Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح اور اُس کا بھائی – دوبارہ جی اُٹھنے پر ایک واعظ

CHRIST AND HIS BROTHER – A RESURRECTION SERMON

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
22 اپریل، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, April 22, 2012

’’پھر یعقوب کو دکھائی دیا، اُس کے بعد سب رسولوں کو‘‘
(1۔ کرنتھیوں 15:7).

یسوع کے دوبارہ جی اُٹھنے کے بارے میں بے شمار نظریات ہیں۔ اُن میں سے ایک ڈاکٹر ہیو سکونفیلڈ Hugh Schonfield کی ’’فسح کا منصوبہ The Passover Plot‘‘کہلائی جانے والی کتاب میں درج کیا گیا ہے۔ مجھے اُس کا پڑھنا یاد ہے جب وہ پہلی مرتبہ 1965 میں آئی تھی۔ سکونفیلڈ نے کہا کہ یسوع نے ایریماتھیا کے جوزف کو کہا اِس کے جسم کو قبر میں سے نکالو تاکہ وہ مسیحا کے طور پر ظاہر ہو جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ میسح کے دوبارہ جی اُٹھنے کے ظہور غلط شناخت کے معاملات تھے – اور بعد میں شاگردوں کی جرأت اُس حقیقت کی وجہ سے تھا کہ فریب و دھوکے نے اُنہیں بے وقوف بنایا تھا، اور وہ اِس سے بہتر جانتے ہی نہیں تھے۔ ڈاکٹر نارمن گیزلر Dr. Norman Geisler نے اِس نظریے میں خامیوں کی جانب اپنی کتاب جب ’’شکیوں نے پوچھا When Skeptics Ask‘‘ میں اشارہ کرتے ہیں:

مسئلہ ’’کیوں، کب اور کہاں‘‘ پر سادگی کے ساتھ تمام تر لوازمات کے ساتھ اختتام پزیر کیا جا سکتا ہے؟ وہ کیوں بدن لے جائے گا؟ جوزف کے پاس واقعی کوئی وجہ نہیں تھی. . . وہ کب اُس کو لے کر گیا ہوگا؟ . . . قبر کے سامنے ایک رومی پہرے دار تعین کیا گیا تھا (متی 27:62۔ 66). اگلی صبح عورتیں پَو پھٹنے پر وہاں آئی تھیں (لوقا 24:1). وہاں واقعی کوئی موقع نہیں تھا۔ اور اگر وہ لے کر گیا ہوتا، تو اُس نے وہ کہاں رکھا ہوگا؟ بدن کبھی بھی پایا نہیں گیا تھا حالانکہ دو مہینے گزرنے سے پہلے شاگردوں نے تبلیغ کرنی شروع کر دی تھی۔ یہ اگر کوئی دھوکہ دہی تھی تو اُس پر سے پردہ اُٹھانے کے لیے انتہائی زیادہ وقت تھا. . . یہاں کوئی محرک نہیں ہے، کوئی موقع نہیں، یا کوئی ایسا طریقۂ کار جو اِس نظریے کو سہارا فراہم کر سکے، اور یہ مسیح کی اُس کے دوبارہ جی اُٹھے جسم کے ساتھ نظر آنے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کرتا ہے (نارمن ایل. گیزلر Norman L. Geisler، پی ایچ۔ ڈی۔ اور رونلڈ ایم. بروکز، ٹی ایچ. ایم.، ’’جب شکیوں نے پوچھا When Skeptics Ask‘‘، بیکر کتاب خانہ، ایڈیشن 2001، صفحات 123۔124).

ڈاکٹر گیزر نے یہ بھی کہا،

یسوع کا مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا سب سے شاندار ثبوت یہ ہے کہ اُسے 500 سے زائد لوگوں کے ذریعے بارہ مختلف مواقعوں پر دیکھا گیا تھا۔ 1۔ کرنتھیوں 15:3۔5 میں عقیدے کی طرح کے بیانات کے اندراج کلیسا کی زندگی میں بہت ابتداء سے ہیں، جو کہ مسیح کی موت کے بعد چند سالوں کے اندر اندر تیار کیا گیا تھا۔ اِس طرح اِس کے قابلِ اعتماد ہونے کی اہلیت تاریخی طور پر بہت زیادہ ہے (ibid.، صفحہ 125؛ دیکھئیے گیری آر. ہیبرماس Gary R. Habermas، پی ایچ. ڈی.، ’’یسوع کی زندگی کا قدیمی ثبوت Ancient Evidence for the life of Jesus‘‘، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1984، صفحات 125۔126).

