Print Sermon

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 40 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کی مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔ جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح – روح کا طبیب

(محترم جناب جارج وائٹ فیلڈ کے ایک واعظ سے اخذ کیا گیا)
CHRIST – THE PHYSICIAN OF THE SOUL
(ADAPTED FROM A SERMON BY THE REV. GEORGE WHITEFIELD)
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں تبلیغی واعظ
27 فروری، 2011، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, February 27, 2011

کچھ جو ہماری ویب سائٹ پر یہ واعظ پڑھتے ہیں اُنہوں نے پوچھا کہ یہ کیون اتنے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ انتہائی سادہ ہے – میرے ہر جملے کی تبلیغ کے بعد میرے الفاظ کا پھر ترجمہ دو دوسرے لوگوں کے ذریعے سے کیا جاتا ہے، پہلے چینی میں اور پھر ہسپانوی میں۔ ہم تینوں کے تینوں بغیر رُکے بولتے ہیں لیکن، اِس کے باوجود بھی، یہ چھوٹے واعظ تقریباً پچاس منٹ لے لیتے ہیں۔ کوئی بھی ہلتا یا بےچین نہیں ہوتا ہے۔ ہر کوئی پوری توجہ کے ساتھ سُنتا ہے، یہاں تک کہ بچے اور وہ بھی جو پہلی دفعہ آئے ہوتے ہیں۔

اِس واعظ میں میرے تبصروں کے اضافے کے ساتھ ترمیم کی گئی ہے اور چھوٹا کیا گیا ہے۔ اِسے جارج وائٹ فیلڈ کے واعظ ’’مسیح روح کا طبیب‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے (جارج وائٹ فیلڈ، واعظ Sermons، پائیعٹن اشاعت خانے Pietan Publications، ‏2008، جلد چہارم، صفحات 46۔62)۔ وائٹ فیلڈ کا جنم 1714 میں ہوا تھا، آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی ماسٹرز کی ڈگری پانے کے بعد، انگلستان کے گرجہ گھر نے اُنہیں مذہبی عُہدے پر فائز کیا۔ اُنہوں نے اپنا پہلا واعظ 1736 میں دیا۔ وائٹ فیلڈ اپنے آکسفورڈ کے دوستوں جان John اور چارلس ویزلی Charles Wesley کے ساتھ بطور مشنری امریکہ چلے گئے۔ جب وہ واپس انگلستان آئے تو اُنہوں نے پایا کہ گرجہ گھروں کے اراکین کے لیے نئے سرے سے جنم لینے کی تبلیغ کی وجہ سے انگلستان کے تقریباً تمام مذہبی اداروں کے دروازے اُن پر بند کر دیے گئے تھے۔ اُنہیں تمام انگلستان کی واعظ گاہوں میں واعظ دینے سے اعلانیہ منع کر دیا گیا تھا، لیکن صرف اِسی وجہ نے لوگوں میں اُنہیں مذید اور سُننے کی چاہت بڑھا دی۔ گرجہ گھر کے اراکین کو اِس پیغام کی مسلسل منادی کرنے کی وجہ سے اُنہیں گرجہ گھروں سے نکال دیے جانے پر، اُنہوں نے کھلے میدانوں میں بولنا شروع کردیا۔ جیسے جیسے وہ سفر کر کے وھیلز Wales، سکاٹ لینڈ، انگلستان، امریکہ اور دوسرے ممالک میں سے گزرتے گئے، ہزاروں ہجوم در ہجوم اُنہیں سُننے کے لیے آنے لگے ۔ اپنی زندگی میں آرام کے لیے کوئی وقت نکالے بغیر، وہ اوسطاً ہفتے میں پندرہ مرتبہ منادی کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ انتہائی جوش اور قوت کے ساتھ منادی کرتے تھے۔ اُن کی آواز ایک میل دور سے بھی سُنی جا سکتی تھی، اور ایک دفعہ اُنہوں نے کیمبس لینگ Cambuslang، سکاٹ لینڈ میں 138 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کو تبلیغ کی تھی (بے شک بغیر مائیکروفون کے)۔ اُن کا انتقال نیوبری پورٹ Newburyport، میساشوسیٹز Massachusetts میں اپنا آخری واعظ دینے کے کچھ گھنٹوں کے بعد 30 ستمبر، 1770 میں ہوا تھا۔ بلّی گراھم کے آنے تک (جو جدید الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہیں) جارج وائٹ فیلڈ نے تاریخ میں کسی بھی شخص کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو منادی کی تھی۔ لیکن بلّی گراھم کے ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے پیغام اور طریقوں نے اُنہیں وائٹ فیلڈ کے مقابلے میں کئی گنا درجے کم حیثیت کی شخصیت کر دیا۔ بلی گراھم نے خود اِس کا اقرار کیا کہ اُن کی صلیبی جنگوں کے دوران کوئی بھی حیات نو نہیں آیا۔ جب کہ دوسری طرف، وائٹ فیلڈ نے مسلسل خُدا کی طرف سے بھیجے ہوئے حیات نو کو اپنی منادی کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے دیکھا۔ ہمیں بلی گراھم جیسے مذید اور لوگوں کی ضرورت نہیں ہے! ہمیں جارج وائٹ فیلڈ جیسے لوگوں کی آج دوبارہ ضرورت ہے! مہربانی سے متی 9:‏12 میں تلاوت کھولیے، اور خُدا کے کلام کے پڑھے جانے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔

آج ہماری تلاوت کے معنی تقریباً کھو گئے ہیں۔ ہم پر اُن واعظوں کی بہتات کر دی جاتی ہے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ کیسے خوشحال ہونا ہے، کیسے بہتر محسوس کرنا ہے، کیسے بہترین گھر حاصل کرنے ہیں، کیسے مزید اور خوش ہونا ہے، کیسے کامیاب ہونا ہے، اور کیسے جسمانی طور پر شفایاب ہونا ہے۔ ہم ’’عالمانہ انداز میں لکھے‘‘ ہوئے واعظ کے زیرآب آئے ہوئے ہیں، کلام پاک کے لمبے حوالوں پر تھکا دینے والے لیچکر۔ اِس طریقے کو پلائے ماؤتھ بھائیوں Plymouth Brethren نے متعارف کیا تھا، اور یہ ہماری بپتسمہ دینے والی وارثت میں سے نہیں نکلا ہے۔ یہ عموماً کافی اُکتا دینے والا ہوتا ہے۔ تمام واعظ ایسے ہی یکسان لگتے ہیں۔ لوگوں کو یاد نہیں رہتا ہے کہ کیا تبلیغ کی گئی تھی، کیونکہ بے شمار خیالات اِن جدید ’’تفسیروں‘‘ میں پیش کر دیے جاتے ہیں۔ یہ حقیقتاً واعظ نہیں ہوتے ہیں، بلکہ بائبل کا پیچیدہ مطالعہ ہوتا ہے جس کا نشانہ مسیحی ہوتے ہیں، حالانکہ مذہبی جماعتوں میں زیادہ تر تو مسیح میں نجات پائے ہوئے نہیں ہوتے ہیں۔

کہاں، اوہ، کہاں، وہ مبشر ہیں جن کا مرکزی پیغام نئے سرے سے جنم لینا اور مسیح میں تبدیلی ہوتا ہے؟ کہاں ہیں وہ جن کا اہم موضوع مسیح پر مرکوز ہوتا ہے، روحوں کا طبیب – جو تنہا ہی ہمیں گناہ، جہنم اور قبر سے بچا سکتا ہے؟ یہی ہمارے وقت کی چلاتی ہوئی ضرورت ہے! یہی ہے جس کی آپ کی نسل کو تاریخ کے اِس اندھیرے دور میں واضح اور شفاف سُننے کی ضرورت ہے۔ جیسے کہ ہمارا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوتاجا رہا ہے اور دُنیا کی قومیں افرتفری اور بغاوت میں اُٹھ رہی ہیں – ہم اِسے دوبارہ اپنی واعظ گاہوں میں سُنیں گے ہمارے آباؤاِجداد کی روحوں کو بچانے والی خوشخبری! ہمیں ویسے ہی جوشیلے خوشخبری کے واعظوں کی تبلیغ کی ضرورت ہے جیسے وائٹ فیلڈ دیا کرتے تھے۔ اور آئیے اِس بیہودہ موسیقی کو اُٹھا کر باہر پھینکیں، اور آئیے حمد و ثنا کے اُن پرانے گیتوں پر شرمندہ ہونا چھوڑیں، بلکہ اُنہیں دوبارہ جوش و خروش اور سرور کے ساتھ گائیں!

