Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیحیوں کی سب سے بڑی جنگ

THE CHRISTIAN’S GREATEST BATTLE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
19 اگست، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, August 19, 2012

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدّسوں کے لیے بِلاناغہ دُعّا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

میں نے افسیوں 6:12۔17 میں جنگجو کی بکتر پر بہت سے واعظ سُن چُکا ہوں۔ لیکن مجھے کوئی ایسا یاد نہیں ہے جو مکمل طور پر پولوس رسول نے کلام کے اِس حصّے کے بارے میں جو باتیں کیں اُنہیں گرفت میں لیتا ہوں۔ میں نے شاید ایسا کوئی سُنا ہو، لیکن مجھے وہ یاد نہیں ہے۔ اِس حوالے کو مکمل طور پر سمجھنے کےلیے، ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایک خاص وجہ کے لیے خُدا کا بکتر پہن لو – ’’تاکہ تم ابلیس کی چالبازیوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:11)۔ افسیوں 6:11 اور 12 میں لفظ ’’خلاف‘‘ پانچ مرتبہ ظاہر ہوا۔ اپنی تلاوت سے ہم دُعّا کے بارے میں تین عظیم سچائیاں سیکھتے ہیں جو ہمارے دشمن شیطان کو شکست دیں گی۔

1۔ اوّل، مسلسل اور مستقل دُعّا کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں شیطان ضرور ہے۔

ہمیں شیطان کے ’’خلاف‘‘ مقابلہ کرنے کو کہا گیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم خون اور گوشت یعنی انسان کے ’’خلاف‘‘ کُشتی اور لڑائی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم لڑ رہے ہیں ’’علاقوں‘‘ کے ’’خلاف‘‘، ’’قوتوں‘‘ کے ’’خلاف‘‘، ’’اِس دُنیا کی تاریکی کے حکمرانوں کے خلاف‘‘، ’’اعلٰی جگہوں میں روحانی بدکاریوں کے خلاف‘‘، یہ شیاطین کی مختلف اقسام ہیں جو صرف اور صرف دُعّا کے ذریعے سے ہی ہرائی جا سکتی ہیں۔ افسیوں 6:12 آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جے ورنن میکجی نے کہا،

      ہم ایک روحانی جنگ میں ہیں۔ شیطان نے میدانِ جنگ میں اپنے غلام درجہ بندی کے لحاظ سے صف آرا کر دیے ہیں۔ یہ کہتی ہے کہ اگر ہمیں اُن کے خلاف لڑنا ہے۔ یہ بات کرتی ہے بدکاریوں کی روحانی طاقتوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی... ہمارے اِردگرد ایک شیطانی دُنیا ہے اور موجودہ لمحے میں یہ اپنے آپ کو عیاں کر رہی ہے... ہم نے دشمن کو شناخت اور اُس کے مقام کو جان لیا ہے۔ یہ دشمن روحانی ہے۔ یہ شیطان ہے جو اپنی اِن شیطانی قوتوں کی سربراہی کرتا ہے۔ ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ یہ جنگ کہاں ہے۔ میرے خیال میں گرجہ گھر نے روحانی جنگ کی بصیرت کو انتہائی حد تک کھو دیا ہے (جے۔ ورنن میکجی، ٹی ایچ۔ڈی۔،J. Vernon McGee, Th.D. بائبل کے ذریعےThru the Bible ، تھامس نیلسن پبلشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحات 279۔280؛ افسیوں 6:12 آیت پر ایک یاداشت)۔

چاہے آپ کو یہ معلوم ہو یا نہ ہو، ہم شیطان اور اُس کی بدروحوں کے خلاف ایک بہت بڑی جنگ میں ہیں۔ کوئی بھی ایسا طریقہ نہیں ہے کہ ہم یہ جنگ خود اپنی قوت کے ذریعے سے جیت جائیں۔ ہمیں ایمان کے ساتھ خُدا کا مکمل بکتر زیبِ تن کرنا چاہیے – اور پھر باہر جاکر شیطان اور اُس کی بدروحوں کے خلاف لڑنا چاہیے۔ عظیم اصلاح کار مارٹن لوتھر Martin Luther (1483۔1546)کو شیطان کے بارے میں بہت کچھ کہنا تھا۔ میں کچھ اشعار اُن کی مشہور حمد و ثنا کی نظم میں سے اُٹھا رہا ہوں جو اُنہوں نے شیطان کے بارے میں لکھی،

