Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نجات کا ایک بے خطا ثبوت

AN INFALLIBLE PROOF OF SALVATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
22جولائی، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, July 22, 2012

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم بھائیوں سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ جو محبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

جیسے ہی میں واعظ پر کام شروع کرنے لگتا ہوں میں تقریباً ہمیشہ کی طرح پہلے درست تلاوت کرنے سے شروع کرتا ہوں، اور دوسرے نمبر پر، واعظ سے پہلے گانے کے لیے، ہمارے اکیلے گانے والے، مسٹر گریفتھ کے لیے حمدوثنا کا گیت تلاش کرتا ہوں۔ اِس تلاوت کے معاملے میں مَیں مجبور ہوگیا تھا کہ وہ ’’مبارک ہو وہ بندھن جو باندھتا ہے Blest Be the Tie that Binds‘‘ والا گیت ہی گائیں۔ میں ایک اور حمدوثنا کا گیت استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن میں کوئی تلاش نہ کر پایا۔ جدید حمدوثنا کے تمام سینکڑوں گیتوں میں، مَیں ایک بھی تلاش نہ کر سکا جو مسیحیوں کا ایک دوسرے کو پیار کرنے کے خیال کو پوری طرح سے پیش کر پائے! میں نے اپنے دِل میں شدید درد اور گہرے دُکھ کے ساتھ اپنی تلاش ختم کی تھی۔ میں نےسوچا، ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آج ہمارے گرجہ گھروں میں مسیحی پیار اور رفاقت کے بارے میں اتنے کم گیت گائے گئے ہیں؟ جس وقت میں یہ سوچ رہا تھا، یوں ظاہر ہوا کہ جیسے خُداوند کی روح نے یسوع کے یہ انبیانہ الفاظ میرے ذہن میں ڈال دیے،

’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث، کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘
      (متی 24:12)۔

مسیح نے یہ ’’دنیا کے آخر‘‘ کے نشانوں میں اسے ایک کے طور پر کہا (متی 24:3)۔ کیا ہم اب تاریخ کے اُس دور میں ہیں؟ کیا ہم اِس دور کے آخر کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، قیامت کے آنے سے بالکل پہلے؟ ہر نشان یہ اشارہ دیتا ہوا ظاہر ہوتا ہے کہ ہم اُس دور میں ہیں – کہ اس بدکار نسل پر خُدا کا قہر گرنے کے قریب ہے۔ شاگردوں نے پوچھا، ’’تیری آمد اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے؟‘‘ (متی 24:3)۔ نشانات کے درمیان میں جو مسیح نے اِس سوال کے جواب میں کہا یہ تھا،

’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث، کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘
      (متی 24:12)۔

یہاں کوئی غلطی نہ کیجیے گا، متی 24:12 میں لفظ ’’محبت‘‘ کا ترجمہ اور ہماری تلاوت میں لفظ ’’محبت‘‘ کا ترجمہ دونوں یونانی لفظ ’’آگاپے agape‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جارج ریکر بیری George Ricker Berry نے کہا یہ اشارہ کرتا ہے ’’احساسات کی محبت‘‘ کے لیے، پُرجوش جبلتی چاہت‘‘ کے لیے (نئے عہد نامے کی یونانی۔انگریزی لغت Greek-English New Testament Lexicon)۔ نئے عہدنامے میں لفظ آگاپے انسان کے لیے خُدا کے پیار کو دکھانے کے لیے اور ایک دوسرے کے لیے مسیحیوں کے پیار کو دیکھانےکے لیے استعمال ہوا ہے۔ آگاپے مسیحی پیار اور مسیحی رفاقت کی بات کرتا ہے۔

مجھ سے سابقہ پادری، ڈاکٹر تموتھی لِن Dr. Timothy Lin ، بائبل کی زبانوں میں ایک ماہر تھے، ایک مذہبی درسگاہ کے پروفیسر اور بعد میں تائیوان میں ایک سیمنری کے صدر رہے تھے۔ آگاپے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر لِن نےکہا، ’’ایک دوسرے کوپیار کرنا اور ہمارے خُداوند یسوع میں یقین کرنا برابر کی اہمیت کے ہیں۔ ہمارے خُداوند میں یقین کرنا بالکل ضروری ہے، اور ایک دوسرے سے پیار کرنا بھی بالکل ضروری ہے. . . خُدا کرے کہ آخری ایام کی کلیسیا اِس کے بارے میں تین مرتبہ سوچے‘‘ (تموتھی لِن، پی ایچ. ڈی.، کلیسیا کے بڑھنے کا راز The Secret of Church Growth، لاس اینجلز کا پہلا بپتسمہ دینے چینی گرجہ گھرFirst Chinese Baptist Church of Los Angeles، 1992، صفحات 28، 29)۔