ہم نے سرور بھری آواز سُنی ہے: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
   تمام دُنیا میں نوید پھیلا دو: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
ہر سرزمین پرخبر سُنا دو، ڈھلوانوں پر چڑھ کر اور لہروں کو پار کر کے؛
   آگے بڑھو! یہ ہمارے خُداوند کا حکم ہے؛ یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
(’’یسوع بچاتا ہے Jesus Saves‘‘ شاعر پرسیلہ جے۔ اونز Priscilla J. Owens‏، 1829۔1907)۔

یسوع ہمیں کس سے بچاتا ہے؟ کوئی ضروری نہیں کہ غربت سے۔ تاریخ میں عظیم ترین لوگوں میں سے کچھ نے اپنی زندگی غربت میں بسر کی۔ کوئی ضروری نہیں کہ بیماری سے۔تاریخ میں عظیم ترین لوگوں میں سے کچھ نے علالت کی تباہیوں سے بہت زیادہ مصائب و تکالیف برداشت کیے۔ یسوع صلیب پر مرا اور ہمیں گناہ سے بچانے کے لیے مُردوں میں سے جی اُٹھا! یہ بائبل کا مرکزی پیغام ہے! ’’کلام پاک کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے قربان ہوا‘‘ (1۔ کرنتھیوں15:‏3)۔ یہ انجیل کا دِل ہے۔ آئے اِسے دوبارہ سُنتے ہیں، ہماری واعظ گاہوں سے جوش وخروش کے ساتھ منادی کریں!

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا‘‘
       (1۔ تیموتاؤس 1:‏15).

اب، ہم جب تلاوت پر پہنچتے ہیں، تو دیکھتے ہیں کہ یسوع متی کے گھر میں ایک دعوت میں بیٹھا ہے۔ بہت سے شرابی اور گنہگار وہاں آئے اور یسوع کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گئے۔ ’’شراب خانے والے‘‘ محصول جمع کرنے والے تھے جس رومی حکومت کےلیے کام کرتے تھے۔ کٹر یہودی اُن سے نفرت کرتے تھے کیونکہ وہ روم کے لیے کام کرتے تھے اور محصول میں سے جو پیسا وہ جمع کرتے تھے اُس میں سے زیادہ تر اپنے لیے بچا کر رکھتے تھے۔ فریسی اُس دور کے کٹر یہودی تھے۔ وہ سوچتے تھے کہ شراب خانے والے اور محصول لینے والے یہودی قوم کے لیے چور اور غدار تھے۔ وہ ’’گنہگار‘‘ تھے جنہیں فریسی بیکار یہودی سمجھتے تھے کیونکہ وہ ربیوں کے رسم و رواج پر قائم نہیں رہتے تھے۔ فریسیوں کی طرف سے اُن کے بارے میں ہولناک ’’گنہگار‘‘ کی طرح سوچا جاتا تھا کیونکہ وہ ربیوں کے قوانین اور دستوروں کی پیروی نہیں کیا کرتے تھے۔

ہمیں یہ بات سجمھ لینی چاہیے کہ ’’شراب خانے اور محصول لینے والے‘‘ اور گنہگار کوئی گلی محلے کے بھکاری یا شرابی جواری نہیں تھے، نشے کی لت میں پڑے ہوئے لوگ نہیں تھے، یا خیرات پر پلنے والے لوگ نہیں تھے۔ اُس زمانے میں کوئی الگ سے بے حال غربت کے علاقے نہیں تھے،اور نہ ہی سماجی بہبود کے ادارے۔ اور نہ ہی اُن لوگوں میں سے کوئی ایک جو یسوع کے ساتھ کھانے کے لیے آئے نشے کی لت میں پڑا ہوا تھا۔ وہ تمام کے تمام شراب خانے والے اور محصول لینے والے اور گنہگار تھے جو کام کرنے والے لوگ تھے۔ لیکن فریسی اُنہیں آوارہ یا سماج سے خارج شُدہ سمجھتے تھے۔

