Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

ابراھام – حقیقی تبدیلی کی ایک تشبیہہ

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 62)
ABRAHAM – A TYPE OF REAL CONVERSION
(SERMON #62 ON THE BOOK OF GENESIS)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
3 جولائی، 2011، خُداوند کے دِن کی شام

’’اب خداوند نے ابرام سے کہا: تُو اپنے وطن اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو اور اُس ملک میں چلا جا جو میں تجھے دکھاؤں گا‘‘ (پیدائش 12:‏1).

’’ابرام خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِسے ابرام کے حق میں راستبازی شمار کیا‘‘ (پیدائش 15:‏6).

’’اور جب ابرام ننانوے برس کا ہُوا تب خداوند اُس پر ظاہر ہُوا: اور اُس سے کہا: میں خدائے قادر ہوں۔ تُو میرے راستوں پر چل اور کامل ہو‘‘ (پیدائش 17:‏1).

ڈاکٹر اے۔ بی۔ سمپسن Dr. A. B. Simpson (1843۔1919) نے کہا کہ ’’ابراھام کا ایمان ... بلاشبہ ہے، تمام زمانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ اور یوں اِس عظیم بزرگ کو ’اُن تمام کا باپ جو یقین کرتے ہیں‘ کہا گیا ہے، رومیوں4:‏11‘‘ (اے۔ بی۔ سمپسن، ڈی۔ڈی۔، بائبل کے تبصرے میں مسیح The Christ in the Bible Commentary: وِنگ سپریڈ پبلیشرز Wing Spread Publishers، دوبارہ اشاعت2009، صفحہ78)۔

اِس نقطے پر میں ڈاکٹر سمپسن کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔ ابراھام ’’ایمان کا تمام زمانوں کے لیے نمونہ [مثال کی سب سے اہم قسم] ہے۔‘‘ پولوس رسول نے اُن کے بارے میں بتایا ہے ’’جو ہمارے باپ ابراھام کے اُس ایمان کی پیروی کرتے ہیں‘‘ (رومیوں4:‏12)۔ یہ ہی آج رات میرا موضوع ہے، ’’ابراھام – حقیقی تبدیلی کی ایک تشبیہہ۔‘‘ ایمان کی پیروی سے‘‘ میری مُراد وہ ہے جو سپرجئیں نے کہا تھا، ’’ہم درجہ بندیوں سے ایمان کے لیے آتے ہیں ... عموماً ہم ایمان تک مراحل میں پہنچتے ہیں‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجئین، ذیلی دروازے کے اِردگرد Around the Wicket Gate، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1992، صفحہ 57)۔

اِس واعظ میں پیدائش میں سے میں تین اہم تلاوتیں پیش کروں گا جو عظیم بزرگ ابراھام کی حقیقی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔

I۔ اوّل، ابراھام کی بُلاہٹ۔

مہربانی سے پہلی تلاوت دوبارہ کھولیے، اور اِسے باآوازِ بُلند پڑھیے،

’’اب خداوند نے ابرام سے کہا: تُو اپنے وطن اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو اور اُس ملک میں چلا جا جو میں تجھے دکھاؤں گا‘‘ (پیدائش 12:‏1).

خُدا نے ابرام کو بُلایا ’’جب وہ حاران میں مقیم ہونے سے پہلے میسوپتامیہ میں رہتا تھا، خُدا نے اُس سے کہا، اپنے وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اُس ملک میں جا بس جو میں تجھے دکھاؤں گا‘‘ (اعمال 7:‏2۔3)۔

