Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

میں نے یعقوب سے محبت رکھی،مگر عیسو سے نفرت

JACOB HAVE I LOVED, BUT ESAU HAVE I HATED

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
22 جنوری، 2012 ، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, January 22, 2012

’’جیسا کہ کلامِ پاک میں لکھا ہے، میں نے یعقوب سے محبت رکھی، مگر عیسو سے نفرت‘‘
(رومیوں 9:13).

ہم اپنے روزانہ کے بائبل کے مطالعے میں پیدائش کی کتاب پڑھتے رہے ہیں۔ ابھی ابھی ہم نے یعقوب اور عیسو کا واقعہ پڑھا۔ وہ اضحاق اور ربقہ کے جڑواں بچے تھے۔ ہم ملاکی کی کتاب میں پڑھتے ہیں، ’’خُداوند فرماتا ہے: کیا عیسو یعقوب کا بھائی نہیں تھا؟ پھر بھی میں نے یعقوب سے محبت رکھی، اور عیسو سے عداوت رکھی‘‘ (ملاکی 1:2، 3). نئے عہد نامے میں، پولوس رسول نے ملاکی میں سے حوالہ دیا۔ اُس نے کہا، ’’جیسا کہ کلامِ پاک میں لکھا ہے، میں نے یعقوب سے محبت رکھی، مگر عیسو سے نفرت‘‘ (رومیوں 9:13). کیوں خُدا نے یعقوب سے محبت اور عیسو سے نفرت کی؟ یعقوب ایک جھوٹا اور ایک چور تھا۔ پھر بھی خُداوند نے یعقوب سے پیار کیا اور عیسو سے نفرت۔ یہ اس طرح کیوں تھا؟ پولوس الہٰیاتی طور پر ہمیں بتاتا ہے، کہ یعقوب چُنیدہ میں سے ایک تھا، جبکہ عیسو نہیں تھا (رومیوں 9:11). لیکن یہ اُن کی زندگیوں پر کس طرح لاگو ہوتا ہے؟ اگر ہم یعقوب اور اُس کے بھائی عیسو کے واقعے کو دیکھیں تو ہمیں اِن دونوں آدمیوں میں اہم فرق نظر آتا ہے۔

1۔ اوّل، عیسو ایک ایسا شخص تھا جو خُداوند کے بارے میں نہیں سوچتا تھا۔

اگر آپ پیدائش کی کتاب میں عیسو کی زندگی کے بارے میں پڑھیں، آپ پائیں گے کہ وہ ایک مرتبہ بھی خدا کا ذکر نہیں کرتا ہے۔ عبرانیوں 12:16 عیسو کو ایک ’’خلافِ دین شخص‘‘ کہا ہے۔ یونانی زبان میں ’’خلافِ دین‘‘ کا ترجمہ ’’بے بلوس bebēlos ‘‘ ہے۔ ڈبلیو. ای. وائن نے کہا کہ اِس لفظ کا مطلب ہے کوئی ایسا جس کا خُداوند کے ساتھ تمام تعلق یا رشتہ داری [یا ربط] کا فقدان ہے۔ عیسو نے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ خُداوند کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ خُداوند اُس کی سوچوں میں نہیں تھا۔

عیسو ایک شکاری تھا، جس کو کہ ہم کہہ سکتے ہیں ایک ’’گھر سے باہر کُھلی جگہ میں رہنے والا شخص‘‘۔ جیسے ہی ایک دِن جب وہ شکار کر کے لوٹا اُس نے یعقوب کو یخنی پکاتے ہوئے دیکھا۔ عیسو کے پہلوٹھے ہونے کے پیدائشی حق کے بدلے میں یعقوب نے عیسو کو اُس کا ایک پیالہ پیش کیا۔ عیسو نے اپنے پیدائشی حق کی بے قدری کی اور اُسے یعقوب کو یخنی کے ایک پیالے کے بدلے میں بیچ دیا۔ مُوڈی نے کہا، ’’کوئی بھی پھل ماسوائے ممنوعہ پھل کے اِتنا[ قیمتی] ہو سکتا تھا جتنا کہ یہ شوربہ۔‘‘ عیسو اپنی جسمانی خواہش کو مطمئن کرنا چاہتا تھا، اور اِس لیے اُس نے اپنے اور اپنی آل اولاد کے لیے روحانی برکات کو کھو دیا تھا۔

