Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

سُوکھی ہوئی ہڈیوں کی وادی

THE VALLEY OF DRY BONES

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
8 جولائی، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Evening, July 8, 2012

’’خداوند خدا ان ہڈّیوں سے یوں فرماتا ہے: میں تمہارے اندر رُوح ڈالوں گا اور تُم زندہ ہو جاؤ گی‘‘ (حزقی ایل 37:5).

گذشتہ اِتوار کی رات ہم نے دیکھا کہ کیسے حزقی ایل میں سے یہ حوالہ اِس دور کے آخری دِنوں میں یہودی لوگوں کی تبدیلی اور بحالی کو بیان کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’ہڈیاں‘‘ کا اشارہ دیا گیا تھا ’’تمام اسرائیل کے گھر کے لیے‘‘؛ کہ ’’قبریں‘‘ وہ قومیں تھیں جن میں یہودی لوگ منتشر ہوئے تھے؛ کہ وہ اُن قوموں میں سے اِسرائیل کی سرزمین میں واپس جانے کے لیے باہر نکالے جائیں گے؛ اور کہ وہ پھر تبدیل ہوں گے۔ یہ ایک شاندار پیشنگوئی ہے! جب ہم اسرائیل کی بحالی کا سوچتے ہیں، جو 1948 میں شروع ہوئی تو یہ ہمارے دِلوں کو دھڑکاتی ہے! یہ ہمیں فرحت بخش لگتا ہے جب ہم پولوس رسول کی پیشنگوئی کے بارے میں سوچتے ہیں، ’’تب تمام اسرائیل نجات پائے گا‘‘ (رومیوں 11:26). جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ پیشنگوئیاں بنی اسرائیلی کی قوم میں پوری ہونے کا آغاز ہے، تو یہ ہمیں ہمارے دور میں خُدا کی قوت میں معجزے ادا ہونے کے لیے بہت زیادہ اعتماد بخشتیں ہیں۔

لیکن حزقی ایل 37 میں پیشنگوئی پر نظر ڈالنے کا اور طریقہ بھی ہے۔ قدیم مبلغین نے تینوں عظیم بیداریوں کے دِنوں میں اِس حوالے کو ہر مذہبی تبدیلی اور خاص طور پر تجدید نو کی تبدیلیوں میں ایک مثال کے طور پرلیا تھا۔ کیا وہ اِس طرح سے پیشنگوئی کو دیکھتے تھے تو کیا غلط تھے؟ جی نہیں، وہ غلط نہیں تھے – کیونکہ پولوس رسول نے کہا، ’’ہم تو پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ دونوں یہودی اور غیر یہودی، سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں‘‘ (رومیوں 3:9). اُس نے یہ بھی کہا،

’’کیونکہ یہودی اور غیر یہودی میں کوئی فرق نہیں اِس لیے کہ ایک وہی سب کا خداوند ہے اور اُن سب کو جو اُس کا نام لیتے ہیں کثرت سے فیض پہنچاتا ہے‘‘ (رومیوں 10:12).

اِس لیے حزقی ایل 37 میں آج کے دور میں نا صرف مذہبی تبدیلی کی بالکہ اسرائیل میں اُس آنے والے وقت کی ایک واضح تصویر ہے۔

تو پھر آئیے حزقی ایل 37 باب میں سُوکھی ہوئی ہڈیوں کی وادی کے تخیل پر نظر ڈالیں جو کہ ایک تصویر کے طور پر ہے اُن تمام لوگوں کی جو چاہے یہودی ہوں یا غیر یہودی ہوں مگر اِس حوالے میں بے شمار باتیں سمجھنے سے آج مسیح میں تبدیل ہوئے ہیں۔

1۔ اوّل، خشک ہڈیوں کی وادی۔

’’خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور وہ مجھے خداوند کی رُوح کی مدد سے اٹھا کر باہر لایا اور نیچے ایک وادی میں کھڑا کردیا جو ہڈّیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے مجھے ان کے درمیان آگے پیچھے گھمایا اور میں نے اس وادی کے فرش پر لا تعداد ہڈّیاں دیکھیں جو بالکل سوکھی ہُوئی تھیں‘‘ (حزقی ایل 37:1۔2).

وادی میں ہڈیاں ’’بہت زیادہ‘‘ تھیں اور وہ ’’بہت سوکھی‘‘ تھیں۔ یہ آدمی کی موت کی حالت میں مکمل اخلاقی زوال کی ایک تصویر ہے۔ یہ جب سے آدم نے باغ میں گناہ کیا تب سے ہر انسان کی روحانی موت کی تشریح ہے،

’’جیسے… ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے‘‘
      (رومیوں 5:19).

’’پس جیسے ایک آدمی کے ذریعے گناہ دنیا میں داخل ہُوا اور گناہ کے سبب سے مَوت آئی ویسے ہی موت سب اِنسانوں میں پھیل گئی…‘‘
      (رومیوں 5:12).