میسح کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کے ثبوتوں میں سے ایک انتہائی شاندار ثبوت یہ حقیقت ہے کہ،

’’. . . پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7).

ڈاکٹر گیِبیلعین Dr. Gaebelein کا تبصرہ کہتا ہے، ’’جس یعقوب کا تذکرہ آیت 7 میں کیا گیا ہے وہ یقیناً اُن دونوں ناموں کے رسولوں میں سے ایک بھی نہیں ہے. . . کیونکہ رسولوں کے تمام گروہ کا تذکرہ اِس کے بعد ہی کیا گیا ہے اور جس میں یہ دونوں بھی شامل ہونگے۔ اِس کے بجائے، یہ ضروری طور پر خداوند کا سوتیلا بھائی ہوگا (متی 13:33)، جس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ رسولوں کے گروہ میں شمولیت کی تھی (اعمال 1:14) اور یروشلم کی کلیسیا میں ممتاز ہو گیا تھا (اعمال 15:13). . . یہ تمام ثبوت پولوس کو چشم دید گواہوں سے موصول ہوئے تھے‘‘ (فرینک ای. گیِبیلعین، ڈی.ڈی.، جنرل ایڈیٹر، مفسرین کا بائبل پر تبصرہ The Expositor’s Bible Commentary، ژونڈروان اشاعت گھر Zondervan Publishing House، ایڈیشن 1981، جلد دہم، صفحہ 282؛ 1۔ کرنتھیوں 15:7 پر ایک یاداشت(۔

لہٰذا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں، لگ بھگ تمام تبصروں کے ساتھ، کہ یعقوب جس نے یسوع کو اُس کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کے بعد دیکھا اُس کا سوتیلا بھائی تھا۔

’’. . . پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7).

اِس سے بہتر اور ثبوت ہمارے پاس کیا ہوگا کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا؟ ایک شخص جو یسوع کو نہیں جانتاممکن ہے شاید بے وقوف بن جائے۔ لیکن یسوع کا اپنا بھائی بے وقوف نہیں ہوگا۔ آدمی خود اپنے بھائی کو جانتا ہے! آخر کار، وہ دونوں اکٹھے پلے بڑھے تھے، اور ایک دوسرے کو بچپن ہی سے قریبی طور پر جانتے تھے! اِس سے بھی زیادہ یہ کہ یعقوب ایک مُنکر تھا، ایک شکی جس نے یقین نہیں کیا تھا کہ یسوع مسیحا تھا۔ یہ اِس کو مذید اور زیادہ سازشی بنا دیتا ہے جب ہم پڑھتے ہیں،

’’. . . پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7).

آئیے یعقوب کی گواہی کی وضاحت کو دیکھتے ہیں۔

1۔ اوّل، یعقوب ایک مُنکر تھا۔

کلامِ پاک اِسے واضح کرتا ہے کہ یعقوب نے ایک منکر کے طور پر آغاز کیا تھا۔ اُس نے اپنے بھائی یسوع کو یہاں تک کہ ایک نبی کے طور پر بھی قبول نہیں کیا تھا – بلکہ اس سے بھی بہت کم بطورِ مسیحا اور خُدا کے بیٹے کے طور پر! مرقس کی انجیل کہتی ہے کہ ناصرت کے لوگ، جو کہ یسوع کا آبائی قصبہ تھا، اُنہوں نے اُسے مسترد کیا۔ اُنہوں نے کہا،

’’کیا یہ بڑھئی نہیں جو مریم کا بیٹا اور یعقوب، یوسیبیئس، یہوداہ اور شمعون کا بھائی ہے؟ کیا اس کی بہنیں ہمارے یہاں نہیں رہتیں؟ اور اُنہوں نے اُس کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔ چنانچہ اُس نے اُس سے کہا: نبی کی بے قدری اور اُس کے شہر، رشتہ داروں اور گھر والوں سے ہوتی ہے اور کہیں نہیں۔ اور وہ چند بیماروں پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں شفا دینے کے سوا کوئی بڑا معجزہ وہاں نہ دکھا سکا۔ اُس نے وہاں کے لوگوں کی بے اعتقادی پر تعجب کیا۔ اور وہ وہاں سے نکل کر اردگرد کے گاؤں اور قصبوں میں تعلیم دینے لگا‘‘ (مرقس 6:3۔6).