کئی سال گذر گئے۔ اضحاق اب ضعیف ہو گیا تھا اور اُس کی آنکھیں اس قدر کمزور ہو گئیں کہ اُس کی بینائی جاتی رہی۔ اُس نے عیسو کو اپنے پاس بُلایا اور اُس سے کہاکہ جائے اور ایک ہرن مار کر اُس کے لیے چٹپٹا مسالے دار ہرن کا گوشت پکا کر لائے جو اُسے کھانے میں بہت پسند ہے۔ جیسے ہی عیسو شکار کرنے کے لیے گیا، یعقوب کی ماں نے بکری کا گوشت پکایا اور اُس کو ہرن کے گوشت کی مانند ذائقے دار بنایا۔ یعقوب گوشت اپنے باپ کے پاس لے گیا اور اپنے آپ کو عیسو ظاہر کیا۔ اُس نے اپنے بوڑھے اندھے باپ کو دھوکہ دیا، اور اضحاق نے یعقوب کو کو یہ سوچتے ہوئے کہ وہ عیسو تھابرکت دے دی۔ برکت انبیانہ تھی اور بالکل پوری ہونی تھی، کیونکہ اضحاق ہدایات خُداوندی سے بولتا تھا۔

جب عیسو شکار سے واپس لوٹا تو اُسے معلوم پڑا کہ یعقوب نے دھوکے سے اُس کے پیدائشی حق کو چھین لیا تھا۔ عیسو نے اپنے لیے بھی یہی برکات چاہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ عبرانیوں کی کتاب میں لکھا ہے،

’’اور نہ کوئی شخص حرامکار ہو ، یا عیسو کی طرح دُنیا دار بننے پائے، جس نے چند لُقموں کے لیے اپنے پہلوٹھے ہونے کا حق بیچ ڈالا۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ بعد میں جب اُس نے برکت پانے کی کوشش کی تو ناکام رہا: اُسے اپنی نیت بدلنے کا موقع نہ ملا حالانکہ وہ آنسو بہا بہا کر اُس کی تلاش کرتا رہا‘‘ (عبرانیوں 12:16۔17).

غور کیجیے کہ عیسو نے برکت اور میراث چاہی تھی، لیکن اُس نے خُدا کو تلاش نہیں کیا تھا۔ اُس نے ’’اِسے‘‘ بہت احتیاط کے ساتھ چاہا تھا لیکن اُس نے خُدا کو پانے کی کوشش نہیں چاہی تھی۔ اُس نے رو رو کر ’’برکت‘‘ پانے کی کوشش کی تھی، لیکن اُس نے کبھی بھی خُدا کو پانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ آپ نے دیکھا، عیسو نے کبھی خُدا کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ خُدا اُس کے خیالوں میں نہیں تھا۔ اور ، اسی وجہ سے خُدا نے کہا، ’’میں نے یعقوب سے محبت رکھی مگر عیسو سے نفرت‘‘ (رومیوں 9:13).

وہ اُس کی ناکامی تھی۔ عیسو نے کبھی خُد اکے بارے میں نہیں سوچا تھا! عیسو نے پیدائش کی کتاب میں ایک بار بھی خُدا کا تذکرہ نہیں کیا۔ اِس کے بارے میں سوچئیے – عیسو اضحاق کے سردار قبیلے کے گھر میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا تھا – اور پھر بھی اُس نے کبھی خُدا کے نام کا تذکرہ نہیں کیا!

