Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بچائے جانے کا لمس

THE SAVING TOUCH

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
4 دسمبر، 2011 ، خُداوند کے دِن شام کو
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles,
Lord’s Day Evening, December 4, 2011

’’جب اُس نے یسوع کے بارے میں سُنا، اُس نے ہجوم میں گھس کر پیچھے سے یُسوع کی پوشاک کو چُھو لیا۔ کیونکہ وہ کہتی تھی کہ یُسوع کے کپڑوں ہی کو چھُولُوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی ۔ اُسی دم اُس کا خون بہنا بند ہو گیا اور اُسے اپنے بدن میں محسوس ہُوا کہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔ یُسوع نے فوراً جان لیا کہ اُس میں سے قوّت نکلی ہے لہذا وہ لوگوں کی طرف مُڑا اور پوچھنے لگا: کس نے میرے کپڑوں کو چُھوا ہے؟ شاگردوں نے اُس سے کہا: تُو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کس طرح تجھ پر گرے پڑتے ہیں اور پھر بھی تُو پُوچھتا ہے کہ کس نے تجھے چُھوا ؟ (مرقس 5:27۔31).

میں یقین کرتا ہوں کہ آج خُدا بیماروں کو شفا دے سکتا ہے۔ میں نے لوگو ں کو دُعاؤں کے جواب میں شفایاب ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ لیکن شفایابیوں کی وضاحت کی بنیادی وجہ، جیسا کہ ایک اِس عورت کی ہے، یہ ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ یسوع روحانی طور پر ہمیں شفا دے سکتا ہے۔ ہم نے لوگوں کو بےشمار اقسام کی روحانی بیماریوں کے ساتھ دیکھا ہے جو کہ یسوع سے رابطہ کرنے پر شفایاب ہو گئے۔ یہ میری دُعا ہے کہ آج رات کوئی ہجوم کو دھکیلتا ہوا ، ایمان کے ساتھ سامنے آئےاور یسوع کی پوشاک کے کنارے کو چھوئے اور فوراً گناہ کی بیماری سے بچایا جائے۔ اِس عورت کی شفایابی سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

1۔ اوّل، چھونے کے احساس کی غیر یکسانیت۔

غور کریں کہ یسوع کے گرد لوگوں کے ایک بہت بڑے ہجوم کا جمگھٹا تھا جب وہ چلا۔ لوقا کی انجیل ہمیں بتاتی ہے،

’’اِس پر یسوع نے کہا، مجھے کس نے چُھوا؟ جب سب انکار کرنے لگے، تو پطرس اور وہ جو اُس کے ساتھ تھے اُنہوں نے کہا، اے اُستاد، لوگ ایک دوسرے کو دھکیل دھکیل کر تجھ پر گرے پڑتے ہیں، اور تو کہتا ہے، مجھے کس نے چھوا؟‘‘ (لوقا 8:45).

لوگ ایک دوسرے کو دھکیل دھکیل کر یسوع پر گرے پڑ رہے تھے، اُس کو ہر طرف سے چُھو رہے تھے۔ لیکن صرف اُس عورت نے یسوع کو ایمان کے ساتھ چھوا تھا – اور اُس بہت بڑے ہجوم میں سے واحد وہی تھی جو بچائی گئی! یسوع ہمیں بتاتا ہے کہ بہت کم لوگ بچائے جائیں گے۔ اُس نے کہا،

’’تنگ دروازے سے داخل ہو: کیوں کہ وہ دروازہ چوڑاہے، اور راستہ کُشادہ ہے، جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے، اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں: کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے، اور وہ راستہ سُکڑا ہے، جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے، اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7:13۔14).

یسوع نے کہا، ’’اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔‘‘ صرف یہی عورت یسوع کے پاس آئی تھی، اور صرف وہی واحد تھی جو اُس بہت بڑے ہجوم میں بچائی گئی تھی۔

یہ مت فرض کریں کہ اگر آپ واعظ سنتے رہیں گے تو بچائے جائیں گے۔ اِس بات کا بھی فائدہ مت اُٹھائیں کہ آپ کسی دن بچا لیے جائیں گے۔ مجھے شدت کے ساتھ خوف محسوس ہوتا ہے کہ آپ کھوئے ہوئے رہیں گے۔ مجھے انتہائی ڈر لگتا ہے کہ آپ گناہ کی حالت ہی میں جیتے رہیں گے، بغیر کسی جرم کے احساس کے ساتھ، گناہ کے تحت سزایابی کے آنسو بہائے بغیر، اپنے آپ کے لیے یسوع کی ضرورت کے احساس کے بغیر کہ وہ آپ کے گناہ معاف کرے – جب تک کہ آخر میں، ایک ہی لمحے میں، آپ مر جائیں اور جہنم کی کھائی میں گریں۔

’’جہاں اُن کا کیڑا نہیں مرتا، اور آ گ نہیں بجھتی‘‘ (مرقس 9:48).

