Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہوسکے

THEY COULD NOT ENTER IN BECAUSE OF UNBELIEF

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
19 فروری، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 19, 2012

’’ اور جن کے بارے میں خدا نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اُس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گے جہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ دیا تھا، کیا وہ نہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی؟ پس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عِبرانیوں 3:18۔19).

اِسرائیلی وعدے کی سرزمین کنعان میں جانے کے لیے مصر سے باہر بلائے جا چکے تھے۔ مصر گناہ کی ایک قسم یا مثال تھا۔ کعنان جنت کی ایک قسم تھا۔ ڈاکٹر جان گِل (1697۔1771) نے کہا کہ کنعان ’’ایک قسم کی جنت تھا، جس میں محنت اور مزدوری نہیں تھی، جو خُدا کے لوگوں کے لیے تھا؛ اور جس میں کہا جاتا ہے کہ یہ نسل نہیں داخل ہوئی‘‘ (ڈاکٹر جان گِل، ڈی.ڈی.، نئے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the New Testament، جلد سوئم، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت 1989، صفحہ 391؛ عبرانیوں 3:11 پر رائے( .

’’چنانچہ میں نے اپنے غضب میں قسم کھائی، کہ یہ اس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گےجہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ کیا تھا‘‘ (عِبرانیوں 3:11).

میتھیو پولی Mathew Poole (1624۔1679) نے اِس آیت کے بارے میں کہا، ’’وہ میرے آرام گاہ میں کبھی داخل ہونے نہ پائیں گے۔ اگر وہ داخل ہوئے، تو پھر میں نہ تو سچااور نہ خُدا ہوں۔ آرام گاہ واقعی کعنان کی سرزمین تھی، اِستثنا 12:9 ؛ اِس قسم کی سچائی میں، جنت . . . یہ کُل امن میں سے اُنہیں باہر نکال پھینکنا ہے، اِس آرام گاہ کے برعکس، دائمی غم میں، ذہنی اذیت میں، اور مصائب میں، اور ہر دوسری برائی میں (میتھیو پولی، تمام بائبل پر تبصرہ A Commentary on the Whole Bible، جلد سوئم، دی بینر آف تُرتھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، دوبارہ اشاعت 1990، صفحہ 821؛ عبرانیوں 3:11 پر رائے( .

یہی وہ مطلب تھا جب خُدا نے کہا، ’’میں نے اپنے غضب میں قسم کھائی، کہ یہ اِس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گے جہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ کیا تھا‘‘ (عبرانیوں 3:11). قدیم ربّیوں نے کہا، ’’بیابان کی نسل کا آنے والی دُنیا میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

کیوں وہ جو کہ بیابان میں بھٹک رہے تھے وعدے کی سرزمین میں جانے سے روکے گئے تھے؟ ہماری تلاوت کہتی ہے، ’’وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عبرانیوں 3:19). اِس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے، سپرجئین نے کہا، ’’کنعان ایک قِسم ہے ہمارے لیے فضل کے عہد کی خُدائی اور عظیم چیزوں کی جو ایمانداروں کی ملکیت ہے؛ لیکن اگر ہمارا کوئی ایمان نہیں ہے، تو ہم ایک عہد کی برکات بھی نہیں پا سکتے. . . ایمان نہ رکھنے والوں کو آتشیں جھیل میں اپنا حصہ ضرور ملتا ہے۔ اوہ، وہ خُدا اُنہیں ایمان نہ رکھنے کے خوفناک گناہ سے بچائے!‘‘ (سی. ایچ. سپرجئین، بے اعتقادی کے خؒلاف ایک پُرخلوص تنبیہہ،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے The Metropolitan Tabernacle Pulpit، چھپن ویں 56 جلد، پِلگرم اشاعت خانہ، دوبارہ اشاعت 1979، صفحہ 470؛ عبرانیوں 3:18۔19 پر رائے( .

’’اور جن کے بارے میں خدا نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اُس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گے جہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ دیا تھا، کیا وہ نہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی؟ پس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عِبرانیوں 3:18۔19).