اُس کے اپنے رشتہ دار، جن میں اُس کا بھائی یعقوب بھی شامل ہے، اُنہوں نے اُس میں یقین نہیں کیا،

’’ اُس نے وہاں کے لوگوں کی بے اعتقادی پر تعجب کیا‘‘ (مرقس 6:6).

یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسیح کے اپنے سوتیلے بھائی یعقوب نے اُس میں یقین نہیں کیا۔ ہمیں خاص طور پر یوحنا کی انجیل میں بتایا گیا ہے،

’’… اُس کے بھائی بھی اُس پر ایمان نہ لائے تھے‘‘ (یوحنا 7:5).

اِس آیت کے بارے میں ڈاکٹر جان آر. رائیس Dr. John R. Rice نے کہا،

یسوع کے بھائی – یعقوب، یوسیبیئس، شمعون اور یہودہ. . . یسوع کی مصلوبیت سے پہلے بچائے نہیں گئے تھے (جان آر. رائیس، ڈی.ڈی.، خُدا کا بیٹا The Son of God، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے والے Sword of the Lord Publishers، 1976، صفحہ 158؛ یوحنا 7:5 پر ایک یاداشت).

پھر، دوبارہ، متی کا بارہواں باب ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کی ماں اور چار بھائیوں نے ابھی تک اُس میں یقین نہیں کیا تھا۔

’’ابھی یسوع ہجوم سے بات کر ہی رہا تھا کہ اُس کی ماں اور بھائی باہر آکھڑے ہوئے۔ وہ اُس سے بات کرنا چاہتے تھے۔ کسی نے اُسے خبر دی کہ دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اُس نے خبری لانے والے سے کہا: کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟ تب اُس نے اپنے شاگردوں کی طرف اشارہ کرکے کہا: دیکھ! میری ماں اور بھائی یہ ہیں کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور میری ماں ہے‘‘ (متی 12:46۔40).

اِن آیات میں یسوع کی ماں اور بھائیوں نے اُس کی مداخلت کے لیے کوشش کی جب کہ وہ تبلیغ کر رہا تھا۔ ڈاکٹر رائیس نے کہا، ’’یہ بھائی یقینی طور پر اُس وقت نہیں تبدیل ہوئے تھے اور یسوع میں یقین نہیں رکھتے تھے‘‘ (جان آر. رائیس۔، ڈی.ڈی.، یہودیوں کا بادشاہ The King of the Jews، خُداوند کی تلوار اشاعت خانے والے، 1980، صفحہ 189). یعقوب بھی اُن میں ہی ہوگا – ایک غیر تبدیل شُدہ حالت میں۔ ڈاکٹر رائیس نے کہا ’’اُس کے مسیحا ہونے کے لیے دعٰوے میں اُن کے مسترد کرنے کی ایک حقارت آمیز مسکراہٹ تھی‘‘ (خُداوند کا بیٹا The Son of God، ibid.). اِس طرح، ہم یعقوب کو اپنے بھائی یسوع پر حقارت کے ساتھ مسکرانے اور مسترد کرنے پر چھوڑتے ہیں۔

2۔ دوئم، یعقوب تبدیل ہوا تھا۔

جب یعقوب نے یسوع کی تبلیغ کے لیے مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی وہ ’’باہر ہی کھڑا رہا تھا‘‘ (متی 12:46). لیکن جب مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا وہ یعقوب بھی اندر تھا! ’’اور جب وہ اندر آئے [وہ ساتھ تھے] مریم یسوع کی ماں، اور اُس کے بھائیوں کے ساتھ۔‘‘ آخر کار وہ تبدیل ہو گیا تھا! بائبل کی مثالوں سے واضح کرنے والی لُغت The Illustrated Dictionary of the Bible، کہتی ہے،

تاہم، یسوع کی مصلوبیت کے بعد، یعقوب ایک ایماندار بن گیا تھا۔ پولوس کہتا ہے کہ یسوع کی مصلوبیت کا ایک چشم دید گواہ یعقوب بھی تھا (بائبل کی مثالوں سے واضح کرنے والی لُغت The Illustrated Dictionary of the Bible، ہربرٹ لوکیئر Herbert Lockyer، ڈی.ڈی.، ایڈیٹر، تھامس نیلسن اشاعت خانہ Thomas Nelson Publishers، 1986، صفحہ 533).

