Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

شیاطین کی تعلیمات اور چالبازیاں

DEMONIC DOCTRINES AND DEVICES

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 جون، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 3, 2012

’’اور مگر اے زمین اور سمندر میں رہنے والو، تم پر افسوس، اِس لیے کہ ابلیس نیچے تمہارے پاس گرادیا گیا! وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ 12:12).

میں جانتا ہوں کہ یہ واقعہ مستقبل میں وقوع پزیر ہونا ہے، اور ہمیں ایک پیشنگوئی کے طور پر دیا گیا ہے۔ اور اِس کے باوجود اِس کی سچائی اتنی ہی پرانی ہے جتنا پرانا وقت ہے۔ بائبل کی ایک قدیم ترین کتاب ہمیں ایک اِس جیسا ہی واقعہ پیش کرتی ہے۔ پیدائش کی کتاب موسیٰ کو خُدا کی روح کے ذریعے سے دی گئی تھی۔ لیکن ایوب کی کتاب پہلے لکھی گئی تھی۔ اُششر Ussher نے اِس کی تاریخ 1520 قبل از مسیح قائم کی تھی۔ ایوب کی کتاب میں شیطان نیچے انتہائی قہر میں اُترا اور اُن خُدا سے محبت کرنے والوں کو شیطانی قہر کے ساتھ اذیت دی۔ لہٰذا ہم اپنی تلاوت میں ایک بِنا وقت کی سچائی پاتے ہیں۔ اِس کے باوجود آج کی تاریخ کے اختتام پزیر ہوتے ہوئے اِن دِنوں میں قابلِ اطلاق ہونے والی سب سےبڑی سچائی ہے۔ جیسے ہم اِس دور کے آخر میں پہنچ رہے ہیں شیطان تیزی سے بےچین اور ناراض ہوتا جارہا ہے۔ اُس کے پاس پیشنگوئی کی کافی آگاہی ہے یہ جاننے کے لیے کہ گناہ میں اندھے لوگ کیا نہیں جانتے ہیں – وہ وقت اُس کے لیے اور نسلِ انسانی کے لیے ختم ہو رہا ہے۔ سپرجئین نے کہا، ’’یہ دیکھا جائے گا، حتٰی کہ تاریخ کے آخری گھنٹے میں، شیطان کا غضب مذید اور زیادہ ہو گا جب اُس کی حکومت اپنے خاتمے کے قریب ہوگی. . . اژدھے کے قہر کی وسعت اُس کی حکومت کے اختتام کی ایک یقینی پیشن گوئی ہے‘‘ (سی. ایچ. سپرجئین، شیطان غصے میں Satan in a Rage، میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگرم اشاعت خانے، دوبارہ اشاعت 1972، جلد XXV ، صفحہ 616). پس، پطرس رسول کے الفاظ اب پہلے کی نسبت کہیں زیادہ لاگو ہوتے ہیں،

’’ابلیس، دھاڑتے ہوئے شیر ببر کی مانند ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے‘‘ (1۔ پطرس 5:8).

یونانی میں لفظ ’’ہڑپ کرنے devour‘‘ کا مطلب ’’نگلنا‘‘ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہم آج کی موجودہ دُنیا کے اختتام کے نزدیک ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے شیطان کا قہر زیادہ اور مذید زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا خاتمہ نزدیک ہی ہے۔‘‘

اگر ہم کسی غیر مسیحی ملک میں رہتے ہوتےہمیں شاید قید و بندش میں ڈال دیا جاتا اور اذیت دی جاتی۔ لیکن زیادہ تر جو اِس واعظ کو سُن رہے ہیں وہ ایسی سرزمین میں رہ رہے ہیں جو مسیح کی خوشخبری کے ذریعے سے کافی عرصہ پہلے ہی ایسی سفاکی سے پاک صاف تھی۔ آپ کے کالج کے دنیاوی اُستاد بِلاشُبہ اِس سے انکاری کریں گے۔ اُس کی طرح کے شیطان لوگ خوشخبری کی سماجی شفا دینے والی دوائی سے جان بوجھ کر لاعلم ہوتے ہیں، جس نے بہت عرصہ پہلے ہمیں تہذیب کے ایک ایسے بُلند پیمانے پر پہنچایا جو غیر مسیحی سرزمینوں میں پہچانا جاتا ہے (دیکھیے اثر کے تحت؛ کس طرح مسیحیت نے تہذیب کو تبدیل کیا see Under the Influence; How Christianity Transformed Civilization ، مصنف ایلوِن جے. شیمیدٹ by Dr. Alvin J. Schmidt ، ژونڈروان Zondervan ، 2001).

