Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

نوح – مسیح کی ایک تشبیہہ!

!NOAH – A TYPE OF CHRIST
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 19 جون، 2011
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, June 19, 2011

بینجیمن کِیچ Benjamin Keach 1640 میں پیدا ہوا تھا۔ 15 برس کی عمر میں اپنی مسیح میں تبدیلی کے بعد اُس نے بپتسمہ پایا تھا۔ 18 برس کی عمر میں اُس نے منادی کا آغاز کیا، 28 سال کی عمر میں وہ لندن میں ایک بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر کے پادری بن گئے، جس کے بعد میں آنے والے پادریوں میں ڈاکٹر جان گِل Dr. John Gill اور سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon تھے۔ وہ 43 کتابوں کے مصنف تھے اور بپتسمہ دینے والوں اور دوسروں میں اِن کا وسیع اثر تھا۔ اُن کی مشہور کتابوں میں سے بائبل کی تشبیہات اور استعاروں سے منادی کرنا Preaching From the Types and Metaphors of the Bible ایک کتاب تھی (کریگل اشاعت خانے Kregel Publications، 1855 کے ایڈیشن کی دوبارہ اشاعت 1972)۔ اِس واعظ ’’نوح – مسیح کی ایک تشبیہہ‘‘ کے خلاصے کے لیے میں بینجیمن کِیچ کا مقروض ہوں۔ مہربانی سے عبرانیوں7:11 اپنی بائبل میں سے کھولیں، اور خُداوند کے کلام کی تلاوت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

’’ایمان ہی سے نُوح نے اُن باتوں کے بارے میں جو مُستقبل میں پیش آنے والی تھیں خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اُس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اُس کا سارا خاندان بچ نکلا۔ ایسا کرنے سے اُس نے دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا اور اُس راستبازی کا وارث بنا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے‘‘ (عبرانیوں 11:7).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

مسیح اور نوح کے مابین بے شمار مماثلتوں اور مشہابتوں کی وجہ سے نوح کو مسیح کی ایک تشبیہہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

I۔ اوّل، نوح، حقیقی معنوں میں، اپنے زمانے میں دُنیا کا جسمانی نجات دہندہ تھا۔

یہ نوح اور اُس کے ایمان اور اعمال کے ذریعے سے تھا کہ نسل انسانی کا ایک ’’بیج یا تُخم‘‘ عظیم سیلاب میں غرق ہونے سے محفوظ رہا۔ جب سیلاب آیا،

’’رُوئے زمین پر کی ہر جاندار شے نابود ہوگئی، کیا انسان، کیا حیوان، کیا زمین پر رینگنے والے جاندار اور کیا ہوا میں اُڑنے والے پرندے، سب کے سب نابود ہو گئے۔ صرف نُوح باقی بچا اور وہ جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے‘‘ (پیدائش 7:23).

نوح کے ذریعے سے اُن کے تین بیٹے اور اُن کی بیویاں، نوع انسانی کا ایک ’’بیج یا تُخم‘‘ محفوظ تھا۔ باقی تمام کی تمام نسل انسانی سیلاب میں نیست و نابود ہو گئی۔

مسیح شبیہہ ہے نوح کی اُس تشبیہہ کے جو کہ اُس نے پورا کیا۔ مسیح وہ عظیم نجات دہندہ ہے جو زمین کا روحانی مُنّجی ہے۔ خُداوند کے فرشتے نے یوسف کو بتایا، ’’تو اُس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا‘‘ (متی1:21)۔ اِس نام ’’یسوع‘‘ کا مطلب ’’یہواہ بچاتا ہے‘‘ ہوتا ہے۔ یسوع کے ذریعے سے نوع انسانی کا ایک ’’بیج یا تُخم‘‘ بچایا جاتا ہے، ’’وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا۔‘‘ بالکل جیسے نوح صرف ’’اپنے گھر‘‘ کو بچانے کے قابل تھا (عبرانیوں 11:7)، اِس طرح یسوع صرف اُنہی کو نجات دلاتا ہے جو اُس کے پاس ایمان کے وسیلے سے آتے ہیں۔ وہ جو مسیح میں غیر تبدیل شُدہ رہتے ہیں جہنم کی نظر ہو جاتے ہیں، جیسے نوح کے دِنوں کے لوگ نیست و نابود ہو گئے تھے جب خُداوند نے دُنیا کے بے دین لوگوں پر سیلاب‘‘ بھیجا تھا (2۔پطرس2:5)۔

