Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

آدمی جس نے لکڑیاں جمع کیں

THE MAN WHO GATHERED STICKS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
26 فروری، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 26, 2012

’’لیکن جو شخص جان بوجھ کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خُدا کی اہانت کرتا ہے؛ اور وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور اُس کی حکم عدولی کی، اِس لیے وہ شخص ضرور کاٹ ڈالا جائے گا؛ اُس کا جرم اُسی کے سر لگے گا‘‘ (گنتی 15:30۔31).

شریعت بالکل واضح تھی۔ وہ شخص جو جان بوجھ کر گناہ کرے اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ عبرانی زبان میں لفظ ’’presumptuously گستاخانہ‘‘ کا ترجمہ ’’باغیانہ طور پر‘‘ یا ’’زور و شور کے ساتھ،‘‘جیسے جان بوجھ کر، باغیانہ سرکشی۔‘‘ آیات 30 اور 31 واضح تھیں۔ وہ اسرائیلی جنہوں نے جان بوجھ کر، باغیانہ سرکشی کی، جنہوں نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی‘‘ – یقیناً کاٹ ڈالے جائیں گے (15:31).

اُس تنبیہہ کے فوراً بعد ایک آدمی باہر گیا اور ’’سبت کے دِن لکڑیاں جمع کیں‘‘ (گنتی 15:32). اُسے ایسا کرتے ہوئے پایا گیا۔ وہ اُسے ’’موسیٰ اور ہارون، اور ساری جماعت کے پاس لے گئے‘‘ (گنتی 15:33). اُنہوں نے اُسے حراست میں رکھا اور اِس دوران یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ پھر خُدا نے موسیٰ سے کہا، ’’یہ آدمی مار ڈالا جائے: ساری جماعت اُسے لشکر گاہ کے باہر سنگسار کرے‘‘ (گنتی 15:35). وہ اُسے لشکر گاہ سے باہر لے گئے اور اُسے سنگسار کیا، ’’اور وہ مر گیا، جیسا کہ خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا تھا‘‘ (گنتی 15:36).

بہت سال پہلے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اِس واقعے کے بارے میں شکایت کی۔ اُس کا خیال تھا کہ ایک آدمی کے لیے یہ سراسر ناانصافی تھی کہ سبت کے روز چند لکڑیاں اُٹھانے کے لیے موت کی سزا دی جائے۔ لیکن وہ غلط تھا۔ اُن اِسرائیلیوں کے لیے ایسا کرنا درست بات تھی، کیونکہ خُدا نے اُنہیں پرانی شریعت میں یہ کرنے کو کہا تھا۔ آدمی کا فیصلہ ہوا اور سزائے موت محض لکڑیاں جمع کرنے پر نہیں، بلکہ ’’زور وشور کے ساتھ،‘‘ گستاخانہ طور پر، جان بوجھ کر باغیانہ سرکشی کے ساتھ‘‘ خُدا کے خلاف گناہ کرنے پر ملی تھی۔

’’چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور اُس کی حکم عدولی کی، اِس لیے وہ شخص ضرور کاٹ ڈالا جائے گا؛ اُس کا جرم اُسی کے سر لگے گا‘‘ (گنتی 15: 31).

اُس نے سبت کی شریعت توڑی تھی۔ اُس نے خُدا کے کلام کی تحقیر کرتے ہوئے خُدا کی خلاف ورزی کی تھی۔ وہ یقیناً کاٹ ڈالا گیا تھا، اور وہ جہنم گیا تھا؛ اُس کا ’’جرم اُس کے سر لگے گا‘‘ تمام وقتوں کے لیے اور تمام ابدّیت کے لیے۔ ڈاکٹر جے. ورنن میکجی Dr. J. Vernon McGee نے کہا، ’’یہ ایک بات کو بالکل واضح کرتی ہے۔ موت کی سزا دس احکامات میں سے کسی کو بھی توڑنے کی سزا تھی‘‘ (جے. ورنن میکجی، ٹی ایچ.ڈی.، بائبل میں سے Thru the Bible، جلد اوّل، تھامس نیلسن اشاعت خانے Thomas Nelson Publishers، 1981، صفحہ 492؛ گنتی 15:32۔36 پر یاداشت).

’’چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور اُس کی حکم عدولی کی، اِس لیے وہ شخص ضرور کاٹ ڈالا جائے گا؛ اُس کا جرم اُسی کے سر لگے گا‘‘ (گنتی 15: 31).

میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس آدمی کے بارے میں جس نے پرانے عہد نامے میں سبت کے روز لکڑیاں اکٹھیں کی تھیں دو باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

1۔ سب سے پہلے، اُس نے جان بوجھ کر گناہ کیا حالانکہ وہ بہت سے نشانات اور معجزات دیکھ چکا تھا۔

’’اور خُدا نے موسیٰ سے کہا، یہ لوگ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اور باوجود اُن تمام معجزوں کے جو میں نے اُن کے درمیان کیے ہیں وہ کب تک مجھ پر ایمان نہ لائیں گے؟‘‘ (گنتی 14:11).

یہ آدمی دیکھ چکا تھا کہ خُدا نے مِصریوں پر دس آفتیں بھیجیں تھی۔ یہ آدمی خُدا کی قوت کے ذریعے سے مِصر میں غلامی سے نکالا جا چکا تھا۔ یہ آدمی موسیٰ کے ساتھ رہ چکا تھا جب فرعون کے لشکر نے اُن کا پیچھا کیا، اور خُدا نے بحرِ قلزم بیچ میں سے کھول دیا، اور وہ بیچ میں سے گزر کر محفوظ ہوئے۔ یہ آدمی دیکھ چکا تھا کہ فرعون کے لشکر کو غرق کرتے ہوئے، مصریوں پر سمندر بند ہوگیا۔ دوسرے اِسرائیلیوں کے ساتھ، اِس آدمی کی آواز نے بھی چِلّا چِلّا کر یہ گیت گایا تھا، ’’میں خُداوند کی ثنا گاؤں گا، کیونکہ وہ بہت ہی بلند و بالا ہے: اُس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں پھینک دیا‘‘ (خروج 15:1). اور پھر بھی اُس نے ’’خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور . . . اُس کے حکم کو [توڑا]‘‘ (گنتی 15:31).

یہ آدمی لوگوں کے ساتھ رہ چکا تھاجب خُدا اُنہیں دِن میں بادل کے ستون کے ساتھ، اور رات میں آگ کے ستون کے ساتھ بیابان میں سے رہنمائی کرتا ہوا لے گیا۔ یہ آدمی اُن کے ساتھ رہ چکا تھا جب خُدا نے موسیٰ کو کوہ سینا پر دس احکامات دیئے تھے۔ یہ آدمی وہاں رہ چکا تھا جب اُنہیں ہر صبح خُدا کی طرف سے بھیجا منّ کھلایا گیا تھا۔ یہ آدمی وہاں رہ چکا تھا جب لوگوں نے شکایت کی تھی، ’’اور خُداوند نے اُسے سُنا؛ اور اُس کا غضب بھڑک اُٹھا؛ تب خُداوند کی آگ اُن کے درمیان بھڑکی جس سے اُن کی لشکر گاہ کے چاروں طرف کے علاقے بھسم ہونے لگے‘‘ (گنتی 11:1). یہ آدمی وہاں رہ چکا تھاجب لوگوں نے منّ کے بارے میں شکایت کی، اور خُدا نے اُنہیں کھانے کے لیے بٹیروں کا گوشت دیا، جب تک کہ وہ اُن کے نتھنوں میں سے باہر نہ نکل آیا،

’’لیکن گوشت ابھی اُن کے دانتوں کے بیچ میں ہی تھا اور وہ اُسے ابھی نگل بھی نہ پائے تھے کہ خُداوند کا قہر اُن پر بھڑکا اور وہ ایک نہایت شدید وبّا کے باعث مار ڈالے گئے‘‘ (گنتی 11:33).

یہ آدمی سُن چکا تھا کہ خُدا نے موسیٰ سے کیا کہا تھا،

’’کیونکہ جس کسی نے میرا جلال دیکھا، اور معجزوں کو بھی دیکھا، جو میں نے مِصر میں اور اِس بیابان میں کیے، لیکن میرا حکم نہ مانا اور مجھے دس بار آزمایا، یقیناً وہ اُس ملک کو ہرگز نہ دیکھ پائیں گے جس کے دینے کا وعدہ میں نے قسم کھا کر اُن کے باپ دادا سے کیا تھا، نہ ہی اُن میں سے کوئی دیکھ پائے گا جس نے میری توہین کی‘‘ (گنتی 14:22۔23).

