Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

معاف کیے گئے گنہگاروں کی جانب سے گہرا پیار

MUCH LOVE FROM PARDONED SINNERS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
29 اپریل، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, April 29, 2012

’’اِس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے‘‘ (لوقا 7:47).

یہ ایک سادہ سی کہانی ہے۔ شمعون نامی ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا۔ جب وہ کھانا کھا رہے تھے ایک بدچلن عورت روتی ہوئی اندر آئی، اپنے آنسوؤں سے یسوع کے پاؤں دھوئے، اور اُس کے پیروں کو تیل سے مسح کیا۔ فریسی نے سوچا کہ اگر یسوع نبی ہوتا تو جان لیتا کہ یہ عورت ایک گنہگار ہے، اور اُسے اپنے آپ کو چھونے کی اجازت نہ دیتا۔ یسوع جانتا تھا کہ فریسی ایسے سوچتا ہے اِس لیے اُس نے اُ سے ایک تمثیل سُنائی۔ یسوع نے کہا کہ دو قرض خواہ تھے۔ ایک نے ساہوکار کو بہت زیادہ قرض ادا کرنا تھا۔ اور دوسرے نے اُس کو کم قرض ادا کرنا تھا۔ ساہوکار نے دونوں کو ہی معاف کردیا۔ یسوع نے فریسی سے پوچھا کونسا ساہوکار کو زیادہ پیار کرے گا۔ فریسی نے کہا، ’’میرے خیال میں وہ جس کا زیادہ قرض اُس نے معاف کیا۔‘‘ یسوع نے اُسے بتایا کہ اُس نے درست بتایا۔ پھر یسوع نے کہا کہ عورت نے اُس کے سر اور اُس کے پیروں کو تیل سے مسح کرنے کے مشرقی رواج کی پیروی کی تھی، جو کہ فریسی نے نہیں کی تھی۔ پھر یسوع نے کہا اُس نے ایسا اِس لیے کیا کیونکہ اُسے زیادہ معاف کیا گیا تھا۔ یہ ہمیں تلاوتِ کلام پاک کی طرف لے آتا ہے،

’’اِس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے‘‘ (لوقا 7:47).

اِس سے قبل کہ ہم آگے بڑھیں مجھے یہاں ایک تنقیدی وضاحت کے معاملے کے ساتھ نپٹنا ہے۔ اِس کا تعلق اِس جملے سے ہے، ’’اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں؛ چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی۔‘‘ بغیر کسی وضاحت کے یہ کسی کو بھی شاید سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ اُسے اِس لیے معاف کیا گیا تھا کیونکہ اُس نے بہت محبت کا اظہار کیا۔ لیکن یہ بالکل اُس کے اُلٹ ہوگاجو مسیح کا مطلب تھا! یہ اُس کا معاف کیے جانے کے لیے شرط کو پیار کرنا ہوگا۔ اگر آپ آیت 41۔43 میں یسوع کی دی گئی تمثیل کو پڑھیں تو آپ فوراً دیکھ لیں گے کہ یہ تشریح بالکل اُس کا اُلٹ ہے جو یسوع کا مطلب تھا۔ یہاں یونانی لفظ ’’چونکہ‘‘ کا ترجمہ جدید انگریزی میں ’’اِس لیے‘‘ بنتا ہے۔ ڈاکٹر ولیم ھینڈریکسن Dr. William Hendriksen نے کہا کہ یونانی لفظ ’’چونکہ ‘‘ کا ترجمہ ’’ایک حرفِ ربط. . . اور لہٰذا ’اِس لیے‘ ‘‘ (لوقا کی انجیل The Gospel of Luke، بیکر، اشاعت 1981، صفحہ 412). ریئنیکر Rienecker نے اِس کا ترجمہ ’’اِس کی وجہ سے‘‘ کیا ہے (نئے عہد نامے کے لیے زباندنی کا حل A Linguistic Key to the New Testament، ژونڈروان، 1980، صفحات 160). ڈاکٹر گِل نے ترجمہ کیا، ’’اِس لیے اُس نے بہت محبت ظاہر کی‘‘ (نئے عہد نامے کی تفسیر An Exposition of the New Testament ، جلد اوّل، صفحہ 575). میتھیو ھنری نے بھی کہا، اِس کا ترجمہ کیا جانا چاہیے، ’اِس لیے اُس نے بہت محبت ظاہر کی‘ . . . بہت محبت ظاہر کرنا جواز نہیں بلکہ تاثر تھا‘‘ (مکمل بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہ Matthew Henry’s Commentary on the Whole Bible ؛ لوقا 7:47پر ایک یاداشت). ڈاکٹر لینسکی Dr. Lenski نے کہا، ’’عورت کا پیار معاف کیے جانے کی وجہ یا جواز نہیں تھا، لیکن اُس کے پیار کا یہ اظہار کرنا بہت شفاف انداز میں یہ ثابت کرتا ہے کہ اُس کے گناہ معاف کیے گئے ہیں‘‘ (مقدس لوقا کی انجیل کی تفسیر The Interpretation of St. Luke’s Gospel، اُوگسبرگ Augsburg، 1961، صفحہ 433). اِس لیے ہم اِس کا ترجمہ یوں کر سکتے ہیں، ’’اُس کے گناہ جو بہت ہیں، بخش دیئے گئے ہیں؛ [اِس لیے، اِس کی وجہ سے] اُس نے محبت کا بہت اظہار کیا۔‘‘ 1599 کی جینیوا بائبل کہتی ہے، ’’گناہوں سے نجات کے اعلان کی دائمی گواہی یقینی طور پر مسیح کے لیے پیار ہے. . . اِس لیے صدقہ [پیار] جس کے بارے میں یہاں بات کی گئی ہے، جواز کے طور پر نہیں لیا جاتا ہے، لیکن ایک علامت کے طور پر. . . کہ اُس کی پچھلی زندگی کے گناہ اُس کو معاف کیے جاتے ہیں‘‘ (لوقا 7:47 پر ایک یاداشت).

