے نے کیا۔ یہودیوں پر اِلزام دھرو، اُن سُست مبشران انجیل اور بپتسمہ دینے والوں کو کچھ نہ کہو جو اِتوارکی رات کو گرجہ گھر کے لیے نہیں جائیں گے! اگر آپ اُن پر اِلزام دھریں گے تو آپ مشکل میں پڑ جائیں گے! ٹھیک ہے، مجھے اِس کی پرواہ نہیں ہے اگر میں مشکل میں پڑ جاتا ہوں! یہی سچائی ہے – اور کسی کو تو یہ کہنی ہے! یہ آیت اُن سُست، اونگھتے بپتسمہ دینے والوں اور مبشرانِ انجیل کو بیان کرتی ہے جو اب مذید اِتوار کی رات کو گرجہ گھر نہیں جاتے ہیں! یہ آخری ایام کے نشانات میں سے ایک نشان ہے!

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

یہ ’’یہودیوں کی بے عملی کے دور کے لیے لاگو‘‘ نہیں ہوتی ہے۔ جی نہیں! بالکل بھی نہیں! یہ ’’یہودیوں کی بے عملی کے لیے لاگو‘‘ نہیں ہوتی ہے۔ جی نہیں! یہ مبشرانِ انجیل اور بپتسمہ دینے والوں کی بے عملی کو بیان کرتی ہے! یہی ہے جو اِس کی تشریح ہے!

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

ہم بہت سے غیر منطقی پیشنگوئیوں کے تبصروں کو دیکھ چُکے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ اُن سُست اونگھتے ہوئے بپتسمہ دینے والوں کی تشریح کرتی ہے جنہوں نے اپنے گرجہ گھر اِتوار کی رات کو بند کر دیے ہیں، کچھ روحانی بصیرت کی ضرورت ہے! پولوس رسول نے کہا،

’’... وقت بے وقت تیار رہ، بڑے صبر اور تعلیم کے ساتھ لوگوں کو سمجھا، ملامت اور نصیحت کر۔ کیونکہ ایسا وقت آرہا ہے کہ لوگ صحیح تعلیم کی برداشت نہیں کریں گے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق بہت سے اُستاد بنالیں گے تاکہ وہ وہی کچھ بتائیں جو اُن کے کانوں کو بھلا معلوم ہو‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:2،3).

’’کانوں کو لُبھانے والے‘‘ بائبل کے اُساتذہ آپ سے کہیں گے کہ یہ ’’یہودیوں کی بےعملی‘‘ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ کانوں کو لُبھانے والی تعلیم ہے۔ اور اِس میں ایک غیر سامی لہجہ ہے۔ لیکن یہ سچ بھی تو نہیں ہے۔یہ ٹھوس عقائد نہیں ہیں! تلاوت دُنیا کے آخر میں سُست، اونگھتے ہوئے بپتسمہ دینے والے مبشرانِ انجیل کے لیے لاگو ہوتی ہے جو اِتوار کی رات کو گرجہ گھر نہیں آتے ہیں! وقفہ۔ جملے کا اختتام۔

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

آئیے آج کسی کو یہ تبلیغ کرتے ہوئے سُنتے ہیں! خُدا جانتا ہے کہ ہمیں اِس قسم کی تبلیغ کی ضرورت ہے! اِس کی تبلیغ کریں ’’چاہے وہ اِسے سُنیں، یا چاہے وہ اِس سے باز رہیں، (کیونکہ وہ ایک سرکش خاندان ہیں)‘‘ (حزقی ایل 2:5)۔ ہر بپتسمہ دینے والے اور انجیل کی بشارت کرنے والے گرجہ گھر کے رُکن کو جو اِتوار کی رات کو گھر پر رُک جاتا ہے اُسے سُننا چاہیے کہ مسیح گرجہ گھروں کو کیا کہتا ہے،

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

چرچل نے کہا، جس قدر پیچھے آپ دیکھ سکتے ہیں، اُسی قدر آگے بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ اِسی لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماضی میں بڑے بڑے فرقوں کے ساتھ کیا ہوا جب اُنہوں نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں چھوڑ دیں۔ تاریخ دان ٹیموتھی ایل۔ سمتھ نے واضح کیا کہ 19ویں صدی میں گرجہ گھر کیسے تھے،