اِس کے باوجود شیطان نے خود ہماری تہذیب و تمدن کو چیتھڑے چیتھڑے کر دیا اور ناراضگی ظاہر کی، اُس وقت تک کے لیے جب تک کہ اب ہماری تہذیب کی خوشخبری کی بنیاد شیطان کے حملوں کے تحت ٹوٹ کر اور گل سڑ کر ختم نہیں ہو جاتی۔ اور ہماری حکومت میں اعلیٰ عُہدوں پر فائز شیطانی لوگ اب دیوانگی کی حد تک ہماری قوم میں مسیحی اخلاق کا جوکچھ بھی بچا ہوا ہے اُسے تباہ کرنے اور نیست ونابود کرنے کے لیے قائل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میری تمام زندگی میں بے شمار مرتبہ، میں نے محسوس کیا ہے کہ اب ’’ابلیس نیچے تمہارے پاس گرادیا گیا وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے۔‘‘

اِس واعظ میں آپ کو بتاؤں گا کہ کیسے شیطان کا قہر (1) شیطانوں کی تعلیمات، اور (2) شیاطین کی چالبازیوں میں ہمارے اوپر آ پڑا ہے۔ اِس واعظ میں مَیں اہم تعلیمات اور چالبازیاں جو شیطان مغربی دنیا میں استعمال کرتا ہے اُس پر بات کروں گا، اور کسی حد تک تیسری دُنیا کی ’’نام نہاد‘‘ کہلائی جانے والی قوموں پر بات کروں گا۔

1۔ اوّل، شیطان نے ہمارے درمیان بدروحوں کے عقائد بھیجے ہیں۔

پولوس رسول نے ہمیں تنبیہہ کی تھی جب اُس نے پیشنگوئی کے یہ الفاظ لکھے تھے،

’’لیکن پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے، کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے منہ موڑ کر گمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1).

’’پاک روح صاف طور پر فرماتا ہے،‘‘ یعنی کہ، وہ ’’واضح طور پر‘‘ (شدت) سے بولتا ہے۔ پاک روح ہمیں صاف اور واضح طور پر بتاتی ہے کہ ’’آنے والے دِنوں میں‘‘ مستقبل کے ایک دور میں یہ ہونے والا ہے۔ یہاں تک کہ اِس کا آخری ایام میں مسیح کے آنے سے پہلے اور اِس موجودہ دُنیا کے اختتام پر بہت زیادہ خاص استعمال ہے۔ ’’آنے والے دِنوں میں کچھ ایمان سے منہ موڑ کر گمراہ ہو جائیں گے۔‘‘ یہ خاص طور پر آج کے اِن شیطانی دِنوں میں بالکل سچ ہے کہ اب ’’اُس ایمان کے ساتھ جو ایک بار مقدسین کو عنایت ہوا تھا‘‘ دوری ہو گئی ہے (یہودہ 3). ’’آنے والے دِنوں‘‘ میں ایمان کے ساتھ ارتداد ہوگا جو بائبل میں دیا گیا ہے۔ وہ نئے عہد نامے کی سادہ سی تعلیمات سے منہ موڑلیں گے۔ ’’شیاطین کی تعلیمات اور جنسی رغبت کرنے والی روحوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔‘‘ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کلام پاک کے ایمان سے منہ موڑ رہے ہیں کیونکہ وہ دھوکہ دینے والی روحوں کی سُنتے ہیں، جو اُنہیں شیاطین کی تعلیمات دیتی ہیں۔ ’’آنے والے دِنوں میں‘‘ وہ جھوٹی تعلیمات کی پیروی کر رہے ہیں جو اُن تک شیطان کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں ’’وہ سچائی کی طرف سے کان بند کرلیں گے اور کہانیوں کی طرف توجہ دینے لگیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:4).

