Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

جس بات کو کرنے سے آپ خوفزدہ ہیں بہادری اُس کو کر رہی ہے!

(آزادی کے دِن پر ایک واعظ)
!COURAGE IS DOING WHAT YOU ARE AFRAID TO DO
(AN INDEPENDENCE DAY SERMON)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
یکم جولائی، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, July 1, 2012

’’مگر بزدلوں. . . سب جھوٹوں کی جگہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی۔ یہ دوسری موت ہے‘‘ (مکاشفہ 21:8).

اگلے بُدھ، چار جولائی آزادی کا دِن ہوگا۔ میں اِس موقع کو منانے کا اِس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں سوچ سکتا ماسوائے اِس کے کہ آپ کو تاریخ میں کچھ عظیم لوگوں کی یاد دلاؤں، اور آپ کو اُن کی دلیرانہ مثالوں کی پیروی کرنے کی حوصلہ افزائی کروں۔ اِن تاریک اور بُرے دِنوں میں ہمیں شاندار عورتوں اور مردوں کی مسیح کے لیے کھڑے ہونے کی سب سے زیادہ اشد ضرورت ہے۔ شاید یہ واعظ آپ کو ایسا کرنے کے لیے للکارے!

سب سے زیادہ متاثر کُن بیانات میں سے ایک جو میں اب تک پڑھ چکا ہوں صدر تھیوڈور روزویلٹ کے اِن الفاظ کے ساتھ تھا۔ اُنہوں نے کہا،

یہ تنقید نگار نہیں ہے جس کو مانا جاتا ہے؛ نہ ہی وہ انسان ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ کیسے یہ مضبوط انسان منہ کے بل گرے، یا کہاں نیک اعمال کے کرنے والے نے اُن کے لیے بہتری کی۔ صلہ اُس انسان کو جاتا ہے جو دراصل اکھاڑے میں ہوتا ہے، جس کا چہرہ مٹی پسینے اور خون میں لُتھڑا ہوتا ہے؛ جو بہادری سے مقابلہ کرتا ہے؛ جو غلطی کرتا ہے، اور بار بار گرتا ہے؛ کیونکہ بغیر غلطی اور کمزوریوں کے کوئی جدوجہد نہیں ہوتی؛ لیکن حقیقت میں نیک کام کرنے کے لیے کوشش کرتا کون ہے؛ جو بہت زیادہ جوش وخروش کو جانتا ہے، جو بہت زیادہ خلوص کو جانتا ہے؛ جو اپنے آپ کو ایک قابلِ قدر مقصد کے لیے وقف کردیتا ہے، جو بہت اچھی طرح سے آخر میں بہت زیادہ کارناموں کی فتوحات جانتا ہے اور جو بدترین طور پر اگر وہ ناکام ہوتا ہے، کم از کم جب وہ شدید جرأت کرتا ہے، تاکہ اُس کی جگہ کبھی بھی اُن سرد مہر اور بزدل لوگوں کے ساتھ نہ ہو جو نا تو فتح کو اور نہ ہی شکست کو جانتے ہیں۔

روز ویلٹ نے ’’جو بہادری کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے‘‘ اُس آدمی کا موازنہ ’’اُن سردمہر اور بزدل لوگوں کے ساتھ جو نا ہی تو فتح اور نہ شکست جانتے ہیں‘‘ سے کیا ہے۔

