Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آخری زمانے میں کلیسیا کے اِرکان

EVIL CHURCH MEMBERS IN THE LAST DAYS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
27 مئی، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 27, 2012

’’اور بدکار دھوکہ باز لوگ فریب دیتے دیتے اور فریب کھاتے کھاتے بگڑتے چلے جائیں گے‘‘ (2۔تیموتاؤس 3:13).

1968سے لے کر 1978 تک ڈاکٹر ہیرالڈ لیِنڈسِل Dr. Harold Lindsell ’’آج کی مسیحیت Christianity Today‘‘میگزین کے ایڈیٹر تھے۔ وہ سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والی کتاب ’’بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible ، کے مصنف تھے اور مطالعے کی دو بائبلز کے ایڈیٹر تھے۔ وہ فُلر علم الہٰیات کی درس گاہ کے بانیوں میں سے ایک تھے، جیسی کہ وہ آزاد خیالی میں تبدیل ہونے سے قبل تھی۔ وہ ایک ذاتی دوست بھی تھے جو اکثر ہمارے گرجہ گھر میں واعظ دیا کرتے تھے، اور 1982 میں میری بیوی اورمیری شادی پر واعظ کیا تھا۔

ڈاکٹر لیِنڈسِل نے اِکٹھا ہوتا ہوا طوفان The Gathering Storm کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی: دُنیا کے واقعات اور مسیح کی واپسی World Events and the Return of Christ (ٹائینڈیل اشاعت گھر Tyndale House Publishers، 1980). اُس کتاب میں اُنہوں نے کہا،

وہ کیفیات جو اقرار کرتی ہوئی کلیسیا کے اندر موجود تھیں یسوع کی دوسری آمد کی طرف اشارہ کرتی تھیں، کیونکہ دُنیا بھر میں کلیسیا پُرمعنی انداز میں دُنیوی بن چکی تھی. . . اب مذید کوئی اور مسیحی ذہن نہیں رہا تھا۔ مسیحی دُنیاویت سے اِس قدر ذہنی طور پر قائل ہو چکے تھے کہ وہ اب مسیحیوں کی طرح سوچتے بھی نہ تھے۔ اُن کی زندگی اور دُنیا کے نظریے کی جڑیں اِتنی بائبل میں گڑھی ہوئی نہ تھیں جتنی اُس لائحہ عمل میں جو دُنیا نے ترتیب دیا تھا (ibid.، صفحہ 70).

اُنہوں نے بھی تیموتاؤس 3:1۔7 کا حوالہ دیتے ہوئے درج ذیل خیالات کا اظہار کیا،

امریکہ نے خود غرضانہ، کنارہ کش، بے رحم، غیر مذہبی، وطن دشمن اور بِلا کردار کے نوجوانوں کی ایک نسل کو پیدا کیا ہے. . . لوگوں کو انسان ہونا چاہیے، اُن انسانی اقدار کو اور کسی معقول دُنیا اور زندگی کے نظریے سے دستبردار ہونے کو جس نےکبھی انسانوں کو سوؤروں اور گھوڑوں سے علیحدہ شناخت دی تھی کھو رہا ہے (ibid.، صفحات 66۔67).

ڈاکٹر لیِنڈسِل نے اِن خیالات کا اظہار 2۔تموتاؤس 3:1۔7 کا حوالہ دینے کے فوراً بعد دیئے تھے۔

2۔تیموتاؤس تیسری آیت میں حوالہ اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے ’’یہ بھی یاد رکھو کہ آخری زمانے میں بُرے دِن آئیں گے‘‘ (2۔تیموتاؤس 3:1). ڈاکٹر جے ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے کہا کہ پولوس رسول 2۔تیموتاؤس 3 باب میں ہمیں بتا رہا ہے کہ ’’کلیسیا کا مستقبل کیا ہونے جا رہا ہے – یہ منظم کلیسیا کے لیےکوئی شاندار مستقبل نہیں ہے۔ ’آخری زمانے‘ ایک تکنیکی اصطلاح ہے. . . یہ کلیسیا کے آخری ایام کے بارے میں بتا رہی ہے‘‘ (جے ورنن میکجی، ٹی ایچ. ڈی.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن اشاعت خانہ Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحہ 469؛ 2۔تیموتاؤس 3:1 پر ایک یاداشت(۔ ڈاکٹر میکجی نے جاری رہتے ہوئے کہا،