اِس کے علاوہ، افسیوں میں، رسول کہتا ہے کہ وہ ’’گناہوں میں مردہ‘‘ تھے (افسیوں 2:5)، گناہوں اور قُصوروں میں مردہ‘‘ (افسیوں 2:1).

سوکھی ہوئی ہڈیوں کی وادی کے تصور کے ذریعے سے خُدا نے ہمیں تمام لوگوں کی جو مسیح میں تبدیل نہیں ہوئے، حالت دکھائی ہے۔ سوکھی ہوئی ہڈیوں پر واعظ میں، چین کے لیے عظیم مشنری ولیم سی. برنز William C. Burns (1815۔1868) نے کہا کہ میسح میں تبدیل نہ ہوئے لوگوں کی نا تو صحت اور نا ہی زندگی ہوتی ہے، اور

’’وہ ٹھیسوں زخموں اور دُکھتے ہوئے ناسوروں سے بھرے پڑے ہیں۔‘‘ہم پہلے آدم، سے ہمارے تعلق کے ذریعے سے مردہ ہیں، جو ہمارے جسمانی باپ کی حیثیت سےہے، اُسی میں ہم نے گناہ کیا، اور اِس طرح سے ہم اعمال کے ٹوٹے ہوئے عہد کی خوف ناک سزایابی کے قابو میں آجاتے ہیں، اور یوں ہم خُدائے قادرِ جلیل کے غضب اور عذاب کے لیے لائق قرار دیے جاتے ہیں۔ حقیقی گناہ، یا ہماری قدرت کا گناہ، اِس لیے، ہم تمام کا نتیجہ موت میں ہے۔ ہمارے سے زندگی کی روح لی جا چکی ہے، اور گلنے سڑنے کے بڑھنے کا عمل روز بروز ہر اصلی قانون شکنی سے بڑھتا گیا۔ [اِس لیے کہ آپ] بگڑ گئے ہیں اور گلنے سڑنے کی آخری منزل پر تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور جس کی سوکھی ہوئی ہڈیوں کے ذریعے سے عکاسی کی گئی (ولیم سی. برنز، تجدید نو پر واعظ Revival Sermons ، سچائی پر بھروسے کا بینر Banner of Truth Trust، اشاعت 1980، صفحہ 156).

اب، اِس موت کی حالت میں آ پ مقدس نہیں رہتے ہیں ، بلکہ کلام پاک کے مطابق ’’جسمانی نیت میں خدا کے خلاف‘‘ ہیں (رومیوں 8:7). کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ آپ کو اِس طرح کے گناہ اور پاگل پن کی حالت میں ہونا چاہیے، کہ آپ خُدا کے خلاف بغاوت کریں گے! – اُس خُدا کے خلاف جس نے آپ کو بنایا، وہ خُدا جو آپ کا انصاف کرے گا، وہ خُدا جس نے ضرور آپ کو جہنم کے لیے سزا دینی ہے۔ برنز Burns نے کہا، ’’اب، اِس طرح کے آپ تمام ہیں، [آپ میں] سے ہر کوئی۔ یہ ہے جو مسیح کا ایک سچا مناد دیکھتا ہے۔ وہ آپ کو کنارے پر کھڑا ہوا دیکھتا ہے. . . جہنم۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب تک خُدا ایک انتہائی طاقت والا اور بچانے والا ہاتھ نہیں پھیلاتا، ضرور ہے کہ آپ [شعلوں] میں گریں۔ ایک [سچا مناد] یہ جانتے ہوئے اور محسوس کرتے ہوئے، اُس وقت تک آرام نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ آپ کو خطرے سے آگاہ کرنے کی [کوشش] نہیں کرتا۔ وہ آپ کو [جہنم کی] خندق سے پرے ہٹانے کی [کوشش] کے لیے آپ کی طرف چلاتا ہے، آپ کو [مسیح] کے گھر لانے [کے لیے] آپ کو بچانے کی کوشش کے لیے چلاتا ہے‘‘ (برنز، ibid.، صفحہ 157).

2۔ مبلغ کی بُلاہٹ۔

نبی نے کہا، ’’خُداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا‘‘ (حزقی ایل 37:1). یہ نبی کی بلاہٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن حقیقی معنوں میں یہ ہر حقیقی مبلغ کی بلاہٹ کے لیے لاگو ہوتی ہے۔ ’’خُداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا۔‘‘ اِسی لیے مسیح کا ہر سچا مبلغ محسوس کرتا ہے۔

’’خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور وہ مجھے خداوند کی رُوح کی مدد سے اٹھا کر باہر لایا اور نیچے ایک وادی میں کھڑا کر دیا جو ہڈّیوں سے بھری ہُوئی تھی۔ اس نے مجھے ان کے درمیان آگے پیچھے گھمایا اور میں نے اس وادی کے فرش پر لا تعداد ہڈّیاں دیکھیں جو بالکل سوکھی ہوئی تھیں‘‘ (حزقی ایل 37:1۔2).

