Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اصلی گناہ – حصّہ دوئم

ORIGINAL SIN – PART II

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
27 مئی، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, May 27, 2012

’’اور جیسے ایک آدمی کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے‘‘ (رومیوں 5:19).

ہم کبھی بھی نہ جان پاتے کہ کیوں انسان اِس قدر گناہ سے بھرپور ہے اگر بائبل میں اِس قسم کے حوالے نہ ہوتے۔ بعض اوقات اِنسان اِس قدر ذہین اور بُلند مرتبہ ہوتا ہے۔اور بعض دوسرے اوقات میں انسان اِس قدر پیچیدہ اور حیرت انگیز ہوتا ہے۔ میں نے جمعرات کو بہت ہولناکی کے ساتھ اخبار میں ایک تیرہ سالہ بچی کے بارے میں پڑھا جس نے اپنی ماں کو محض اِس لیے قتل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اُس نے اُس کو ہر رات کو 10:00 بجے سے پہلے گھر آنے کے لیے کہا تھا! ناقابلِ یقین! کیا یہ ہماری تلاوت کے جیسی آیات نہیں ہیں جن کی وجہ سے ہم انسانی دِل میں اخلاقی زوال کے نقطۂ آغاز کو سمجھ پاتے ہیں۔ رسول نے تاکیدی انداز میں گناہ کی جڑ کو کہا – کہ وہ پہلے انسان، آدم سے چلی آرہی ہے۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ بہت سے آخری آدم، یسوع مسیح کی وجہ سے راستباز بنے، مسیحی آدم کے ذریعے سے گنہگار ’’بنائے‘‘ گئے – اور مسیح کے ذریعے سے راستباز ’’بنائے‘‘ گئے۔ اِس لیے پہلے آدم کی نافرمانی کا موازنہ آخری آدم، مسیح کی فرمانبرداری کے ساتھ کیا گیا ہے۔ پہلے آدم کی نافرمانی نے ہمیں گنہگار بنایا ہے۔ آخری آدم (مسیح) کی فرمانبرداری نے ہمیں راستباز بنایا۔ ہم گذشتہ ہفتے میں چلے گئے، لیکن مجھے آپ کو دوبارہ بتانے کی ضرورت ہے کہ چھوٹا سا یونانی لفظ ’’ tŏ‘‘ کنگ جیمس کے نسخے میں بِلا ترجمےکے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اِ سکا مطلب ہے کہ ’’the‘‘۔ اِس کو واپس لگانے سے یہ بعض باتوں کی وضاحت کرتا ہے جو ذہن میں آسکتی ہیں۔ اِس کو واپس لگانے سے تلاوت کچھ اِس طرح پڑھی جاتی،

’’اور جیسے ایک آدمی کی نافرمانی سے [دیthe ] بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے [دیthe ] بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے‘‘ (رومیوں 5:19).

تمام کی تمام نسلِ انسانی (بہت سے) قدرتاً گنہگاروں کی طرح ’’بنائے گئے‘‘ تھے یا ’’تسلیم کیے گئے‘‘ تھے جو کہ ہم نے وراثت میں آدم سے پایا۔

میں نے واضح کیا تھا کہ یہ ’’غلط‘‘ نہیں ہے۔ یہ صرف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ میرے دادا ولیم ہیمرز کینیڈا سے انگلستان کے لیے آئے اور پھر، اپنے خاندان کےساتھ، وہ یہاں کیلیفورنیا میں چلے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایک امریکی کی حیثیت سے پیدا ہوا تھا۔ میں ایک امریکی ’’بنایا گیا‘‘ تھا اپنے دادا کے عمل کی وجہ سے، ایک انسان جسے میں جانتا تک نہیں تھا، جو میرے پیدا ہونے سے بھی کئی سال پہلے مر گئے تھے۔ میرے امریکہ میں پیدا ہونے کے سلسلے میں کوئی بات غلط نہیں ہے کیونکہ وہ ایک آدمی کا فیصلہ تھا جو میرے پیدا ہونے سے پہلے جیا تھا۔ یہ صرف زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اور اِس لیے، یہ محض زندگی کی ایک حقیقت ہے کہ آپ کے پہلے رشتہ دار، آدم نے گناہ کیا اور اُس کی گنہگار فطرت آپ اور مجھ میں منتقل ہو گئی۔ میرے دادا ایک امریکی بنے تھے، لہٰذا اُن کے یہاں آنے کے عمل سے میں ایک امریکی ’’بنایا گیا‘‘ تھا۔ آدم گنہگار بنا تھا، لہٰذا میں اُس کے گنہگار عمل کی وجہ سے گنہگار ’’بنایا گیا‘‘ تھا۔

’’اور جیسے ایک آدمی کی نافرمانی سے [دیthe ] بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے [دیthe ] بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے‘‘ (رومیوں 5:19).