جو ڈاکٹر لِن نے کہا وہ بالکل سچ ہے! مسیح میں ایمان کو قائم رکھنا، اور دوسرے سچے مسیحیوں کی جانب محبت، برابر کی اہمیت کے ہیں، کیونکہ یہ ہماری تلاوت میں اکٹھے موجود ہیں،

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم بھائیوں سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ جو محبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

اِس تلاوت میں دو اہم خیالات ہیں۔ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہونا بھائیوں سے محبت کے ذریعے سے ثابت ہوتا ہے، اور وہ جو بھائیوں سےمحبت نہیں کرتے ہیں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ابھی تک موت کے شکنجے میں ہیں۔ پھر میں ایک تیسرے نقطے کا اضافہ کروں گا کہ آپ کے لیے زندگی پانے کے لیے کیا ہونا ضروری ہے۔ آئیے اِس کو ذرا زیادہ نزدیکی سے دیکھتے ہیں۔

1۔ اوّل، کیا ثابت نہیں کرتا کہ آپ کے پاس زندگی ہے۔

گرجہ گھر کی عبادتوں میں شامل ہونا ثابت نہیں کرتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی ہے۔ ہر اتوار کو ہزاروں لوگ گرجہ کی عبادت میں شمولیت کرتے ہیں جن کے پاس زندگی نہیں ہے۔ موت سے زندگی میں داخل ہونا اشارہ کرتا ہے تجدید کے لیے، نئے سرے سے پیدائش کے لیے۔ ڈاکٹر گِل Dr. Gill نے درست کہاکہ موت سے زندگی میں داخل ہونانئے سرے سے پیدائش کی طرف اشارہ کرتا ہے، ’’جو گناہ میں مُردہ گنہگاروں کو نئی زندگی بخشنے کے لیے ہے، اِس گناہ کی موت میں سے اُن کا دوبارہ جی اُٹھنا اور اُن میں فضل اور زندگی [پانے] کا بیج بویا جانا. . . اور یہ ایک سے دوسرے میں داخل ہونا خود اُن کے ذریعے سے نہیں ہے، یہ خود اُن کا اپنا عمل نہیں ہے؛ کوئی شخص اپنے آپ کو زندگی نہیں بخش سکتا، یا اپنے آپ کو مُردوں میں سے زندہ کر سکتا ہے. . . ہم خُدا باپ کی طرف سے ترجمانی کرتے ہیں، جو موت اور تاریکی کی قوتوں سے چُھٹکارہ دلاتا ہے، اور اپنے پیارے بیٹے کی بادشاہت میں ترجمانی کرتا ہے، جو نور اور زندگی کی ایک حالت ہے جبکہ وہ موت میں مُردہ تھا، وہ اب زندہ ہے؛ اور دوسری چیزوں کے درمیان یہ بھی اِسی طرح سے جانا جائے گا، کیونکہ ہم نے اپنے بھائیوں سے محبت کی: یہ موت سے زندگی میں داخل ہونے کی وجہ نہیں ہے، لیکن اُس کا اثر ہے، اور اِس لیے اُس کا ایک ثبوت ہےاور جو اپنے آپ ایک نئے سرے سے پیدا ہونے والے انسان میں کسی بات کو جتنی جلدی ہو سکے ظاہر کرتا ہے؛ نا ہر کوئی مقدسین سے باحیثیت بھائیوں کے محبت کر سکتا ہے، جب تک کہ وہ دوبارہ پیدا نہ ہواُسے خُدا کے بچے کے طور پر پیار کرنے کےلیےکوئی انسان نہیں کر سکتا ہے، جب تک کہ اُس نے [نئے سرے سے جنم میں] خُدا کا فضل نہ پا لیا ہو‘‘ (جان گِل John Gill، ڈی۔ڈی۔، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد سوئم، صفحات 640؛ 1۔ یوحنا 3:14

اِس لیے، میں دہراتا ہوں، گرجہ گھر کے رُکن بننے اور گرجہ گھر کی عبادتوں میں شمولیت کرنے سے ثابت نہیں ہوتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی ہے، ثابت نہیں کرتا ہے کہ آپ نے نئے سرے سے جنم لیا ہے۔ اِس وجہ سے آخری ایام میں گرجہ گھروں کے ہزاروں ممبران ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے ہیں۔ اور اُن میں سے بہت سے تو اپنے پادری سے نفرت کرتے ہیں۔ اِن مسائل کی جڑ اِس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اُنہوں نے سرے سے کبھی دوبارہ جنم لیا ہی نہیں ہے!