یہ ہے جو خُدا ہمیشہ کرتا ہے جب وہ ایک سچے مبلغ کو جانوں کے بچانے کے لیے بلاتا ہے۔ خُدا اُسے باہر دُنیا میں لے جاتا ہے اور اُسے دکھاتا ہے کہ دنیا ’’لاتعداد سوکھی ہوئی ہڈیوں سے بھری‘‘ پڑی ہے۔ سچا مبلغ دیکھتا ہے کہ لوگ مردہ ہیں، کہ اُس کی حالت مایوس کُن ہے، کہ وہ محض صرف خوشخبری سے ہی لا علم نہیں ہیں، بلکہ وہ مردہ لوگ ہیں، ’’اور کہ اُن کی ہڈیاں صرف اِس لیے بچی ہیں کہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ واقعی انسان ہیں۔‘‘ مبلغ ’’کچھ نہیں دیکھتا ماسوائے ہڈیوں کی ایک وادی کے، جو اُدھڑی ہوئی اور گلی سڑی ہوئی ہیں، اور وہ اُن پر ماتم کرتا ہے، اور. . . یوں [اُس کے دِل میں ایک اندرونی درد] ہوتا ہے۔ وہ انسانوں کی [کھوئی ہوئی] جانوں پر آنسو بہاتا ہے۔‘‘

پھر خُدا مبلغ سے کہتا ہے، ’’کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں؟‘‘ (حزقی ایل 37:3). یہ وہ ایک سوال ہے جو خُدا ہر مبلغ کے دِل میں ڈالتا ہے، اُس کو آزمانے کےلیے، یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یہ ایک اچھا اور وفادار مبلغ ہے، یا ایک جاہل اور سُست مبلغ ہے۔ مبلغ کا امتحان لینے اور یہ جاننے کے لیے کہ آیا یہ اچھا ہے یا نہیں، خُدا پوچھتا ہے، ’’کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں؟‘‘

لا علم اور بے وفا مبلغ کہتا ہے، ’’میرے خیال میں وہ زندہ ہو سکتی ہیں۔ اُن کے پرورش ایک مسیحی گھر میں ہوئی تھی، جب وہ بچے تھے تب وہ گرجہ گھر لائے گئے تھے، اُنہوں نے اپنے ہاتھ بُلند کیے تھے اور کہا تھا کہ وہ بچایا جانا چاہتے ہیں، وہ اپنی تمام زندگی یا کم از کم کافی عرصے تک گرجہ گھر جاتے رہے ہیں۔ اِس لیے میرے خیال میں وہ زندہ ہو سکتی ہیں۔‘‘ لیکن ایک مبلغ جو ایسی باتیں کہتا ہے یا تو خُدا سے بےوفائی کا مرتکب ہوتا ہے، یا پھر وہ مسیح میں حقیقی تبدیلی سے لاعلم ہے!

خُدا پوچھتا ہے، ’’کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں؟’’ عقلمند اور وفادار مبلغ ویسی باتیں نہیں کہتا ہے۔ اِس کےبجائے، جب خُدا پوچھتا ہے، ’’کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں؟’’ وہ بالکل ویسے ہی جواب دیتا ہے جیسے حزقی ایل نے دیا تھا، ’’اے خُداوند تو ہی جانتا ہے۔‘‘ اچھا مبلغ سمجھتا ہے کہ صرف خُدا ہی اُنہیں جانتا ہے جنہیں اُس نے چُنا ہے! صرف خُدا ہی جانتا ہے کہ کون مسیح میں تبدیل ہونگے! عقلمند مبلغ جانتا ہے کہ صرف خُدا افزائش کر سکتا ہے، کہ صرف خُدا کھوئی ہوئی جان کو مسیح میں نجات کے لیے لا سکتا ہے۔

3۔ سوئم، مبلغ کے لیے حکم۔

’’تب اس نے مجھ سے دوبارہ فرمایا: ان ہڈّیوں پر نبوّت کر اور ان سے کہہ، اَے سوکھی ہڈّیو، خداوند کا کلام سُنو‘‘ (حزقی ایل 37:4).

یہ ہر پادری کی ذمہ داری ہے کہ خداوند کے کلام کی تبلیغ کرے۔ لیکن ایک عقلمند پادری جانتا ہے کہ وہ سوکھی ہوئی ہڈیوں کو تبلیغ کر رہا ہے جو کبھی نا سُن سکتی ہیں اور نہ سُنیں گی جو وہ کہتا ہے۔ میں نے اکثر یہ سوچا ہے کہ میں شاید ویسے ہی یہاں آ کے تبلیغ کرنے کے بجائے قبرستان جاؤں اور آپ سے بات کروں – یہ جانتے ہوئے کہ آپ سُن نہیں سکتے ہیں۔ جیسا کہ یسوع نے کہا،

’’تُم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اِس لیے کہ میرے کلام کو سُنتے نہیں‘‘
      (یوحنا 8:43).

میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کے کانوں کی حالت ہے جب کہ آپ گناہ کی حالت میں ہیں۔ یسوع کہتا ہے، تم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے۔‘‘ اور اگر آپ اُسے نہیں سُن سکتے، تو پھر یقیناً آپ مجھے بھی سُننے کے قابل نہیں ہونگے! کچھ شاید پوچھ سکتے ہیں، ’’تو پھر کیوں آپ ہمیں تبلیغ کرتے ہیں؟ کیوں آپ ہمیں بتاتے ہیں کہ مسیح کے لیے آؤ، جب کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کر سکتے ہیں، اور اِسے محفوظ طور پر کرنے کے بارے میں کبھی سُن بھی نہیں سکتے؟‘‘

ایک وفادار مبلغ کہتا ہے ’’خواہ [تم] سُنو یا [تم] نہ سُنو‘‘ (حزقی ایل 3:11). میں پھر کیوں آپ سے ساری باتیں کرتا ہوں؟ کیونکہ خُدا نے مجھے ایسا کرنے کے لیے حکم دیا ہے!

’تب اس نے مجھ سے دوبارہ فرمایا: ان ہڈّیوں پر نبوّت کر اور ان سے کہہ، اَے سوکھی ہڈّیو، خداوند کا کلام سُنو‘‘ (حزقی ایل 37:4).

کیونکہ مجھے آپ کو تبلیغ کرنے کے لیے حکم دیا گیا ہے اِس لیے میں ایسا ضرور کرتا ہوں۔ میں جہنم کی لامحدود گہرائی کا گڑھا دیکھتا ہوں جس میں آپ ڈوبنے کے قریب ہیں۔ اگر میں آپ کو خبردار اور تنبیہہ کرنے کی تمنا کو محسوس کرتا ہوں؛ تو پھر میں موت کے لیے تبلیغ کروں، میں ابدیت کے لیے تبلیغ کروں، میں آسمان کے لیے تبلیغ کروں، اور میں جہنم، کے لیے بھی تبلیغ کروں۔ سچا مبلغ واعظ گاہ میں جاتا ہے اور سوکھی ہوئی ہڈیوں کے لیے تبلیغ کرتا ہے، اور اکثر یہ بغیر کسی اثر کے کرتا ہے۔

لیکن میں جانتا ہوں کہ جب میں خُداوند کے کلام کی تبلیغ کر چکتا ہوں، تو پھر شاید خُداوند خود آپ سے بات کرتا ہے، اور یہ کہتا ہے،

’’میں تمہاری نسیں جوڑ دُوں گا اور تُم پر گوشت چڑھاؤں گا اور تمہیں چمڑے سے ڈھانک دُوں گا؛ اور تُم میں روح پھونکوں گا اور تُم زندہ ہو جاؤ گے۔ تب تُم جان لوگے کہ میں خداوند ہُوں‘‘ (حِزِقی ایل 37:6).

4۔ چہارم، ہڈیوں کی کھڑکھڑاہٹ۔

’’چنانچہ میں نے حکم کے مطابق نبوّت کی اور میں نبوّت کر ہی رہا تھا کہ ایک آواز سنائی دی۔ وہ ایک کھڑ کھڑاہٹ سی تھی اور اچانک ہڈّیاں اکٹھّی ہوکر ایک دوسری سے جُڑ گئیں‘‘ (حِزِقی ایل 37:7).

نبی نے خُداوند کے حکم کی تعمیل کی تھی، حالانکہ اُن سوکھی ہوئی ہڈیوں کے لیے تبلیغ کرنا فضول ظاہر ہوتا تھا۔ لیکن اچانک ’’ایک آواز سُنائی دی، وہ ایک کھڑکھڑاہٹ سی تھی‘‘ سوکھی ہوئی ہڈیوں کے درمیان۔ کھوئے ہوئے گنہگار فکرمندی کے لیے شروع ہوتے ہیں، پھر اپنی کھوئی ہوئی حالت کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ پھر وہ چوکنے، خوفزدہ اور دھشت کے ساتھ بھر جاتے ہیں – اکثر اس قدر زیادہ کہ وہ اپنے خوف کے جذبات کو روک نہیں سکتے ہیں۔ کچھ چلّاتے ہیں اور شدت کے ساتھ روتے ہیں، کراہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو شیطان کے قابو میں محسوس کرتے ہیں۔ اچانک وہ اپنے دِلوں میں بڑے بڑے گناہ دیکھتے ہیں۔ اِس قسم کی مذہبی عبادتوں میں، رابرٹ میورے میکچین Robert Murray McCheyne ، نے کہا،

