Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

عظیم سفید تخت کا فیصلہ

THE GREAT WHITE THRONE JUDGMENT

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
11 مارچ ، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 11, 2012

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا؛ تب کتابیں کھولی گئیں: اور ایک اور کتاب کھولی گئی تھی، جو کہ کتابِ حیات ہے: تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ 20:12).

’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

1 ۔ اوّل، غیرمحفوظ مُردوں کا انصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا جائے گا۔

یوحنا رسول نے رویاء میں یہ ہوتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے کہا،

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا؛ تب کتابیں کھولی گئیں: اور ایک اور کتاب کھولی گئی تھی، جو کہ کتابِ حیات ہے: تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے۔ اور سُمندر نے اُن مُردوں کو جو اُس کے اندر تھے دے دیا؛ اور مَوت اور عالمِ ارواح نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دیا: اور ہر ایک کا اِنصاف اُس کے اعمال کے مطابق کیا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:12۔13).

کھوئے ہوئے لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ یہ وہ وقت ہوگا جب خُدا اُن کے اچھے اعمال اور بُرے اعمال کا وزن کرے گا۔ وہ سوچتے ہیں کہ، اگر وہ بُرے اعمال کی نسبت اچھے اعمال زیادہ کرتے، تو اُنہیں جنت میں جانے کی اجازت مل گئی ہوتی۔ لیکن بائبل میں اِس میں سے کچھ بھی نہیں ہے، اور کلام پاک کے اِس حوالے میں تو قطعاً نہیں! ڈاکٹر جان آر. رائیس Dr. John R. Rice نے کہا،

یہاں کوئی رحم نہیں۔ معافی کے بارے میں، خُدا کے فضل کے بارے میں، کفارے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ یہ تمام دھتکارے جا چکے ہیں [مذاق کیا گیا اور مسترد کیے گئے]؛ اب صرف راستباز فیصلہ لاگو ہوتا ہے۔ لوگ عالمِ ارواح میں جاتے ہیں کیوں کہ وہ مستحق ہیں۔ وہ جہنم کے لائق . . . امثال 29:1 کہتی ہے، ’’جو شخص بار بار متنبہ کیے جانے پر بھی سرکشی کرتا ہے وہ ناگہاں تباہ کیا جائے گا، اُس کا کوئی چارہ نہ ہوگا۔‘‘ گناہ کی قیمت ضرور ادا کی جاتی ہے۔ وہ جو مسیح کی قربانی کو مسترد کرتے ہیں. . . اُنہیں اپنے کبھی نہ توبہ کیے ہوئے اور کبھی نہ معاف کیے ہوئے ابدی قرض خود ادا کرنے چاہیے۔ (جان آر. رائیس، ڈی.ڈی.، ہوشیار، وہ آیا! مکاشفہ کی کتاب پر آیت بہ آیت تبصرہ Behold, He Cometh! A Verse-by-Verse Commentary on the Book of Revelation ، خُداوند کی تلوار پبلیشرز Sword of the Lord Publishers، 1977، صفحات 304۔305؛ مکاشفہ 20:12).

انگلستان میں ویسٹ منسٹر ایبی کے سینٹ جارج گرجہ گھر میں 60,000 لوگوں کے ناموں پر مشتمل جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران لندن کی گولہ باری میں قتل ہوئے تھے چار کتابیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب کُھلی پڑی رہتی ہے اور اُس کے اُن صفحات پر روشنی پڑتی رہتی ہے جن پر نام درج ہیں۔ ہر روز ایک صفحہ پلٹایا جاتا ہے۔

یہ مجھے یاد دلاتا ہے اُن ’’کتابوں‘‘ کی جو خُدا آخر ی عدالت پر کھولے گا، جب وہ کتابیں کُھلتی ہیں، تو کھوئے ہوئے گنہگاروں کے ناموں کی فہرست کے ساتھ اُن کے گناہ جو کبھی اُنہوں نے کیے ہیں ظاہر ہونگے۔ بائبل کہتی ہے،

’’کیونکہ خُدا ہر ایک فعل کو، ہر ایک پوشیدہ بات سمیت. . . ‘‘
       (واعظ 12:14).

اور یسوع نے کہا،

’’لہٰذا میں تم سے کہتا ہوں کہ اِنصاف کے دِن لوگوں کو اپنی ہر بُری بات کا حساب دینا ہوگا‘‘ (متی 12:36).