خُدا نے ابرام کو اُور کے کسدیوں کی کافرانہ بُت پرستی کی تاریکی میں سے باہر بُلایا تھا۔ لیکن ابرام نے خُدا کی مکمل فرمانبرداری نہیں کی تھی۔ پیدائش12:‏1 کہتی ہے، ’’اب خداوند نے ابرام سے کہا تھا: تُو اپنے وطن اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو اور اُس ملک میں چلا جا...‘‘ (پیدائش 12:‏1). اِس کے بجائے، ابرام نے صرف جزوی طور پر خُدا کی فرمانبرداری کی تھی۔ اُس نے اُور کو چھوڑ دیا تھا، لیکن اُس نے اپنے بتوں کی پرستش کرنے والے باپ کو نہیں چھوڑا تھا۔ اِس کے بجائے اُس نے تاراح اور اپنے بھتیجے لوط کو اپنے ساتھ لیا۔ اور کنعان جانے کے بجائے، وہ حاران میں رُک گیا، اور وہیں ٹھہرا رہا جب تک کہ اُس کا باپ وفات نہیں پا گیا (دیکھیں پیدائش 11:‏31۔32)۔ آرتھر ڈبلیو۔ پنک Arthur W. Pink نے کہا، ’’ابرام کی بُلاہٹ ہمیں ایمان کی زندگی کا نقطۂ آغاز دیکھاتی ہے۔ پہلی ضرورت دُنیا سے علیحدگی ہے… ابرام کا مذید کوئی اور الہٰام ملنے کا اندراج نہیں ملتا جب تک کہ [خُدا کی] بُلاہٹ کامل طور پر پوری نہیں کی گئی… یہ اُس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ اِس دُنیا سے جس کی خُدا کے ساتھ رفاقت [مسیح کے وسیلے سے] ممکن ہے حقیقی تبدیلی نہیں ہوتی ہے‘‘ (آرتھر ڈبلیو۔ پنک، پیدائش میں ثمرپانا Gleanings in Genesis، موڈی پریس، اشاعت 1981، صفحات 141، 143، 144).

آج یہ ہمارے لیے کیسی اچھی ایک مثال ہے! ہجرت کرنے والوں کی ترقی Pilgrim’s Progress میں جان بنیعن John Bunyan نے ایک نجات نہ پائے ہوئے آدمی کے بارے میں بتایا جس کو ویسے ہی بُلایا گیا تھا جیسے کہ ابرام کو بلایا گیا تھا، لیکن اُس کو مسیح میں نجات پانے کے لیے اپنی ہجرت کے سفر میں’’تباہی کا شہر‘‘ چھوڑنا پڑتا تھا، اور خود اپنے خاندان کو چھوڑنا پڑتا تھا۔

خُدا نے ’’آپ کو تاریکی میں سے باہر اپنی شاندار پُرنور روشنی میں بُلایا‘‘ ہے (1پطرس2:‏9)۔ ’’جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خُدا کا دشمن بناتا ہے‘‘ (یعقوب4:‏4)۔ ’’اُن میں سے نکل کر الگ رہو اور جو چیز ناپاک ہے اُسے مت چھوؤ، تب میں تمہیں قبول کروں گا۔ میں تمہارا باپ ہوں گا، اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہوگے، یہ قول خُداوند قادرِ مطلق کا ہے‘‘ (2۔ کرنتھیوں6:‏17۔18)۔ اِس کا بلاشبہ یہ مطلب نہیں کہ خانقاہ میں شمولیت کر لی جائے، یا کسی قسم کی بھی دُنیا سے کوئی رابطہ نہ رکھا جائے۔ یسوع نے کہا،

’’میری دعا یہ نہیں کہ تُو اُنہیں دنیا سے اُٹھا لے بلکہ یہ ہے کہ اُنہیں شیطان سے محفوظ رکھ‘‘ (یوحنا 17:‏15).

بہت دفعہ ہم نوجوان لوگوں کو آگے اور پیچھے کی جانب تذبذب کا شکار دیکھتے ہیں، جیسا کہ ابرام تھا۔ وہ دو دُنیاؤں میں رہنا چاہتے ہیں، ہفتے کے دوران کھوئے ہوئے دوستوں کے گروہ کے ساتھ، اور ہفتے کے چُھٹی کے دِنوں میں مسیحی دوستوں کے گروہ کے ساتھ۔ پھر وہ حیران ہوتے ہیں کہ وہ کیوں مسیح میں نجات نہیں پا سکے! اِس کا وجہ انتہائی سادہ ہے۔ اُنہیں فینی کراسبی Fanny Crosby (1820۔1915) کے ساتھ کہنا چاہیے، ’’دُنیا لے لے، لیکن یسوع مجھے دے دے۔‘‘ اِسے گائیے!