بہادری کیا ہے؟ کسی نے کہا، ’’بہادری خوف کا فقدان نہیں ہے، لیکن اِس عقیدے پر یقین کہ خوف سے زیادہ کوئی اور چیز اہم ہے۔‘‘ ایڈی ریِکین بیکر پہلی جنگ عظیم میں ایک اوّل درجے کی امریکی لڑاکا اور تمغۂ اعزاز پانے والے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران کپٹن ریِکین بیکر کو بحرِ اوقیانوس میں لڑتے ہوئے گولی لگی تھی۔ ہفتوں اُن کے بارے میں پتہ نہ چل سکا۔ اخبارات نے اُن کے گمشدگی خبریں چھاپ دیں اور تمام ملک میں ہزاروں لوگوں نے اُن کے لیے دعا کی۔ پھر اچانک وہ واپس آ گئے۔ اتوار کے اخبارات میں خبر شہہ سُرخیوں میں چھپی، اور ایک نشرپارے میں کپٹن ریِکین بیکر نے بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ ’’اور یہ حصہ بتاتے ہوئے میں ہچکچاؤں گا،‘‘ اُنہوں نے لکھا، ’’ماسوائے اِس کے کہ میرے علاوہ اِس کو میرے ساتھ چھ اور لوگوں نے دیکھا تھا۔ ایک بگلا نا جانے کہاں سے آیا اور میرے سر پر آ کر بیٹھ گیا – میں نے بہت پیار سے اپنا ہاتھ اوپر اُس تک پہنچایا – میں نے اُسے مارا اور پھر اُسے برابر سے ہم سب میں تقسیم کیا۔ ہم نے وہ سارے کا سارا کھایا، یہاں تک کہ چھوٹی ہڈیاں تک۔ کوئی بھی چیز کبھی اِس قدر لذیذ نہیں لگی۔‘‘ اُس بگلے نے کپٹن ریِکین بیکر اور اُس کے ساتھیوں کی جان بچائی تھی۔ یہ وہ تجربہ تھا کہ اُس نے مسیحیت قبول کی تھی۔ اُس نے بلی گراہم کو بتایا، ’’میرے پاس کوئی وضاحت نہیں ماسوائے اِس کے کہ خُدا نے اپنے فرشتوں میں سے ایک کو مجھے چُھڑانے کے لیے بھیجا‘‘ (بلی گراہم، ٓفرشتے: خُدا کی خفیہ نمائندے Angels: God’s Secret Agents، ڈبل ڈے اور کمپنی، 1975، صفحہ 4).

یہ کپٹن ایڈی ریِکین بیکر تھا جس نے کہا، ’’جس بات کو کرنے سے آپ خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے۔ کوئی جرأت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ خوفزدہ نہیں ہیں۔‘‘

ڈاکٹر مارٹن لوتھر کِنگ نے کہا، ’’جرأت ایک اندرونی عزم ہے جو باوجود رکاوٹوں اور خوفناک حالات کے آگے بڑھاتی ہے؛ بزدلی حالات کے سامنے ہار مان کر سر جھکانا ہے۔ جرأت خوف کا سامنا کرتی ہے اِس لیے اُس پر عبوریت پاتی ہے؛ بزدلی پر خوف غلبہ پاتا ہے اِس لیے وہ اُس میں عبوریت حاصل کرتی ہے۔‘‘ پولوس رسول نے کہا، اپنے ایمان پر قائم رہو، بہادر بنو، اور مضبوط ہوتے جاؤ‘‘ (1۔کرنتھیوں 16:13).

لیکن ہمارے دِن میں بہادری کو بطورِ ایک نیکی کے نہیں مانا جاتا ہے۔ کسی نہ کسی طرح، گذشتہ سو سالوں میں، جدید مسیحیت نے بہت سے جرأت مند آدمی اور عورتیں پیدا نہیں کی ہیں۔ جدید آدمی سے تعلق رکھتے ہوئے شاعر ولیم بٹلر یٹزس William Butler Yeats نے شدید گہری نظر کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،

بہترین تمام سزا سے دور ہیں، جبکہ بدترین
جذبہ شوق کی شدت کے ساتھ بھرپور ہیں۔
      (’’دوسری آمد‘‘).

آج ہم یہ تقریباً زندگی کے ہر مقام پر آزمایا جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں بنیاد پرست اسقاطِ حمل کرنے والے جذبہ شوق کی شدت کے ساتھ بولتے ہیں، جبکہ ’’بہترین‘‘ تمام سزا سے دور ہیں، اور کانگرس کے بڑے کمروں میں سزایابی کے حکم سے دور بھرپور خوف اور کمزوری کے ساتھ چلتے ہیں۔ ہمارے کالجوں میں بنیاد پرست پروفیسرز روزانہ کی بنیاد پر لائق مذمت پروپوگینڈا اُگلتے پھرتے ہیں، جبکہ وہ جو ثقافتی نظریہ رکھتے ہیں عاجزی کے ساتھ خوف سے اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ بے ایمان ’’جذبہ شوق کی شدت سے سرشار ‘‘ ہو کر بولتے ہیں، جبکہ قدامت پسند مسیحی مبلغ زیادہ تر اکثر بزدل لوگ ہیں، جو سچ کا اعلان کرنے کے لیے اپنی آوازیں بلند کرنے کی جرأت نہیں کرتے ہیں۔