II۔ دوئم، نوح راستبازی کا ایک مبلغ تھا۔

ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُدا نے، ’’پرانے زمانے کے لوگوں کو بھی نہ چھوڑا بلکہ بے دینوں کی زمین پر سیلاب بھیج کر صرف راستبازی کی منادی کرنے والے نوح… کو بچا لیا‘‘ (2۔ پطرس2:5)۔

’’جیسا نوح کے دِنوں میں ہُوا تھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہوگا۔ کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور شادی بیاہ کرتے کراتے تھے۔ نُوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دِن تک یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے، یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی‘‘ (متی 24:37۔39).

نوح کے زمانے کے لوگوں نے صرف جسمانی لطف اندوزیوں کے بارے ہی میں سوچا تھا۔ اُنہوں نے آنے والے فیصلے کے بارے میں نوح کی تنبیہات کو نہیں سُنا تھا۔ ’’اُنہیں آخر تک خبر نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے یہاں تک کہ طوفان آیا‘‘ کیونکہ وہ جان بوجھ کر… جاہلت میں تھے‘‘ (2 پطرس3:5)۔ وہ جان بوجھ کر آنے والے فیصلے کو بھول رہے تھے۔ حالانکہ اُنہوں نے سالہا نوح کو اُنہیں خبردار کرتے ہوئے سُنا تھا، اُنہوں نے اُس کا یقین نہیں کیا، توبہ نہیں کی اور کشتی میں نہیں آئے۔

ایسا ہی مسیح کے ساتھ ہوا تھا۔ اُن میں سے زیادہ تر نے جنہوں نے اُس کی منادی کو سُنا تھا مسترد کیا۔ یسوع یروشلم پر رویا تھا (لوقا19:41)۔ اُس نے ٹوٹے ہوئے دِل کے ساتھ کہا،

’’اے یروشلیم، اَے یروشلیم، تُو نے نبیوں کو قتل کیا اور جو تیرے پاس بھیجے اُنہیں سنگسار کیا۔ میں نے کئی دفعہ چاہا کہ تیرے بچوں کو اِس طرح جمع کر لُوں جس طرح مُرغی اپنے چُوزوں کو اپنے پروں کے نیچے جمع کرلیتی ہے لیکن تُو نے نہ چاہا‘‘ (متی 23:37).

یسوع نے توبہ کرنے کے لیے اور نئے سرے سے جنم لینے اور تبدیل ہونے کی ضرورت کے لیے منادی کی تھی۔ ایسا ہی بلاشک و شبہ نوح نے کیا تھا، جو ’’راستبازی کی منادی کرنے والا‘‘ تھا (2پطرس2:5)۔

III۔ سوئم، نوح نے ایک کشتی بنائی تھی۔

اُس نے ایک کشتی تعمیر نہیں کی تھی۔ ایک کشتی نے تو اُس شدید طغیانی میں پانی سے بھر کر اُلٹ جانا تھا، جیسا کہ ساری کشتیوں کے ساتھ ہوا۔ اِس کے بجائے، نوح نے ایک بہت بڑی کشتی بنائی تھی۔ جس عبرانی لفظ نے ’’کشتی ark‘‘ کا ترجمہ کیا وہ ’’ٹیبحہ tebah‘‘۔ اِس کا لفظی مطلب ’’ایک ڈبہ‘‘ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایم۔ آر۔ ڈیحان Dr. M. R. DeHaan نے کہا، ’’وہ سب سے پہلی بات جو غور کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ نوح اور اُس کے خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک کشتی کا تصور خُدا کے دِل میں پیدا ہوا تھا۔ یہ انسان کی تخلیق نہیں تھا… کوئی ایک بات بھی انسان کے لیے نہیں چھوڑی گئی [تھی]‘‘ (ایم۔ آر۔ ڈیحان، ایم۔ڈی۔ M. R. DeHaan, M.D.، پیدائش میں مسیح کی تصاویر Portraits of Christ in Genesis، ژونڈروان اشاعتی گھر Zondervan Publishing House، 1966، صفحات 82، 84)۔ وہ کشتی ایک دیو ہیکل ڈبہ تھی جو کہ پانی میں اُلٹنے کا اہل نہیں تھا۔ اُس کشتی میں خالی جگہ تقریبا 1.4 ملین کیوبک فٹ تھی، جو کہ 522 ریل گاڑیوں کی بوگیوں کے برابر ہے۔ یہ تین منزلہ اونچی تھی اور 125,000 سے زیادہ ایک اوسط قد کی بھیڑ جتنے جانور اُس میں سما سکتے تھے۔ خُدا نے نوح کو بتایا،