تمام بشارتِ انجیل کے فرقوں کو ضرورت تھی... دو دعائیہ عبادتوں کی ... اُن کے ساتھ ساتھ ہفتے کے دوران دعا کے لیے اجتماع کی... اِن تمام کاروائیوں کی پیروی کا آج انتہائی سنجیدگی کے ساتھ فقدان ہے (ٹیموتھی ایل۔ سمتھ، پی ایچ۔ ڈی۔، حیاتِ نو اور معاشرتی اصلاح: امریکی پروٹسٹنٹ مذہب کی پیروی خانہ جانگی کے عروج پر Revivalism and Social Reform: American Protestantism on the Eve of the Civil War، ہارپر، 1965، صفحہ 18)۔

آج بڑے بڑے فرقوں کے گرجہ گھر محض ایک سایہ ہیں اُس کا جو وہ کبھی تھے۔ سن 1900 میں 80 فی صد امریکی فرقہ وارانہ گرجہ گھر سے تعلق رکھتے تھے۔ 1958 میں ریاست ہائے متحدہ U.S. کے 50 فی صد بالغ فرقہ وار گرجہ گھروں سے تعلق رکھتے تھے۔ آج 13 فی صد تعلق رکھتے ہیں۔ ہم پریسبائی ٹیرئین، میتھوڈسٹ،لوتھرن، ایپیسکوپیلئین اور امریکی بپتسمہ دینے والوں کی بات کر رہے ہیں۔ آج اُن کی تعداد کیسے 80فی صد سے 13فی صد پر گِر گئی؟ پہلے اُنہوں نے اپنی شام کی عبادتیں چھوڑیں۔ پھر اُنہوں نے اپنی دعائیہ عبادتیں چھوڑیں۔ اب اُن کے پاس صرف چند ایک بوڑھے لوگ ہیں جو اِتوار کی صبح ایک گھنٹے کی عبادت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ مبشرانِ انجیل، جنوبی بپتسمہ دینے والے اور خودمختیار بپتسمہ دینے والے جنہوں نے اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں ختم کر دی ہیں اگلی چند دہائیوں میں اِسی نیچے کی جانب گردش کی پیروی کریں گے۔ اِتوار کی شام کی عبادتوں کو ختم کرنا تباہی کی پھسلتی ڈھلوان کی جانب پہلا قدم ہے۔

’’دُلہا کے آنے میں دیر ہو گئی، وہ سب کی سب اونگھتے اونگھتے سو گئیں‘‘
       (متی 25:5).

میں کیوں ایسے گرجہ گھروں کے بارے میں فکر مند ہوں جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادتیں بند کر رہے ہیں؟ مہربانی سے متی 24:11۔12 کھولئیے۔ یہ ایک اور پیشن گوئیانہ حوالہ ہے جس پر میں نے کئی سالوں تک غوروفکر کیا ہے۔ کھڑے ہوئیے اور اِسے باآوازِ بُلند پڑھئیے۔

’’اور بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبّت ٹھنڈی پڑجائے گی‘‘ (متی 24:11۔12).

آپ تشریف رکھیے۔

دوبارہ، کچھ پیشن گوئیوں کے ’’ماہرین‘‘ کہتے ہیں کہ یہ مستقبل میں یہودی لوگوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ لیکن یہ خود ایسا حوالہ میں کہاں کہا گیا ہے؟ یہ وہاں ہے ہی نہیں۔ اِس کو زبردستی مستقبل میں لے جانا، اور یہودی لوگوں سے منسلک کرنا، وہ دیکھتے ہی نہیں کہ یہ کیسے آج ہمارے پر لاگو ہوتا ہے۔ مگر یہ ہمارے گرجہ گھروں پر لاگو ہوتا ہے۔ متی 25:5 اور متی 24:11۔12 دو ایسے نشانات ہیں جو یسوع نے اِس دور کے اختتام کے بارے میں دیے۔متی 24:11 میں مسیح نے کہا،

’’بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے‘‘ (متی 24:11).

