Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کی دوسری آمد – انسان کی واحد اُمید

!CHRIST’S SECOND COMING – MAN’S ONLY HOPE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
10جون، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 10, 2012

’’میں جانتا ہوں کہ میرا نجات دہندہ زندہ ہے، اور آخری وقت وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔ حالانکہ میرا جسم فنا ہو جائے گا، میں اپنے جسم سمیت ہی خدا کو دیکھوں گا؛ میں ہی خود اُسے دیکھوں گا خود اپنی آنکھوں سے میں اُس پر نگاہ کروں گا، کوئی اور نہیں؛ میرا دل اندر ہی اندر کس قدر بے قرا ہو رہا ہے‘‘ (ایوب 19:25۔27).

1972 میں مَیں گولڈن گیٹ بپتسمہ دینے والی علمِ الہٰیات کی تدریس گاہ میں ماسٹرز کی ڈگری کی تعلیم کے لیے سان فرانسسکو میں تھا۔ پروفیسرز علمِ الہٰیات پر آزاد خیال تھے۔ وہ بائبل کی لفظی الہامی باتوں کو مسترد کرتے تھے۔ وہ مسیح کی کنواری سے پیدائش کو مسترد کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ چاروں اناجیل جھوٹ اور فریب کا ایک جال[کی ایک پیوندوں سے بھری رضائی] ہے۔ ایک پروفیسر نے پاسداری کے ساتھ انتہائی جدید ھیری ایمرسن فوسڈک کا حوالہ دیا۔ اُس نے کہا کہ لوگ مسیح کے بغیر دوسرے مذاہب کے ذریعے سے بچائے جا سکیں گے۔ اُس نے ٹیلِچ Tillich کا حوالہ دیا جس نےکہا، ’’خُدا وجود ہی نہیں رکھتا ہے۔‘‘ ایک اور پروفیسر نے مسیح کی ہر پیشن گوئی کو جو اُس نے اپنی دوسری آمد کے بارے میں کی تھی مسترد کیا۔ اُس نے اعلانیہ مسیح کے دوبارہ آسمان کے بادلوں میں آنے کے وعدے کی مخالفت کی اور اِس بات کو مسترد کیا۔ میں نے اپنی ایک کتاب میں جو میں نے لکھی اُس کا حوالہ دیا، اُس کا نام دیا اور اُس کے بیان کا تحریری ثبوت پیش کیا۔ اِس پروفیسر کے مرنے کے بعد اُس کے پوتے نے میری کتاب پڑھی۔ اُس نوجوان آدمی نے مجھ سے ٹیلی فون پر بات کی اور مجھ پر چلّایا تھا۔ اُس نے کہا، ’’میرے دادا مسیح کی دوسری آمد پر یقین رکھتے تھے۔ اُنہوں نے مجھے ایسا بتایا تھا۔‘‘ میں اُس کے پوتے کو کیا کہہ سکتا تھا؟ اُس نے لڑکے سے جھوٹ بولا تھا! اُس نے اُسے بتایا تھا کہ وہ دوسری آمد پر یقین کرتا تھا، حالانکہ ہم طالبِ علموں کو اُس نے تعلیم دی کہ یہ سچ نہیں تھا۔ وہ پروفیسرز جھوٹے ہونے کے ساتھ ساتھ بائبل کے دشمن بھی تھے! ایک پرانے عہد نامے کی جماعت میں ڈاکٹر جے. کینتھ ایکِنز Dr. J. Kenneth Eakins نے کہا، ’’پرانے عہد نامے میں جسم کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔‘‘ میں نے پیٹر فینچ کی مانند محسوس کیا جو اُس نے اپنی فلم ’’نیٹ ورک‘‘ میں محسوس کیا تھا جب اُس نے کہا، ’’میں دیوانوں کی طرح پاگل ہوں اور میں اِسے مذید برداشت نہیں کروں گا!‘‘ میں اُس جماعت میں برداشت نہیں کر سکا اور کھڑے ہو کر کہا، ’’جی نہیں! آپ غلط ہیں! پرانے عہد نامے کی پرانی ترین کتاب کہتی ہے،

’’میں جانتا ہوں کہ میرا نجات دہندہ زندہ ہے، اور آخری وقت وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔ حالانکہ میرا جسم فنا ہو جائے گا، میں اپنے جسم سمیت ہی خدا کو دیکھوں گا‘‘ (ایوب 19:25۔27).