اور پھر بھی اِس آدمی نے چوتھے حکم کو توڑنے کی جرآت کی! اور پھر بھی اِس آدمی نے خُداوند کے کلام کی تحقیرکی اور اُس کا حکم توڑا! اِس آدمی نے جان بوجھ کر گناہ کیا تھا، حالانکہ وہ بے شمار نشانات اور معجزات دیکھ چکا تھا!

’’اور خُدا نے موسیٰ سے کہا، یہ لوگ کب تک میری توہین کرتے رہیں گے؟ اور باوجود اُن تمام معجزوں کے جو میں نے اُن کے درمیان کیے ہیں وہ کب تک مجھ پر ایمان نہ لائیں گے؟‘‘ (گنتی 14:11).

آج صبح آپ میں سے کچھ یہاں ایسے ہیں جو ہمارے درمیان خُدا کے عظیم کام ہوتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب ہم پر حملہ کیا گیا، کیسے خُدا نے ہمارے گرجہ گھر کو بچایا، اور ہمارے دشمنوں کو تِتر بِتر کر دیا۔ جب شیطان ایک دھاڑتے ہوئے شیر کی مانند ہمارے خلاف آتا ہے، آپ دیکھ چکے ہیں کہ خُدا ہمیں نجات دلاتا ہے۔ آپ خُدا کا انصاف اُن لوگوں کے خلاف جو ہمیں ایذا پہنچاتے ہیں سُن اور دیکھ چکے ہیں۔ جب خُدا نے ہماری دُعائیں قبول کیں اور ہماری جماعت کو برکات عطا فرمائیں تو تب بھی آپ موجود رہے ہیں۔

لیکن آپ بھی اِس آدمی سے جس نے کبھی سُنا تھا کئی درجے بہتر سُن چکے ہیں۔ جی ہاں، اُس نے خُدا کی شریعت سُنی تھی۔ اُس نے دس احکام سُنے تھے، اور اُن قوانین کے خلاف جانے پر اُس کا انصاف کیا گیا اور موت تک سنگسار کیا گیا تھا۔ آپ بھی وہ شریعت سُن چکے ہیں – اور آپ بھی اُسے توڑ چکے ہیں۔ لیکن اِس سے بھی زیادہ، آپ خوشخبری بھی سُن چکے ہیں، اور آپ اُس کی مزاحمت کر چکے ہیں۔ آپ یسوع کو کہتے ہوئے سُن چکے ہیں، ’’میرے پاس آؤ. . . اور میں تمہیں آرام دوں گا‘‘ (متی 11:28). لیکن آپ نے خُداوند کی کلام کی تحقیر کی‘‘ اُتنی ہی جتنی اُس آدمی نے کی تھی۔ آپ بغاوت کرچکے ہیں، آپ مسیح کی بُلاہٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔ آپ یسوع کے پاس آنے سے انکار کر چُکے ہیں، ’’تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو‘‘ (یوحنا 5:40). آپ کے لیے ماسوائے روزِ عدالت کے کچھ نہیں بچا ہے۔

2۔ دوسرے نمبر پر، سچائی پا چکُنے کے بعد اُس نے جان بوجھ کر گناہ کیا۔

وہ جانتا تھا کہ قدیم عہد کے تحت سبت کے روز لکڑیاں جمع کرنے سے اُس نے خُدا کی شریعت توڑی تھی جو کہ ایک گناہ تھا۔ اُس نے وہ گناہ انجانے میں بالکل نہیں کیا تھا۔ اُس نے جان بوجھ کر، زور و شور کے ساتھ، سوچی سمجھی بغاوت کے تحت گناہ کیا، ’’کیونکہ اُس. . . خُدا کے کلام کی تحقیر کی‘‘ (گنتی 15:31).

’’چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور اُس کی حکم عدولی کی، اِس لیے وہ شخص ضرور کاٹ ڈالا جائے گا؛ اُس کا جرم اُسی کے سر لگے گا‘‘ (گنتی 15: 31).