      اکثر ایک ناخوشگوار اور سناٹے والی خاموشی اجتماع پر چھا جاتی ہے؛ اور ہر سُننے والاسامنے کی طرف جُھکا ہوئے وجدانی کیفیت کے انداز میں ہوتا ہے۔ سنجیدہ لوگ دعا کے لیے اپنے چہرے ڈھانپ لیتے ہیں کہ [خُدا کے] تیر شاید گھروں میں گنہگاروں کے دِلوں کے لیے قوت کے ساتھ بھیجے ہوں۔ دوبارہ ایسے ہی وقت پر میں نے آدھے دبے ہوئے نشانات سُنے ہیں جو کئی دِلوں سے اُٹھتے ہیں، اور بہتوں کو آنسوؤں میں نہاتے ہوئے دیکھا ہے. . . میں نے گرجہ گھر کے بہت سے حصوں سے بُلند سسکیوں کے آوازیں سُنیں ہیں، جبکہ تمام سُننے والوں پر ایک گہری سنجیدگی [چھا جاتی] ہے۔ میں نے . . . افراد کو با آواز بُلند بھی روتے ہوئے سُنا ہے، ایسے جیسے اُن کے دِل کو انّی سے چھید دیا گیا ہو. . . ایسے وقت پر میں لوگوں کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ وہ چل نہیں سک رہے یا بغیر سہارے کے کھڑے نہیں ہو سک رہے. . . میں بہت عاجزی کے ساتھ اپنے عقیدے کو بیان کرتا ہوں کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے جو جانوں کی نجات تلاش کرتے ہیں، اور خاص طور پر منادوں کی ذمہ داری، کہ ایسے سنجیدہ وقت کے لیے دعا کریں اور اُس کی چاہت کریں جب بادشاہ کے دشمنوں کے دِلوں میں تیر نشانے پر ہوں، اور ہماری اونگھتی ہوئی جماعت چلّانے کے لیے تیار ہونی چاہیے، ’لوگو اور بھائیو، ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘ (جے. سی. سمتھ J. C. Smith، رابرٹ میورے میکچین Robert Murray McCheyne: یسوع مسیح کا ایک اچھا مناد، ایمبیسیڈر پروڈکشن، لمیٹڈ، 1870 کے ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت 1998، صفحات 12۔13).

کچھ منادوں نے اِس کے خلاف اعلان کیا تھا، مگر ایک خدا کے پادری نے جس نے یہ دیکھا کہا، ’’جب ہڈی ہڈی سے جُڑتی ہے، تو کیا کوئی کھڑکھڑاہٹ نہیں ہوگی؟‘‘

جب کھوئے ہوئے گنہگار گناہ کے قائل ہوتے ہیں تو ایک غیرمعمولی سا احساس ہوگا، اور ایک عجیب سی بے قراری ہوگی، جب لوگ پہلی مرتبہ موت کی نیند سے جاگتے ہیں، جب وہ پہلی مرتبہ دیکھتے ہیں کہ جہنم حقیقی ہے، اور محسوس کرتے ہیں کہ وہ شعلوں کے گڑھے میں گریں گے۔ تو جذبات کا ایک سیلاب اُمڈ آئے گا جب آپ اپنا گناہ دیکھتے ہیں، جو کہ نا صرف آپ کو سزا دے رہا ہے بلکہ یسوع کو بھی صلیب پر زخمی کرتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ کو ضرور جذبات محسوس کرنے چاہیے؛ یہ آپ کے لیے ناممکن ہے کہ آپ اُس گہرائی کے لیے جو آپ کے لیے پہلے انجانی تھی اب جذبات نہ رکھتے ہوں

5۔ پنجم، ہڈیوں پر چمڑی کا چڑھنا۔

’’اور میں نے دیکھا کہ ان پر نسیں اور گوشت نمودار ہُوا اور چمڑی نے انہیں ڈھانک لیا۔ لیکن ان میں جان نہیں آئی تھی‘‘ (حِزِقی ایل 37:8).

وہ اب زندہ ہوتے دیکھائی دیتے ہیں، ’’لیکن اُن میں کوئی جان نہیں [ہے]۔‘‘ ہڈیوں پر چمڑی آئی تھی، لیکن یہ اب بھی ایک بے جان جسم تھا۔ آپ میں سے کچھ اِس نقطے پر پہنچ گئے ہونگے، اور اِس کے باوجود آپ بچائے نہیں گئے ہیں۔ آپ میں سےکچھ پہلے سے ہی اپنی ننگی ہڈیوں پر چمڑی پا چُکے ہونگے۔ آپ نے اپنی زندگی میں اصلاح شروع کر دی ہوگی اور مذہبی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہونگے۔ اب آپ گرجہ گھر بِلا ناغہ آتے ہیں اور ہر روز اپنی بائبل پڑھتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کی مذید اور زیادہ مذہبی ہونے پر تعریف کرتے ہیں۔ آپ قائل ہو جاتے ہیں کہ آپ تبدیل ہو چکے ہیں۔ اِس سے خبردار ہو جائیں! اِس سے خبردار ہو جائیں! آپ کے لیے افسوس کی بات ہے، کیونکہ آپ کو دھوکہ دیا گیا ہے۔

آخری فیصلے کے وقت اِس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا کہ آپ بیرونی طور پر تبدیل ہوئے تھے؟ اگر خُداوند کی روح نے آپ کا دِل تبدیل نہیں کیا ہے، تو پھر قیامت کے روز آپ کا بیرونی مذہب سے کیا فائدہ ہوگا؟