آپ گرجہ گھر میں بڑھے ہو سکتے ہیں اور پھر بھی جب آپ تنہا ہوتے ہیں کبھی خُدا کے بارے میں نہیں سوچتے۔ لیکن یاد رکھیئے، کہ یہ صرف اُسی وقت مانا جاتا ہے جب آپ اکیلے ہوتے ہیں! بلحاظ دیگر ’’خدا‘‘ محض ایک لفظ ہے جو آپ گرجہ گھر میں استعمال کرتے ہیں، اور جس کا آپ کی حقیقی زندگی میں کوئی معنی نہیں ہوتا۔ بائبل کہتی ہے، ’’شریر اپنے تکبر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا: اُس کے خیالات میں خُدا کے لیے گنجائش ہی نہیں ہے‘‘ (زبور 10:4). ہم اِس کا ترجمہ یوں کر سکتے ہیں، ’’اُس کے تمام خیالات میں خُدا کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔‘‘ کیا آپ خُدا کے بارے میں سوچتے ہیں جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ کیا آپ خُدا سے دعا کرتے ہیں جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی بھی خُدا کو ٹھیس پہنچانے کے بارے میں سوچا ہے جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی اپنے آپ کو قصور وار محسوس کیا، کیونکہ خُدا نے آپ کے گناہ دیکھے ہیں جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ ، ’’شریر اپنے تکبر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا: اُس کے خیالات میں خُدا کے لیے گنجائش ہی نہیں ہے‘‘ (زبور 10:4) – اُس کے تمام خیالات میں خُدا کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے!

’’اُس کے تکبر کی حمایت‘‘ ایک حقارت آمیز مسکراہٹ، ہنسی اُڑاتے، یا تمسخر آمیز تاثر کا حوالہ دیتی ہے۔ میں اپنے ذہن میں اُن نوجوان لوگوں میں سے ایک کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں جو بہت عرصہ پہلے ہمارے گرجہ گھر کے ذریعے سے آیا تھا۔ میں اُس کا حقارت آمیز مسکراہٹ والا، بے خُدا کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں اگرچہ میں اُس کا نام تو کب کا بھول چکا ہوں۔ میں بہت سے گرجہ گھروں میں گذرتے سالوں کے دوران اِس قسم کے چہرے دیکھ چُکا ہوں۔ وہ ’’خلافِ دین‘‘چہرے تھے، ایسے چہرے جو ظاہر کرتے تھے کہ اُن کا بالکل بھی خُدا سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں ہے۔ ابھی کچھ ہی دِنوں قبل کسی نے مجھے کچھ لوگوں کی ایک تصویر دکھائی جو کبھی ہمارے گرجہ گھر میں حاضر ہوئے تھے۔ یہ ایک صدمہ انگیز تصویر تھی! یہ وہ لوگ تھے جو کبھی ہر اِتوار کو یہاں آتے تھے۔ لیکن ایک ایک کر کے اُنہوں نے گرجہ گھر چھوڑ دیا۔ جب وہ یہاں تھے تو بالکل ٹھیک لگتے تھے۔ لیکن اب، اِس تصویر میں، وہ آسیبی دکھائی دے رہے تھے۔ اُن کے چہرے ایک خوفزدہ انداز میں بگڑے ہوئے تھے۔ وہ شیطانیت سے بھرپور شریر دکھائی دیتے تھے، اُن لوگوں کی طرح جو آپ کو اگر آپ اُنہیں ایک اندھیری گلی میں ملیں تو ڈرا سکتے ہیں۔ آپ یقین کر سکتے ہیں کہ اب وہ خُدا کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے۔ ’’شریر اپنے تکبر میں خُدا کو نہیں ڈھونڈتا: اُس کے خیالات میں خُدا کے لیے گنجائش ہی نہیں ہے‘‘ – اُس کے تمام خیالات میں خُدا کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے!