آپ غلط ہیں! یہ آیت واضح طور پر مردوں میں سے جی اُٹھنا ہم پر ظاہر کرتی ہے۔‘‘ میں کوئی باغی ہیپی تو تھا نہیں۔ 31 سال کی عمر میں کافی بوڑھا تھا۔ میں اپنے سوٹ پر پِن کے ساتھ لگے ہوئے امریکی جھنڈے کے ساتھ ایک جمہوری حکومت کو ماننے والا تھا۔ مگر میں کوئی مدد نہ کر سکا لیکن پرانے عہد نامے میں سے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کا دفاع کیا۔ اِس کو یوں اِس طرح نظر انداز نہ کرنا میرے لیے بہت اہم تھا!

میں کیوں اِس قدر پریشان ہو گیا تھا جب ڈاکٹر ایکنز نے جماعت میں یہ جھوٹ بولا تھا – کہ پرانے عہد نامے میں مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر مسیح کی دوسری آمد کے بارے میں کوئی تذکرہ کبھی نہیں کیا گیا؟ میں پاگلوں کی طرح غصے سے اُبل رہا تھا کیوں کہ اِسی طرح کے جھوٹوں نے ہزاروں لاکھوں نوجوان لوگوں کو کوئی اُمید رکھنے پر لوٹ لیا ہے۔ کوئی غلطی نہ کریں! اگر مسیح جی نہیں اُٹھا ہے اور دوبارہ آ رہا ہے، تو پھر آپ نوجوان لوگوں کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے – کیونکہ اِس کے علاوہ تمام دُنیا میں کوئی اور اُمید ہے ہی نہیں! پولوس رسول نے کہا،

’’اگر مسیح زندہ نہیں ہوا، تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہے؛ اور تم ابھی تک اپنے گناہوں میں گرفتار ہو‘‘ (1۔ کرنتھیوں 15:17).

اندھیری رات تھی، گناہ کے خلاف ہمارے جنگ تھی؛
   ہم دُکھوں کا کس قدر بھاری بوجھ اُٹھائے ہوئے تھے؛
لیکن اب ہم اُس کے آنے کی علامات دیکھتے ہیں؛
   ہمارے دِل ہم میں جگمگا اُٹھتے ہیں، خوشی کا پیالہ ہم پر لبریز ہوتا ہے!
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   بالکل وہی یسوع، جِسے لوگوں نے رد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آ رہا ہے!
(’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again، شاعر میبل جانسٹن کیمپ
Mabel Johnston Camp، 1871۔1937).

میں نے کیوں اُس مذہبی درس گاہ میں الہیاتی آزاد خیالی کی لڑائی کی؟ محض اِس لیے کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر بائبل سچی نہیں تھی تو پھر کوئی اُمید نہیں تھی۔ میں اپنی روح کی گہرائیوں میں جانتا تھا، کہ روسی مصنف فی اودر دوستاویسکاFyodor Dostoyevsky (1821۔1881) درست تھا جب اُس نے کہا،

مکمل طور پر اُمید کے بغیر کوئی زندہ نہیں رہ سکتا۔
بغیر اُمید کے جینے کا مطلب جینے کے لیے تھم جانا ہے۔

میں اُس اُمید کے لیے لڑ رہا تھا جو مجھ میں جیتے جاگتے مسیح کے لیے ہے! اِس واعظ کا عنوان ’’مسیح کی دوسری آمد – انسان کی واحد اُمید!‘‘ ہے۔ کیا یہ انتہائی شدید ہے؟ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں، تو مہربانی سے اِن دو خیالات کو مدِ نظر رکھیے۔

1۔ اوّل، جلد آنے والے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والے مسیح میں ایمان کے بغیر دُنیا کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔

دوبارہ دوستاویسکا Dostoyevsky نے کہا،

جہنم اُمید کے بغیر ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ ڈانتے Danteکی جہنم کے لیے داخلے کے اوپر یہ کُتبہ لکھا ہوا ہے، ’’آپ جو یہاں داخل ہو رہے ہیں، تمام اُمید پیچھے چھوڑ آئیں۔‘‘

