Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

انجیل کا دِل

THE HEART OF THE GOSPEL

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
22 جولائی، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, July 22, 2012

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

گنہگاروں کی جگہ پر، مسیح کی صلیب پر قربانی، انجیل کا بالکل دِل ہے۔ وہ جو اِس سچائی کی منادی کرتے ہیں خوشخبری کی منادی کرتے ہیں – اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اور دوسری کیا غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن وہ جو صلیب پر مسیح کی تبدلیاتی قربانی کی منادی نہیں کرتے ہیں وہ نئے عہد نامے کے مرکزی پیغام کو چھوڑ جاتے ہیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ دوسری سچائیوں کا کیا اعلان کرتے ہیں وہ خوشخبری کی منادی نہیں کرتے ہیں۔ 1880 کی دہائی میں سپرجئینSpurgeon نے مسیح کی تبدیلی کے عقائد پر دھواں دار واعظوں کی منادی کی تھی، کیونکہ برطانیہ میں بپتسمہ دینے والوں کی یونین کی بڑھتی ہوئی الٰہیاتی آزاد خیالی کے ذریعے سے اِس کو مسترد کیا جاتا تھا۔ آج مسئلہ ذرا کچھ مختلف ہے۔ کچھ امریکی ٹیلی وژن کے مبلغین تعلیم دے رہے ہیں کہ مسیح نے جہنم میں ہمارے گناہ کے لیے کفارہ ادا کیا تھا۔ یہ ایک ہولناک غلطی ہے! یہ بائبل میں نہیں ہے! لیکن زیادہ تر بشارتِ انجیل کے گرجہ گھروں میں، عقیدے کو مسترد کیا جانا اِس قدر اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا کہ عقیدے کو نظر انداز کیا جانا ہے – بدقسمتی اور عجیب طریقے سے نظرانداز کیا جانا۔ جدید بشارتِ انجیل کی واعظ گاہوں میں شاید ہی کبھی صلیب پر مسیح کی تبدلیاتی موت کا اعلان کیا گیا ہو۔ دراصل،آج زیادہ تر بشارتِ انجیل کے گرجہ گھروں میں شاذ و نادر ہی مسیح کی موت کا کسی قسم کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ چند الفاظ ہوں، لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پادری اِس نہایت اہم عقیدے پر کوئی مکمل واعظ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اُن وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بشارت انجیل کے گرجہ گھروں سے دست بردار ہو کر رومن کیتھولک ازم اور مشرقی اُورتھوڈکسی میں شمولیت کر رہے ہیں، جہاں ہر عبادت مسیح کی موت کے گرد تشکیل دی جاتی ہے۔ حالانکہ اِس کا اِطلاق بچائے جانے والا نہیں ہے، لیکن مصلوبیت اُن کی عبادتوں میں بہت نمایاں ہوتی ہے۔ لیکن انجیلی بشارت کے گرجہ گھروں میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ لوگ پہلے سے ہی مسیح کی تبدلیاتی قربانی کے عقیدے کی تمام اہم باتیں جانتے ہیں۔ اور اِس لیے، اگر اِس کا تذکرہ ہوتا ہے تو، سرسری طور پرکیا جاتا ہے۔

میں ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کو جانتا ہوں جہاں زیادہ زور مسیحیوں کی تربیت پر دیا جاتا تھا۔ عورتوں میں سےایک جو اُس گرجہ گھر میں ایک چوتھائی صدی سے تھی یہاں ہمارے گرجہ گھر میں آئیں۔ میں نے اُن سے پوچھا وہ بچائے جانے کے لیے کیا اُمید کرتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے اور خُداوند کا کھانا کھانے سے۔‘‘ واحد وقت جب اُن کے پادری کفارے کے عقیدے کا تذکرہ کرتے تھے اُس کے بعد کا تھا جب لوگ مہینے میں ایک دفعہ خدا کے کھانے کی عبادت میں دعا میں اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیتے تھے ۔ جس کے نتیجے میں، یہ خاتون، ایک طویل عرصے کی بپتسمہ یافتہ، کی مسیح کے تبادلے پر سمجھ بوجھ کسی رومن کیتھولک کے مقابلے میں کوئی بہتر نہ تھی۔ اُن کے گرجہ گھر کے پادری نے پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ جماعت کو مسیحی زندگی گزارے کی تعلیم دینے پر گزار دیا – اور اِس تمام عرصے یہ خاتون کھوئی ہوئی تھیں اور جہنم کے لیے جاتی رہی تھیں! یوں اُس گرجہ گھر کے اور بہت سے دوسرے بھی۔

