Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

عظیم اور مُہیب خُدا – حصّہ دوئم

THE GREAT AND TERRIBLE GOD – PART II

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
5 فروری، 2012، خُداوند کے دِن، شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, February 5, 2012

’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ (نحمیاہ 1:5).

’’اے خُداوند، عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ (دانی ایل 9:4).

دوبارہ اِس واعظ کو ڈاکٹر جان آر . رائس Dr. John R. Rice کی کتاب ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘(خُداوند کی تلوار Sword of the Lord، 1977، صفحات 7۔38) سے اخذ کیا گیا ہے۔

یہ آیات خُدا کو عظیم، مُہیب اور دھشت ناک خُدا کہہ کر بلاتی ہیں۔ وہ شاید آپ کا خُدا نہ ہو۔ لیکن یہ ہی خُدا بائبل میں آشکارہ کیا گیا ہے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں، ہمارا خُدا ایک ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ ہے۔ ہمارا خُدا ’’عظیم اور دھشت ناک خُدا‘‘ ہے۔ کلامِ پاک میں جس خُدا کو افشا کیا گیا ہے اُس نے لوگوں کو خوف سے تھرتھرانے پر مجبور کیا ہے۔

خُدا کے خلاف گناہ کرچکنے کے بعد، آدم نے کہا، ’’میں نے باغ میں تیری آواز سُنی اور میں ڈر گیا‘‘ (پیدائش 3:10). ایک رات کے آخر میں، جب خُدا نے ابراہام کے ساتھ اپنا عہد پختہ کیا، ’’اور بڑی ہولناک تاریکی اُس پر چھا گئی‘‘ (پیدائش 15:12). ایوب نے کہا،

’’جب میں سوچتا ہوں، میرا بستر مجھے آرام پہنچائے گا، اور میرا پلنگ میری تکلیف کم کر دیگا؛ تب بھی تُو مجھے خوابوں سے ڈراتا ہے، اور رویتوں سے مجھے دھشت دلاتا ہے‘‘ (ایوب 7:13۔14).

خُدا کے آنے والے سیلاب کے بارے میں اُسے خبردار کرنے کے بعد، نوح ’’خوف سے دھل گیا‘‘(عبرانیوں 11:7). جب خُدا نے بیت ایل کے مقام پر اپنے آپ کو یعقوب پر ظاہر کیا، بائبل کہتی ہے، ’’وہ خوفزدہ تھا‘‘ (پیدائش 28:17). زبور نویس نے کہا، ’’تیرے خوف سے میرا جسم کانپتا ہے؛ اور میں تیرے فیصلوں سے ڈرتا ہوں‘‘ (زبور 119:120). جب خُدا نے دانی ایل کو اپنی مرضی سے آگاہ کیا، تو نبی نے کہا، ’’میں ڈر گیا اور منہ کے بل گر پڑا‘‘ (دانی ایل 8:17). حبقوق نے کہا، ’’اے خُداوند میں نے تیری شہرت سُن لی ہے، اور میں ڈر گیا‘‘ (حبقوق 3:2). خُدا فرشتے کی معرفت کُرنیلُیس سے ہمکلام ہوا تھا، اور ’’جب اُس نے اُس کی طرف دیکھا، وہ خوفزدہ تھا‘‘ (اعمال 10:4). اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ کُرنیلُیس وہ تھا ’’جو خُدا سے ڈرتا تھا‘‘ (اعمال 10:22). اور جب پولوس رسول کُرنیلُیس کے اہلِ خانہ سے مخاطب ہوا تھا تو اُس نے کہا، ’’خُدا کسی کا طرف دار نہیں ہے: جو کوئی اُس سے ڈرتا اور نیکی کے کام کرتاہے، خواہ وہ کسی قوم کا ہو، اُسے پسند آتا ہے‘‘ (اعمال 10:34۔35). بائبل میں آشکارہ خُدا انسان کو خوف سے تھرتھرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر جان آر رائیس Dr. John R. Rice نے کہا، ’’ہمیں ایک دھشت ناک اور مُہیب خدا سے ڈرنا چاہیے۔ تمام بائبل میں خُد اکا خوف تمام فضیلتوں میں سے عظیم تر ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ مسیحی اور مقدسانہ کردار کی بنیاد ہے۔ یہ کسی بھی اصلی کفارے میں ضروری طور پر ملوث ہوتا ہے‘‘(جان آر. رائیس، ڈی.ڈی.، ’’اے عظیم اور مُہیب خُدا،‘‘ عظیم اور مُہیب خُدا میں سے The Great and Terrible God، خُدا کی تلوار کا بنیادی ادارہ Sword of the Lord Foundation، ایڈیشن 1977، صفحہ 14).