دُنیا لے لے، لیکن یسوع مجھے دے دے،
   اِس کی تمام خوشیاں ماسوائے ایک نام کے کچھ بھی نہیں ہیں؛
لیکن اُس کا پیار ہمیشہ کے لیے قائم ہے،
   دائمی سالوں کے دوران بھی یکساں ....
(’’دُنیا لے لے، لیکن یسوع مجھے دے دے Take the World, But Give Me Jesus‘‘
     شاعر فینی کراسبی Fanny Crosby، 1820۔1915)۔

آپ کا یہی رویہ ہونا چاہیے، ’’دُنیا لے لے، لیکن یسوع مجھے دے دے،‘‘ ورنہ آپ کبھی بھی مسیح میں تبدیل نہیں ہو پائیں گے!

یسوع نے کہا، ’’بُلائے ہوئے تو بہت ہیں لیکن چُنے ہوئے کم ہیں‘‘ (متی22:‏14)۔ صرف وہی جو مؤثر طریقے سے بُلائے جاتے ہیں، جیسا کہ ابرام تھا، ’’تم ایک چُنی ہوئی نسل، ایک شاہی کاہنوں کی جماعت، مُقدس قوم اور ایسی اُمت ہو جو خُدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ تمہارے ذریعے اُس کی خوبیاں ظاہر ہوں جس نے اندھیرے سے تمہیں اپنی عجیب روشنی میں بُلایا ہے‘‘ (1۔ پطرس2:‏9)۔ ’’بہت سوں‘‘ کے لیے خُدا کی بُلاہٹ سے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ’’بُلائے ہوئے تو بہت ہیں لیکن چُنے ہوئے بہت کم ہیں‘‘ (متی22:‏14)۔ جیسا کہ اے۔ ڈبلیو۔ پنک نے اِس کو پیش کیا، ’’ابرام کو خُدا کی طرف سے مذید کوئی اور الہٰام ملنے کا کوئی اندراج نہیں ہے جب تک کہ اُس کی بُلاہٹ میں مکمل طور پر فرمانبرداری نہیں آ گئی‘‘ (پنک، ibid.، صفحہ 143)۔

II۔ دوئم، ابراھام کی راستبازی۔

مہربانی سے، پیدائش15:‏6 میں ہماری دوسری تلاوت کو کھولیے۔ آئیے کھڑے ہو جائیں اور اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں،

’’ابرام خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِسے ابرام کے حق میں راستبازی شمار کیا‘‘ (پیدائش 15:‏6).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ میں اِس چھوٹے سے واعظ میں اتنا وقت نہیں لے سکتا کہ آپ کو ابراھام کی زندگی کی تمام تفصیلات پیش کروں۔ میں پیدائش میں سے صرف تین اہم آیات کو اُٹھا رہا ہوں، تاکہ ’’ہمارے باپ ابراھام کے ایمان کی اُس پیروی‘‘ کو ظاہر کروں (رومیوں4:‏12)۔

یہاں، پیدائش15:‏6 میں، ہم اُس لمحے پر آتے ہیں جب ابراھام راستباز ٹھہرایا تھا۔ یہ انتہائی شدید اہم آیت ہے۔ اِس کا حوالہ نئے عہد نامھ میں تین مرتبہ رومیوں4:‏3 میں، گلیتیوں3:‏6، اور یعقوب2:‏23 میں پیش کیا گیا ہے۔

بہت سے تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ ابرام آیت پانچ میں وعدے پر یقین کرنے سے راستباز ٹھہرایا گیا تھا۔ لیکن ابرام نے پیدائش15:‏6 میں بہت پہلے ہی خُدا کی بُلاہٹ پر فرمانبرداری کے لیے اُس وعدے پر کافی یقین کیا تھا، کیونکہ ہمیں عبرانیوں 11:‏8 میں بتایا گیا ہے،

’’ایمان ہی سے جب ابرہام بُلایا گیا تو وہ خدا کا حکم مان کر اُس جگہ چلا گیا جو بعد میں اُسے میراث کے طور پر ملنے والی تھی [حالانکہ وہ ابھی تک بچایا نہیں گیا تھا]؛ حالانکہ وہ جانتا بھی نہ تھا کہ کہاں جارہا ہے‘‘ (عبرانیوں 11:‏8).