’’بُرے دِن آئیں گے،‘‘ جس کا مطلب ہے کہ دِلخراش یا مایوس کُن زمانے آ رہے ہیں۔ یہ دُنیا کے تبدیل ہونے جیسا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ کیا ایسا ہے؟. . . بائبل یہ نہیں سیکھاتی ہے کہ ایسا ہو گا۔ یہ اُن کی ایک غیر حقیقی اُمید ہے. . . بے شمار ایسے لوگ جنہوں نے شترمُرغ کی مانند اپنے سر ریت میں دے کر زندگی گزاری ہے اور کبھی بھی حقیقت کا سامنا نہیں کیا ہے۔ اِس کے بجائے، غور کریں کہ آخری زمانے میں کیاکچھ آنے والا ہے۔ اگلی چند آیات (2۔تیموتاؤس 3 باب میں) میں ہمیں اُنیس مختلف وضاحتیں پیش کی گئی ہیں۔ یہ ایک لائقِ مذمت خیال ہے، لیکن ہمیں اُن پر نظر ڈالنی چاہیے کیونکہ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاک صحائف کی بہترین تصویر کشی کرتے ہیں۔ ہم، مجھے یقین ہے، کلیسیا کے آخری ایام میں داخل ہو رہے ہیں. . . میرا نہیں خیال ہے کہ آپ ایسا کوئی زمانہ تلاش کر پائیں گے جس میں یہ تمام کے تمام اُس طریقے سے عیاں ہوں جیسے کے آج ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ہم اُن ’’بُرے‘‘ دِنوں میں ہیں جو اِس حصّے میں بیان کیے گئے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کتنی دیر مذید اور رہے گا، لیکن مجھے اعتماد ہے کہ یہ اِس سے بہتر نہیں بلکہ اور بدتر ہو جائے گا (ibid.، صفحات 469۔470).

مہربانی سے کھڑے ہو جایئے جب میں آیات 1تا 4 پڑھوں۔

’’لیکن یاد رہے کہ آخری زمانہ میں بُرے دِن آئیں گے لوگ خُود غرض، زَر دوست، شیخی باز، مغرور، بدگو، ماں باپ کے نافرمان، ناشکرے، نا پاک، محبت سے خالی، بے رحم، بدنام کرنے والے، بے ضبط، تُند مزاج، نیکی کے دشمن، دغاباز، بے حیا، گھمنڈی، خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے ہوں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:1۔4).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے گرجہ گھروں میں کیوں زیادہ تر لوگ اِس طرح کے ہیں؟ کیونکہ سالوں سے پادریوں نے کھوئے ہوئے لوگوں کو احتیاط کے ساتھ اُن کی شہادتوں کی پڑتال کیے بغیر بپتسمہ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب گرجہ گھر کھوئے ہوئے لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ وہ ہر کسی کو جنہوں نے سرسری سے ’’فیصلہ‘‘ کیا ہو بحیثیت مسیحی قبول کرنے کے نتیجے میں غیر محفوظ لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

2۔تیموتاؤس 3:1۔4 میں ہمیں 19 الفاظ یا فقرے دیئے گئے ہیں جو ہمارے گرجہ گھروں میں ’’آخری زمانے‘‘ میں اِن لوگوں کو بیان کرتے ہیں۔

1.  ’’لوگ خود اپنی ذات کو پیار کرنے والے ہونگے۔‘‘ گرجہ گھروں میں کھوئے لوگ دُنیا کی عکاسی کرتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو مسیح سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ خود پرستی اِس قدر نمایاں ہے کہ زیادہ تر گرجہ گھر کے ارکان تو اب اِتوار کی شام کو بھی عبادت کے لیے نہیں آتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے اِس قدر پیار کرتے ہیں کہ وہ اب مدعو کرنے یا جانیں جیتنے نہیں جائیں گے۔ یہ اِس لیے ہے کیونکہ ہم نے گرجہ گھروں کو غیرمحفوظ لوگوں سے کھچا کھچ بھر دیا ہے۔

2.  ’’زر دوست‘‘ در حقیقت اِس کا مطلب ’’پیسے کو پیار کرنے والے‘‘ ہے۔ اِنسان کی نفسانی طبیعت اِس پر بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنا پسند کرتی ہے، کیونکہ یہ خود اپنے آپ کو مسیح سے زیادہ پیار کرتی ہے۔ بائبل کہتی ہے، ’’زردوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے‘‘ (1۔تیموتاؤس 6:10). بہت سے نوجوان لوگ گرجہ گھر کے ساتھ اُس وقت تک جُڑے رہتے ہیں جب تک اُن کے والدین ہر ایک چیز کے لیے رقم ادا کرتے ہیں۔ لیکن بعد میں جب اُنہیں اُنکی خود کی ملازمت مل جاتی ہے تو وہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی ’’زردوستی ‘‘ کا مطلب ہے!