خُدا ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ ہے (دانی ایل 9:4). خُدا ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ ہے (نحمیاہ 1:5). تمام نسلِ انسانی کے ساتھ خُدا کے تعلقات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک عظیم، مُہیب اور دھشت ناک خُدا ہے۔

کبھی پہلا آدمی اور عورت بغیر کسی بیماری، علالت، درد، پریشانی کے،اور اُن کی ہر ضرورت کی دستیابی کے ساتھ خوبصورتی کی جنت میں رہتے تھے۔ اُس وقت شکار کے کوئی خطرناک جانور نہ تھے۔ کوئی بیماری نہ تھی۔ کوئی رکاوٹیں یا کانٹے نہیں تھے۔ اور خُدا خود اُس باغ میں چہل قدمی کرتا تھا اور آدمی جس کو اُس نے خود اپنی مانند تخلیق کیا تھاکے ساتھ دوستی کامل کرچکا تھا۔ لیکن آدم نے بغاوت کی اور خُدا کے خلاف پہلا گناہ مرتکب کیا۔ اور جلد ہی خُدا نے اپنے غیظ وغضب میں آدم اور حوا کو باغِ عدن سے نکال باہر کیا۔ خُدا نے نسل انسانی پر موت کا اعلان کیا۔ آدم اور حوا تو پہلے ہی روحانی طور پر مر چکے تھے، اور اب اُن کا تبدیل کیا جانا ضروری تھا یا ہمیشہ کے لیے جہنم میں جانا، خُدا کے چہرے سے بہت دور۔

اُن کے گناہ کی وجہ سے، اب اُن کی عمر ڈھلنے لگی تھی۔ موت پہلے سے ہی اُن کے جسموں میں کام کر رہی تھی۔ وہ اب تھکنا شروع ہو گئے تھے۔ جلد ہی اُن کے سر کے بال سفید ہونا شروع ہو گئے۔ اُن کے جوڑ اکڑنے لگے۔ تمام نسلِ انسانی کے لیے موت منظور ہو چکی تھی۔ حوا حاملہ ہوئی، لیکن وہ دُکھ اور درد میں ہوا تھا جب اُس نے اپنے پہلے بیٹے کو جنم دیا تھا۔ اور بچہ ایک مکار گنہگار تھا، اور بعد میں ایک قاتل اور ایک جلا وطن بنا۔

اب وہ آسانی کے ساتھ درختوں سے پھل نہیں توڑ سکتے تھے۔ آدم کو اب سخت محنت کرنی پڑتی تھی، اپنے چہرے پر پسینے کے ساتھ، وہ جُھلسی ہوئی سوختہ زمین پر تھوڑی سی خوراک اُگانے کی کوشش کرتا تھا۔ جانور اب آدمی کے دشمنوں میں سے تھے۔ اب وہاں اُن کے لیے خارش کے لیے کانٹے تھے اور اُنہیں ڈنگنے کے لیے کیڑے تھے۔ اب وہاں طوفان اور سیلاب تھے، اور بعض اوقات شدید چُبھنے والی گرمی، اور اگر وہ نہیں تو برفیلی ٹھنڈ۔ اب وہاں بےشمار بیماریاں ہیں، تکلیفیں ہیں اور موت ہے۔ آئیں اِس حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ دُنیا ایک عذاب کے تحت ہے! اُس عظیم اور مُہیب خُدا نے اِس دُنیا کی طرف اور نسلِ انسانی کی طرف اپنے غیظ و غضب کا چہرہ کیا ہو ا ہے!

جب آدم نے باغ میں پہلی دفعہ حوا کا چہرہ دیکھا تو اُس نے اُس سے پیار کیا۔ وہ خُدا کے ہاتھ سے پاکیزہ آئی تھی۔ اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ اور ایک حیرت انگیز پاکیزگی اور مٹھاس تھی۔ لیکن اب وہ اُس کے چہرے کو دُکھ، درد اور تکلیف کے ساتھ شکن زدہ اور جُھریوں زدہ دیکھ کر غمگین تھا۔ جلد ہی وہ دونوں اپنے بیٹے ھابل کے قتل سے دھشت زدہ اور ہکا بکا ہو گئے تھے۔ جلد ہی اُن کے دِل اپنے دوسرے بیٹے کاہن کے گناہ اور بغاوت سے ٹوٹ گئے تھے۔

