Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

عظیم اور مُہیب خُدا – حصّہ اوّل

THE GREAT AND TERRIBLE GOD – PART I

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
5 فروری، 2012، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 5, 2012

’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ (نحمیاہ 1:5).

’’اے خُداوند، عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ (دانی ایل 9:4).

اِس واعظ کو زیادہ تر ڈاکٹر جان آر . رائس Dr. John R. Rice کی کتاب ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘(خُداوند کی تلوار Sword of the Lord، 1977، صفحات 7۔38 ) سے اخذ کیا گیا ہے۔ کلامِ پاک کی یہ دونوں تلاوتیں خُدا کو مُہیب اور دھشت ناک خُدا کہتی ہیں۔ نحمیاہ نے دُعا کی تھی، ’’اے خُداوند آسمانوں کے خُدا، اے عظیم اور مُہیب خُدا۔‘‘ دوبارہ نحمیاہ 4:14 میں نحمیاہ نے کہا، ’’خُداوند کو یاد کرو، جو عظیم اور مُہیب ہے۔‘‘ اور نحمیاہ نے 9:32 میں اُس نے کہا، ’’اِس لیے اب، اے ہمارے خُدا، توُ جو بزرگ قادر اور مُہیب خُدا ہے. . . ‘‘ اِستثنا 7:21 میں خُدا کو ’’قادر اور مُہیب خُدا‘‘کہا گیا۔ اِستثنا 10:17 میں اُس کو ’’خُداؤوں کا خُدا اور خُداوندوں کا خُداوند ، عظیم، قادر اور مُہیب. . . ‘‘ کہا گیا ہے۔ دانی ایل نے بھی ’’عظیم اور مُہیب خُدا‘‘ کی بات کی تھی (دانی ایل 9:4). بائبل خُدا کی وضاحت کے لیے یہ زبان استعمال کرتی ہے۔ اشعیا 59:18 میں خُدا نے کہا، ’’اُنکے اپنے اعمال کے مطابق وہ اُنہیں اجر دے گا، اُس کے دُشمن اُس کے غضب کا نشانہ بنیں گے۔‘‘ اِس طریقے سے بائبل میں گناہ کے خلاف اپنا غضب ڈھاتے ہوئے خُدا کی اکثر منظر کشی کی گئی ہے۔

وہ جو اُس کے بارے میں صرف پیار اور رحم کے خُدا کی حیثیت سے بولتے ہیں وہ خُدا کی تمام تفصیل جو بائبل میں دی گئی ہے اُس کو پیش نہیں کرتے۔ وہ انصاف اور انتقام کا خُدا بھی ہے۔ ہمیں سادگی کے ساتھ نئے عہد نامے میں خبردار کیا گیا ہے، ’’زندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہولناک بات ہے‘‘ (عبرانیوں 10:31). شریعت کے بغیر فضل کی، ایمان کے بغیر توبہ کی، خُدا کے رحم کے بغیر قہر کی، جنت کے بغیر جہنم کی تمام جدید تعلیمات خُدا کے بارے میں سچائی سے گمراہی ہیں۔ یہ خُداوند کے پیغام کا ایک بد دیانت اظہار ہے۔ خُدا ایک مُہیب خُدا ہے، ایک دھشت ناک خُدا، گناہ کے خلاف غیظ و غضب کا خُدا، انتقام کا خُدا، ایک ایسا خُدا جس سے خوف کھایا جائے، ایک ایسا خُدا جس سے گنہگاروں پر کپکپی طاری ہو جانی چاہیے۔

ہم کیوں بائبل کے دھشت ناک خُدا پر زیادہ واعظ نہیں سنتےہیں؟ کیونکہ بہت سے مبلغین خُدا کے بارے میں سچائی کو بتانے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ وہ خُوفزدہ ہوتے ہیں کہ اُن کے گرجہ گھروں میں جسمانی نیت اور مذہبی طور پر غیر تبدیل شُدہ لوگ اِس قسم کے خُدا کے بارے میں سُننا نہیں چاہتے ہیں۔ کیوں؟ ’’اِس لیے کہ جسمانی نیت خُدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7). قدرتاً مذہبی طور پر غیر تبدیل شُدہ لوگوں کے جسمانی نیت والے دماغ بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کے خلاف ہیں۔