جب میں تیرہ سال کی عمرکا تھا تو میرے پڑوسی مجھے ہونٹِینگٹن پارک، کیلیفورنیا کے ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر میں لے گئے تھے۔ شروع میں مَیں نے سوچا کہ اِس گرجہ گھر کے تمام نوجوان لوگ مسیحی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے میں اُنہیں بہتر طریقے سے جانتا گیا، میں نے پایا کہ وہ جب تنہا ہوتے ہیں تو پادری کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ میں نے پایا کہ وہ غیر اخلاقی لطیفے بتاتے ہیں اور یہاں تک کہ حمد و ثنا کے گیت جو ہم گاتے تھے اُن کا بھی مذاق اُڑاتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ اُن میں سے کچھ ’’بوس و کنار‘‘ کرتے تھے اور یہاں تک کہ جنسی ملاپ بھی۔ مجھے وہ سوچتے رہنا یاد ہے، ’’یہ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ صرف یہ ہی بچائے جاتے ہیں، اور دُنیا کے باقی تمام لوگ جہنم میں جائیں گے؟‘‘ آخر کار، وہ ’’بہت آگے نکل چُکے ‘‘ تھے۔ آخر کار ، اُنہوں نے ’’گنہگاروں کی دعا‘‘ پڑھی تھی۔ آخر کار ، وہ بپتسمہ لے چُکے تھے!

جب میں نے اپنے پہلے واعظ کی تبلیغ کی تھی، تو وہ اُس کا موضوع تھے۔ نوجوانوں کا سربراہ مجھے ایک کمرے میں لے گیا اور مجھے کہا کہ میں غلط کر رہا ہوں، کہ مجھے کبھی بھی اس طرح کی تبلیغ دوبارہ نہیں کرنی چاہیئے۔ میرا دل ٹوٹ گیا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد اُس نوجوانوں کے سربراہ کو گرجے گھر سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ اُن نوجوان لوگوں میں سے کچھ کے ساتھ جنسی ملاپ کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ خُدا مجھے یہ کہتا ہوا دکھائی دے رہا تھا، ’’شاباش رابرٹ، اپنا کام جاری رکھو ۔ تم میرے لیے تبلیغ کرتے ہو، اور اِس بات کی پرواہ مت کرو کہ مکار لوگ کیا کہتے ہیں۔‘‘ اب تک پچھلے 53 سالوں سے یہی میری حکمتِ عملی رہی ہے – اور میں اِس کو تبدیل نہیں کروں گا! حِزقی ایل میری مثال ہے۔ اُس نے کہا،

’’وہ نہایت بے ریا اور سنگدل لوگ ہیں۔ جن کے پاس میں تجھے بھیج رہا ہوں؛ اور اُن سے کہنا، کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے. . . . اُن کی باتوں کا خوف نہ کرنا، یا خود اُن سے نہ ڈرنا، حالانکہ وہ ایک سرکش قوم ہیں۔ تو میرا کلام اُن کو سنانا، خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں: کیونکہ وہ بہت سرکش ہیں‘‘ (حزقی ایل 2:4،6۔7).

کسی نے کہا، ’’اپنے کام سے کام رکھو۔‘‘ وہ ہی تو میرا اپنا کام ہے! وہی تو ہے جس کو کرنے کے لیے خُدا نے مجھے بلایا! میرا کام ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ آپ ایسے ہی بے دین ہیں جیسے کہ عیسو! میرا کام ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ آپ مسیحی نہیں ہیں! میرا کام ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ آپ جہنم میں جارہے ہیں – شعلوں میں ہمیشہ تک جلنے کےلیے! اور ہمیشہ تک! اور ہمیشہ تک! اور ہمیشہ تک! اور ہمیشہ تک! یہی میرا کام ہے! اور یہ میرا کام ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ آپ صرف یسوع مسیح کے وسیلے سے بچائے جا سکتے ہیں! یہی میرا کام ہے! اگر آپ یسوع مسیح کے خون سے پاک صاف نہیں ہوتے ہیں، تو آپ ہمیشہ کے لیے انتہائی کرب و اذیت میں آگ کے دریا میں جلتے رہیں گے! یہی میرا کام ہے! اگر آپ اتنے ہی بے دین ہیں جتنا کہ عیسو، تو پھر آپ کے لیے کوئی اُمید نہیں ہے – نہ ہی تو اِس جہاں میں، اور نہ ہی اگلے جہاں میں!

’’ میں نے یعقوب سے محبت رکھی، مگر عیسو سے نفرت‘‘
       (رومیوں 9:13).