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم بھائیوں سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ جو محبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

اصل میں، وہ جو اپنے گرجہ گھروں میں ایک دوسرے کے ساتھ عداوت رکھتے ہیں اُن کا شمار خُدا کی حضوری میں خونیوں کے برابر کیا جاتا ہے،کیونکہ رسول نے کہا،

’’جو کوئی اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہے وہ خونی ہے: اور تم جانتے ہو کہ کسی خونی میں ہمیشہ کی زندگی کا نام تک نہیں ہوتا‘‘ (1۔ یوحنا 3:15).

پھر، بھی، بائبل کو جاننے اور اُس پر یقین کرنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ آپ نے نئے سِرے سے جنم لیا ہے، موت سے زندگی میں داخل ہوئے ہیں۔ شیطان ’’نجات کا منصوبہ‘‘ جانتا ہے اور اِسے بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔ چاروں اناجیل میں بدروحوں کے واقعات میں اِس سے زیادہ واضح اور کوئی بات نہیں ہے۔ وہ جانتی تھیں کہ یسوع کون تھا۔ وہ قیامت کے ہونے کے بارے میں جانتی تھیں۔ شیطان تو یاداشت سے پاک کلام کے حوالے بھی دھرا سکتا ہے، جیسا کہ اُس نے کیا جب اُس نے بیابان میں مسیح کی آزمائش کی تھی۔ دراصل بدروحیں بےشمار گرجہ گھر کی اراکین سے زیادہ تیزطرار ہوتی ہیں۔ ’’شیاطین بھی یقین کرتے اور تھرتھراتے ہیں‘‘ (یعقوب 2:19). کتنے گرجہ گھر کے اراکین ’’تھرتھراتے‘‘ ہیں؟ اِس طرح، بےشمار مسیحی کہلائے جانے والوں کے مقابلے میں شیاطین کے پاس زیادہ روحانی بصیرت ہے! یوں، بائبل کوجاننا اور اُس پر یقین کرنا اور نجات کا منصوبہ کوئی ضمانت نہیں ہیں کہ آپ بچائے گئے ہیں۔

پھر ، بھی، ’’گواہی‘‘ کے الفاظ پیش کرنے کے قابل ہونا نجات کا ثبوت نہیں ہے۔ شمعون میگس Simon Magus اپنی گواہی سے فلپس مبلغِ انجیل کو بے وقوف بنانے کے لیے کافی چالاک تھا (اعمال 8:13). لیکن پطرس رسول فلپس کے مقابلے میں زیادہ عقلمند تھا۔ جو وہ سامریہ آیا تھا، تو پطرس نے شمعون سےکہا، ’’خُدا کے نزدیک تیرا دِل صاف نہیں ہے‘‘ (اعمال 8:21). حالانکہ شمعون نے گواہی کے الفاظ اِس قدر قائل کرنے والے انداز میں دئیے ہونگے کہ فلپس نے اُسے بپتسمہ دے دیا، اِس کے باوجود اُس کے پاس ایک غیرتبدیل شُدہ دِل تھا۔ اُس کے غیرمحفوظ شُدہ دِل نے اُس میں ’’طاقت‘‘ پانے کے لیے خواہش پیدا کی، لوگوں کو قابو کرنے اور اُنہیں اپنی مرضی پر چلانے کی چاہت پیداکی (اعمال 8:19)۔ آج بہت سے غیر محفوظ شُدہ مبلغ اِسی طرح کے ہیں۔ اُن کے پاس اُن کے لوگوں کے لیے کوئی آگاپے محبت نہیں ہے۔ وہ صرف اُنہیں اپنی مرضی پر چلانا چاہتے ہیں اُنہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ’’گواہی‘‘ کے الفاظ پیش کر سکتے ہیں جیسے شمعون جادوگر نے کیے تھے، لیکن اِس سے اُنہیں قیامت کے روز کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بے شک وہ کہتے ہیں، ’’خُداوندا، اے خُداوند، کیا ہم نے تیرے نام کی تبلیغ نہیں کی ہے؟‘‘ – اِس کے باوجود مسیح اُن سے کہے گا، ’’میں تم سے کبھی واقف نہ تھا: تم جو بدکاری کرتے ہو، میرے سامنے سے دور ہو جاؤ‘‘ (متی 7: 22۔23)۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ نجات کی گواہی کوئی یقینی ثبوت نہیں ہے کہ کوئی بچایا جاتا ہے۔