جیسا کہ ڈاکٹر واٹز Dr. Watts لکھتے ہیں،

خُداوندا، میں گناہ میں گھرا ہوا دو کوڑی کا ہوں،
   اور ناپاک اور غلیظ پیدا ہوا ہوں؛
اُس آدمی سے اُچھالا گیا جس کے جرائم ہم پر پڑتے ہیں
   نسل کو بدکار کرتے ہیں اور ہم تمام کو آلودہ۔
(’’خُداوندا، میں دو کوڑی کا ہوں‘‘ – زبور 51 – شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Isaac Watts، 1674۔ 1748).

اِس کے بارے میں کوئی بات ’’غلط‘‘ نہیں ہے۔ یہ صرف زندگی کی ایک حقیقت ہے، یہ جیسا کہ لارڈ برٹرنڈ رسَل نے سوچا تھا ’’غیر منصفانہ‘‘ نہیں ہے۔ لیکن برٹرنڈ رسَل نے یہ بھی سوچا تھا کہ ہمیں بغیر کوئی مدد دیئے اِس تباہ حال کیفیت میں چھوڑ دینا غلط تھا۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں، خُدا نے ہمیں مدد بھیجی۔ یہ بالکل وہیں ہماری تلاوت کے دوسرے حصّے میں موجود ہے، ’’ویسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے [دی] بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے۔‘‘ رومیوں کے اِسی باب میں ہم پڑھتے ہیں،

’’لیکن خدا ہمارے لیے اپنی محبت یُوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان قربان کردی‘‘ (رومیوں 5:8).

خُدا نے ہمارے لیے گناہ کی قید سے فرار ہونے کے لیے ایک راستہ مہیا کیا ہے، جو ہمارے پاس آدم کی طرف سے آتا ہے۔ ’’لیکن مجھے جس طریقے سے خُدا نے مہیا کیا ہے وہ پسند نہیں ہے!‘‘ کسی نے کہا۔ تم مجھے کسی بگڑے ہوئے بچے کی مانند لگتے ہو، اپنے مُکّے اپنی بُلند کرسی پر مارتے اور چیختے ہوئے، ’’مجھے یہ کھانا پسند نہیں ہے!‘‘ ’’اچھا،‘‘ بیچاری غریب ماں کہتی ہے، ’’یہی سب کچھ ہمارے پاس ہے۔ اِسے کھاؤ یا بھوکے ہی جاؤ۔‘‘ میرے خیال میں آپ کو بات سمجھ میں آ گئی ہے۔ یا تو مسیح آپ کو آپ کے گناہ سے بچاتا ہے، یا آپ بھوکے ہی جاتے ہیں – اور حتمی طور پر جہنم میں جاتے ہیں۔ اِس بارے میں کچھ بھی ’’غلط‘‘ نہیں ہے۔ وہ صرف زندگی کے حقائق ہیں۔

کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ آدم کا گناہ ایک چھوٹا سا فعل تھا، اتنا چھوٹا کہ اِس کے نتیجے میں تمام کی تمام نسل انسانی تباہ نہیں ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایک بوڑھے کینیڈین کسان کا امریکہ آنے کا فیصلہ ایک چھوٹی بات تھی۔ اِس کے باوجود اُس کے اِس ’’چھوٹے‘‘ سے عمل کے نتیجے کے طور پر اُس کی تمام آل اولاد امریکی ’’بن گئی‘‘۔ اور آپ آج رات یہاں مجھے تبلیغ کرتا ہوا سُن رہے ہیں کیونکہ اُس نے یہ میرے پیدا ہونے سے بھی کافی عرصہ پہلے کیا تھا۔ طبیعیات میں اسے ’’تتلی کا اثر Butterfly effect‘‘ کہتے ہیں، جو’’انتشار کے نظریے‘‘ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اِس کا سادہ سا مطلب ہے کہ ابتدائی کیفیت میں چھوٹی چھوٹی سی تبدیلیاں بعد میں بہت بڑی تبدیلیوں کو جنم دی سکتی ہیں۔ ’’ایک آدمی کی نافرمانی سے [دی] بہت سے گنہگار ٹھہرے۔‘‘ یہ اصول طبیعیات میں سچا ہے اور یہ زندگی میں بھی سچا ہے۔