آپ کا کیوں تعلق ہونا چاہیے یہ جاننے کے بارے میں کہ اُن ایمان نہ رکھنے والے اِسرائیلیوں کے ساتھ بیابان میں صدیوں پہلے کیا ہوا تھا؟ کیونکہ،

’’یہ باتیں اُنہیں اِس لیے پیش آئیں کہ وہ عبرت حاصل کریں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصحیت کے لیے لکھی گئیں. . . ‘‘ (1۔ کرنتھیوں 10:11).

ایمان نہ رکھنے والے اسرائیل کا بیابان میں مرتے رہنے کا واقعہ، کعنان کی آرام گاہ میں داخل نہ ہو سکنا، ہمیں ایک مثال کے طور پر دیا گیا ہے۔ اگر آپ نجات پانا اور جنت میں داخل ہونے کی اُمید کرتے ہیں، تو آپ ایسا نہیں کر پائیں گے اگر آپ یسوع میں ایمان رکھنے میں ناکام رہیں گے۔ جب تک کہ آپ یسوع کے پاس ایمان کے ساتھ نہیں آتے، آپ کے بارے میں یہ کہا جاتا رہے گا، ’’ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عبرانیوں 3:19).

آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
   یہ سوال آپ کے اور میرے لیے اُٹھتا ہے؛
آپ کا حتمی جواب کیا ہوگا،
   آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
دائمی زندگی، دائمی زندگی،
   آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟
(’’آپ دائمی زندگی کہاں گزاریں گے؟ Where Will You Spend Eternity? ‘‘ شاعر علیشا
   اے. ہوفّمین Elisha A. Hoffman،1839۔1929؛ پادری نے ترمیم کی).

’’میں دائمی زندگی کہاں گزاروں گا؟‘‘ اِسے گائیے!

دائمی زندگی، دائمی زندگی،
   میں دائمی زندگی کہاں گزاروں گا؟

’’ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عبرانیوں 3:19).

اِسرائیلی کعنان میں داخل نہ ہو سکے تھے۔ یہ اُن لوگوں کی عکاسی کرتا ہے جو ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے مسیح میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اِسی طرح سے اِسرائیلیوں کے ایمان نہ رکھنے نے اُنہیں کعنان کی سرزمین میں آرام و سکون میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ ہمیں اُن ایمان نہ رکھنے والے اِسرائیلیوں سے تین سبق حاصل ہوتے ہیں جو کہ آپ پر لاگو ہوتے ہیں اگر آپ بچائے نہیں گئے ہیں – اگر آپ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے مسیح میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

1۔ اوّل، اُنہوں نے عظیم برکات کا تجربہ کیا، لیکن وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔

اُنہوں نے خُداوند کو عظیم کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ لوگ مصر میں ہی تھے جب خُداوند نے فرعون کے ساتھ انصاف کیا۔ اُنہوں نے پانیوں کو خُون میں بدلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُنہوں نے مصریوں کے مویشیوں کو طاعون کی وبا میں مبتلا دیکھا تھا، اور بڑے بڑے اولے پڑتے دیکھےتھے جنہوں نے کھڑی فصلوں کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ وہ نور میں رہ چکے تھے جب مصری ایسے اندھیرے میں تھے جسے محسوس کیا جا سکتا تھا۔ وہ ٹڈیوں اور جوؤں کی وبائیں دیکھ چکے تھے، اور فرعون اور اُس کے لوگوں پر آنے والی خُدا کی طرف سے بھیجی ہوئی دوسری آفتیں۔ وہ تمام فسح کا برّہ کھا چکے تھے اور اپنے دروازوں کی چوکھٹوں پر خُون لگا چُکے تھے – اور اُس رات کو بخشے جا چکے تھے جب خُدا نے ہر مصری کے گھر میں پہلوٹے کو مار دیا تھا۔ وہ مصر سے باہر جا چکے تھے، اُس سرزمین سے جہاں وہ غلام تھے، خُدا کے ہاتھ کے ذریعے سے آزادی کی طرف لائے گئے تھے۔ اور یہی لوگ موسیٰ کے ساتھ تھے جب فرعون نے اُن کا پیچھا کیا اور خُدا نے بحرِ قلزم کو چیر دیا، اور وہ اُس میں سے باحفاظت گزر گئے۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ وہ سمندر فرعون کے لشکر کو غرق کرتے ہوئے مصریوں پر بند ہو گیا۔ اُن کی آوازوں نے چِلّا کر گایا، ’’میں خُداوند کی ثنا گاؤں گا، کیونکہ وہ بہت ہی بلند و بالا ہے: اُس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں پھینک دیا‘‘ (خروج 15:1). اور اِس کے باوجود، ’’وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہوسکے۔‘‘