کہ ابھی تک ہمارا قدیم دشمن ہے،
   جو ہماری بدقسمتی کی طرف تلاش جاری رکھتا ہے؛
اُس کی کاری گری اور قوت بہت بڑی ہے،
   اور وہ ظالم نفرت سے بھرا ہوا ہے،
زمین پر اُس کی برابری کوئی نہیں کر سکتا۔

اور بےشک یہ دُنیا شیاطین سے بھر گئی ہے،
   جو ہمیں نقصان پہنچانے کی دھمکی دیتے ہیں،
ہم خوف نہیں کریں گے، کیونکہ خُدا کہہ چکا ہے
   کہ خُدا کی سچائی ہمارے ذریعے سے ظاہر ہوگی...
(’’خُداوند ہمارا عظیم قلعہ ہےA Mighty Fortress Is Our God ‘‘
      شاعر مارٹن لوتھر Martin Luther، 1483۔1546)۔

لیکن ہم کیسے شیطان اور اُس کی میزبان بدروحوں پر فتح پا سکتے ہیں؟ ماسوائے دُعّا کی قوت کے اور کوئی راہ نہیں ہے! دُعّا جنگ ہی ہے! ہم شیطان اور بدروحوں کے خلاف دُعّا میں لڑتے ہیں!

’’خدا کے دیئے ہُوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم اِبلیِس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو‘‘ (افسیوں 6:11).

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدّسوں کے لیے بلا ناغہ دعا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

دشمن شیطان اور اُس کی بدروحیں ہیں۔ ہم دُعّا میں اُن کے خلاف جاتے ہیں۔ دُعّا ہی جنگ ہے!

مجھے دعا کرنا سیکھا، خُداوند، مجھے دعا کرنا سیکھا؛
   یہی دِن اور رات میرے دِل کی پُکار ہے؛
میں تیری مرضی اور تیری راہ کا منتظر ہوں؛
   مجھے دعا کرنا سیکھا، خداوند، مجھے دعا کرنا سیکھا۔
(’’مجھے دعا کرنا سیکھا Teach me to Pray، شاعر البرٹ ایس۔ ریٹسز
Albert S. Reitz ، 1879۔ 1966)

یوں، ہم دیکھتے ہیں کہ مسلسل اور مستقل دعا کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں ایک شیطان ہے۔ شیطان طاقتور ہے اور وہ کبھی آرام نہیں کرتا ہے۔ اگر ہم مستقل دعا کو نظر انداز کر دیں گے تو شیطان ہمیں کھوئے ہوؤں کو بچانے سے جیتنے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے گا اور اُنہیں ہمارے گرجہ گھر میں شمولیت سے روکنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ ہے پہلا مقصد – مسلسل دُعّا ضروری ہے نہیں تو ہماری انجیلی بشارت ہمارے گرجہ گھر میں پائیدار مسیح میں تبدیلی لوگوں کو پیدا نہیں کرے گی۔

2۔ دوئم، مسلسل اور مستقل دُعّا کرنا ضروری ہے کیونکہ جس کی ہمیں ضرورت ہے اُسے پانے کا واحد ذریعہ یہ ہی ہے۔

یعقوب رسول نے اِس بات کو بالکل صاف کیا جب اُس نے کہا،

’’کچھ ہاتھ نہیں لگتا کیونکہ تم خُدا سے نہیں مانگتے’‘ (یعقوب 4:2).

یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ کیوں ہماری انجیلی بشارت صرف چند ایک ہی حقیقی مسیح میں تبدیل شُدہ لوگ پیدا کرتی ہے جو گرجہ گھر میں ٹکتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ محض چند ایک ہی مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں؟ ’’کچھ ہاتھ نہیں لگتا کیونکہ تم خُدا سے نہیں مانگتے۔‘‘ مسلسل اور مستقل دُعّا کو نظرانداز کرنا ہی وہ وجہ ہے کہ ہمارے پاس مسیح میں تبدیل شُدہ اور لوگ نہیں ہیں جو ہمارے گرجہ گھر میں ہی رہیں۔

رسولوں نے دعا کو اپنی منادی کا سب سے اہم حصہ بنایا۔ جب کلیسیا کے روزمرّہ کے کاموں کا بوجھ اُن پر زیادہ پڑتا تھا، تو رسول کہتے،

’لیکن ہم تو دعا کرنے اور کلام سُنانے میں مشغول رہیں گے‘‘ (اعمال 6:4).