بے شمار لوگ آج ایک جیتی جاگتی جہنم میں رہ رہے ہیں – مستقبل کی اُمید کے بغیر۔ کالج کے کیمپس میں ایک اکیس سالہ لڑکی نے کہا، ’’اُنیس سال کی عمر میں ہم مرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم دُنیا کی اُمید ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔‘‘ جب میں ہائی سکول میں تھا میرا ایک دوست تھا جو اپنی تمام اُمیدیں کھو بیٹھا تھا۔ اُس لڑکی کی طرح، اُس نے کہا، ’’میرے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔‘‘ یہ جان کر مجھے دھچکا لگا تھا اور میں دھشت زدہ ہو گیا تھا کہ اُس نے اپنے منہ میں بندوق رکھ کر اپنا بھیجا اُڑا لیا تھا۔ اُس سنگدلانہ ہولناکی کی یاداشت اب بھی میرا پیچھا آسیب کی طرح کرتی ہے۔ میں کبھی بھی اُس کی وہ بھیانک آواز نہیں بھولا سکوں گا جو کہہ رہی ہے، ’’میرے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔‘‘ دو سال بعد میرے پسندیدہ جدید مصنف ارنسٹ ہیمنگوے نے بھی ایسا ہی کیا – اُنہوں نے اپنے آپ کو سر میں گولی مار لی، ایک ٹوٹا ہوا اور بغیر اُمید کا بوڑھا آدمی۔

گذشتہ جمعہ میں نے اخبار میں پڑھا کہ ’’امریکہ کی فوج میں خودکشیاں بڑھ رہی ہیں، اِس سال اوسطً ایک خود کشی ہو رہی ہے – قوم کی جنگ کی دہائی میں تیز ترین فاصلہ‘‘ (دی ڈیلی نیوز The Daily News، 8 جون، 2012، صفحہ A1). اخبار میں لکھا تھا، بڑھنے کی وجوہات ابھی تک مکمل طور پر سمجھی نہیں جا سکی ہیں۔‘‘ ایک نفسیات دان نے کہا، ’’کیا بات ایک شخص کو خود کشی کرنے پر مجبور کرتی ہے دوسرے کو نہیں حقیقی طور پر نہیں جانا جا سکا‘‘ (ibid.). وہ نفسیات دان شاید وجہ نہ جان سکا ہو، لیکن میں جانتا ہوں۔ لوگ خود کشی کرتے ہیں کیونکہ وہ اُمید کھو دیتے ہیں۔ بہت سے جو اصل میں اپنے آپ کو قتل نہیں کرتے ہیں وہ شراب یا نشے کا استعمال اپنی نااُمیدی کو بھلانے کے لیے لاحاصل کوشش کے طور پر کرتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ موجودہ بڑھتے ہوئے شراب اور نشے کے غلط استعمال کے پیچھے بھی مااُمیدی ہی کا ہاتھ ہے۔ وہ لوگ جو اپنے وجود سے متعلق پریشانی اور ذہنی دباؤ کو بھلانے کے لیے تقریباً ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اُنہیں پولوس رسول نے ’’اِس دُنیا میں خُدا کے بغیر نااُمیدی کی حالت میں زندگی گزارنا‘‘جیسے بیان کیا ہے (افسیوں 2:12).

’’اِس دُنیا میں خُدا کے بغیر نااُمیدی کی حالت میں زندگی گزارنا۔‘‘ دھشت ناک! میں نہیں جانتا کہ کوئی کیسے اِس طرح رہ سکتا ہے! اور اِس کے باوجود لاکھوں نوجوان لوگ ایسا کرتے ہیں۔ اِس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کہ وہ گھنٹوں اپنا وقت انٹر نیٹ کے سامنے گزار دیتے ہیں، یا تحریری پیغامات لکھ لکھ کر، یا ٹویٹرینگ کر کر کے،یہاں تک کہ جب وہ گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ رات کو بستر میں ہوتے ہیں۔ اور جب وہ صبح اُٹھتے ہیں تو ایک کے بعد دوسری ویڈیو کھیل کھیلنا شروع کر دیتے ہیں – اور گھنٹوں کھیلتے ہیں! مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے کچھ بھی کرتے رہتے ہیں، اِس بات کو سوچنے سے روکنے کے لیے کہ ’’میرے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔ میں دُنیا میں خُدا کے بغیر ہوں۔‘‘

