اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
دعا پر انحصار کرنا کیوں آپ کو جہنم میں بھیج دے گاWHY DEPENDING ON PRAYER WILL SEND YOU TO HELL ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں …‘‘ (II تسالونیکیوں 2: 3)۔ |
اُن الفاظ ’’برگشتہ ہو جانا‘‘ کا ترجمہ ایک یونانی لفظ ’’آپوستاشیاapostasia‘‘ سے آتا ہے۔ میں اِس بات پر قائل ہوں کہ آج کے زمانے کا اِرتداد بڑی حد تک دو لوگوں سے شروع ہوا۔ جوھان سیملر Johann Semler (1725۔ 1791)، نے جرمنی میں بائبل پر تنقید کی تعلیم دینی شروع کی، جس نے کالجوں اور سیمنریوں میں آزاد خیالی کی قیادت کی جس کے سبب سے مبلغین کا پاک صحائف پر اعمتاد محروم ہو گیا۔ دوسرا شخص جو بالخصوص آج کے اِرتداد کا ذمہ دار ہے سی جی فنّی C. G. Finney (1792۔ 1875) تھا۔ فنّی نے مذہبی سُدھار کے تقریباً ہر عقیدے پر حملہ کیا۔ اُس نے تعلیم دی کہ انسان خود اپنی مرضی کے ایک عمل کے ذریعے سے خود کو نجات دلا سکتا ہے (جو کہ سینرجیزم synergism [مذہبی نظریہ کہ نجات انسانی مرضی اور خدائی فضل کے تعامل سے حاصل ہوتی ہے] سے بھی بدتر تھا – فنّی نے خالصتاً پیلیجیئن اِزم Pelagianism [پیلجیئس کے ذریعہ پیش کردہ مذہبی نظریہ جس نے موروثی گناہ سے انکار کیا اور انسانوں کے راستباز ہونے کی صلاحیت کی تصدیق کی] تعلیم دی تھی۔ اُس نے فضل کے وسیلے سے نجات کو اور انسان کے مکمل اخلاقی زوال کی تردید کی تھی۔ اُس نے صلیب پر گنہگاروں کی خاطر مسیح کے متبادلیاتی عمل کا اِنکار کیا۔ فنی نے ابتدائی رومن کیتھولک پیلاجیئس (354-420) کی طرح کے عقائد سکھائے – کہ ایک آدمی اپنی مرضی کے ’’فیصلے‘‘ سے اپنے آپ کو نجات دلا سکتا ہے۔ بے شمار مبشران اور پادریوں نے فنّی کے پیلاجیئنسٹ ’’فیصلہ سازیت‘‘ کی پیروی کی تھی۔ آج کی دور میں ’’فیصلہ سازیت‘‘ زیادہ تر انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والوں اور بنیاد پرستوں کا بنیادی عقیدہ ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں میں جو ’’بُلاہٹ کے نظام‘‘ کو مسترد کرتے ہیں، حالانکہ انہیں ابھی تک اس کا احساس نہیں ہے۔ والٹر چینٹری Walter Chantry نے کہا،
انجیلی بشارت کا پرچار کرنے والے جانتے ہیں کہ اُن کی کلیسیاؤں میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے … کہ کلیسیا کی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم میں طاقت تھوڑی ہو چکی ہے … گرجا گھروں کے رہنما اُن کے موجودہ تجربوں اور اُن کی کوششوں کے نتائج کے ساتھ شدید طور سے غیرمطمئن اور بےچین ہیں (والٹر جے چینٹری Walter J. Chantry، آج کی انجیلی: مستند یا مصنوعی؟ Today’s Gospel: Authentic or Synthetic? بینر آف ٹُرتُھ Banner of Truth، 2009 ایڈیشن، صفحہ 1)۔
لیونارڈ ریوینحِل نے کہا،
انسان کے ہاتھوں بنائے ہوئے مذہب سے تباہ ہوئی … اور انسان کے بنائے ہوئے عقائد کے ساتھ بدنصیب قوموں کی خدا مدد کرتا ہے! کیا کبھی ایسی بھی بری گھڑی آئی تھی؟ (لیونارڈ ریونحِلLeonard Ravenhill، حیاتِ نوع کیوں سُست روی کا شکار ہوا Why Revival Tarries، بیتھنی ہاؤس پبلشرزBethany House Publishers، 2004 دوبارہ اشاعت، صفحہ 156)۔
