Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

تحقیر زدہ لیکن پیار!

!DESPISED BUT LOVELY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
8 جولائی، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, July 8, 2012

’’وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘ (سلیمان کا گیت 5:16).

مجھے یقین نہیں ہے کہ میں نے کبھی سلیمان کے گیت پر کوئی واعظ دیا ہو۔ شاید یہ ایک غلطی ہو چکی ہے۔ سپرجئین کے واعظوں کی مکمل فہرست دیکھنے پر، میں نے پایا کہ مبلغین کے شہزادے نے لندن میں اپنی منادی کے دوران سلیمان کے گیت پر 63 واعظ دیئے تھے۔ اِس لیے میں آج اِس تلاوت تک پہنچا ہوں۔ میں نے یہ حادثاتی طور پر دو ہفتے پہلے پائی تھی، اور میں اِسے اپنے ذہن سے نہ نکال سکا۔ میں بار بار سوچتا ہی رہا،

’’وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘
’’وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘
’’وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘

آخر کار، یہ ظاہر ہوا کہ خدا کی روح مجھے اکیلا نہیں چھوڑے گی جب تک کہ میں اِس پر واعظ نہ دے لیتا۔

ڈاکٹر میکجی Dr. McGeeنے کہا، ’’یہودی سلیمان کے گیت کو مقدسوں میں سے مقدس کہتے تھے۔ اِس لیے، ہر کسی کو اُس کی مقدس احاطے میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ یہ ہے جہاں آپ عظیم رُتبے کی خُفیہ جگہ میں بس رہے ہیں. . . اگر خداوند یسوع آپ کے لیے اہمیت رکھتے ہیں اور آپ اُس کو پیار کرتے ہیں، تو پھر یہ چھوٹی کتاب آپ کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوگی۔ سلیمان کا گیت شاعرانہ اور عملی ہے۔ یہاں خُدا اپنے لوگوں سے شاعرانہ گیتوں میں کلام کرتا ہے جو ایک کہانی افشاں کرتا ہے۔ جب ہم اِس کتاب کو کھولیں تو ہمیں اپنے روحانی جوتے اپنے پیروں سے اُتار کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مقدس زمین پر ہیں۔ سلیمان کا گیت ایک نازک پھول کی مانند ہے جسے نازک اندامی سے پکڑنے کی ضرورت ہے۔ اِس کتاب میں چار مختلف اور اہم معنی پائے گئے ہیں‘‘ (جے. ورنن میکجی J. Vernon McGee، ٹی ایچ.ڈی.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلِشرز، 1982، جلد سوئم، صفحہ 143).

اوّل، سلیمان کا گیت ایک شوہر اور بیوی کے درمیان پیار کی ایک تصویر ہے۔ دوئم، یہ اِسرائیل کے لیے خدا کے پیار کی تصویر ہے۔ قدیم ربیّوں نے یہی دو تاویلیں پیش کی ہیں۔ لیکن مسیحیوں کے لیے دو اور باتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ سوئم، یہ مسیح اور اُس کی کلیسیا کے درمیان پیار کی ایک تصویر ہے۔ چہارم، یہ انفرادی مسیحی کے لیے مسیح کے پیار کی اور مسیح کے ساتھ شخصی بات چیت کی منظر کشی کرتا ہے۔ خدا کے بہت سے عظیم مقدسین نے اِس کا تجربہ کیا ہے۔ سلیمان کے گیت رابرٹ میورے میکچین Robert Murray McCheyne کی پسندیدہ کتاب تھی جو سکاٹش مبلغ تھے اور جنہوں نے اپنی منادی کے دوران تجدید نو کی بہت بڑی لہریں دیکھیں۔ میکچین کے بارے میں کہا جاتا تھا، ’’وہ اپنے ماتھے پر دائمیت کی مہر کے ساتھ تبلیغ کرتے تھے،‘‘ بے شک وہ 29 سال کے تھے جب اُنہوں نے وفات پائی۔ بائبل میں سلیمان کے گیت اُن کی پسندیدہ کتاب تھی۔ جب رابرٹ میکچین سلیمان کے گیت میں سے تبلیغ کرتے تو بڑے بڑے لوگ اپنے زانو پر گر کر رو پڑتے تھے، اور سخت دل گنہگار اپنے دِل مسیح کے لیے نچھاور کر دیتے تھے۔ یہ عظیم سکاٹش مبلغ سیموئیل روتھرفورڈ Samuel Rutherford (1600۔1661)، ڈی. ایل. موڈی D. L. Moody (1837۔1899) اور ھیری آئرنسائید Harry Ironside (1876۔1951) کی بھی پسندیدہ کتاب تھی، اور جیسا کہ میں نے کہا، سپرجئین نے سلیمان کے گیت میں سے 63 واعظوں کی تبلیغ کی تھی۔ لوئیس کے چھوٹے جزیرے Isle of Lewis میں تجدید نو آئی تھی جب ڈنکن کیمپ بَیل Duncan Campbell نے سلیمان کے گیت میں سے ایک واعظ دیا تھا۔