اور اتنے ہی یقین کے ساتھ جتنی کہ بائبل سچی ہے، خُدا کا خود اِن عذابوں کو بھیجنے کے لیے، اِن آنسوؤں کےلیے ، اِس ڈھلتی عمر کے لیے اور درد اور موت کے لیے جو کہ گناہ کے ناقابلِ ترمیم نتیجے کے طور پر آئی ذمہ دار ہونا لازمی ہے۔ خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے! اُس کا غیظ و غضب غیر پشیمان گنہگاروں کے لیے اُمنڈتا ہے! یہ سچ ہے کہ موت کے بیج گناہ میں ہیں، لیکن یہ خُدا ہے جو گناہ کی سزا دیتا ہے۔ یہ خُدا ہے جو منصف ہے، اِس بات کی یقین دھانی کے لیے کہ گنہگاروں کو سزا دی جاتی ہے۔ ہائے، کس قدر عظیم اور مُہیب خدا نے آدم اور حوا کو باغِ عدن میں سے باہر نکال دیا تھا، اور گناہ کے مرتکب ہونے پر اُن کے خلاف اپنے غصے کی تلوار اُٹھا لی تھی! اوہ، وہ عظیم اور مُہیب خُدا، دھشت ناک خُدا، جس نے گناہ کے سبب سے تمام نسلِ انسانی پر موت کو بھیجا!

ہمیں یہ سوچنے کی جرأت نہیں کرنی چاہیے کہ دُنیامیں کوئی ایسی قوتیں بھی ہیں جنہیں خُدا قابو نہیں کر سکتا۔ وہ یہاں بالکل نہیں ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی جرأت نہیں کرنی چاہیے کہ دُنیامیں کوئی ایسے واقعات ہیں جنہیں خُدا قابو نہیں کر سکتا۔ یہ بالکل سچ نہیں ہے۔ پھر ہم تاریخ کی ڈراؤنی جنگوں پر نظر ڈال سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ یہ اُس ایک خُدا کا غیظ و غضب ثابت کرتی ہیں جو گناہ سے بجا طور پر ناراض ہے اور گناہ کی سزا واجب کرتا ہے۔ دُنیا میں تمام خُون خرابہ، تمام آنسو، سارا رونا دھونا، ساری تکلیفیں، پوری طرح سے موت کو ثابت کرتی ہیں کہ ایک مُہیب، دھشت ناک خُدا ہے، اور کہ اُس کا غیظ و غضب گناہ پر اُمنڈتا ہے۔ ہائے دھشت ناک خُدا! ہائے عظیم اور مُہیب خُدا!

اگلے ہفتے ہم دیکھیں گے کہ اسرائیل کے گناہوں کی سزا دینے میں خُدا کس قدر دھشت ناک اور مُہیب تھا۔ لیکن آج رات ہم خُدا کی ہولناک اور دھشت ناک جہنم کے بارے میں سوچتے ہوئے اختتام کریں گے۔ کسی اور وجہ کے بجائے خُدا سے جہنم کے نظریے کے لیے کثرت سے نفرت کی جاتی ہے۔ وولٹائر، تھامس پئین، ایچ. جی. ویلز، اور رابرٹ اِنگرسول جیسے دہریوں نے جہنم کے خیال سے نفرت کی اور خُدا کو جہنم کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا۔ لیکن صرف مُلحد ہی نہیں ہیں جو جہنم سے نفرت کرتے ہیں۔ بلکہ جدید فرقوں میں سے ہر کوئی بائبل میں کہی گئی دائمی جہنم کو مسترد کرتا ہے۔ اِس کے بارے میں سوچیئے! ہر جدید فرقہ – مورمنز، یہوہ کے گواہی دینے والے، مسیحی سائنس، نیا دور، یہ تمام کے تمام، کسی ایک کو بھی مثتثنٰی کیے بغیر، جہنم کے خیال سے اور اُس خُدا سے جو لوگوں کو وہاں بھیجتا ہے نفرت کرتے ہیں!