’’ایسے لوگوں کے عذاب کا دھواں ابد تک اُٹھتا رہےگا: اور اُنہیں دن رات چین نہ ملے گا‘‘ (مکاشفہ 14:11).

ڈاکٹر جان آر. رائیس نے کہا،

      ایسے لوگوں کے عذاب کا دھواں ابد تک اُٹھتا رہے گا۔ اگر سب ایساہی ہونا ہے، تو کوئی اُمید کر سکتا ہے کہ گنہگار کا جہنم کی آگ کے ساتھ بھسم کر دیئے جا چکنے کے بعد اور بند ہو جانے کے بعد، تو دھواں اُوپر اور اُوپر اور بُلندی پر بہت اُوپر ابد تک اُٹھتے رہنا چاہیے۔ لیکن آیت کا باقی حصہ اِس بات کو واضح کرتا ہے کہ گنہگاروں کو وہاں ابد تک صعوبتیں برداشت کرتے رہنی ہیں، کیونکہ اُس میں لکھا ہے: ’’اور اُنہیں دن رات چین نہ ملے گا‘‘! گنہگار جہنم میں دن کے بعد دن اور رات کے بعد رات یعنی ہمیشہ رہیں گے۔ دِن بھر کے عذاب کے بعد رات کوئی سکون نہیں لائے گی، اور ہر نئے دِن کی پہلی روشنی رات بھر کی دہشت کے بعد اُس تکلیف دہ جگہ میں اُن سے مذید زیادہ عذاب کے صرف وعدے کرتی ہے، اُن سے جنہوں نے مسیح کو مسترد کیا اور اُس کا رحم نہیں پائیں گے!
      یہ جہنم کی وہ قسم ہے جس کے بارے میں یسوع بتاتا ہے جب اُس نے کہا، ’’جہاں اُن کا کیڑا نہیں مرتا، اور آ گ نہیں بجھتی۔‘‘ اِس کلام میں اور کیا معنی پوشیدہ ہیں، میں نہیں جانتا۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ اس موجودہ دُنیا میں [اس] جسم کی تمام دردیں اور دُکھ گناہ کے سبب سے ہیں۔ جراثیم کی عفونت، خُون چوسنے والے کیڑوں کے وبائی موذی امراض یعنی طاعون جو انسانی جسم پر کثیر تعداد میں قبضہ کر لیتے ہیں، جیسے کینسر سے گل سڑ جانا – یہ تمام کے تمام گناہ کا نتیجہ ہیں۔ یہ باغِ عدن میں کامل آدم کے ساتھ نہ ہوئے ہوتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایسی ہزاروں ناقابلِ بیان جسمانی مصائب کی دہشتیں جہنم میں گنہگار کا انتظار کرتی ہیں غیر محفوظ موت کے بعد جی اُٹھنے اور آخرت کے دِن سے پرے۔ جب یسوع نے کہا، ’’جہاں اُن کا کیڑا نہیں مرتا، اور آگ نہیں بجھتی،‘‘ اُس کا یقیناً مطلب مسلسل مصائب تھا (جان آر. رائیس، ڈی. ڈی.، جہنم: بائبل اس کے بارے میں کیا کہتی ہے Hell: What the Bible Says About It، خُداوند کی تلوار اشاعت خانہ، 1945، صفحہ17).

یسوع کے پاس ابھی آئیں اِس سے قبل کہ دیر ہو جائے۔

2۔ دوئم، وہ شخص جس کو چُھوا گیا تھا۔

وہ یسوع مسیح تھا جس کو اُس [عورت] نے چُھوا تھا۔ وہ خُدا باپ نہیں تھا۔ وہ روح القُدس نہیں تھا۔ وہ خُود یسوع میسح تھا جس کو اُس نے چُھو ا تھا۔ میں آج رات کو یہ آپ سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اُس کی پوشاک ہی کو چُھو لیں تو آپ بچائے جائیں گے۔ یسوع کا ایک ہلکا سا لمس ہی آپ کو فوری نجات دلا دے گا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کونسا گناہ کیا ہے، وہ آپ کو شفایاب کرے گا۔

یسوع خُدائی انسان ہے، پاک تثلیث کی دوسری ہستی۔ وہ جنت سے ہمارے درمیان رہنے کے لیے آیا، گتسمنی کے باغ میں ہمارے گناہوں کی اذیت جھیلنے کےلیے، اپنا پاک مقدس خُون بہانے کے لیے تاکہ ہمارےتمام گناہ دُھل جائیں، ہمیں حقیقی گناہ کےہولناک اثرات سے نجات دلانے کے لیے، ہمیں مُردوں میں سے زندگی دینے کےلیے!