پھر بھی یہ ضروری ہے کہ مذہبی طور پر غیر تبدیل شُدہ گہنگاروں کو اعلانیہ اِس خُدا سے روشناس کرایا جائے۔ ڈاکٹر مارٹن لائیڈ۔جونز Dr. Martin Lloyd-Jones نے کہا،

جو چیز خوشخبری کو دوسری تمام تعلیمات سے علیحدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر خُدا اورخُدا کے لیے ہمارے تعلقات کا ایک اعلان ہے۔ ہمارے مخصوص مسائل نہیں، لیکن ہم تمام کے لیے یہ ایک جیسا مسئلہ ہے، یعنی کہ ہم مقدس خُدا کے حضور اور پاک شریعت میں لائقِ مذمت گنہگار ہیں (رومیوں پہلے باب پر تفسیر، خُدا کی خوشخبری Romans, Exposition of Chapter 1، سچے اعتماد کا بینر The Banner of Truth Trust، 1985، صفحہ 95).

گنہگار کھویا ہوا محسوس نہیں کریں گے جب تک کہ اُنہیں بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کا سامنا نہ کرایا جائے۔ صرف جب وہ کلامِ پاک کے عظیم اور مُہیب خدا کے سامنے لائقِ مذمت محسوس کرتے ہیں تب ہی وہ یقین کریں گے کہ اُنہیں مسیح کی ضرورت ہے۔

اِس کے باوجود ایک دھشت ناک، ایک مُہیب اور ہولناک خُدا، ایک غیظ و غضب اور جُھلسا دینے والی آگ کا خُدا، آج کل گرجہ گھر کے بہت سے لوگوں کو حیرت زدہ اور اُن کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتا ہے۔ لیکن حیرت زدہ ہو کر وہ غلطی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر رائیس نے کہا، ’’ہمیں اِس دھشت ناک، مُہیب خُدا سے خوف کھانا چاہیے! تمام بائبل میں خُداوند کا خوف تمام اچھائیوں میں سے عظیم ترین مانا گیا ہے۔ یہ مسیحی کردار اور تقدس کی بنیاد ہے۔ یہ مستند کفارے اور حقیقی مذہبی تبدیلی کے لیے ضروری ہے‘‘ (ibid.).

آکسفورڈ کی اتفاقِ رائے سے کلامِ پاک میں پندرہ حوالوں کی فہرست ہے جن میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ خُداوند سے پیار کریں، یا جہاں خُدا کے لیے پیار کا ذکر ایک فضیلت کے طور پر کیا گیا ہے۔ لیکن وہی اتفاقِ رائے بائبل میں سے چھیالیس حوالوں کی فہرست فراہم کرتا ہے جن میں خُداوند کا خوف ایک فضیلت کے طور پر درج کیا گیا ہے یا تجویز کیا گیا ہے!

بائبل میں سے تین واضح آیات بتاتی ہیں کہ ’’خُداوند کا خوف حکمت کی ابتداء ہے‘‘ (زبور 111:10؛ امثال 1:7؛ امثال 9:10). ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُداوند کا خوف ہماری عمر کو درازی بخشتا ہے (امثال 10:27؛ 19:23؛ 14:27). ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُداوند کا خوف کامیابی اور فراوانی کے لیے راستہ ہے (امثال 15:16). اور تمام بائبل میں خُدا کے ماننے والے آدمیوں اور عورتوں کا ذکر اُن کے طور پر آیا ہے جو خُدا کا خوف کرتے ہیں۔ زمین پر عقلمند ترین آدمی سلیمان نے کہا، ’’خُدا سے ڈر اور اُس کے حکموں پر عمل کر: کیونکہ اِنسان کا فرضِ کُلّی یہی ہے‘‘ (واعظ 12:13).