ہم دہریوں اور فرقوں کے اراکین سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ جہنم سے نفرت کریں اور اُسے مسترد کریں۔ لیکن آج کل بہت سے جھوٹے مسیحی بھی ہیں جو دائمی جہنم اور اُس خُدا کو جو گنہگاروں کو وہاں بھیجتا ہے مسترد کرتے ہیں۔ یہ بہت مشکل ہے کہ گرجہ گھر کے اراکین کو یقین دلایا جائے کہ بہت سی بشارتِ انجیل کی مذہبی درسگاہیں دائمی جہنم کو مسترد کرتی ہیں۔ میں جنوبی بپتسمہ دینے والی مذہبی درس گاہ seminary اور پریسبائی ٹیرئین مذہبی درس گاہ کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہوا تھا جہاں بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کو مسترد کیا گیا تھا، اور جہاں جہنم کی دائمی آگ کو مسترد کیا گیا تھا اور اُس کا مضحکہ اُڑایا گیا تھا۔ راب بیل Rob Bell اپنے آپ کو بشارت انجیل کا مبلغ کہلاتا ہے، لیکن وہ بے شمار سخت تنقیدی کتابیں جہنم میں دائمی سزا پر اور اُس عظیم اور مُہیب خُدا پر جو کھوئے ہوئے گنہگاروں کو وہاں بھیجتا ہے لکھ چکا ہے۔ راب بیل نے کیلیفورنیا کی پساڈینیا میں قائم فُلر علمِ الہٰیات کی مذہبی درس گاہ سے بائبل جہنم پر کیا تعلیم دیتی ہے کو مسترد کرنا سیکھا تھا۔ ابتدائی 1970 کی دہائی میں جب میں گولڈن گیٹ بپتسمہ دینے والی علمِ الہٰیات کی مذہبی درس گاہ میں پڑھ رہا تھا، تو پروفیسرز نے ہمیں ترجمان کی بائبل the Interpreter’s Bible پڑھنے اور اُس کا مطالعہ کرنے کو کہا۔ ڈاکٹر اے. بٹّریِک اُس تبصرے کے مرتب کرنے والے تھے جنہوں نے مسیحی ایمان کے ہر اہم عقیدے پر حملہ کیا۔ مُدیر ڈاکٹر جارج بٹّریِک نے بائبل کے مُہیب اور عظیم خُدا پر حملہ کیا تھا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ایسے خُدا کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ اُسے فرانسسی شکی [وولٹائر] کی سزا کا فیصلہ دیا جائے: ’تمہار ا خُدا میرا شیطان ہے۔‘‘‘ اِس طرح سے اِس آزاد خیال، بائبل کی تردید کرنے والے تبصرہ نگار نے بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کو شیطان کہنے کی جرأت کی تھی! ڈاکٹر جی. برُوملی آغسنام Dr. G. Bromely Oxnam، جو کہ واشنگٹن ڈی. سی. کے آزاد خیال عیسائی فرقے [میتھوڈسٹ] کے بشپ تھے، اُنہوں نے بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کو ’’حراساں کرنے والا ناپاک‘‘ کہا۔ میں نے بائبل کی تردید کرنے والی جنوبی بپتسمہ دینے والی مذہبی درسگاہ اور پریسبائی ٹیرئین مذہبی درسگاہ جہاں سے میں تعلیم سے فارغ التحصیل ہوا تھا وہاں پر اُن آزاد خیالوں کو جو بچائے نہیں گئے اِس قسم کی باتوں کو متعدد بار کہتے ہوئے سُنا تھا۔ پہلے میں نے سوچا کہ یہ پروفیسرز تذبذب کا شکار ہیں اور اُنہیں دلیلوں کے ساتھ اور بائبل کے نقطہ نظر سے جیتا اور سمجھایا جا سکتا ہے۔ لیکن آخر کار میں اِس حقیقت سے آگاہ ہو گیا کہ اُنہوں نے کبھی دوبارہ جنم لیا ہی نہیں تھا۔ اِس دُنیا کے خُدا، شیطان نے، ’’اُن کی عقل کو اندھا کر دیا ہے جو یقین نہیں کرتے‘‘ (2۔ کرنتھیوں 4:4).