جب فریسیوں نے یسوع کو اُن سماج سے خارج شُدہ لوگوں کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے ہوئے دیکھا تو ’’اُنہوں نے [یسوع کے] شاگردوں سے کہا، تمہارا اُستاد محصول لینے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟‘‘ (متی9:‏11)۔ جب یسوع نے یہ سُنا کہ فریسی کیا کہتے ہیں، تو آُس نے اُنہیں کہا،

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

فریسیوں نے سوچا کہ وہ ٹھیک تھے – کہ وہ راستباز تھے اور اُنہیں نجات کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ کٹر یہودیت کے قوانین کی پابندی کرتے تھے۔ سماج سے خارج شُدہ محصول لینے والے اور گنہگار جانتے تھے کہ وہ راستباز نہیں تھے۔ یہ بات اُنہیں خود کو راستباز کہنے والے فریسیوں کے مقابلے میں نجات کے لیے بہتر اُمیدوار بناتی تھی۔

’’تندرستوں [جو ٹھیک ہیں اُن] کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

میں تلاوت کے الفاظ کو تین باتوں میں تقسیم کروں گا۔

I۔ اوّل، وہ جو سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں۔

یہاں مسیح خود کے بارے میں ایک ’’طبیب‘‘ کی حیثیت سے بتاتا ہے، یا ایک طبعی ڈاکٹر، جو گناہ سے بیمار جانوں کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو سوچتے تھے کہ وہ پہلے سے ہی ٹھیک ہیں اُنہیں مسیح کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ یہ اُن فریسیوں کی مانند تھے جو ہیکل میں جاتے تھے۔ وہ ایک انسان تھا جو اپنے آپ پر بھروسہ کرتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ وہ راستباز ہے۔ اُس نے کہا، ’’اے خُدا، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں، کہ میں دوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہوں جو لُٹیرے، ظالم اور زناکار ہیں اور اِس محصول لینے والے کی طرح بھی نہیں ہوں‘‘ (لوقا18:‏11)۔ وہ اصل میں ہیکل میں دعا کرنے کے لیے نہیں آیا تھا۔ وہ شیخی مارنے کے لیے آیا تھا، اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ کرنے کے لیے آیا تھا اور دوسروں کے مقابلے میں خود کو بہتر ثابت کرنے کی شیخی مارنے کے لیے آیا تھا۔

کیا آپ اُس کی مانند ہیں؟ کیا آپ اُن کے بارے میں سوچتے ہیں جو آپ کے مقابلے میں بدترین گنہگار ہیں؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ اُن سے بہتر ہیں، اور خود میں واقعی اتنے بُرے گنہگار نہیں ہیں؟ اگر آپ ایسے ہیں، تو بے شک آپ روحوں کے عظیم طبیب کے لیے کسی خاص ضرورت کو محسوس نہیں کرتے ہیں۔ نجات دہندہ یسوع، آپ کے لیے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ آپ نے اپنی زندگی اور دِل میں کبھی بھی گناہ کے جرم کو محسوس ہی نہیں کیا ہے۔ میں آپ کے لیے کوئی اُمید نہیں دیکھتا ہوں جب تک کہ آپ کو اپنے گناہ کے قصور کو دیکھنے کے قابل نہیں بنا دیا جاتا۔ ایک جدید مبشرِ انجیل کے مقابلے جو سوچتا ہے کہ اُس نے نجات پا لی ہے کیونکہ اُس نے ایک دفعہ دعا پڑھ لی ہے یا بائبل کی کچھ آیات سیکھ لی ہیں ایک بدھ مت والے یا رومن کیتھولک کے لیے زیادہ اُمید ہے! منادی کے پچاس سالا طویل تجربے کی وجہ سے، میں نے پایا ہے کہ خود پر تسلی رکھنے والے نئے مبشران انجیل جو کہ جدید ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی وجہ سے اندھے ہوگئے ہیں اُن کے مقابلے میں دہریوں، شاکیوں، بدھ مت والوں اور کیتھولک مسیحیوں میں حقیقی تبدیلی کے لیے بہتر اُمیدوار ہیں۔

