Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

عا لمگیر گناہ، مخصوص گناہ، اور گناہ کا علاج

UNIVERSAL SIN, PARTICULAR SIN,
AND THE CURE FOR SIN
(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 7)
(SERMON NUMBER 7 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
24 جولائی، 2011 ، صبح، خُداوند کے دِن
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, July 24, 2011

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

ڈاکٹر رچرڈ لینڈ جنوبی پبتسمہ دینے والے اخلاقیات کے اجتماع اور مذہبی خود مختیار ی کے گروہ کے صدر ہیں۔ ڈاکٹر لینڈ جانتے ہیں کہ ہم ایک ایسی تہذیب میں رہ رہے ہیں جو کہ حیرت انگیز طور پر مسیحیت کے بنیادی حقائق سے لا علم ہیں۔ انہوں نے کہا،

میں نے ٹائم میگزین کے ایک نشر پارے میں امریکہ . . . میں مذہبی فقدان کے بارے میں پڑھا۔ ایک جوڑا اپنی عبادت کر چکنے کے بعد مقررہ پادری سے ملنے آیا، اور اُنہوں نے کہا، ’’ہمارا نو عمر بیٹا یہ جاننا چاہتا ہے کہ جمع کے نشان پر کونسا آدمی لٹک رہا ہے۔‘‘وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ یسوع تھا اور وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ صلیب تھی (’’جمع کے نشان پر آدمی The Man on the Plus Sign،‘‘ ورلڈWorld میگزین، یکم اگست، 2009, صفحہ 24).

یہ بہت حیرت ناک ہے کہ بے شمار لوگ جو اِس مُلک میں پیداہوئے اور بڑھے ہوئے ہیں اُنہیں یسوع کون ہے اور اُس نے کیا کِیا تھا کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ لیکن آپ، یہاں تک کہ ایک اِتوار کو بھی، ہمارے گرجہ گھر میں یہ جانے بغیر نہیں جا سکتے کہ یسوع کون ہے اور کیوں وہ گنہگاروں کے متبادل کے طور پر صلیب پر مرا تھا! جب یسوع صلیب پر مرا تھا، اُس نے ہمارے گناہ اُٹھائے تھے اور اُن کے لیے کفارہ ادا کیاتھا۔

یہ خیال کہ مسیح ہمارے گناہ برداشت کرے گا اشعیا 53 باب میں بار بار دھرایا گیا ہے۔

’’یقیناً اُس نے ہمار ی بیماریاں برداشت کیں اور ہمارے غم اُٹھا لیے‘‘
      (اشعیا 53:4).

لیکن وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا، اور ہماری بد اعمالی کے باعث کُچلا گیا‘‘ (اشعیا 53:5).

جو سزا ہماری سلامتی کا باعث ہوئی وہ اُس نے اُٹھائی‘‘
       (اشعیا 53:5).

’’اُس کے کوڑے کھانے سے ہم شفایاب ہوئے‘‘ (اشعیا 53:5).

’’اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

’’اور میرے لوگوں کے گناہوں کے سبب اُس پر مار پڑی‘‘
       (اشعیا 53:8).

’’خُداوند اُس کی جان کو گناہ کی قربانی قرار دیتا ہے‘‘ (اشعیا 53:10).

وہ اُن کی بُرائیاں خود اُٹھا لے گا‘‘ (اشعیا 53:11).

’’اُس نے بُہتیروں کے گناہ اُٹھا لیے (اشعیا 53:12).

بار بار اشعیا 53 باب میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ مسیح اپنے آپ پر ہمارے جرم لاد لے گا، ہمارے گناہوں کے لیے ہماری جگہ پر مصائب برداشت کرے گا۔

لیکن اب، ہمارے اس کلامِ پاک میں ایک نیا خیال پیش کیا گیا ہے۔ یہاں ہمیںوہ وجہ بتائی گئی ہے جس کے سبب سے مسیح کو مصیبت برداشت کرنی پڑی، بے شک وہ خود بے گناہ تھا، لیکن اُس کو انسان کا جرم برداشت کرنا پڑا۔

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘
       (اشعیا 53:6).