آج صبح یہاں آپ میں سے کچھ ہیں جو خُدا کی عطا کی ہوئی عظیم برکات دیکھ چکے ہیں! کیا آپ جانتے ہیں کہ خُدا نے ہمارے گرجہ گھر کو کیسے بچایا تھا جب ہم پر حملہ کیا گیا۔ جب شیطان ہمارے خلاف دھاڑا، تو آپ نے دیکھ لیا خُدا نے ہمیں خطرے سے بچالیا تھا۔ آپ بہت سے لوگوں کو خطرے سے بچتا اور خُدا کے بیٹے کے خون سے بچتے ہوئے دیکھ چُکے ہیں۔ جب خُدا نے ہماری دعاؤں کا جواب دیا اور ہماری جماعت کو برکت دی تو آپ موجود رہے ہیں۔ آپ کی آنکھیں یہ باتیں دیکھ چکی ہیں اور آپ ہمارے گرجہ گھر کے بوڑھے ممبران سے خُدا کی حیران کُن برکات کی باتیں سن چُکے ہیں۔ اور اِس کے باوجود آپ خود بھی ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے داخل نہیں ہو سکتے! خُدا کے انصاف کا تقاضا ہے کہ آپ کا فیصلہ ہو، جیسے اِسرائیلیوں کا ہوا، کیونکہ آپ ایسی برکات دیکھ چکے ہیں اور پھر بھی، آپ خود اایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے وہاں داخل نہیں ہو سکتے!

دوبارہ، اِنہی اِسرائیلیوں پر عظیم باتیں آشکارہ کی گئیں۔ خُدا کبھی دوسرے لوگوں سے ایسے نہیں بولا جیسے وہ اُن سے بولا تھا۔ خُدا نے اُنہیں خُود اپنی اُنگلی کے ساتھ لکھے دس احکامات دیے۔ وہ اُن کی عبادت گاہ میں مقدس جگہ پر قیام پزیر ہوا۔ آنے والے مسیح کے خُونی کفارے کے بارے میں روزانہ کی قربانیاں اُنہیں بتائیں گئی۔ کوئی اور لوگوں کو خُدا کا ایسا اِلہام نہیں ملا۔ اور پھر بھی اُنہوں نے سننے سے انکار کیا، اور اُنہوں نے فرمانبرداری کے لیے انکار کیا۔ اور تب اُنہوں نے یقین نہیں کیا۔ ’’لہٰذا ہم دیکھتے ہیں وہ اپنے ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عبرانیوں 3:19).

آپ کو بھی ایک واضح اِلہام موصول ہوا ہے۔ اصل میں آپ نے خوشخبری کو اُن کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے سُنا ہے۔ آپ کے پاس نیا عہد نامہ ہے، جو کہ اُن کے پاس تھا اُس سے کئی گُنّا زیادہ اِلہامی باتیں آشکارہ کرتا ہے۔ کیا یہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا جیسے اُن کے ساتھ ہوا تھا؟ اُن کی لاشیں بیابان میں سڑ گئیں تھی۔ ’’وہ اپنے ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ کیا وہ آپ کے لیے بھی ایسے ہی سچ ثابت ہوگا؟

یہ بھی یاد رکھیے کہ خُدا نے اُن کی طرف انتہائی صبر کا اظہارکیا تھا، ’’وہاں تمہارے باپ دادا نے مجھے آزمایا اور میرا امتحان لینا چاہا حالانکہ چالیس برس تک وہ میرے کام دیکھتے رہے‘‘ (عبرانیوں 3:9). کس قدر پریشان کُن طویل صبر خُدا نے چالیس برس تک اُن کے لیے دیکھایا! خُدا نے اُن کے لیے کس قدر نرمی اور صبر کا اظہار کیا! اُس نے اُنہیں کفارہ ادا کرنے کے لیے چالیس لمبی دہائیاں دی! لیکن پھر بھی وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے!