’’ہم دعا کرنے میں مشغول رہیں گے۔‘‘ پولوس رسول نے کہا کہ اُس کا زیادہ تر وقت دعا کرنے میں گزرتا تھا۔ اُس نے کہاکہ اُس نے تسالونیکیوں میں کلیسیا کے لیے ’’دِن اور رات انتہائی دعائیں‘‘ کیں (1۔ تسالونیکیوں 3:10 صفحہ نمبر 219)۔ اُس نے تیموتاؤس کو بتایا، ’’کہ تجھے رات اور دِن اپنی دعاؤں میں یاد کرتا ہوں‘‘ (2۔تیموتاؤس 1:3)۔

اپنی مسلسل اور مستقل دعا کی عادت کی وجہ سے پولوس رسول مسیح کی مثال کی پیروی کر رہا تھا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ مسیح،

’’…صبح سویرے جب کہ اندھیرا ہی تھا، یسُوع اُٹھا اور گھر سے باہر ایک ویران جگہ میں جاکر دعا کرنے لگا‘‘ (مرقس 1:35).

ہمیں دوبارہ بتایا گیا ہے کہ مسیح،

’’… وہ دعا کرنے کے لیے ایک پہاڑ پر گیا، اور رات بھر خدا سے دعا کرتا رہا‘‘ (لوقا 6:12).

الفاظ ’’دُعّا کرنا‘‘ اور ’’دُعّا‘‘ چاروں اناجیل میں مسیح کی پیش کی گئی زندگی کے چھوٹے سے ریکارڈ میں کم از کم 25 مرتبہ استعمال کیے گئے ہیں۔اور اُس کی دعا کا تذکرہ بے شمار دوسری جگہوں پر کیا گیا ہے جہاں الفاظ ’’دعا‘‘ اور ’’دعا کرنا‘‘ استعمال کیے گئے ہیں۔ ایک آدمی یا عورت جو اپنا زیادہ تر وقت دعا میں نہیں گزارتے ہیں وہ پولوس رسول اور مسیح کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔

یسوع کے آسمان میں خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر واپس اُٹھائے جانے کے بعد، اُس نے ہمارے لیے اپنا دعا کا عظیم کام شروع کر دیا۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ،

’’جو لوگ اُس کے وسیلہ سے خدا کے پاس آتے ہیں وہ اُنہیں پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ اُن کی شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں 7:25).

مسیح ہمیں بچانے کے قابل ہے، صرف اِس لیے نہیں کیونکہ وہ صلیب پر مرا تھا، بلکہ اِس لیے بھی کیونکہ وہ آسمانوں میں رہتا ہے اور ہمارے لیے مسلسل دعا کر رہا ہے۔ وہ ’’ہماری شفاعت کے لیے‘‘ زندہ ہے، ہمارے لیے دعا کرنے کے لیے زندہ ہے۔ آج سب سے اہم بات جو یسوع کر رہا ہے وہ دعا ہے۔ ہم بچائے گئے ہیں کیونکہ یسوع ہمارے لیے دعا کر رہا ہے۔ پولوس رسول نے کہا کہ مسیح’’جو خُدا کے دائیں طرف موجود ہے، ہماری شفاعت بھی کرتا ہے‘‘ (رومیوں 8:34)

اگر آپ اور میں مسیح کے ساتھ رفاقت رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی زیادہ تر وقت دعا میں گزارنا چاہیے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ مسیحیت بہت عرصہ پہلے نابود ہو چکی ہوتی اگر مسیح ہمارے لیے دعا نہ کر رہا ہوتا۔ چین میں تقریباً ایک ملین مسیحی تھے جب 1950 کی دہائی کے آغاز میں اشتراکیت پسندوں نے تمام غیر مُلکی مشنریوں کو نکال باہر کیا تھا۔ لیکن آج چین میں ایک سو ملین سے بھی بہت زیادہ مسیح موجود ہیں۔ دھشت اور ایذارسانیوں کے باوجود جو اشتراکیت پسند مسیحیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے، گذشتہ 60 سالوں میں چین میں مسیحیوں کی تعداد میں 10,000 فی صد اضافہ ہو چُکا ہے۔ یہ کبھی بھی ممکن نہ ہوا ہوتا اگر مسیح ’’اُن کی شفاعت کے لیے‘‘ آسمان میں نہ رہ رہا ہوتا (عبرانیوں 7:25)۔