یہ کلامِ پاک قدرتی طور پر تین حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

1۔ اوّل، تمام بنی نوع انسان کے گناہ کا عمومی اعتراف۔

نبی نے کہا،

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے. . . ‘‘ (اشعیا 53:6).

یہاں ہمارے پاس بنی نوع انسان کی عالمگیری گنہگاری سے متعلق ایک واضح بیان ہے۔ ’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔‘‘

’’ہم سب پہلے ہی ثابت کر چُکے ہیں کہ یہودی اور غیر یہودی، سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں؛ جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے، کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں: کوئی سمجھ دار نہیں، کوئی خُدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:9۔11).

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے،‘‘ ہم میں سے ہر ایک!

اُن بھیڑوں کی مانند جو خداوند کے قانون کی باڑھ توڑ کر جا چکی ہیں، ہم سب بھٹک چکے ہیں، ہم سب خُدا سے بھٹک کر دور ہو چُکے ہیں۔ پطرس رسول نے کہا،

’’پہلے تم بھیڑوں کی طرح بھٹکتے پھرتے تھے‘‘ (1۔پطرس 2:25).

پطرس نے جو یونانی لفظ استعمال کیا ہے اُس کا مطلب ہے کہ سچائی اور پناہ گاہ سے دور بھٹکنا، دھوکہ کھانا (ناقابلِ تسخیر). یہی مقدس کلامِ پاک میں بنی نوع انسان کی عالمگیری وضاحت ہے۔

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے. . . ‘‘ (اشعیا 53:6).

انسان کا موازنہ ایک جانور سے کیا گیا ہے کیونکہ گناہ اُس کو رُسوا کرتا ہے – اور وہ جانوروں جیسا ہو جاتا ہے۔ لیکن ہمارا موازنہ ایک ذہین جانور سے نہیں کیا گیا ہے۔ نہیں، انسان کا موازنہ ایک سادہ – ذہن رکھنے والی بھیڑ سے کیا گیا ہے۔

آپ اس شہر میں رہتے ہیں، اس لیے آپ غالباً بھیڑ کی بیوقوفیوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں۔ لیکن بائبل کے زمانے میں لوگ بہت اچھی طرح سے جانتے تھے کہ بھیڑیں کتنی بے وقوف ہوتی ہیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ چرواہے کے ذریعے سے اُن کی نگرانی انتہائی احتیاط کے ساتھ کی جائے نہیں تو وہ بھٹک جائیں گی۔

بھیڑیں صرف ایک بات میں اچھی ہیں – بھٹک جانے میں! اگر باڑھ میں صرف ایک سوراخ ہے، تو بھیڑیں اُسے تلاش کر لیں گی اور بھٹک جائیں گی۔ اور پھر بھی، ایک دفعہ بھیڑ اپنے باڑے سے نکل جائے، وہ کبھی واپس آنے کی کوشش نہیں کرتی۔ بھیڑیں محفوظ پناہ گاہ سے دور اور دور بھٹکتی جاتی ہیں۔ اور ایسا ہی انسان ہے۔ وہ بدی کرنے کے لیے بہت عقلمند ہے، لیکن یہ جاننے کے لیے کہ کیا بہتر ہے، وہ بے وقوف ہے۔ جیسے یونانی دیومالائی کہانیوں میں آرگوس تھا، انسان کے پاس گناہ کی تلاش کے لیے سینکڑوں آنکھیں ہیں؛ لیکن جب خدا کو ڈھونڈنے کی بات آتی ہے تو وہ اتنا ہی اندھا ہے جتنا برتمائی ! پولوس رسول نے گناہ کی عالمگیری بیماری کے بارے میں بتایا ہے جب اُس نے کہا،

’’اُس وقت تمھارا مسیح سے کوئی تعلق نہ تھا، تم اسرائیلی قوم میں شمار نہیں کیے جاتے تھے، اور اُن عہدناموں سے خارج تھے جن کا وعدہ خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، تم اس دنیا میں خدا کے بغیر نااُمیدی کی حالت میں زندگی گزارتے تھے‘‘ (افسیوں 2:12).