میں ڈرتا ہوں کہ کفارے کے بارے میں بہت سی غلطیاں، آج زیادہ تر بپتسمہ دینے والوں اور بشارتِ انجیل کے مبلغین کے ذہنوں میں ہیں – صرف ہماری واعظ گاہوں میں اِس اہم ترین موضوع کی عام نظر اندازی کی وجہ سے۔ اوسطاً پادری سوچتا ہے، ’’کیوں، مجھے اِس پر تبلیغ دینے کی ضرورت نہیں ہے! یہ موضوع تو کہیں زیادہ آسان ہے! مجھے اُنہیں ضرور کچھ ایسا سیکھانا چاہیے جو اُنہیں مسیحی زندگی گزارنے میں مدد کرے!‘‘ اِس طرح یہ پادری اپنی تمام منادی ’’سؤروں کے آگے موتی ڈالنے‘‘ میں گزار دیتے ہیں۔ چونکہ وہ لوگ جنہیں یہ ’’تعلیم دے رہے ہیں‘‘ کبھی حقیقی مسیحی بنے ہی نہیں، اِس لیے اُن کی زیادہ تر منادی ضائع جاتی ہے۔ کفارے کو مرکزی ہونا چاہیے – لیکن اِرتدّایت کے اِس دور میں اب اِس کا تذکرہ شاذ و نادر ہی زیادہ تر بشارتیِ انجیل کے گرجہ گھروں میں ہوتا ہے۔

تفتیشی کمرے میں لوگوں کے سُننے کے ذریعے سے ہم یہ جانتے ہیں۔ زیادہ تر پادری خود بولتے رہتے ہیں اور کبھی سوالات نہیں پوچھتے، یا جوابات کونہیں سُنتے۔ اِس لیے اِن پادریوں کو کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ اُن کے لوگ کیا سوچتے ہیں! اِسی لیے اُنہیں اِس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ مسیح کے تبدل کا موضوع – ’’انتہائی سادہ‘‘ ہونے سے بہت دور ہے – جسے حتّٰی کہ اُن کےلوگ جانتے تک نہیں ہیں! آج بہت سے انجیلی بشارت کے گرجہ گھروں میں مسیح کےتبدل پر تیزی سے ثابت قدمی کے ساتھ قائل کر لینے والا واعظ سُننا دھچکا لگنے کے برابر ہوگا۔ اگر وہ ہماری تلاوت پر ایک پُرجوش واعظ سُنتے ہیں تو ایک مہینے تک اُن کی زبانوں پر تزکرہ رہے گا،

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

تقریباً 54سال تک منادی کرنے کے بعد میں یہ تجربے سے جانتا ہوں۔

کوئی انوکھی بات نہیں کہ زیادہ تر انجیلی بشارت کے افراد کبھی تبدیل نہیں ہوئے! تعجب کی بات نہیں کہ ہمارے گرجہ گھربند ہو رہےہیں! حیرت کی بات نہیں کہ ’’اُبھرتے ہوئے گرجہ گھروں‘‘ کی بدعتیں ہماری وجودیت کے مستقبل کو کھوکھلا کر رہے ہیں! تعجب کی بات نہیں ہے کہ لوگ اب انجیلی بشارت بحیثیت ایک تحریک کی زوال کی پیشن گوئیاں کر رہےہیں! میں سپرجئین Spurgeonکے ساتھ کہتا ہوں،