چین میں جو کچھ ہوا ہے وہ مسیح کی دعاؤں کا نتیجہ ہے، اور آزاد دُنیا میں بھی ہزاروں لوگوں کی دعاؤں کی وجہ سے ہوا ہے۔ اور خُدا ہمیں، اور ہر جگہ دعائی جنگجوؤں کو جو شفاعتی دعاؤں کی منادی میں ہیں یسوع کے ساتھ رفاقت میں شمولیت کے لیے بُلاتا ہے۔ اگر ہم اپنے گرجہ گھر میں مذید اور زیادہ مسیح میں تبدیل شُدہ نوجوان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم خُدا کے پاس دعا میں تنہا جانے کے لیے وقت نکالیں، اور بہت زیادہ وقت نکالیں۔ ہمیں یہ روز کی عادت بنا لینی چاہیے کہ اُن کے لیے دعا کریں جنہیں ہم مسیح میں تبدیلی کے لیے بُلاتے ہیں۔ دعا کریں کہ خُدا آپ کو ایک دعائی جنگجو بنائے، جو اپنا زیادہ تر وقت اُن کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے دعا میں گزارے جنہیں ہم مسیح میں تبدیلی کے لیے گرجہ گھر لےکر آتے ہیں۔ تاریخ میں تمام عظیم مسیح میں لوگوں کو جیتنے والے دعا کرنے والے مرد اور عورتیں تھیں۔ وہ ایک دوسرے سے بہت طریقوں سے مختلف تھے۔لیکن وہ ایک بات میں اِس طرح سے ایک جیسے تھے – وہ تمام وہ مرد اور عورتیں تھیں جنہوں نے کھوئے ہوؤں کو مسیح میں بچانے کے لیے بہت وقت گزارا۔

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدّسوں کے لیے بلا ناغہ دعا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

دعا میں طاقت، خُداوندا، دعا میں طاقت،
   یہاں گناہ کی زمین کے درمیان اور دکھ اور نگہبانی میں؛
لوگ کھو رہے ہیں اور مر رہے ہیں، لوگ مایوسی میں ہیں؛
   اوہ مجھے طاقت دے، دعا میں طاقت!

اِسے گائیے!

دعا میں طاقت، خُداوندا، دعا میں طاقت،
   یہاں گناہ کی زمین کے درمیان اور دکھ اور نگہبانی میں؛
لوگ کھو رہے ہیں اور مر رہے ہیں، لوگ مایوسی میں ہیں؛
   اوہ مجھے طاقت دے، دعا میں طاقت!

3۔ سوئم، مسلسل اور مستقل دعا کرنا ضروری ہے کیونکہ ضرورت کے وقت میں ہماری مدد کے لیے رحم اور فضل پانے کا یہی راستہ ہے۔

عبرانیوں 4:16 میں رسول کے الفاظ ہمیں ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری انجیلی بشارت کے کام میں مدد کے لیے رحم اور فضل کیسے پایا جائے،

’’ لہٰذا ہم خدا کے فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ وہ ہم پر رحم کرے اور ہم اُس فضل کو حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہمارے کام آئے‘‘ (عبرانیوں 4:16).

یہ آیت اِس قدر اہم ہے کہ میں چاہوں گا کہ آپ اِسے کلامِ پاک میں سے کھولیں۔ یہ عبرانیوں 4:16 ہے۔ یہ سیکوفیلڈ بائبل کے مطالعے کے صفحہ نمبر 1294 پر ہے۔ مہربانی سے کھڑے ہوئیے اور اِسے پڑھئیے۔