ہر ’’پوشیدہ بات‘‘ جو کھوئے ہوئے لوگوں نے کی ہے وہ اُن فیصلوں کی کتابوں میں درج ہیں۔ ہر ’’بُری بات‘‘ جو اُنہوں نے کہی درج ہے، اور اُنہیں ’’اِنصاف کے دن حساب دینا ہوگا۔‘‘ یسوع نے کہا،

’’کوئی چیز ڈھکی ہوئی نہیں، جو ظاہر نہ کی جائے گی؛ اور نہ ہی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے جو جانی نہ جائے گی‘‘ (لوقا 12:2).

ہر کھوئے ہوئے گنہگار کو اپنی زندگی کے گناہوں کے ساتھ آخری فیصلے کے دِن سامنا کرنا پڑے گا جب ’’خدا آدمیوں کی پوشیدہ باتوں کا اِنصاف کرے گا‘‘ (رومیوں 2:16).

’’اور تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ 20:12).

ڈاکٹر رائیس نے کہا،

لوگوں کا انصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا جائے گا۔ اِس کا مطلب ہے، پھر، وہ انصاف دوسروں کے مقابلے میں کچھ کے لیے انتہائی شدید ہو جائے گا۔ جہنم دوسروں کے مقابلے میں کچھ کے لیے اُن کے اعمال کے مطابق زیادہ قابلِ برداشت ہوگی۔ تمام منکرِ مسیح جہنم میں جاتے ہیں، لیکن جہنم تمام کے لیے ایک جیسی نہیں ہوگی (رائیس، ibid.، صفحہ 305).

یسوع نے کہا،

اَے خُرازین! تجھ پر افسوس، اَے بیتِ صیدا! تجھ پر افسوس۔ اگر یہ معجزے جو تمہارے یہاں دکھائے گئے صور اور صیدا میں دکھائے جاتے، تو وہاں کے لوگ ٹاٹ اوڑھ کر اور سر پر راکھ ڈال کر کب کے توبہ کر لیتے۔ لیکن میں تُم سے کہتا ہُوں، کہ اِنصاف کے دِن صور اور صیدا کا حال تمہارے حال سے زیادہ قابلِ برداشت ہوگا، اور اَے کفر نحوم! کیا تُو آسمان تک بلند کیا جائے گا؟ نہیں، تُو پاتال میں اُترے گا کیونکہ یہ معجزے جو تُجھ میں دکھائے گئے اگر سدُوم میں دکھائے جاتے تو وہ آج تک باقی رہتا۔ لیکن میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اِنصاف کے دِن سدُوم کا حال تیرے حال سے زیادہ قابلِ برداشت ہوگا‘‘ (متی 11:21۔24).

ہم اِن آیات میں دیکھتے ہیں کہ جہنم میں سزا کے درجے ہیں۔ وہ لوگ جو اِتوار کے اِتوار خوشخبری سُنتے ہیں، لیکن کبھی مسیح کے پاس نہیں آتے ہیں، صیدوم میں رہنے والوں کے مقابلے میں جہنم میں بدترین جگہ پائیں گے۔ ’’لیکن میں تم سے کہتا ہوں، کہ اِنصاف کے دِن صور اور صیدا کا حال تمہارے حال سے زیادہ قابلِ برداشت ہوگا‘‘ (متی 11:24). ’’ اور ہر ایک کا اِنصاف اُس کے اعمال کے مطابق کیا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:13). ’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

دانی ایل نبی نے کہا کہ وہ جو بچائے نہیں گئے ’’جاگ اُٹھیں گے. . . رسوائی اور ذلتِ ابدی کے لیے‘‘ (دانی ایل 12:2). کس قدر دھشت ناک سوچ! آپ مریں گے، لیکن وہ اختتام نہیں ہے – کبھی بھی نہیں! آپ کے مرنے کے بعد آپ ’’ جاگ اُٹھیں گے. . . رسوائی اور ذلتِ ابدی کے لیے‘‘ ڈاکٹر جان بلینکارڈ Dr. John Blanchard ، ایک برطانوی مصنف، نے کہا،