اِس کے علاوہ، یہ سوچنا کہ آپ بچائے گئے ہیں کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آپ نئے سِرے سے جنم کے حقیقی تجربے میں موت سے زندگی میں داخل ہو گئے ہیں۔ اِس شہر کی سڑکوں پر اوپر اور نیچے جائیں اور لوگوں سے پوچھیں کہ آیا وہ بچائے گئے ہیں، یا آیا کہ وہ جب مر جائیں گے تو کیا جنت میں جائیں گے۔ تقریباً وہ تمام جو دہریے نہیں ہیں (جو کہ تقریباً ہر کوئی ہے) آپ سےکہیں گے وہ بچائے گئے ہیں۔ تقریباً ہر کالا شخص کہے گا کہ وہ بچایا گیا ہے۔ تقریباً ہر ہسپانوی مبشرِ انجیل نجات کا دعٰوی کرے گا۔ یہی بات بہت سے ایشیائی مبشرانِ انجیل کے لیے درست ہوگی۔ اور یہ بہت کم ہوگا کہ کوئی سفید فام یہ نہ سوچتا ہو کہ وہ بچایا گیا ہے! گالپ Gallup کی رائے شماری کے مطابق 74 % امریکی لوگ مسیح کے لیے بعیت کا دعٰوی کرتے ہیں۔ اِس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیوں، یہ ثابت کرتا ہے کہ اُن میں سے بےشمار دھوکا کھا چکے ہیں – یہ ہے جو ثابت ہوتا ہے! بائبل کہتی ہے،

’’بدکار، دھوکہ باز لوگ فریب دیتےدیتے اور فریب کھاتے کھاتے بگڑتے چلے جائیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:13).

آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ بھی دھوکا کھا چکے ہیں؟ اِن باتوں میں سے کوئی بھی جن کامیں نے تذکرہ کیا ثابت کرتی ہیں کہ آپ کے پاس زندگی ہے، کہ آپ نئے سِرے سے جنم میں موت سے زندگی میں داخل ہو گئے ہیں۔

2۔ دوم ، کیا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی ہے۔

جب آپ خود سے سوال پوچھتے ہیں، ’’کیا میرے پاس زندگی ہے؟‘‘ آپ اِس کا جواب کیسے دیتے ہیں؟ کچھ اشارہ کردیں گے ایک دعا جس کا جواب مِلا تھا، یہ سوچتے ہوئے کہ دعا کا جواب مِلنا ثبوت ہے اِس بات کا کہ اُنہوں نے دوبارہ جنم لے لیا ہے۔ لیکن یہ ایسا نہیں ہے۔ اِس سے پہلے کہ میں بچایا گیا تھا، خود میری بھی دعاؤں کے جواب مِلے تھے ۔ وہ آدمی جس نے کہا، ’’خُدا گنہگاروں کی نہیں سُنتا‘‘ (یوحنا 9:31)۔ خود کھویا ہوا تھا۔ وہ صرف فریسیوں کے اعتقاد کو دہرا رہا تھا۔ وہ اُس وقت تک نہیں بچایا گیا تھا جب تک کہ اُس نے مسیح پر بھروسہ نہ کیا اور ’’اُس کی پرستش‘‘ نہ کی (یوحنا 9:38)۔ اگر خُدا کبھی بھی کھوئے ہوئے انسان کی دعاؤں کو نہیں سُنتا ہے، تو پھر کوئی بھی رحم کے لیے خُدا کا نام لینے سے بچایا نہیں جا ئے گا۔

’’ کیونکہ جو کوئی خداوند کا نام لے گا نجات پائے گا‘‘ (رومیوں 10:13).

لیکن زندگی کے اور بھی ثبوت ہیں، اور وہ جو ہماری تلاوت میں دیا گیا ہے بہت مضبوط ہے،

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم مَوت سے نکل کر زندگی میں داخل ہوگئےہیں۔ کیونکہ ہم بھائیوں سے محّبت رکھتے ہیں۔ جو محّبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

آپ شاید ایک مسیح سے محبت کرتے ہیں کیونکہ وہ آپ کے لیے کچھ اچھا کر چکا ہے، یہاں تک کہ اگر آپ بچائے نہیں گئے ہیں۔ لیکن کسی کو محض اِس لیے پیار کرنا کہ وہ خُدا کا بچہ ہے اور مسیح کا رُکن ہے تو کوئی بھی روحانی موت کی حالت میں ایسا نہیں کر سکتا ہے۔