عیسو ایک ایسا شخص تھا جس نے خُدا کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ اُس نے پیدائش کے کتاب میں ایک دفعہ بھی خُدا کا ذکر نہیں کیا۔ اُس کے تمام خیالات میں خُدا کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی!

اب، میں آپ سے پوچھ رہا ہوں، کیا آپ کبھی خُدا کے بارے میں سوچتے ہیں جب آپ تنہا ہوتے ہیں؟ کیا کبھی خُدا نے آپ کے دِل اور دماغ پر قبضہ کیا ہے؟ آخری کچھ مہینوں میں دُنیا سے دو نوجوان خواتین ہمارے گرجہ گھر میں آئیں۔ اُن کے خاندان مسیحی نہیں ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں کھبی بھی اِس طرح کی تبلیغ نہیں سُنی تھی۔ لیکن اُنہوں نے اپنے آپ سے کہا، ’’یہ درست ہے۔ یہی تو ہے جو خُدا بائبل میں کہتا ہے۔ یہ ہی سچ ہے۔‘‘ وہ دونوں ہی بہت جلد یسوع کے پاس آئیں اور اُس کے ذریعے سے اپنے گناہوں سے بچائی گئیں۔ وہ اب کہہ سکتی ہیں، ’’ہم یسوع کے خُون کے ذریعے سے اپنے گناہوں سے دُھل گئ ہیں! یسوع نے ہمیں بچا لیا ہے!‘‘ ہائے، ہم کس قدر دعا کرتے ہیں کہ یہی آپ کا بھی تجربہ ہو! لیکن یہ آپ کا تجربہ کبھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپ خُدا سے آگاہ نہ ہوں، اور اُس کے بارے میں سوچ نہ رہے ہوں۔ آپ میں سے کچھ مذہبی طور پر تبدیل ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ آپ کافی دُکھی بھی ہیں کہ آپ مذہبی طور پر تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن کیا آپ واقعی خُدا کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟ کیا آپ سوچ رہے ہیں کہ آپ نے خُدا کے خلاف گناہ کیا ہے – یا آپ صرف مذہبی طور پر تبدیل ہونے کی محض کوشش کر رہے ہیں – خُدا کو سوچے بغیر؟ کیا یہ آپ کا معاملہ ہو سکتا ہے؟ اور یہی ہمیں دوسرے نقطے پر لے جاتا ہے۔

2۔ دوئم، یعقوب ایک ایسا شخص تھا جس نے خُدا کے بارے میں سوچا تھا۔

اور خُدا نے کہا،

’’ میں نے یعقوب سے محبت رکھی، مگر عیسو سے نفرت‘‘
       (رومیوں 9:13).

میرا غلط مطلب مت لے لیجیے گا۔ یعقوب ایک گنہگار تھا۔ اُس نے اپنے باپ اضحاق سے جھوٹ بولا تھا۔ اُس نے اپنے بھائی کا پیدائشی حق چھینا تھا۔ وہ ایک جھوٹا اور ایک چور تھا۔ لیکن فضل کے ذریعے سے خُدا پرست بنا، اور یسوع نے اُس بچایا۔ لیکن اِس بات کو ذہن میں رکھیئے کہ ایکدم سے ہی نہیں۔ اُس کو اپنے بھائی کے غصے سے بچنے کے لیے گھر سے بھاگنا پڑا تھا۔ وہ خوفزدہ تھا کہ عیسو اُسے قتل کر دے گا اُس کا پیدائشی حق چھیننے کے لیے۔ وہ بھاگ گیا تھا اور جنگل بیابانوں میں تنہا تھا۔ وہ زمین پر سوتا تھا اور سر کے نیچے تکیے کی جگہ پر پتھر رکھتا تھا۔ خُدا اُس کے پاس ایک خواب میں آیا تھا۔ اور خُدا نے اُس سے کہا، ’’میں تیرے ساتھ ہوں، اور تو جہاں کہیں جائے گا وہاں تیری حفاظت کروں گا‘‘ (پیدائش 28:15). اور جب یعقوب ’’نیند سے جاگا تو اُس نے سوچا کہ ہو نہ ہو خداوند اِس جگہ موجود ہے اور مجھے اس کا علم نہ تھا۔ وہ ڈرگیا اور کہنے لگا: یہ جگہ کیسی پُر جلال ہے! یہ جگہ خدا کے گھر کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے، یہ تو آسمان کا پھاٹک ہے‘‘ (پیدائش 28:16۔17).