’’کیونکہ خُداوند نے دُنیا میں بیٹے کو اس لیے نہیں بھیجاکہ دُنیا کو سزا کا حکم سُنائےبلکہ اِس لیے کہ دُنیا کو اُس کے وسیلے سے نجات بخشے‘‘ (یوحنا 3:17 ).

’’ایک معجزہ چاہیئے۔‘‘ یہ گائیں!

ستاروں کو جگہ پر رکھنے کے لیے ایک معجزہ چاہیئے،
   دُنیا کو خَلا میں لٹکانے کے لیے ایک معجزہ چاہیئے؛
لیکن جب اُس نے میری روح بچائی، مجھے پاک صاف اور کامل بنایا،
   محبت اور فضل کا ایک معجزہ چاہیئے!
(’’ایک معجزہ چاہیئے‘‘ شاعر جان ڈبلیو. پیٹرسن، 1921۔2006).

3۔ جس انداز سے یسوع کو چُھوا گیا تھا۔

آج ہم یسوع کو جسمانی طور پر نہیں چُھو سکتے، کیونکہ اب وہ آسمان پر اُٹھا لیا گیا ہے، خُدا باپ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے۔ لیکن آپ اب بھی یسوع کو ایمان کے ساتھ چُھو سکتے ہیں۔ اور جب آپ ایسا کریں گے تو وہ آپ کو فضیلت دے گا جو آپ کی روح کو تمام گناہوں سے پاک صاف کرے گی۔ یہ ’’لمس‘‘ روحانی ہے۔ جب آپ یسوع کو ایمان کے ساتھ چُھوتے ہیں تو آپ بچائے جاتےہیں۔ یسوع نے عورت سے کلام کیا تھا جب وہ شفایاب ہو گئی تھی۔ اُس نے کہا،

’’بیٹی، تیرے ایمان نے تجھے اچھا کردیا؛ سلامتی سے چلی جا، اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ‘‘ (مرقس 5:34).

یسوع کو ’’چُھونے‘‘ کا مطلب ایسے ہی ہے جیسے اُس کو دیکھنا ہے۔ اُس عورت کو یسوع کو دیکھنا پڑا تھا نہیں تو وہ اُس کو چُھو نہیں پاتی۔ بے شک، اُس عورت نے یسوع پر بھروسہ کیا تھا، ورنہ تو وہ اُس کو چُھوتی بھی نہیں۔ یسوع پر اُس کا بھروسہ واضح ہو جاتا ہے جب وہ کہتی ہے کہ،

’’اگر میں یسوع کے کپڑوں ہی کو چُھولوں گی ، تو میں اچھی ہو جاؤں گی‘‘ (مرقس 5:28).

یسوع پر بھروسہ کرنے کا مطلب ایسا ہی ہے جیسے اُس کے پاس آنا ہے۔ بیشک، اُس عورت نے یسوع کو چُھوانہ ہوتا اگر وہ اُس کے پاس نہ آئی ہوتی۔

’’جب اُس نے یسوع کے بارے میں سُنا، اُس نے ہجوم میں گُھس کر پیچھے سے. . . ‘‘ (مرقس 5:27).

اُس عورت کو یسوع کو چُھونے کے لیے اُس کے پاس آنا پڑا تھا۔ کیا آپ آج کی رات یسوع کو چُھوئیں گے؟ کیا آپ یسوع کو آج رات کو دیکھیں گے؟ کیا آپ آج رات کو یسوع پر بھروسہ کریں گے؟ کیا آپ آج رات کو یسوع کے پاس آئیں گے؟

میں آج بھی اُس خُوبصورت دِن کو یاد کرتا ہوں جب یسوع نے مجھے بچایا تھا۔ اچانک، ایک لمحے میں، میں نے یسوع کو چُھوا تھا، یسوع پر بھروسہ کیا تھا، یسوع کے پاس آیا تھا۔ یسوع کی طرف دیکھا تھا۔ یہ سب کُچھ ایک لمحے میں ہوا تھا۔ یسوع میرے لیے وہاں پر تھا۔ میں نے یسوع کی طرف دیکھا، اُس پر بھروسہ کیا، اُسے چُھوا اور ایمان کے ساتھ یسوع کے پاس آیا۔ اُس لمحے میں تبدیلی کا معجزہ وقوع پزیر ہوا تھا، اور میں بچایا گیا تھا! ’’ایک معجزہ چاہیئے۔‘‘ اِسے گائیں!

