Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نجات کے لیے چلّانا

CRYING FOR SALVATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
29 اپریل، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 29, 2012

’’جوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یسوع ناصری وہاں ہے تو وہ چلّا چلّا کر کہنے لگا، اے یسوع، ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کر۔ اور لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چُپ ہو جا، شور مت مچا: مگر وہ اور بھی زیادہ چلّانے لگا کہ اے ابنِ داؤد مجھ پر رحم کر‘‘ (مرقس 10:47۔48).

یسوع اور اُس کے شاگرد یروشلم کی طرف جا رہے تھے، جہاں یسوع کو مصلوب کیا جانا تھا۔ اپنے سفر میں وہ یروشلم کے لیے پہنچے۔ وہاں سڑک کے اردگرد لوگوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ وہ فسح کی عید کے لیے یروشلم جا رہے تھے۔ سڑک کے کنارے، اُس ہجوم میں، برتمائی نامی ایک اندھا آدمی بیٹھا تھا۔ جب اُس نے سُنا کہ یسوع وہاں سڑک پر تھا تو اُس نے زور زور سے چلّانا شروع کر دیا، ’’ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کر۔‘‘ ابنِ داؤد ایک اصطلاح تھی جو یہ ظاہر کر رہی تھی کہ یسوع ہی مسیحا تھا۔ جب کہ اسرائیل کی زیادہ تر قوم مسیحا کی موجودگی سے اندھی تھی یہ ایک مذاق ہی لگتا تھا کہ یہ آدمی، جو کہ جسمانی طور پر اندھا تھا، اُس کے پاس یسوع کے لیے اتنی روحانی نظر تھی کہ جان لے ابنِ داؤد کا بیٹا، یسوع ہی مسیحا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’بلائے ہوئے تو بہت سے ہیں مگر چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی 22:14). اگر آج صبح آپ یہاں پر پہلی دفعہ موجود ہیں، تو آپ اُن میں سے ایک ہیں جو بُلائے جا چُکے ہیں۔ ہم نے آپ کو فون کیا تھا اور یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔ آپ خوشخبری سُننے کے لیے بُلائے گئے تھے۔ یسوع نے کہا، ’’بلائے ہوئے تو بہت ہیں، مگر چُنے ہوئے کم ہیں۔‘‘ ہم دیکھیں گے کہ آیا آپ وہ ہیں جنہیں خدا نے چُنا ہے جسکے ذریعے سے شاید آپ بچائے جاتے ہیں۔ بُلائے ہوئے تو بہت ہیں۔ لیکن اِس عظیم شہر میں صرف چند ایک ہی ہیں جو مسیح میں ایمان سے بچائیں جائیں گے۔ اُس دِن بھی سڑک کے کنارے لوگوں کا ایک ہجوم تھا، لیکن صرف اندھا برتمائی ہی بچایا گیا تھا۔

اوہ، جی ہاں، اُس کی اندھی آنکھوں کا شفا پا جانا ہمارے لیے ایک علامت ہے کہ یسوع کا اہم مقصد اُن آنکھوں کو شفا دینا ہے جو روحانی طور پر اندھی ہیں۔ اِس آدمی کی ناصرف آنکھوں کی بینائی واپس لوٹ آئی تھی، وہ تبدیل بھی ہو گیا تھا، کیونکہ یسوع نے کہا، ’’جا تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا‘‘ اور وہ ’’راستے پر یسوع کے پیچھے ہو لیا‘‘ (مرقس 10:52). جان ٹریپ John Trapp (1601۔1669) نے کہا کہ برتمائی ’’ایکدم‘‘ اپنی ظاہری اور باطنی اندھے پن سے شفا پا گیا تھا۔ ولیم میکڈونلڈ William MacDonald نے کہا، ’’اُس کی مُمونیت کا اظہار اُس کے ایمان سے بھرپور شاگردی میں ظاہر ہوتا تھا، جس میں اُس نے یسوع کی پیروی یروشلم کے لیے اُس [یسوع] کے آخری سفر میں کی‘‘ (ایمانداروں کی بائبل پر تبصرہ Believer’s Bible Commentary ، تھامس نیلسن اشاعت خانہ، ایڈیشن 1990، صفحہ 1349؛ مرقس 10:48۔52 پر ایک یاداشت). لیکن آج صبح میں اندھے برتمائی کی دعا کو مرکز بنانا چاہتا ہوں۔

’’جوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یسوع ناصری وہاں ہے تو وہ چلّا چلّا کر کہنے لگا، اے یسوع، ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کر۔ اور لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چُپ ہو جا، شور مت مچا: مگر وہ اور بھی زیادہ چلّانے لگا کہ اے ابنِ داؤد مجھ پر رحم کر‘‘ (مرقس 10:47۔48).