گرجہ گھر میں نوجوان لوگ جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ جب اُن میں سے کچھ مذہبی طور پر تبدیل ہوئے تھے اور حقیقی مسیحی بنے تھے، تو وہ تجربے سے جان گئے تھے کہ دوسرے جو بچائے نہیں گئے ہیں، اُن سے دور چلے گئے اور اُن کی طرف مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ جو مذہبی طور پر تبدیل ہو گیا ہے اُس پر اب وہ جو کھوئے ہوئے ہیں بھروسہ نہیں کرتےہیں۔ وہ اب اُسے لائقِ بھروسہ نہیں سمجھتے ہیں۔ وہ اب گرجہ گھر کے کھوئے ہوئے نوجوانوں کے لیے قریبی دوست نہیں رہا۔

یہ کوئی نیا نہیں ہے۔ ابھی پچھلے ہی دِن مَیں اُنیسویں صدی کے آغاز میں، دوسری عظیم بیداری کے دوران ایک نوجوان لوگوں کے گروہ کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ وہ جنہوں نے نجات پائی تھی اُن کے پرانے دوستوں نے جنہیں تجدید نو نے چھوا بھی نہیں تھا اُن سے اِجتناب کر لیا تھا۔ گرجہ گھر میں وہ جو موت سے زندگی میں داخل ہوئے تھے اُن کے پرانے ساتھی اُنہیں تھوڑا عجیب سمجھتے تھے۔ لیکن اگر کافی نوجوان لوگ ایک جماعت میں مذہبی طور پر مسیح میں تبدیل ہوتے ہیں، تو آپ آخر کار دیکھیں گے کہ وہ جو چند جن میں کوئی زندگی نہیں ہے چھوٹے گروہ میں اکٹھے ڈر سے دُبکے بیٹھے ہوں گے، اُن سے اپنے آپ کو جتنا ممکن ہو سکے بچا رہے ہوں گے جو نجات پا چکتے ہیں۔

جب ایک نوجوان آدمی جسے میں جانتا ہوں پہلی دفعہ بچایا گیا تھا، اُس نے گرجہ گھر میں کھوئے ہوئے نوجوان لوگوں سے اپنے آپ کو الگ رکھنا چُنا۔ اِس کے بجائے اُس نے اپنی رفاقت کا وقت اُن بوڑھے آدمیوں کے ساتھ گزارا جو مذہبی طور پر مسیح میں تبدیل ہو چکے تھے۔ یہ اُس نے ایسا اِس لیے نہیں کیا تھا کیونکہ اُسے ایسا کرنے کے لیے کسی نے کہا تھا۔ اُس نے ایسا کیا تھا کیونکہ وہ خُدا کی روح سے منور ہو گیا تھا۔ اُس نے جبلتی طور پر جان لیا تھا کہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اِس قسم کے نوجوان لوگوں کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے کہ اُن سے علیحدہ ہو جائیں جو دُنیاوی ہیں اور کھوئے ہوئے ہیں۔ قدرتی طور پر، وہ کھوئے ہوؤں سے علیحدہ ہو جائیں گے اور کھوئے ہوئے اُن سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ علیحدگی اتنی ہی واضح ہوگی جتنی کہ قائن اور ہابل کے بیچ میں تھی۔

’’یہ وہ پیغام ہے جو تُم نے شروع سے سُنا کہ ایک دُوسرے سے محّبت رکھّو۔ قائن کی مانند نہ بنو جو اُس شریر سے تھا۔ اُس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ اور کیوں قتل کیا؟ اِس لیے کہ اُس کے تمام کام بدی کے تھے، مگر اُس کے بھائی کے راستبازی کے تھے۔ لیکن بھائیو! اگر دُنیا تُم سے دشمنی رکھتی ہے تو تعجب نہ کرو‘‘ (1۔ یوحنا 3:11۔13).

اگر آپ گرجہ گھر میں بہترین مسیحیوں سے محبت کرتے ہیں تو یہ ایک نشان ہے کہ آپ موت سے زندگی میں داخل ہو گئے ہیں، اِس لیے نہیں کہ وہ آپ کے لیے کچھ خاص کرتے ہیں، بلکہ آپ انہیں پیار محض اُنہی کی خاطر کرتے ہیں۔ یہ ایک یقینی نشان ہے کہ آپ ایک حقیقی مسیحی ہیں جب خُدا کے لوگوں کو پیار کرتے ہیں جبکہ دُنیا اُس سے نفرت کرتی ہے – جب آپ اُن کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور جب اُنہیں ستایا جاتا ہے اور تہمتیں لگائیں جاتی ہیں تو آپ اُن کے ساتھ بدنامی برداشت کرتے ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں، ’’تو، آپ اِس مسیحی پر حملہ کرتے ہیں، کیا آپ کرتے ہیں؟ میں بھی اِسی خاندان میں سےایک ہوں، اِس لیے اگر تم اِس پر اِلزام لگا رہے ہیں، تو مجھ پر بھی لگائیں۔ میں اِس کی حمایت میں ہوں اور اِس خُدا کے بچے کے ساتھ توہین سہنے میں شریک ہوں جو آپ کرتے ہیں۔‘‘ اگر آپ دوسرے مسیحیوں کو اِسی طرح پیار کرتے ہیں، تو آپ کو خوفزدہ ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ آپ موت سے زندگی میں داخل ہو گئے ہیں! (’’محبت سے زندگی ثابت کی گئی Life Proved by Love ‘‘ سے توضیح، مصنف سی۔ ایچ۔ سپرجئین، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سےThe Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، 1976، جلد XLIV، صفحات 81۔83).