ستاروں کو جگہ پر رکھنے کے لیے ایک معجزہ چاہیئے،
   دُنیا کو خَلا میں لٹکانے کے لیے ایک معجزہ چاہیئے؛
لیکن جب اُس نے میری روح بچائی، مجھے پاک صاف اور کامل بنایا،
   محبت اور فضل کا ایک معجزہ چاہیئے!

جب عورت نے یسوع کوچُھوا تو یسوع نے کہا،

’’کسی نے مجھے ضرور چُھوا ہے: کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ مجھ میں سے قوت نکلی ہے‘‘ (لوقا 8:46).

یونانی زبان میں ’’قوت virtue‘‘ کا مطلب ’’دُنامِس dunamis‘‘ ہے۔ اِس یونانی لفظ سے ہم انگریزی کا لفظ ’’ڈائینامائٹ dynamite‘‘ لیتے ہیں۔ اِس کا مطلب ’’قوت ‘‘ اور (انتہائی) ’’مضبوطی‘‘ ہیں۔ خُدا کی قوت اور مضبوطی یسوع سے نکلی تھی، اور جیسے ہی اُس عورت نے یسوع کی پوشاک کو چُھوا تھا اُس [قوت اور مضبوطی] نے عورت کو یسوع کے ساتھ متحد کر دیا تھا۔ سپرجیئن نے کہا،

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب عورت کی انگلیوں نے یسوع کی پوشاک کو چُھوا تھا، اُسی وقت اُن دونوں کے درمیان ایک رابطہ قائم ہو گیا تھا، جس کے ساتھ الہٰی فضیلت جگمگائی تھی؟ میں اِس کی مثال بجلی کی چمک سے نہیں دوں گا، کیونکہ اس طرح [کی مثال] خود آپ کو سمجھ آئے گی؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایمان گنہگار اور مسیح کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے، اور اِسی کے ذریعے سے شفایابی کی فضیلت ہم تک پہنچتی ہے (سی. ایچ. سپرجیئن، ’’ایک لمس،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سےThe Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگرِم اشاعت خانہ، دوبارہ اشاعت 1973، جلد 28، صفحہ 45).

جب آپ اپنے آپ کو مسیح کے ہاتھوں میں دیتے ہیں تو وہ آپ کو گناہ سے بچائے گا۔ لوتھر نے کہا، ’’میرا اپنے آپکو بچانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ یسوع مسیح نجات دہندہ ہے: میں اپنی روح کو مکمل طور پر یسوع کے حوالے کرتا ہوں۔‘‘ جب آپ یسوع کے پاس آتے ہیں، اور یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اُسی پر انحصار کرتے ہیں، آپ وقت کے ایک لمحے میں گناہ سے بچائے جاتے ہیں!

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ مرقس 5:24۔34 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
’’ایک معجزہ چاہیئے‘‘ (شاعر جان ڈبلیو. پیٹرسن، 1921۔2006).

لُبِ لُباب

بچائے جانے کا لمس

THE SAVING TOUCH

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب اُس نے یسوع کے بارے میں سُنا، اُس نے ہجوم میں گھس کر پیچھے سے یُسوع کی پوشاک کو چُھو لیا۔ کیونکہ وہ کہتی تھی کہ یُسوع کے کپڑوں ہی کو چھُولُوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی ۔ اُسی دم اُس کا خون بہنا بند ہو گیا اور اُسے اپنے بدن میں محسوس ہُوا کہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔ یُسوع نے فوراً جان لیا کہ اُس میں سے قوّت نکلی ہے لہذا وہ لوگوں کی طرف مُڑا اور پوچھنے لگا: کس نے میرے کپڑوں کو چُھوا ہے؟ شاگردوں نے اُس سے کہا: تُو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کس طرح تجھ پر گرے پڑتے ہیں اور پھر بھی تُو پُوچھتا ہے کہ کس نے تجھے چُھوا ؟ (مرقس 5:27۔31).

1۔ اوّل، چھونے کے احساس کی غیر یکسانیت، لوقا 8:45؛ متی 7:13۔14؛
مرقس 9:48؛ مکاشفہ 14:11 .

2۔ دوئم، وہ شخص جس کو چُھوا گیا تھا، یوحنا 3:17.

3۔ جس انداز سے یسوع کو چُھوا گیا تھا، مرقس 5:34، 28؛ 27، لوقا 8:46 .