’’اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے، اور وہ اپنی سخت دلی کے باعث جہالت میں گرفتار ہیں، اور خُدا کی دی ہوئی زندگی میں اُن کا کوئی حصّہ نہیں ‘‘ (افسیوں 4:18).

یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ بنی نوع انسان خدا سے بھٹک گیا ہے۔

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے. . . ‘‘ (اشعیا 53:6).

یہاں پر پھر ، ہمارے پاک کلام میں، تمام بنی نوع انسان کے گناہ کا ایک عمومی اعتراف ہے۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نسلِ انسانی سینکڑوں جھوٹے مذاہب اور جھوٹے عقائد میں پڑ کر خدا سے دُور ہو چکی ہے۔ ’’اُن کی عقل تاریک ہو گئی ہے، اور وہ اپنی سخت دلی کے باعث جہالت میں گرفتار ہیں، اور خُدا کی دی ہوئی زندگی میں اُن کا کوئی حصّہ نہیں‘‘ (افسیوں 4:18).

2۔ دوئم، ہر ایک کے مخصوص گناہ کا ذاتی اعتراف۔

کلام پاک جاری رہتا ہے،

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ہیں؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی. . . ‘‘ (اشعیا 53:6).

نسلِ انسانی کے گناہ کے عمومی اعتراف کو ہر انسان کے مخصوص گناہ کے ذاتی اعتراف کی حمایت حاصل ہے۔ ’’ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی۔‘‘ کوئی بھی، اپنی مرضی سے، اپنے آپ کو خُدا کی راہ پر موڑ نہیں سکتا ہے۔ ہر معاملے میں ہر شخص نے ’’اپنی راہ خود‘‘ چُنی ہے۔ گناہ کی اصل جڑ یہیں پوشیدہ ہے – اپنی راہ خود چُننے میں، خُدا کی مرضی کے بر خلاف۔ ہم خود اپنی زندگیوں کو قابو میں کرنا چاہتے تھے۔ ہم خود اپنے منصوبوں پر چلنا چاہتے تھے۔ ہم خُود کو خُدا کے حوالے نہیں کریں گے۔

کلامِ پاک ظاہر کرتا ہے کہ ہر ایک کا خود اپنا ایک خاص گناہ ہے، ’’اُس کی اپنی راہ۔‘‘ ہر آدمی اور عورت کا ایک اہم گناہ ہوتا ہے جو کہ کسی نہ کسی طرح دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ دو بچے، جن کی پرورش ایک ہی والدین نے کی تھی، اُن کے ہراساں کردینے والے عادتاً مختلف گناہ ہوں گے۔ ایک عادتاً اپنے طریقے سے گناہ کرے گا، تو دوسرا کسی اور طریقے سے۔ ’’ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی ہے۔‘‘ ایک دائیں طرف مُڑتا ہے تو دوسرا بائیں طرف۔ لیکن دونوں خُدا کی راہ کو مسترد کرتے ہیں۔

مسیح کے زمانے میں، شراب خانے والے(ساقی) تھے، جو خُدا کی شریعت کے انتہائی خلاف زندگی گزارتے تھے۔ دوسری طرف، فریسی تھے، وہ مغرور اور خود کو راستباز سمجھتے تھے، اور یہ سوچتے تھے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہیں۔ اِن کے علاوہ صدوقی بھی تھے، جو فرشتوں اور بدروحوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اُنہوں نے اتنی گنہگار زندگی نہیں گزاری جتنی شراب خانے والے (ساقیوں) نےیا اتنی توہماتی زندگی نہیں گزاری جتنی فریسیوں نے، لیکن وہ بھی خُود اپنے طریقوں سے خُدا کے سچ سے متنفر تھے۔ اُن میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ،

’’ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی. . . ‘‘ (اشعیا 53:6).