لیکن پیدائش 15:‏6 میں ہمیں کچھ نیا بتایا گیا ہے۔ اِس سے پہلے، ابرام نے خُداوند کی وجودگی پر یقین کیا تھا، اور یہاں تک کہ اُس ایمان کی مدھم روشنی میں جو اُس کے پاس تھی، رُک رُک کر خُداوند کی فرمانبرداری کی تھی، جس کو سپرجئین نے ’’ایمان سے پہلے ایمان‘‘ کہا تھا – یعنی کہ، کسی کے اصل میں تبدیل ہونے اور سُدھرنے سے پہلے روشن خیالی یا غیبی ہدایت۔

اِس کے باوجود پیدائش 15:‏6 میں ہم کچھ نیا پاتے ہیں۔ ابرام نے ناصرف ’’وعدے‘‘ کا یقین کیا۔ اِس سے بھی اہم، ’’اُس نے خُداوند میں یقین کیا؛ اور اُس نے اِس کو اپنے حق میں راستبازی شمار کیا‘‘ (پیدائش15:‏6)۔ اُس نے صرف وعدے کا یقین نہیں کیا تھا! اوہ، جی نہیں! اُس نے خُداوند میں یقین کیا تھا۔‘‘ سی۔ ایف۔ کئیلC. F. Keil عبرانی کا یوں ترجمہ کرتے ہیں، ’’اُس نے یہوواہ میں یقین کیا تھا، اور اُس نے اِس کو اپنے حق میں راستبازی شمار کیا۔‘‘ ڈاکٹر کئیل نے یہ بھی کہا کہ ابرام نے جو خُدا نے کہا تھا محض اُسی پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا، بالکہ اصل میں خُداوند پر بھروسہ کیا تھا، ’’بطور ایک مضبوط اندرونی، ذاتی، ایک اپنی ہستی پرخود کو حوالہ کر دینے والی رضامندی... ’خُداوند پر یقین کرنے کے لیے،‘ اُس پر بھروسہ کرنے کے لیے‘‘ (سی۔ ایف۔کئیل، پی ایچ۔ ڈی۔، دس جلدوں میں پرانے عہدنامے پر تبصرہ Commentary on the Old Testament in Ten Volumes، ولیم بی۔ عئیرڈمینز اشاعتی کمپنی William B. Eerdmans Publishing Company، دوبارہ اشاعت 1973، جلد اوّل، صفحہ 212)۔

خُدا یا مسیح کے بارے میں باتوں پر یقین کر لینا ہی کافی نہیں ہے۔ آپ کو خُدا کی حضوری میں راستباز ٹھہرنے کے لیے اصل میں خود مسیح میں یقین کرنا چاہیے۔ جیسا کہ رومیوں چار باب کے پیغام میں لکھا ہے،

’’کیونکہ پاک کلام کہتا ہے کہ ابرہام خدا پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا۔ جب کوئی شخص کام کرکے اپنی مزدوری حاصل کرتا ہے تو اس کی مزدوری بخشش نہیں بلکہ اُس کا حق سمجھی جاتی ہے۔ مگر جو شخص اپنے کام پر نہیں بلکہ بے دینوں کو راستباز ٹھہرانے والے خدا پر ایمان رکھتا ہے، اُس کا ایمان اُس کے لیے راستبازی گنا جاتا ہے‘‘ (رومیوں 4:‏3۔5).

جب آپ ’’اُس پر‘‘ یقین کرتے ہیں آپ کا ایمان ’’راستبازی کے لیے شمار‘‘ کیا جاتا ہے (رومیوں4:‏5)۔

یہی ہے جو اُس دِن ابرام نے کیا تھا، مگر اُس دِن سے پہلے نہیں، کیونکہ ہم پیدائش 15:‏18 میں پڑھتے ہیں، ’’اُس روز [اُسی دِن ’اُس نے خُداوند میں یقین کیا تھا‘] خُداوند نے ابرام کے ساتھ ایک عہد باندھا تھا۔‘‘