کیا ایسا ہی آپ کے ساتھ تو نہیں ہوگا جنہوں نے مہینوں خوشخبری کو اُس [خُدا] کی آرام گاہ میں بغیر مسیح میں داخل ہوئے سُنا؟ آپ کے ساتھ کیا ہوگا جب خُداوند کا صبر حد سے گزر جائے گا؟ بائبل میں اِس بارے میں واضح طور پر خبردار کیا ہے۔ خُداوند کہتا ہے، ’’میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی‘‘ (پیدائش 6:3). مجھے ڈر ہے کہ بہت جلد آپ کے بارے میں کہا جا رہا ہوگا، ’’وہ ایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہوسکے۔‘‘ جی ہاں اِسرئیلیوں کو عظیم برکات حاصل تھیں، لیکن وہ ایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے داخل نہ ہو سکے۔ کیا آپ کے لیے بھی ایسا ہی سچ ہوگا؟

2۔ دوئم، ایمان نہ رکھ سکنا واحد بات تھی جس نے اُنہیں باہر رکھا۔

’’وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ وہ اُن کے گنا نہیں تھے جنہوں نے اُنہیں باہر رکھا۔ خُدا اُن کا ایمان نہ رکھ سکنے کے علاوہ ہر گناہ معاف کرنے کے لیے تیار تھا۔ یسوع نے کہا، ’’آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر معاف کیا جائے گا لیکن جو کفر پاک روح کے خلاف ہو گا وہ نہیں معاف کیا جائے گا‘‘ (متی 12:31). یہ اُن کے گناہ اور کفر نہیں تھے جنہوں نے اُنہیں مسیح کے قرار میں نہیں آنے دیا۔ یہ اُن کے پاک روح کے خلاف گناہ تھے، اُن کے دِلوں میں اُس کے کام کی تردید تھی، جس نے اُنہیں ایمان بچائے رکھنے سے روکے رکھا، ’’اِس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ گناہِ عظیم کسی کو جنت میں جانے سے نہیں روکے گا۔ صرف ایمان نہ رکھنا ہی آپ کو ’’اُس کے قرار‘‘ میں داخل ہونے سے روکے گا۔

دوبارہ، یہ مشکلات نہیں تھیں جنہوں نے اُنہیں باہر رکھے رکھا۔ جب وہ کنعان پہنچے تو وہاں شہروں کی فصّیلیں اور جمِ غفیر اُن کو روکنے کے لیے تھے۔ جی ہاں، لیکن وہ چیزیں خُدا کو اُنہیں وعدے کی سرزمین میں لانے سے نہیں روک سکتی تھیں۔ خُدا یریحو شہر کی دیواریں زمین بوس کردیتا۔ خُدا اُن کے آگے آگے بھی بِھڑیں بھیجتا جو جم غفیر کو وہاں سے بھگا دیتیں۔ اُنہیں صرف یہ کرنا تھا کہ اندر جانا تھا اور زمین پر قبضہ کرنا تھا۔ پھر بھی، ’’وہ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے وہاں اندر نہ داخل ہو سکے۔‘‘ یہ واحد ایمان نہ رکھنا تھا جس نے اُنہیں قرار میں داخل ہونے نہیں دیا تھا!

صرف یقین کرو اور تم مسیح میں قرار پاؤ گے! یسوع پر بھروسہ رکھو ار تمام ناممکنات غائب ہوجائیں گی، اور تمام مشکلات دور ہو جائیں گی۔ ماسوائے آپ کے ایمان نہ رکھنے کے کوئی چیز آپ کو نہیں روکتی۔ اور اگر آپ یسوع کے پاس نہیں آتے اور اُس میں یقین نہیں رکھتے تو آپ کبھی بھی اُس کے قرار میں داخل نہیں ہو سکتے! یسوع نے کہا، ’’اگر تمہیں یقین نہیں آتا کہ میں وہی ہوں، تو تم ضرور اپنے گناہوں میں مرو گے‘‘ (یوحنا 16:9). اگر آپ کا یسوع پر یقین نہیں ہے، تو آپ غیر محفوظ ہیں! آپ کے بارےمیں یہ کہا جائے گا، ’’وہ اپنے ایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہوسکے۔‘‘ سپرجئین نے کہا، ’’وہ آنیک کے بیٹے نہیں تھے جنہوں نے اُنہیں باہر رکھے رکھا؛ وہ خالی چیختا ہوا بیابان نہیں تھا؛ وہ اور کچھ نہیں تھا ماسوائے اُن کے ایمان نہ رکھنے کے‘‘ (ibid.، صفحہ 480).