اگر آج صبح آپ ایک کھوئے ہوئے گنہگار ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ آپ برتمائی کے بارے میں سوچیئے کہ وہ کیسے بچایا گیا تھا۔ میں ہماری تلاوت میں سے اِس پر تین سبق نکالوں گا۔

1۔ اوّل، باقی کے ہجوم کے ساتھ اُس کے ولولے کا موازنہ کیجیے۔

جی ہاں، جب یسوع گزر رہا تھا تو سڑک کے کنارے پر وہاں لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم تھا۔ لیکن صرف برتمائی چلّایا تھا ’’یسوع، مجھ پر رحم کر۔‘‘ اُس نے صرف ایک بہت چھوٹا سا واعظ سُنا تھا۔ اُس نے ’’سُنا تھا کہ وہ ناصرت کا یسوع تھا‘‘ جو گزرا تھا۔ اُس نے اِس سے زیادہ کچھ نہیں سُنا تھا۔ اُس نے ’’سُنا کہ یسوع وہیں سے گزر رہا تھا‘‘ (متی 20:30). یہ تمام تھا جو اُس نے سُنا۔ میرا نہیں خیال ہے کہ اُسے عقیدے کی سمجھ تھی۔ میں نہیں سوچتا کہ وہ جانتا تھا یسوع کیوں دُنیا میں آیا۔ اُس نے فضل کے ذریعے سے نجات کا کوئی واضح بیان بھی کبھی نہیں سُنا تھا۔ جو کچھ اُس نے سُنا وہ تھا ’’ناصرت کا یسوع گزر رہا ہے۔‘‘ لیکن اُس چھوٹے سے واعظ نے اُسے دعا میں چلّانے کے لیے راہنمائی کی تھی۔

ہجوم میں سے کوئی بھی دعا میں یسوع کے لیے نہیں چلایا تھا۔ اِس لیے کوئی اور بچایا بھی نہیں گیا تھا! آج صبح آپ میں سے یہاں موجود کچھ نے بہت سے واعظ سُنے ہوں گے۔ آپ میں سے کچھ نے یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے پہلے شاگردوں کے مقابلے میں خوشخبری کے بارے میں بہت زیادہ سُن رکھا ہے! چند ہی ہیں جنہیں آپ کے مقابلے میں انجیل کے بارے میں زیادہ پڑھایا جا چکا ہے۔ اور پھر بھی آپ ایسے ہی بے حِس اور ایسے ہی غیر محفوظ رہے جیسے کہ ہجوم میں وہ لوگ جب اُس دِن یسوع وہاں سے گزرا تھا!

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ڈاکٹر اے. ڈبلیو. ٹُوزر Dr. A. W. Tozer نے یوحنا 3:27 پر ایک مشہور واعظ دیا تھا، ’’آدمی کچھ بھی پا نہیں سکتا، جب تک کہ وہ اُسے آسمان سے عطا نہ کیا جائے۔‘‘ ڈاکٹر ٹُوزر نے کہا،

گرجہ گھر میں پروان چڑھنا ممکن ہے، مذہبی تعلیم حاصل کرنا. . . لیکن ہمارے یہ تمام کر چکنے کے بعد، ہم شاید خُدا کو بالکل بھی نہیں جان پاتے، کیونکہ خدا اِن بیرونی باتوں سے نہیں پہچانا جاتا۔ ہم اندھے ہیں، اور دیکھ نہیں سکتے ہیں، کیونکہ خُدا کی باتیں کوئی انسان نہیں جانتا جب تک کہ خُدا کی روح کے ذریعے سے نہ ہو. . .

’’جس میں خُدا باپ کا پاک روح نہیں وہ خُدا کی باتیں قبول نہیں کرتا: کیونکہ وہ اُس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں: اور نہ ہی اُنہیں سمجھ سکتا ہے، کیونکہ وہ صرف پاک روح کے ذریعہ سمجھی جا سکتی ہیں‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:14).