میں اِس سے انکار نہیں کرتاکہ آپ بیرونی طور پر تبدیل ہوئے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ آپ ہوئے تو ہیں، لیکن یہیں پر مت رُکیں۔ بیرونی تبدیلی میں سکون نہ لیں۔ کوئی بھی، شاید آپ کے نئے مذہبی کردار میں کوئی غلطی نہیں پا سکتا ہے۔ کوئی بھی انسانی آنکھ اُس غلطی کو جو آپ کے دِل میں ہے نہیں دیکھ سکتی۔ وہ سب دھوکہ کھا جاتے ہیں، اور آپ کی زندگی میں تبدیلی کو دیکھ کر تعریف کرتے ہیں۔

یہ اِسی طرح سے ہوتا ہے جب ایک شخص پہلے مرتا ہے۔ جسم اب بھی کچھ دیر کے لیے زندہ محسوس ہوتا ہے۔ جب لوگ مُردہ جسم کی طرف دیکھ رہے ہوں تو کچھ کہیں گے، ’’کیا یہ بھلا چنگا نہیں لگتا ہے؟ یوں لگتا ہے جیسے یہ اب بھی زندہ ہے۔‘‘ لیکن تیزفہم آنکھ دیکھ لیتی ہے کہ جسم مردہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ ابھی گلنا سڑنا شروع نہیں ہوا ہے۔ لیکن جسم ایسے ہی مردہ ہے جیسے ایک گلی سڑی ہوئی لاش۔ حالانکہ کسی بھی خوفناک بدشکلی نے اُس کے شکل نہیں بدلی ہے، اِس کے باوجود یہ اُتنا ہی مردہ ہے جتنا کہ اُس وقت ہوگا جب اِس کی ہڈیوں پر سے چمڑی گرتی ہے، اور کیڑے اُس کے جوڑوں اور ہڈیوں کے گودے میں رینگتے ہیں۔ اور اِس طرح، اگر خُدا کی روح نے آپ کو تبدیل نہیں کیا ہے، تو آپ بھی کفن میں کسی مُردہ آدمی کے مقابلے میں کوئی زندہ نہیں ہیں، بے شک آپ ایک ناتجربہ کار آنکھ کے لیے اچھے دکھائی دیتے ہوں۔

سب سے بڑھ کر ہم خواہش کرتے ہیں کہ آپ دھوکہ نہ کھائیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ آپ میں سے کچھ جو یہ سوچتے ہیں کہ آپ تبدیل ہو گئے ہیں جلد ہی دیکھ پائیں گے کہ آپ اصل میں کیا ہیں – مکمل طور پر مُردہ، خُدا کے لیے مُردہ، گناہ میں مُردہ۔ آپ کے پاس ایک سچے مسیحی کے بے شمار نشانات ہیں – لیکن آپ کے دِل میں ایک منجمند کر دینے والی ٹھنڈک ہے۔ آپ کے دِل میں خداوند کے لیے کوئی پیار نہیں ہے، یہ مسیح کے پیار میں نہیں دھڑکتا ہے۔ یہ پیار میں بالکل دھڑکتا ہی نہیں ہے۔ رگیں، نسیں، اور جوڑ وہاں ہیں؛ لیکن وہاں کوئی زندگی نہیں ہے، کوئی خون، کوئی حرارت، مسیح کے لیے کوئی پیار نہیں ہے۔

خُدا کے خلاف بغاوت آپ کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ یہ ابھی تک باہر نہیں نکلی ہے۔ یہ اب بھی آپ کے دِل میں سوئی ہوئی ہے۔ یہ اب بھی وہیں آپ میں ہے، آپ کی روح کے مرکز میں۔ اور یہ وہیں رہتی ہے – جب تک کہ یہ آخری کار سامنے نہیں آتی اور آپ کا بیرونی مذہب ہڑپ نہیں کر جاتی، اور آپ کو اِس قدر کاملیت کے ساتھ اذیت دیتی ہے، کہ یہ جلد، بہت ہی جلد، آپ کو موت کی سرد نیند میں ہمیشہ کے لیے قید کر دیتی ہے۔ باہر سے آپ مسیحی دکھائی دیتے ہیں، لیکن آخر کار یہ دیکھا جائے گا کہ آپ کا دِل مُردہ لوگوں کی گلی سڑی اور بدکار ہڈیوں سے بھرا پڑا ہے۔ آپ کا دِل اب بھی اُتنا ہی سخت ہے جتنا پہلے تھا، اُتنا ہی ٹوٹا ہوا نہیں ہے جتنا کہ پہلے ٹوٹا ہوا نہیں تھا، حالانکہ وہ ایک خوبصورت اور نیک نظر آنے والے خول میں رہتا ہے۔

’’. . . نسیں اور گوشت نمودار ہُوا اور چمڑی نے انہیں ڈھانک لیا: لیکن ان میں جان نہیں آئی تھی‘‘

6۔ ششم، زندگی دینے والی روح کا آنا۔

’’تب اس نے مجھ سے فرمایا: رُوح سے نبوّت کر۔ اَے آدم زاد، نبوّت کر اور اس سے کہہ، خداوند خدا یوں فرماتا ہے: اَے رُوح، تُو چاروں سِمتوں سے آجا اور ان مقتولوں پر پھونک تاکہ وہ جی اٹھیں۔ چنانچہ میں نے اس کے حکم کے مطابق نبوّت کی اور رُوح ان میں داخل ہو گئی اور وہ زندہ ہو گئے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔ یہ ایک بڑا سا لشکر تھا‘‘ (حِزِقی ایل 37:9۔10).