اب، پھر ہم تلاوت کے لیے آتے ہیں، ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘ دلہن نے اپنے شوہر کے لیے کہا، ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘ یوں، مسیحی مقدسین نے بھی یسوع کے لیے کہا، ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘ جب میں نے اِس آیت کو تبلیغ کے لیے چُنا میں نے سوچا، جیسے سپرجئین نے سوچا تھا، ’’یہ بہت اعلٰی ہے، میں اِس کو سمجھ نہیں پاؤں گا۔‘‘ اِس طرح کی گہری تلاوتیں کبھی کبھی مجھ بے قابو کر دیتی ہیں۔ لیکن اگر میں اِس کا تمام مطلب نہ نکال سکا، تو میں کم از کم اِس میں سے کچھ تو آج صبح پیش کر سکوں گا۔ تمام زندگی کے لیے دنیا کی ساری شان و شوکت دیکھنے سے بہتر یسوع پر ایک چھوٹی سی نگاہ ڈال لینا ہے، کیونکہ وہ تنہا ہی، ’’سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘مجھ اجازت دیجیے کے چند لمحات کے لیے یسوع کے دو متقابل نظریے آپ کے سامنے لاؤں – ایک جو دنیا کا ہے اور ایک جو سچے مسیحی کا ہے۔

1۔ اوّل، کھوئی ہوئی دُنیا یہ نہیں سوچتی کہ یسوع سراپا عشق ہے۔

کیا آپ نے غور کیا کہ دنیا کس طرح سے آج اُسے اپنے سے دور کرتی جا رہی ہے؟ یہ لگتا ہے کہ جیسے وہ اُس کا نام تک سُننا گوارا نہیں کرتے ہیں۔ میں نے سُنا ہے کہ ریاستحائے متحدہ کی ہوائی فوج میں پادریوں کو اب یسوع کے نام میں دعا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب پادریوں کو شہری تقریبات میں دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اب خاص طور پر اُنہیں کہا جاتا ہے کہ اپنی دعاؤں کا اختتام یسوع کے نام میں مت کریں۔ یسوع کے نام کی ناپسندیدگی نئی نہیں ہے، مگر یہ ہر سال مذید بڑھتی جاتی ہے۔ بہت پہلے فلموں کے ابتدائی دِنوں میں، جب بھی مسیحیوں کو دعا میں دیکھایا جاتا، تو سٹوڈیو میں موجود کاروباری حضرات اُنہیں ’’یسوع کے نام میں، آمین‘‘ کہنے سے ہمیشہ روکتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ اُن کاروباریوں نے سوچا کہ ہمیں محسوس نہیں ہوگا جب وہ یسوع کا نام ہٹائیں گے۔ لیکن چونکہ ہم ہمیشہ اپنی دعاؤں کا اختتام ’’یسوع کے نام میں‘‘ کرتے ہیں، اِس لیے ہم نے بھانپ لیا، اور اِس کی وجہ سے ہمیں احساس ہوا کہ وہ لوگ کس قدر یسوع سے نفرت کرتے ہیں۔