’’تو اِس طرز کی کشتی کی تعمیر کرنا: اُس کی لمبائی کو تین سو ہاتھ لمبا [تقریبا 450 فٹ]، پچاس ہاتھ چوڑا [تقریباً 75 فٹ]، اور تیس ہاتھ اونچا [تقریباً 45 فٹ] رکھنا‘‘ (پیدائش6:15)۔

جیسے نوح نے اُس کشتی کو تعمیر کیا، اُسی طرح مسیح نے اپنی کلیسیا کی تعمیر کی۔ مسیح نے کہا،

’’میں اپنی کلیسیا قائم کروں گا؛ اور موت بھی اِس پر غالب نہ آنے پائے گی‘‘ (متی16:18)۔

نوح نے خُدا کی پیش کی گئی بالکل دُرست تفصیلات کے مطابق کشتی کی تعمیر کی۔ مسیح نے بھی یہی کام کیا۔ اپنی کلیسیا کی تعمیر میں، مسیح نے اُس کے بارے میں پرانے عہد نامے کے صحائف میں پیش کی گئی پیشن گوئیوں کے مراسلوں کی پیروی کی تھی۔ چاروں اناجیل میں ہمیں بارہا بتایا گیا کہ ہر بات جو مسیح نے کی تھی ’’صحائف میں لکھے کو پورا کرنے‘‘ کے لیے کی تھی۔ خود انجیل کہتی ہے،

کلام مقدس کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا؛ اور کہ وہ دفنایا گیا، اور کہ وہ تیسرے روز کلام مقدس کے مطابق دوبارہ جی اُٹھا‘(1۔ کرنتھیوں15:3۔4)۔

نوح کی کشتی میں صرف ایک ہی دروازہ تھا (پیدائش6:16)۔ اِس ہی طرح ایک سچی کلیسیا کے لیے صرف ایک ہی دروازہ ہوتا ہے۔ وہ واحد راستہ جو ایک سچی کلیسا میں شامل ہونے کے لیے جاتا ہے وہ مسیح سے گزر کر ہی جاتا ہے، جس نے کہا، ’’دروازہ میں ہوں‘‘ (یوحنا10:7)۔ نجات کے لیے مسیح ہی واحد دروازہ ہے۔ مسیح نے کہا، ’’دروازہ میں ہوں، اگر کوئی میرے ذریعے داخل ہو تو نجات پائے گا‘‘ (یوحنا10:9)۔ خُدا نے گناہ اور انصاف سے، ہمارے گناہوں کی ادائیگی کے لیے صلیب پر مرنے کے لیے مسیح کو بھیجنے سے اور ہمیں زندگی بخشنے کے لیے مُردوں میں سے زندہ ہونے سے نجات مہیا کی۔ مگر خُدا نے ایک شخص کے بچائے جانے کے لیے کوئی اور راہ متعین نہیں کی۔ یسوع نے کہا، ’’میرے وسیلے کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا14:6)۔ اُس کشتی میں صرف ایک ہی دروازہ تھا، اور بچائے جانے کے لیے بھی ایک ہی راستہ ہے – ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے ذریعے سے۔ آپ کو یسوع مسیح کے ذریعے سے نجات کو پانا چاہیے۔

وہ تمام جو نوح کی کشتی میں داخل ہوئے تھے فیصلے سے بچا لیے گئے تھے۔ مگر وہ تمام کے تمام جو کشتی میں داخل نہیں ہوئے تھے نیست و نابود ہو گئے تھے۔ اِس ہی طرح وہ تمام جو مسیح کے پاس آنے سے انکار کرتے ہیں دائمی سزا یافتہ ٹھہرائے جائیں گے۔