اب وہ سُنیے، قدرتی آدمی – یعنی کہ، نفسانی انسان، ذہن کا انسان، دماغی استعداد کا انسان – نا ہی تو سمجھ سکتا ہے اور نا ہی خُدا کی روح کی باتیں قبول کر سکتا ہے. . . کلام نہیں کہتا کہ، ’’کوئی آدمی بھی خُدا کی باتیں نہیں جان سکتا ماسوائے اُس انسان کے جو بائبل پڑھتا ہے۔‘‘ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ کوئی آدمی بھی خُدا کی باتیں نہیں جانتا ماسوائے پاک روح کے ذریعے سے (اے. ڈبلیو. ٹُوزر، ڈی.ڈی.، ’’پاک روح کے ذریعے سے مسیح کیسے آشکارہ کیا گیا ہے: ناکہ دماغی استعداد کے ذریعے سے! How Christ is Revealed by the Holy Spirit: Not Through the Intellect!” ، ٹُوزر کی واعظ گاہ سے The Tozer Pulpit، میسحی اشاعت خانہ، 1968، جلد دوئم، صفحات 24، 25، 28).

ہمارے گرجہ گھر میں نوجوان خواتین میں سے ایک ابھی چند ہی مہینے ہوئے آئیں ہیں، اور صرف چند ہی ہفتے ہوئے بچائی جا چُکی ہیں۔ پھر بھی اُس پر کالج کے کمرۂ جماعت میں بدکار انگریزی کے اُستاد کی جانب سے کیا جا چکا ہے۔ اُس پر کمرۂ جماعت میں گاہے بگاہے حملے کیے جاتے رہتے ہیں، حالانکہ اُس نے مسیحی ہونے کے بارے میں ایک بھی لفظ ادا نہیں کیا ہے۔ اُس نے ایک اور ہم جماعت سے یہ سُنا تھا۔ آپ میں سے کچھ پر اِس طرح سے کبھی بھی حملہ نہیں کیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ آپ ابھی تک تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ بدکار لوگ، اُس اُستاد کی طرح ، محسوس کر لیتے ہیں کہ آیا آپ حقیقی مسیحی ہیں یا نہیں! شیطان اُنہیں بتاتا ہے! اگر آپ پر کبھی حملہ نہیں کیا گیا ہے ،غالباً اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کبھی بچائے نہیں گئے ہیں! اور وہ اُستاد اُس خاتون پر سوالات کی ایسی بوچھاڑ کرتا جن کے وہ جواب نہیں دے سکتی، کیونکہ وہ کچھ عرصہ پہلے ہی بچائی گئی ہیں۔ لیکن بے شک وہ جوابات نہیں جانتی تھی، وہ اٹل رہیں ۔ سوالات نے اُسے بالکل بھی پریشان نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ پاک روح نے اُسے مسیح کی ایسی باطنی معلومات فراہم کی ہیں جو عقل سے بالاتر ہیں۔ وہ ایوب کے ساتھ کہہ سکتی ہے، ’’میں جانتی ہوں کہ میرا نجات دہندہ زندہ ہے‘‘ (ایوب 19:25). ایک دفعہ آپ کو یسوع کا پاک روح کے ذریعے سے تجربہ ہو جائے تو کوئی بھی آپ سے مسیح کی باطنی معلومات چھین نہیں سکتا!

اندھے برتمائی کے پاس مسیح کو جاننے اور شفا پانے کے لیے ایک ولولہ تھا۔ باقی کا تمام ہجوم اپنی خوشیوں کے راستے پر چلا ، غیر محفوظ رہا، اور جہنم کے لیے گیا۔ ’’بُلائے ہوئے تو بہت ہیں، مگر چُنے ہوئے کم ہیں۔‘‘

2۔ دوئم، جس مخالفت کا اُس نے سامنا کیا اُس پر غور کیجیے۔

’’جوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یسوع ناصری وہاں ہے تو وہ چلّا چلّا کر کہنے لگا، اے یسوع، ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کر۔ اور لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چُپ ہو جا، شور مت مچا. . . ‘‘ (مرقس 10:47۔48).