اُن کی نجات دہندہ کے لیے نفرت اور زیادہ واضح ہو گئی جب اُنہوں نے وہ گُستاخانہ فلم چلائی، ’’مسیح کی آخری آزمائش‘‘، جس میں نجات دہندہ کو ایک جنسی بیوقوف دیوانہ دیکھایا۔ اور میں ہماری بیٹھک میں کرسی پر بیٹھااور اُس فلم کے بارے میں سوچا جب میں نے پڑھا کہ یہ آنے والی ہے۔ اور خُدا نے مجھ سے کہا – میں تقریباً اُس کی آواز سُن سکتا تھا – اُس نے کہا، ’’رابرٹ، کیا تم اُنہیں یوں کرنے پر ایسے ہی جانے دو گے؟’’ میں نے کہا، ’’اے باپ، میں کچھ بھی تو نہیں کر سکتا۔‘‘ اور اُس نے کہا، ’’اگر تم کچھ نہیں کر سکتے تو پھر کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ اور اِس لیے ہم گئے اور ہم نے یسوع کا دفاع کیا۔ اُنہوں نے ہمارے مظاہرے شام کی خبروں میں ہر چینل پر دکھائے۔ اُنہوں نے اِسے نیویارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جریدے کے صفحۂ اوّل پر چھاپا۔ اُنہوں نے اِسے نائٹ لائن پر، ٹونائٹ شو پر، کراس فائر شو پر دیکھایا اور یہاں تک کہ ایک تصویر اور ہمارے مظاہرے کے بارے میں کہانی ٹی وی گائیڈ میں چھاپی! اِس کی رپورٹیں بین الااقوامی طور پر انگلستان، فرانس، اٹلی، یونان، آسٹریلیا اور اسرائیل میں شائع ہوئیں جہاں سے میرے ایک دوست نے فون کیا اور مجھے بتایا کہ یہ یروشلم پوسٹ کے صفحۂ اوّل پر شائع ہوا تھا۔مجھے ابھی ابھی تھامس آر. لِنڈآف Thomas R. Lindof کی کتاب ’’ہالی ووڈ محاصرے میں Hollywood Under Siege‘‘ (2008، کینٹکی کی پریس یونیورسٹی The University Press Kentucky) وصول ہوئی۔ جِلد پر ہمارے مُناد ڈاکٹر سی. ایل کیگن Dr. C. L. Cagan کی ہمارے گرجہ گھر کے تقریباً 125 لوگوں کے ساتھ جنہوں نے غلیظ، گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی بینر اُٹھائے ہوئے تھے ایک رنگین تصویر ہے۔ اہم بینر، تقریباً تیس فٹ لمبا تھا جس پر لکھا تھا، ’’ویسسرمینWasserman – یسوع کو بخش دو!‘‘ لئیو ویسسرمین اِس وہ آدمی تھا جس نے اِس فلم کے اخراجات برداشت کیے۔ اِس کتاب میں میرا تیرہ مختلف جگہوں پر حوالہ دیا گیا۔ وہ ناصرف یسوع سے نفرت کرتے تھے، بلکہ وہ ڈاکٹر کیگن اور مجھے، اور ہمارے گرجہ گھر سے بھی نفرت کرتے ہیں، کیونکہ ہم نجات دہندہ کا دفاع کرنے کے لیے جرأت کر رہے ہیں! کتاب ’’ہالی ووڈ محاصرے میں‘‘ کہلاتی ہے۔ اِس کے بارے میں سوچئیے، 125 کمسِن بپتسمہ دینے والوں نے تمام ہالی ووڈ کو ’’محاصرے میں‘‘ کر دیا! بہت بڑے بڑے طاقتور فلمی کاروباری ایک اندرونِ شہر کے گرجہ گھر کے چند درجن کمسِن بپتسمہ دینے والوں کے ’’محاصرے میں‘‘ تھے! لیکن پھر میں جان گیا، اور اب میں جانتا ہوں، کہ کس قدر ہالی ووڈ اور بیورلی ھلز Beverly Hills کی ممتاز ہستیاں، نیویارک اور واشنگٹن خداوند یسوع مسیح سے نفرت کرتے ہیں۔ بِل مہر Bill Maher سے لے کر جارج کلونی George Clooney تک، اینڈرسن کوپر سے لیکر وولف بلِٹزرWolf Blitzer تک – انہوں نے بیٹے کی تحقیر کی اور اُسے مسترد کیا۔ یہاں تک کہ گذشتہ سال صدر اُوباما نے بھی اُنکے باضابطہ اعلان کی شکرگزاری کے دوران اُس [یسوع] کا تزکرہ تک نہیں کیا، بلکہ صرف ایک بُت کا حوالہ دے دیا۔ اور میرا نہیں خیال کہ یہ ختم ہوگا، جب تک کہ گرجہ گھروں کے خلاف کھلے عام ایذا رسانیاں نہ ہوں، اور میرا یقین ہے کہ آپ یہ اپنی زندگی میں ہی دیکھیں گے – اور یہاں تک کہ میں بھی اپنی زندگی میں ہی دیکھوں گا۔