یہاں ہے خوشخبری دینے والے مبلغ کی قوت! وہ خداوند کی روح کے لیے دعا کرتاہے، اور وہ آئے اور تبلیغ کو برکت دے، اور اُس کو جو سُنتے ہیں زندگی دے۔ روح مقتولوں پر پھونکتی ہے، وہ زندہ ہوتے ہیں، اور ’’اپنے قدموں پر کھڑے ہوتے ہیں، ایک بڑا سا لشکر ہوتا ہے۔‘‘

مجھ پر پھونکو، مجھ پر پھونکو،
   اے پاک روح، مجھ پر پھونکو؛
تو میرا دِل لے لے،
   ہر حصّہ پاک صاف کردے،
اے پاک روح، مجھ پر پھونکو۔
   (’’مجھ پر پھونکوBreathe on Me ‘‘ شاعر بی. بی. میکقینی B. B. McKinney،
1886۔1952).

اگر پاک روح آپ کے لیے نہیں آتی ہے تو آپ تبدیل نہیں ہو سکتے ہیں، آپ اُٹھ نہیں سکتے ہیں اور جی نہیں سکتے ہیں، آپ مسیح کی خوبصورتی نہیں دیکھ سکتے ہیں، آپ اُس کے پاس نہیں آ سکتے ہیں اور اُس کے پاک خون کے ذریعے سے اپنے گناہ سے پاک صاف نہیں ہو سکتے ہیں۔ اِس لیے سچے مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ وقت تنہائی میں گزارے اور واعظ گاہ میں روح کی بھرپوری کے ساتھ آئے۔ اور آپ میں سے وہ جو بچائے گئے ہیں ضرور ہے کہ اپنا زیادہ وقت دعا میں گزاریں، یا پھر میں شاید کبھی بھی کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے تبلیغ نہ کروں۔ دعا کریں کہ پاک روح تبلیغ میں حاضر ہو، یا پھر یہ مردہ ہڈیاں کبھی بھی جی نہیں سکیں گی۔ اوہ، دعا کریں کہ ہماری دعائیہ عبادت میں خُدا کی روح نازل ہو! اُس وقت تک دعا کریں جب تک کہ روح نازل نہیں ہو جاتی ہے، تاکہ یہ مُردہ ہڈیاں زندہ ہو سکیں!

خُداوند، پرانے وقتوں کی قوت بھیج،
   پینتیکوست والی قوت!
تیری برکات سے بہتے ہوئے پھاٹک
   ہم پر پوری طرح سے کھول دے!
خُداوند، پرانے وقتوں کی قوت بھیج،
   پینتیکوست والی قوت!
کہ گنہگار تبدیل ہوں اور تیرے نام کا جلال ہو!
   (’’پینتیکوست والی قوت Pentecostal Power‘‘ شاعر چارلس ایچ. گیبرئیل
Charles H. Gabriel، 1856۔1932).

اِسے میرے ساتھ گائیے۔

خُداوند، پرانے وقتوں کی قوت بھیج،
   پینتیکوست والی قوت!
تیری برکات سے بہتے ہوئے پھاٹک
   ہم پر پوری طرح سے کھول دے!
خُداوند، پرانے وقتوں کی قوت بھیج،
   پینتیکوست والی قوت!
کہ گنہگار تبدیل ہوں اور تیرے نام کا جلال ہو!

صرف خُدا کی روح کی قوت ہی آپ کے پتھر دل کو توڑ سکتی ہے اور مسیح، زندہ نجات دہندہ میں جوڑ سکتی ہے! ہم دعا کرتے ہیں کہ خُداوند کی روح آپ کے لیے نیچے آئے، آپ کو مسیح کے لیے چلانے پر مجبور کرے کہ وہ آئے اور آپ کو مُردوں میں سے زندگی دلائے! ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا کی روح آپ کے لیے آئے اور آپ کو مسیح کے لیے کھنچے۔

آپ جانتے ہیں کہ میسح صلیب پر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ لیکن کیا آپ مسیح کو خود اپنے لیے جانتے ہیں؟ کیا آپ اُس سے جو آسمان میں زندہ ہے اور آپ کے لیے دعا کر رہا ہے متحد ہوئے ہیں؟