وہ ’’اپنی نیند سے جاگا‘‘ اور آخر کار وہ جان گیا خُدا حقیقی تھا! ’’بیداری‘‘ کی کیا شاندار تصویر! کس قدر ہم دعا کرتے ہیں کہ آپ بھی موت کی نیند سے جاگ جائیں اور اِس بات کا اِحساس کریں کہ، آخر کار، وہ ’’خُداوند اِس جگہ پر ہے۔‘‘ یعقوب اُس وقت مذہبی طور پر تبدیل نہیں ہوا تھا، لیکن اُس نے آخر کار جان لیا تھا کہ خُدا حقیقتاً ہے۔ پھر بھی وہ خُدا کو ’’میرے باپ کا خُدا‘‘ کہہ کر بُلاتا رہا۔ اُس نے کہا، ’’میرے باپ دادا کے خُدا نے میرا ساتھ دیا‘‘ (پیدائش 31:5). آخر کار وہ جان ہی گیا کہ واقعی ایک خُدا تھا، لیکن وہ ’’میرے باپ دادا کا خُدا تھا۔‘‘ اِس طرح کام نہیں چلے گا۔ خُدا آپ کے باپ دادا کا خُدا نہیں ہونا چاہیے یا آپ کے پادری کا خُدا نہیں ہونا چاہیے، یا کسی اور کا خُدا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ آپ کا خُدا ہونا چاہیے!

اِس سے پہلے کہ اُس کے باپ دادا کا خُدا اُس کا خُدا بنتا، یعقوب کو بے شمار ہولناک تجربات سے گذرنا پڑا تھا۔ آخر کار، اجنبی سرزمین پر مصیبتوں کا ایک لمبا عرصہ گذارنے کے بعد ، وہ گھر جا رہا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ خوفزدہ تھا کہ اُس کا بھائی عیسو اُسے قتل کر دے گا۔ اُس نے اپنے خاندان کو واپس گھر اپنے سے پہلے اپنے آگے آگے بھیجا، اور بائبل کہتی ہے، ’’تب یعقوب اکیلا رہ گیا اور ایک آدمی پو پھٹنے تک اُس سے کُشتی لڑتا رہا‘‘ (پیدائش 32:24). ڈاکٹر جان گِل (1697۔1771) نے کہا، کہ وہ آدمی جس کے ساتھ یعقوب نے کشتی لڑی وہ قبل ازیں متجسم مسیح تھا۔ یعقوب تنہا تھا جب اُس نے آخر کار مسیح کا سامنا کیا تھا۔ کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا جب آپ مذہبی طور پر تبدیل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ تفتیشی کمرے میں بھی آپ کو یسوع کے پاس تنہا ہی جانا ہے۔

تمام رات مسیح کے ساتھ کُشتی کرتے رہنے کے بعد، یعقوب مذہبی طور پر تبدیل ہو گیا تھا۔ یسوع نے کہا، ’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو‘‘ (لوقا 13:24). یونانی زبان میں ’’کوشش کرنے‘‘ کا ترجمہ ’’ایگونِیزومئے agonizomai ‘‘ کیا گیا ہے۔ ہم اپنے انگریزی زبان کے لفظ ’’اذیت‘‘ کو یہیں سے اخذ کرتے ہیں۔ یعقوب اُس رات اذیت سے گذرا تھا۔ یعقوب نے مسیح کی برکت پانے کی جدوجہد کی تھی۔ اُس نے مسیح سے کہا تھا، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا‘‘ (پیدائش 32:26). میسح نے اُس کو آسانی سے اُس کُشتی کے مقابلے میں ہرا دیا ہوتا، لیکن اِس کے بجائے مسیح نے اُس کو برکت دی اور اُس کو بچایا اور اُس کا نام یعقوب سے بدل کر اسرائیل (خُدا کا شہزادہ) رکھا۔ ’’یعقوب نے اُس مقام کا نام یہ کہتے ہوئے فنی ایل [خُدا کا چہرہ] رکھا:کہ میں نے خُدا کو روبرو دیکھا تو بھی میری جان سلامت رہی‘‘ (پیدائش 32:30).