ہماری کلیسیاؤں کی ’’تباہی‘‘ اور ’’بدنصیبی‘‘ کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ مسیح میں ایمان نہ لائے ہوئے غیرتبدیل شُدہ اراکین کے ساتھ بھرے پڑے ہیں، جن میں گرجا گھر میں پروان چڑھے بچے، بالغ اور یہاں تک کہ وہ جو قیادت کے کرداروں میں ہیں شامل ہیں۔ اور وہ وجہ کہ ہمارے گرجا گھر غیرتبدیل شُدہ یعنی مسیح میں ایمان نہ لا کر تبدیل ہوئے لوگوں کی بہت بڑی تعداد سے لبریز ہیں یہ ہے کیونکہ ہم نے لوگوں کو ’’نجات‘‘ دلانے کے لیے ’’فیصلہ سازیت‘‘ کے مختلف طریقوں کو اِختیار کر لیا ہے۔ اِن طریقوں میں سے سب سے زیادہ مُہلک طریقہ ہے ’’مسیح سے اپنے دِل میں آنے کے لیے کہنا۔‘‘ وہ شخص جو مسیح کو اپنے دِل میں آنے کے لیے کہتا ہے اور اُس دعا پر انحصار کرتا ہے، بِنا کسی سوال کے اپنی موت کے وقت جہنم میں جائے گا۔ کوئی ایک شخص بھی جو اُس دعا پر اِنحصار کرتا ہو گا جنت میں نہیں ہو گا۔ کیا یہ شدید سخت بات ہے؟ میرا خیال ہے نہیں ہے۔ یہ غالباً انتہائی شدید سخت بات ہے ہی نہیں! ایک شخص جو ’’یسوع کو اپنے دِل میں آنے‘‘ پر اِنحصار کرتا ہے جہنم میں جائے گا! کیوں؟ پاک صحائف کے مطابق مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا ہے۔
بائبل کہیں پر بھی آپ کو ’’یسوع سے اپنے دِل میں آنے کا پوچھنے‘‘ کے لیے نہیں بتاتی۔ اِس کے باوجود آج کے دور میں نجات کا یہ جھوٹا طریقہ شدید طور پر جانا مانا ہے۔ گذشتہ اِتوار کی شام کو میں نے ہماری مذہبی جماعت سے پوچھا اُن میں سے کتنے لوگوں نے اِس کے بارے میں سن رکھا تھا۔ تقریباً ہر ایک نے ہاتھ کھڑا کیا – جن میں پہلی دفعہ آئے ہوئے لوگوں کے ہاتھ بھی شامل تھے، اُن میں سے کچھ نے تو پہلے کبھی بھی مسیحی گرجا گھر میں شمولیت نہیں کی تھی! یہ اِس قدر بخوبی جانا جاتا ہے اور مشہور ہے کہ بہت سے لوگ سوچتے ہیں اِس کو کہیں نہ کہیں بائبل میں ہونا چاہیے! لیکن یہ نہیں ہے۔ کبھی کبھار افسیوں 3: 17 میں سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ یہ وہ آیت ’’اِفسُس میں موجود مقدسین‘‘ کے لیے پیش کی گئی تھی (افسیوں 1: 1)، نہ کہ غیرنجات یافتہ لوگوں کے لیے – اِس لیے ’’یسوع کو اپنے دِل میں آنے کا پوچھنے‘‘ کے ساتھ اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے! یوحنا 14: 23 سے بھی کبھی کبھار مدد طلب کی جاتی ہے، لیکن (افسیوں 3: 17 کی مانند) یہ آیت پاک روح کی جانب حوالہ دیتی ہے نہ کہ انسان مسیح یسوع کی طرف۔ یہ ’’خدا کے روح‘‘ کا حوالہ دیتی ہے، یہاں تک کہ ’’مسیح کے روح‘‘ (رومیوں 8: 9) حوالہ دیتی ہے – انسان مسیح یسوع کے لیے نہیں، جس کے بارے میں ہمیں نئے عہدنامے میں پندرہ آیتوں میں بتایا گیا تھا، ’’اُوپر آسمان میں اُٹھا لیا گیا تھا اور خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے (مرقس 16: 19)، ’’جہاں پر مسیح خدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے‘‘ (کُلسیوں 3: 1)۔ پندرہ مرتبہ نیا عہدنامہ ہمیں بتاتا ہے کہ جی اُٹھا مسیح اوپر آسمان میں ہے، خدا باپ کے داہنے ہاتھ پر۔ انسان مسیح یسوع گنہگار کے دِل میں نہیں آتا ہے جب وہ، وہ والی دعا مانگتا ہے۔ وہ خدا کے داہنے ہاتھ پر آسمان ہی میں رہتا ہے!