گنہگاروں کے جہنم میں جذبات کے بارے میں دانی ایل کے الفاظ ہمیں کیا بتاتے ہیں؟ کوئی آلہ جسے انسان جانتا ہے جرم کی وجہ سے پیدا ہوئے درد کی پیمائش نہیں کر سکتا؛ اور ملامتی ضمیرکی وجہ سے جس کی پوری یاداشت واپس آ جاتی ہے اور جسے خاموش کرانا ناممکن ہے جہنم میں اذیت کا کوئی انسانی ذہن تصور کرہی نہیں سکتا. . . اُن کی گناہ سے بھرپور اور خود پرست زندگیاں جن میں اُنہوں نے خُدا کے بارے میں جھوٹ بولے، اپنے خالق کے خلاف توہین آمیز تحاریر کی اشاعت کی اور بدگوئیاں کیں۔ جہنم میں، وہ اپنے جرم کی وسعت اور اُس کے مکمل مطلب کا احساس کریں گے۔ کم از کم اُنہیں یہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا کہ بے شک خُدا نے اُنہیں ہر چیز کے علاوہ سانس اور زندگی عطا کی تھی‘‘. . . اُنہوں نے اُس کی بے غرضی کا اپنی زندگیاں خود جی کر اصراف کیا۔ اِس میں حیرانگی کی بات نہیں کہ دانی ایل کہتا ہے وہ شرمندگی کا تجربہ کریں گے۔         لیکن وہ ’’توہین و تحقیر‘‘ کے بارے میں بھی بات کرتا ہے، جو کہ عبرانی لفظ ڈی ریعون deraon کا ترجمہ کرتا ہے۔ اِس کا کلام پاک میں واحد دوسرا استعمال کیا ہے جہاں اشعیا کہتا ہے کہ جنہیں جہنم کے لیے سزایافتہ کیا جائے گا [’’بنی آدم کے لیے نفرت انگیز ہونگے‘‘]. عالمِ ارواح میں گنہگار کوئی صحبت اور کوئی ہمدردی نہیں پائیں گے۔ ہر کوئی وہاں ہر کسی دوسرے کی وجہ سے [نفرت انگیز] مخالف ہوگا، جو اُن کے رنج وغم اور اُن کی شرمندگی دونوں کے لیے اضافہ کرے گا۔ جہنم کے باسی جرم اور الزامات، اُلٹی تہمت اور ندامت، شرمندگی اور توہین کے [گرداب] میں پھنس جائیں گے. . .
      ہمیں بتایا گیا ہے کہ [اُنہیں] [آگ اور گندھک کے ساتھ عذاب میں مبتلا] کیا جائے گا اور کہ [’’اُن کے عذاب کا دھواں ابد تک اُٹھتا رہے گا‘‘]، مکاشفہ 14:10۔11 . ایک انداز میں یا دوسرے میں لفظ ’’عذاب‘‘ نئے عہد نامے میں مذید پندرہ مرتبہ رونما ہوا ہے۔ کبھی کبھی یہ علالت یا مرض کی وجہ سے انتہائی شدید تکلیف کے لیے حوالہ دیتا ہے، اور کم از کم ایک مرتبہ اذیت دینے کےلیے، لیکن بغیر کسی مُستثنیٰ قرار دینے کے عمل کے یہ لفظ ضمیر کی شدید تکلیف سہنے کے معنی دیتا ہے۔ جہنم کی عذاب ناکیوں کے معاملے میں یہ مصائب ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ 1,500 سال سے بھی پہلے جان کرس اوزٹم John Chrysostom [نے کہا]، ’’دائمی سزایافتہ اختتام کے بغیر اختتام ، موت کے بغیر موت، گلنے سڑنے کے بغیر گلنا سڑنا برداشت کریں گے. . . وہ ترس کے بغیر سزا پائیں گے، رحم وکرم کے بغیر بد نصیبی، آرام کے بغیر عذاب (جان بلینکارڈ، ڈی.ڈی.، جہنم کے لیے جو کچھ بھی ہوا Whatever Happened to Hell? انجیلی بشارت پریس Evangelical Press ، 2005 اشاعت، صفحات 145۔146، 154).

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا؛ تب کتابیں کھولی گئیں: اور ایک اور کتاب کھولی گئی تھی، جو کہ کتابِ حیات ہے: تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے ‘‘ (مکاشفہ 20:12).