’’ لہٰذا ہم خدا کے فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ وہ ہم پر رحم کرے اور ہم اُس فضل کو حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہمارے کام آئے‘‘ (عبرانیوں 4:16).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں دکھاتی ہے کہ ’’ضرورت کے وقت میں مدد کے لیے‘‘ رحم اور فضل حاصل کیا جائے۔ یہ یقیناً ہمارے گرجہ گھر میں ’’ضرورت کا وقت‘‘ ہے۔ اب ہم داخل ہو رہے ہیں جسے میں ’’خزاں کی تیار فصل کاٹنے کا موسم‘‘ کہتا ہوں۔ جب ہم خزاں کے موسم میں داخل ہوتے ہیں تو ہم ہمیشہ بہت زیادہ نوجوان لوگوں کو ہماری انجیلی بشارت کی کوششوں سے لے کر آتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے بہت سے جو ہمارے ساتھ گرجے کے لیے آتے ہیں کبھی نجات نہیں پاتے یا ہمارے گرجہ گھر میں نہیں آتے۔ یہ مایوس کُن ہے۔ ہم اِس کے بارے میں سوچنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن یہی ہے جو سال بہ سال ہوتا رہا ہے۔ صرف چند ایک ہمارے ساتھ رہ جاتے ہیں جب خزاں کی تیار فصل کاٹنے کا موسم گزر جاتا ہے۔ اگر حالات اِسی طرح چلتے رہے تو اُن میں سے چند ایک ہی کرسمس تک ہمارے ساتھ ہونگے۔ یاد رکھیے، کرسمس کا موسم جلد ہی آنے والا ہے – شاید آپ کی سوچ سے بھی بہت پہلے۔ کرسمس کو موسم محض 17 ہفتوں میں شروع ہو جائے گا۔ یہ چند ہفتے ہمارے سامنے سے اِس قدر جلدی سے گزر جائیں گے کہ یہ محض چند دِنوں کی بات لگے گی! یقین کریں یانا کریں، کرسمس تقریباً یہاں آ پہنچا ہے! ہمارے پاس نئے لوگوں کو اپنے گرجہ گھر میں لانے کے لیے محض یہی چند دِن رہ گئے ہیں۔ صرف چند ایک ہفتوں میں خزاں کا موسم ختم ہو جائے گا۔

کیا ہم اُن میں سے زیادہ تر کو کھو دیں گے جنہیں ہم لائیں گے؟ ہم تقریباً ہمیشہ ایسا کرتے ہیں۔ کیا اِس سال بھی ایسا ہی ہوگا؟ ایسا ہی ہوگا اگر شیطان کو اپنی چال چلنے کا موقع مل گیا! شیطان نہیں چاہتا کہ آپ بیدار اور چوکنا ہوں۔ شیطان نہیں چاہتا کہ آپ اِس بارے میں فکر مند ہوں۔ شیطان چاہتا ہے کہ آپ سوئے ہوئے اور سُست ہوں – تاکہ وہ اُن تمام کو چھین کر لے جائے جنہیں ہم خزاں کی تیار فصل کی کٹائی کے موسم میں لے کر آتے ہیں۔ لیکن خُدا آپ کو بیدار رہنے کے لیے بُلا رہا ہے۔ خُدا آپ کو چوکنا رہنے کے لیے بُلا رہا ہے۔ خُدا آپ کو اُن کھوئے ہوئے نوجوان لوگوں کی شدید، مسلسل، مستقل دعا کے لیے بُلا رہا ہے۔ شیطان کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کلام کی آیت کی فرمانبرداری کریں،

’’ لہٰذا ہم خدا کے فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ وہ ہم پر رحم کرے اور ہم اُس فضل کو حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہمارے کام آئے‘‘ (عبرانیوں 4:16).

پورے سال میں ہمارے گرجہ گھر کے لیے یہ سب سے اہم وقت ہے! یہ ہماری ’’ضرورت کا وقت‘‘ ہے! یہ وقت ہے کہ جس میں ہمیں خُدا کے رحم اور فضل کی ضرورت ہے! یہ وقت ہے جب ہمیں خُدا کی مدد کی ضرورت ہے! ’’آئیے ہم خُدا کے فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں‘‘ کھوئے ہوؤں کے لیے گہری، مسلسل مستقل دعا کرتے ہوئے! شیطان کو یہ جنگ مت جیتنے دیں! ہمارے ساتھ جنگ میں شامل ہوں، ’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدّسوں کے لیے بِلاناغہ دُعّا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18)۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اُن کے لیے جنہیں ہم آئیندہ چند ہفتوں کے دوران لائیں گے انتہائی بھرپور قوت کے ساتھ اور بہت ارادے کے ساتھ دعا کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کہیں، ’’میرے لیے دعا، دعا، دعا ضروری ہے۔ میں اپنی تمام قوت اور دِل دعا کرنے میں ضرور لگاؤں گا۔ میں چاہے جو کچھ بھی کروں، میں دعا ضرور کروں!‘‘ میں چاہتا ہوں کہ آپ کم ازکم ہر ایک دِن 15 منٹ ضرور دعا میں گزاریں۔ ابھی سے تدبیر کریں کہ ہر روز کھوئے ہوؤں کے لیے کم از کم 15 منٹ ضرور نکالیں گے!