I۔ پہلی بات، مکاشفہ 3: 20 ’’دِل‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں کہتی ہے۔
’’یسوع سے پوچھنے کے ذریعے سے نجات پانے‘‘ کے لیے مبلغین کی جانب سے استعمال کی جانی والی اہم آیت مکاشفہ 3: 20 آیت ہے۔ مہربانی سے اپنی بائبل کھولیں اور اِس کو بُلند آواز سے پڑھیں۔
’’دیکھ، میں دروازے پر کھڑا ہوں اور کھٹکھٹا رہا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سُن کر کھول دے گا تو میں اندر داخل ہو کر اُس کے ساتھ کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ‘‘ (مکاشفہ 3: 20)۔
جیسا کہ میں نے گذشتہ اِتوار کہا، وہ لفظ ’’دِل‘‘ اِس آیت میں کبھی بھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ آیت آپ کے ضمیر کے دروازے پر ’’مسیح کے روح‘‘ کے کھٹکھٹانے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ وہ اہم طریقہ جس سے وہ کھٹکھٹاتا ہے وہ انجیل اور شریعت کی تبلیغ کو سُننے کے ذریعے سے ہے۔ یہ ہمارے گرجہ گھر میں ایک نوجوان کی کُچھ عرصہ پہلے گواہی سے واضح ہوتا ہے جو امید کے ساتھ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا تھا۔ اس نے کہا،
جیسے ہی عبادت شروع ہوئی اور ڈاکٹر ہائیمرز نے تبلیغ کا آغاز کیا تو میں خدا کے خلاف جدوجہد کرنے کا اِرادہ کر لیا، لیکن جوں جوں واعظ سُنتا چلا گیا تو مجھے میرے گناہ مجھ پر وزن ڈالتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ہر گزرتے ہوئے منٹ کے ساتھ میرے گناہوں کا درد اور بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھتا چلا گیا… میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میں ایک گنہگار تھا، اور میری انتہائی فطرت خدا سے نفرت کرتی تھی، اِس بارے میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن [اِس] وقت میں اِس سے فرار نہیں ہو سکا … میں خود کو ہی برداشت نہ کر پایا۔ جو کچھ بھی میں تھا، جو کچھ میں بن چکا تھا، اِس قدر ہولناک لگتا تھا کہ میں نے محسوس کیا خدا مجھے جہنم میں بھیجنے کے لیے بِلاشُبہ راستباز تھا …. اچانک مجھے پچھلے واعظ کے الفاظ یاد آ گئے… وہ الفاظ، ’’مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دو! مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دو!‘‘ میرے ذہن میں گونجتے رہے۔ میری مرضی، تاہم اب بھی اَٹل تھی؛ میں اب بھی مسیح کے خلاف اِرادہ کیے بیٹھا تھا۔ یسوع نے میری خاطر خون بہایا اور مر گیا لیکن میں اُس کی مزاحمت کرنا نہیں چھوڑوں گا۔ اِس بات نے میری پہلے سے بھی کہیں زیادہ مذمت کی۔ میں مذید اور اپنے گناہ پر ڈٹا ہوا نہیں رہ سکتا تھا۔ مجھے مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی تھے۔ ایک لمحے میں مَیں نے خود کو مسیح کے حوالے کر دیا اور اُس کے پاس چلا گیا۔ اُس ہی لمحے میں مَیں نے اپنی تمام رکاوٹوں اور شکوک و شبہات کو چھوڑ دیا، اور سادگی سے یسوع کے پاس چلا آیا۔ میں نے اپنے گناہ سے اور خود سے مُنہ موڑ لیا … اُس جی اُٹھے نجات دہندہ کے لیے، ایمان کے وسیلے سے … اُس کے خلاف مزاحمت کرنے سے رُکنا میرا مسئلہ تھا۔ اُس کے پاس جانا آسان تھا … تنہا خدا کے فضل کے وسیلے سے میں گناہ کی سزایابی اور سزا کے لیے قائل ہو گیا تھا، اور اُس [خدا] کے بیٹے کے وسیلے ہی سے آسمان میں کتابوں میں سے میرے گناہ مِٹا دیے گئے تھے۔ سارا جلال اُس ہی کا ہو! … یسوع میں میری اُمید ہے … یسوع ہی میں میری روح پر مہر لگا دی گئی ہے اور مجھے پوری سنجیدگی اور مایوسی کے ساتھ اُس ہی کی خاطر زندگی بسر کرنی چاہیے۔