3۔ سوئمِ، وہاں کچھ ایسے تھے جنہوں نے یقین کیا، اور ضرور داخل ہوئے۔

لیکن، اُن میں سے وہ جنہوں نے کنعان کے لیے مصر چھوڑا تھا، وہ کم تھے۔ وہ بلا شبہ کم تھے! یشوع اور کالب واحد دو اصلی زائر تھے جو اندر داخل ہوئے تھے، حالانکہ موسیٰ تبدیلی کے پہاڑ پر بعد میں داخل ہوا تھا۔ خُدا نے کہا،

’’اُس بدکار نسل کیاایک شخص بھی اُس اچھے ملک کو دیکھ نہ پائے گا، جسے تمہارے باپ دادا کو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی، سوا یفنہ کے بیٹے کالب کے؛ وہ اُسے دیکھے گا، اور . . . نون کا بیٹا یشوع، تیرا معاون، وہ اُس میں داخل ہوگا. . . ‘‘ (اشتثنا 1:35، 36، 38).

جنہوں نے مصر چھوڑا تھا اُن ہزاروں میں سے صرف دو تھے جوکنعان کی وعدے کی سرزمین میں داخل ہوئے! یہ ظاہرکیا کرتا ہے؟ یہ کیوں ظاہر کرتا ہے کہ ’’بہت سے بُلائے جاتے ہیں، لیکن چند ہی چُنے جاتے ہیں‘‘ (متی 22:14؛ حوالہ دیکھیے 20:16). یہ ظاہر کرتا ہے کہ کتنا ’’تنگ ہے وہ دروازہ جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے، اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:14). یہ ہمیشہ سے ہی چند رہے ہیں۔ نوح کے زمانے میں بھی صرف ’’آٹھ جانیں بچائی گئیں تھی‘‘ (1۔پطرس 3:20). علیاہ کے دور میں خُدا نے کہا، ’’میں اپنے لیے اسرائیل میں سے سات ہزار نر رکھ چھوڑوں گا‘‘ اُن لاتعداد ہزاروں میں سے جو وہاں تھے (1۔ سلاطین 19:18؛ رومیوں 11:14). اور یسوع نے کہا، ’’اَے چھوٹے گلے! ڈر مت!‘‘ (لوقا 12:32). پس ہمیں یہ جان کر حیران نہیں ہونا چاہیے، اُن ہزاروں میں سے جنہوں نے مصر کو چھوڑا، صرف کالب اور یشوع وعدے کی سرزمین میں داخل ہوئے۔ ’’تنگ ہے وہ دروازہ جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے، اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:14).

کیا آپ اُن چند میں سے ایک ہونگے جو بچائے گئے ہیں؟ یہ فرض مت کریں کہ آپ ہونگے! تقریباً 54 سالوں کی منادی میں، میں ہزاروں لاکھوں کو جانتا ہوں جنہوں نے فرض کیا وہ بچائے جائیں گے۔ پھر بھی اُن میں سے زیادہ تر ’’ایمان نہ رکھ سکنے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ اُن میں سے کچھ کی لاشیں پہلے سے ہی بیابان میں سڑ رہی ہیں!

کالب اور یشوع ’’اُس کے قرار میں داخل‘‘ نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ اُن سے بہتر تھے جو بیابان میں مر گئے تھے۔ اوہ، نہیں! وہ داخل ہوئے کیونکہ اُن کا ایمان تھا، جو کہ ’’خُدا کا تحفہ‘‘ ہے: اعمال کے پھل کی وجہ سے نہیں، کہ کوئی فخر کر سکے‘‘ (افسیوں 2:8۔9). کالب اور یشوع اندر داخل ہوئے کیونکہ اُنہوں نے یقین کیا۔ باقی تمام اِس لیے نہ اندر آسکے، کیونکہ خُدا نے کہا، ’’تم نے خُداوند اپنے خُدا کا یقین نہ کیا‘‘ (استثنا 1:32).