تقلید پسند عالمین الہٰیات کی جانب سے اِس کو ’’اصلی گناہ کہتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈبلیو. جی . ٹی. شیڈ Dr. W. G. T. Shedd نے کہا کہ ’’اصلی گناہ‘‘ ’’بدکار فطرت، ’’بدکار مزاج‘‘ اور ’’مُرتد مرضی‘‘ کے مساوی ہے۔ کیسے ’’اصلی گناہ‘‘ ہمیں متاثر کرتا ہے؟ گذشتہ ہفتے کی شب میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ تین اہم کام کرتا ہے۔

1. اوّل، اصلی گناہ نے آپ کو روحانی باتوں کی حقیقت سے اندھا کر دیا ہے۔ پولوس رسول اِ سکو ’’اُن کے دِلوں کا اندھا پن‘‘ کہتا ہے (افسیوں 4:18). اصلی گناہ کی وجہ سے ایک غیر تبدیل شُدہ آدمی ہمیں صرف یسوع کے پیار کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے سُن سکتا ہے۔ لیکن وہ خود یسوع کو نہیں جان سکتا کیونکہ اصلی گناہ اُس کا دِل اندھا کر دیتا ہے۔ صرف پاک روح کی کاروائی تجدید یا احیاء میں روحانی باتوں کو حقیقی بنا سکتی ہیں۔ صرف خُدا کی روح یسوع مسیح کے چہرے میں جلوہ گر ہو کر خُدا کے جلال کے علم کے نور کو چمکا سکتی ہے‘‘ (2۔کرنتھیوں 4:6).

2. دوئم، اصلی گناہ نے آپ کے ضمیر کو جُھلسا دیا ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’کیونکہ اُن کی عقل اور ضمیر دونوں ناپاک ہیں‘‘ (طیطُس 1:15). جب ہم آپ سے یسوع کے بارے میں آپ کے گناہ دھونے کی بات کرتے ہیں، مگر یہ آپ کو ایک بہت ہی چھوٹی اور غیر اہم بات لگتی ہے۔ کیونکہ آپ کا ضمیر اصلی گناہ سے ناپاک ہو گیا ہے۔ صرف جب خُدا کی روح آپ کو گناہ کی سزا کے تحت کرتی ہے اُس پیمانے تک کہ آپ کا گناہ آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے – تو کیا آپ ’’اپنے ضمیر کو پاک صاف کرنے کے لیے‘‘ یسوع کو خود اُس کے خون کے ساتھ تلاش کریں گے (عبرانیوں 9:14).