مثال کے طور پر دانی ایل پی. فُلرDaniel P. Fullerکاعجیب معاملہ لے لیں۔ اُن کے والد مشہور و معروف مبشر انجیل چارلس ای. فُلر تھے۔ لیکن اُن کے والد ایک ’’فیصلہ ساز ‘‘ تھے۔ اُن کے اپنے بیٹے نے ہاتھ اُٹھایا، دعا پڑھی اور چھوٹی عمر میں ہی اُسے بپتسمہ دے دیا گیا، بغیر کسی حقیقی تبدیلی کے۔ جب فُلر کی مذہبی درس گاہ کا آغاز ہوا، چارلس فُلر نے خُدا کے کلام سے زیادہ اپنے بیٹے کو پیار کیا۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے کو سوئیٹزرلینڈ میں کارل بارتھ Karl Barth جیسے آزاد خیال کی نگرانی میں پڑھنے کے لیے بیزل Basel [درسگاہ] میں جانے دیا۔ جب دانی ایل فُلر واپس آیا تو اُس نے اپنے والد کی مذہبی درس گاہ کے عملے میں شمولیت اختیار کی، اور اِس کو آزاد خیال بنانے کے لیے راستہ کھول دیا۔ اور یہ فُلر کی مذہبی درسگاہ میں ہی ہوا تھا کہ راب بیل Rob Bell نے جہنم کی دائمی سزا کو مسترد کرنا سیکھا تھا (دیکھیئے ھیرالڈ لِنڈسیل Harold Lindsell، پی ایچ. ڈی.، فُلر کی علم الہٰیات کی مذہبی درسگاہ کا عجیب و غریب واقعہ The Strange Case of Fuller Theological Seminary،‘‘ بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible، ژونڈروان اشاعت گھر، 1976، صفحات 106۔121).

’’ایک گنہگار بہت سی نیکی کو برباد کر دیتا ہے‘‘ (واعظ 9:18).

فُلر کی مذہبی درسگاہ کی آزاد خیالی کی جڑیں دانی ایل پی. فُلر کے عقل کے اندھے پن کی پیداوار ہیں۔ ایک آدمی جو دلِ شکستہ نہیں ہوا تھا اور جو سزا یافتہ نہیں ہوا تھا اور جو پوری طرح سے خُدا سے تبدیل نہیں ہوا تھا بہت آسانی کے ساتھ آزاد خیالی کو اپنا لے گا، کلامِ پاک کے غلطی سے مبّرا ہونے کی تردید کرے گا، اور اُس عظیم اور مُہیب خُدا کے ساتھ جو گنہگاروں کو آگ کی جھیل میں بھیجتا ہے کراہت کرے گا۔ اِس لیے ہمیں اپنے گرجہ گھروں میں نوجوان لوگوں کو آسانی سے مذہبی طور پر تبدیل شُدہ کی حیثیت سے ’’قبول‘‘ نہیں کر لینا چاھیئے جب تک کہ وہ خُدا کی طرف سے دِل شکستہ نہ ہوں، گناہ کے تحت سزا یافتہ نہ ہوں، اور جب تک پاک روح کی طرف سے خُداوند یسوع مسیح کے جیتے جاگتے ایمان میں دوبارہ پیدا نہ ہوں!

عظیم اور مُہیب خُدا مذہبی طور پر غیر تبدیل شُدہ گنہگاروں کو جہنم کے ابدی شعلوں میں نہیں بھیجتا ہے۔ لیکن جہنم اس قدر خوفناک ہے کہ اِس کے خوف سے سوچ رکھنے والے ہر شخص کو ضرور تھرتھرانا چاہیے۔ جہنم اُس مُہیب اور دھشت ناک خُدا کے غیظ و غضب کی ایک علامت ہے جو گناہ سے نفرت کرتا ہے اور جو اُس کی ضرور سزا دیتا ہے۔

ڈاکٹر رائیس نے کہا، ’’یہ ہولناک ہے کہ جہنم آگ کی ایک جگہ ہے۔ میں نے ہوائی جہاز کے ایک حادثے کے بارے میں پڑھا۔ ایک پائلٹ تباہ شُدہ ہوائی جہاز میں جس نے آگ پکڑ لی تھی پھنسا تھا۔ آگ آہستہ آہستہ پائلٹ کو بُھون رہی تھی جو چیخ رہا تھا اور رو رہا تھا. . . اور لوگوں سے التجا کر رہا تھا کہ اُسے گولی مار دیں جب تک کہ آخر کار ایک [پولیس] کے افسر نے اُس آدمی کو اذیت سے بچانے کے لیے جسے نہ ہی تو وہ چُھٹکارہ دِلا سکتے تھے اور نہ ہی بچا سکتے تھے اُس کے سر میں گولی نہ مار دی! میں اُس آدمی کی اذیت کا سوچ کر اس قدر دھشت زدہ تھا کہ اِس کی یاد کئی دِنوں تک میرے ساتھ رہی۔ لیکن عظیم، مُہیب، خوف ناک خُدا، جہنم میں یہ کیسا ہوگا جہاں آگ کی ایک جھیل ہے اور گندھک ہمیشہ کے لیے جلتی رہتی ہے!. . . یہ عذاب جاری رہتا ہے! آگ جلانے کے لیے جاری رہتی ہے! لوگ ابھی تک اپنے کھوئے ہوئے مواقع یاد کرتے ہیں، اُن کا مسیح کی تردید کرنا، اُن کے قابلِ مذمت گناہ! اور اُن کے عذاب کا دھواں ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے اُٹھتا رہتا ہے [مکاشفہ 14:11] ۔ پورا دِن اُن کے لیے کوئی آرام نہیں ہوتا ہے۔ رات کوئی سکون نہیں لاتی اور وہ ناختم ہونے والا عذاب کا چکر جاری رہتا ہے۔ خُدا کے ساتھ مصالحت کی کوئی اُمید نہیں ہوتی ہے، کفارے کے لیے مستقبل میں کوئی موزوں موقع نہیں ہوتا۔ سچ مچ، وہاں جہنم میں . . . یہاں تک کہ کفارے کی طرف کسی قسم کا رُجحان بالکل بھی نہیں ہوتاہے۔ کس قدر ہولناک خُدا ہے جو بِلا پچھتاوے کے گنہگاروں کے لیے ایسی سزا منتخب کرتا ہے!‘‘ (رائیس Rice، ibid.، صفحہ 27).