لیکن بائبل کہتی ہے کہ کھویا ہوا گنہگار خُدا کا خوف نہیں کھاتا۔ رومیوں 3:9۔18 آیات میں نسلِ انسانی کے گناہوں کی اُس دھشت ناک فہرست میں، جو کہ قدرتی انسانی دِل کے اِخلاقی زوال کو ظاہر کر رہی ہے اُس کی آخری اور حتمی انتہا، اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے، ’’اُن کی آنکھوں میں خُدا کا خوف نہیں ہے‘‘ (رومیوں 3:18).

زیادہ عرصہ نہیں گذرا کسی نے مجھے کہا، ’’میں خُدا سے خوفزدہ نہیں ہوں۔‘‘ اُس نے ایسا اِس طرح کہا جیسے کہ وہ کوئی خاص ہستی ہے۔ کبھی بھی نہیں! یہی تو ہر کھوئے ہوئے گہنگار کا معاملہ ہے! اُن کی آنکھوں میں خُدا کا کوئی خوف ہی نہیں ہے۔‘‘ اپنے عظیم گیت ’’حیرت انگیز فضل‘‘ میں، جان نیوٹن نے کہا، ’’یہ فضل تھا جس نے میرے دِل کو خوف کرنا سیکھایا۔‘‘ کوئی گنہگار بھی خُدا کا خوف محسوس نہیں کر سکتا جب تک کہ خُدا کی پاک روح اُس کو خاص فضل عطا نہ کرے۔‘‘ وہ جو خُدا کا خوف نہیں کھاتا گناہ میں زندگی گزارتا ہے۔ وہ خُدا کی تنبیہات کے بارے میں کچھ نہیں سوچتا ہے اور خُدا کے انصاف اور غیظ و غضب کے بارے میں گہرائی سے نہیں سوچتا ہے۔ لیکن خُدا ایک مُہیب خُدا ہے، ایک دھشت ناک خُدا، ایک ایسا خُد ا جس سے خوف آنا چاہیے۔

کوئی حیرت کی بات نہیں کہ عیلی کے بیٹوں نے خُدا کا خوف نہیں کیا۔ ’’اب عیلی کے بیٹے شیطان کے بچے تھے؛ اُنہیں خُداوند کا کچھ بھی پاس نہ تھا‘‘ (1۔سموئیل 2:12). ’’اُنہیں خُدا کا کچھ بھی پاس نہ تھا۔‘‘ اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اگر اُنہیں خدا کا خوف نہیں تھا۔ وہ تو یہاں تک کہ اُس عظیم اور مُہیب خُدا کو جانتے تک نہ تھے۔ بائبل کا دھشت ناک خُدا اُن کے لیے انجانا تھا۔ عیلی کے بیٹوں کو خُدا کے ساتھ کوئی ذاتی تجربہ نہیں تھا۔ اُنہوں نے کبھی بھی سنجیدگی سے خُدا کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ اُن کے خیالات میں خُدا کے لیے کوئی جگہ تھی ہی نہیں۔ ’’اُنہیں خُداوند کا کچھ بھی پاس نہ تھا‘‘ – اور حتیٰ کہ وہ خداوند کو جاننے میں دلچسپی بھی نہیں رکھتے تھے! وہ گناہ سے بھرے تھے، اور وہ بے دین تھے، اور وہ تبلیغ کو نہیں سُن سکتے تھے۔ مبلغ نے کہا، ’’اگر انسان خُداوند کے خلاف گناہ کرتا ہے، تو اُس کے لیے کون [ثالثی] بننا چاہے گا؟‘‘ لیکن اُنہوں نے اُس کے ذریعے سے درست کیے جانے کو مسترد کیا۔ ’’لیکن اُس کے بیٹوں نے اپنے باپ کی ڈانٹ ڈپٹ کی پرواہ نہ کی، کیونکہ خُداوند کی یہی مرضی تھی کہ وہ مار ڈالے جائیں‘‘ (1۔ سیموئیل 2:25). پھر ایک نبی آیا اور اُس نے اُنہیں خبردار کیا کہ وہ مر جائیں گے ’’وہ دونوں مر جائیں گے‘‘ (1۔سموئیل 2:34). لیکن وہ سیدھے اپنے گناہوں میں دھنستے گئے۔ موت کی دھمکی نے اُن پر ذرا سا بھی اثر نہیں کیا تھا۔ پھر دوبارہ، خُدا نے نوجوان سموئیل پر ظاہر کیا کہ عیلی کے بیٹے مارے جائیں گے اور اُن کے گناہوں کا انصاف ہوگا، ’’اور سموئیل کی بات سب اسرائیلیوں تک جا پہنچی‘‘ (1۔ سموئیل 4:1). لیکن پھر بھی اِس تمام کے باوجود عیلی کے بیٹوں نے اِن تنبیہات پر ذرا بھی توجہ نہ دی۔