3.  ’’شیخی باز۔‘‘ یہ یونانی لفظ صرف یہاں اور رومیوں 1:30 میں پایا گیا ہے، جہاں اِسے کافر دُنیا کی کیفیات یا حالات کی تفضیل بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ جب ہم آج جنہیں ہم ’’گواہیاں یا شہادتیں‘‘ کہتے ہیں کے بارے میں سُنتے ہیں، وہ اکثر ’’شیخی بازیوں‘‘ کے ایک سلسلے سے زیادہ نہیں ہوتی ہیں کہ وہ کس قدر بُرے تھے یا اب کس قدر اچھے ہیں – جس میں مسیح کا بہت کم ذکر ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ اُنہوں نے اپنے آپ کو خود کی اصلاح کے کام سے بچایا ہو! وہ مسیح کو جلال نہیں بخشتے یا اُس کی بڑھائی نہیں کرتے کیونکہ وہ کبھی بچائے ہی نہیں گئے تھے۔ وہ ایک لمبی کہانی پیش کرتے ہیں کہ وہ کس قدر بُرے تھے، اور پھر وہ کہتے ہیں، ’’میں بچایا گیا تھا۔‘‘ اِس میں یسوع کہاں ہے؟ یہ صرف شیخی بازی ہے!

4.  ’’مغرور‘‘ – غرور سے بھرے ہوئے، عاجزی نہیں۔ ’’آخری زمانے‘‘ میں گرجہ گھر کے کھوئے ہوئے اِرکان کی کیسی ایک تصویر۔

5.  ’’بدگو،‘‘ لفظی طور پر ’’بُرائی والے لوگ‘‘۔ جب نئے لوگ گرجہ گھر کے لیے آتے ہیں تو وہ اکثر بجھ جاتے ہیں جب وہ ایسے مسیحی کہلانے والوں کو دیکھتے ہیں جو جماعت میں موجود کسی اور کے بارے میں بُرائی کرتے ہیں۔ یہ اُس بدگوئی کے الزامات کی عکاسی کرتا ہے جو دُنیا دین دار مسیحیوں کے خلاف کرتی ہے۔ ہِیپیوں کی نسلوں نے ہمیشہ بدگوئی ہی کی ہے۔ یہ اُن کی ایک سب سے عام خصوصیت ہے۔ ذرا ’’اُوکیو پائی وال سٹریٹ Occupy Wall Street ‘‘ کو ہی دیکھ لیجیے۔ اورجب وہ گرجہ گھر میں آتے ہیں تو وہ بدگوئیاں کرتے رہتے ہیں!

6.  ’’ماں باپ کے نافرمان۔‘‘ اِس قسم کے لوگ کیسے اپنے آپ کو خُدا کے حوالے کر سکتے ہیں؟ وہ کر ہی نہیں سکتے! وہ جو ماں باپ کے نافرمان ہیں وہ گرجہ گھر کے مختیار کے خلاف بھی بغاوت کریں گے، جیسا کہ وہ دُنیا میں کرتے ہیں۔ ہیپیوں کے نسل اور اُن کی اولادوں کی کیسی ایک تصویر ! میرے خیال میں یہی ہیں جن کے بارے میں اِس آیت میں کہا گیا ہے۔ اِس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے کہ یہ ایک کے بعد دوسرے گرجہ گھر کو توڑنے کا سبب ہیں!

7.  ’’ناشکرے۔‘‘ یونانی کا یہ لفظ صرف یہاں اور لوقا 6:35 میں پایا گیا ہے، جہاں یسوع نے ’’ناشکروں اور . . . بدکاروں‘‘ کے بارے میں بات کی تھی۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اُن کے ساتھ جتنی مرضی رحم دلی کے ساتھ پیش آتے ہیں، اُن کے ذہن میں شکر گزار ہونا کبھی سماتا ہی نہیں! ہم نے لوگوں کو ہماری گاڑیوں میں گرجہ گھر لاتے ہوئے، ہمارے خرچ پر کھاتے ہوئے، اور یہاں تک کہ اپنے گھروں میں لے جا کر اُن کی ایسے دیکھ بھال کرنا جیسے کہ وہ ہمارے اپنے گھر کے افراد ہوں کرتے ہوئے دیکھا ہے، اور وہ گرجہ گھر شکریے کا ایک لفظ بھی ادا کیے بغیر چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ اِس قدر سخت دِل ہوتے ہیں کہ وہ شکرگزار ہونا محسوس ہی نہیں کرسکتے! میری والدہ ایک لڑکے کو اپنے گھر لے گئیں اور اُس کے ساتھ اپنے بیٹے کی مانند سلوک کیا۔ یہاں تک کہ وہ اُسے سکول بھی چھوڑنے جاتیں اور دوپہر کے کھانے کے لیے پیسے بھی دیتیں۔ جب اُس نے گرجہ گھر چھوڑا اُس نے اُن کا خالص چاندی کی چُھریوں اور کانٹوں کا سیٹ، جو اُنہیں شادی کے تحفے کے طور پر مِلا تھا چُرا لیا تھا۔ اُس نے میری والدہ کو رونے پر مجبور کر دیا اور اُنہیں شکریہ کا ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ جب وہ گیا اُس نے اُن کے لیے ایک رقعہ تک نہیں چھوڑا۔ ’’ناشکرا۔‘‘ ہم یہ گاہے بگاہے اِس بدکار نسل میں دیکھ چُکے ہیں۔