3. سوئم، اصلی گناہ نے آپ کی مرضی کو اُس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ بائبل کہتی ہے ’’آپ گناہوں اور قصوروں میں مرُدہ‘‘ ہیں (افسیوں 2:1). اپنی کتاب، مرضی کی قید The Bondage of the Will، میں لوتھر (1483۔1546) نے کلام پاک میں سے استدلال کیا کہ انسان کی مرضی (اُس کی خُدا کے لیے فیصلہ کرنے کی قابلیت) محض زخمی نہیں ہے، لیکن مُردہ ہے۔ اصلاح کی تمام کی تمام بنیاد انسان کی مرضی کے مردہ ہو جانے کے عقیدے پر کھڑی ہے۔ اصلاح پسندوں نے کہا کہ صرف خُدا ایک انسان کی مرضی کے لیے زندگی مہیا کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے رومیوں 9:16 کا حوالہ دیا، ’’لہٰذا یہ نہ تو آدمی کی خواہش یا اُس کی کوشش بلکہ خُدا کے رحم پر منحصر ہے۔‘‘ اور تمہیں اُس نے تقویت بخشی [زندگی عطا کی]، جو اپنے قصوروں اور گناہوں کے باعث مردہ تھے‘‘ (افسیوں 2:1؛ افسیوں 2:5). میں جانتا ہوں کی بائبل مکاشفہ 22:17 میں کہتی ہے، ’’جو کوئی کر سکتا ہے‘‘لیکن کھوئے ہوئے لوگ ایسا نہیں کر سکتے ہیں جب تک کہ خُدا اُنہیں مرضی نہ دے۔ ہر غیرمقلد مسیحی یعنی پروٹسٹنٹ اور بپتسمہ پانے والے نے اِس پر صدیوں تک یقین کیا جب تک کہ فنی Finney 1821 میں نہ آیا اور بے رحمانہ طریقے سے اپنے واعظوں اور کتابوں میں بار بار اصلی گناہ کے عقیدے پر حملہ کیا۔ فنّی کوئی آرمینیئین Arminian نہیں تھا۔ وہ ایک مکمل پیلے گئین Pelagian ملحد تھا۔ آُس نے اصلی گناہ پر بائبل کی تعلیمات کو مسترد کیا تھا۔ اُس نے سیکھایا کہ انسان اپنے آپ کو ’’فیصلہ‘‘ کرنے سے بچا سکتا ہے۔ اُس کے سب سے مشہور واعظوں میں سے ایک کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ و ہ کیسا ملحد تھا۔ اُس کا عنوان تھا، ’’خود اپنے دِلوں کو تبدیل کرنے کے لیے گنہگاروں کی بندش Sinners Bound to Change Their Own Hearts۔‘‘ فنی نے اِس لیے ملحد پیلے گیئسPalagius کی پیروی کی (دیکھیے 354۔418 بعد از مسیح)، جس نے اصلی گناہ سے انکاری کی اور سیکھایا کہ انسان مسیح ہونے کے لیے ’’فیصلہ‘‘ کرکے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ پس فنّی Finney نے پیلے گیئس کی پیروی کرتے ہوئے بائبل کی تعلیمات کو مسترد کیا، کہ اِنسان کی مرضی اصلی گناہ کی وجہ سے مُردہ ہے۔ لیکن یہ بائبل نہیں تھی جو غلط تھی۔ یہ فنّی تھا جو غلط تھا۔ اُس کی گواہی پڑھنے کے بعد، میں ذاتی طور پر قائل ہو گیا ہوں کہ فنّی ایک کھویا ہوا انسان تھا، اورکہ اُس کے نظریات ’’شیطان کے عقائد‘‘ تھے (1۔تیموتاؤس 4:1، مذید دیکھیے 2۔ پطرس 2:1۔2).


اصلی گناہ اِس قدر طاقتور ہے کہ انسان کی مرضی خُدا کی جانب مُردہ ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ تم میں سے وہ جو کہ غیر احیاء شدہ یا غیر تجدید شُدہ ہیں ’’اپنے گناہوں میں مردہ‘‘ ہیں (کلسیوں 2:13). ’’قصوروں اور گناہوں میں مُردہ‘‘ (افسیوں 2:1). ڈاکٹر جان ایل. داگ Dr. John L. Dagg پہلے مغربی بپتسمہ دینے والے عالمِ الہٰیات تھے۔ انسان کی مرضی پر اصلی گناہ کے تاثر پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا،

انسان کی ناقابلیت کی کلام پاک میں شبیہات حد سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بغیر قوت [رومیوں 5:6]کے ہیں، قید [2۔ تیموتاؤس 2:26] میں ہیں، پابندی [2۔پطرس 2:19؛ رومیوں 6:16، 17] میں ہیں. . . مُردہ [افسیوں 5:14؛ کُلسیوں 2:13]، وغیرہ ۔ وہ عمل جس کے ذریعے سے وہ اپنی قدرتی حالت میں بخشے جاتے ہیں، احیاء یا تجدید، ماں کے پیٹ میں حمل کے بعد بچے کی پہلی حرکت یا زندگی کا دینا کہلاتا ہے. . . اور یہ براہ راست خُدا کی قوت سے منسوب کیا گیا ہے. . . ہمارے نظریات جن کا تعلق ہمارے. . . قدرت کی وجہ سے کیفیات مکمل طور پر غلط ہیں، اگر ہم تصور کریں کہ ایک چھوٹا سا کام [ایک چھوٹا سا ’’فیصلہ‘‘]، جس کو کہ ہم عیش وعشرت پر اثر انداز کر سکتے ہیں، درست ٹھہرے گا. . . ہمارے ناقابلیت کی سچی حِس ہمیں اُس کی طرف کھینچ لے گی جو بچانے کے قابل ہے (جان ایل. داغ، ڈی.ڈی.، علم الہٰیات کا کتابچہ A Manual of Theology، مغربی بپتسمہ دینے والی اشاعتی انجمن Southern Baptist Publication Society، 1858، صفحہ 171).