یوحنا3:‏18 میں ہم یہ الفاظ پڑھتے ہیں، ’’وہ جو اُس پر [یسوع] ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا ہے‘‘ (یوحنا3:‏18)۔ یونانی زبان میں ’’ پر‘‘ کا ترجمہ ’’آئیس‘‘ کیا۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’جگہ یا چیز میں حرکت‘‘ (زوڈھی ایٹز Zodhiates)۔ آپ کے ایمان کو یسوع میں متحرک ہونا چاہیے، جو خُداوند کے داھنے ہاتھ پر جنت میں ہے۔ دوبارہ بائبل کہتی ہے، ’’خُداوند یسوع مسیح میں ایمان لا اور تو نجات پائے گا (اعمال 16:‏31)۔ یہاں یونانی لفظ ’’میں‘‘ کا ترجمہ ’’ایپی epi‘‘ کیا گیا۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے ’’پر‘‘(زور دے کر)۔ یہاں یہ تصور ہے کہ آپ اپنے آپ کو یسوع کے حوالے کر دیتے ہیں۔ واقعی میں ’’یسوع پر ایمان لا اور تو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:‏31)۔ اپنے گناہوں کی معافی پانے کے لیے، اور راستباز شمار کیے جانے کے لیے، آپ کو یسوع ’’میں‘‘ (متحد ہونے کے لیے) کھینچے چلے آنا چاہیے، اور اُسی ’’میں‘‘ یقین کرنا چاہیے۔ اپنے آپ کو یسوع پر اِس طرح پھینک دیں جیسے ایک آدمی اپنے آپ کو ایک جلتی ہوئی عمارت کی کھڑکی میں سے باہر اُس جال ’’میں‘‘ اور ’’پر‘‘ پھینکتا ہے جو آگ بجھانے والے عملے کے آدمیوں نے اُسے پکڑنے کے لیے جب وہ نیچے گرتا ہے پھیلایا ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو یسوع ’’میں‘‘ اور یسوع ’’پر‘‘ پھینک دیں! ’’یسوع میں ایمان لا اور تو نجات پائے گا‘‘ (اعمال16:‏31)۔ یہ تھا جو اُس دِن ابرام نے کیا تھا۔ ’’اُس نے خُداوند میں یقین کیا تھا؛ اور اُس نے اِس کو اپنے لیے راستبازی شمار کیا‘‘ (پیدائش15:‏6)۔

میرے ایمان نے ایک آرام گاہ پا لی ہے،
   کسی عقیدے یا آلے میں نہیں؛
میں اُس میں بھروسہ کرتا ہوں جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے،
   میرے لیے اُس کے زخم التجا کریں گے...
(’’کوئی دوسری التجا نہیں No Other Plea‘‘ شاعر لیڈی ایچ۔ ایڈمنڈز
      Lidie H. Edmunds، 1851۔1920)۔

حالانکہ میں ڈاکٹر جان میک آرتھر Dr. John MacArthur کے ساتھ یسوع کے خون پر اور ’’اوتاری بیٹے کے حق‘‘ پر متفق نہیں ہوں، میں پیدائش 15:‏6 پر اُن کے ساتھ متفق ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ابراھام نے ’’خُداوند میں یقین کیا،‘‘ ابرام ایمان کے وسیلے سے بحال [دوبارہ پیدا] ہو گیا تھا!‘‘ (میک آرتھر کا مطالعۂ بائبل The MacArthur Study Bible، بائبلوں کے لفظ Word Bibles، 1997، صفحہ 36؛ پیدائش 15:‏6 پر غور طلب بات)۔ وہ اِس بارے میں بالکل درست ہیں! لیکن یہاں پر پیدائش میں سے ہماری تیسری تلاوت میں ابرام کے بارے میں سامنے لانے کے لیے ایک اور نقطہ ہے۔

III۔ سوئم، ابراھام کی تقدیس۔

خُدا نے مؤثر طریقے سے ابرام کو بُلایا تھا۔ خُدا نے ابرام کو دوبارہ پیدا کیا اور راستباز ٹھہرایا تھا۔ اور پھر خُدا دوبارہ ابرام پر ’’ظاہر‘‘ ہوا تھا اور اُس کو ایک مقدس زندگی گزارنے کے لیے بُلایا تھا۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیے اور پیدائش 17:‏1 کھولیے، اور اِسے باآوازِ بُلند پڑھیے۔

’’اور جب ابرام ننانوے برس کا ہُوا تب خداوند اُس پر ظاہر ہُوا: اور اُس سے کہا: میں خدائے قادر ہوں۔ تُو میرے راستوں پر چل اور کامل ہو‘‘ (پیدائش 17:‏1).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ سپرجئین نے پیدائش 17:‏1 کی یہ وضاحت پیش کی۔ اُنہوں نے کہا،