جب ایک شخص کو خُدا کی آگاہی نہیں ہوتی ہے، تو زندگی بس نااُمیدی کا ایک ڈھیر ہوتی ہے۔ جب کسی کو جیتے جاگتے مسیح میں اُمید نہیں ہوتی ہے، اور یہ ایمان نہیں ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ آئے گا، تو وہ شخص ایک زندہ جہنم میں رہ رہا ہوتا ہے۔ اِس قسم کے زندگی گزارنے کے لیے تمام اُمید پیچھے چھوڑ دینی پڑتی ہے۔ جیسا کہ ڈانتے Dante نے اِسے لکھا ہے، ’’تم جو یہاں داخل ہو رہے ہو، تمام اُمید پیچھے چھوڑ دو۔‘‘

متبادل راستے تلاش کرنا حقیقی طور پر صرف وقتی معاون ہوتے ہیں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ جب بھی دروازہ کھولتا ہے گرجہ گھر میں ہونا چاہیے۔ لیکن آپ کی توجہ سکول کے کسی واقعے، کسی کی دعوت یا کسی اور واقعے کی وجہ سے بٹ جاتی ہے۔ لہٰذا، آپ چلے جاتے ہیں – اپنے ذہن کو چند گھنٹوں کے لیے بٹانے کے لیے، اِس بات کو بھلانے کے لیے کہ آپ کی زندگی کے کوئی معنی نہیں ہیں، یہ بات بھلانے کی کوشش کرنے کے لیے کہ اُس لڑکی نے کیا محسوس کیا ہوگا جب اُس نے کہا، ’’اُنیس برس کی عمر میں ہم مرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم دُنیا کی اُمید ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی اُمید نہیں ہے۔‘‘

ہم یہاں آپ کو یہ بتانے کے لیے ہیں کہ اِس سے بہتر ایک راستہ ہے، ’’کہ اُن کی مانند غم نہ کرو جنہیں کوئی اُمید ہی نہیں ہے،‘‘ جیسا کہ پولوس رسول نے اِسے 1۔ تسالونیکیوں 4:13 میں لکھا ہے۔ اگر آپ خوشخبری کو سنیں، ایک سچے مسیحی بنیں، اور ہر مرتبہ جب دروازہ کھولتا ہے گرجہ گھر آئیں تو نااُمیدی کا آسیب آپ کو چھوڑ دے گا۔ آہ، جی ہاں! میرے خیال میں واقعی ایک نااُمیدی کا آسیب ہے۔ جب ایسا آسیب ایک شخص پر چھا جاتا ہے، تو وہ اُس کے غموں کو نشے اور شراب میں ڈبونے کی کوشش کرے گا۔ اور جب یوں کام نہ بنے تو اُس کے آسیب شاید اُسے خودکشی کرنے پر مجبور کریں۔ لیکن مسیح آ گیا ہے ’’کہ اُن کی مانند غم نہ کرو جنہیں کوئی اُمید ہی نہیں ہے‘‘ (1۔ تسالونیکیوں 4:13). جی ہاں، مُردوں میں سےجی اُٹھے اور جلد آنے والے مسیح میں ایمان کے بغیر دنیا میں کوئی اُمید نہیں ہے۔

2۔ دوئم، ہماری اُمید مُردوں میں سے جی اُٹھے مسیح میں ہے، جو دوبارہ جلد آئے گا!

بائبل کہتی ہے کہ یسوع

’’ . . . پاکیزگی کی روح کے اعتبار سے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

جی ہاں، مسیح زندہ ہے۔ جی نہیں، وہ کہیں کوئی تیرتی ہوئی روح نہیں ہے۔ جی نہیں! مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث وہ بڑی قدرت کے ساتھ خُدا کا بیٹا ٹھہرا! اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد، اُس نے شاگردوں سے کہا،

’’یسُوع نے اُن سے کہا: تُم کیوں گھبرائے ہُوئے ہو اور تمہارے دلوں میں شکوک کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ میرے ہاتھ اور پاؤں دیکھو، میں ہی ہُوں۔ مجھے چھُو کر دیکھو کیونکہ رُوح کی ہڈّیاں ہی ہوتی ہیں اور نہ گوشت جیسا تُم مجھ میں دیکھ رہے ہو۔ یہ کہنے کے بعد اُس نے اُنہیں اپنے ہاتھ اور پائوں دکھائے‘‘ (لوقا 24:38۔40).