بین الااقوامی بائبل کا معیاری انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے،

. . . تبدیلی کے بیج اُس کے اندر ہی اندر بوئے جا رہے تھے، کیونکہ، یسوع کی مصلوبیت کے بعد، وہ یروشلم ہی میں اپنے ماں اور بھائیوں کے ساتھ رہا تھا، اور اُن ابتدائی ایمانداروں کے گروہوں میں ایک گروہ قائم کیا تھا جو ’’ایک دِل ہو کر دعا میں مشغول رہتے تھے‘‘(اعمال 1:14)… یعقوب یسوع کے دوبارہ جی اُٹھنے کے چشم دید گواہوں میں سے ایک تھا، کیونکہ، جی اُٹھے خُداوند نے پانچ سو لوگوں پر خود کو آشکارہ کروانے کے بعد ’’وہ یعقوب کو دیکھائی دیئے تھے‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7 اے وی). اِس طرح سے اُس کے بڑھتے ہوئے اعتقاد اور دعا گوئی کی توقع کو توثیق ملی (بین الااقوامی معیاری بائبل انسائیکلوپیڈیا، عئیرڈ مینز، 1976، جلد سوئم، صفحہ 1561).

ہم نہیں جانتے کہ کب یعقوب نے یسوع کو اُس کے دوبارہ جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا۔ لیکن یہ مسیح کے ’’پانچ سو بھائیوں کے ایک ساتھ‘‘ دیکھے جانے کے بعد ہوا تھا (1۔ کرنتھیوں 15:6).

’’اس کے بعد وہ پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7)

ہم نہیں جانتے کہ یہ کب ہوا تھا، لیکن یہ جی اُٹھے مسیح کے پانچ سو لوگوں کے دیکھے جانے کے بعد ہوا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یعقوب بالا خانے میں تھا (اعمال 1:14) – اور 120 شاگردوں میں شمار کیا گیا تھا (اعمال 1:15). یعقوب تبدیل ہو چکا تھا! اُس نے اپنے بھائی کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا! اگر آپ خود اپنے ہی بھائی پر بھروسہ نہیں کرسکتے، تو پھر آپ کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟

’’اس کے بعد وہ پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7)

3۔ سوئم، یعقوب ایک مسیحی رہنما اور ایک شہید بنا تھا۔

اپنے بھائی کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر دیکھنے کا اِس قدر عظیم اثر ہوا تھا کہ یعقوب ایک رسول، ایک مسیحی رہنما، نئے عہد نامے کی کتابوں میں سے ایک کتاب کا مضنف اور ایک شہید بن گیا تھا۔ اعمال 15:13 اور اعمال 21:18 میں یعقوب کا تذکرہ یروشلم کی کلیسیا کے راہنما کے طور پر کیا گیا ہے،

’’اور اگلے دِن ہم پَولُوس کولے کر یعقوب سے ملنے گئے۔ وہاں سب بُزرگ پہلے ہی سے جمع تھے‘‘ (اعمال 21:18).

یعقوب، جو کہ ایک منکر رہ چکا تھا، اب یروشلم کی کلیسا کا رہنما بن چکا تھا! وہ دُنیا کے پہلے مسیحی گرجہ گھر کا پادری تھا!

لیکن یعقوب ایک بہت ہی عاجز انسان تھا۔ نئے عہد نامے میں مراسلے میں اُس نے لکھا، وہ اپنے آپ کو رسول نہیں کہتا تھا، حالانکہ وہ ایک تھا۔ اُس نے تو یہاں تک کہ اپنے آپ کو پادری یا بزرگ بھی نہیں کہا۔ یعقوب کی کتاب، باب اوّل، آیت نمبر ایک کھولیئے۔ یہ ہے جو یعقوب نے لکھا تھا۔ آئیے کھڑے ہو جائیے اور اُس آیت کو پڑھیں۔

’’یعقوب کی طرف سے جو خدا کا اور خداوند یسوع کا خادم ہے، اِسرائیل کے بارہ قبیلوں کو جو جگہ جگہ بسے ہُوئے ہیں، سلام پہنچے‘‘ (یعقوب 1:1).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

یہ اُس کی خود کے بارے میں ایک عظیم وضاحت ہے: یعقوب خداوند اور خداوند یسوع مسیح کا ایک خادم۔‘‘ غور کریں کہ اُس نے یسوع کو، ’’خداوند یسوع مسیح‘‘ کہا تھا۔ یعقوب سے بہتر اِس بارے میں اور کوئی جان ہی نہیں پائے گا۔ آخر کار یسوع اُس کا اپنا بھائی تھا! اور یعقوب نے سادگی کے ساتھ خود کو یسوع کا خادم کہا تھا۔ اُس کی زندگی میں یہ عظیم بدلاؤ کیسے آیا تھا؟