      مسیح مصلوب کا عقیدہ ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔ جیسے کہ پومپی Pompeii میں رومی محافظ [پہرے دار] اپنی تعینات کی گئی جگہ پر کھڑا رہا تھا یہاں تک کہ جب شہر تباہ کیا گیا تھا، اِسی طرح میں کفارے کی سچائی کےساتھ کھڑا ہوں حالانکہ کلیسیا بدعت کے اُبلتے ہوئے مٹی کے برتنوں کے نیچے دفن کی جا چکی ہے۔ ہر بات انتظار کر سکتی ہے، لیکن اِس ایک سچائی کا اعلان طوفانی آواز کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ دوسرے شاید تبلیغ کریں جو وہ چاہتے ہیں،لیکن اِس واعظ گاہ کی حد سے، ہمیشہ مسیح کے تبدل کی سرگذشت گونجتی رہے گی۔ ’’ خُدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اپنے خُداوند یسوع مسیح کی صلیب کے‘‘ (سی. ایچ. سپرجئین، ’’بہتوں کے لیے جو خون بہایا گیا The Blood Shed For Many،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1974، جلد XXXIII، صفحہ 374)۔

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

ڈاکٹر رائیری Dr. Ryrie نے کہا،

یہاں ہے انجیل کا دِل: بے گناہ نجات دہندہ نے ہمارےگناہ اُٹھائے تاکہ ہم خُدا کی راستبازی پا سکیں (چارلس سی. رائیری Charles C. Ryrie، پی ایچ. ڈی.، رائیری کا مطالعۂ بائبل The Ryrie Study Bible، موڈی پریس، 1978، صفحہ 1759؛ 2۔کرنتھیوں 5:21 پر ایک یاداشت).

یہ انجیل کا مرکزی عقیدہ ہے – انجیل کادِل مسیح بحیثیت گنہگاروں کا متبادل۔ یہ تمام عقائد میں سب سے زیادہ اہم اور عظیم ہے کیونکہ لوگ گناہ میں کھو گئے ہیں، اور خُدا نےاُن کے گناہ لے لیے ہیں اور اپنے اکلوتے بیٹے پر لاد دئیے ہیں، اُسے ہمارے لیے گناہ کی قربانی بنا دیا ہے، تاکہ وہ جو مسیح میں آئے خُدا کی حضوری میں شریف اور راستباز ٹھہرایا جائے۔ قصور وار لوگوں کی جگہ پر مسیح کے تبدل کا عقیدہ یہی ہے۔ کیا مسیح آپ کامتبادل بنا ہے؟ اگر وہ نہیں بنا ہے، تو آپ کے پاس جہنم کے شعلوں سے بچنے کی کوئی اُمید نہیں ہے۔

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

1۔ اوّل، یہ کون شخص تھا جو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا گیا تھا؟

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا … ‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

یہ مسیح تھا، ’’جو گناہ سے واقف نہ تھا۔‘‘ زمین پر اپنی تمام زندگی کے دوران وہ گناہ سے واقف نہ تھا۔ وہ واحد گناہ کے بغیر آدمی تھا جو کبھی اِس دنیا میں جیا تھا۔ جب اُس نے کہا، ’’تم میں سے کون ہے جو مجھ میں گناہ ثابت کر سکے؟‘‘ وہ اُس کو جواب نہ دے سکے تھے (یوحنا 8:46). یہاں تک کہ رومی گورنر پینطُس پیلاطُوس بھی یہ پہچان گیاتھا۔ جب اُنہوں نے کہا، ’’اِسے صلیب دی جائے۔‘‘ پیلاطُوس نے کہا، ’’کیوں، اِس نے کیا بُرائی کی ہے؟‘‘ (متی 27:23 ). وہ اُس میں کوئی گناہ نہیں پا سکے تھے، اور اِس لیے اُنہوں نے اُس کے لیے غلط بیانی کی،اورجو اُس نے کہا اُس کو مروڑ تروڑ کر پیش کیا، یا وہ اُس میں بالکل بھی کوئی قصور نہیں پا سکے ہونگے۔ پطرس رسول یسوع کے بارے میں کہتا ہے،

’’ اُس نے نہ تو کبھی گناہ کیا نہ اُس کے مُنہ سے کوئی مکر کی بات نکلی‘‘ (1۔ پطرس 2:22).