گرجہ گھر کی تقسیم کے دوران ایسی باتیں اکثر واضح ہو جاتی ہیں۔ وہ جو اچھے مسیحیوں سے نفرت کرتے ہیں ایک طرف ہونگے۔ اور وہ جو اچھے مسیحیوں سے محبت کرتے ہیں دوسری طرف ہونگے۔ اِسی لیے پرانے وقتوں کے بزرگ گرجہ گھر کی اِس طرح کے بٹوارے کو ’’پچھلے دروازے کی تجدید نوback-door revival ‘‘ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ کافی دردناک ہوتی ہے، وہ جو پچھلے دروازے سے باہر جاتے ہیں اکثر گرجہ گھر کو مسیح میں غیرتبدیل شُدہ گرجہ گھر کے اراکین سے چھٹکارہ دلاتے ہیں۔ گرجہ گھر کا بٹوارہ یہ آشکارہ کرتا ہے کہ اُن میں سے بہت سے کبھی بچائے ہی نہیں گئے تھے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُنہوں نے ایمان کا کون سا اقرار کیا تھا۔ زیادہ تر یہ سچ ہوتا ہے کہ وہ غیر محفوظ شُدہ ہوتے ہیں جو جاتے ہیں۔ جیسا کہ یوحنا رسول لکھتا ہے،

’’یہ لوگ ہم ہی میں سے نکلے ہیں، لیکن دل سے ہمارے ساتھ نہیں تھے؛ اگر وہ ہوتے تو ہمارے ساتھ ہی رہتے، اب جب کہ یہ لوگ ہم میں سے نکل گئے ہیں‘‘ (1۔ یوحنا 2:19).

بہت سوں نے چھوڑا کیونکہ وہ کبھی موت سے زندگی میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے – اور اِس لیے وہ بھائیوں سے محبت نہیں کر سکے! اُن کے ساتھ اُن میں زندگی نہیں تھی! 1959 سے شروع ہوں تو میں نے یہ بےشمار گرجہ گھروں کے بٹواروں میں دیکھا ہے۔

3۔ سوم ، موت سے زندگی میں داخل ہونے کے لیے آپ کے ساتھ کیا ہونا چاہیے۔

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم مَوت سے نکل کر زندگی میں داخل ہوگئےہیں، کیونکہ ہم بھائیوں سے محّبت رکھتے ہیں۔ جو محّبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

موت سے زندگی میں داخل ہونے کے لیے جس کی ہم توقع کرتے ہیں بالکل متضاد ہے۔ یہ مرنا نہیں ہے۔ یہ اُس کا اُلٹ ہے – یہ زندگی بخشنا ہے، مُردوں میں سے زندہ ہونا ہے۔ پولوس رسول اِس کے بارے میں بتاتا ہے جب اُس نے کہا،

’’تمہارے قصوروں اور گناہوں کی وجہ سے تمہارا حال مُردوں کا سا تھا‘‘
      (افسیوں 2:1).

کیسے مُردوں میں سے یہ ’’زندگی بخشنا‘‘ رونما ہوتا ہے؟ درجِ ذیل نقاط اکثر رونما ہوتے ہیں جب کسی کی زندگی خُدا کی روح کے ذریعے سے بخشی جاتی ہے۔ یہ نقاظ اخذ کیے گئے ہیں انیسویں صدی کے ایک مشہور سکاٹ لینڈ کے تجدید نو کے مبلغ رابرٹ میورے میکچین Robert Murray McCheyne سے۔ (اینڈریو اے۔ بونار Andrew A. Bonar کی کتاب میں سے، سوانحِ میکچین Memoirs of McCheyne، موڈی اشاعت خانہ، اشاعت 1978، صفحات 251۔253).