ہجوم میں سے بہت سوں نے اُسے سرزش کی اور اُسے شور مت مچانے کے لیے کہا۔ ’’چُپ ہو جا، اندھے آدمی!‘‘ ’’خاموش ہو جا!‘‘ ’’اتنی بُلند آواز میں دعا کرتے رہنے سے باز آ۔‘‘ ’’تم ایک انتہا پسند بن گئے ہو!‘‘ ’’چلّانا بند کرو!‘‘ خاموش ہو جاؤ!‘‘ یہ تھا جو گنہگار آدمیوں نے اُن لوگوں سے کہا جو پہلی عظیم بیداری میں سزایابی کے تحت تھے اور رحم کے لیے چلّائے تھے۔ بے شمار لوگ گناہ کی ایسی سزا کے تحت آئے کہ وہ خُدا سے رحم کے لیے چلّا اُٹھے۔ اُنہیں کھوئے ہوئے اور دُنیاوی اہل کلیسیا جنہوں نے اُنہیں ’’کٹّر‘‘ اور ’’انتہا پسند‘‘ کہا اُن سے ڈانٹ ڈپٹ ملی تھی۔ ’’خاموش ہو جاؤ، تم [عیسائی فرقے کے پیروکار] میتھوڈسٹ!‘‘ وہ چیخے۔ اُنہوں نے اُن پر گلے سڑے انڈے پھینکے، اور اکثر خُدا کے لیے چلّانے پر اُنہیں مارا پیٹا، ’’مجھ پر رحم کر!‘‘ سُنیئے جو کچھ جان ویزلی John Wesley نے اُن کے بارے میں کہا جنہوں نے اندھے برتمائی کو خاموش رہنے کے لیے کہا تھا،

اور اِس لیے وہ تمام جو ابنِ داؤد کے بعد رونا شروع کریں گے؛ لیکن اُنہیں رونے دیجیے جو اُس کی ضرورت کو محسوس کر کے مذید اور روتے ہیں؛ نہیں تو وہ علاج [نہیں پائیں] گے (جان ویزلی، ایم.اے.، نئے عہد نامے پر وضاحت طلب یاداشتیں Explanatory Notes Upon the New Testament، بیکر کتاب گھر، ایدیشن 1983، جلد اوّل، متی 20:31 پر ایک یاداشت).

غور کیجیے کہ وہ تمام کے تمام آج کل کے مُردہ میتھوڈسٹز [عیسائی فرقے کے پیروکاروں] کی مانند نہیں تھے۔ وہ خُدا کے لیے چلّاتے رہے جب تک کہ اُس نے مسیح کو اُن کے لیے حقیقی نہ بنا دیا اور اُن کے گناہ معاف نہ کیے۔ سُنیئے کیا کہا تھا ابتدائی میتھوڈسٹ تبصرہ نگار ایڈم کلارک Adam Clarke (1760۔1832) نے اُن کے بارے میں جنہوں نے اندھے برتمائی کو خاموش رہنے اور رحم کے لیے چلّانے پر روکا تھا۔ کلارک نے کہا،

جب کبھی بھی کوئی جان نور اور نجات کے لیے یسوع کے پیچھے چلّاتی ہے تو دُنیا اور شیطان اُس کی چلّاہٹوں پر غالب آنے یا اُنہیں چُپ کرانے کےلیے دونوں مل جاتے ہیں۔ لیکن ایسے تمام لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے، یسوع اب گزر رہا ہے: یہ ضرور ہے کہ اُن کی جانیں ہمیشہ کے لیے مر جائیں گی، اگر یسوع کے ذریعے سے بچائی نہ گئیں، اور شاید اُنہیں ایسا سُنہرا موقع دوبارہ کبھی نہیں مل سکے گا. . . جب دُنیا اور شیطان ڈانٹ ڈپٹ کے لیے شروع ہونگے. . . یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی نجات نزدیک ہے؛ اِس لیے، ایسے لوگوں کو مذید اور زیادہ زور و شور سے چلّانے دو. . . جب دِل کی خواہش اُس کی طرف مُڑتی ہے، تو نجات میں تھوڑی ہی دیر رہ سکتی ہے (ایڈم کلارک، ایل ایل. ڈی.، نیا عہد نامہ The New Testament، ایبیِنگٹن Abington، این. ڈی. جلد پنجم؛ متی 21:31، 32 پر ایک یاداشت).

کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ جب بھی کوئی کھویا ہوا انسان رحم کے لیے چلّاتا ہے تو شیطان اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ لوقا کی انجیل میں ہم ایک نوجوان آدمی کے بارے میں پڑھتے ہیں جو یسوع کے پاس آ رہا تھا،

’’ابھی وہ آ ہی رہا تھا، بدروح نے اُسے مروڑ کر زمین پر دے پٹکا‘‘
       (لوقا 9:42).

کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی اندھے برتمائی کے ساتھ ہوا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ وہ شیطان ہی تھی جس نے ہجوم میں اُنہیں ’’اُسے ڈانٹنے اور اُسے چُپ کرانے اور شور مت مچانے‘‘ کے لیے آمادہ کیا (مرقس 10:48). اور جب آپ دعا کر رہے ہیں، اور آپ پر رحم کرنے کے لیے یسوع کے لیے چلّا رہے ہیں، کوئی شک نہیں کہ شیطان آپ کو نیچے پٹکنے اور چیر پھاڑنے کی کوشش کرے گا، اور آپ کو خاموش ہونے کے لیے کہے گا۔ لیکن بائبل کہتی ہے، ’’ابلیس کا مقابلہ کرو‘‘ (یعقوب 4:7). ضروری ہے کہ آپ شیطان کی مزاحمت کریں اور جیسے برتمائی نے کیا، رحم کے لیے چلّانا جاری رکھیں۔

3۔ سوئم، اُس کی دعا کی شدت اور استقامت پر غور کیجیے۔

’’ اور لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چُپ ہو جا، شور مت مچا: مگر وہ اور بھی زیادہ چلّانے لگا کہ اے ابنِ داؤد مجھ پر رحم کر‘‘ (مرقس 10:47۔48).

وہ یہاں تک کہ رحم کے لیے اپنی دعا میں اور چلّایا تھا۔ وہ مذید اور شدت کے ساتھ چلّایا تھا۔ سپرجئین نے کہا،

وہ بیٹھا نہیں تھا اور سرگوشی نہیں کی تھی، ’’اے داؤد کے بیٹے مجھ پر رحم کر،‘‘ لیکن وہ چلّایا تھا، اور، جیسے مخالفت بڑھتی گئی، اُس کا چیخنا چلّانا مذید اور زیادہ بُلند ہو گیا، ’’اے داؤد کے بیٹے مجھ پر رحم کر۔‘‘ وہ اپنی دعاؤں میں جذباتی اور مستقل مزاج تھا، لیکن وہ اپنے ولولے میں راستباز تھا. . . لیکن غریب جان مطمئین نہیں ہو سکے گی جبکہ وہاں علاج کا ایک موقع تھا۔ لیکن آپ کے، گنہگاروں، روحانی اندھا پن ہے، ایک ایسا اندھا پن جو آپ کو کرنے ہی نہیں دیتا ہے. . . اپنے نجات دہندہ کو دیکھیں، وہ اندھا پن جو آپ کی تمام روحانی خوشیوں کو آپ کی آنکھوں سے اوجھل کر دیتا ہے، دائمی طور پر آپ پر جنت کی خوشیوں کو بند کر دے گا، اور آپ کو نااُمیدی کے ساتھ تاریکی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے سزا دیتا ہے۔ اِس کے باوجود آپ کی دعائیں بہت پُرخلوص ہو سکتی ہیں، وہ بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہوسکتیں. . . اگر آپ کی دعائیں اِس قدر بُرے طریقے سے سنجیدہ ہوجائیں جیسے کہ [جہنم میں] کھوئی ہوئے روحوں کی چیخیں تو یہ مکمل طور پر منصفانہ ہوگا، کیونکہ آپ کا ایک فوری طور پر دباؤ ڈالنے والا معاملہ ہوگا، تنہا مسیح کے پاس آپ کو بچانے کے لیے قوت ہے. . . یہی تھا جو فقیر نے محسوس کیا، اور اِس لیے، اُس کا چلّانا بُلند اورمذید بُلند ترین ہوتا گیا، ’’اے داؤد کے بیٹے، مجھ پر رحم کر‘‘ (سی. ایچ. سپرجیئن، ’’اندھے آدمی کا پُرخلوص چلّاناThe Blind Man’s Earnest Cries ،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم اشاعت خانہ Pilgrim Publishers، دوبارہ اشاعت 1979، جلد گیارھویں، صفحات 463۔464).

اِس کے علاوہ، برتمائی اِس لیے بھی چلّایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یسوع اُس راستے سے دوبارہ نہیں گزرے گا۔ اُس کے بچائے جانے کے لیے اور شفا پانے کے لیے یہی واحد ایک یقینی موقع تھا۔ یہ مرنے یا مارنے کا معاملہ تھا یعنی ابھی یا پھر کبھی بھی نہیں! اور ایسا ہی آپ میں سے کچھ کے ساتھ ہے۔ وقت گزر رہا ہے، اور اگر آپ نے مسیح کو ابھی تلاش نہ کیا، تو آپ کے پاس پھر دوبارہ شاید ایسا موقع نہیں آئے گا۔ بائبل میں لکھا ہے، ’’اگر آج تم اُس کی آواز سنو، تو اپنے دِلوں کو سخت مت کرو‘‘ (عبرانیوں 3:7، 8). اب آپ کے پاس یسوع کےلیے چلّانے کا وقت ہے، ’’اے خُداوند، مجھ پر رحم کر۔‘‘