’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا‘ اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

2۔ دوئم، وہ جو کتابِ حیات میں پائے گئے اِس فیصلے سے بچائے جائیں گے۔

’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا‘ اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

دانی ایل نبی ’’کتابِ حیات‘‘ کے بارے میں بتاتا ہے جب اُس نے کہا، ’’اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں درج ہوگا نجات پائے گا‘‘ (دانی ایل 12:1). یسوع نے کہا، ’’خوشی مناؤ، کیونکہ تمہارے نام آسمان پر لکھے ہوئے ہیں‘‘ (لوقا 10:20). اور پولوس رسول فلّپی میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو کہتا ہے، ’’جن کے نام کتابِ حیات میں ہیں‘‘ (فلپیوں 4:3).

’’کتابِ حیات‘‘ میں اُن تمام کے نام موجود ہیں جنہیں خُدا نے بچانے کے لیے چُنا ہے۔ وہ تمام جن کے پاس ابدی زندگی ہے اُن کا اندراج نام کے ساتھ ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہے۔ اگر آپ تبدیل ہوتے ہیں تو آپ کا نام ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہے۔ اگر آپ موت کے وقت غیر تبدیل شُدہ ہوتے ہیں تو آپ کا نام اور آپ کے گناہ ’’کتابوں‘‘ میں درج ہوتے ہیں۔ کیا آپ کا نام ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہے، یا یہ ’’کتابوں‘‘ میں ہے؟ اگر آپ کا نام ’’کتابوں‘‘ میں ہے تو آپ جہنم کی جھیل میں بھیجے جائیں گے۔

ڈاکٹر جان ایف. وال وورڈ Dr. John F. Walvoord نے کہا، کتابِ حیات میں کسی کے نام کا نہ پایا جانا ہی محض آگ کی جھیل میں پھینکے جانے کی بنیاد ہے، کیونکہ اُس شخص کے گناہوں کو معاف نہیں کیا گیا ہے اور اُس عورت یا مرد نے خُدا کی آرام گاہ میں داخلہ نہیں پایا ہے‘‘ (جان ایف. وال وورڈ، ٹی ایچ. ڈی.، بائبل کی اہم پیشن گوئیاں Major Bible Prophecies، ژونڈروان اشاعت خانے Zondervan Publishing House، 1991، صفحہ 411).

اگر آپ کا نام ’’کتابِ حیات‘‘ میں ہے تو آپ ابدیت تک مسیح کے ساتھ جنت میں ہوں گے۔ جو گیت مسٹر گریفتھ نے اِس واعظ سے پہلے گایا تھا یہ سب کچھ کہتا ہے،

خُداوند، مَیں مال و دولت کی پرواہ نہیں کرتا،
   نہ ہی سونا نہ ہی چاندی؛
میں اِس بات کے لیے جنت کو یقینی بناؤں گا،
   میں جماعت میں شامل ہو جاؤں گا۔
تیری بادشاہت کی کتاب میں،
   اُس کے اِس قدر منصفانہ صفحات کے ساتھ،
میرے نجات دہندہ، یسوع، مجھے بتا،
   کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے؟
کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے،
   اُس صفحے پر جو سفید اور منصفانہ ہے؟
تیری بادشاہت کی کتاب میں۔
   کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے؟
(’’کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے؟‘‘ شاعر میری اے. کیڈر Mary A. Kidder، 1820۔1905).

جیسا کہ میں نے کہا، اگر آپ کا نام کتابِ حیات میں نہیں لکھا ہوا ہے تو آپ ابدی عذاب کے لیے سزایافتہ ہیں۔

’’اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

کیا آپ کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہے؟ اِس کو یقینی بنانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ آپ کا نام وہاں ہے۔ یسوع نے کہا،

’’میں تم کو سچ سچ کہتا ہوں، کہ جو کوئی ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے‘‘ (یوحنا 6:47).

’’کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لیے نہیں بھیجا کہ دنیا کو سزا کا حکم سنائے بلکہ اس لیے کہ دنیا کو اُس کے وسیلہ سے نجات بخشے جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا. . . ‘‘ (یوحنا 3:17۔18).