8.  ’’ناپاک۔‘‘ اِس لفظ کا مطلب ’’خلافِ دین‘‘ ہے۔ یہ اپنی زندگیاں خُدا کے خلاف بغاوت میں گزارتے ہیں، اور اِس کے باوجود سوچتے ہیں کہ وہ مسیحی ہیں! وہ تمام مقتدر کے خلاف باغی ہیں۔

9.  ’’قدرتی محبت سے خالی۔‘‘ اِس کا مطلب ہے کہ اُن کے پاس قدرتی طور پر کوئی محبت نہیں ہوتی ہے، نا ہی تو خود اپنے بدن و خون کے لیے، جیسا کے ہم اسقاطِ حمل میں دیکھتے ہیں، یا غیر قدرتی جنسی تعلقات میں۔ وہ اپنے ہی بچوں کا قتل کر دیتے ہیں اور خود اپنے ہی والدین کو ہولناک ’’آرام گاہوں‘‘ میں ڈال دیتے ہیں، اور شاذو نادِر ہی کبھی اُنہیں ملنے جاتے ہیں، اور اِس کے باوجود اپنے آپ کو ’’مسیحی‘‘ کہتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر لیِنڈسِل نے کہا، وہ ’’بے رحم‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ کیسی دھشتناک تصویر ہے!

10. ’’معاہدے کو توڑنے والے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو ناقابلِ مفاہمت ہوتے ہیں۔ یہ آپ کو اپنے برابر چلنے سے انکاری کرتے ہیں۔ آپ چاہے جتنی مرضی سخت کوشش کر لیں آپ اُنہیں خوش نہیں کر سکتے! آپ اُن کے ساتھ امن قائم نہیں رکھ سکتے۔

11. ’’بدنام کرنے والے۔‘‘ میرے خُدایا، اُنہیں کس قدر افواہیں پھیلانے اور دوسروں پر کیچڑ اُچھلنے کا شوق ہوتا ہے! افسوس کے ساتھ، یہ اب گرجہ گھر میں بھی اتنا ہی درست ہے جتنا کہ یہ اِس دُنیا میں ہے! کھوئے ہوئے گرجہ گھر کے اِرکان کو جماعت میں دوسروں کی عیب گوئیاں کرنے سے کتنی خوشی ملتی ہے۔

12. ’’بے ضبط۔‘‘ اِ س کا مطلب ہے کہ ’’خود پر قابو نہ پا سکنا۔‘‘ ہم یہ ہر وقت اپنے بدچلن معاشرے میں دیکھتے ہیں۔ وہ گرجہ گھر میں آتے ہیں، لیکن وہ زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہتے ہیں، کیونکہ اُن میں خود پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے۔ وہ اتنے ہی وحشی ہوتے ہیں جتنے کہ جنگلی جانور۔ کس قدر ہولناک! وہ ایک گرجہ گھر سے دوسرے کے لیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ سپرجئین نے کہا، ’’وہ راہ کے راہی ہیں، جن کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔‘‘

13. ’’تُند مزاج۔‘‘ کا مطلب ’’خونخوار یا جنگلی‘‘ ہے (ڈاکٹر میکجی). ہمارے دِنوں میں گلیاں اکثر دِن کے وقت بھی غیر محفوظ ہوتی ہیں۔ اور بہت سے گرجہ گھر نئے مسیحیوں کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے! ایسے کہلانے والے ’’مسیحی‘‘ اکثر اتنے ہی جنگلی ہوتے ہیں جتنی کہ ہمارے اردگرد کی دُنیا! یہ واقعی ہی ’’بُرے دِن‘‘ ہیں! ایک نوعمر نے اپنی ماں کا قتل اِس لیے کر دیا کیونکہ اُس نے اُس پر پابندیاں عائد کی تھیں! یہ درست ہے! میں نے یہ جمعرات کی صبح کے اخبار میں پڑھا تھا۔ جونوجوان لوگ اب ایسے کام کرتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی 1940 یا 1950 کی دہائیوں میں سُنا بھی نہیں تھا!