یوحنا رسول نے کہا،

’’. . . وہ گناہ سے پاک ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:5).

یہ الفاظ پطرس اور یوحنا کے ہیں، اُس کے دو نزدیک ترین شاگرد، وہ آدمی جو اُسے کسی اور سے زیادہ قریبی طور پر جانتے تھے۔ پطرس نے کہا، ’’جس نے کوئی گناہ نہیں کیا‘‘ (1۔پطرس 2:22). یوحنا نے کہا، ’’وہ گناہ سے پاک ہے‘‘ (1۔ یوحنا 3:5)۔ یہ اُن سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہوگا؟ یسوع خُدا کا برّہ تھا، بغیر عیب اور بغیر گناہ کے دھبے کے!

صلیب پر یسوع گنہگاروں کی جگہ لینے کے قابل تھا کیونکہ اُس کا اپنا کوئی گناہ نہیں تھا۔یہاں تک کہ وہ ڈاکو جسے مسیح کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا اُس نے کہا، ’’اِس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے‘‘ (لوقا 23:41)۔

2۔ دوئم، خُدا نے اُس کے ساتھ کیا کِیا جو گناہ سے واقف نہ تھا؟

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا … ‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

واضح اور صاف معنی یہ ہے کہ گناہ قصوروار گنہگاروں پر سے اُٹھا لیا گیا اور معصوم مسیح پر لاد دیا گیا تھا۔ پاک کلام کہتا ہے،

’’خداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

’’ وہ اُن کی بُرائیاں خُود اُٹھالے گا‘‘ (اشعیا 53:11).

یہ سادہ زبان ہے۔ لیکن اگر کچھ اِس سے بھی زیادہ سادہ کی جا سکتی ہے تو وہ یوں ہے – خُدا نے مسیح کو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا۔‘‘

خُدا نے یسوع پر انسانی گناہ کا تمام وزن یسوع کے صلیب پر جانے سے پہلے لاد دیا تھا۔ ہمارا گناہ اُس پر گتسمنی کے باغ میں لاد دیا گیا تھا، اور مسیح نے صلیب پر ہمارے گناہوں کو برداشت کیا تھا۔سپرجئین نے کہا،