’’اور جن کے بارے میں خدا نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اُس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گے جہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ دیا تھا، کیا وہ نہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی؟ پس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عِبرانیوں 3:18۔19).

ایک بار پھر کالب کا سوچیے جو، یشوع کے ساتھ، دو میں سے ایک تھا جو داخل ہوا۔ کالب تھا ’’بھائیوں‘‘ اُن میں سے جنہوں نے یقین نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا، ہم کعنان کے ’’اُن لوگوں پر حملہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے (گنتی 13:31). لیکن کالب نے اُن کے ایمان نہ رکھنے کی تقلید نہیں کی تھی۔ بعد میں کالب نے کہا،

’’جو بھائی میرے ہمراہ [کعنان کو] گئے تھے اُنہوں نے لوگوں کے دِلوں کو دھشت سے بھر دیا: البتہ میں نے خُداوند اپنے خُدا کی پوری پیروی کی‘‘ (یشوع 14:8).

کالب نے اپنے بھائیوں کو اُسے داخل ہونے سے نہیں روکنے دیا! آپ کے لیے کیسا سبق ہے! ایمان نہ لانے والے والدین یا رشتہ داروں کو اپنے آپ کو اندر داخل ہونے سے مت روکنے دیں! اُنہیں مت ایسا کرنے دیں کہ وہ آپ کے دِل کو خوف اور شکوک کے ساتھ ’’پگھلائیں‘‘! یسوع نے کہا، ’’جو کوئی اپنے باپ یا اپنی ماں کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ میرے لائق نہیں: اور جو کوئی اپنے بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہے میرے لائق نہیں‘‘ (متی 10:37). اور ایمان نہ لانے والوں کو جو گرجہ گھر آتے ہیں تمہیں اندر داخل ہونے سے روکنے کی اجازت مت دو!

یشوع، کالب کے ساتھ، جو اندر داخل ہوئے دوسرا تھا۔ ابھی جبکہ وہ بہت نوجوان تھااُس نے موسیٰ کے ساتھ تنظیم [منادی]کی۔ جب دوسرے اسرائیلیوں نے سونے کا بچھڑا بنایا اور اُس کے اردگرد ناچ کیا، یشوع نے اُن کے گناہ کی خبر موسیٰ کو دی تھی (خروج 32:17). جب دوسرے اپنے خیموں میں پرستش کرتے، یہ نوجوان ’’عبادت گاہ سے باہر نہ نکلتا‘‘ (خروج 33:11). وہ تنہا خُدا کے ساتھ وہاں ٹھہرا رہتا۔ غور کیجیے کہ یشوع موسیٰ کے ساتھ لوگوں کے گناہوں کے خلاف کھڑا رہا تھا۔غور کیجیے کہ یشوع عبادت گاہ میں خُدا کے نزدیک رہا تھا۔ اِس قسم کے نوجوان شخص ہوتے ہیں جن کا ایمان ہو گا ’’اُس کے قرار میں داخل ہونے‘‘ کے لیے (عبرانیوں 3:18). وہ نوجوان لوگ جوگرجہ گھر کے بڑوں کے ساتھ مل کر جنسی لذت والے ’’گرجہ گھر کے پلے بچوں‘‘ کے خلاف ہوں اندر داخل ہونگے۔ وہ جو خُدا کی تلاش کرتے ہیں جب وہ تنہا ہوتے ہیں وہ اندر داخل ہونگے۔ لیکن جنسی لذت والے، لاپرواہ نوجوان لوگ اندر نہیں داخل ہونگے! ’’اِس لیے ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ ہر اُس نوجوان مرد اور عورت کو ، جو کالب اور یشوع کے ساتھ ’’اندر داخل‘‘ ہونا چاہتے ہیں اپنے دِلوں میں یہ کہنے دو،

بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا،
   بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا۔
بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا،
   واپسی نہیں ہوگی، واپسی نہیں ہوگی!