دوسرے لفظوں میں، کیسے ایک شخص جس کی مرضی ’’گناہوں میں مردہ‘‘ ہے مسیح پر بھروسہ کرنے کے لیے ’’فیصلہ‘‘ کر سکتا ہے؟ داکٹر داگ Dr. Dagg نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ اور یہی تمام بپتسمہ پانے والوں او رغیر مقلد مسیحیوں یعنی پروٹسٹنٹوں نے فنی Finney کے اصلی گناہ کے ذریعے سے بشارتِ انجیل پر حملہ کر کے زہریلہ کرنے سے پہلے کہا تھا۔

آئیعن ایچ. مُیورے Iain H. Murray نے واضح کیا کہ برطانوی آرمینیئین، نے جان ویزلی کے ماتحتی میں، یقین کیا تھا کہ گراوٹ کی وجہ سے انسان کی مرضی تباہ ہوئی تھی، اور انسان کی ’’اپنے آپ کو بچانے کے لیے مکمل ناقابلیت‘‘ کی وجہ سے تباہ ہوئی تھی (پرانی بشارتِ انجیل کی تعلیمات The Old Evangelicalism، بھروسے کی سچائی کے بینر The Banner of Truth Trust، 2005، صفحہ 156). خود جان ویزلی نے کہا کہ وہ’’انسان کی مکمل گراوٹ اور اُس کی اپنے لیے خود کوئی نیکی کرنے کی مکمل نااہلیت میں یقین رکھتا ہے [ماسوائے] فضل سے بدلنے میں‘‘ (پانچ عظیم مبلغین انجیل Five Great Evangelists سے حوالہ مصنف جان ایچ. آرمسٹرونگ John H. Armstrong، کرسچن فوکس اشاعت خانے، 1997، صفحات 118۔119).

جان ویزلی نے کہا، آدم میں تمام مرتے ہیں، تمام نسل انسانی، لوگوں کے تمام بچےجو آدم کے نچلے مثانے کے درمیانے حصے میں سے تھے. . . ہر کوئی جو اُس سے پیدا ہوتا ہے دُنیا میں روحانی طور پر مُردہ آتا ہے، خُدا کے لیے مُردہ، مکمل طور پرگناہ میں مُردہ؛ خُدا کی زندگی سے پورے طور پر کالعدم. . . ہر آدمی جو دُنیا میں پیدا ہوتا ہے اب خود غرضی اور تکبر میں شیطان کی عکاسی رکھتاہے. . . یہ پھر ایک نئی جنم کی بنیاد ہے – ہماری فطرت کی مکمل بدکاری۔ پس یوں ہے، کہ، گناہ میں پیدا ہونے کی وجہ سے، تمہیں ضرور ’’دوبارہ پیدا‘‘ ہونا ہے۔ اِس لیے ہر کوئی جو عورت سے پیدا ہوتا ہے ضرور ہے کہ خُدا کی روح سے بھی پیدا ہو‘‘ (جان ویزلی کے کام The Works of John Wesley، بیکر بُکس گھر، دوبارہ اشاعت 1979، جلد دوئم، صفحہ 68). دوبارہ مسٹر ویزلی نے کہا، کیا تم خود اپنا دِل بدلنے کے قابل ہو، تمام گناہ سے تمام پاکیزگی میں؟ ایک جان جو گناہ میں مردہ ہے اُس کے لیے بہت جلدی نہیں ہے، - خُدا کے لیے مردہ، اور صرف دُنیا کے لیے زندہ؟ تو پھر تم اِس سے زیادہ اُس کی زندگی کے لیے اُٹھنے کے لیے جو قبر میں پڑا ہے کسی اور بات کے قابل نہیں ہیں کہ جلد ہی ایک مردہ جسم ہوں، کیا ، تم اپنی جان کو کسی بُلندی تک جلد لے جانے کے قابل نہیں ہو، اِس سے زیادہ بُلندی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک مردہ جسم کے لیے زندگی کا پیمانہ دینا۔ تم اِس معاملے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ زیادہ نہ کم، تم مکمل طور پر بغیر قوت کے ہو‘‘ (ibid.، جلد پنجم، صفحہ 84).