یہ جھوٹے نبی کون ہیں؟ ہم سوچا کرتے تھے کہ یہ جھوٹے مذاہب کے رہنما ہیں۔ لیکن میں اب سوچتا ہوں کہ وہ بالکل ٹھیک نہیں تھا۔ میں اب سوچتا ہوں کہ وہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو خُدا کی طرف سے تبلیغ کے لیے بُلائے بغیر ہمارے منبروں پر جمے کھڑے ہیں۔ ڈاکٹر لِن نے کہا،

      آخری ایام کے گرجہ گھروں میں ویرانی پادریوں کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اُن پادریوں کی زیادتی کی وجہ سے ہے جو خُدا کے بھیجے بغیر خدمت کر رہے ہیں [خُدا کی طرف سے بُلائے بغیر]۔ چونکہ وہ خُدا کی طرف سے بھیجے نہیں گئے ہیں، تو وہ کیسے اُمید کر سکتے ہیں کہ خُدا اُن کے لیے ذمہ دار ہو اور اُنہیں اپنا پیغام مہیا کرے؟ ناصرف خُدا ذمہ دار نہیں ہے، بلکہ شاید وہ اُن کے خلاف بھی ہو۔ ’’اِس لیے خُداوند فرماتا ہے، میں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو اِس خیال سے ایک دوسرے کا کلام چُراتے ہیں گویا وہ میرا ہے۔ اِس لیے خُداوند فرماتا ہے، کہ میں اُن نبیوں کے بھی خلاف ہوں جو محض اپنی زبان سے کچھ بولتے ہیں لیکن کہتے ہیں کہ خُداوند نے یوں فرمایا ہے‘‘ (ٹیموتھی لِن، پی ایچ۔ ڈی۔، گرجہ گھر کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth، ibid.، صفحات 21۔22؛ یرمیاہ 23:30۔31)۔

ڈاکٹر لِن نے کہا کہ آخری ایام کے گرجہ گھر اُن پادریوں کی وجہ سے ویران ہوئے ہیں جو کبھی بھی خدا کی طرف سے بُلائے یا بھیجے نہیں گئے تھے۔ اِس لیے اُن کے پاس خُدا کا پیغام نہیں ہوتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں گرجہ گھروں کو آج ایسے ہی لوگ چلا رہے ہیں۔ تو پھر، اِس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اِس کا نتیجہ اگلی آیت میں پیش کیا گیا ہے،

’’ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبّت ٹھنڈی پڑجائے گی‘‘
       (متی 24:12).

ہمارے گرجہ گھروں میں جھوٹے نبیوں کے پاس خُدا کی طرف سے کوئی پیغام نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف خشک آیت بہ آیت بائبل کا مطالعہ پیش کر سکتے ہیں۔ وہ خوشخبری پھیلانے والے انجیل کے واعظوں کو تبلیغ نہیں کرتے ہیں۔ وہ شاذو نادر ہی بائبل کی وضاحت اِس طریقے سے پیش کرتے ہیں کہ لوگوں پر کوئی اثر ہو۔ اُن کے گرجہ گھر اُن سے بھرے ہوتے ہیں جو کھوئے ہوئے ہوتے ہیں – اور وہ اُن کے بارے میں جانتے تک نہیں ہیں! ڈاکٹر لِن نے کہا، ’’جسمانی کو روحانی سے علیحدہ شناخت کرنے کی نا اہلیت‘‘ ہے جو گرجہ گھروں کو ’’قصوروں اور گناہوں میں مُردہ لوگوں‘‘ کے ساتھ بھرتی ہے (لِن، ibid.، صفحہ 39)۔ یوں جھوٹے نبی اپنے گرجہ گھروں کو مسیح میں نجات نہ پائے ہوئے لوگوں کے ساتھ بھرتے ہیں۔ یہ گرجہ گھروں کو بے دینی، گناہ اور شہوت پرستی کے ساتھ بھر دیتے ہیں۔ بے دینی بڑھتی ہے، اِس لیے حقیقی مسیحیوں کا پیار ٹھنڈا ہوتا جا رہا ہے۔ لفظ ’’پیار‘‘ ’’اگاپیاؤ agapeao ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ یہ صرف مسیحی پیار کے لیے ہی اشارہ دے سکتا ہے۔ آخری ایام میں چند بے چارے مسیحی ہی اِس قسم کی بے دینی کے غاروں میں اپنے پیار کو ٹھنڈا ہوتا ہوا دیکھ پا رہے ہیں۔