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

عظیم مبشر جارج وائٹ فیلڈ نے کہا، میرے پاس اُس شخص کے مقابلے میں جو خود ہی سوچتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی کافی بہتر... سبت کو توڑنے والا، لعنتی، قسمیں کھانے والا، اُس کے لیے زیادہ اُمید ہے۔ [مسیح نے کہا] ’محصول لینے والے اور فاحشہ عورتیں تم سے پہلے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوتی ہیں‘ [متی21:‏31] ... اُس نے [جو خود کے بارے میں کافی بہتر سوچتا ہے] ابھی تک مسیحیت کے بارے میں پہلا سبق نہیں سیکھا ہے، وہ ہے اپنے آپ کو [بطور] غریب جاننا، مردہ، احمق [جاندار جو نہیں] دیکھ سکتا کہ [اُسے مسیح کی ضرورت ہوتی ہے]... جب منادی کرنے والا گنہگاروں کے ساتھ بولتا ہے، وہ سوچتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بول رہا ہے، اور خود سے نہیں بول رہا ہے‘‘ (وائٹ فیلڈ، ibid.، صفحہ 53)۔ اِس قسم کے شخص کے لیے مسیح میں ایک حقیقی تبدیلی کے لیے بہت کم اُمید ہوتی ہے!

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

II۔ دوئم، وہ جو جانتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں۔

مسیح یہاں پر جسمانی بیماری کی بات کر رہا ہے۔ آج کے اِن آخری ایام میں پینتکوست مشن والوں اور کرشماتی مشن والوں کے ذریعے سے جسمانی بیماریوں کی شفاؤں پر اِس قدر ضرورت سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ اُن میں سے کچھ اِس تلاوت کی تبلیغ سیاق و سباق سے ہٹ کر کرتے ہیں، جیسے کہ یہ جسمانی شفا کے لیے حوالہ دیا گیا ہو! لیکن پرانی کہاوت درست ہے، ’’بغیر سیاق و سباق کے تلاوت بہانہ ہوتی ہے۔‘‘ آیت 13 اِس کو بالکل بجا طور پر واضح کرتی ہے۔