اب ایک خاص دن، اسرائیلی فلسطینیوں کے ساتھ لڑنے کے لیے نکلے۔ حالات بُرے رُخ کی طرف جارہے تھے، لہٰذا لوگ عیلی کے بیٹوں کے ساتھ گئے ، عبادت گاہ میں سے عہد کا صندوق اُٹھا کر جنگ کے درمیان میں لے آئے۔ اُنہوں نے سوچا کہ وہ ’’جادوئی طریقے سے‘‘ خُدا کی منشا پائیں گے کہ وہ اُنہیں برکت دے۔ لیکن وہ غلطی پر تھے – انتہائی شدید غلطی پر! آپ خُدا کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ آپ کو برکت دے اگر آپ اُس سے خوف نہیں کھاتے ہیں! ’’اور خُدا کا صندوق اسرائیل کے ہاتھوں سے نکل گیا، اور عیلی کے دونوں بیٹے، حُفنی اور فینحاس بھی مارے گئے‘‘ (1۔سموئیل 4:11). پھر بھی یہ اصل میں فسلطینی نہیں تھے جنہوں نے اُنہیں جنگ میں مارا تھا۔ حقیقتاً یہ خُدا تھا جو اِس سب کے پیچھے تھا۔ یہ اصل میں خُدا تھا جس نے اُنہیں مارا تھا، ’’کیونکہ خُداوند کی یہی مرضی تھی کہ وہ مار ڈالے جائیں‘‘ (1۔ سموئیل 2:25). یہ حقیقتاً عظیم اور مُہیب خُدا تھا جس نے اُنہیں تباہ کیا اور جہنم میں بھیجا، ’’جہاں اُن کا کیڑا نہیں مرتا اور آگ نہیں بجھتی‘‘ (مرقس 9:48).

مجھے جنوبی بپتسمہ دینے والی مسیحی مذہبی علم الہٰیات کی درس گاہ Southern Baptist seminary جہاں میں پڑھتا تھا وہاں کے ایک بائبل کی تردید کرنے والے پروفیسر یاد ہیں۔ میں نے ماسٹر ڈگری کے ساتھ وہاں سے تعلیم مکمل کی تھی۔ ایک سال بعد میں واپس گیا اور منسٹری پروگرام میں ڈاکٹریت کے لیے داخلے کا اطلاق کیا۔ اِس انسان نے مجھے حقارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا، اور میری درخواست نامنظور کر دی کیونکہ میں نے بائبل کے دفاع میں بہت مضبوط موقف اختیار کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی مہینوں میں اِسی انسان نے منہ میں بندوق رکھ کر خود کُشی کر لی۔ ایک اور آدمی نے جھوٹ بولا اور مجھ پر ٹیلی ویژن پر وحشیانہ حملہ کیا۔چھتیس مہینوں کے اندر اندر وہ ایک عجیب بیماری سے مر گیا۔ ایک تیسرے آدمی نے مجھ پر اسقاطِ حمل کے خلاف ایک سرگرم موقف اختیار کرنے پر حملہ کر دیا۔ وہ مضبوط اور نوجوان تھا – لیکن وہ چوبیس مہینوں سے بھی کم عرصے میں مردہ پایا گیا۔ ضروری نہیں ہے کہ اُن کے ساتھ یہ اِس لیے ہوا کیونکہ اُنہوں نے مجھ پر حملہ کیا۔ یہ ہولناک فیصلے اُن پر اِس لیے آئے کیونکہ وہ بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کو ’’جانتے ہی نہیں‘‘ تھے!