14. ’’نیکی کے دشمن۔‘‘ اِس کا لفظی طور پر مطلب ’’نیکی سے نفرت کرنے والے‘‘ ہے۔ یہ طیطُس 1:8 میں ’’نیک لوگوں سے پیار کرنے والوں‘‘ کا متضاد ہے۔ ایک نیک، پرھیزگار آدمی سے نفرت کی جاتی ہے، جب کہ ایک بدکار آدمی جو ’’دلچسپ‘‘ ہے اُس سے محبت کی جاتی ہے۔ یہ ہم اپنے انتخابات کے ساتھ ساتھ اپنے گرجہ گھروں میں بھی دیکھتے ہیں۔ یہ اِس نسل کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ یہ ’’اُن کا تمسخر اُڑانے والے ہوتے ہیں جو نیک ہیں۔‘‘

15. ’’دغاباز۔‘‘ اِس کا بجا طور پر لفظی مطلب ’’دھوکے باز‘‘ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر آپ کبھی بھروسہ کر ہی نہیں سکتے۔ وہ آپ کو ہر مرتبہ دھوکہ دیں گے، کیونکہ یہ ہی اُن کی فطرت میں ہے کہ ایسا کریں۔ قدرتی طور پر وہ ’’دھوکے باز‘‘ ہوتے ہیں۔

16. ’’بےحیا۔‘‘ کا مطلب ہے ’’لاپرواہ، جنسی خواہش کے اثر کے تحت بُری منزل کی تعاقب میں سرکشی کرنا‘‘ (ڈاکٹر ماروِن آر. ونسنٹ Dr. Marvin R. Vincent). یہ اُن لوگوں کی وضاحت کرتا ہے جو جلدبازی اور بے پروائی سے عمل کرتے ہیں۔ وہ جتنی ہی جلدی گرجہ گھر میں شمولیت کرتے ہیں اُتنی ہی جلدی اُسے چھوڑ دیتے ہیں! آپ غیر محتاط لوگوں پر بھروسہ نہیں کرسکتے! اور بہت زیادہ ’’اڑیل‘‘ اور ’’لاپرواہ‘‘ ہوتے ہیں۔

17. ’’گھمنڈی‘‘ جیسے تکبر نے اندھا کر دیا ہو۔ یہی وہ یونانی لفظ ہے جو 1۔تیموتاؤس 6:4 میں استعمال ہوا ہے، ’’وہ مغرور ہے اور کچھ نہیں جانتا، لیکن اُسے صرف فضول بحث اور لفظی تکرار کرنے کا شوق ہے، جن کا نتیجہ حسَد، جھگڑے، بدگوئی اور بدزبانی ہے‘‘۔ ایک جائزے کے مطابق 89 % پادریوں کو اِس قسم کے کہلائے جانے والے ’’مسیحیوں‘‘ کے ساتھ معاملات طے کرنے پڑتے ہیں، یہ لوگ جو گرجہ گھروں کی تقسیم کا سبب ہیں۔ اِس کے بارے میں سوچئیے، اَس طرح کے لوگوں کی وجہ سے 9 میں سے 10 پادریوں کو گرجہ گھروں کی تقسیم کا تجربہ سہنا پڑا! وہ تکبر کے ساتھ گھِرے ہوئے [یا اندھے] ہیں‘‘ (ڈاکٹر ونسنٹ).

18. ’’خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرنے والے۔‘‘ لفظی طور پر ’’خُدا کو پیار کرنے والوں کے بجائے عیش و عشرت کو پیار کرنے والے‘‘ (ڈاکٹر ونسنٹ). ڈاکٹر میکجی نے کہا، ’’کبھی بھی ایسا وقت نہیں آیا کہ جب عیش و عشرت مہیا کرنے کے لیے اِس قدر دولت خرچ کی گئی ہو. . . کروڑوں ڈالرز تفریح کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں کیونکہ لوگ عیش و عشرت کو خُدا کی نسبت زیادہ پیار کرتے ہیں‘‘ (ibid.، صفحہ 471). یہ اِس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں نوجوان لوگ لاتعداد گھنٹے ہر روز کمپیوٹر پر ویڈیو کھیل کھیل میں گزار دیتے ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ اُن کے پاس دعا یا بائبل کا مطالعہ کرنے کا وقت نہیں ہے! کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہو گی اگر اُنہیں حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں ہوتا ہے! وہ خُدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

19. ’’دین داری کی شکل رکھنا، لیکن اُس کی قوت کا انکار کرنا۔‘‘ اُن کے پاس ’’محض بیرونی مشہابت، جیسا کہ دین داری کی ’’ناگزیر حقیقت سے پہچان ‘‘ ہوتی ہے (ڈاکٹر ونسنٹ). ’’وہ مذہب کی رسومات سے گزرتے ہیں لیکن زندگی اور حقیقت کا فقدان رکھتے ہیں‘‘ (ڈاکٹر میکجی). وہ لوگ جو محض گرجہ گھر آ جانے سے تسلی پاتے ہیں بغیر مسیح کو جانے وہ ایسے لوگ ہیں جیسے 2۔ تیموتاؤس 3:7 میں ’’سیکھنے کی کوشش تو ہمیشہ کرتے ہیں، لیکن کبھی اِس قابل نہیں ہو پاتے کہ حقیقت کو پہچان سکیں‘‘ (2۔تیموتاؤس 3:7). آپ اُنہیں خوشخبری کی تبلیغ کرسکتے ہیں جب تک کہ آپ کو یہ احساس نہ ہو جائے کہ اُن پر جوں تک نہیں رینگی، اور وہ ایسے چلے جائیں گے جیسے ’’دین دار کی شکل رکھتے ہوئے‘‘ وہ بہت تسلی بخش ہیں ’’اُس کی قوت‘‘ کا کوئی تجربہ کیے بغیر۔ اُفسوس کے ساتھ، اِ س قسم کے بہت سے لوگ ہمارے گرجہ گھر میں بھی ہر اِتوار کے روز ہوتے ہیں!