      ہم ابرام کی زندگی کی اپنی تفسیر اُس کی بُلاہٹ کے ساتھ [شروع] کرتے ہیں، جب وہ کسدیوں کے اُور سے باہر لایا گیا تھا، اور کنعان میں خُداوند کے ساتھ علیحدہ ہوا تھا۔ ہم پھر اُس کے راستباز ٹھہرائے جانے پر آ جاتے ہیں، جب اُس نے خُدا کا یقین کیا، اور یہ اُس کے لیے اُس کی راستبازی شمار کیا گیا؛ اور اب ... ہم اُسی موضوع کو مذید آگے کے مرحلے میں جاری رکھتے ہیں… ہمارے سامنے موجود باب [پیدائش17] میں ہم خُداوند کے لیے اُس کی تقدیس دیکھتے ہیں… جیسا مالک کے استعمال کے لیے ایک برتن موزوں کیا جاتا ہے۔ وہ تمام [مؤثر انداز والے] راستباز کہلاتے ہیں، اور تمام کے تمام راستباز پاک روح کے وسیلے سے مقدس ہوتے ہیں...
      مجھے آپ کو وہ ترتیب یاد دلانے دیں جس میں یہ برکات آئی ہیں۔ اگر ہمیں تقدیس یا وقف ہونے کے عمل کی بات کرنی چاہیے، تو یہ پہلی بات کے طور پر نہیں ہوتی ہے، مگر سیڑھیوں کے پتھروں کے وسیلے سے ہے جو بُلندی پر پہنچنے کے طور پر ہوتے ہیں۔ پاک روح کے [وسیلے] سے بُلائے جانے سے پہلے، خُدا کے لیے مقدس ٹھہرائے جانے کا لوگوں کا اظہار رائیگاں ہوتا ہے... اُنہیں سیکھنا ہے کہ اِسکا مطلب کیا ہوتا ہے، ’’تمہیں دوبارہ پیدا ہونا چاہیے،‘‘ کیونکہ بِلاشبہ، جب تک لوگوں کو پاک روح [کے وسیلے] سے روحانی زندگی میں نہیں لایا جاتا اُن کی خُدا کی خدمت کرنے کے بارے میں تمام باتوں کو شاید یوشع کے وسیلے سے جواب ملتا، ’’تم خُداوند کی خدمت نہیں کر سکتے ہو۔‘‘ میں وقف ہونے کے عمل کے بارے میں بات کرتا ہوں، لیکن یہ بطور پہلی بات کے نہیں ہے، اور حتٰی کہ دوسری بات بھی نہیں ہے، کیونکہ انسان کو ایمان کے وسیلے سے راستباز ہونا چاہیے جو کہ یسوع مسیح میں ہے، ورنہ وہ فضل نہیں پا سکے گا جو کہ تمام سچی پاکیزگی کی جڑ ہے؛ کیونکہ تقدیس یسوع مسیح میں ایمان کے وسیلے سے بڑھتی ہے۔ یاد رکھیں پاکیزگی کوئی پھول نہیں ہے بالکہ ایک جڑ ہے؛ یہ تقدیس نہیں ہےجو بچاتی ہے، بالکہ نجات ہے جو مقدس بناتی ہے۔ ایک انسان اپنی پاکیزگی کی وجہ سے نجات نہیں پاتا ہے، لیکن پاک بن جاتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی سے بچایا ہوا ہوتا ہے... خُدا کے لیے تقدیس بُلاہٹ اور راستبازی کی پیروی کرتی ہے (سی۔ ایچ۔ سپرجئین C. H. Spurgeon، ’’خُدا کے لیے تقدیس Consecration to God – ابراھام کے ختنے کی مثال سے وضاحت ہوتی ہے،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1976، جلد XIV، صفحات 685۔686؛ پیدائش17:‏1۔2 پر ایک غور طلب بات)۔