جھوٹے نبی خُدا کی طرف سے بھیجے نہیں گئے ہیں۔ وہ تو صرف تنخواہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جب تک اُنہیں اچھا معاوضہ مل رہا ہے، تب تک اُنہیں اُنکے لوگوں میں مسیحی رفاقت مہیا کرنے کے بارے میں سوچنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نا ہی اُنہیں اِس بات کی پرواہ ہے کہ آیا اُن کے لوگوں کو اتوار کو پوری خوراک ملتی ہے۔ اِسی لیے بہت سے گرجہ گھر اِتوار کی رات کو بند ہوتے ہیں۔ جھوٹے نبی گھر جانے کے لیے اور ٹی۔وی دیکھنے کے لیے خوش ہوتے ہیں۔ اُنہیں اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی ہے کہ اُن کے لوگ اِتوار کی رات کو مسیحی رفاقت کے لیے مر رہے ہیں؟ ’’اُنہوں نے مالی فائدے کی خاطر بلعام کی سی غلطی کی‘‘ (یہودہ 11)۔ وہ اپنی تنخواہ لیتے ہیں، گھر جاتے ہیں اور ٹی وی دیکھتے ہیں، اور اپنے نوجوان لوگوں کو اِتوار کی رات کو کہیں بھی نہ پہنچنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں!

’’بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبّت ٹھنڈی پڑجائے گی‘‘ (متی 24:11۔12).

تعجب کی کوئی بات نہیں اگر اب زیادہ تر گرجہ گھر اپنے 88 فی صد نوجوان لوگوں کو 25 سال کی عمر تک پہنچنےسے پہلے ہی کھو رہے ہیں! نوجوان لوگ اتوار ۔کی۔ صبح۔ ایک ۔گھنٹے کے سوتے ہوئے گرجہ گھر کے لیے نہیں ٹھہریں گے! یہ شاید درمیانی عمر کی ’’گرجہ گھر کی خواتین‘‘ کو صرف ایک چھوٹی سی اتوار کی صبح کی عبادت کرنے کے لیے خوش کرے۔ لیکن نوجوان لوگ ڈوبتے ہوئے جہاز سے چوہوں کی مانند بھاگتے ہیں! اوہ، گرجہ گھر اگلے مہینے نہیں ڈوبیں گے، لیکن اب سے 20سال بعد اُن گرجہ گھروں میں جو اپنی اِتوار کی شام کی عبادتوں کو بند کر دیں گے صرف مٹھی بھر ہی بوڑھے لوگوں سے بھرے ہونگے۔ کیا زیادہ تر مبلغین جو اُن گرجہ گھروں کو چلا رہے ہیں فکر کرتے ہیں؟ جی نہیں، اُن میں سے زیادہ تر پرواہ نہیں کرتے ہیں! اُن تمام میں زیادہ تر اپنی تنخواہ کے چیکوں کو حاصل کرنے کی پرواہ کرتے ہیں – جو ہفتے میں صرف ایک واعظ کی تبلیغ کے لیے اُنہیں ملتے ہیں! اُن کے لیے شرمندگی کی بات ہے!