      گناہ نے ہمارے عظیم متبادل [یسوع] کو انتہائی شدت سے دبایا تھا۔ مسیح نے اِس کا وزن گتسمنی کے باغ میں محسوس کیا تھا، جہاں ’’اُس کا پسینہ خون کی بوندوں کی مانند زمین پر ٹپکنے لگا۔‘‘ [ہمارے گناہ] کا پورا دباؤ اُس پر اُس وقت پڑا جب اُسے معلون درخت [صلیب] پر کیلوں سے جڑا گیا۔ وہاں تاریکی کی گھنٹوں میں مسیح نے اِس قدر لامحدود برداشت کی کہ ہم بتا نہیں سکتے. . . ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ہماری خاطر شرمندگی برداشت کی. . . پھر اُنہوں نے اُس کے منہ پر تھوکا تھا۔‘‘ یہ ایک ظالم ذلت تھی… ہم جانتے ہیں کہ اُس نے لاتعداد جسم کی اور ذہن کی اذیتیں برداشت کیں: اُس نے پیاس برداشت کی، وہ تنہاچھوڑے جانے کی اذیت میں چلّایا تھا، اُس کا خون بہا، وہ مر گیا۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس نے موت میں اپنی جان اُنڈیل دی… لیکن اِس سب کے پیچھے اور اِس تمام سے پرے، ایک ناقابلِ پیمائش مصائب کی اندھی گہرائی تھی۔ مسیح نے. . . اِسکے ذریعے سے جھیلا تھا، ذہنی اذیت کا اِس قدر بوجھ جس کے بارے میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ میں اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا: جس کی وضاحت کرنا [یا تشریح] کرنا ناممکن ہو اُس کا پردہ رکھ لینا عقلمندی ہے۔ یہ تلاوت اُس کے دُکھوں کا پردہ بھی رکھتی ہے اور اُنہیں دریافت بھی کرتی ہے۔ جیسا کہ یہ کہتی ہے، ’’خُدا نے مسیح کو گناہ ٹھہرایا‘‘… خُداوند خُدا نے ایک کامل معصوم کو ہمارے لیے گناہ ٹھہرایا: اِس کا مطلب ہے کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے اُس سے زیادہ بےعزتی، تاریکی، اذیت اور موت. . . صلیب بہت پہلوؤں سے[جہنم] کے مقابلے میں انسانی گناہ کے خلاف خُدا کے غضب کا ایک زیادہ مکمل اظہار ہے، اور عذاب کا دھواں ہے جو ہمیشہ اور ہمیشہ تک کے لیے اوپر جاتا رہتا ہے۔ کون جانتا ہوگا گناہ کے لیے خدا کی نفرت کو اکیلے اکلوتے [یسوع] کو جسم میں لہولہان اور جان میں لہولہان حتّٰی کہ موت میں دیکھنا پڑے گا… یہ ’’اُس کا رنج سے آشنا ہونا‘‘ سے کہیں زیادہ ہے؛ یہ ’خُدا کا اُسے بُھلا دینے‘‘ سے کہیں زیادہ ہے؛ یہ ’’اُس پر ہمارے امن کے لیے تنبیہہ‘‘ سے کہیں زیادہ ہے؛ یہ تمام تمام تفصیلات کا سب سے بہتر مظہر ہے – ’’خُدا نے مسیح کو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا۔‘‘ اوہ دھشت کی گہرائی، اور اِسکے باوجود پیار کی بُلندی! (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ’’انجیل کا دِل The Heart of the Gospel،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1974، جلد XXXII، صفحات 390۔391)۔

3۔ سوئم، جو یسوع نے صلیب پر کیا اُس کے نتیجے میں آپ کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے؟

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا؛ تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

ہر وہ شخص جو یسوع کےلیے آتا ہے، اور اُس میں آرام پاتا ہے، مسیح کی تبدلیاتی قربانی سے خُدا کی حضوری میں راستباز بنتا ہے۔ ہم یسوع مسیح میں ایمان کے ذریعے سے راستباز ٹھہرتے ہیں – اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

’’چونکہ ہم ایمان کی بِنا پر راستباز ٹھہرائے گئے ہیں، اِس لیے ہمارے خداوند یسُوع مسیح کے وسیلہ سے ہماری خدا کے ساتھ صلح ہو چُکی ہے‘‘ (رومیوں 5:1).

مسیح میں ایمان کے ذریعے سے، راستباز ٹھہرایا جانا، شمار کرتا ہے عادل اور نیک کو،

’’ … کہ وہ عادل بھی ہے ، اور ہر شخص کو جو یسُوع پر ایمان لاتا ہے راستباز ٹھہراتا ہے‘‘ (رومیوں 3:26).

سیدھے یسوع کے پاس آئیں اور وہ اپنے قیمتی خون سے آپ کے گناہ پاک صاف کرے گا، اور آپ کو اپنی کامل راستبازی میں ڈھانپ لے گا!

تنہا مسیح کی راستبازی کا لبادہ اُوڑھے،
تخت کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے بے عیب ہیں۔
   (’’پختہ چٹان The Solid Rock‘‘ شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا؛ تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

ایک مبلغ جو کہ میرے دوست تھے نے کہا، ’’یسوع کو ٹھہرایا گیا جو وہ نہیں تھا (گناہ)، تاکہ ہم ٹھہرائے جائیں جو ہم نہیں ہیں (راستباز)۔‘‘

ایک بپتسمہ دینے والے پادری نے یہ تمام ایک مورمون Mormon کو سمجھایا۔ پھر پادری نے کہا، ’’کیا تمہیں یہ سمجھ میں آیا؟‘‘ مورمون نے کہا، ’’میں یہ سمجھ گیا ہوں، لیکن میں اِس پر یقین نہیں کرتا ہوں۔‘‘ میرے دوست تمہیں اِس کاضرور یقین کرنا چاہیے، مگر آپ کو ایک قدم مذید آگے جانا چاہیے – آپ کو چاہیے کہ ضرور یسوع کے لیے آئیں اور اُس میں آرام پائیں! پھر آپ