سب سے بدترین بات یہ ہے کہ یسوع کو آج ہمارے بہت سے گرجہ گھروں میں پیچھے آتشدان پر رکھ دیا گیا ہے۔ اُس کو تو یہاں تک کہ اپنے دوستوں کے گھر پر بھی خوش آمدید نہیں کہا جاتا ہے! ڈاکٹر مائیکل ہارٹن Dr. Michael Horton اُس کے بارے میں اپی طاقتور اور زودوفہم سے بھرپور کتاب مسیح کے بغیر مسیحیت Christless Christianity (بیکر بُکس Baker Books، 2008) میں لکھ چکے ہیں. اُس کے کور پر لکھا ہے، ’’ہارٹن بحث کرتے ہیں کہ جبکہ ہم ابھی تک بغیر مسیح کے مسیحیت تک نہیں پہنچے ہیں، ہم اب بھی اپنے راستے پربالکل گامزن ہیں۔ اکثر مسیح اور مرکزِ مسیح کی خوشخبری کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ ہم مسیح کے نام سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘ لیکن ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ یسوع کے ساتھ آج بہت بُرا سلوک کیا جاتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’اُس میں نہ کوئی حُسن تھا نہ جلال؛ کہ ہم اُس پر نظر ڈالتے، کہ اُس کی شکل و صورت میں کوئی ایسی خوبی تھی کہ ہم اُس کے مشتاق ہوتے۔ لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور رد کر دیا؛ وہ ایک غمگین انسان تھا جو رنج سے آشنا تھا: اور اُس شخص کی مانند تھا جسے دیکھ کر لوگ منہ موڑ لیتے ہیں؛ وہ حقیر سمجھا گیا اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ کی‘‘ (اشعیا 53:2۔3).

یہ طریقہ ہے کہ قدرتی انسان ایک غیر محفوظ حالت میں یسوع کو دیکھتا ہے۔ ’’اُس میں کوئی حُسن نہ تھا کہ ہم اُس کی خواہش کرتے‘‘ اور اِس لیے اُنہوں نے اُسے ’’حقیر جانا اور مسترد کیا۔‘‘ میں جانتا ہوں ایسے ہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا۔ جب میں ایک چھوٹا لڑکا تھا میں تقریباً روزانہ کیتھولک گرجہ گھر میں بے مقصد پھرا کرتا تھا۔ ماضی میں 1940 کی دہائی میں تمام اوقات گرجہ گھر کے دروازے کھلے رکھتے تھے۔ اور میں اندر جایا کرتا تھا کیونکہ وہاں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ اُس گرجہ گھر میں یسوع کا ایک جیتا جاگتا مکمل قد کامجسمہ تھا، جس نے اپنی صلیب اُٹھائی ہوئی تھی اور خون چہرے سے بہہ رہا تھا۔ میں نے اُس کو ایک الم ناک ہستی کے طورپر دیکھا، ایک شہید جسے اُنہوں نے مارا اور مصلوب کیا۔ ایک بچے کی حیثیت سے اُس گرجہ گھر میں اُس کی مصلوبیت کی سوچ مجھے دھشت زدہ کر دیتی تھی۔ وہ سوچ میرے ساتھ 28ستمبر، 1961 بیس برس کی عمر تک رہی، اُس دِن تک جب تک کہ میں آخر کار مذہبی طور پر تبدیل ہوا۔ اُس دِن تک میں نے یسوع کو بحیثیت ایک ہولناک حد تک غلط سمجھی جانے والی الم ناک ہستی سوچا جسے ایک صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا اور وہ بغیر کسی اُمید کے مر گیا۔ لیکن جس دِن میں مذہبی طور پر تبدیل ہوا میں نے اُسے پہلی مرتبہ ایک جیتے جاگتے، مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھے ہوئے نجات دہندہ کے طور پر دیکھا جس نے موت پر فتح پائی، اور جو آسمان میں خدا باپ کے داہنے ہاتھ پر زندہ تھا، جو مجھے میرے گناہ سے بچائے گا اور میری زندگی کو بدل دے گا۔ جب میں نے اُس صبح 51 سال پہلے اُسے دیکھا، وہ پہلی مرتبہ سراپا عشق انگیز تھا!