بہترین تمام سزا سے دور ہیں، جبکہ بدترین
جذبہ شوق کی شدت کے ساتھ بھرپور ہیں۔

یہ رابرٹ شُلر Robert Schullerکا دور ہے، ناکہ مارٹن لوتھرMartin Luther کا۔ یہ جوئیل اُسٹین Joel Osteenکا دور ہے ناکہ جان ویزلیJohn Wesley کا۔ یہ جان پائپر John Piperکا دور ہے نا کہ جان ناکسJohn Knox کا۔ یہ ’’مثبت سوچ‘‘ کا دور ہے ناکہ ’’ناراض خدا کے ہاتھوں میں گہنگاروں‘‘ کا۔ یہ جارج ڈبلیو بُش George W. Bush اور باراک اُوبامہ Barack Obama کا دور ہے ناکہ ولیم جیننگز برائن William Jennings Bryanاور تھیوڈور روزویلٹ Theodore Rooseveltکا۔ یہ مائیکل مورMichael Moore اور نینسی پیلوسیNancy Pelosi کا دور ہے ناکہ جارج واشنگٹنGeorge Washington اور پیٹرک ھنری Patrick Henryکا۔ یہ بِل کلِنٹنBill Clinton کا دور ہے نا کہ ونسٹن چرچل Winston Churchillکا۔ یہ جان میک آرتھرJohn MacArthur اور آر. سی.سپرول R. C. Sproul کا دور ہے ناکہ جاناتھن ایڈورڈز Jonathan Edwards اور جارج وائٹ فیلڈ George Whitefield کا۔ یہ ہمارے تہذیب کا آخر ہے ناکہ اِس کبھی عظیم رہ چکنے والی قوم کی پیدائش کا۔ یہ سردمہر اور خاموش رہنے والے جوانوں کا دور ہے ناکہ شعلہ فشاں حب الوطنوں، دُنیا فتح کرنے والے مشنریوں اور شہیدوں کا۔ خُدا ہماری مدد کرے!

بہترین تمام سزا سے دور ہیں، جبکہ بدترین
جذبہ شوق کی شدت کے ساتھ بھرپور ہیں۔

ڈاکٹر اے. ڈبلیو. ٹوزر Dr. A. W. Tozer (1897۔1963) خود اپنی زندگی کے دوران نبی کہلاتے تھے۔ ایک مضمون باعنوان ’’ہمیں دوبارہ خدا کے لوگوں کی ضرورت ہے We Need Men of God Again‘‘ میں ٹوزر نے کہا،

      اگر بشارتِ انجیل کی مسیحیت کو زندہ رہنا ہے تو اُس کو دوبارہ لوگوں کی ضرورت چاہیے، درست قسم کے لوگ۔ اُسے اُن لوگوں سے جو بولنے کی جرأت نہیں کرتے ہیں لاتعلق ہو جانا چاہیے، اور اُس دعا اور مذید انکساری اور عاجزی میں ایسے لوگوں کی دوبارہ آنے کی تلاش کرنا چاہیے جو انبیاء اور شہیدوں جیسے جذبوں سے سرشار ہوں. . .
      اور جب بچانے والے آئیں – اصلاح پسند، تجدید نو کرنے والے، انبیاء – وہ خُدا کے لوگ اور جرأت والے لوگ ہونگے۔ وہ اپنی طرف خُدا کو رکھے ہونگے کیونکہ وہ خُدا کی طرف رہنے کے لیے محتاط ہونگے۔ وہ مسیح کے ساتھ شریکِ کار ہونگے اور پاک روح کے ہاتھ میں اوزار ہونگے۔ ایسے لوگ بلاشبہ روح سے بپتسمہ پائیں گے، اور اُن کی محنت سے وہ دوسروں کا بپتسمہ دے گا اور عرصے سے تاخیر ہوتی ہوئی تجدید نو کو بھیجے گا (اے. ڈبلیو. ٹوزر، ڈی.ڈی.، ’’ہمیں خدا کے لوگوں کی دوبارہ ضرورت ہے We Need Men of God Again،‘‘ خُدا اور لوگوں Of God and Men میں سے، کرسچن اشاعت خانے، 1960، صفحہ 16).

ڈاکٹر ٹوزر کا پیغام ’’ہمیں دوبارہ خُدا کے لوگوں کی ضرورت ہے We Need Men of God Again‘‘ کہلایا تھا۔ آمین! اِس تاریک اور بُرے وقت میں ہمیں راسخ عقائد والے اور جرأمندانہ عورتوں اور مردوں کی ضرورت ہے۔ اے خُدا، اِس کمزوری اور خوف کے لمحے می، جرأت مندانہ عورتوں اور مردوں کو دوبارہ بھیج!