رسول پھر اُن میں سے دو جھوٹی تعلیمات کا بیان پیش کرتا ہے۔ تاہم، ’’شیاطین کی تعلیمات‘‘ اُن تمام تعلیمات کے لیے استعمال ہوتی ہیں جو نئے عہد نامے سے باہر ہوں۔ آج کل شیطان ’’اپنے پورے جوش و خروش کے ساتھ‘‘ بائبل کی سادہ تعلیمات پر حملہ کر رہا ہے، جیسا کہ مارٹن لوتھر نے لکھا۔ لوتھر (1483۔1546) نے کہا،

جب خُدا کا پاک کلمہ بُلند ہوگا، تو ہمیشہ یہ اُس کا گروہ ہوگا جو اُس کی تمام قوت کے ساتھ مخالفت کرتا ہے. . . وہ اُس پر جھوٹی زبانوں اور بھٹکی ہوئی روحوں اور اُستادوں کے ساتھ حملہ کرتا ہے۔ جو وہ قوت کے ساتھ تباہ کرنے میں ناکام ہوتا ہے وہ اِس لیے اُسے مکاری اور جھوٹ کے ساتھ دبانے کی جستجو کرتا ہے (لوتھر نےکیا کہا What Luther Says، کنکورڈیا اشاعت گھر Concordia Publishing House، اشاعت 1994، صفحہ 395).

شیطان کے دی گئی ’’شیاطین کی تعلیمات‘‘ کے درمیان یہ بہت بڑی آخری ایام کی بدعتیں ہیں۔

1.  عقلیت پسندی براہ راست بابئل کے الفاظ پر حملہ کرتی ہے۔ جوہان سیملر Johann Semler (1725۔1791) بائبل کی تنقید کے بانی تھے۔ اُنہوں نے سیکھایا کہ بائبل میں ایسا بہت کچھ ہے جو کہ خُدا کے طرف سے الہٰامی طور پر نہیں دیا گیا تھا۔ وہ تاریخی تنقیدی طریقۂ کار کے مُوجِد تھے۔ سیملر نے سیکھایا کہ لوگ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ بائبل کے کن حصّوں پر یقین کیا جائے، اور کن کو مسترد کیا جائے۔ اُنہوں نے بائبل کی لفظی الہٰامی باتوں سے انکار کیا تھا۔ اِس طریقۂ کار کا نتیجہ کلام کا آزادنہ نظریہ تھا جو آج کل ہم دیکھتے ہیں۔ الہٰیاتی آزاد خیالی تعلیم دیتی ہے کہ ہم بائبل کی ہر بات پر جو وہ کہتی ہے یقین نہیں کر سکتے۔ یہی وہ تھا جو شیطان نے ہماری پہلی ماں کو باغِ عدن میں کہا تھا، ’’کیا، واقعی خُدا نے کہا. . . ؟ (پیدائش 3:1). پس، ہمیں یقین ہے کہ بائبل کو خُدا کی الہٰامی کتاب ہونے پر کیے جانے والے تمام حملوں کی جڑ شیطانی ہے۔ بائبل پر شیطانی حملوں کا سامنا میں بار بار اُن دو علمِ الہٰیات کی آزاد خیال درس گاہوں seminaries میں کر چکا ہوں جہاں میں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ میں نے جو کچھ بائبل میں نہیں تھا اُس کو سکھائے جانے کو مسترد کرنے کے لیے خود ساختہ جدوجہد کی تھی۔ یوں میں پاک کلام پر شیاطین کے حملوں سے بچایا گیا تھا، اور میں نے آج کے دِن تک یہ یقین جاری رکھا ہے کہ ’’تمام پاک کلام خدا کی طرف سے الہٰامی طور پر دیے گئے ہیں‘‘بائبل پر آزاد خیال، تنقیدی رجھاؤ یقینی طور پر ’’شیاطین کی تعلیم‘‘ ہے۔
      میں ایسے بے شمار آدمیوں کو جانتا ہوں جن پر شیطان کی مخالفت میں بائبل کا دفاع کرنے پر وحشیانہ حملے کیے گئے۔ حالانکہ میں انہیں نہیں جانتا تھا، ڈاکٹر جے. گریش ہیم میکحن Dr. J. Gresham Machen کو پریسبائی ٹیرئین گرجہ گھر کی جانب سے پاک کلام کا دفاع کرنے پر پادری کے فرائض کی ادائیگی سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ میرے دوست ڈاکٹر ہیرالڈ لِنڈسِل Dr. Harold Lindsell اور ڈاکٹر بِل پاول Dr. Bill Powellکو مغربی بپتسمہ دینے والوں اور دوسروں نے پاک کلام کو دفاع کرنے پر اُن کے ساتھ شرمناک برتاؤ کیا گیا تھا۔ حرمن اُوٹن Herman Otten ایک مائسوری سائی نائیڈ پادری اور مصنف تھے، اُنہوں نے پچاس سال سے زائد کا عرصہ شیاطین کی دنیا کے مسلسل حملوں میں گزارا کیونکہ انہوں نے خدا کے کلام کا الہٰامی ہونے کے لیے آواز بُلند کی تھی۔ صرف خُدا ہی اُنہیں ایسا کرنے کے لیے قوت عنایت کر سکتا ہے! جدید دور کے اہلِ کلیسیا اپنے اندھے پن میں اکثر سوچتے تھے کہ یہ لوگ کچھ’’عجیب و غریب‘‘ تھے۔ لیکن یہ یہی اہلِ کلیسیا تھے جو حقیقی طور پر ’’عجیب‘‘ ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ پائے تھے کہ یہ لوگ شیطانی دنیا کے ہولناک حملوں کی زد میں تھے کیونکہ اُنہوں نے خدا کے کلام کا الہٰامی ہونے کے لیے عزم برقرار کیا تھا۔ آج کے اِن بدکار دِنوں میں وہ اہلِ کلیسیا جو شیطان کے لیے اندھے ہیں وہ کسی کے لیے بھی بہت کم بھلائی کا کوئی کام کر سکتے ہیں۔ بائبل کی تنقید کی عقلیت پسندی بلا شبہ ’’شیاطین کی تعلیمات‘‘ ہیں۔
      آپ پوچھ سکتے ہیں کہ یہ کیسے ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ جواب یہ ہے۔ کچھ دو سو سال قبل مغربی دُنیا کے ہر دوسرے شخص کا یقین تھا کہ بائبل خدا کا کلام تھی۔ صرف چند ایک ’’ذہین لوگوں‘‘ نے اُس وقت یہ سوچا تھا کہ بائبل میں کچھ غلطیاں ہیں۔ اِس کے باوجود آج گلیوں اور سڑکوں پر پھرنے والے لوگ سوچتے ہیں کہ بائبل غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ یوں شیطان نے خدا کے کلام پر سے ایمان اُکھاڑ پھینکا ہے۔ جب میں آپ کو دکھاؤں گا کہ بائبل کیا کہتی ہے، تو آپ خود بخود یقیناً سوال کریں گے کہ کیا یہ سچ ہے۔ غیر تبدیل شُدہ لوگوں کو خدا کے کلام پر یقین کرنے کے لیے قائل کرنا اب انتہائی دشوار گزار ہے۔ اب ایک عام آدمی بھی بائبل کا اتنا ہی بڑا تنقیدی ہے جتنا کہ سیملر تھا۔ بائبل کی تنقید نگاری شیاطین کی وہ تعلیم ہے جس نے خُدا کے کلام پر سے ہمارے ایمان کے تمدن کو لوٹ لیا ہے۔