’’اِس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے‘‘ (لوقا 7:47).

یہ یقیناً ایک اہم نقطہ ہے۔ معاف کیے جانے پر مسیح کے لیے پیار اُمنڈتا ہے۔ اگر ہم گناہوں کی معافی کا تجربہ نہیں کرتے، ہم مسیح سے پیار نہیں کریں گے۔ یہ دو باتوں کی وضاحت کرتا ہے۔

1۔ اوّل، یہ وضاحت کرتا ہے کہ کیوں اِن بدی کے دِنوں میں یسوع کے لیے اس قدر کم پیار ہے۔

آخری دِنوں کے بارے میں اپنی پیشن گوئی میں، یسوع نے کہا،

’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘
      (متی 24:12).

ہمارے دِنوں میں بہت سے مسیحیوں میں پیار کی کمی تھی کیونکہ بے دینی بڑھ گئی تھی۔ میتھیو ھنری نے کہا، ’’جب بے دینی بڑھ جائے، بے دینی بھٹکاتی ہے، بے دینی اذیت دیتی ہے، یہ [پیار کا] فضل عام طور پر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ مسیح ایک دوسرے پر شک اور ایک دوسرے کے لیے شرم کرنے لگتے ہیں، محبت اور رغبت فنا ہو جاتی ہیں، فاصلے بڑھ جاتے ہیں. . . لہٰذا محبت کہیں بھی نہیں بچتی. . . اِس طرح کہ خُدا کے خلاف بے ادبی اور کفر میں جہنم کے دروازے کھلتے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں، اور مقدسین کے لیے دشمنی اور عداوت. . . یہ زمانوں کی افسردگیوں کا امکان پیش کرتا ہے، کہ پیار کا اس قدر بڑا قال یہاں ہوگا۔‘‘

کون کہہ سکتا ہے کہ ہم ایسے وقت میں نہیں رہ رہے ہیں جیسا کہ یہ ہے؟ میرا یقین ہے کہ متی 24:12 بُرے دِنوں کی پیشن گوئی ہے جن میں اب ہم رہ رہے ہیں۔ کوئی جو کچھ بھی بائبل کی پیشن گوئیوں کے بارے میں یقین کرتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ہمارے زمانے کے لیے لاگو نہیں ہوتا ہے؟

’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘
      (متی 24:12).