2۔ دوئم، حقیقی مسیحی دیکھتا ہے کہ وہ سراپا عشق ہے۔

یسوع میٹھا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں،
   اور وہ اپنے نام ہی کے جیسا پیارا ہے،
اور یہی وجہ ہےکہ وہ کیوں مجھے اِتنا پیارا ہے؛
   اوہ، یسوع میٹھا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں۔
(’’یسوع میٹھا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں
Jesus is the Sweetest Name I Know شاعر لیلا لانگ Lela Long، 1924).

یہ شاید آپ کے لیے بھی اچانک ہو، جیسے میرے ساتھ ہوا تھا۔ اور شاید آپ آہستہ آہستہ دیکھ پائیں کہ وہ کس قدر عشق انگیز ہے، جب تک آپ اُس کے سامنے دوزانو ہو جائیں اور اُس پر اپنے خُدا اور نجات دہندہ کے طور پر بھروسہ کریں۔ جس لمحے میں نے یسوع پر بھروسہ کیا میں چارلس ویزلی کے ساتھ مل کر گیت گا سکا،

میری زنجیریں کھل گئی تھیں، میرا دِل آزاد تھا؛
   میں اُٹھا، آگے بڑھا،اور اُس کی پیروی کی۔
حیرت انگیز پیار! یہ کیسے ہو سکتا ہے
   وہ تم تھے، میرے خُداوند، جو میرے لیے مرا تھا۔
(’’اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ And Can It Be? ‘‘ شاعر چارلس ویزلی Charles Wesley،
1707۔1788).

اصل میں ہم نے یہی گیت اُس صبح گایا تھا جس صبح یسوع نے مجھے بچایا تھا!

بہت عرصے تک میری روح پڑی رہی۔
   شبِ قدرت اور گناہ میں کڑی بندھی ہوئی؛
تیری آنکھوں نے جی اُٹھنے کی شعاع پھیلائی،
   میں جاگا، قیدخانہ نور سے بھر گیا تھا؛
میری زنجیریں کھل گئی تھیں، میرا دِل آزاد تھا؛
   میں اُٹھا، آگے بڑھا،اور اُس کی پیروی کی۔
حیرت انگیز پیار! یہ کیسے ہو سکتا ہے
   وہ تم تھے، میرے خُداوند، جو میرے لیے مرے تھا۔

اُس لمحے مَیں سپرجئین یا میکچین کے ساتھ چیخ چکا ہوتا، ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے!‘‘ میں اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت کے ساتھ وہ پرانا جرمن حمدوثنا کا گیت گا چکا ہوتا،

عشق انگیز خداوند یسوع، تمام قدرت کا حکمران،
   او تو خداوند کا ہے اور آدمی کا بیٹا!
تجھ میں مَیں پھلوں گا، تیری ہی میں تعظیم کروں گا،
   تو ہی میری روح کا جلال، خوشی اور تاج ہے!

عشق انگیز منّجی! قوموں کے خُداوند!
   خُدا کے بیٹے اور انسان کے بیٹے!
جلال اور تعظیم، ستائش اور احترام،
   اب اور ہمیشہ تک تیرا ہی ہو!
(’’عشق انگیز خُداوند یسوع Fairest Lord Jesus،‘‘ 17 ویں صدی کا جرمن حمدوثنا کا گیت،
مترجم جوزف اے. سیعز Joseph A. Seiss، 1823۔1904).