2.  ڈاروِن اِزم بلاواسطہ انسان کے ارتقاء پر بائبل کیا کہتی ہے اُس پر حملہ کرتی ہے۔ چارلس ڈاوِن Charles Darwin (1809۔1882) نے سیکھایا کہ انسان کی ارتقاء زندگی کی چھوٹی اقسام سے شروع ہوئی۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ انسان خُدا کی براہ راست تخلیق تھی۔ بائبل کہتی ہے، تخلیق کے ایک مخصوص عمل میں’’خُداوند خُدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا‘‘ (پیدائش 2:7). ڈاروِن اِزم بائبل کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ انسان کا ارتقاء ’’کم تر‘‘ زندگی کی قسم سے ہوا تھا۔ ڈاروِن اِزم یقینی طور پر ’’شیاطین کی ایک تعلیم‘‘ ہے۔ یہ انسان، گناہ اور نجات سے تعلق رکھنے والی بائبل کی تمام تعلیمات کی تردید کرتی ہے، اِس لیے ایک آدمی [مسیح] کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے‘‘ (رومیوں 5:19). چونکہ ڈاروِن اِزم کلام پاک کی اِن عظیم سچائیوں پر حملہ کرتی ہے، اِس لیے یہ حتمی طور پر یقیناً شیطانی ہے، ’’شیاطین کی ایک تعلیم۔‘‘
      کچھ دو سو سال قبل لگ بھگ ہر کوئی یقین کرتا تھا کہ انسان خدا کی ایک خاص تخلیق تھی۔ لیکن آج عام آدمی یہ یقین کرتا ہے کہ ہم صرف جانور ہیں۔ اِس نے ہماری تہذیب پر ایک ہولناک اثر ڈالا ہے۔ اگر آپ یہ یقین کرتے ہیں کہ آپ ایک جانور ہیں، تو پھر بائبل میں نجات کاپیغام کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔ اِس لیے ڈاروِن اِزم شیاطین کی وہ تعلیم ہے جو شیطان نوع انسانی کو جانوروں کے ریوڑ میں بدلنے کے لیے استعمال کرتا ہے، کسی بڑے مقصد کے لیے نہیں ماسوائے خوراک اور جنسی تعلق کے لیے۔ صرف خدا کا فضل ہے جو کھوئے ہوئے عورتوں اور آدمیوں کو دکھاتا ہے کہ وہ خُدا کے ذریعے سے ’’کھانے، پینے اور عیش‘‘ کرنے کے بجائے زندگی میں ایک اعلٰی مقصد کے تحت تخلیق کیے گئے تھے۔