میرے پہلے چینی بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں شمولیت سے قبل، جب میں ایک نوجوان تھا، وہ گرجہ گھر جس کا میں ایک رُکن تھا، ایک ہولناک تقسیم سے گزرا تھا۔ اُس گرجہ گھر کے ارکان نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی تھی، ایک دوسرے پر تہمتیں لگائیں اور ایک دوسرے پر حملہ کیا۔ مجھے ’’میسحیت سچی ہو ہی نہیں سکتی‘‘ سوچنا یاد ہے۔ اِس نفرت کو دیکھو جو اِن مسیحیوں میں ایک دوسرے کے لیے ہے۔‘‘ صرف بعد میں، میرے بچائے جانے کے بعد، مجھے احساس ہوا تھا کہ یہ لوگ تو کبھی تبدیل ہوئے ہی نہیں تھے، کہ وہ تو بالکل بھی مسیحی نہیں تھے۔ اُن کے پیار میں کمی صرف یہ ثابت کرتی تھی کہ وہ حقیقی تبدیلی میں کبھی معاف کیا ہی نہیں گیا تھا۔ ’’جیسے تھوڑا معاف کیا گیا ہے، وہی پیار بھی تھوڑا کرتا ہے۔‘‘ وہ جو اپنے گرجہ گھروں کو کڑواہٹ اور پیار کی کمی کی وجہ سے غصے سے چھوڑ دیتے ہیں کبھی بھی مسیح کے معاف کر دینے والے پیار کو تجربہ نہیں کر پاتے۔ آئزک واٹز Isaac Wattsنے یہ بہت خوب کہا،

خُداوندا، جب بے دینی بڑھ جاتی ہے،
   اور کفر واضح طور پر بڑھ جاتا ہے،
جب ایمان مشکلوں سے ملتا ہو،
   اور محبت ٹھنڈی پڑتی جاتی ہے،

کیا تیرا جلدی آنا نہیں بنتا ہے؟
   کیا تو نے یہی علامت نہیں دی تھی؟
کیاہم بھروسہ نہ کریں اور جیتے جائیں
   ایک وعدہ جو اسِ قدر الہٰی ہے؟
(’’خُداوند، جب بے دینی بڑھتی جاتی ہے‘‘ شاعر ڈاکٹر آئزک واٹز، 1674۔ 1748).

آج کل کے اِرتداد کی اہم وجہ ’’فیصلہ سازیت‘‘ ہے۔ فنّی Finney کے دور سے لے کر اور وہ جنہوں نے اُس کے طور طریقوں کو اپنایا، ہمارے گرجہ گھروں نے ہزاروں لاکھوں غیر بچائے ہوئے لوگوں کو اپنے میں ارکان کے طور پر شامل کیا۔ اِن تمام لوگوں کو صرف یہ کرنا تھا کہ اپنے ہاتھ کھڑے کرتے، ’’سامنے‘‘ آتے، یا ’’گنہگاروں کی ایک دعا‘‘ کہتے او ر اُنہیں بغیر کوئی سوال پوچھے ممبران کے طور پر شامل کر لیا جاتا تھا۔ چونکہ اُنہوں نے بائبل کے مطابق گناہ کے تحت سزا کا تجربہ کبھی نہیں کیا تھا جس کے بعد ہی حقیقی تبدیلی ہوتی ہے، اِس لیے یسوع کے لیے اُن کا پیار تھوڑا تھا، اور یوں گرجہ گھر غیر بچائے گئے ارکان کے ساتھ بھرتے گئے تھے۔ اِس نے بدلے میں، حقیقی مسیحیوں کی گرجہ گھروں میں شدید تذبذب اور حوصلہ شکنی کی پزیرائی کی تھی۔

’’بے دینی کے بڑھ جانے کے باعث کئی لوگوں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی‘‘
      (متی 24:12).

پولوس رسول نے ایک ایسے وقت کی پیشن گوئی کی تھی جب ایسے کہلانے والے مسیحی ’’خود اپنے آپ کو پیار کرنے والے‘‘ ہونگے، بجائے اِس کے کہ مسیح کو پیار کرنے والے ہوں (2۔ تموتاؤس 3:2). ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے براہ راست نتیجے کے وجہ سے آج ہم اُس دور میں رہ رہے ہیں۔

جیسے جیسے اِرتداد گہرا ہوتا جاتا ہے، اور گناہ گرجہ گھروں میں بڑھتا جاتا ہے، تو سچے تبدیل ہونے والوں کو میسح کے اور مذید نزدیک کھیچنے دیجیے، اور اُن کے گناہ معاف کرنے کے لیے اور اُن کی جانیں جہنم سے بچانے کے لیے اُسے اور زیادہ پیار کرنے دیجیے!

اے مسیح، تیرے لیے اور زیادہ پیار،
   تیرے لیے اور زیادہ پیار!
میں جو دعا کرتا ہوں تو اُس کو سُن
   دوزانو پر جُھک کر؛
یہ ہی میری پُرخلوص التجا ہے:
   اے مسیح، تیرے لیے اور زیادہ پیار،
تیرے لیے اور زیادہ پیار، تیرے لیے اور زیادہ پیار!