ہماری تلاوت میں مسیح اپنے بارے میں بطور ’’روح کا طبیب‘‘ کے بات کر رہا ہے، وہ اُن لوگوں کو شفا دینے والا شخص ہے جن کی روحیں موت تک بیمار ہیں۔ وائٹ فیلڈ نےکہا، ’’جب ہمارا خُداوند لوگوں کے بیمار ہونے کے بارے میں بات کرتا ہے، تو اُس کا مطلب اُن سے ہے جو اپنے دِلوں میں بیمار ہوتے ہیں، وہ جو اپنی روحوں میں بیمار ہوتے ہیں... اگر تم کبھی بھی آسمان کے پھاٹکوں میں داخل ہونے کی اُمید رکھتے ہو، ہمیشہ کے لیے بابرکت خُداوند کے ساتھ رہنے کےلیے، تو دائمی خُدا کو، آپ کو اپنی بابرکت روح کے ذریعے سے ضرور بیمار کرنا چاہیے۔ کس بات کے لیے بیمار کرنا چاہیے؟ ... وہ ایک [کھوئے ہوئے] شخص کو کسی بڑے گناہ سے بیمار کرتا ہے، ایسے گناہ سے جس کا وہ قصوروار ہوتا ہے ... اِس لیے ایک شخص یوں گناہ کا بیمار ہونا شروع ہو جاتا ہے... بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی ہے، اگر خُدا کا کام گنہگار کے دِل میں پورا ہو جاتا ہے، تو خُداوند کی روح بشر میں گہرائی تک جاتی ہے، اور [گنہگار] نا صرف اپنے اصلی گناہوں کے لیے بیمار ہونا شروع ہو جاتا ہے، بلکہ اپنے حقیقی گناہ کے لیے بھی... ’اوہ،‘ [گنہگار] کہتا ہے، ’اب مجھے پتا چلا کہ میرے پاس ایک فوری طور پر بدکار دِل ہے، اب جب کہ میں جان گیا ہوں کہ میرا دِل تمام باتوں کے مقابلے میں زیادہ دھوکے باز ہے، تو اب مجھے حقیقی گناہ کا نظریہ نظر آتا ہے‘ ... اب [وہ جو سوچتا تھا] کہ اُس کا ایک اچھا دِل تھا، اُس کو پتا چلنا شروع ہوتا ہے کہ اُس کے پاس ماسوائے گناہ کے اور کچھ بھی نہیں ہے... پھر [وہ] انتہائی بھرپور گناہ کے ہونے کےگناہ کو دیکھتا ہے [اور] کہتا ہے، ’اوہ میں کس قدر تباہ حال انسان ہوں! کون مجھے اِس موت کے جسم سے نجات دلائے گا؟‘ [رومیوں7:‏24]... آخر کار کھوئے ہوئے گنہگار کو گناہ کا بیمار بنا دیا جاتا ہے ... بےاعتقادی کا بیمار بنا دیا جاتا ہے ... وہ غریب بیچارہ پہلے سوچتا تھا [کہ اُس کے پاس] ایمان تھا... وہ سوچتا تھا کہ وہ مسیح میں یقین کرتا تھا، کیونکہ اُس نے مسیح جیسے ایک شخص کے بارے میں سُنا تھا ... لیکن اب وہ غریب بیچارہ سوچتا ہے کہ وہ سورج کو ہلانے کے مقابلے میں اِس سے زیادہ یقین نہیں کر سکتا ہے۔ [اب گنہگار] کہتا ہے، ’مجھے نجات پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟‘ [اعمال16:‏30]۔ [اب وہ کہتا ہے] ’مجھے کیا پیش کرنا چاہیے، کاش میں اور کچھ نہیں تو اب ایک غریب، کھوئے ہوئے، منسوخ شُدہ، لعنتی مخلوق کی حیثیت سے یسوع مسیح پر قسمت آزمائی کر سکوں؟ میں کیا پیش کروں، کاش میں اور کچھ نہیں تو خُداوند یسوع مسیح اور اُس کی راستبازی پر ایمان کا ایک عمل ہی کر سکوں؟‘ اب گنہگار بیچارہ بلاشبہ بیمار ہے؛ بیچاری روح کو [اب] ضرورت ہوتی ہے [اُس] طبیب کی ... اب بیچارہ غریب تمام دِن ماتم کرتا رہتا ہے؛ وہ تسلی پانے سے انکار کر دیتا ہے ... وہ غریب بیچارہ اب کہتا ہے، ماسوائے مسیح کے خون کے اور کچھ بھی مجھے شفا نہیں دے سکتا۔‘ ایسے شخص کو ضرورت ہوتی ہے [اُس مسیح] طبیب کی‘‘ (وائٹ فیلڈ، ibid.، صفحات 54۔57)۔

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘ (متی 9:‏12).

III۔ سوئم، وہ جو یسوع کو پانے کے لیے بہت بیمار ہوتے ہیں۔

نجات دہندہ نے کہا، ’’اے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہوئے تمام لوگو! میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:‏28)۔ اگر آپ محنت کشی کر رہے ہیں اور اپنے گناہ کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس کر رہے ہیں، تو یسوع کے پاس آئیں۔ اُس نے آپ کے گناہ کے لیے صلیب پر کفارہ ادا کیا۔ اُس نے آپ کو ’’تمام گناہ سے‘‘ پاک صاف کرنے کے لیے اپنا قیمتی خون بہایا (1۔ یوحنا1:‏7)۔ وہ اب آسمان میں خُداوند خُدا کے داھنے ہاتھ پر زندہ موجود ہے۔ یسوع کے پاس آئیں اور اپنے گناہ سے شفا پائیں! وائٹ فیلڈ نے کہا، ’’میں سُنتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ کہتے ہیں، ’تم مجھ سے [باتیں کرتے رہے] ہو؛ میں بیدار ہو چکا ہوں؛ میں اپنی روح میں ایک جہنم محسوس کرتا ہوں؛ میں [اپنی] خود کی کوئی بھی راستبازی محسوس نہیں کرتا ہوں، میرے گناہ میرا چہرہ تکتے ہیں؛ میرے اخلاقی زوال نے مجھ پر سبقت پا لی ہے؛ مجھے پتا چلتا ہے کہ میں خُداوند یسوع مسیح پر یقین نہیں کر سکتا ہوں؛ مجھے ایمان چاہیے؛ مجھے [وہ] طبیب چاہیے؛ تم کیا سوچتے ہو میرا کیا بنے گا؟ مجھے ڈر ہے کہ میں لعنتی نہ ہو جاؤں ... میں ڈرتا ہوں کہ میرا معاملہ ناقابل علاج نہ ہو جائے ... میں بیمار ہوں، میں نے بہت سے گناہ کیے ہیں، میں اُنہیں کافی عرصے سے کرتا رہا ہوں... مجھے ڈر ہے کہ خُدا مجھ[پر] کوئی رحم نہیں کرے گا‘۔