3.  فیصلہ سازیت براہ راست بائبل کے حقیقی گناہ اور اُس کے نتائج کے عقیدے پر حملہ کرتی ہے: مکمل خباثت۔ چارلس جی. فنّی Charles G. Finney (1792۔1875) نے یہ تصور مشہور کیا کہ ’’انسان کی مرضی آزاد ہے، اِس لیے لوگوں کے پاس اپنی تمام ذمہ داریوں کو کرنے کی صلاحیت کی قوت ہے‘‘ (فنّی کے درجہ بہ درجہ علمِ الہٰیات پر لیکچرز Finney’s Lectures on Systematic Theology، عئیرڈمینز Eerdmans، ایڈیشن 1969، صفحہ 325). یوں فنّی نے پیلے گیئیس Pelagius کی قدیم بدعت کو پھیلایا (صدی 354۔418 بعد از مسیح)، جس نے اِس بات کی انکاری کی کہ انسان کی مرضی حقیقی کے ذریعے سے تباہ ہوئی تھی، اور یہ تعلیم دی کہ انسان کی طبیعت خود اپنی نجات خدا کے فضل کے بغیر پانے کے لیے آزاد ہے۔ لیکن بائبل تعلیم دیتی ہے، ’’خدا بہت ہی محبت کرنے والا ہے اور رحم کرنے میں غنی ہے۔ اُس نے ہمیں جب کہ ہم اپنے قصوروں کے باعث مُردہ تھے مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔ اُسی کے فضل سے تمہیں نجات ملی ہے (فضل کے ذریعے سے تم بچائے جاتے ہو؛)‘‘ (افسیوں 2:4۔5). ’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلے سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں 2:8۔9).چونکہ فنّی کی فیصلہ سازیت اُن آیات سے جن میں بائبل کیا تعلیم دیتی ہے صاف صاف تردید کرتی ہے اِس لیے یہ انتہائی یقینی طور پر ’’ایک شیاطین کی تعلیم‘‘ ہے۔ فنّی اِزم کے نتیجے کے طور پر زیادہ تر پادری اب کسی بھی ’’فیصلے‘‘ کو ایک خالص تبدیلی بغیر کوئی سوال کیے مان لیتے ہیں۔ ڈاکٹر آشیل نیٹلٹن Dr. Asahel Nettleton، وہ مبشرِ انجیل جنہوں نے فنّی کی مخالفت کی تھی، اُنہوں نے اُس کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے بارے میں یہ کہا، ناجائز [غلط] تبدیلیوں کے خطرات کے بارے میں [فنّی کی منسٹری میں] کچھ نہیں سُنا گیا۔ اِس بارے میں سرسری طور پر بھی کبھی نہیں سوچا گیا کہ شیطانی اثر نامی کوئی بات بھی ہوتی ہے. . . مبشر کی ذمہ داریوں میں یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ وہ سچی اور جھوٹی تبدیلیوں میں فرق پیش کرے‘‘ (بینٹ ٹیلر اور اینڈریو بونار Bennet Tyler and Andrew Bonar، آشیل نیٹلٹن کی زندگی اور مشقتیں The Life and Labours of Asahel Nettleton، سچائی کے بینر Banner of Truth، 1975، صفحات 367۔368). فنّی کی ’’شیاطین کی تعلیم‘‘ کی وجہ سے لاکھوں لوگ جھوٹی تبدیلیوں کی طرف کھیچے چلے گئے ہیں۔
      ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے نتائج تباہ کن رہ چکے ہیں۔ آج ہر دوسرا آدمی جسے آپ ملتے ہیں سوچتا ہے کہ وہ مسیح ہے کیونکہ اُس کا ذہنی اعتقاد ہے، اُس نے دعا کے الفاظ ادا کر دیے ہیں، یا گرجہ گھر کی عبادت میں دعا میں اپنے ہاتھ بُلند کردیے ہیں۔ اگر آپ نے یہ سوال کہ آیا اِن انسانی اعمال نے ہمیں مسیحی بنا دیا ہمارے بابائے بپتسمہ دینے والے جان بنعین John Bunyan(1628۔1688) سے پوچھا ہوتا تو وہ کہتے، ’’تم مذاق تو نہیں کر رہے ہو!‘‘ یا اِسی طرح کے کوئی اور الفاظ۔