وہ کورس میرے ساتھ گائیے!

یہ ہی میری پُرخلوص التجا ہے:
   اے مسیح، تیرے لیے اور زیادہ پیار،
تیرے لیے اور زیادہ پیار، تیرے لیے اور زیادہ پیار!
   (’’ تیرے لیے اور زیادہ پیار‘‘ شاعر الزبتھ پی. پیرنٹس Elizabeth P. Prentiss، 1818۔1878).

’’اِس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے‘‘ (لوقا 7:47).

2۔ دوئم، یہ ظاہر کرتا ہے کہ گناہ کے تحت سزا ہم میں یسوع کے لیے پیار بڑھاتی ہے جب وہ ہمیں معاف کرتا ہے۔

اوہ، جی ہاں، یہ عورت شدید طور پر گناہ کے تحت سزا میں تھی۔ حوالہ ہمیں بتاتا ہے،

’’شہر میں ایک عورت، جوکہ گنہگار تھی. . . پاؤں کے پاس پیچھے کھڑی ہو کر رونا شروع کر دیا‘‘ (لوقا 7:37، 38).

میسحیوں کے لیے یہ یاد رکھنا اچھا ہے کہ وہ کب بچائے گئے تھے۔ اگر آپ نے حقیقی تبدیلی کا تجربہ کیا ہے تو بِلا شک و شبہ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے کس قدر دھشت محسوس کی تھی جب آپ سزا کے تحت تھے۔ یقینی طور پر آپ کو وہ عظیم تسکین یاد ہوگی جس کا آپ نے تجربہ کیا تھا جب یسوع نے آپ کو معاف کیا اور آپ کی جان بچائی۔ اِسی لیے یہ ہر مسیحی کے لیے اچھا ہے کہ ماضی میں جائے اور یاد کرے کہ اُن کے بچائے جانے سے قبل یہ کتنا بھیانک تھا، اور یہ کتنا شاندار ہے کہ یسوع نے آپ جیسے ایک تباہ حال کو بچایا! جب آپ کا ولولہ ٹھنڈا پڑ رہا ہوتا ہے، اور آپ کی دعائیں اور بشارتِ انجیل جوش کے بغیر ہونے شروع ہو جائیں، تو یاد کیجیے کہ کیسے یسوع نے آپ کو گناہ سے بچایا تھا اور آپ کو اُمید بھری زندگی عطا کی۔ پھر آپ کہیں گے،

یہ ہی میری پُرخلوص التجا ہے:
   اے مسیح، تیرے لیے اور زیادہ پیار،
تیرے لیے اور زیادہ پیار، تیرے لیے اور زیادہ پیار!

اِسے دوبارہ گائیے!

یہ ہی میری پُرخلوص التجا ہے:
   اے مسیح، تیرے لیے اور زیادہ پیار،
تیرے لیے اور زیادہ پیار، تیرے لیے اور زیادہ پیار!

میں ’’آسمان سے آگ Fire From Heaven ‘‘ نامی کتاب پڑھتا رہا ہوں جس کے مصنف پال کوک Paul Cook ہیں (بشارتِ انجیل اشاعت خانہ Evangelical Press، 2009). ریورنڈ کوک نے کہا کہ حقیقی تبدیلی میں ایک بات جو واقع ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ گناہ کی سزا کے تحت آ جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’لوگ کبھی بھی قدرتی طور پر اپنے گناہ کی سزا کے تحت نہیں ہوتے ہیں؛ قدرتی طور پر ہم خود کا انصاف کر رہے ہوتے ہیں، یعنی خود راستباز ہوتے ہیں۔ پاک روح کے ایک مخصوص کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب پاک روح کام کرتا ہے، تو گناہ گھناؤنا ہو جاتا ہے، جو ایک شخص کو اُس نے نفرت کرنے اور اُسے چھوڑنے کی راہنمائی کرتا ہے. . . آج کل کی زیادہ تر تبلیغ گناہ اور توبہ کے عقیدے کو مِنہا کرتی ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 18). وہ مذید آگے کہتے ہیں کہ یسوع کے ذریعے سے خُدا سے رحم کے لیے چلّانے کی عموماً ضرورت پڑتی ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہم اپنے گرجہ گھروں میں یہ قدر کھو چُکے ہیں۔ لوگوں کو مسیح کے لیے کوئی وابستگی قائم کرنے کے لیے زور ڈالا جاتا ہے لیکن بہت کم خُدا سے رحم مانگنے کے لیے اصرار کیا جاتا ہے. . . یہ، خُدا سے رحم کے لیے مانگنا، توبہ کا ایک اہم جُز ہے‘‘ (ibid.). اُس گنہگار محصول لینے والے نے، ’’چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہا، خُدایا، مجھ گنہگار پر رحم کر‘‘ (لوقا 18:13). ریورنڈ کوک نے کہا،