’’مگر بزدلوں. . . سب جھوٹوں کی جگہ آگ اور گندھک سے جلنے والی جھیل میں ہوگی۔ یہ دوسری موت ہے‘‘ (مکاشفہ 21:8).

ہماری تلاوت سب سے زیادہ نورانی ہے۔ یہ گناہ کی آٹھ اقسام کی فہرست مہیا کرتی ہے جو ’’اُس جھیل کی طرف جو آگ اور گندھک سے جلتی ہے راہنمائی کرتی ہے: جو کہ دوسری موت ہے‘‘ (مکاشفہ 21:8). اِس مکاری کی تاریک فہرست میں پہلا گناہ کیا ہے؟ یہ قتل نہیں ہے۔ یہ بت پرستی نہیں ہے۔ یہ رنڈیوں کی دلالی نہیں ہے۔ یہ جادوگری نہیں ہے۔ یہ جھوٹ بولنا نہیں ہے نا ہی یہ حتٰی کہ بے اعتقادی ہے۔ یہ خوفزدگی ہے۔ خوفزدگی سب سے پہلی وجہ ہے کہ لوگ جہنم میں جاتے ہیں! خوفزدگی اُن لوگوں کی جو آگ کی جھیل میں ابدیت تک جلیں گے سب سے عام خصوصیت ہے۔ وہ وہاں اِس لیے جائیں گے کیونکہ حقیقی مسیحی بننے کے لیے انتہائی خوفزدہ اور بزدل تھے!

یونانی زبان میں ’’خوفزدہ fearful‘‘ کا ترجمہ ’’ڈیلاُس dilŏs ‘‘ ہے۔ جارج رِیکر بیری George Ricker Berry نے کہا اِس کا مطلب ’’بزدلی، ڈرپوکی‘‘ ہے (ایک یونانی انگریزی لُغت A Greek-English Lexicon). میتھیو ھنری Mathew Henry نے کہا، ’’خوفزدہ اِس کالی فہرست کی گاڑی کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ مذہب کی دشواریوں کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔‘‘ ڈاکٹر جان گِل نے کہا وہ ’’ایسے ہونگے جو ڈرپوک روح کے ہیں، اور سچ کے لیے بہادر نہیں ہیں، بلکہ جو، لوگوں کے خوف کی وجہ سے یا تو مسیح اور اُس کی خوشخبری کی کوئی رائے قائم نہیں کرتے، یا قائم کر کے اُسے چُھپا لیتے ہیں کہ کہیں اُنہیں مصائب اور ایذارسانیوں کا سامنا نا کرنا پڑے: یہ وہ ہیں جو درندے [شیطان] سے خوفزدہ ہیں، اور اُس کے لیے غلامی کی اطاعت میں زندگی گزارتے ہیں‘‘ (نئے عہد نامے کی تفسیر An Exposition of the New Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، جلد سوئم، صفحہ 858؛ مکاشفہ 21:8 پر ایک یاداشت(۔ جے. اے. سئیز J. A. Seiss نے یونانی زبان سے ’’ڈرپوک cowardly‘‘ترجمہ کیا اور کہا، ’’ ’ڈرپوک‘ وہ نہیں ہیں جو گناہ کے ساتھ کشمکش سے کمتر ہوں، قسم اُٹھانے کے لیے شرمندہ یا خوفزدہ ہوں اور اُن کا ایمان خدا اور اُس کے مسیح میں بنائے رکھے‘‘ (The Apocalypse، ژونڈروان اشاعت خانہ، n.d.، صفحہ 491؛ مکاشفہ 21:8 پر ایک یاداشت(۔

بزدل اور ڈرپوک لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ پورے دِل سے مسیح میں بھروسہ کریں گے تو وہ کچھ کھو دیں گے جو اُنہیں اہم نظر آتا ہے۔ وہ مسیح پر بھروسہ کرنے کا خطرہ اُٹھانے کی نسبت شیطان کی غلامی میں رہنا پسند کر لیں گے۔ وہ اُن اِسرائیلیوں کی مانند ہیں بیابان میں سے موسیٰ کی پیروی کا خطرہ اُٹھانے کے بجائے واپس مصر جا کر فرعون کے غلام بننا قبول کر لیں گے ۔