جب اِتوار کی شام کو عبادت نہیں ہوتی ہے تو گرجہ گھر میں نوجوان لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ اپنے ساتھ وہ کیا کریں۔ اُن کے گرجہ گھر میں کوئی دوست بھی نہیں ہوتے ہیں، کیونکہ آپ حقیقی دوست اِتوار کی صبح ایک گھنٹے میں بنا ہی نہیں سکتے! جلد ہی وہ اُڑ جاتے ہیں اور گرجہ گھر کو چھوڑ دیتے ہیں۔ برنا رپورٹ کہتی ہے کہ گرجہ گھر کے 88فی صد بچے 25سال کی عمر کے ہونے سے پہلے ہی دور چلے جاتے ہیں – ’’کبھی واپس نہ آنے کے لیے‘‘۔ یہ بالکل دُرست ہے، رپورٹ کہتی ہے، ’’کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔‘‘ اُن کی روحیں تباہ ہو جاتی ہیں اُن گرجہ گھروں کی وجہ سے جو اپنے دروازے اِتوار کی رات کو بند کر دیتے ہیں!

’’بہت سے جھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے۔ بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبّت ٹھنڈی پڑجائے گی‘‘ (متی 24:11۔12).

کچھ مبلغین آدھی احتیاطی تدابیر کو اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اُنہیں شام کی عبادت کرنی چاہیے لیکن، سہولت کی خاطر، وہ صبح کے عبادت کے بعد کھانا دیتے ہیں اور اُس کے فوراً بعد دوسری عبادت کروا دیتے ہیں، اُنہی لوگوں کے گروہ کے ساتھ جو صبح کی عبادت میں آئے تھے۔ میں صبح کی عبادت کے بعد دوپہر کا کھانا دینے کے بالکل خلاف نہیں ہوں۔ حقیقت میں ہم خود اپنے گرجہ گھر میں ایسا کرتے ہیں۔ لیکن ہم دوپہر کے کھانے کے فوراً بعد دوسری عبادت نہیں کرتے ہیں۔

ایک شخص نے جو دوپہر کا کھانا تقسیم کرتا تھا جس کے فوراً بعد دوسری عبادت ہوتی تھی، مجھ سے کہا، ’’اِس طرح سے وہ جتنی چاہیں بائبل پڑھ سکیں گے اگر وہ بعد میں شام کو آتے ہیں، اور یہ مذید اور سہولت فراہم کرتا ہے کہ اُنہیں شام کو دوبارہ سفر کر کے اِتوار کی رات کی عبادت کے لیے نہیں آنا پڑتا ہے۔‘‘ یہ ایک اچھا آدمی ہے۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ وہ غلط ہے۔ مجھے سمجھانے دیجیے کہ کیوں۔

آپ دیکھیں کہ اِتوار کی رات کو عبادت کروانے کا مقصد محض یہ نہیں ہے کہ صبح آئی ہوئی جماعت کو ’’زیادہ بائبل کی تعلیم‘‘ دی جائے، جو کہ ایک اچھا مقصد ہے۔ حالانکہ میں اُس کے ساتھ بہت سی باتوں پر متفق نہیں ہوں، رِک وارن Rick Warre جانتے ہیں کہ یہ گرجہ گھر کو بڑھنے میں مدد فراہم نہیں کرتا ہے۔ اِسی لیے وہ اپنی ہفتے کے اختتام کی عبادت صبح کی عبادت ختم ہونے کے کئی گھنٹوں بعد کراتے ہیں۔ مسٹر وارن جانتے ہیں کہ آپ کو اِتوار کی شب کو عبادتوں میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔ کیوں؟

1.  کیونکہ بہت سے گرجہ گھر نا جانے والے لوگ اِتوار کو دِن کے وقت کام کرتے
ہیں اور صرف شام کو ہی آ سکتے ہیں۔

2.  کیونکہ نوجوان لوگ اِتوار کی رات کو کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

3.  کیونکہ یہ جا کر کھوئے ہوئے لوگوں کو لانے اور اُنہیں اِتوار کی رات کو
خُوشخبری سُننے کے لیے لانے کا ایک اور موقع فراہم کرتا ہے۔


اِس لیے، دوپہر سے کچھ پہلے کی ایک عبادت نئے لوگوں کو جیتنے کے لیے گرجہ گھر کی مدد نہیں کرے گی۔ صرف اِتوار کی رات کی عبادتیں یہ مقصد حاصل کرنے میں مدد کر سکتی ہیں!