آپ میں سے کچھ نے شاید مسیح گھرانوں میں پرورش پائی ہے، اور پھر بھی آپ نے انجیل کے نور کو مسترد کر کے گناہ کیا ہے۔ یہ آپ کی ’’اپنی راہ‘‘ ہے۔ دوسرے شاید کسی مخصوص گناہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔جب آپ اُسے یاد کرتے ہیں، تو گہری مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی آپ میں سے کچھ جرم کے ایک مسلسل احساس کے ساتھ ہوں تب یسوع کے پاس آتے ہیں اور معافی اور امن و شانتی تلاش کرتے ہیں۔

ایک اور شخص کا کہناہے کہ، ’’میں نے اپنا دل سخت کر لیا ہے۔ مجھے گناہ کے تحت سزایابی اور مسیح کا احساس ہوتا تھا، لیکن اب مجھے نہیں ہے۔ اب میں خوفزدہ ہوں کہ خُداوند نے اپنے قہر میں قسم کھائی ہےکہ میں اُس[خُداوند] کی آغوش میں داخل نہیں ہو سکوں گا۔ میں خوفزدہ ہوں کہ خُداوند نے مجھے بُھلا دیا ہے۔‘‘ لیکن آپ نے ہمارے پاک کلام کے بقایا حصّے پر یقین نہیں کیا ہے، کیونکہ اس میں ایک تیسری شق بھی ہے۔ اور، اُن اختتامی الفاظ میں، آپ کے لیے اُمید ہے!

3۔ سوئم، اپنے لوگوں کے گناہوں کے لیے مسیح کی متبادل اور تبدلیاتی موت۔

برائے مہربانی کھڑے ہویئے اور مکمل آیت کو پڑھیے، خاص طور پر آخری شِق پر خصوصی توجہ دیجیئے، ’’اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی ہے۔‘‘

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘
       (اشعیا 53:6).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ایڈورڈ جے. ینگ کا کہنا ہے،

آیت کا پہلا آدھا حصّہ خادم کے مصائب کی وجوہات کا تعین کرتا ہے، اور دوسرا حصّہ اِس بات کو سچّا ثابت کرتا ہے کہ خداوند نے [ہماری] بداعمالیوں، بدکاریوں کا بوجھ اُس پر لاد کر خُود خادم [یسوع] کو مصائب برداشت کرنے کے لیے تیار کیا۔ یہاں پر فعل [’’لادنا‘‘] کا مطلب ہے بہت شدت کے ساتھ ٹکرانا یا ضرب لگانا۔ ہماری بدکاریاں جن کے ہم قصور وار ہیں ہم پر واپس ضرب نہیں لگاتیں، جیسا کے ہم شاید صحیح طور پر توقع کرتے ہیں لیکن ہمارے بجائے ہماری [جگہ] [یسوع] سے ٹکراتی ہیں۔ خُداوند [خُدا] نے ہمارے قصوروں کو اُس [یسوع] سے ٹکرانے کا سبب بنایا. . . وہ قصور جو ہم سے تعلق رکھتے تھے خُدا نے سبب بنایا کہ اُس سے ٹکرائیں [یعنی کہ] اُس نے باحیثیت ہمارے متبادل کے وہ سزا برداشت کی جو ہمارے گناہوں کے لیے درکار تھی. . . چرواہے نے اپنی زندگی بھیڑوں کے لیے قربان کردی (ایڈورڈ جے. ینگ، پی ایچ. ڈی. ، اشعیا کی کتاب The Book of Isaiah، عئیرڈ مینز، 1972،جلد سوئم، صفحات 349۔350).

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘
       (اشعیا 53:6).

ایک واعظ میں جس کا عنوان تھا ’’انفرادی گناہ جو یسوع پر لادا گیا،‘‘ سپرجئین نے کہا،