میں اکثر تذبذب کا شکار ہو جاتا ہوں جب میں یہ پڑھتا ہوں کہ موسیٰ نے مدیان کے سرزمین میں بسنے کے لیےجب پہلی دفعہ مصر چھوڑا تھا تو اُس نے ’’خوف کیا [اور] فرعون کے حضور سے فرار ہو گیا‘‘ (خروج :14۔15) – اور اِس کے باوجود، ہمیں عبرانیوں کی کتاب میں بتایا جاتا ہے، ’’ایمان ہی سے اُس نے بادشاہ کے غصّہ سے خوف نہ کھایا بلکہ ملک مصر کو چھوڑ دیا‘‘ (عبرانیوں 11:27). موسیٰ نے خوف کیا [اور] فرعون کے حضور سے فرار ہو گیا،‘‘ اور پھر بھی ’’اُس نے بادشاہ کے غصّہ سے خوف نہ کھایا بلکہ ملک مصر کو چھوڑ دیا‘‘ (عبرانیوں 11:27). کافی عرصے تک اِس کے بارے میں سوچتے رہنے کے بعد، میرا خیال ہے میں جواب جان گیا۔ موسیٰ نے خوف کیا، لیکن اُس نے اپنے خوف کا مقابلہ کیا اور کسی بھی طرح خدا کی فرمانبرداری کی۔ جیسا کہ ایڈی ریکین بیکر Eddie Rickenbacker لکھتے ہیں، ’’جس بات کو آپ کرنے سے خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے۔ کوئی جرأت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔‘‘ یا، جیسا کہ ڈاکٹر کِنگ نے لکھا، ’’ جرأت ایک اندرونی عزم ہے جو باوجود رکاوٹوں اور خوفناک حالات کے آگے بڑھاتی ہے۔ ‘‘آپ ڈاکٹر کِنگ کے بارے میں جو بھی سوچیں، وہ یقیناً ’’باوجود. . . خوفناک حالات کے آگے بڑھے،‘‘ یہاں تک کہ قیدخانے میں وقت گزارا، اور آخر کار اپنے عقائد کی وجہ سے قتل کر دیے گئے۔ وہ جو کچھ بھی تھے، وہ اُن سرد مہر اور بزدل لوگوں میں سے نہیں تھے جو نا تو فتح اور نا شکست ہی کو جانتے تھے۔‘‘ اگر اُنہوں نے اپنے آپ کو خوف میں ڈال لیا ہوتا تو اُن کی واشنگٹن ڈی. سی. میں یادگار نہ ہوتی۔ ’’جس بات کو آپ کرنے سے خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے۔ کوئی جرأت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔‘‘

10 مئی 1940 کو بادشاہ نے چرچل کو وزیر اعظم بنایا تھا۔ ھٹلر کی فوجیں پہلے ہی فرانس میں آ چکی تھیں، ہوائی راستے سے لندن سے صرف نوّے منٹوں کی دوری پر۔ انگلستان، یہ جان کر کہ اُن پر دنیا کا سب سے غضبناک جابر حکمران حملہ کرنے والا ہے خوف سے معذور ہو چکا تھا۔ چرچل نے بکنگھم محل چھوڑا اور اپنی گاڑی میں بیٹھے۔ اُن کے محافظ نے اُنہیں وزیر اعظم بننے پر مبارک باد پیش کی، لیکن کہا، ’’میں صرف خواہش کرتا ہوں کہ یہ رُتبہ آپ کو اچھے وقت میں مِلا ہوتا، اِس لیے آپ کے پاس ایک بہت بڑا کام ہے۔‘‘ چرچل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اُنہوں نے کہا، ’’صرف خدا جانتا ہے کہ یہ کس قدر عظیم ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ ابھی زیادہ تاخیر نہیں ہوئے ہے۔ میں کافی حد تک خوفزدہ ہوں کہ ہو چکی ہے۔ ہم صرف اپنے طور پر بہتر کر سکتے ہیں۔‘‘