یہاں ایک آدمی ہے جس نے اپنی زندگی خُدا کے کسی حقیقی احساس کے بغیر یا گناہ کی سنجیدگی کے بغیر گزار دی، اور ایک دِن [آتا ہے] جب وہ خُدا سے آگاہ ہوتا ہے۔ وہ گناہ کے تحت گہری سزا کا تجربہ کرتا ہے اور خُدا کی تلاش شروع کرتا ہے، اکثر نااُمیدی کے ایک احساس کے ساتھ۔ وہ ایسا کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ توبہ کے لیے تیار نہیں ہو جاتا اور مُڑ کر معافی اور نجات کے لیے خُداوند یسوع مسیح کی طرف دیکھتا ہے۔ پھر اُس کو خُدا کے رحم اور اُس کے گناہوں کی معافی کی ایک یقین دھانی دی جاتی ہے۔ اور اِس کے بعد ہی وہ ایک عظیم خوشی اور شادمانی کا احساس کرتا ہے (ibid.، صفحہ 119).

’’خُداوند یسوع مسیح کے ذریعے سے رحم کے لیے خُدا کے لیے چلّانا‘‘ عموماً اُن لوگوں میں دیکھا جاتا ہے جو حقیقی تبدیلی کا تجربہ کرتے ہیں۔

ریورنڈ کوک نے دوسری عظیم بیداری (1800۔1830) میں وقوع پزیر ہونے والی بے شمار تبدیلیوں کے واقعات پیش کیے ہیں۔ اُن نے ولیم کاروُسو William Carvosso کی تبدیلی کا بتایا جنہوں نے کہا، ’’میں نے گناہ کی کم بخت قدرت کا ایسا ایک نظارہ دیکھا تھا، اور وہ جو میں نے خُدا کے خلاف کیا تھا، کہ میں خوفزدہ تھا کہ زمین پھٹ پڑے گی اور میں اُس میں دفن ہو جاؤں گا۔‘‘ اُن کی روحانی کشمکش کئی دِنوں تک چلتی رہی، جب تک ’’مسیح ظاہر ہوئے. . . اور خُدا نے میرے تمام گناہ معاف کردیے، اور میری جان کو آزادی مہیا کی. . . یہ 7 مئی، 1771 تقریباً نو بجے رات کو ہوا تھا. . . اور میں کبھی بھی اِس خوشگوار وقت کو بُھلا نہیں سکوں گا‘‘ (ibid.، صفحات 74، 75). مسٹر کاروُسو کو خُدا نے دوسری عظیم بیداری میں بہت عظیم طریقے سے استعمال کیا تھا۔

رچرڈ ٹریواواس Richard Trewavas نے اپنے بحری جہاز کو ایک سمندری طوفان میں چھوڑ دیا، اپنے گناہوں پر ماتم کرتے ہوئے اور اُنہیں یہ دیکھنا ملا کہ ’’نجات دہندہ کے مستحق ہونے میں دلچسپی کے بغیر میں دائمی طور رپر مر گیا ہوتا، اور یہ صرف مسیح میں ایمان کے ذریعے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ چھے ماہ کی روحانی جدوجہد کے بعد اُنہیں مسیح میں سکون اور تسکین ملی (ibid.).

سُلیمان بورال Solomon Burall روحانی پریشانی میں ٹکینگمِل Tuckingmill میں کام کرنے والی کانوں میں کئی دِنوں تک بھٹکتے رہے، حتٰی کہ اُن کے خُدا کے لیے چلّانے سے کان کُنوں کا ایک ہجوم بھاگتا ہوا اُن کی مدد کے لیے آیا یہ سوچتے ہوئے کہ وہ جسمانی تکلیف میں ہیں (ibid.).