’’ … مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

آپ کوضرور ’’اُس میں‘‘ ہو جانا چاہیے – خود یسوع مسیح میں! اُس کے پاس آئیں، اُس میں آرام پائیں! میسح میں داخل ہوں۔ ’’مسیح میں خُدا کی راستبازی ہو جائیں!‘‘

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا؛ تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

مہربانی سےکھڑے ہو جائیے اور گیتوں کے ورق میں سے حمدوثنا کا گیت نمبر 7 گائیے۔

میں نے سُنا منجی کہتا ہے، ’’بلاشبہ قوت کم ہے؛
   کمزوری کے بچے، دیکھو اور دعا کرو، مجھ میں تم سب کا سب پاؤ گے۔‘‘
یسوع نے یہ سب ادا کیا، میں تمام اُسی کا مقروض ہوں؛
   گناہ نے ایک سُرخی مائل دھبہ چھوڑا، اُس نے اُسے برف کی مانند سفید صاف کر دیا۔

خُداوندا، اب میں نے صرف تیری اور تیری قوت تلاش کر لی ہے،
   جو کوڑھیوں کے داغ بدل سکتی ہے اور پتھردِل کو پِگھلا سکتی ہے،
یسوع نے یہ سب ادا کیا، میں تمام اُسی کا مقروض ہوں؛
   گناہ نے ایک سُرخی مائل دھبہ چھوڑا، اُس نے اُسے برف کی مانند سفید صاف کر دیا۔

میرے پاس کچھ بہتر نہیں ہے ماسوائے تیرے فضل کا دعٰوی کرنے میں،
   میں کلوری کے برّے کے خون میں اپنا لباس سفید دھو لوں گا۔
یسوع نے یہ سب ادا کیا، میں تمام اُسی کا مقروض ہوں؛
   گناہ نے ایک سُرخی مائل دھبہ چھوڑا، اُس نے اُسے برف کی مانند سفید صاف کر دیا۔

اور جب، تخت کے سامنے، میں مسیح میں مکمل ہو کر کھڑا ہوؤں
   ’’میرے ہونٹ تب بھی دُھرا رہے ہوں گے، ’’یسوع میری جان بچانے کے لیے مرا۔‘‘
یسوع نے یہ سب ادا کیا، میں تمام اُسی کا مقروض ہوں؛
   گناہ نے ایک سُرخی مائل دھبہ چھوڑا، اُس نے اُسے برف کی مانند سفید صاف کر دیا۔
   (’’یسوع نے یہ سب ادا کیا Jesus Paid It All‘‘ شاعر ایلوینہ ایم. ہال
     Elvina M. Hall، 1820۔1889).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan اشعیا 53:4۔6.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مسیح گنہگاروں کے لیے مرا‘‘ (شاعر ڈاکٹر۔ جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980).

لُبِ لُباب

انجیل کا دِل

THE HEART OF THE GOSPEL

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ خدا نے مسیح کو جو گناہ سے واقف نہ تھا، ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا تاکہ ہم مسیح میں خدا کی راستبازی ہو جائیں‘‘ (2۔ کرنتھیوں 5:21).

I.   اوّل، یہ کون شخص تھا جو ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا گیا تھا؟ یوحنا 8:46؛
متی 27:23؛ 1۔ پطرس 2:22؛ 1۔ یوحنا 3:5؛ لوقا 23:41 .

II.  دوم، خُدا نے اُس کے ساتھ کیا کِیا جو گناہ سے واقف نہ تھا؟ اشعیا 53:6،11 .

III. سوم، جو یسوع نے صلیب پر کیا اُس کے نتیجے میں آپ کے ساتھ کیا ہو
سکتا ہے؟ رومیوں 5:21؛ 3:26 .