پولوس رسول نے سبت کے دِنوں کےبارے میں بتایا: جو آنے والی چیزوں کا [ایک قِسم کا] سایہ ہیں؛ مسیح تو خُود حقیقت [مادہ سے تعلق رکھتا] ہے‘‘ (کلسیوں 2:16۔17). لفظ ’’سبت‘‘ کا مطلب ’’آرام‘‘ ہے۔ پرانے عہد نامے کی سبت ایک ’’سایہ‘‘ تھی یا یسوع کی قِسم۔ پرانی شریعت میں اُنہیں ساتویں دِن آرام کرنے کا حکم ملا تھا۔ نئے عہد کے تحت، ہمیں مسیح میں آرام کرنے کا حکم ملا ہے۔ آج یسوع کہتا ہے، ’’میرے پاس آؤ. . . اور میں تمہیں آرام دوں گا۔‘‘ خود مسیح ہمارا سبت کا آرام ہے۔ اگر آپ خُدا کے خلاف ہیں، اور مسیح میں آرام کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو آپ کا فیصلہ تو اِس آدمی سے بھی کئی درجے سختی سے طے کیا جائے گا جس نے سبت کے روز لکڑیاں جمع کی تھیں! اُس نے پرانے عہدنامے کے سبت کے دِن کے بارے میں سچائی پائی تھی، لیکن اُس نے دانستہ اور اپنی مرضی سے سچائی کی نافرمانی کی تھی۔ اور نئے عہد نامے میں آپ کو یہ دھشت ناک تنبیہہ کی جاتی ہے،

’’اگر ہم حق کی پہچان حاصل کرنے کے بعد جان بوجھ کر گناہ کریں تو گناہوں کی کوئی اور قربانی باقی نہ رہی، ہاں! روزِ عدالت کا خوفناک انتظار اور اُس آگ کا غضب باقی ہے جو خُدا کے دشمنوں کو کھا لے گی۔ جب موسیٰ کی شریعت کی خلاف ورزی کرنے والا دو یا تین شخصوں کی گواہی سے بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ شخص کتنی بڑی سزا کے لائق ٹھہرے گا جس نے خُدا کے بیٹے کو پامال کیا، عہد کے خون کو جس سے وہ پاک ہوا تھا ناپاک [عام بات] جانا، اور فضل دینے والے پاک روح کی بے حرمتی کی؟‘‘ (عبرانیوں 10:26۔29).

وہ آدمی جس نے لکڑیاں جمع کیں تھی اُس نےاپنی مرضی سے گناہ کیا تھا۔ اُس نے موسیٰ کی شریعت کی تحقیر کی تھی اور بِنا رحم کے مر گیا۔ اگر آپ اپنی مرضی سے گناہ کرتے ہیں، آپ کے لیےسچائی سُن چکنےاور موصول کر چکے کے بعد تو کوئی اُمید باقی رہتی ہی نہیں – صرف، ’’روزِ عدالت کا خوفناک انتظار اور اُس آگ کا غضب باقی ہے‘‘ جہنم میں۔ اگر یہ آدمی، جس نے موسیٰ کی شریعت کی تحقیر کی، اُس کا انصاف ہوا اور سزائے موت دی گئ تھی – تو پھر آپ پر کس قدر بدترین سزا واجب ٹھہرے گی جس نے یسوع کے بارے میں بہت کم سوچا، اور یہ سوچا کہ اُس کا خون تو محض ایک عام چیز تھا؟ میں آپ کو بتا دوں کہ جو فیصلہ آپ کا انتظار کر رہا ہے وہ سنگسار کیے جانے سے بھی دس ہزار گُنا زیادہ بدترین ہے!

یسوع نے کہا، ’’میرے پاس آؤ. . . اور میں تمہیں آرام دوں گا۔‘‘ اگر آپ اُس کے پاس آنے سے انکار کرتے ہیں، تو خوفناک فیصلے آپ کا انتظار کر رہے ہیں! یسوع نے کہا، ’’اگر تمہیں یقین نہیں آتا کہ میں وہی ہوں تو تم ضرور اپنے گناہوں میں مرو گے‘‘ (یوحنا 8:24). اگر آپ پورے طور پر یسوع کے پاس آنے پر یقین نہیں کرتے ہیں، تو آپ بھی اپنے گناہوں میں مرجائیں گے، جیسے کہ وہ آدمی اپنے گناہوں میں مرا تھا جس نے لکڑیاں جمع کیں تھی! بائبل کہتی ہے، ’’اتنی بڑی نجات سے غافل رہ کر ہم کیسے بچ سکیں گے؟‘‘ (عبرانیوں 2:3).