’’وہ سراپا عشق انگیز ہے!‘‘

یہ یسوع ہے،

’’مسیح اندیکھے خدا کی صورت ہے اور تمام مخلوقات سے پہلے موجود ہے۔ اُسی کے وسیلہ سے خدا نے سب کچھ خلق کیا ہے چاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں یا زمین کی، دیکھی ہوں یا اندیکھی، تخت ہوں یاریاستیں، حکومتیں ہوں یا اِختیارات۔ اِن سب کو خدا نے مسیح کے ذریعہ اور اُسی کی خاطر پیدا کیا۔ وہ سب چیزوں میں سب سے پہلے ہے اور اُسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں۔ کلیسیا اُس کا بدن ہے اور وہ اِس بدن کا سر ہے۔ وہی مَبداء ہے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا تاکہ سب باتوں میں پہلا درجہ اُسی کا ہو۔ کیونکہ خدا کو یہ پسند آیا کہ ساری معموری اُسی میں سکونت کرے۔ خدا کی مرضی یہ بھی تھی کہ مسیح کے خُون کے سبب سے جو صلیب پر بہا، صلح کرکے سب چیزوں کا اپنے ساتھ میل کرلے، چاہے وہ چیزیں آسمان کی ہوں، چاہے زمین کی۔ کسی وقت تُم خدا سے بہت دُور تھے اور اپنے بُرے چال چلن کے سبب سے اُس کے سخت دُشمن تھے۔ لیکن اب اُس نے مسیح کی جسمانی مَوت کے وسیلہ سے تمہیں اپنا دوست بنا لیا ہے تاکہ وہ تمہیں پاک، بے عیب اور بے اِلزام بنا کر اپنے حضور میں پیش کرے‘‘ (کُلسیوں 1:15۔22).

ھیلیلویاہ! یہ یسوع ہے! ’’ہاں جی، وہ سراپا عشق انگیز ہے!‘‘ ہم اُس کی تحقیر کرنے اور اُس کو مسترد کرنے سے ہٹ کر اُس کی ستائش میں شکرگزار ہو کر گر رہے ہیں – کیونکہ وہ صلیب پر ہمیں بچانے کے لیے مرا، اور ہمیں زندگی دینے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا! ھیلیلویاہ! ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے!‘‘ ’’ہاں جی، وہ سراپا عشق انگیز ہے!‘‘

یسوع میٹھا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں،
   اور وہ اپنے نام ہی کے جیسا پیارا ہے،
اور یہی وجہ ہےکہ وہ کیوں مجھے اِتنا پیارا ہے؛
   اوہ، یسوع میٹھا ترین نام ہے جو میں جانتا ہوں۔

اُس بدکار عورت کی مانند آئیں جس نے ’’اُس کے پاؤں چومے تھے‘‘ (لوقا 7:38). اور یسوع نے اُس سے کہا تھا، ’’تیرے گناہ معاف ہوئے‘‘ (لوقا 7:48). ’’بیٹے کو چومیں۔‘‘ بائبل ایسا کرنے کے لیے کہتی ہے! بیٹے کو چومو. . . مبارک ہیں وہ جو اُس میں پناہ لیتے ہیں‘‘ (زبور 2:12). کیا آپ آج صبح خُدا کے بیٹے کو چومیں گے، اور اُس میں پناہ لیں گے؟ آپ کہتے ہیں، ’’خُدا کے بیٹے کو چومیں؟‘‘ جی ہاں! جی ہاں! اُسے ایمان کے ساتھ چومیں اور اُس میں پناہ لیں، کیونکہ وہ ہی سراپا عشق انگیز ہے! سپرجئین نے کہا،

      آپ کو یسو ع کے پاس آنے کے لیے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘ یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ سراپا ہولناک ہے – یہ اُس کے بارے میں آپ کی غلط فہمی ہے؛ یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ کچھ عشق انگیز ہے، اور کبھی کبھی کچھ خاص قسم کے گنہگاروں کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتا ہے؛ مگر ’’وہ سراپا عشق انگیز ہے،‘‘ اور اِس لیے وہ ہمیشہ گھٹیا ترین [گنہگاروں کو] خوش آمدید کہنے کے لیےتیار رہتا ہے۔ اُس کے نام کے بارے میں سوچیں۔ یہ یسوع ہے، نجات دہندہ۔ کیا یہ ایک عشق انگیز نام نہیں ہے؟ اُس کے کام کے بارے میں سوچیں۔ وہ آیا ہے اُسے ڈھونڈنے کے لیے اور بچانے کے لیے جو کھو گیا تھا۔ یہ اُس کا پیشہ ہے۔ کیا یہ عشق انگیز نہیں ہے؟ سوچیں کہ وہ کیا کر چکا ہے۔ اُس نے ہماری جانوں کو اپنے خون سے آزاد کرایا ہے۔ کیا یہ عشق انگیز نہیں ہے؟ سوچیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ وہ خُدا کے تخت کے سامنے گنہگاروں کے لیے [دعا کر رہا] ہے. . . کیا یہ عشق انگیز نہیں ہے؟ [آپ کسی طور بھی اُس کو دیکھیں] یسوع گنہگاروں کے لیے جنہیں اُس کی ضرورت ہے دلکش و پرکشش ہے۔ آئیں، پھر، آئیں اور خوش آمدید ہو، یہاں آپ کو روکنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، یہاں ہر چیز آپ کو لانے کے لیے [بُلا رہی] ہے۔ خُدا کرے کہ یہ سبت کا دِن جس میں مَیں نے مسیح کی تبلیغ کی ہے، اور اُسے بُلند کیا ہے، وہ دِن ہو جب آپ اُس کی طرف کھینچے چلے آئیں، اُسے کبھی دوبارہ نہ چھوڑنے کے لیے، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُس کے ہونے کے لیے۔ آمین۔ (سی. ایچ. سپرجئین، ’’سراپا عشق انگیز،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1977، جلد 17، صفحات 407۔408).