جی ہاں، مسیح صلیب پر آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔ جی ہاں، آپ کو تمام گناہوں سے پاک صاف کرنے کے لیے اُس نے اپنا خون بہایا۔ جی ہاں، آسمان میں زندہ ہے، خُدا باپ کے داھنے ہاتھ پر۔ لیکن آپ کیسے مسیح کے پاس آ سکتے ہیں؟ آپ کیسے مسیح میں قائم رہ سکتے ہیں؟ آپ کیسے اُسے جان سکتے ہیں اور بچائے جا سکتے ہیں؟ کوئی ایسا راستہ نہیں ہے کہ آپ جیسا گنہگار مسیح میں قائم رہ سکے جب تک کہ خُدا آپ پر رحم نہ کرے! آپ یہ جانتے ہوئے کہ یسوع گنہگاروں کے لیے مرا اور دوبارہ جی اُٹھا مریں گے اور جہنم میں جائیں گے۔ بائبل کے وہ حقائق آپ کو کبھی بھی بچا نہیں سکتے۔ خُدا کی مرضی کے مطابق رحم کے ذریعے سے آپ صرف نجات دہندہ کو جان سکتے ہیں اور اپنے گناہوں کو معاف کروا سکتے ہیں!

کچھ منٹ قبل مسٹر گرفتھ نے سپرجیئن کی حمد و ثنا میں سے ایک پرانا گیت گایا تھا۔ خدا کرے وہ جیسے ہی آپ دعا کریں آپ کے لیے ایک حقیقت بن جائے۔

ٹوٹے ہوئے دِل اور قصور وار آہوں کے ساتھ،
   ایک کپکپاتا ہوا گنہگار، خُداوند میں چلّاتا ہوں؛
تیرا معاف کردینے والا فضل زرخیز اور آزاد ہے؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

میں اپنی پریشان چھاتی کو پیٹتا ہوں،
   اپنے تمام گناہوں کے کُچلے ہوئے جرم کے ساتھ:
مسیح اور اُس کا خون میری واحد التجا ہیں؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

آنسوؤں سے بھرپور آنکھوں کے ساتھ میں بہت دور کھڑا ہوں،
   میری جرأت نہیں کہ میں اُنہیں آسمان کی طرف اُٹھا سکوں؛
لیکن تُو تو میرے تمام دُکھوں کو دیکھتا ہے:
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!

ٹوٹے ہوئے دِل اور قصور وار آہوں کے ساتھ،
   ایک کپکپاتا ہوا گنہگار، خُداوند میں چلّاتا ہوں؛
تیرا معاف کردینے والا فضل زرخیز اور آزاد ہے؛
   اے خُداوند! مجھ پر رحم فرما!
(’’مجھ پر رحم فرما‘‘ شاعر کورنیلیئس ایلون Cornelius Elven، 1797۔1873؛ پادری سے ترمیم کیا گیا؛
     بطرزِ ’’’یہ آدھی رات ہے اور زیتون کے پہاڑ کی چوٹی پر‘‘).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan مرقس 10:46۔52 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مجھ پر رحم کر‘‘ (شاعر کورنیلیئس ایلوِن Cornelius Elven، 1797۔1873).

لُبِ لُباب

نجات کے لیے رونا

CRYING FOR SALVATION

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یسوع ناصری وہاں ہے تو وہ چلّا چلّا کر کہنے لگا، اے یسوع، ابنِ داؤد، مجھ پر رحم کر۔ اور لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چُپ ہو جا، شور مت مچا: مگر وہ اور بھی زیادہ چلّانے لگا کہ اے ابنِ داؤد مجھ پر رحم کر‘‘ (مرقس 10:47۔48).

(متی 22:14؛ مرقس 10:52

)

1. اوّل، باقی کے ہجوم کے ساتھ اُس کے ولولے کا موازنہ کیجیے،
متی 20:30؛ یوحنا 3:27؛ 1۔کرنتھیوں 2:14؛ ایوب 19:25 .

2. دوئم، جس مخالفت کا اُس نے سامنا کیا اُس پر غور کیجیے، یعقوب 4:7 .

3. سوئم، اُس کی دعا کی شدت اور استقامت پر غور کیجیے، مرقس 10:48 ؛
 عبرانیوں 3:7، 8 .