ہیپیوں کی نسل کی کسی ایک تصویر، وہ جو کہ اب 45 سے 65 سال کی عمر کے ہونگے – اور کسی نہ کسی طور اُن کے بچوں اور پوتوں پوتیوں سے کم حد تک! جیسا کہ ڈاکٹر لیِنڈسِل اُس کی تفضیل بیان کرتے ہیں، وہ ’’خود پسند، کنارہ کش، بے رحم، غیر مذہبی، وطن دشمن اور بِلا کردار ‘‘ کے ہیں۔ اُن کی وضاحت 2۔ تیموتاؤس 3:1۔8 میں ہے۔

اب، اگر اِن 19 وضاحتوں میں سے کوئی ایک آپ پر پوری اُتری ہو، تو آپ کے ساتھ کیا خرابی ہے؟ لفظ ’’لوگ‘‘ پر غور کریں۔ یہ حوالے میں تین مرتبہ ظاہر ہوا ہے۔ ’’لوگ خود اپنی ذات کو پسند کرنے والے ہوں گے‘‘ (2 آیت). ’’یہ لوگ بھی حق کی مخالفت کرتے ہیں: اِن لوگوں کی عقل بگڑی ہوئی ہے‘‘ (8 آیت). ’’لیکن بُرے لوگ. . . فریب دیتے دیتے [بڑھتے] بگڑتے چلے جائیں گے‘‘ (13آیت). یہ حوالاجات گرجہ گھر میں کھوئے ہوئے لوگوں، دونوں عورتوں اور مردوں کے لیے حوالہ ہیں۔


1.  وہ اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں، خُدا سے نہیں۔

2.  وہ حق کی مخالفت کرتے ہیں۔

3.  وہ بگڑتے چلے جائیں گے۔

’’بدکار، دھوکہ باز لوگ فریب دیتے دیتے اور فریب کھاتے کھاتے بگڑتے چلے جائیں گے‘‘
      (2۔ تیموتاؤس 3:13).

ایک دفعہ لوگ اِس مقام تک پہنچ جائیں پھر شاذونادر ہی ہے کہ اگر وہ تبدیل ہو جاتے ہیں کیونکہ اُنہیں خُدا چھوڑ دیتا ہے۔ جب خُدا آپ کو چھوڑ دیتا ہے، تو پھر یہ بچائے جانے کے لیے ہمیشہ کے لیے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ لیکن اپنے آپ کو اِس قدر سکون مت دلائیں۔ آپ گرجہ گھر میں رہ سکتے ہیں اور اِس کے باوجود بھی خُدا سے چھوڑے جا سکتے ہیں۔ میں یہ کئی مرتبہ ہوتے ہوئے دیکھ چکا ہوں۔ تاہم، اگر آپ کا ضمیر آپ کو آپ کے گناہ کے لیے ملامت کرتا ہے تو آپ کے لیے اب بھی امید باقی ہے۔

اگر آپ کھوئے ہوئے ہیں تو کیا اب وقت نہیں ہے کہ آپ مسیح کے بارے میں تلاش کو انتہائی سنجیدگی سے لیں؟ آپ یہ جانتے ہوئے کیسے برداشت جاری رکھ سکتے ہیں کہ آپ کسی بھی وقت جہنم میں اُتارے جاسکتے ہیں؟ آپ روزبہ روز اِس طرح کیسے جی سکتے ہیں؟ یسوع نے کہا، ’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا 13:24).