اب، میں آپ سے پوچھتا ہوں، کیا آپ کو خُدا کا کوئی خوف ہے؟ کیا آپ کبھی جب تنہا ہوتے ہیں تو اُس عظیم اور مُہیب خُدا کے بارے میں سوچتے ہیں؟ یاد رکھیئے، یہ خُدا کا خوف ہے جس کو محسوس کرنے کی آپ کو ضرورت ہے۔ یہی ہے جس کے بارے میں سوچتے رہنا اور دعا کرتے رہنا ہے جب آپ اکیلے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیئے، یہ صرف اُسی وقت مانا جاتا ہے جب آپ تنہا ہوتے ہیں۔ یعقوب رات کو اکیلا تھا جب اُس نے کہا، ’’ہو نہ ہو خُداوند اِس جگہ موجود ہے؛ اور مجھے اِس کا علم نہ تھا۔ اور وہ خوفزدہ تھا‘‘ (پیدائش 28:16۔17). وہ رات کا آخر تھا جب ’’یعقوب اکیلا رہ گیا؛ اور ایک آدمی پَو پھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا‘‘ (پیدائش 32:24). یہ تب ہی ہوا تھا جب وہ مذہبی طور پر تبدیل ہوا تھا، قبل ازیں متجسم مسیح کے ساتھ تمام رات کُشتی لڑتے رہنے سے! ابراہام رات کو تنہا تھا جب خُدا ظاہر ہوا اور اُس پر ابراہیمی عہد کی تصدیق کی۔ ’’جب سورج ڈوبنے لگا، تو ابراہام پر گہری نیند طاری ہو گئی؛ اور بڑی ہولناک تاریکی اُس پر چھا گئی‘‘ (پیدائش 15:12). ہولناکی اور گہری تاریکی ابراہام پر چھا گئی جب خُدا اُس رات اُس کے پاس آیا۔ یہی ہے جسے کبھی کبھی ماضی کے عظیم مسیحیوں نے ’’جان کی اندھیری رات‘‘ کہا ہے۔ یہ ہی ہے جسے لوتھر، اور بَن یان، اور ویزلی اور وائٹ فیلڈ، اور جڈسن، اور سپرجئین نے محسوس کیا۔ اُن کی مذہبی تبدیلیوں سے قبل اُنہوں نے بائبل کے مُہیب اور خوفزدہ کر دینے والے خُدا کا تجربہ کیا تھا۔

کیا آپ نے کبھی بھی جب آپ تنہا ہوتے ہیں اِس عظیم اور مُہیب خُدا کے بارے میں سوچا؟ کیا آپ نے کبھی جب آپ تنہا ہوتے ہیں اپنے آپ کو قصور وار محسوس کیا – یہ جانتے ہوئے کہ ابراہام کے خُدا نے آپ کے گناہوں کو دیکھا ہے، یہاں تک کہ آپ کے دِل اور دماغ کے گناہوں کو بھی؟ یہاں تک کہ وہ گناہ جن کے بارے میں کوئی اور جانتا بھی نہیں – ماسوائے آپ کے اور خُدا کے؟ جیسے ابراہام پر ہوا تھا، کیا آپ پر بھی کبھی رات میں’’گہری تاریکی کی ایک ہولناکی‘‘ چھائی ہے؟ (پیدائش 15:12).