ولیم کاروُسو، پہلے آدمی جن کے بارے میں مَیں نے بات کی، اپنے بچائے جانے کے بعد تبلیغ کے لیے نکل گئے تھے۔ ایک دعائیہ عبادت میں اُنہوں نے کہا،

. . . ہزاروں رحم کے لیے ایک ساتھ چلّا رہے تھے۔ خُداوند کا اُن کی جانوں کو سکون پہنچانے سے پہلے کچھ جان کی شدید تکلیف میں ایک گھنٹے تک رہے، کچھ دو، کچھ چھے، کچھ نو، بارہ اور کچھ پندرہ گھنٹوں تک – پھر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے، اپنے بازو پھیلائے، اور خُداوند کے شاندار کارناموں کا اعلان کیا، اِس قدر جوش اور قوت کے ساتھ کہ دیکھنے والے ایک لمحے کے لیے تو دنگ رہ گئے، اور زمین پر گِر پڑے اور اپنی جانوں کی [پریشانی میں] چیخے (ibid.، صفحہ 80).

ریورنڈ کوک نے کہا، ’’اِس سے ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے، نا ہی اِسے ہمیں خبردار کرنا چاہیے۔ جس بات کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ آج کل یہ بہت قلیل طور پر وقوع پزیر ہوتا ہے‘‘ (ibid.، صفحہ 83). ولیم کاروُسو نے کہا،

میں نے ایک شام سمتھ بھائی کے ہاں چائے پی: ہمارے دعا میں اکھٹے ہونے سے کچھ دیر ہی پہلے کوئی جو میرے لیے اجنبی تھاکمرے میں داخل ہوا: میں نے ابھی دعا کے لیے منہ کُھولا ہی تھا، کہ وہ شدید طور پر بیدار ہو گیا ، اور اپنی جان [میں تکلیف] کے لیے چیخنے لگا۔ میرے خیال میں مَیں نے کبھی اپنی زندگی میں کسی آدمی میں اِس قدر زیادہ روح کی بے چینی نہیں دیکھی. . . انتہائی شدید جدوجہد کے بعد اُسے رحم حاصل ہوا اور اُس نے خوشی اور شادمانی کے ساتھ گواہی دی کہ [مسیح نے] اُس کے تمام گناہ معاف کر دیے تھے (ibid.، صفحہ 85).

ولیم کاروُسو نے کہا،

میں اِدھر اُدھر جلدی جلدی پھرا، اور چھوٹے گرجہ گھر میں کچھ پریشان حال جانوں کو پا لیا، جو وہاں کئی دِن اور راتوں سے دعا کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، اور رحم کے لیے چلّا رہے تھے. . . سزایابی کی روح اِس قدر قوت کے ساتھ کام کر رہی تھی، کہ بے شمار جو اہمیت نہیں دے رہے تھے اپنے کام کے دوران ہی میں اپنے گھٹنوں پر گِر رہے تھے۔ بے شک، بہت دِنوں تک بہت کم اور کچھ کیا گیا مگر اُن لوگوں پر توجہ دی گئی جو اپنی جانوں کی نجات کے لیے خُدا کے ساتھ انتہائی دلدوز تھے. . . مری دعا ہے کہ خُدا اُن کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کرے، اور اُنہیں دائمی زندگی میں رحم فرمائے۔ آمین اور آمین (ibid.، صفحات 87، 88).

ایک عورت جو تیس سالوں تک گرجہ گھر جاتی رہی تھی غیر تبدیل شُدہ رہی، صرف نام کی مذہبی۔ اُس کو خُدا کے بیٹے سے قبول کیے بغیر، اور بغیر دوبارہ جنم لیے جنت میں جانے کی ناممکن بات کے بارے میں خطرے کی تنبیہہ کی تھی۔ اپنے دِل میں چھبن لیے، وہ گناہ کی سزایابی کے تحت دوزانو گِر پڑی، اور خُدا سے رحم کے لیے چلّانے لگی۔ وہ چلّائی، ’’خُدایا، مجھے جہنم میں گرنے سے بچا لے۔‘‘ اُس کی چیخیں بُلند اور جذبۂ شوق سے سرشار ہوتی گئیں، اور جلد ہی خُدا نے اُس کی جان پر رحمدلانہ نظر کی اور اُس کی ’’نجات کی آگاہی‘‘ دی. . . گناہوں میں افاقے کے ذریعے سے، اور وہ خُدا کی تمجید میں چلائی۔‘‘ خُدا کے اُس کی گواہی کو بروئے کار لانے کے نتیجے کے طور پر دعائیہ عبادتوں کا ایک سلسلہ منقعد کیا گیا۔ ’’خُدا کی روح کی سزایابی کا کام اِس قدر عظیم تھا کہ بعض موقعوں پر لوگوں کے گھروں میں سے اُن کے خُدا سے رحم کے لیے چلّانے کی آوازیں سڑک پر چلتے ہوئے لوگوں کو سُنائی دیتیں‘‘ (ibid.، صفحہ 90).