میں آپ کو آج رات بتا تا ہوں کہ یہ ہی وہ بائبل کا عظیم اور مُہیب خُدا ہے۔ اور یہ ہی وہ خُدا ہے جس کے بارے میں آپ نے گہرائی کے ساتھ نہیں سوچا ہے۔ اصل میں، رات میں جب آپ تنہا ہوتے ہیں تو شاید ہی کبھی آپ نے اُس کے بارے میں سوچا ہو۔ کیا میں آپ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ جی ہاں، بلا شُبہ! کیونکہ اگر آپ یعقوب اور موسیٰ اور پولوس کے خُدا سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے، تو آپ کے لیے کبھی بھی کوئی اُمید نہیں ہوگی۔ بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند سے ڈر اور بدی سے دور رہ‘‘ (امثال 3:7). ہو سکتا ہے کہ خُدا کا خوف آپ کو بدل دے ’’مسیح یسوع: خُدا نے یسوع کو مقرر کیا کہ وہ اپنا خُون بہائے اور انسان کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور اُس پر ایمان لانے والے فائدہ اُٹھائیں‘‘ (رومیوں 3:24۔25). جب تک کہ آپ مسیح کو پا نہ لیں، آپ کے گناہ اُس کے خُون سے پاک صاف نہیں ہونگے، اور آپ ہمارے عظیم اور مُہیب خُداکے غُصے اور غیظ و غضب کا سامنا کریں گے۔ جیسا کہ دوسری عظیم بیداری کے ایک پرانے حمد و ثنا کے گیت میں لکھا ہے،

ایک ناراض خُدا – ایک انتہائی سخت منصف –
کس قدر منصفانہ، کس قدر پاک خُداوند ہے!
جب مسیحی عاجزانہ خوف کے ساتھ اُمید کرتے ہیں،
تو گنہگاروں کو اُس کے کلام سے تھرتھرانے دو۔

اُس کی شریعت اب مکار کو سزا دیتی ہے،
اور اُن کے ہولناک فیصلے کو [انصاف] مہر لگاتا ہے؛
لیکن غُصہ جو کم ہے اور یہاں دیکھا نہیں گیا،
وہ قبر سے پرے بھی بھڑکے گا اور جلائے گا۔
(’’مکار کے ساتھ خُدا ناراض ہے‘‘ شاعر ایل. ایم. لی L. M. Lee، بِنا تاریخ؛
معاشرتی عبادت کے لیے گاؤں کی تعریفی گیتوں میں سے Village Hymns for Social Worship، ڈاکٹر آساحل نیٹیلٹن Dr. Asahel Nettleton نے ترتیب دیا، دوبارہ اشاعت 1997، International Outreach، پی. او. بکس نمبر 1286، ایمس، آئی او وا Iowa 50014).

مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور تعریفی گیت نمبر 4 ’’خُداوند نے اُس پر لاد دیا ہے The Lord Hath Laid on Him،‘‘ بطرزِ ’’حیرت انگیز فضل Amazing Grace ‘‘ گائیے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan مکاشفہ 14:9۔12 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ: Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
’’ مکار کے ساتھ خُدا ناراض ہے‘‘ (شاعر ایل. ایم. لِی L. M. Lee، بِنا تاریخ).