اوّل، خُدا کی روح روحانی طور پر مردہ گنہگار کو اُس سے سرزد ہوئے گناہوں کو اُسے دکھاتی اور محسوس کراتی ہے۔ اِس سے پہلے کہ آپ اپنے تمام گناہوں کو بھلاتے ہیں۔ ہر روز آپ مذید اور گناہ جمع کر لیتے ہیں جو آپ کے خلاف خُدا کی کتاب میں درج ہو جاتے ہیں (مکاشفہ 20:12)۔ لیکن آپ کو وہ یاد نہیں رہتے۔ اِس کے باوجود جب خُدا کی روح آتی ہے تو آپ کو وہ یاد آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ کب کے بُھلائے ہوئے گناہ آپ کے ذہن میں اُجاگر ہوتے ہیں، اور آپ داؤد کے ساتھ کہیں گے،

’’بے شمار مصیبتوں نے مجھے گھیر لیا ہے: میرے گناہوں نے مجھے آ پکڑا ہے، یہاں تک کہ میں دیکھ نہیں سکتا؛ وہ میرے سر کے بالوں سے بھی زیادہ ہیں: اور میرا دل میرے اندر ٹوٹ چکا ہے‘‘ (زبُور 40:12).

دوئم، پاک روح آپ کو آپ کے گناہ کی بڑائی محسوس کراتی ہے۔ اِس سے پہلے آپ کے گناہ چھوٹے دکھائی دیتے تھے، لیکن اب وہ آپ کے ذہن میں ایک سیلاب کی مانند اُمنڈتے ہیں۔ آپ اپنی جان پر خُدا کے غضب کو ایک دھشت ناک وزن کی مانند محسوس کرتے ہیں۔ آپ خوف سے تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپ کو اپنے گناہ پاک خدا کے خلاف کیے گئے ، خُدا کی محبت کے خلاف کیے گئے، یسوع اور اُس کی محبت کے خلاف کیے گئےنظر آتے ہیں۔

سوئم، آپ خود اپنے ہی دِل میں بدکاری محسوس کرنا شروع کرتے ہیں۔ وہ جو سزایابی کے تحت ہوتے ہیں اپنے دِلوں میں گناہ کے ناخوشگوار اعمالوں کو محسوس کرتا ہوا پاتے ہیں۔ اکثر آزمائشیں اور گناہ کے تحت سزایابی مل کر جان کو اذیت دیتی ہیں۔ گناہ کے تحت سزا یابی دِل کو چھیدتی ہے، اور آپ کو آنیوالے قہر سے بچاتی ہیں۔ اِس کے باوجود، اِسی وقت، کچھ طوفانی آرزوئیں، یا حسد، یا نفرت آپ کے دِل میں اُبلتی ہے جو آپ کو جہنم کی طرف لےجاتی ہیں۔ پھر آپ اپنے آپ میں جہنم محسوس کرتے ہیں۔ جہنم میں اِسی خُدا کے قہر کا ایک انتہائی خوف اور اِس کے ساتھ بدکاری کا ناخوشگوار آمیزہ ہو گا جو آپ میں اُبل رہا ہوگا، اور آپ کی جان کو شعلوں میں زیادہ اور زیادہ دھکیل رہا ہو گا۔ یہ اکثر زمین پر اُنہیں محسوس ہوتا ہے جو گناہ کے تحت سزایابی میں آتے ہیں۔

چہارم، اپنے آپ کو بچانےکے لیے آپ کی نااہلیت پر خُدا کی روح آپ کو قائل کرتی ہے۔ پہلے آپ سوچتے تھے کہ آپ باآسانی اِس ناخوشگوار اذیتوں سے جو آپ محسوس کرتے ہیں چھٹکارہ پا سکیں گے۔ آپ توبہ کے لیے، دعا کے لیے اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آپ جلد سیکھ جاتے ہیں کہ آپ کے سکون تلاش کرنے کے لیے اقدام آپ کے گناہوں کو غلیظ دھجیوں سے ڈھانپنے کی تمام کوششیں ہیں، کہ آپ کی ’’راستبازی غلیظ دھجیوں کی مانند‘‘ ہیں (اشعیا 64:6)۔ آپ محسوس کرنا شروع کرتے ہیں کہ آپ کبھی بھی پاک صاف نہیں ہو سکتے۔ آپ کادِل مایوسی کی تاریکی میں ڈوبتا ہے۔ اور ہر روز اِن تاریک سوچوں سے اذیت پاتے ہیں۔