’’میں کافی حد تک خوفزدہ ہوں۔‘‘ ’’ہم صرف اپنے طور پر بہتر کر سکتے ہیں۔‘‘ ’’جس بات کو آپ کرنے سے خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے؛‘‘ خوف کی غیر موجودگی نہیں، آپ بُرا نہ منائیے گا، مگر آگے بڑھنا اور وہ کرنا جس کو کرنے کے لیے آپ خوفزدہ ہوں – یہی جرأت ہے! ڈاکٹر کِنگ اور چرچل دونوں میں یہ خصوصیت تھی، اور اِس نے اُنہیں سر اور سینہ تان کر اِن جدید سیاست دانوں سے بلند کھڑا کر دیا ہے، یہ ’’سرد مہر اور بزدل لوگ جو نہ تو فتح اور نہ شکست جانتے ہیں۔‘‘

میں نے ہمیشہ صدر نیکسن کا احترام کیا ہے۔ وہ ایک کم آمدنی والے خاندان کا ایک غریب لڑکا تھا جو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ متاثر کرنے والے راہنماؤں میں سے ایک بنا تھا۔ میں اُنہیں اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ بلی گراھم نے کہا کہ وہ واحد گم سم سیاست دان تھے جو اُنہیں ملے۔ اُن کی شرمندگی ناکامی کے خوف کی گہرائی سے آئی تھی۔ لیکن اُنہوں نے بار بار ہر دفعہ اپنے خوف کا سامنا کیا۔ میں اُن کا احترام کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ واقعی ایک جرأت مند انسان تھے، کیونکہ، ’’جس بات کو آپ کرنے سے خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے۔ کوئی جرأت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔‘‘ نیکسن نے کہا، ’’عظیم خطرات مول لیے بغیر کوئی بھی عظیم کامیابیاں نصیب نہیں ہو سکتیں. . . اِس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آپ کو کونسے خطرات اُٹھانے ہیں، آپ کو کبھی بھی اُس بات میں نہیں گِھر جانا چاہیے کہ آپ شاید کیا کھو دیں گے۔ آپ کو ہمیشہ اپنے سامنے اور مرکز میں آپ کیا پا سکتے ہیں رکھنا چاہیے‘‘ (اکھاڑے میں In the Arena، سائمن اور شُزستر Simon and Schuster، 1990، صفحہ 197). یہ اپنا بہترین دینے کا اُن کا طریقہ تھا جو مسیح نے اِس طرح کہا،

’’کیونکہ جو کوئی اپنی جان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے وہ اُسے کھوئے گا: لیکن جو کوئی میرے لیے اپنی جان کھوئے گا، وہ اُسے محفوظ رکھے گا‘‘ (لوقا 9:24).

اگر آپ ’’انصاف کے ساتھ چلیں‘‘ اور مسیح کے لیے اپنی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں، تو آپ اپنی زندگی کھو دیں گے، اور اِس دُنیا میں’’سرمہر اور بزدل لوگ‘‘بن جائیں گے، اور ابدیت میں ایک کھویا ہوا نفس! یہ صرف یسوع مسیح پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے پر ہے کہ آپ وہ انسان بنتے ہیں جو خُدا آپ کو بنانا چاہتا ہے!

صدر ریگن کو سب سے زیادہ ملنے والی خراجِ عقیدت میں سے ایک یہ رائے تھی جو اُن کے بیٹے رُون Ron نے دی۔ آپ کو یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ رُون نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی تھی، اور ایک مایوس کُن چھوٹا سا آزاد خیال بنا جس نے کبھی اپنی زندگی کے ساتھ کچھ نہیں کیا۔ لیکن یہ ہے وہ خراجِ عقیدت جو اُس نے اپنے باپ کو دی تھی۔ اُس نے یہ بطورِ خراجِ عقیدت کے نہیں کہا تھا، لیکن یہ اُس سے کم نہیں تھی۔ رُون ریگن نے اپنے باپ کے لیے کہا، ’’آپ کبھی بھی اُن کو سمجھ نہیں پائیں گے؛ یہ پہلی بات ہے جو آپ کو سمجھنی چاہیے۔‘‘ یہ صدر کی نسبت بتانے کے بارے میں بیٹے کے بارے میں زیادہ بتاتا ہے، کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رُون ’’ایک سردمہر اور بزدل شخص تھا جو نا تو فتح اور نا شکست [جانتا] تھا۔‘‘جبکہ دوسری طرف، صدر ریگن، وہ آدمی تھے جن میں وہ کرنے کے جرأت تھی جسے کرنے سے وہ خوفزدہ تھے۔ صدر نے ایک دفعہ کہا، ’’ ایک ہیرو کسی سے بھی زیادہ بہادر نہیں ہوتا ہے: وہ صرف پانچ منٹ زیادہ بہادر ہوتا ہے۔‘‘ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ اُنہوں نے سویت یونین کا سامنا کیا اور اِشتراکیت کے خلاف سرد جنگ جیتی۔ وہ صرف اُن کی نسبت صرف پانچ منٹ زیادہ بہادر تھے! ایک دفعہ اُنہوں نے کہا کہ اشتراکیت کے ساتھ سرد جنگ میں اُن کی چال یہ تھی – ہم جیتے اور وہ ہارے!‘‘ اُن میں وہ کرنے کی جرأت تھی جو کرنے کے لیے وہ خوفزدہ تھے!