ایک شخص جس کی ایک جھوٹی مسیح میں تبدیلی ہوئی تھی ’’خُدا کی حضوری میں نہیں چل سکتا، اور نہیں ہو.... کامل [معزز، مخلص، سکوفیلڈ Scofield]۔‘‘ جلد یا بدیر یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ کبھی بھی ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں کر سکتا ہے۔ صرف وہی جو مؤثر طریقے سے بلائے گئے، اور مسیح کے ساتھ حقیقی ملاپ کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے گئے، خُدا کی حضوری میں چلنے کے قابل ہونگے، اور خُدا کے فضل کے وسیلے سے آدمیوں اور عورتوں میں مقبول ہونگے جو اپنی تمام زندگیوں میں خُدا کے لیے جینے کے قابل کیے جائیں گے۔ وہ جنہوں نے اپنی ’’گواہیوں‘‘ میں ’’الفاظ دُرست پائیں‘‘ آخر کار گناہ میں گِر ہی جائیں گے، اور صرف نام کے ہی مسیحی رہ جائیں گے، یا بدتر۔ ’’درست لفظوں‘‘ کو سیکھنے کی کوشش مت کریں! حتٰی کہ ’’دُرست احساسات‘‘ کو پانے کی بھی کوشش مت کیجیے۔ ’’دُرست‘‘ الفاظ اور ’’درست‘‘ احساسات آپ کو نہیں بچا سکتے ہیں! بالکل بھی نہیں! خود یسوع کو تلاش کریں! صرف خود یسوع ہی آپ کو راستباز ٹھہرا سکتا ہے اور مسیحی زندگی جینے کے لیے آپ کو فضل دے سکتا ہے۔ کسی نے بھی اِس کو واضع نہیں کیا ہے ماسوائے رومیوں 5:‏1۔5 میں پولوس رسول کے،

’’چونکہ ہم ایمان کی بِنا پر راستباز ٹھہرائے گئے ہیں اِس لیے ہمارے خداوند یسُوع مسیح کے وسیلہ سے ہماری خدا کے ساتھ صلح ہو چُکی ہے۔ ایمان لانے سے ہم نے مسیح کے وسیلہ سے اُس فضل کو پالیا ہے اور اُس پر قائم بھی ہیں اور اِس اُمید پر خوشی مناتے ہیں کہ ہم بھی خدا کے جلال میں شریک ہوں گے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ہم اپنی مصیبتوں میں بھی خُوش ہوتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔ اور صبر سے مُستقل مزاجی اور مستقل مزاجی سے اُمید پیدا ہوتی ہے۔ ایسی اُمید ہمیں مایوس نہین کرتی کیونکہ جو پاک رُوح ہمیں بخشا گیا ہے اُس کے وسیلہ سے خدا کی محبّت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے‘‘ (رومیوں 5:‏1۔5).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: رومیوں 4:‏1۔5 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
       کوئی دوسری التجا نہیں No Other Plea‘‘ (شاعر لیڈی ایچ۔ ایڈمنڈز Lidie H. Edmunds، 1851۔1920)۔

لُبِ لُباب

ابراھام – حقیقی تبدیلی کی ایک تشبیہہ

(پیدائش کی کتاب پر واعظ # 62)
ABRAHAM – A TYPE OF REAL CONVERSION
(SERMON #62 ON THE BOOK OF GENESIS)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’اب خداوند نے ابرام سے کہا: تُو اپنے وطن اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر سے روانہ ہو اور اُس ملک میں چلا جا جو میں تجھے دکھاؤں گا‘‘ (پیدائش 12:‏1).

’’ابرام خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِسے ابرام کے حق میں راستبازی شمار کیا‘‘ (پیدائش 15:‏6).

’’اور جب ابرام ننانوے برس کا ہُوا تب خداوند اُس پر ظاہر ہُوا: اور اُس سے کہا: میں خدائے قادر ہوں۔ تُو میرے راستوں پر چل اور کامل ہو‘‘ (پیدائش 17:‏1).

(رومیوں4:‏11، 12)

I۔   اوّل، ابراھام کی بُلاہٹ، پیدائش 12:‏1؛ اعمال 7:‏2۔3؛ 1۔ پطرس 2:‏9؛ یعقوب 4:‏4؛ 2۔
کرنتھیوں 6:‏17۔18؛ یوحنا 17:‏15؛ متی 22:‏14 .

II۔  دوئم، ابراھام کی راستبازی، پیدائش 15:‏6؛ رومیوں 4:‏12؛ عبانیوں 11:‏8؛ رومیوں 4:‏3۔5؛
پیدائش 15:‏18؛ یوحنا 3:‏18؛ اعمال 16:‏31۔

III۔ سوئم، ابراھام کی تقدیس، پیدائش 17:‏1؛ رومیوں 5:‏1۔5۔