یہ گیت ہندوستان کے اُس نوجوان انسان کے نام منسوب ہے جو مسیحی ہوا تھا۔ اِس کی تال ہندوستان کی ایک دُھن سے ہے (ذریعہ: جان آر. رائیس، ڈی.ڈی.، John R. Rice, D.Dروح کو جھنجھوڑ دینے والے حمد وثنا کے گانے اور گیت Soul-Stirring Songs and Hymns ، خُداوند کی تلوار کے اشاعت خانے Sword of the Lord Publishers ، 1972، نمبر 316). اِس کی شاعری کی بنیاد شمال مشرقی ہندوستان کے ایک مرتے ہوئے انسان کے آخری الفاظ پر مشتمل ہے، جو کہ اپنے خاندان کے ساتھ انیسویں صدی کے وسط میں ایک انگریز Welsh مشنری کی کوششوں کے ذریعے سے مسیحیت میں تبدیل ہوا تھا۔ جب گاؤں کے مُکھیا نے اُسے [ایمان چھوڑنے کے لیے] بُلایا تھا، اِس تبدیل ہونے والے انسان نے اعلانیہ کہا، ’میں نے یسوع کی پیروی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘ اپنے خاندان پر دھمکیوں کے جواب میں، وہ جاری رہا ’بے شک میرے ساتھ کوئی بھی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا۔‘ اُس کی بیوی مار دی گئی، اور گیت گاتے ہوئے اُسے قتل کر دیا گیا، ’صلیب میرے سامنے ہے، دُنیا میرے پیچھے ہے۔‘ ایمان کا یہ مظاہرہ. . . گاؤں کے مُکھیا اور دوسروں کی تبدیلی کا باعث بنا‘‘ (ذریعہ: ویکیپیڈیا). اِسے گائیے!

صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے،
   صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے،
صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے –
   واپسی نہیں ہوگی، واپسی نہیں ہوگی!

وہ اپنے ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے۔‘‘ کیا آپ داخل ہونگے؟ کیا آپ یسوع پر اِس قدر بھروسہ کریں گے کہ اُس کے پاس آئیں؟ اُس کا خُون آپکے گناہ پاک صاف کر دے گا اور آپ داخل ہونگے اور بچائے جائیں گے! کیا آپ محض ایمان کے ساتھ مسیح میں داخل ہونگے؟ اِسے دوبارہ گائیے!

بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا،
   بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا۔
بے شک میرے ساتھ کوئی نہ جائے، میں پھر بھی پیروی کروں گا،
   واپسی نہیں ہوگی، واپسی نہیں ہوگی!

صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے،
   صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے،
صلیب میرے سامنے، دُنیا میرے پیچھے –
   واپسی نہیں ہوگی، واپسی نہیں ہوگی!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan عبرانیوں 3:8۔19 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ: Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
’ہائے افسوس، ہائے افسوس، میں کس قدر نابینا رہا ہوں‘‘ (شاعر ناتھن سٹرونگ، 1748۔1816).

لُبِ لُباب

وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہوسکے

THEY COULD NOT ENTER IN BECAUSE OF UNBELIEF

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ اور جن کے بارے میں خدا نے قسم کھا کر کہا کہ وہ اُس جگہ داخل نہ ہونے پائیں گے جہاں میں نے اُنہیں آرام دینے کا وعدہ دیا تھا، کیا وہ نہیں جنہوں نے نافرمانی کی تھی؟ پس ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہاں داخل نہ ہو سکے‘‘ (عِبرانیوں 3:18۔19).

(عبرانیوں 3:11؛ 1۔ کرنتھیوں 10:11

)

1۔ اوّل، اُنہوں نے عظیم برکات کا تجربہ کیا، لیکن وہ اندر داخل نہ ہو سکے
ایمان نہ لانے کی وجہ سے، خروج 15:1؛ عبرانیوں 3:9؛ پیدائش 6:3 .

2۔ دوئم، ایمان نہ رکھ سکنا واحد بات تھی جس نے اُنہیں باہر رکھا، متی 12:31؛
یوحنا 8:24؛ 16:9 .

3۔ سوئم، وہاں کچھ ایسے تھے جنہوں نے یقین کیا، اور ضرور داخل ہوئے،
اِستثنا 1:35، 36، 38؛ متی 22:14؛ 20:16؛ 7:14؛ 1۔ پطرس 3:20؛
1۔ سلاطین 19:18؛ رومیوں 11:4، 5؛ لوقا 12:32؛ افسیوں 2:8۔9؛
اِستثنا 1:32؛ گنتی 13:31؛ یشوع 14:8؛ متی 10:37؛
خروج 32:17؛ 33:11 .