’’ہاں جی، وہ سراپا عشق انگیز ہے۔‘‘ اور وہ اپنے پاس بُلانے کے لیے اور اُس میں پناہ لینے کے لیے آپ کو بلاتا ہے، کہ آپ تمام گناہ سے بچائے جائیں تمام وقتوں کے لیے اور تمام ابدیت کے لیے – کیونکہ وہ آپ سے اِسی قدر پیار کرتا ہے! کیونکہ وہ آپ سے اِسی قدر پیار کرتا ہے! کیونکہ وہ آپ سے اِسی قدر پیار کرتا ہے! اُس کے پاس آئیں – کیونکہ وہ آپ سے اسی قدر پیار کرتا ہے! وہ آپ سے منہ نہیں موڑے گا – کیونکہ وہ آپ سے اسی قدر پیار کرتا ہے!

میری غلامی، دُکھوں اور اندھیروں سے باہر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیرے نور، شادمانی اور آزادی میں داخلے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں؛
میری بیماری سے نکل کر، تیری تندرستی میں،
   میری چاہت سے نکل کر اور تیرے خزانوں میں،
میرے گناہ سے باہر اور خود تیری ذات میں،
     یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔

میں جب تک اِس حمدوثنا کے گیت کا ایک اور شعر گاتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اجتماع گاہ کی پچھلی جانب جائیں۔ اگر آپ ابھی مسیحی نہیں ہوئے ہیں، جائیں اور ہم آپ کو کچھ ادبی مواد پڑھنے کے لیے دیں گے۔ اگر آپ ابھی تک کھوئے ہوئے ہیں، تو جائیں جب کہ میں ایک اور بند گاتا ہوں۔ ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک اور کمرے میں لے جائیں گے، جہاں میں چاہتا ہوں کہ آپ ابھی، آج صبح ہی، یسوع کے پاس آئیں، کیونکہ وہ سراپا عشق انگیز ہے۔ آپ جائیں جبکہ میں ایک اور بند گاتا ہوں۔

قبر کی ہولناکی اور خوف سے نکل کر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتاہوں؛
تیرے گھر کے نور اور خوشی میں آنے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
انجانے کھنڈرات کی گہرائیوں سے نکل کر،
   تیری محفوظ پناہ گاہ کی چھت تلے آنے کے لیے،
ہمیشہ کے لیے تیرے پُر جلال چہرے کو دیکھنے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں۔
     (’’یسوع، میں آتا ہوں Jesus, I Come‘‘ شاعر ولیم ٹی. سلیپر William T. Sleeper،
         1819۔1904).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan سلیمان کے گیت 5:10۔16.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
خوبصورت ترین خُداوند یسوع Fairest Lord Jesus ‘‘
(جرمن سے ترجمہ کیا گیا، شاعر جوزف اے. سیعز Joseph A. Seiss، 1823۔1904).

لُبِ لُباب

تحقیر زدہ لیکن پیار!

!DESPISED BUT LOVELY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’وہ سراپا عشق انگیز ہے‘‘ (سلیمان کا گیت 5:16).

1۔ اوّل، کھوئی ہوئی دُنیا یہ نہیں سوچتی کہ یسوع سراپا عشق ہے،
اشعیا 53:2۔3 .

2۔ دوئم، حقیقی مسیحی دیکھتا ہے کہ وہ سراپا عشق ہے،
کلسیوں 1:15۔22؛ لوقا 7:38، 48؛ زبُور 2:12

.