یہاں کوئی غلطی مت کیجیے! جب اُنہوں نے اُسے سنگسار کرکے مارا، تو وہ تو انصاف کا صرف آغاز تھا۔ وہ تو صرف موت کا دروازہ تھا، جو اُس کے لیے کھلا تھا جب وہ جہنم کے شعلوں میں گرا تھا۔ اُس کی جان کی بغاوت، اور اُس کے دِل کی بے اعتقادی، اُس وقت ظاہر ہو گئی تھی جب وہ خاموشی سے لکڑی کے چند ٹکرے اکٹھے کرنے باہر گیا۔ ’’آخاہ!‘‘ آپ کہتے ہیں، ’’یہ تو صرف چھوٹی سی بات تھی جو اُس نے کی۔‘‘ شاید یہ ایسا لگتا ہو، لیکن یہ اُس کی خُدا کی بہت بڑی تردید کو ظاہر کرتی ہے، اُس کے بے اعتقادی کے مکار دِل کی بغاوت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ شروع سے ہی ایک بے اعتقادہ رہ چکا تھا۔ لیکن اب وہ اپنی بے اعتقادی کو چھپا نہیں سکے گا۔ بغاوت کا وہ ایک عمل، جب اُس نے وہ لکڑیاں اکٹھی کیں، تو اُس نے لشکر میں ہر کسی کو دکھایا، اور خُدا کو دکھایا اور فرشتوں کو، کہ یہ آدمی اور کچھ نہیں ماسوائے ایک بےاعتقادے گنہگار کے۔ اور اب، جب اُنہوں نے خُدا کے حکم سے اُسے موت تک سنگسار کیا، تو اُس کی جان جہنم کے جلتے ہوئے کھڈوں میں ڈوب گئی!

آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
   یہ سوال آپ کے اور میرے لیے اُٹھتا ہے؛
آپ کا حتمی جواب کیا ہوگا،
   آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
دائمی زندگی، دائمی زندگی،
   آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
(’’آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟ Where Will You Spend Eternity? ‘‘ شاعر علیشا اے. ہوفّمین
Elisha A. Hoffman،1839۔1929؛ پادری نے ترمیم کی).

یہ آپ پر لاگو کیسے ہوتا ہے؟ یاد رکھیے کہ ’’یہ باتیں اُنہیں اِس لیے پیش آئیں کہ وہ عبرت حاصل کریں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصحیت کے لیے لکھی گئیں. . . ‘‘ (1۔ کرنتھیوں 10:11). اُس آدمی کو جس نے لکڑیاں جمع کیں خُدا کے حکم سے موت کی سزا ملی تھی۔ اُس کے ساتھ یہ آپ کو خبردار کرنے کےلیے ہوا۔ اُس کی کہانی آپ کی عبرت کے لیے لکھی گئی – آپ کے لیے ایک تنبیہہ کے طور پر!

اگر اُس کا انصاف کیا گیا اور اُس کی بے اعتقادی اور بغاوت کے لیے اُس واجب الاسزا ٹھہرایا گیا، تو آپ کے ساتھ کیا ہوگا اگر آپ خُداوند یسوع مسیح کو مسترد کرنا اور اُس سے بغاوت کرنا جاری رکھیں گے؟ آپ کے ساتھ کیا ہوگا اگر آپ اُس کے پاس آنے کے لیے مسیح پر کافی یقین رکھنے سے انکار کریں؟ میں آپ کو بتاؤں گا آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔ اچانک، کسی ایک مقررہ دِن جس کا خُدا نے منصوبہ بنایا ہوا ہے، آپ کے پاس وقت ختم ہو جائے گا۔ اور اُس دِن میں، وقت کے ایک لمحے میں، خُدا کا انصاف آپ پر کر دیا جائے گا۔ آپ کی جان آپ کے جسم سے نوچ لی جائے گی اور انجانے اندھیروں میں پھینک دی جائے گی۔ وہاں آپ کو ناقابلِ تصور طریقوں سے اذیت دی جائے گی۔ وہ بدروحیں جن کی جہنم پر پہرےداری ہے آپ کو طنز کریں گی، اور اذیت دیں گی، اور دِن اور رات آپ کو ہراساں کریں گی اور آپ پر دھونس جمائیں گی۔ آپ کا ضمیر آپ ہی کو کسی جناتی کیڑے کی مانند کُترے گا، بل کھاتے ہوئے لہرائے گا اور آپ ہی کو کھائے گا، اور آپ چِلّا چِلّا کر پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور کبھی نہ ختم ہونے والی دردناک تکلیف اور مایوسی سے اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔ وہ شعلے جن پر لوگ یہاں ہنستے ہیں، پھر اُنہی کو اذیت پہنچائیں گے، اور وہ ہمیشہ کے لیے جلتے رہیں گے۔ وہ شعلے آپ کو بھی اذیت پہنچائیں گے، ’’جن کے لیے تاریکی کا مقام دائمی طور پر مقرر کر دیا گیا ہے‘‘ (یہودہ 13). اب ہنسیں، اگر آپ ہنس سکیں۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ پھر ہنس نہیں سکیں گے! بہت غوروخوص سے سُنیں ایک نامعلوم حمدوثنا کے گیت کو جو کہ ڈاکٹر عاشیل نیٹیلٹن Dr. Asahel Nettleton کے کتابچے میں سے لیا گیا ہے اور جس کا عنوان محض ’’جہنم‘‘ ہے اور جسے مسٹر گریفتھ نے اِس واعظ کے شروع ہونے سے پہلے گایا تھا۔