یہاں آپ کے دِل میں کوئی اچھی بات نہیں ہے، کچھ نہیں ماسوائے خالی پن، بدکاری اور گناہ کے۔ لیکن اوپر آسمان میں مسیح رہتا ہے، اور وہ تنہا ہی آپ کے گناہ معاف کرسکتا ہے اور آپ کو زندگی دے سکتا ہے! آپ اپنی تمام زندگی خود میں جھانک کر دیکھ سکتے ہیں، لیکن آپ کو خود میں کچھ نہیں ملے گا سوائےجرم اور خباثت کے۔ اِس کے باوجود یسوع میں راستبازی، امن اور زندگی ہے، اگر آپ اُس کے پاس آئینگے، تو وہ آپ کے ہونگی۔ اب، کیا آپ اُس کی طرف دیکھیں گے اور زندہ رہیں گے؟

کافی عرصے سے آپ کچھ شک، اندھیرے اور مایوسی میں مبتلا رہے ہیں۔ کیوں؟ کیا یہ خُدا کا قصور ہے؟ نہیں! نہیں! تو پھر یہ کس کا قصور ہے، اگر خود یہ آپ کا اپنا نہیں ہے؟ آپ اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے لیے کوشش کرتے رہے ہیں، اور جب تک آپ کوشش کرتے رہیں گے آپ سکون مگرکبھی نہیں پا سکیں گے۔ صرف ابھی، اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھیں، اور یسوع میں، اور خُدا کے فضل کے تخت کے لیے، اور رحم کی کرسی پر یسوع کے خون کے لیے دیکھیں۔ آپ کو یسوع کو دیکھنے کے لیے حکم دیتے ہیں، اور یسوع کے ذریعے سے بچائے جائیں، اور صرف تنہا یسوع کے ہی ذریعے سے۔ تو پھر آئیں، یسوع میں آئیں۔میں یہاں آپ کو بتانے کے لیے ہوں کہ یسوع مفت میں ہے، کہ نجات مفت میں ہے، کہ آسمان مفت میں ہے کہ خوشی اور شادمانی مفت میں ہیں – اُن تمام کے لیے جو یسوع کے لیے آئیں گے اور تنہا اُسی میں آرام پائیں گے! پھر، آج رات ہی، آئیں۔ یسوع کے لیے آئیں اور جئیں!

میری غلامی، دُکھوں اور اندھیروں سے باہر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیرے نور، شادمانی اور آزادی میں داخلے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں؛
میری بیماری سے نکل کر، تیری تندرستی میں،
   میری چاہت سے نکل کر اور تیرے خزانوں میں،
میرے گناہ سے باہر اور خود تیری ذات میں،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔

میں اِس حمدوثنا کے گیت کا ایک اور بند گاؤں گا۔ جب میں یہ گاؤں، مہربانی سے اجتماع گاہ کے پچھلی جانب چلے جائیے اور ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے۔ میں کس قدر دعا کرتا ہوں یسوع کے لیے سادہ ایمان کے ذریعے سے آپ اپنی غلامی، دُکھ اور اندھیروں سے نکل کر نور، شادمانی اور آزادی میں آئیں گے۔ ابھی اجتماع گاہ کی پچھلی جانب جائیں، ایک اور کمرے میں جائیں، اور یسوع کے پاس آئیں!

اپنے بے انتہا شرمناک ہار اور نقصان سے نکل کر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیری صلیب کی پُرجلال فتح میں آنے کے لیے،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
زمینی دُکھوں میں سے نکل کر تیری شفا یابی میں آنے کے لیے،
   زندگی کے طوفانوں سے نکل کر اور تیرے سکون میں آنے کے لیے،
پُر مسرت خوشی کے گیت گانے کے لیے پریشانی سے نکل کر،
   یسوع میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
(’’یسوع، میں آتا ہوں Jesus, I Come‘‘ شاعر ولیم ٹی. سلیپر William T. Sleeper،
1819۔1904).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan حزقی ایل 37:1۔10 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مجھ پر پھونکو Breathe on Me‘‘ (شاعر بی. بی. میکقینی B. B. McKinney، 1886۔ 1952).

لُبِ لُباب

سوکھی ہوئی ہڈیوں کی وادی

THE VALLEY OF DRY BONES

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’خداوند خدا ان ہڈّیوں سے یوں فرماتا ہے: میں تمہارے اندر رُوح ڈالوں گا اور تُم زندہ ہو جاؤ گی‘‘ (حزقی ایل 37:5).

(رومیوں 11:26؛ 3:9؛ 10:12)

1۔ اوّل، سوکھی ہوئی ہڈیوں کی وادی، حزقی ایل 37: 1۔2؛ رومیوں 5:19، 12؛
افسیوں 2: 5، 1؛ رومیوں 8: 7 .

2۔ دوئم، مبلغ کی بلاہٹ، حزقی ایل 37: 1، 2، 3.

3۔ سوئم، تبلیغ کے لیے حکم، حزقی ایل 37: 4؛ یوحنا 8:43؛ حزقی ایل 3: 11؛ 37:6 .

4۔ چہارم، ہڈیوں کی کھڑکھڑاہٹ، حزقی ایل37:7.

5۔ پنجم، ہڈیوں پر چمڑی کا چڑھنا، حزقی ایل37:8.

6۔ ششم، زندگی دینے والی روح کا آنا، حزقی ایل 37:9۔10.