میں آپ کو ڈاکٹر کنگ، ونسٹن چرچل، رچرڈ نیکسن اور رونالڈ ریگن کے بارے میں کہانیاں پیش کر چکا ہوں۔ حالانکہ یہ لوگ مسیحی راہنماؤں کے طور پر نہیں جانے گئے تھے، میں اِس بات پر قائل ہوں کہ خُدا نے اُنہیں مغربی دُنیا کو بچانے کےلیے خصوصی جرأت دی تھی۔ میں عظیم مبلغین اور مشنریوں کی ایک بعد دوسری کہانی پیش کر سکتا ہوں جنہیں خُدا نے جرأت کا تحفہ دیا تھا کہ جس نے اُنہیں ’’اُن سردمہر اور بزدل لوگوں سے جو نا تو فتح اور نا ہی شکست کو جانتے تھے‘‘ سے بُلند کیا۔

ایک دفعہ ایک دعائیہ عبادت میں مَیں متعارف کروایا گیا ایک پادری کے ذریعے سے جس نےکہا، ’’ڈاکٹر ہیمرز ایک بالکل بے خوف انسان ہیں۔‘‘ میں جانتا ہوں کہ اُن کا مطلب مجھے عزت بخشنا تھا، لیکن یہ سچ نہیں تھا۔ آپ کبھی بھی ایسے آدمی کو نہیں ملیں گے جو مجھے سے زیادہ غیر محفوظ اور خوفزدہ ہو۔ میں نے کبھی بھی اپنی ذات میں خود اعتمادی نہیں پائی۔ اگر آپ ایک نفسیات دان کے طور پر سوچنا چاہتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میرے پرورش کے طریقے سے آیا ہوگا۔ میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ اگر میں ناکام ہوا تو کوئی حفاظتی جال نہیں ہے – وہاں کوئی نہیں تھا جو مجھے دوسرا موقعہ پانے میں مدد دے گا۔ لیکن خُدا نے بائبل میں سے مجھے ایک وعدہ دیا جو لگتا ہے کہ خاص طور پر میرے لیے لکھا ہے۔ یہ میری زندگی کی آیت ہے، اور یہ کہتی ہے،

’’مسیح مجھے طاقت بخشتا ہے اُس کی مدد سے میں سب کچھ کر سکتا ہوں‘‘
      (فلپیوں 4:13).

ایک نوجوان آدمی کے طور پر میں جانتا ہوں کہ مجھ میں میری اپنی کوئی صلاحیت یا قوت نہیں تھی۔ میں یہ تب بھی جانتا تھا اور اب بھی جانتا ہوں۔ اندر سے میں ایک خوفزدہ، بزدل شخص ہوں، اپنی ذات میں بغیر کسی اعتماد کے ساتھ۔ لیکن میں نے اپنے آپ کو یسوع کے رحم و کرم پر ڈال دیا ہے – اور اُس نے مجھے کبھی ناکام نہیں کیا۔ کبھی نہیں! اُس نے مجھے شکست سے فتح میں اتنی بار ڈالا ہے کہ میں اب جان گیا ہوں، خود اپنی ذات میں، کہ وہ مجھے کبھی ناکام نہیں کرے گا! اور آج صبح میں یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں،

رحم نے میری زندگی دوبارہ لکھی،
رحم نے میری زندگی دوبارہ لکھی۔
میں گناہ میں کھو گیا تھا،
لیکن یسوع نے میری زندگی دوبارہ لکھی۔