دعا میں طاقت، خُداوندا، دعا میں طاقت،
   یہاں گناہ کی زمین کے درمیان اور دکھ اور نگہبانی میں؛
لوگ کھو رہے ہیں اور مر رہے ہیں، لوگ مایوسی میں ہیں؛
   اوہ مجھے طاقت دے، دعا میں طاقت!

آپ میں سے وہ تمام جو کم از کم 15 منٹ روزانہ میرے ساتھ مل کر کھوئے ہوؤں کے لیے اِس موسمِ خزاں کی تیار فصل کی کٹائی کے دوران دعا کریں گے، مہربانی کر کے ابھی یہاں سامنے آ جائیں، اور مسٹر لی Mr. Lee اور مسٹر بیب آؤٹ Mr. Bebout آپ کے لیے دعا کے لیے آئیں گے، کہ آپ کھوئے ہوؤں کے لیے روزانہ دعا کے اِس وعدے کو نبھائیں گے۔ ابھی فوراً آئیں، جبکہ وہ بند اکٹھے گاتے ہیں!

دعا میں طاقت، خُداوندا، دعا میں طاقت،
   یہاں گناہ کی زمین کے درمیان اور دکھ اور نگہبانی میں؛
لوگ کھو رہے ہیں اور مر رہے ہیں، لوگ مایوسی میں ہیں؛
   اوہ مجھے طاقت دے، دعا میں طاقت!

(دُعّا) آپ تشریف رکھ لیں۔

اب میں اُنہیں جو ہمارے گرجہ گھر میں نئے ہیں ایک اور بات بتانا چاہتے ہوں۔ مسیح آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور آپ کے لیے دعا کرنے کے لیے واپس آسمان میں اُٹھایا گیا۔ مسیح میں ایمان کے ساتھ آئیں اور وہ آپ کے گناہوں کو معاف کرے گا اور آپ کو دائمی زندگی دے گا۔ اور چاہے آپ کچھ بھی کریں، اِس بات کو یقینی بنائیں کہ اگلے اِتوار گرجے کے لیے یہاں واپس آئیں! خُداوند آپ کو برکت دے! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan افسیوں 6:10۔18.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مجھے دعا کرنا سیکھائیں Teach Me to Pray ‘‘ (شاعر البرٹ ایس۔ رِیٹز Albert S. Reitz ، 1879۔1966).

لُبِ لُباب

مسیحیوں کی سب سے بڑی جنگ

THE CHRISTIAN’S GREATEST BATTLE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’پاک روح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منّت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مُقدّسوں کے لیے بِلاناغہ دُعّا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18)۔

(افسیوں 6:11)

I۔   اوّل، مسلسل اور مستقل دعا کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں
ایک شیطان ہے، افسیوں 6:11، 18 ۔

II۔  دوئم، مسلسل اور مستقل دعا کرنا ضروری ہے کیونکہ جس کی ہمیں ضرورت ہے اُسے پانے کا
واحد ذریعہ یہ ہی ہے، یعقوب 4:2؛ اعمال 6:4؛
1۔تسالونیکیوں 3:10؛ 2۔تیموتاؤس 1:3؛ مرقس 1:35؛ لوقا 6:12؛
عبرانیوں 7:25؛ رومیوں 8:34 ۔

III۔ سوئم، مسلسل اور مستقل دعا کرنا ضروری ہے کیونکہ
ضرورت کے وقت میں ہماری مدد کے لیے رحم اور فضل پانے کا یہ ہی راستہ ہے،
عبرانیوں 4:16 ۔