دِن کے دور ترین کناروں سے بھی دور
   وہ تاریک علاقے شروع ہوتے ہیں،
جہاں اندھیروں کی وسعتوں کے درمیان شعلے ہیں
   کیڑا کبھی بھی نہیں مرے گا۔

خُدا کی سانس، اُس کی غضیلی سانس
   آگ کو ایندھن مہیا کرتی ہے اور ہوا دیتی ہے؛
وہاں پر گنہگار دوسری مرتبہ موت کا مزا چکھتے ہیں،
   اور ہو ئے گا لیکن وہ مر بھی نہیں سکتے۔

ضمیر، جو کبھی نہ مرنے والا کیڑا ہے،
   جو عذاب کے ساتھ دِل چباتا ہے؛
اور ہر طرح کی دشمنی اور غصہ،
   اب گنہگار کے حصے میں ہے۔

بِلا شبہ غمگین جہاں! ہائے، کون برداشت کر سکے گا
   ہمیشہ کے لیے وہاں بسنا –
ہمیشہ کے لیے مایوسی میں ڈُوبتے رہنا
   جہنم کی تمام دردناکیوں میں!
(’’جہنم،‘‘ نامعلوم؛ ڈاکٹر عاشیل نیٹیلٹن Dr. Asahel Nettleton کے گاؤں کے حمدوثنا
Village Hymnsکے گیتوں میں سے 28 ویں نمبر پر،
      بینُ الاقوامی International Outreach، پی. او. بکس نمبر 1286، ایمس، آئیوا Ames, Iowa، 50014).

میں آج صبح آپ سے التجا کرتا ہوں، یسوع کے پاس اُڑ کر آئیں! اِس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے اُس کے قیمتی خون سے اپنے گناہوں کو دھو لیں!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan گنتی15:29۔36.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے ’’جہنم‘‘ (نامعلوم).

لُبِ لُباب

آدمی جس نے لکڑیاں جمع کیں

THE MAN WHO GATHERED STICKS

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’لیکن جو شخص جان بوجھ کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خُدا کی اہانت کرتا ہے؛ اور وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا۔ چونکہ اُس نے خُداوند کے کلام کی تحقیر کی، اور اُس کی حکم عدولی کی، اِس لیے وہ شخص ضرور کاٹ ڈالا جائے گا؛ اُس کا جرم اُسی کے سر لگے گا‘‘ (گنتی 15:30۔31).

(گنتی 15:32، 33، 35، 36)

1۔ سب سے پہلے، اُس نے جان بوجھ کر گناہ کیا حالانکہ وہ بہت سے نشانات اور
معجزات دیکھ چکا تھا، گنتی 14:11؛ خروج 15:1؛ گنتی 11:1، 33؛
گنتی 14:22۔23، 11؛ متی 11:28؛ یوحنا 5:40 .

2۔ دوسرے نمبر پر، سچائی پا چکُنے کے بعد اُس نے جان بوجھ کر گنا کیا،
کُلسیّوں 2:16۔17؛ عبرانیوں 10:26۔29؛ یوحنا 8:24؛
عبرانیوں 2:3؛ 1۔کرنتھیوں 10:11