جب میں بہت نوجوان تھا ہر بپتسمہ دینے والا گرجہ گھر اِتوار کی رات کو کُھلتا تھا! اوہ، ہم کس قدر پیار کرتے تھے! اوہ، ہم کس قدر گناہ کرتے تھے! پچپن سال پہلے میں ایک مغربی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا رُکن تھا جس میں نوجوان لوگوں سے بھری ایک جاندار عبادت اِتوار کی شام کو ہوتی تھی۔ پچاس سال پہلے میں ایک چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کا رُکن تھا۔ اِس کی تربیت دینے کی یونین تھی جو اِتوار کی رات کو نوجوان لوگوں کو تعلیم دیتی تھی۔ اِس کی جاندار اِتوار کی شام کی عبادت ہوتی تھی، جو نوجوان لوگوں سے بھری ہوتی تھی۔ اب یہ گرجہ گھر اِتوار کی شب کو بند ہوتے ہیں۔ آج، اِتوار کی رات کو نوجوان لوگ کہاں جاتے ہیں؟ بہت سے جدید مبلغین اپنے گرجہ گھروں کے دروازے بند کر دیتے ہیں، نوجوان لوگوں کو اِتوار کی رات کو باہر بند کر دیتے ہیں! خُدا ہماری مدد کرے! تعجب کی بات نہیں ہے اگر اب ہمارے گرجہ گھروں میں وہ اپنے 88 فی صد نوجوان لوگوں کو اُن کے ابتدائی بیس سالوں ہی میں کھو دیتے ہیں!

آج صبح آپ نوجوان لوگ یہاں پر مقدم ہیں۔ آپ کے پاس ایک شاندار برتری ہے اُن بے چارے تنہا نوجوان لوگوں کے مقابلے میں جو اُن گرجہ گھروں میں ہیں جو اپنے دروازے اِتوار کی رات کو بند کردیتے ہیں، اور اپنے بچوں کو باہر ٹھنڈ میں چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ بہت سے پادری اِتوار کی رات کو اپنے گرجہ گھروں کو بند کر رہے ہیں، آپ آج صبح یہاں ہیں ایک ایسے گرجہ گھر میں جو ابھی تک ایک شاندار ، جاندار اِتوار کی شام کو عبادت کرواتا ہے! خُدواند کی اِس کے لیے ستائش کریں! خُداوند کا اِس کے لیے شکریہ ادا کریں! اور آئیں اور آج شام کو 6:30 پر اِس سے محظوظ ہوں! ہم کچھ اچھے پرانے فیشن کے حمد و ثنا کے گیت گائیں گے۔ میں ایک جڑوں میں بیٹھ جانے والا بشارتِ انجیل کے واعظ دوں گا۔ پھر ہم اوپر کھانا کھانے کے لیے جائیں گے، ایک سالگرہ کی تقریب کریں گے، ایک پرانی مزاحیہ فلم دیکھیں گے، ہنسیں گے باتیں کریں گے اور اچھا شاندار وقت گزاریں گے – آج شام کو 6:30بجے! اِس موقع کو گنوائیے گا نہیں! آپ نئے دوست بنائیں گے اور ہمارے ساتھ ایک شاندار وقت گزاریں گے- شام کو 6:30 بجے! ہم آج رات کو رفاقت اور مزہ کریں گے – جیسا گرجہ گھر کیا کرتے تھے۔ ہم کبھی بھی ایسا کرنے سے نہیں رُکے تھے! ہم اب بھی اِتوار کی شب کو گرجہ گھر میں مزہ کرتے ہیں! آج شام کو 6:30 بجے اِس موقع کو مت گنوائیے گا!