مجھے یقین ہے کہ وہ تین عقائد، جس طرح سے وہ گذشتہ دو صدیوں سے بڑھ رہے ہیں، اُس جنگ کا حصّہ ہیں جو شیطان اِن ’’آنے والے دِنوں میں‘‘ خدا کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہے۔ عقلیت پسندی بائبل سے تعلق رکھتے ہوئے، ڈاروِن اِزم تخلیقِ انسان سے تعلق رکھتے ہوئے، اور فیصلہ سازیت انسانی اعمال کے باعث نجات سے تعلق رکھتے ہوئے تمام کی تمام کو شیاطین کی تعلیمات کے طور پر زمرہ بند کیا جانا چاہیے۔ جیسے کہ میرے دیرینہ چینی پادری ڈاکٹر ٹموتھی لِنDr. Timothy Lin اکثر کہتے تھے، ’’شیطان کے ترنگل میں تین کانٹے ہیں۔‘‘ وہ یہ ہیں: بائبل پر تنقید، ارتقاء ، اور فیصلہ سازیت۔

’’لیکن پاک رُوح صاف طور پر فرماتا ہے، کہ آنے والے دِنوں میں بعض لوگ مسیحی ایمان سے منہ موڑ کر گمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیمات کی طرف متوجہ ہونے لگیں گے‘‘ (1۔ تیموتاؤس 4:1).

’’اور مگر اے زمین اور سمندر، تم پر افسوس، اِس لیے کہ ابلیس نیچے تمہارے پاس گرادیا گیا! وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (۰۰مکاشفہ 12:12).

2۔ دوئم، شیطان آپ کو تباہ کرنے کے لیے اِن عقائد کو ’’چالبازیوں‘‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

پولوس رسول شیطان کے بارے میں کہتا ہے، ’’ہم اِس کی چالبازیوں سے واقف ہیں‘‘ (2۔کرنتھیوں 2:11). یسوع نے کہا شیطان تمہیں گناہ میں اور پھر جہنم میں تباہ کرنے کے لیے اپنی ’’چالبازیاں‘‘ استعمال کرتا ہے۔ اُس نے فریسیوں سے کہا،

’’تُم اپنے باپ یعنی اِبلیس کے ہو، اور اپنے باپ کی مرضی پر چلنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خون کرتا آیا ہے…‘‘ (یوحنا 8:44).

شیطان خود خُدا پر حملہ کرنے کے قابل نہیں تھا، اِس لیے اُس نے اپنا قہر خُدا کی سب سے بڑی تخلیق، انسان، کی طرف موڑ دیا۔ ’’ابتدا ہی سے شیطان کا مقصد انسان کا قتل تھا، ہم میں سے جتنوں کو وہ تباہ کر سکتا ہے اُنہیں تباہ کرے۔ جیساکہ پطرس رسول لکھتا ہے، ’’ابلیس، دھاڑتے ہوئے شیر ببر کی مانند ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے‘‘ (1۔پطرس 5:8). جیسے جیسے ہم اِس زمانے کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں شیطان کے بنی نوع انسان کو تباہ کرنے کی خواہش پہلے سے زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔

’’ ابلیس نیچے تمہارے پاس گرادیا گیا! وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ 12:12).

اور وہ ’’چالبازیاں‘‘ جو شیطان آپ کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اُن کی جڑیں ’’شیاطین کی تعلیمات‘‘ میں پنپ رہی ہیں۔ جی ہاں، شیطانی عقائد جو میں نے بتائے ہیں شیطان کی کچھ بہت بڑی چالبازیاں ہیں، جو وہ آپ کو تباہ کرنے اور جہنم میں بھیجنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

1.  شیطان چاہتا ہے کہ آپ عقلیت پسند ہوں، جیسا کہ سیملر تھا۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ ’’مقدس کتابوں پر جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ شک کریں (2۔تیموتاؤس 3:15). شیطان نہیں چاہتا کہ جو کچھ بائبل کہتی ہے آپ اُس پر یقین کریں۔ وہ نہیں چاہتا کہ آپ یقین کریں کہ خُدا آپ کو پیار کرتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ آپ یقین کریں ’’یسوع مسیح دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا‘‘ (1۔تیموتاؤس 1:15). وہ نہیں چاہتا ہے کہ آپ خُدا کے بیٹے یسوع مسیح پر بھروسہ کریں۔ وہ نہیں چاہتا کہ آپ بچائے جائیں۔

2.  شیطان آپ کو ڈاروِنسٹ بنانا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ آپ یہ یقین کریں کہ آپ کی گنہگار طبیعت آپ میں آدم سے آئی ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہم اِس بات میں یقین کریں کہ ’’خدا ہمارے لیے اپنی محبت یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان قربان کردی‘‘ (رومیوں 5:8).