اوہ، ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ اِس طرح کی سزایابی محسوس کریں اور جب رات میں آپ خُدا کے ساتھ تنہا ہوں تو تعجب بھرا احترام کریں! عیلی کے بیٹوں نے ایسی سزایابی اور تعجب بھرا احترام کبھی بھی محسوس نہیں کیا تھا، ’’کیونکہ خُداوند کی مرضی یہی تھی کہ اُنہیں مار ڈالا جائے۔‘‘ جب خُدا آپ کے پاس آتا ہے، اور آپ گناہ کے خلاف اُس کی حیران کُن قوت اور غیظ و غضب محسوس کرتے ہیں، پھریسوع کے قیمتی خون میں گناہ سے پاک صاف ہونے کے لیے آپ شاید یسوع کی طرف بھاگ کر جانے کی راہنمائی پائیں! ہم اِس قدر دعا کرتے ہیں کہ آپ یہی تجربہ کریں!

نئے انگلستان میں پہلی عظیم بیداری کے دوران سموئیل ڈیوس Samuel Davies (1723۔1761) ایک با اختیار مبلغ تھے۔ اُن کے منادی کے دوران بے شمار مرتبہ تجدید نو ہوئے۔ 1758 میں اُنہیں پرنسٹن یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے جاناتھن ایڈورڈز کے جانشین کے لیے چُنا گیا۔ تین سال بعد سینتیس برس کی عمر میں وہ وفات پا گئے۔ سموئیل ڈیوس بائبل کے عظیم اور مُہیب خُدا کو جانتے تھے۔ اُن کی حمد کے اِن الفاظ کو سُنیے، جو مسٹر گریفتھ نے اِس واعظ سے قبل گائے تھے۔

کتنا عظیم، کتنا مُہیب ہے وہ خُدا،
   جو اپنے سر کو ہلانے کے ساتھ تخلیق کو لرزا دیتا ہے!
اُس کے تیوری چڑھانے سے: زمین، سمندر، قدرت کے تمام نظارے
   ایک ہی کائناتی شعلے میں ڈوب جاتے ہیں۔

کہاں، ہائے، کہاں گنہگار تلاش کریں
   عالمگیری تباہی میں پناہ کے لیے!
کیا اُن کے اوپر گرتی ہوئی چٹانیں پھینکی جائیں گی؟
   چٹانوں کو برف کی مانند تحلیل ہو کر گرتے ہوئے دیکھیں۔

اب وہ رحم کے لیے بِلا مقصد چیختے چِلاتے ہیں؛
   وہ بہتی ہوئی آگ کی جھیلوں میں پڑے ہیں؛
وہاں دھاڑتے ہوئے شعلوں میں پھینکے جاتے ہیں،
   ہمیشہ کے لیے – ہائے، ہمیشہ کے لیے کھو گئے!
(’’قدرت کی تباہی The Wreck of Nature شاعر سموئیل ڈیوس، 1723۔1761).

ہم دعا کر رہے ہیں کہ آپ اِس ہولناک خُدا کی حقیقت کو محسوس کرنا شروع کر دیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ آپ اپنے گناہ کے جرم کو محسوس کریں، اور کہ آپ اِس پر قائل ہو جائیں کہ صرف یسوع کا خون ہی آپ کو ہمارے عظیم اور مُہیب خدا کی نظروں میں پاک صاف کر سکتا ہے!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین نےDr. Kreighton L. Chan 2۔تھسّالُنیکیوں 1:7۔9 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ: Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
’’قدرت کی تباہی The Wreck of Nature‘‘ (شاعر سموئیل ڈیوس، 1723۔1761).