ولیم کاروُسو نے ایک آدمی کی تبدیلی اِن الفاظ میں بیان کی،

یہ سُن کر کہ وہ دعا مانگنی شروع کر چکا ہے، مجھ سے درخواست کی گئی کہ میں اُس سے ملاقات کروں۔ میں نے اُس سے اتنی [بات کی] بھی نہیں تھی کہ اُس سے پہلے ہی وہ بہت زیادہ شدت سے بیدار ہو گیا، اور رحم کے لیے با آوازِ بُلند چلّانا شروع ہو گیا۔ اُس کے ساتھ دعا کرنے کے بعد میں اُس کو چھوڑ کر چلا گیا۔ شام کو میں دوبارہ اُس سے ملنے چلا گیا؛ اور جب میں اُس کو خُدا کے برّے کا اشارہ کر رہا تھا جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے تو خُدا نے اُس کی جان پر اپنا رحم آشکارہ کیا، اور وہ چلّا اُٹھا، ’’میرا بوجھ اُتر گیا ہے، خُداوند نے میرے تمام گناہ معاف کردئیے ہیں: جلال ہو، اُس کے نام کا جلال ہو!‘‘ بعد میں مَیں اُس کو کئی مرتبہ ملنے گیااور اُس کے اعتماد کو مستقل پایا (ibid.، صفحہ 90).

ریورنڈ کوک نےکہا کہ اُنہوں نے کھوئے ہوئے لوگوں کو ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ کے لیے راہنمائی نہیں کی تھی۔ اُنہوں نے کہا، وہ انجیل کی تبلیغ کرتے تھے اور اِس کو قائل کر دینے کی پُرخلوص کوشش کے ساتھ بار بار لاگو کرتے تھے، لیکن ایسا کردینے سے اُنہوں نے تلاش کرنے والے کو خُدا کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا تھا۔‘‘ وہ یقین کرتے تھے کہ نجات بنیادی طور پر گنہگار کا مسیح کے پاس آنا نہیں ہے، بلکہ مسیح کا پاک روح کی قوت میں گنہگار کے لیے آنا ہے۔ اور وہ یہ یقین نہیں کرتے تھے کہ مسیح کو کسی انسانی ’’فیصلے‘‘ کے ذریعے سے لایا جا سکے گا۔ ’’اِس وجہ سے اُنہوں نے اُن کو جو اپنے گناہ کی سزایابی میں تھے رحم کے لیے چلّانے کے لیے چھوڑ دیا تھا، اور اُنہیں زور دیا کہ وہ بار بار چلّائیں جب تک کہ خُدا اپنی روح کے ذریعے سے اُن کی گواہی کو سہارا نہ دے کہ وہ اُس کے بچے بن گئے ہیں. . . اُنہوں نے عورتوں اور مردوں کو انجیل پر یقین کرنے کے لیے زور دیا؛ لیکن وہ اِس سے بھی پرے نکل گئے، اور گنہگاروں کو خُداوند کی تلاش کے لیے اور اُس سے رحم مانگنے کے لیے زور دیا۔ وہ جانتے تھے کہ سچی سزایابی کے تحت، اور سچی توبہ کے ثبوت کے طور پر، گنہگار پُرخلوص طور پر اور کھرے انداز میں یہ کریں گے اور کہ خُداوند اُن کا چلّانا سُنے گا۔ [وہ] خُدا کے رحم کو مراعت کے طور پر نہیں لیتے؛ اِسے حاصل کیا جاتا ہے. . . خُدا کو تلاش کرنے والے گنہگار کے لیے ردعمل ظاہر کرنا ہوتا تھا، اور جب وہ کرتا تھا تو وہ سکون کے ساتھ براہ راست روح سے بولے گا۔ انسان کو نجات کے لیے خُدا پر مکمل طور سے انحصار کرتا ہوا دیکھا گیا تھا. . . آج کل کےانجیلی بشارت کے زیادہ تر گرجہ گھروں میں بائبل پر دی جانے والی تاکید کے مقابلے میں اُن کی بائبل پر تاکید سچی ترین تھی. . . اُن کا یقین تھا کہ جب تک خُدا نہ چاہے وہ اُس کے نام پر کچھ بھی پانے میں کمزور تھے۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ کیوں وہ اِس قدر دعا کرتے تھے او رکیوں اِس قدر شدید خلوص کے ساتھ کرتے تھے‘‘ (ibid.، صفحات 104، 105). یسوع نے کہا،

’’ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں [اس لیے] اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے۔ اور اُس نے اُس سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے ‘‘ (لوقا 7:47۔48).