3.  شیطان چاہتا ہے کہ آپ فنّی کی طرح یقین کرنے کے لیے ’’فیصلہ ساز‘‘ بنیں، کہ آپ ’’اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر کے‘‘ اپنے آپ کو بچا سکیں۔ غلیظ، شیطانی، پیلے گئین بدعت! میں شیطانوں کی اِس تعلیم کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں! شیطان نہیں چاہتا کہ آپ یقین کریں ’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے: اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں 2:8۔9). بغیر اعمال اور ’’فیصلوں‘‘ کے فضل کے ذریعے سے نجات پانے پر شیطان کو نفرت ہے۔


لیکن بائبل کہتی ہے،

’’پس خدا کے تابع رہو اور اِبلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تُم سے بھاگ جائے گا‘‘
       (یعقوب4:7).

شیطان کے جھوٹ کا مقابلہ کرو اور یسوع پر بھروسہ کرو۔ وہ آپ سے پیار کرتا ہے۔ آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ صلیب پر مرا۔ وہ آسمان میں زندہ ہے۔

’’پس جو لوگ اُس کے وسیلہ سے خدا کے پاس آتے ہیں وہ اُنہیں پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ اُن کی شفاعت کرنے کے لیے ہمیشہ زندہ ہے‘‘ (عبرانیوں7:25).

یسوع ’’انتہائی حد تک‘‘ آپ کو بچانے کے قابل ہے۔ وہ آپ کو گناہ اورجہنم سے ہمیشہ کےلیے بچانے کے قابل ہے۔ ’’صرف اُسی پر بھروسہ کریں، صرف اُسی پر بھروسہ کریں، ابھی صرف اُسی پر بھروسہ کریں؛ وہ آپ کو بچائے گا، وہ آپ کوبچائے گا، وہ آپ کو ابھی بچائے گا،‘‘ جیسا کہ ایک پرانے حمد و ثنا کے گیت میں لکھا ہے۔ یسوع آپ کو ’’شیطان کے پھندے سے‘‘ بچائے گا‘‘ (2۔ تیموتاؤس 2:26). یسوع پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کے گناہ معاف کر دے گا، اور آپ کو شیطان کی غلامی اور اُس کی بدروحوں سے آزادی دلائے گا!

گھر اور دوستوں سے شیطانی روح نے اُسے دور کردیا،
   مزاروں میں اُس کی بدنصیبی نے بسیرا کیا؛
اُس نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا جیسے ہی بدروحوں کی قوتوں نے اُس پر قبضہ کیا،
   پھر یسوع آیا اور اُس نے اسیر کو آزادی دلائی۔
جب یسوع آتا ہے تو آزمانے والے کی قوت ٹوٹ جاتی ہے؛
   جب یسوع آتا ہے تو آنسو پونچھے جاتے ہیں۔
وہ رنج و الم لے لیتا ہے اور زندگی کو جلال کے ساتھ بھر دیتا ہے،
   کیونکہ سب کچھ بدل جاتا ہے جب یسوع رہنے کے لیے آتا ہے۔

اِس لیے آج لوگوں نے نجات دہندہ کو قابل سمجھا ہے،
   وہ جنون، جنسی لذت اور گناہ کو فتح نہیں کر سکے؛
اُن کے ٹوٹے ہوئے دِلوں نے اُنہیں تنہا اور اُداس چھوڑ دیا ہے،
   پھر یسوع اُنہی میں آیا اور [اُنہیں آزاد کیا]۔
جب یسوع آتا ہے تو آزمانے والے کی قوت ٹوٹ جاتی ہے؛
   جب یسوع آتا ہے تو آنسو پونچھے جاتے ہیں۔
وہ رنج و الم لے لیتا ہے اور زندگی کو جلال کے ساتھ بھر دیتا ہے،
   کیونکہ سب کچھ بدل جاتا ہے جب یسوع رہنے کے لیے آتا ہے۔
(’’پھر یسوع آتا ہے Then Jesus Came ‘‘ شاعر ہومر روڈیہور Homer Rodeheaver ،
1880۔1955؛ پادری سے ترمیم کیا گیا).