اُنہوں نے اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں وہ سوراخ دیکھے جو اُس وقت بنے تھے جب اُسے صلیب پر کیلوں سے جڑا گیا تھا۔ پھر وہ بیٹھا اور اُن کے ساتھ کھانا کھایا! خُداوند کی تمجید ہو، حقیقی گوشت پوست اور ہڈیوں کا بنا یسوع واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھاتھا!

تو ہی خُداوند ہے! تو ہی خُداوند ہے!
تو مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے،
اور تو ہی خُداوند ہے!
ہر کوئی جھکے گا، ہر زبان اقرار کرے گی
کہ یسوع مسیح خُداوند ہے!

کھڑے ہو جائیے اور اِسے میرے ساتھ گائیے!

تو ہی خُداوند ہے! تو ہی خُداوند ہے!
تو مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے،
اور تو ہی خُداوند ہے!
ہر کوئی جھکے گا، ہر زبان اقرار کرے گی
کہ یسوع مسیح خُداوند ہے!

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

اور چونکہ وہ خُداوند ہے، یہ وہی یسوع آسمان میں اپنی جگہ سے دوبارہ واپس آ رہا ہے!

’’اور ابنِ آدم کو آسمان کے بادلوں پر عظیم قدرت اور جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گی‘‘ (متی 24:30).

اوہ بابرکت اُمید! اوہ مسرور وعدہ!
   ہمارے دِلوں کو الہٰی بے خودی سے بھر رہا ہے؛
اوہ دِنوں کے دِن! تیرے ظہور کو سلام ہو!
   تیرا اعلٰی و افضل جلال ہمیشہ دمکتا رہے۔
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   بالکل وہی یسوع، جِسے لوگوں نے رد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آ رہا ہے!

اوہ، پولوس رسول کو سُنیے جب وہ بادلوں میں مسیح کے آنے کی بات کرتا ہے!

’’اور اُس مبارک اُمید یعنی اپنے عظیم خدا اور منجی یسوع مسیح کے جلالی ظہور کے منتظر رہیں‘‘ (طیطس 2:13).

یہ ہماری مبارک اُمید ہے! یہ ہمارے عظیم خُدا اور منجی یسوع مسیح کا جلالی ظہور ہے! وہ دوبارہ آ رہا ہے! وہ دوبارہ آ رہا ہے! عظیم جلال اور قوت کے ساتھ وہ دوبارہ آ رہا ہے!

ڈاکٹر آئی. ایم. ہالڈمین Dr. I. M. Haldeman (1845۔1933)، نیویارک شہر کے پہلے بپتسمہ دینے والے دیرینہ پادری نے کہا،

      مسیح کے آنے کو کلیسیا کی مبارک اُمید کے طور پر مانا جاتا ہے۔ کہیں بھی مسیحیوں کو آسمان میں اُمید یا موت کی تیاری کے لیے زور نہیں ڈالا جاتا، لیکن ہمیشہ، بولنے کے عمل میں بغیر رُکے ہوئے، دیکھنے کے لیے، انتظار کے لیے، خُداوند کے آنے کی اُمید کے لیے. . . اِس آنے کا مطلب [کلیسا کی] لمبی اور خستہ حال زیارت کا اختتام ہوتا ہے۔
اِس کا مطلب گناہ، بیماری، غم اور موت کے اوپر فتح ہوتا ہے۔
اِس کا مطلب کہ اب آپ دُنیا کے [فقیر] نہیں بلکہ حکمران ہیں ہوتا ہے۔
اِس کا مطلب ہوتا ہے بادشاہ کی موجودگی، اُس کی مماثلت کی ملکیت، اُس کے تخت کا حصہ اور اُس کی بادشاہی کا انتظام۔
اِس کا مطلب ہوتا ہے ہر وہ بات جس کے لیے کلیسیا نے اُمید کی اور دعا کی، اُس تمام کے لیے جس کا اُس نے مقابلہ کیا اور برداشت کی. . .
اِس کا مطلب ہوتا ہے. . . تمام دُنیا کو [مسیح کے] قدموں میں لانا، جہاں ناقابلِ بیان خوشی کے ساتھ وہ سُنے گی کہ ہر زبان اقرار کرے گی کہ یسوع مسیح ہی خُدا باپ کے جلال کے لیے خداوند ہے. . .
(آئی. ایم. ہالڈمین I. M. Haldeman، ڈی.ڈی.، ’’مسیح کی دوسری آمد‘‘)