میں نے اپنے گیت ’’رات کے کھانے کے لیے گھر آؤ‘‘ کا ایک نیا بند لکھا ہے۔ یہ ہے وہ نیا بند۔

اِتوار کی شام کو مبلغین پرواہ کرتے ہوئے ظاہر نہیں ہوتے ہیں،
   وہ اپنے گرجہ گھروں کو بند کر دیتے ہیں، اور مایوسی میں چلے جاتے ہیں،
لیکن آئیں اور ہمارے ساتھ رہیں، اور آپ جان جائیں گے،
   یہاں میز پر کھانا ہے، اور شراکت کے لیے دوستی ہے!
گرجہ اور کھانے کے لیے گھر آئیں، پیاری سی رفاقت کے لیے اکٹھے ہوں،
   یہ ایک عمدہ تقریب ہوگی، جب ہم کھانے کے لیے بیٹھیں گے!
(’’کھانے کے لیے گھر آئیں Come Home to Dinner‘‘ شاعر ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونئیر؛ بطرزِ
     ’’ایک فاختہ کے پروں پر On the Wings of a Dove‘‘)۔

آج رات میں ایک انجیلی واعظ دوں گا۔ میں کہوں گا کہ یسوع آپ کے گناہوں کا مکمل کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مر گیا۔ میں کہوں گا کہ یسوع جسمانی طور پر گوشت پوست کا،مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ میں کہوں گا کہ یسوع بالکل ابھی زندہ ہے، اوپر آسمان میں ایک اور وسعت میں۔ اور میں آپ کو ایک دعوت دیتا ہوں یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے اور اُس کے قیمتی خون سے پاک صاف ہونے کے لیے۔ پھر ہم اوپر جائیں گا اور رات کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ آج شام کو ہم 6:30پر ایک شاندار وقت گزاریں گے۔ اِس موقع کو ضائع مت کیجیے گا! گرجہ کے لیے گھر آئیں اور کھائیں – آج شام کو 6:30۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور میرا چھوٹا گیت گائیں۔ یہ آپ کے گیتوں کی کتاب پر سات نمبر ہے۔

یسوع کے پاس گھر آئیں، دسترخوان بِچھ چکا ہے؛
   کھانے کے لیے گھر آئیں اور آئیے روٹی توڑیں۔
یسوع ہمارے ساتھ ہے،اِس لیے یہ کہنے دیجیے،
   کھانے کے لیے گھر آئیں اور آئیے روٹی توڑیں!
گرجہ اور کھانے کے لیے گھر آئیں، پیاری سی رفاقت کے لیے اکٹھے ہوں،
   یہ ایک عمدہ تقریب ہوگی، جب ہم کھانے کے لیے بیٹھیں گے!

اِتوار کی شام کو مبلغین پرواہ کرتے ہوئے ظاہر نہیں ہوتے ہیں،
   وہ اپنے گرجہ گھروں کو بند کر دیتے ہیں، اور مایوسی میں چلے جاتے ہیں،
لیکن آئیں اور ہمارے ساتھ رہیں، اور آپ جان جائیں گے،
   یہاں میز پر کھانا ہے، اور شراکت کے لیے دوستی ہے!
گرجہ اور کھانے کے لیے گھر آئیں، پیاری سی رفاقت کے لیے اکٹھے ہوں،
   یہ ایک عمدہ تقریب ہوگی، جب ہم کھانے کے لیے بیٹھیں گے!

رفاقت پیاری ہے اور آپ کے دوست یہاں ہونگے؛
   ہم میز پر بیٹھیں گے، ہمارے دِل خوشی سے بھرپور ہونگے۔
یسوع ہمارے ساتھ ہے،اِس لیے یہ کہنے دیجیے،
   کھانے کے لیے گھر آئیں اور آئیے روٹی توڑیں!
گرجہ اور کھانے کے لیے گھر آئیں، پیاری سی رفاقت کے لیے اکٹھے ہوں؛
   یہ ایک عمدہ تقریب ہوگی، جب ہم کھانے کے لیے بیٹھیں گے!
(’’کھانے کے لیے گھر آئیں Come Home to Dinner‘‘ شاعر ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونئیر؛ بطرزِ      ’’ایک فاختہ کے پروں پر On the Wings of a Dove‘‘)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ متی 25:1۔13 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
’’ایسے وقتوں کے دوران In Times Like These ‘‘ (شاعر روتھ کائی جونز Ruth Caye Jones، 1902۔1972)۔