پنجم، آپ یہ خوف کرنا شروع کرتے ہیں کہ آپ کبھی بھی مسیح کے پاس آنے کے قابل نہیں ہونگے۔ آپ سُنتے ہیں کہ مسیح سراپا عشق انگیز ہے، کہ وہ آپ کو اپنے پاس آنے کے لیے بُلاتا ہے، اور وہ کبھی بھی اُنہیں اپنے سے دور نہیں کرتا جو اُس کے لیے آتے ہیں۔ لیکن اِن میں سےکچھ بھی آپ کو سکون اور آرام نہیں پہنچاتا ہے۔ آپ خوف کرتے ہیں کہ آپ نے بہت عرصہ یا بہت زیادہ گناہ کیے ہیں۔ آپ خوف کرتے ہیں کہ آپ نے فضل کے دِن کو گناہ سے دور کر دیا ہے، کہ آپ نے ایک ناقابلِ معافی گناہ کیا ہے، کہ آپ تباہ و برباد ہو گئے ہیں۔

ششم، آخر کار آپ اِس قدر رسوا اور خوفزدہ ہوتے ہیں کہ آپ امن پانے کے لیے تقریباً کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اور پھر، جیسا کہ کوئی معجزہ ہو (کیونکہ یہ ایک معجزہ ہے) آپ کو نظر آتا ہے کہ مسیح اُن کا نجات دہندہ ہے جو بے یارومدد گار ہیں اور اپنے آپ کو اُسے دینے کے لیے نااہل ہیں۔ پھر آپ پاتے ہیں کہ آپ کا معاملہ یسوع کے لیے اتنا مایوس کُن نہیں ہے۔ پھر آپ اُس کے لیے دیکھتے ہیں اور اُس کی کامل محبت کے تحت آتے ہیں، بغیر کسی خوف کے محبت، بغیر کسی اذیت کے محبت، یسوع کی محبت جو تمام خوف بھگا دیتی ہے۔ اوہ، یہ شاید آج رات آپ یسوع کے لیے دیکھیں! آپ کے خوف چلے جائیں گے، اور آپ کے گناہ ہمیشہ کے لیے اُس کے قیمتی خون سے پاک صاف ہو جائیں گے! پھر آپ کہیں گے، ’’یہ واقعی ہی خوشخبری ہے! یہ بِلا شُبہ میری گناہ سے بیمار جان کے لیے ایک اچھی خبر ہے!‘‘ خُدا کرے کہ اب آپ یسوع کو دیکھنے کے قابل ہو جائیں،کیونکہ وہ آپ کو ایکدم بچائے گا جب آپ اُس کے لیے دیکھیں گے جو آپ کو اس قدر پیار کرتا ہے! پھر آپ جانیں گے کہ موت سے زندگی میں داخل ہونے کا مطلب کیا ہوتا ہے! پھر آپ مسیحی بھائیوں سے اِس طرح سے محبت کریں گے کہ آپ نے پہلے کبھی ایسے کی ہی نہیں تھی؛ اور آپ اپنے دِل سے گانے کے قابل ہو جائیں گے،

مُبارک ہے وہ بندھن جو باندھتا ہے
   ہمارے دِلوں کو مسیحی محبت میں؛
ہمنوا ذہنوں کی رفاقت کو۔
   جو بُلندی کے لیے ایسا ہے۔
(’’مُبارک ہے وہ بندھن جو باندھتا ہے Blest Be the Tie that Binds‘‘
      شاعر جان فوزٹ John Fawcett، 1740۔ 1817)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan 1۔ یوحنا 3:11۔14.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مبارک ہو وہ بندھن جوباندھتاہے‘‘ (شاعر جان فوزٹ John Fawcett، 1740۔1817).

لُبِ لُباب

نجات کا ایک بے خطا ثبوت

AN INFALLIBLE PROOF OF SALVATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم بھائیوں سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ جو محبت نہیں رکھتا وہ گویا مُردہ کی طرح ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:14).

(متی 24:12،3

)

I.   اوّل، کیا ثابت نہیں کرتا کہ آپ کے پاس زندگی ہے، 1۔ یوحنا 3:15؛
یعقوب 2:19؛ اعمال 8:13، 21، 19؛ متی 7:22۔23؛ 2۔ تیموتاؤس 3:13.

II.  دوم، کیا ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس زندگی ہے، یوحنا 9:31، 38؛
رومیوں 10:13؛ 1۔ یوحنا 3:11۔13؛ 2:19 .

III. سوم، موت سے زندگی میں داخل ہونے کے لیے آپ کے ساتھ کیا ہونا چاہیے،
افسیوں2:1؛ مکاشفہ 20:12؛ زبُور 40:12؛ اشعیا 64:6 .