اوہو، آپ میں سے کچھ یسوع سے کُشتی کرتے رہے ہیں! آپ کے ذہن اور دِل میں اِس نے کس قدر ہلچل پیدا کی ہوگی! یسوع کو تھامے رکھو۔ یسوع سے کہیں، ’’جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا‘‘ (پیدائش 32:26). یسوع آپ کو برکت دے گا! وہ آپ کو آپ کے گناہ سے بچائے گا۔ بائبل میں لکھا ہے، ’’اور اُس نے وہاں اُس کو برکت دی‘‘ (پیدائش 32:29). یسوع کو تھامے رہیں اور وہ آپ کو بھی برکت دے گا! وہ آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مرا۔ اُس نے اپنا خُون آپ کے گناہوں کو دھونے کے لیے بہایا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور وہ اب بھی زندہ ہے آپ کو برکت دینے اور آپ کو بچانے کے لیے۔ جب آپ ایمان کے ساتھ یسوع کا سامنا کریں، آپ پائیں گے کہ وہ انتہائی پیارا ہے۔ پھر آپ مسٹر گریفتھ کے ساتھ مل کر یہ گیت گانے کے قابل ہوں گے،

جسے سُننے کے لیے میں نے پیار کیا اُسے نام دیے گئے
   لیکن کبھی بھی اس قدر پیارا نام نہیں رکھا گیا ہے
یہ میرے اِس دل میں نامِ اِلٰہی جیسا ہے
   قیمتی، قیمتی ہے نام یسوع کا ۔
یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں،
   اور وہ بالکل ویسا ہی ہےجیسا کہ اُس کا پیارا نام ہے،
اور یہی وجہ ہے کہ میں کیوں اُسےاِتنا پیار کرتا ہوں؛
   ہائے، یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں۔
(’’ یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں‘‘ شاعر لیلا لانگ، 1924).

یہ کورس میرے ساتھ گائیے۔ آپ اِس کو سچے دل کے ساتھ گا سکیں گے جب آپ یسوع کے پاس آئیں اور اُس کے ذریعے سے بچائے جائیں۔ وہ جو بچائے گئے ہیں، اِسے ابھی میرے ساتھ گائیں۔

یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں،
   اور وہ بالکل ویسا ہی ہےجیسا کہ اُس کا پیارا نام ہے،
اور یہی وجہ ہے کہ میں کیوں اُسےاِتنا پیار کرتا ہوں؛
   ہائے، یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے تلاوتِ کلام پاک کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ ملاکی1:1۔3 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith:
“Jesus is the Sweetest Name I Know” (by Lela Long, 1924).
’’ یسوع ہی سب سے پیارا نام ہے جو میں جانتا ہوں‘‘ )شاعر لیلا لانگ Lela Long، 1924).

لُبِ لُباب

میں نے یعقوب سے محبت رکھی،مگر عیسو سے نفرت

JACOB HAVE I LOVED, BUT ESAU HAVE I HATED

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جیسا کہ کلامِ پاک میں لکھا ہے، میں نے یعقوب سے محبت رکھی، مگر عیسو سے نفرت‘‘ (رومیوں 9:13).

(ملاکی 1: 2، 3؛ رومیوں 9:11

)

1۔ اوّل، عیسو ایک ایسا شخص تھا جو خُداوند کے بارے میں نہیں سوچتا تھا،
عبرانیوں 12:16، 17؛ زبور 10:4؛ حِزقی ایل 2:4، 6۔7۔

2۔ دوئم، یعقوب ایک ایسا شخص تھا جس نے خُدا کے بارے میں سوچا تھا،
پیدائش 28:15، 16۔17؛ 31:5؛ 32:24؛ لوقا 13:24؛
پیدائش 32:26، 30، 29 .