یہاں گناہوں کے انبار ہیں، مجروع کرنے والے [بیہودہ] گناہ۔ میں اُن کا تذکرہ نہیں کرسکتا، وہ داؤد کے گناہوں سے بہت مختلف تھے۔ سیاہ گناہ، سُرخی مائل گناہ، وہ داؤد کے تھے، لیکن داؤد کے گناہ بالکل بھی ویسے نہیں تھے جیسے کہ منّسی کے تھے؛ منّسی کے گناہ ویسے نہیں تھے جیسے کے پطرس کے – پطرس نے ایک بہت ہی مختلف [طریقے سے] گناہ کیا تھا؛ اور وہ عورت جو کہ گنہگار تھی، آپ اُس کا پطرس سے موازنہ نہیں کر سکتے، نا ہی اگر آپ اُس کے کردار پر نظر ڈالیں تو اُس کا [موازنہ] لُدیہ سے کر سکتے ہیں؛ نا ہی اگر آپ لُدیہ کے بارے میں سوچیں، تو اُس کے اور فلّپی کے داروغہ کے درمیان [فرق کا احساس ] کیے بغیر اُسے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تمام ایک جیسے ہیں، وہ تمام بھٹک چُکے تھے، لیکن وہ تمام مختلف ہیں، اُن میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ لیکن . . . خُداوند نے [’’بدکاری اُس پر لاد دی‘ سب کی] . . . جب آپ عظیم انجیل کی دوائی تک پہنچتے ہیں، تو خُداوند یسوع مسیح کا بیش بہا خون وہاں پاتے ہیں. . . جس کو بوڑھے ڈاکٹر اکسیر اعظم کہا کرتے تھے، ایک ایسی عالمگیر دوائی جو ہر مرض کا علاج ہے اور جرم میں گناہ کے تمام اختلافات کو پرے رکھتی ہے ایسے جیسے کہ وہ بنائی ہی اُس گناہ کےلیے گئی تھی۔ صرف اور صرف اُسی گناہ کے لیے (سی. ایچ. سپرجئین، ’’انفرادی گناہ جو یسوع پر لادا گیا،‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ سے، پِلگِرم اشاعت خانہ، 1977 دوبارہ اشاعت، جلد XVI ، صفحات 213۔214).

یسوع کے پاس آئیں۔ اپنے آپ کو اُس [یسوع] کے سامنے جھکائیں۔ اُس [یسوع] پر بھروسہ کریں اور آپ کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوں گے، کیونکہ، ’’خداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی۔‘‘

قصوروار، لائق مذمت اور بےبس، ہم تھے؛
   بے داغ خُدا کا برّہ وہ تھا؛
’’مکمل کفارہ، ‘‘ کیا یہ ہو سکتا ہے؟
   ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ!
(’’ ھیلیلویاہ! کیسا نجات دہندہ! شاعر فلپ پی. بلِس، 1838۔1876).

مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے حمد نمبر 7 کی پہلی آیت گائیں۔

جیسا میں ہوں، ایک التجا کے بغیر،
   لیکن وہ اُس کا خُون میرے لیے بہا تھا؛
اور وہ جیسا میرے لیے چاہتا ہے میں اُس کے پاس جاؤں
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’جیسا میں ہوں Just As I Am‘‘ شاعر شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871).

کیا آپ یسوع کے پاس آئیں گے؟ کیا آپ اپنے گناہ کو اُس کے خُون سے دھوئیں گے، اور صلیب پر اُس کی متبادل قربانی کی وجہ سے فیصلے سے بچائے جائیں گے؟ خُدا باپ آپ کو ایمان بخشے کہ آپ آسمان پر اُٹھائے گئے نجات دہندہ کے پاس آئیں! آمین۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَینDr. Kreighton L. Chan ۔ اشعیا 52:13۔ 53:6 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت گایا تھا مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
’’جو میری روح میں جوش لاتا ہے وہ یسوع ہے‘‘ (شاعر تھُورو ہیرس، 1931).

لُبِ لُباب

عا لمگیر گناہ، مخصوص گناہ، اور گناہ کا علاج

UNIVERSAL SIN, PARTICULAR SIN,
AND THE CURE FOR SIN
(اشعیا 53 باب پر واعظ نمبر 7)
(SERMON NUMBER 7 ON ISAIAH 53)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہیمرز کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سب کی بدکاری اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا 53:6).

(اشعیا 53:4، 5، 6، 8، 10، 11، 12)

1۔ اوّل، تمام بنی نوع انسان کے گناہ کا عمومی اعتراف،
اشعیا 53:6 الف؛ رومیوں 3:9۔11؛ 1۔پطرس 2:25؛ افسیوں 2:12؛ 4:18 .

2۔ دوئم، ہر ایک کے مخصوص گناہ کا ذاتی اعتراف، اشعیا 53:6ب.

3۔ سوئم، اپنے لوگوں کے گناہوں کے لیے مسیح کی متبادل اور تبدلیاتی موت، اشعیا 53:6 ج.