نوح کی کشتی کو بپھرتی لہروں نے اُچھالا تھا، اور اِس کے باوجود وہ محفوظ رہی تھی۔ اِس ہی طرح کلیسیا کو بھی اِس غصیلی دُنیا میں تقریباً اُچھالا گیا تھا، اور اِس کے باوجود یہ محفوظ رہی ہے۔ جب سیلاب کا اختتام ہوا، نوح نے کشتی سے باہر ایک فاختہ کو بھیجا تھا اور وہ اپنی چونچ میں زیتون کی ایک ٹہنی لے کر واپس لوٹی تھی، جس کا مطلب امن ہوتا ہے۔ بالکل ایسا ہی اُس وقت ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی تبدیلی کا تجربہ کرتے ہیں۔ آپ اُچھالے جاتے ہیں، ابلیس کی آزمائشوں میں، اور پاک روح کے وسیلے سے سزایابی میں۔ مگر جب آپ مسیح کے پاس آتے ہیں تو خُدا کی روح آپ کے لیے امن اور سکون لاتی ہے۔ جیسا کہ شارلٹ ایلیٹ اپنے پیارے حمدوثنا کے گیت میں اِس کو بیان کرتی ہیں،

بے شک اُچھالا گیا، میں جیسا بھی ہوں
   بہت سی کشمکشی میں، بہت سے شکوک میں،
اپنے میں خوف اور جھگڑوں کے ساتھ اور بغیر،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعر شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871)۔

مہربانی سے کھڑے ہو جائیں حمدوثنا کا وہ گیت گائیں۔ یہ آپ کے گیتوں کے ورق پر نمبر سات ہے۔

بغیر ایک التجا کے، میں جیسا بھی ہوں،
   مگر کہ تیرا خون میرے لیے بہایا گیا،
اور کہ تو مجھے اپنے پاس بُلانے کے لیے بیقرار ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

انتظار کیے بغیر، میں جیسا بھی ہوں
   میری جان کو ایک تاریک دھبے سے چُھڑانے کے لیے،
تیرے لیے جس کا خون ایک داغ مٹا سکتا ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

بے شک اُچھالا گیا، میں جیسا بھی ہوں
   بہت سی کشمکشی میں، بہت سے شکوک میں،
اپنے میں خوف اور جھگڑوں کے ساتھ اور بغیر،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

میں جیسا بھی ہوں، غریب، تباہ حال، اندھا؛
   نظارے، دولت، ذہن کی شفایابی،
جی ہاں، جس کی مجھے ضرورت ہے میں تجھ میں پاتا ہوں
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

میں جیسا بھی ہوں، تو کمزورکو بھی قبول کر لے گا،
   کمزور کو بھی آرام دیا، پاک صاف اور معاف اور خوش آمدید کیا جاتا ہے
کیونکہ تیرے وعدے پر میں یقین کرتا ہوں،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعر شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: متی24:32۔39.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا: ’’یسوع، میں آیا Jesus, I Come‘‘
(شاعر ولیم ٹی۔ سلیپر William T. Sleeper، 1819۔ 1904) ۔

لُبِ لُباب

نوح – مسیح کی ایک تشبیہہ!

!NOAH – A TYPE OF CHRIST

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’ایمان ہی سے نُوح نے اُن باتوں کے بارے میں جو مُستقبل میں پیش آنے والی تھیں خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اُس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اُس کا سارا خاندان بچ نکلا۔ ایسا کرنے سے اُس نے دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا اور اُس راستبازی کا وارث بنا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے‘‘ (عبرانیوں 11:7).

I.   اوّل، نوح، حقیقی معنوں میں، اپنے زمانے میں دُنیا کا جسمانی نجات
دہندہ تھا، پیدائش7:12؛ متی1:21؛ 2۔پطرس2:5 .

II.  دوئم، نوح راستبازی کا ایک مبلغ تھا، 2۔پطرس2:5؛
متی24:37۔39؛ 2۔پطرس3:5؛ لوقا19:41؛ متی23:37 .

III. ۔ سوئم، نوح نے ایک کشتی بنائی تھی، پیدائش6:15؛ متی16:18؛
1۔کرنتھیوں15:3۔4؛ پیدائش6:16؛ یوحنا10:7، 9؛ 14:6.