مجھے 1972یا 1973 کے ماضی میں سان فرانسسکو سے سان جوز کی جانب گاڑی میں جانا یاد ہے۔ میرے ساتھ گاڑی میں ایک نوجوان ہیپی تھا۔ اُس نے تمام راستے میں وہاں جاتے ہوئے اور آتے ہوئے باتیں کی۔ اُسے نشہ چھوڑے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، اور اُس کا ذہن ابھی بھی دُھندلایا ہوا سا ظاہر ہوتا تھا۔ وہ باتیں کرتا گیا اور کرتا گیا یہاں تک کہ میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا! مجھے سوچنا یاد ہے، ’’اِس انسان کے لیے کوئی اُمید نہیں ہے۔‘‘ لیکن میں غلطی پر تھا۔ آخر کار وہ تبدیل ہو گیا تھا! آج وہ شادی شُدہ ہے اور اُس کے بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں، اور وہ فینیکس، ایریزونا میں ایک گرجہ گھر کا پادری ہے! وہ گا سکتا ہے، ’’حیرت انگیز فضل، کس قدر میٹھی آواز ہے جس نے مجھ جیسے تباہ حال کو بچایا!‘‘

اگر آپ کھو گئے ہیں تو آپ کے لیے اُمید ہے! لیکن آپ کے لیے صرف ایک اُمید ہے – اور اُس کا نام یسوع ہے! یسوع پر بھروسہ کریں اور آپ بچائیں جائے گے!

میری غلامی، دُکھوں اور اندھیروں سے باہر،
   یسوع، میں آتا ہوں، یسوع، میں آتا ہوں؛
تیرے نور، شادمانی اور آزادی میں داخلے کے لیے،
   یسوع، میں تیرے پاس آنے کے لیے آتا ہوں!
(’’یسوع، میں آتا ہوں Jesus, I Come‘‘ شاعر ولیم ٹی. سلیپر William T. Sleeper، 1819۔1904).

اگر آپ ابھی تک بچائے نہیں گئے ہیں تو مہربانی سے ابھی کمرے کی پچھلی جانب قدم بڑھائیں، اور ڈاکٹر کیگن Dr. Cagan آپ کو ایک پُرسکون جگہ پر دعا کے لیے لے جائیں گے۔

اب چند الفاظ آپ میں سے اُن کے لیے جو بچائے گئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ 2۔تیموتاؤس 3:1۔8 پاک کلام کا ایک تاریک اور حوصلہ توڑ دینے والا حوالہ ہے۔ جب ہم گنہگار انسان کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ ہماری حوصلہ شکنی کے لیے پابند ہے۔ اِس کے باوجود گزرتے سالوں میں میں نے اِس حوالے سے انتہائی شدید سکون بھی پایا ہے۔ یہ مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ بائبل کی پیشن گوئی میں نسل انسانی کے حالات کے بارے میں پڑھوں۔ یہ مجھے سوچنے پر مجبور کرتا ہے، ’’اچھا، تو بائبل نے جو کہا وہ ایسا ہوگا۔ حالات بُرے ہونگے، لیکن وہ قابو سے باہر نہیں ہونگے۔ بائبل ہمیں پیش بینی کرتی ہے – اور خُداوند جس نے پاک کلام کے یہ الفاظ ہمیں دیئے ہیں اب بھی تخت پر موجود ہے!‘‘ اِس کے علاوہ، 2۔ تیموتاؤس میں بالکل اگلا باب کہتا ہے کہ، ’’خُداوند یسوع مسیح. . . جو اپنےظاہر ہونے پر زندوں اور مُردوں کی عدالت کرے گا. . . ‘‘ (2۔ تیموتاؤس 4:1). اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کس قدر بُرے ہو جائیں، یسوع دوبارہ واپس آ رہا ہے! گیت کے اِن عظیم الفاظ کو سوچئیے –

اندھیری رات تھی، گناہ کے خلاف ہمارے جنگ تھی؛
   ہم دُکھوں کا کس قدر بھاری بوجھ اُٹھائے ہوئے تھے؛
لیکن اب ہم اُس کے آنے کی علامات دیکھتے ہیں؛
   ہمارے دِل ہم میں جگمگا اُٹھتے ہیں، خوشی کا پیالہ ہم پر لبریز ہوتا ہے!

خستہ حال مسافروں، اپنے سروں کو اُٹھاؤ؛
   دِن کے طلوع ہونے کو دیکھو اب آسمان سُرخی مائل ہے؛
رات کے سائے اُڑ گئے، اور یسوع آ رہا ہے،
   اتنی چاہت کے ساتھ انتظار کیا اور آخر کار وہ نزدیک آ ہی گیا۔

وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   بالکل وہی یسوع، جِسے لوگوں نے رد کیا؛
وہ دوبارہ آ رہا ہے، وہ دوبارہ آ رہا ہے،
   عظیم جلال اور قوت کے ساتھ، وہ دوبارہ آ رہا ہے!
(’’وہ دوبارہ آ رہا ہے He is Coming Again، شاعر میبل جانسٹن کیمپ
Mabel Johnston Camp، 1871۔1937).