خُدا کا مسیح کی دوسری آمد کی مبارک اُمید کے لیے شکر ادا کریں!

لیکن، اوہ، آپ کو اُس پر ابھی بھروسہ کرنا ہوگا۔ یہاں تک کہ ابھی، اُس کے آنے سے پہلے، آپ کو اُس پر بھروسہ کرنا چاہئے اور بچایا جانا چاہیے۔ وہ اپنے پاس آنے کے لیے آپ کو بلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’میرے پاس آؤ. . . اور میں تمہیں آرام دوں گا‘‘ (متی 11:28). وہ اب آسمان میں زندہ ہے۔ اُس پر بھروسہ کریں! اُس نے آپ کو تمام گناہ سے بچانے کے لیے اپنا خون بہایا۔ اُس پر بھروسہ کریں! آپ کے تمام گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ صلیب پر مرا۔ اُس پر بھروسہ کیجیے! وہ جلال کے بادلوں میں دوبارہ آ رہا ہے۔ اُس پر بھروسہ کریں! وہ آپ کو ایک نااُمید زندگی سے بچائے گا۔ اُس پر بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو آپ کے گناہوں سے بچائے گا۔ اُس پر بھروسہ کریں! وہ آپ کو جہنم کی تاریکی سے بچائے گا۔ اُس پر بھروسہ کریں! وہ آپ کو دائمی زندگی عطا کرے گا۔ اُس پر بھروسہ کریں! اوہ، آج صبح آپ سے التجا کرتا ہوں – اُس پر بھروسہ کیجیے! اپنے گنہگار طرزِ زندگی سے منہ موڑ لیجیے۔ گرجہ گھر میں جب بھی دروازہ کھولے تشریف لائیں۔ اور اُس پر بھروسہ کریں! ’’صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ صرف اُسی پر بھروسہ کریں۔ صرف اُسی پر ابھی بھروسہ کریں۔ وہ آپ کو بچائے گا۔ وہ آپ کو بچائے گا۔ وہ ابھی آپ کوبچائے گا!‘‘

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan 2۔پطرس 3:3۔7 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again ‘‘ (شاعر میبل جانسٹن کیمپ
Mabel Johnston Camp، 1871 ۔1937).

لُبِ لُباب

مسیح کی دوسری آمد – انسان کی واحد اُمید

!CHRIST’S SECOND COMING – MAN’S ONLY HOPE

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’میں جانتا ہوں کہ میرا نجات دہندہ زندہ ہے، اور آخری وقت وہ زمین پر کھڑا ہوگا۔ حالانکہ میرا جسم فنا ہو جائے گا، میں اپنے جسم سمیت ہی خدا کو دیکھوں گا؛ میں ہی خود اُسے دیکھوں گا خود اپنی آنکھوں سے میں اُس پر نگاہ کروں گا، کوئی اور نہیں؛ میرا دل اندر ہی اندر کس قدر بے قرا ہو رہا ہے‘‘ (ایوب 19:25۔27).

(1۔کرنتھیوں 15:17)

I.  اوّل، جلد آنے والے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والے مسیح میں ایمان کے بغیر
دُنیا کے پاس کوئی اُمید نہیں ہے، افسیوں 2:12؛ 1۔تسالونیکیوں 4:13 .

II. دوئم، ہماری اُمید مُردوں میں سے جی اُٹھے مسیح میں ہے، جو دوبارہ جلد آئے گا!
رومیوں 1:4؛ لوقا 24:38۔40؛ متی 24:30؛ طیطس 2:13؛ متی 11:28 .