اگر آپ ابھی تک بچائے نہیں گئے ہیں، آپ کو یسوع پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مہربانی سے کمرے کی پچھلی جانب چلے جائیے اور ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو دعا اور مُشاورت کے لیے ایک پُرسکون جگہ پر لے جائیں گے (وہ جاتے ہیں)۔

اب کچھ باتیں آپ میں سے اُن کے ساتھ جو بچائے گئے ہیں۔ مہربانی سے افسیوں 6:11۔12 کھولیئے۔

’’ خدا کے دیئے ہوئے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو جاؤ تاکہ تُم ابلیس کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو۔ کیونکہ ہمیں خون اور گوشت یعنی انسان سے نہیں بلکہ تاریکی کی دُنیا کے حاکموں، اختیار والوں اور شرارت کی روحانی فوجوں سے لڑنا ہے جو آسمانی مقاموں میں ہیں‘‘ (افسیوں 6:11۔12).

ہماری جنگ شیطان اور اُس کی بدروحوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر میکجی نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ کلیسیا نے روحانی جنگ کی بصیرت بہت زیادہ حد تک کھو دی ہے‘‘ (بائبل کے ذریعے سے Thru the Bible، تھامس نیلسن Thomas Nelson، 1983، جلد پنجم، صفحہ 280؛ افسیوں 6:12 پر ایک یاداشت). ہمیں دشمنوں پر دوبارہ توجہ مرکوز کرنی ہے اور خُدا کی روح میں اُس کے خلاف لڑنا ہے! شیطانی قوتوں کے خلاف جنگ سے کیسے پیچھا چھڑایا جاتا ہے؟ یہ پیچھا دعا سے چُھٹتا ہے! آیت 18 پڑھیئے،

’’پاک رُوح کی ہدایت سے ہر وقت اور ہر طرح دعا اور منت کرتے رہو اور اِس غرض سے جاگتے رہو اور سب مقدموں کے لیے بلانا غہ دعا کرتے رہو‘‘ (افسیوں 6:18).

میرے دیرینہ چینی پادری ڈاکٹر لِن Dr. Lin، نے کہا،

جتنا نزدیک ہم اپنے خداوند کی دوسری آمد کی شام کے قریب ہوتے جاتے ہیں، شیطان کا دباؤ بھی دعا کے خلاف اُتنا ہی شدید ہوگا (کلیسیا کے پھیلاؤ کا راز The Secret of Church Growth، پہلی چینی بپتسمہ دینے والی کلیسیا، 1992، صفحہ 96).

شیطانی قوتوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر روز تفصیل کے ساتھ دعا کریں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گرجہ گھر کی بھی دعائیہ عبادت کو ترک نہ کریں۔ مل کر دعا کرنا شیطان کے خلاف جنگ میں ہمارا ایک طاقتور ہتھیار ہے! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan 1۔ پطرس 5:6۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
پھر یسوع آتا ہے‘‘ (شاعر ہومر روڈیہور، 1880۔1955).

لُبِ لُباب

شیاطین کی تعلیمات اور چالبازیاں

DEMONIC DOCTRINES AND DEVICES

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور مگر اے زمین اور سمندر میں رہنے والو، تم پر افسوس، اِس لیے کہ ابلیس نیچے تمہارے پاس گرادیا گیا! وہ قہر سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی کا جلد ہی خاتمہ ہونے والا ہے‘‘ (مکاشفہ 12:12).

(1۔ پطرس 5:8)

.

I.  اول، شیطان نے ہمارے درمیان بدروحوں کے عقائد بھیجے ہیں، 1۔ تیموتاؤس 4:1؛
یہودہ 3، 2۔ تیموتاؤس 4:4؛ پیدائش 3:1؛ 2۔ تیموتاؤس 3:16؛ پیدائش 2:7؛
رومیوں 5:19؛ افسیوں 2:4۔5، 8۔9 .

II. دوم، شیطان آپ کو تباہ کرنے کے لیے اِن عقائد کو ’’چالبازیوں‘‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے،
2۔ کرنتھیوں 2:11؛ یوحنا 8:44؛ 1۔ پطرس 5:8؛ 2۔ تیموتاؤس 3:15؛
1۔ تیموتاؤس 1:15؛ رومیوں 5:8؛ افسیوں 2:8۔9؛ یعقوب 4:7؛
عبرانیوں 7:25؛ 2۔ تیموتاؤس 2:26؛ افسیوں 6:11 ۔12، 18 .