اُن تمام غیر مقلد مسیحیوں یعنی پروٹسٹنٹز اور بپتسمہ پانے والوں سے انسان کی مرضی کے تباہ ہو نے کے بیانات دئیے جا چُکنے کے ساتھ، میں حیرت زدہ رہ گیا جب میں نے وہ پڑھا جو بلّی گراہم Billy Graham نے اصلی گناہ کے بارے میں کہا تھا۔ بلّی گراہم نے کہا، ’’انسان کی تباہی مکمل تھی. . . لیکن انسان کی مرضی باقی تھی۔ پہلا انسان جس نے موت کو چُننے کے لیے اپنی مرضی کو استعمال کیا۔ آپ کو اپنی مرضی کو زندگی چننے کےلیے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ (فیصلہ میگزین Decision Magazine، فروری 2012، صفحات 4، 5).

دوسرے لفظوں میں بلی گراہم یقین رکھتا تھا کہ انسان کی مرضی اُس کی گراوٹ کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئی تھی! انتہائی شاندار! کیا بلی گراہم درست تھا اور لوتھر، ویزلی، جان داغ، اور باقی تمام عالم علم الہٰیات اور مبلغین جو فنّی Finney سے پہلے تھے غلط تھے؟ بے شک بالکل نہیں! یہ بلی گراہم اور جدید ’’فیصلہ ساز‘‘ ہیں جو غلط ہیں! اُنہوں نے بغیر جانتے ہوئے نادانستگی میں فنّی Finney کی پیروی کی۔ اُنہیں فنّی کی غلطی کا بہت کم احساس تھا جس نے کہا، ’’انسان کی مرضی آزاد ہے، اِس لیے، لوگوں کے پاس اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لے قوت یا صلاحیت ہے‘‘ (فنّی کے درجہ بہ درجہ علمِ الہٰیات پر لیکچرز Finney’s Lectures on Systematic Theology، عئیرڈمینز Eerdmans، اشاعت 1969، صفحہ 325). بلّی گراہم نے بھی یہی بات کہی تھی، ’’انسان کی مرضی باقی رہتی ہے‘‘ یا ’’زندگی کو چُننےکے لیے‘‘ آزاد۔ یہ شاید اچھا لگتا ہے، لیکن یہ خالص فنّی اِزم ہے! فنّی کا مرضی کی آزادی کے بارے میں نظریہ پیلے گئین اِزم Pelagianism کی قدیم بدعت ہے، ایک عقیدہ جو اِس بات کو مسترد کرتا ہے کہ اصلی گناہ کی وجہ سے انسان کی مرضی تباہ ہوئی تھی، اور تعلیم دیتا ہے کہ انسان انتخاب کرنے کی خود اہلیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے انسان کی مرضی قدرتی طور پراُسے خود اپنی نجات پانے کے بارے میں آزاد ہے۔ یہ غیر بائبلی پیلے گئین اِزم کا عقیدہ ہے جس کو ہم آج کل کی ’’فیصلہ سازیت‘‘ میں دیکھتے ہیں (پیلے گئین اِزم کی تعریف کے لیے دیکھیے پال ای. جی. کُک Paul E. G. Cook کی کتاب جنت سے آگ Fire From Heaven، انجیلی بشارت اشاعت خانہ Evangelical Press، 2009، صفحہ 127).