آج صبح آپ میں سے یہاں کچھ ایسے ہیں جو یسوع پر بھروسہ کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ میں آپ کو کہتے ہوئے سُن چکا ہوں، ’’میں خوفزدہ ہوں کہ میں جھوٹی تبدیلی کروں گا،‘‘ یا میں خوفزدہ ہوں میں بچایا نہیں جا سکتا،‘‘ یا ’’میں لائق نہیں ہوں۔‘‘ یہ وہ خوف ہیں جو آپ کو روکے رکھیں گے اور آخر کار، یہ خوف آپ کو ایک ’’سردمہر اور بزدل شخص جو نا فتح اور نا شکست کو جانتا ہو‘‘ میں بدل دیں گے۔ لیکن یاد رکھیئے، ’’جو کرنے سے آپ خوفزدہ ہیں جرأت اُسے کر رہی ہے۔‘‘ میں جانتا ہوں کہ آپ یسوع پر بھروسہ کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ میں اِسے مکمل طور پر سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن اپنے خوف کا سامنا کریں اور یہ کسی بھی طور کریں! جیسا کہ ایڈی ریکین بیکر نے کہا، ’’جس بات کو آپ کرنے سے خوفزدہ ہیں جرأت اُس کو کر رہی ہے۔ کوئی جرأت نہیں ہو سکتی جب تک کہ آپ خوفزدہ نہیں ہوتے ہیں۔‘‘

میں جان بنیعن John Bunyan (1628۔1688) کی گواہی گنہگاروں کے سردار کے لیے فضل کی بہتات Grace Abounding to the Chief of Sinners پڑھتا رہا ہوں۔ بنیعن شک اور خوف کے کئی سالوں میں سے گزرا تھا۔ شیطان نے تقریباً اُس کا دماغ اُلٹ ہی ڈالا تھا۔ اُس کے پاس سالوں سال تک کوئی آرام و سکون نہیں تھا۔ آخر کار ایک دِن اُس نے کہا،

موت آنے سے قبل ہی میں ایک مردہ تھا، اور ایسے جیسے میں نے پہلے ہی خود کو کھائی میں اُترتے ہوئے محسوس کر لیا تھا۔ میتھوٹ میں نے کہا، یہ اور کہیں نہیں ماسوائے جہنم کے مجھے لے جا رہا ہے؛ لیکن ٹھہریئے، جب میں اُن خوفزدگیوں کے درمیان میں تھا . . . وہ لفظ میرے ذہن میں آ دھمکا، ’’اے موت، تیری رسی کہاں ہے؟ اے قبر، تیری فتح کہاں ہے؟‘‘ اِس پر میں دونوں جسمانی اور ذہنی طور پر ٹھیک ہو گیا، کیونکہ میری بیماری موجودہ طور پر غائب ہو چکی تھی، اور میں آرام و سکون سے خدا کے لیے اپنے کام پر دوبارہ چل پڑا۔

کچھ دیر بعد ہی وہ دوبارہ مایوسی میں گِھر گیا۔ اُس نے کہا،

میرے کچھ تین یا چار دن اِس حالت میں رہ چکنے کے بعد، جب میں آگ کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا، میں نے اچانک اِس جملےکو اپنے دِل میں سنتے ہوئے محسوس کیا، ’’مجھے ضرور یسوع کے پاس جانا چاہیے۔‘‘ اِس کے ساتھ ہی میری پہلے والی تاریکی اور دہریت دور ہو گئی، اور آسمان کی بابرکت اشیاء نظروں میں آ گئیں. . . مجھ پر رحم کرنے کے لیے خداوند کی تمجید ہو۔

جان بنیعن یسوع کے پاس جانے سے بچایا گیا تھا۔ کیا آج صبح آپ میں وہ کرنے کی جرأت ہے جس کو کرنے کے لیے آپ خوفزدہ ہیں؟ کیا آپ ابھی یسوع کے پاس جائیں گے اور اُس پر بھروسہ کریں گے؟

جب میں وہ چھوٹا سا کورس گاؤں، مہربانی سے بڑے اجتماعی کمرے کے پچھلی جانب جائیے اور ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو دعائیہ کمرے میں لے جائیں گے۔

رحم نے میری زندگی دوبارہ لکھی،
رحم نے میری زندگی دوبارہ لکھی۔
میں گناہ میں کھو گیا تھا،
لیکن یسوع نے میری زندگی دوبارہ لکھی۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan مکاشفہ 21:3۔8.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’جمہوریہ کا جنگی حمدوثنا کا گیت The Battle Hymn of the Republic
‘‘(شاعر جولیا وارڈ ہووی Julia Ward Howe، 1819۔1910)۔