یسوع کی دوسری آمد سے زیادہ کوئی بات ایک مسیحی کے دِل کو اُجاگر نہیں کرتی! میں نے ہمیشہ یہ ایسا ہی پایا ہے! جب میں یہ واعظ تیار کر رہا تھا میں نے پیشن گوئی پر ایک کتاب سے مدد لی جس کی غلطیوں کی درستگی ڈاکٹر چارلس ایل. فیئین برگ Dr. Charles L. Feinberg نے کی تھی۔ میں بھول گیا تھا کہ میں نے ا سے کہاں سے حاصل کیا تھا، لیکن وہاں اُس کے پہلے ورق پر میں نے پڑھا جو ایک نوجوان چینی آدمی نے لکھا تھا اُس نے ماضی میں 1971 میں مجھے یہ کتاب تحفے میں دی تھی۔ اُس کا نام کین یی Ken Yee ہے اور وہ اب ایک پادری ہے۔ میں اُسے جانتا ہوں کیونکہ میں گولڈن گیٹ پبتسمہ دینے والی علم الہٰیات کی درس گاہ کے اپنے پہلے سال کے دوران اپنے ہر ہفتے کا اختتام اُس کے پاس ساکرامنٹو Sacramento میں چینی مشن میں گزاراتا تھا۔ کین نے یہ الفاظ لکھے تھے،

’’پیارے بوب، تمہاری پیار بھری قربانی کی مثال کی وجہ سے، تمہارے گرجہ گھر [لاس اینجلز کے پہلے بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر] کے لیے پیار کی وجہ سے، تمہارا ہمارے [لاس اینجلز کے گرجہ گھر کے] مقصد کو پیار کرنے کی وجہ سے، تمہارے اُس تخیل کی وجہ سے جس میں تم بہت جوش کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے، اور آخر میں، کیونکہ تم تم ہو اور تم سا اور کوئی دوسرا نہیں ہے – یہ شُغل سے کہیں بڑھ کر رہا ہے! میری جان کو برکت ملے! ماراناتھا Maranatha – خُداوند آ رہا ہے! مسیح میں پیار کے ساتھ، کین Ken۔‘‘

آمین! آمین! جب کین جیسے انسان کی ہماری منسٹری کے ذریعے سے مدد کی جاتی ہے، تو یہ ہر اُس بات کو جس سے ہم گزرتے ہیں قابل قدر بنا دیتا ہے! ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان آدمی نے مجھے بتایا کہ وہ حوصلہ ہار گیا ہے کیونکہ ہر کوئی جس کی اُس نے مدد کرنے کی کوشش کی اُس سے دور ہو گیا۔ میں نے کہا، ’’جی ہاں، لیکن ہو سکتا ہے کہ اگلا شاید ٹھہر جائے، اور وہ تمہیں ایسی خوشی دے گا جو دُنیا نے کبھی دیکھی نہیں ہوگی!‘‘ وہ جن کی آپ مسیح کے لیے راہنمائی کرتے ہیں آپ کے ساتھ خوشی منائیں گے جب یسوع آتا ہے! ہر مسیحی جس کی آپ نے کبھی مدد کی وہاں آپ کے ساتھ خوشی منانے کے لیے موجود ہوگا جب یسوع آتا ہے! آمین! ماراناتھا Maranatha – یسوع آ رہا ہے!

اُس کے داخلے کی تیاری میں، آسمان کُھل جائے گا؛
   ستارے اُس کو ستائش کی گرج چمک کے ساتھ سراھیں گے۔
اُس کی آنکھوں کی پیاری روشنی انتظار کرنے والوں کو پُر کشش بنائے گی،
   اور ہم پھر اُسے آمنے سامنے دیکھیں گے۔
اور ہم اُسے دیکھیں گے، ہم اُسے دیکھیں گے،
   آمنے سامنے اُس کے تمام تر جلال میں!
اور ہم اُسے دیکھیں گے، جی ہاں، ہم اُسے دیکھیں گے،
   آمنے سامنے، ہمارے نجات دہندہ اور خُداوند کو!

فرشتے اُس کے آنے پر چِلّا چِلّا کر بتائیں گے،
   سوئے ہوئے اپنی آرام گاہوں سے جاگ اُٹھیں گے؛
اور وہ جو باقی رہ جائیں گے ایک لمحے میں بدل جائیں گے،
   اور ہم پھر اُسے آمنے سامنے دیکھیں گے۔
ہم اُسے دیکھیں گے، ہم اُسے دیکھیں گے،
   آمنے سامنے اُس کے تمام تر جلال میں!
اور ہم اُسے دیکھیں گے، جی ہاں، ہم اُسے دیکھیں گے،
   آمنے سامنے، ہمارے نجات دہندہ اور خُداوند کو!
(’’ہم اُسے دیکھیں گے We Shall Behold Him ‘‘ شاعر ڈوٹّی ریمبو
     Dottie Rambo ، 1934۔ 2008).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan 2۔ تیموتاؤس 3:1۔8.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مسیح کی واپسی Christ Returneth‘‘ (شاعر ایچ . ایل. ٹرنر H. L. Turner، 1878).