بائبل کی آیت یا ایک عقیدے پر یقین کر لینے سے آپ کا کچھ بھلا نہیں ہوگا۔ آپ اِس طریقے سے بچائے نہیں جائیں گے۔ خُدا آپ کو ضرور بیدار کرتا ہے۔ خُدا ضرور آپ کو آپ کے گناہوں کے لیے پریشان کرتا ہے۔ خُدا ضرور آپ پر وہ خطرہ ظاہر کرتا ہے جس میں آپ ہیں، اور وہ فیصلہ جو آپ کا انتظار کرتا ہے۔ خُدا ضرور آپ کو یسوع کے لیے کھینچے گا تاکہ آپ کے گناہ معاف کیے جائیں۔ یہ باتیں آپ کے بس میں نہیں ہیں۔ آپ صرف محصول لینے والے گنہگار کی مانند چلّا سکتے ہیں، جس نے اپنی چھاتی پِیٹ ڈالی تھی اور دعا کی تھی، خُدایا، مجھ گنہگار پر رحم فرما‘‘ (لوقا 18:13). مہربانی سے حمد و ثنا کے گیت نمبر 7 کو اپنی گیتوں کے ورق میں سے پلٹیے، ’’مجھ پر رحم فرما۔‘‘ مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور اِسے گائیے۔ یہ بپتسمہ دینے والی حمدوثنا کی گیتوں کی کتاب میں سے ایک ’’بُھلایا ہوا‘‘ حمدو ثنا کا گیت ہے۔

ٹوٹے ہوئے دِل اور قصور وار آہوں کے ساتھ،
   ایک کپکپاتا ہوا گنہگار، خُداوند میں چلّاتا ہوں؛
تیرا معاف کردینے والا فضل زرخیز اور آزاد ہے؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

میں اپنی پریشان چھاتی کو پیٹتا ہوں،
   اپنے تمام گناہوں کے کُچلے ہوئے جرم کے ساتھ:
مسیح اور اُس کا خون میری واحد التجا ہیں؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

آنسوؤں سے بھرپور آنکھوں کے ساتھ میں بہت دور کھڑا ہوں،
   میری جرأت نہیں کہ میں اُنہیں آسمان کی طرف اُٹھا سکوں؛
لیکن تُو تو میرے تمام دُکھوں کو دیکھتا ہے:
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

ٹوٹے ہوئے دِل اور قصور وار آہوں کے ساتھ،
   ایک کپکپاتا ہوا گنہگار، خُداوند میں چلّاتا ہوں؛
تیرا معاف کردینے والا فضل زرخیز اور آزاد ہے؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!
(’’مجھ پر رحم فرما‘‘ شاعر کورنیلیئس ایلون Cornelius Elven، 1797۔1873؛ پادری سے ترمیم کیا گیا؛
     بطرزِ ’’’یہ آدھی رات ہے اور زیتون کے پہاڑ کی چوٹی پر‘‘).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan لوقا 7:36۔48 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
“More Love to Thee” (by Elizabeth P. Prentiss, 1818-1878).

لُبِ لُباب

معاف کیے گئے گنہگاروں کی جانب سے گہرا پیار

MUCH LOVE FROM PARDONED SINNERS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اِس لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے بخش دیئے گئے ہیں چونکہ اِس نے بہت محبت ظاہر کی: لیکن جس کو تھوڑا معاف کیا جاتا ہے وہ تھوڑی محبت دکھاتا ہے‘‘ (لوقا 7:47).

1. اوّل، یہ وضاحت کرتا ہے کہ کیوں اِن بدی کے دِنوں میں یسوع کے لیے
اس قدر کم پیار ہے، متی 24:12؛ 2۔ تیموتاؤس 3:2 .

2. دوئم، یہ ظاہر کرتا ہے کہ گناہ کے تحت سزا ہم میں یسوع کے لیے پیار
 بڑھاتی ہے جب وہ ہمیں معاف کرتا ہے، لوقا 7:37، 38؛ 18:13؛ 7:47۔48 .