اگر آپ کی مرضی ’’باقی رہ جائے‘‘ آئیے دیکھتے ہیں کہ آپ اِسے حقیقی مسیحی بننے کے لیے استعمال کرتے ہیں! آگے بڑھیے، ایک ’’فیصلہ‘‘ لیجیے۔ اِس کی کوشش کیجیے! بہت سوں نے کی، لیکن ناکام رہے ہیں – اور آپ بھی رہیں گے! جیسا کہ ڈاکٹر جان داگ Dr. John Dagg نے کہا، ’’ہماری نااہلیت کی سچی حِس ہمیں اُس [مسیح] کے پاس لے جائے گی جو ہمیں بچانے کے قابل ہے۔‘‘

ایک نوجوان نے مجھے یہ سب کچھ کہتے ہوئے گذشتہ اِتوار کی شب کو سُنا تھا۔ واعظ کے بعد ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan نے اُس سے پوچھا، ’’تم کیسے تبدیل ہو سکتے ہو؟‘‘ اُس نوجوان نے کہا، ’’میں ماضی کو بھول کر خُداوند پر توجہ مرکوز کروں گا۔‘‘ ڈاکٹر کیگن نے کہا، ’’تم ایسا نہیں کر سکتے۔ تمہاری مرضی تباہ ہو جاتی ہے۔ اور اگر تم ایسا کر بھی سکو، تو یہ کیسے تمہارے گناہوں کو پاک صاف کر سکے گا؟‘‘ ایک اور نوجوان نے ڈاکٹر کیگن کو کہا، ’’میں نے دعا کی تھی لیکن اُس نے کام نہیں کیا۔‘‘ بے شک ’’اِس نے‘‘ کام نہیں کیا! جس نے بھی کہا ’’اِس نے‘‘ کام کیا؟ کوئی دعا اور کوئی ’’فیصلہ‘‘ بھی آپ کو بچا نہیں سکتا۔ آپ صرف خداوند یسوع مسیح کے ذریعے سے ہی بچائے جا سکتے ہیں، محض اُس پر صرف سادہ سے ایمان کے ذریعے سے!

’’کیونکہ تمہیں ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے۔ اور نہ ہی یہ تمہارے اعمال کا پھل ہے کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں 2:8۔9).

خود اپنے اوپر ایک نظر ڈالیے۔ دیکھیں کہ آپ کس قدر مایوس اور نااُمید ہیں! جوزف ہارٹ کے ساتھ مل کر کہیں، ’’کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، بے یارومددگار گنہگاروں کے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے۔‘‘ مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور یہ حمد و ثنا کا گیت گائیے۔ آپ کے گانوں کے اوراق میں یہ گیت نمبر 7 ہے۔

’’اور جیسے ایک آدمی کی نافرمانی سے [دی] بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی ایک آدمی کی فرمانبرداری سے [دی] بہت سے لوگ راستباز ٹھہرائے جائیں گے‘‘ (رومیوں 5:19).

تمام تھکے ماندوں، بوجھ سے دبے، زخمی اور گرنے سے ٹوٹے ہوؤں۔
   اگر تم سستی کرو گے جب تک کہ ٹھیک نہیں ہو جاتے، تو تم کبھی بھی نہیں آ پاؤ گے:
راستباز نہیں، راستباز نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا!
   راستباز نہیں، راستباز نہیں، یسوع تو گنہگاروں کو بلانے کے لیے آیا تھا!

دیکھو! متجسم خُدا، آسمان پر اُٹھایا گیا، اپنے خون کے حق کے لیے التجا کرتا ہے؛
   اُسی پر اپنی قسمت آزماؤ، مکمل طور پر قسمت آزماؤ، کسی اور پر بھروسہ کو مداخلت مت کرنے دو؛
کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، جو بے یارومددگار گنہگاروں کے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے۔
   کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، کوئی اور نہیں ماسوائے یسوع کے، جو بے یارومددگار گنہگاروں کے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے۔
(’’آؤ، اے گنہگاروںCome, Ye Sinners ‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart ، 1712۔1768).

آپ اپنے آپ کو خود نہیں بچا سکتے! یسوع کے سامنے گِریں! صرف اُسی پر بھروسہ کریں! اور کوئی نہیں ماسوائے یسوع کے اور کوئی نہیں ماسوائے یسوع کے، جو بے یارومددگار گنہگاروں کیے لیے کچھ اچھا کر سکتا ہے۔‘‘

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan رومیوں 5:15۔19 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’خُداوندا، میں گناہ میں گِھرا ہوا، لائق مذمت ہوں Lord, I Am Vile, Conceived in Sin ‘‘
(شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز Dr. Issac Watts، 1674۔1748).