مجھے کیسے آپ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے؟ میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گا کہ آپ پیارے یسوع کے قدموں میں اپنے آپ کو نچھاور کر دیں ... آپ جن کے دِل ٹوٹے ہوئے ہیں، میں آپ کو یسوع کے پاس لانا چاہوں گا۔ [مت بھولیں] اُس عظیم لفظ تمام کو۔ ’اے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہوئے تمام لوگو! میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام بخشوں گا‘۔ یسوع کے پاس آئیں، روحوں کے عظیم ڈاکٹر کے پاس .... اوہ، آئیں، پھر اُس عظیم طبیب کے لیے آئیں۔ وہ آپ کو بغیر کسی لالچ کے شفا دے گا، ’’بغیر پیسے اور بغیر کسی قیمت کے‘‘ (اشعیا 55:‏1)۔ اگر آپ اُس کے پاس آئیں، تو اُس کا فضل مفت میں ہے۔ اگر آپ [یسوع] پر ایمان کے ایک عمل کے لیے بھی قسمت آزمائی کرتے ہیں تو آپ بالکل [درست] ... کر دیے جائیں گے .... مسیح آپ کو پاک صاف بنا دے گا‘‘ (وائٹ فیلڈ، ibid.، صفحات 60۔61)۔ آمین۔ مہربانی سے کھڑے ہو جائیں اور اپنے گیتوں کے ورق میں سے حمد و ثنا کا گیت نمبر 7 گائیں۔

وہاں عمانوئیل کی رگوں سے کھینچا گیا خون سے بھرا ایک چشمہ ہے؛
   اور گنہگار اُس چشمے کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
اور گنہگار اُس چشمے کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
   اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں، اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
اور گنہگار اُس چشمے کے نیچے ڈبکی لگاتے ہیں اپنے تمام قصوروں کے دھبے دھولیتے ہیں؛
   (’’وہاں ایک چشمہ ہےThere Is a Fountain ‘‘ شاعر ولیم کاؤپر William Cowper‏، 1731۔1800)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے کلام پاک میں سے تلاوت ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: متی 9:‏10۔13۔
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ھیلیلویاہ! کیسا ایک نجات دہندہ!Hallelujah! What a Saviour! ‘‘
(شاعرفلپ پی۔ بلِس Philip P. Bliss‏، 1838۔1876)

لُبِ لُباب

مسیح – روح کا طبیب

(محترم جناب جارج وائٹ فیلڈ کے ایک واعظ سے اخذ کیا گیا)
CHRIST – THE PHYSICIAN OF THE SOUL
(ADAPTED FROM A SERMON BY THE REV. GEORGE WHITEFIELD)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ بیماروں کو ہوتی ہے‘‘
(متی 9:‏12).

(1۔ کرنتھیوں 15:‏3؛ 1۔ تیموتاؤس 1:‏15؛ متی 9:‏11)

I.   اوّل، وہ جو سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں، لوقا 18:‏11؛ متی 21:‏31۔

II.  دوئم، وہ جو جانتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں، رومیوں 7:‏24؛ اعمال 16:‏30۔

III. سوئم، وہ جو یسوع کو پانے کے لیے بہت بیمار ہوتے ہیں، متی 11:‏28؛
1۔ یوحنا 1:‏7؛ اشعیا 55:‏1۔