توبہ کریں – اپنی گناہ سے بھرپور طرزِ زندگی سے منہ موڑیں، اور نجات دہندہ پر یقین کریں۔ محض یسوع کے بارے میں باتوں پر یقین مت کریں۔ یسوع ’’پر‘‘ یقین کریں۔ یونانی مٰیں لفظ ’’پر‘‘ کا ترجمہ ہے ’’عئیس eis‘‘۔ اِس کا مطلب ہے ’’میں‘‘ (جارج رِیکر بیری George Ricker Berry). جدید ترجمے کہتے ہیں ’’اُس میں یقین کریں۔‘‘ لیکن یہ معنی کو چُھپا دیتا ہے۔ بہترین اُولڈ کِنگ جیمس ورشن بائبل ’’پر‘‘ کہتی ہے۔ یہ کسی قدر بہتر ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ضرور یسوع کے پاس آنا ہے، اور اُس میں داخل ہونا ہے، اور اُس پر آرام کرنا ہے۔ ’’جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا‘‘ (یوحنا3:18). آپ کو یسوع پر یقین کرنا چاہیے، اور اُسی میں ہو جانا چاہیے!

یہ سادہ سی سوچ قدرتی انسان سے کبھی بھی گرفت میں نہیں آ سکی۔ وہ اِسے سمجھنے کے لیے کوشش کرے گا، لیکن ہر مرتبہ ناکام ہوتا ہے۔ صرف وہی جن کے نام کتابِ حیات میں ہیں یسوع خود کے پاس آنے کے قابل ہو جائیں گے۔ وہ صرف ’’اُس پر‘‘ یقین کریں گے۔ یسوع نے کہا، ’’میرے پاس کوئی نہیں آتا جب تک کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لائے اور میں اُسے آخری دِن پھر سے زندہ کردوں‘‘ (یوحنا 6:44).

یسوع انسان کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ یسوع نے اپنا خون بہایا تاکہ گناہ سے بھر پور انسان تمام بدکاری سے دھل کر صاف کیا جائے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ آپ اپنے خود غرضانہ طرزِ زندگی سے منہ موڑیں اور یسوع مسیح بخود کے پاس آئیں۔

کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے،
   اُس صفحے پر جو سفید اور منصفانہ ہے؟
تیری بادشاہت کی کتاب میں۔
   کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے؟

کسی نہ کسی دِن یہ ہی واحد بات ہوگی جو آپ کے لیے سب سے اہم ہوگی! کیا آپ کا نام کتابِ حیات میں ہے؟ یاد رکھیے،

’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا‘ اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

کیا آپ کا نام کتابِ حیات میں ہے؟ یہ ہے اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں! یسوع نے کہا،

’’جو کوئی میرے پاس آئے کا میں اُسے اپنے سے جُدا نہ ہونے دوں گا‘‘
      (یوحنا 6:37).

آج ہی صبح ایمان کےساتھ اُس کے پاس آئیں اور آپ تمام وقتوں کے لیے اور دائمی ابدیت کے لیے اپنے گناہوں سے بچائے جائیں گے! آمین اور آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan مکاشفہ 20:11۔15 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے
’’کیا میرا نام وہاں لکھا ہوا ہے؟‘‘ (شاعر میری اے. کیڈر Mary A. Kidder، 1820۔1905). >

لُبِ لُباب

عظیم سفید تخت کا فیصلہ

THE GREAT WHITE THRONE JUDGMENT

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور میں نے چھوٹے بڑے تمام مُردوں کو خُدا کے سامنے کھڑے دیکھا؛ تب کتابیں کھولی گئیں: اور ایک اور کتاب کھولی گئی تھی، جو کہ کتابِ حیات ہے: تمام مُردوں کا اِنصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا گیا جو اُن کی کتابوں میں درج تھے‘‘ (مکاشفہ 20:12).

’’ اور جس کسی کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا‘ اُسے بھی آگ کی جھیل میں ڈالا گیا‘‘ (مکاشفہ 20:15).

1 ۔ اوّل، غیرمحفوظ مُردوں کا انصاف اُن کے اعمال کے مطابق کیا جائے گا،
مکاشفہ 20:12۔13؛ امثال 29:1؛ واعظ 12:14؛
متی 12:36؛ لوقا 12:2؛ رومیوں 2:16؛ متی 11:21۔24؛
مکاشفہ 20:13، 15؛ دانی ایل 12:2؛ مکاشفہ 14:10۔11 .

2۔ دوئم، وہ جو کتابِ حیات میں پائے گئے اِس فیصلے سے بچائے جائیں گے،
مکاشفہ 20:15؛ دانی ایل 12:1؛ لوقا 10:20؛ فلپیوں 4:3؛
یوحنا 6:47؛ 3:17۔18؛ 6:44، 37 .