’’اس کے بعد وہ پھر یعقوب کو دکھائی دیا. . . ‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7)

یعقوب نے اپنے بھائی کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا۔ اپنی زندگی کے اختتام تک وہ یہ اعلان کرتا رہا تھا کہ وہ دوبارہ جی اُٹھے مسیح کو دیکھ چکا تھا، جو کہ اُس نے ’’خُداوند یسوع مسیح‘‘ کہا تھا (یعقوب 1:1).

کیا ہم یعقوب کا یقین کر سکتے ہیں؟ کیا وہ مسیح کے دوبارہ جی اُٹھنے کا قابلِ بھروسہ گواہ ہے؟ جی ہاں وہ ہے – کیونکہ یعقوب نے اپنی خود کی زندگی یہ اعلان کرتے ہوئے قربان کر دی تھی کہ یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ وہ اپنے بھائی کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کا ایک چشم دید گواہ ہے!

یوسیبیئس ایک تاریخ دان تھا جس نے چوتھی صدی میں زندگی گزاری۔ یوسیبیئس نے یعقوب کو ’’یعقوب منصف‘‘ کہا۔ ابتدائی کلیسیا کی اپنی تاریخ میں، یوسیبیئس ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے یعقوب مرا تھا۔ یوسیبیئس کلیمنٹ سے حوالہ دیتا ہے، جو کہ اُس سے پہلے پہلی صدی میں زندہ تھا۔ یوسیبیئس نے یعقوب سے متعلق کلیمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،

کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ پطرس اور یعقوب اور یوحنا نے ہمارے نجات دہندہ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد، جیسا کہ ہمارے خُداوند نے بھی عزت پانے کے لیے جدوجہد کو ترجیح نہیں دی تھی، بلکہ یعقوب کو یروشلم کامنصف اُسقف چُنا تھا. . . خُداوند نے اپنے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے کے بعد یعقوب منصف میں اور یوحنا اور پطرس میں شعور اُنڈیلا تھا، اور اُنہوں نے باقی تمام رسولوں میں اُنڈیلا تھا، اور باقی تمام رسولوں نے ستر میں اُنڈیلا تھا، جن میں سے ایک برناباس بھی تھا. . . [یعقوب] کو ہیکل کے مینار سے نیچے پھینکا گیا تھا اور ڈنڈے سے مار مار کا جان بحق کر دیا تھا (یوسیبیئس، سی. 260۔340 بعد از مسیح کی موت، یوسیبیئس کی کلیسیا کی تاریخ The Church History of Eusebius‘‘نائیسینی اور نائیسینی سے قبل کے آباؤ اجداد The Nicene and Post-Nicene Fathers، عیئرڈمینز، دوبارہ اشاعت 1982، جلد اوّل، صفحہ 104).

یہ مسیحی شہیدوں کے نئے انسائیکلوپیڈیاThe New Encyclopedia of Christian Martyrs میں سے یعقوب کی موت کی تفصیل ہے:

      اُنہوں نے ایک بہت بڑے ہجوم کے سامنے یعقوب کو گھسیٹا اور تقاضا کیا کہ وہ مسیح کا انکار کرے۔ اُن کی حیرانگی کے لیے یعقوب پرسکون رہا تھا اور اِس بپھرے ہوئے ہجوم کے سامنے غیر متوقع طور پر اطمینان کا مظاہرہ کیا۔ یعقوب نے سرِ عام اعلان کیا کہ ہمارا نجات دہندہ اور خُداوند یسوع بلا شک و شبہ خُدا کا بیٹا تھا. . .
      کلیمینٹ ہمیں بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے یعقوب کو جکڑ رکھا تھا، اُس کو ایک [ہیکل کی] منڈیر سے گرایا تھا اور پھر ڈنڈے مار مار کر اُس کو جان بحق کر دیا تھا. . .
      شریعت کے عالموں اور فریسیوں نے یعقوب کو مجبور کیا کہ وہ مقدس مقام کی منڈیر پر کھڑا ہو اور چلا کر اُسے کہا، اے راستباز، ہمیں کس کی شہادت کو قبول کرنا چاہیے، تم لوگوں کو بہکا رہے ہو اور یسوع، جس کو مصلوب کیا گیا تھاکی پیروی کرنے کے لیے اُن کی حوصلہ افزائی کر رہے ہو. . . ‘‘ یعقوب نے جواب دیا، تم مجھ سے ابنِ آدم کے بیٹے کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو؟ وہ عظیم قوت کے داہنے ہاتھ پر آسمان میں بیٹھتا ہے، اور وہ آسمانی بادلوں پر واپس آئے گا۔‘‘
      [نیچے موجود] ہجوم میں سے بُہتیرے یعقوب کے الفاظ سے قائل ہو گئے تھے اور چلا اُٹھے تھے، ’’داؤد کے بیٹے کے لیے ہوشعنا۔‘‘
      شریعت کے عالمین اور فریسیوں نے محسوس کیا کہ اُنہوں نے ایک غلطی کی تھی. . . یسوع کے بارے میں یعقوب کو گواہی دینے کی اجازت دینے کی غلطی. . . اِس لیے اُنہوں نے [اُسے] منڈیر سے دھکا دے دیا، اور پھر اُسے سنگسارکیا، کیونکہ گرنے سے وہ مرا نہیں تھا۔ یعقوب. . . نے دعا کی تھی، ’’خُداوند خُدا اور اے باپ، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں، اِنہیں معاف کر دے؛ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔‘‘ اس طرح ایک راستباز شہید ہو گیا تھا۔ اُس کو وہیں دفن کیا گیا تھا جہاں وہ گرا تھا اور اُس کی قبر پر قطبہ آج بھی موجود ہے (میسحی شہیدوں کا نیا انسائیکلو پیڈیا The New Encyclopedia of Christian Martyrs، بیکر، 2001، صفحہ 23).

اُس نے یسوع کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی کیونکہ،

’’اس کے بعد وہ پھر یعقوب کو دکھائی دیا‘‘ (1۔کرنتھیوں 15:7)

اپنی زندگی کے اختتام پر وہ تھا،

’’یعقوب، جو خدا کا اور خداوند یسوع مسیح کا خادم ہے…‘‘ (یعقوب 1:1).

آپ کے خیال میں کیا اِس شخص نے واقعی مسیح کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا؟ کیا آپ اِس شخص کی گواہی پر بھروسہ کر سکتے ہیں جس نے اپنی زندگی یسوع کے لیے قربان کردی؟ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ اُس نے اپنے بھائی یسوع کو مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد دیکھا تھا؟ اور اگر آپ یعقوب کی شہادت پر بھروسہ کر سکتے ہیں، تو کیا آپ یسوع بخود پر بھروسہ کریں گے؟ کیا آپ یسوع پر ایسے ہی بھروسہ کریں گے جیسے کہ یعقوب نے کیا تھا؟ ’’خُداوند یسوع مسیح پر بھروسہ کرو اور تم بچائے جاؤ گے‘‘ (اعمال 16:31). ہم کس قدر دعا کرتے ہیں، کہ آپ بھی، جی اُٹھے مسیح کا سامنا کریں – اور بچائے جائیں!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نے Dr. Kreighton L. Chan 1۔ کرنتھیوں 15:1۔8 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’مسیح جی اُٹھا‘‘ (شاعر رابرٹ لعوری Robert Lowry، 1826۔1899).

لُبِ لُباب

مسیح اور اُس کا بھائی – دوبارہ جی اُٹھنے پر ایک واعظ

CHRIST AND HIS BROTHER – A RESURRECTION SERMON

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’پھر یعقوب کو دکھائی دیا، اُس کے بعد سب رسولوں کو‘‘
(1۔ کرنتھیوں 15:7).

(متی 27:62۔66؛ ؛لوقا 24:1؛ 1۔ کرنتھیوں 15:3۔5؛
متی 13:33؛ اعمال 1:14؛ 15:13)

1. اوّل، یعقوب ایک منکر تھا، متی 6:3۔6؛ یوحنا 7:5؛
متی 12:46۔50 .

2. دوئم، یعقوب تبدیل ہوا تھا، متی 12:46؛ اعمال 1:13۔14؛
1۔ کرنتھیوں 15:6، 7؛ اعمال 1:14۔15 .

3. سوئم، یعقوب ایک مسیحی رہنما اور ایک شہید بنا تھا،
اعمال 15:13؛ 21:18؛ یعقوب 1:1؛ اعمال 16:31 .