یہ ہے جس کے بارے میں مکاشفہ 3: 20 آیت بات کر رہی ہے! ’’مسیح کا روح‘‘ ضمیر کے دروازے پر کھٹکھٹاتا اور کھٹکھٹاتا ہے جب تک کہ وہ بشر خود کو مسیح کے حوالے نہ کر دے۔ تب پھر ’’مسیح کے روح‘‘ کو قبول کرنا اور مسیح یسوع انسان کی جانب کھیچے جانا کافی آسان دکھائی دیتا ہے۔ روح القدس کو ایک کھوئے ہوئے گنہگار کو نجات دہندہ کی طرف کھینچ لے جانے سے پہلے اُس کی مرضی کو نرم کرنا اور توڑ دینا چاہیے۔
II۔ دوسری بات، 1: 12 ویں آیت ’’دِل‘‘ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہتی ہے۔
دوسری آیت جس کا اِستعمال غلط کیا گیا یوحنا 1: 12 ویں آیت ہے۔ مہربانی سے اپنی بائبل وہاں سے کھولیں اور اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں،
’’لیکن جِتنوں نے اُسے قبول کیا خدا نے اُنہیں یہ حق بخشا کہ وہ خدا کے فرزندہ بنیں یعنی اُنہیں جو اُس پر ایمان لائے‘‘ (یوحنا 1: 12)۔
جس لفظ نے ’’قبول کیا‘‘ کا ترجمہ کیا وہ لفظ کلیدی ہے۔ مبلغین جو کہتے ہیں ’’دعا کے وسیلے سے نجات‘‘ ’’قبول کی جاتی‘‘ ہے اِس کا مطلب ہوتا ہے انسان مسیح یسوع کو بندے کے دِل میں آنے کے لیے پوچھنا۔ لیکن یونانی لفظ کا جو مطلب ہوتا ہے وہ یہ تو سرے سے ہی نہیں ہوتا ہے! یونانی لفظ کا مطلب ہوتا ہے ’’پکڑنا‘‘ (سٹرانگ # 2983)۔ بندے کے خود میں اُس [یسوع] کو قبول کرنے کا یہ تصور گنوسٹک نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے مسیح کو ’’لے لینا‘‘ یا ’’پکڑنا۔ یہ کسی کے دل میں مسیح یسوع کو قبول کرنے کا حوالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ یوحنا اُس وقت کے رہنے والے لوگوں کے بارے میں لکھ رہا تھا، اسی وقت مسیح زمین پر موجود تھا۔ مسیح کے زمانے میں رہنے والے لوگوں کے بارے میں یہ بات سوچنا مضحکہ خیز ہو گا کہ وہ لوگ اسے اپنے دلوں میں قبول کر رہے ہیں! تب پھر، اس کا یہ مطلب، آج بھی نہیں ہو سکتا۔ مسیح کو قبول کرنے کا مطلب ہے ’’مسیح پر ’’ڈٹے رہنا‘‘۔ جب ہم نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں تو ہم مسیح میں ’’ڈٹے رہتے‘‘ ہیں، جیسا کہ تیرہویں آیت ہمیں بتاتی ہے۔ اسے بلند آواز سے پڑھیں۔
’’وہ نہ تو خون سے نہ جسمانی خواہش سے اور نہ اِنسان کے اپنے اِرادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے‘‘ (یوحنا 1: 13)
ولیم میکڈونلڈ اِس کی سادہ طریقے سے وضاحت کرتے ہیں:
یہ آیت ہمیں وہ تین طریقے بتاتی ہے جن سے نیا جنم نہیں ہوا ہوتا، اور وہ ایک طریقہ جس سے ہوا ہوتا ہے۔ پہلا، وہ تین طریقے جن سے ہم نے نیا جنم نہیں لیا ہوا ہوتا ہے۔ خون سے نہیں۔ اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ اِک شخص مسیحی والدین ہونے کی وجہ سے ایک مسیحی نہیں بنتا ہے۔ نجات والدین سے بچوں میں خون کے ذریعے منتقل نہیں ہوتی ہے۔ نہ جسمانی خواہش سے۔ دوسرے لفظوں میں، ایک شخص کے خود اپنے جسم میں اتنی قوت نہیں ہوتی ہے کہ نئے جنم کو پیدا کر سکے … نہ ہی اِنسان کے اپنے اِرادے سے۔ کوئی شخص کسی بندے کو نجات نہیں دلا سکتا۔ مثال کے طور پر، ایک مبلغ، شاید ایک مخصوص شخص کو نئے سرے سے جنم لیتا ہوا دیکھنے کے لیے شدید بے قرار ہو، لیکن اُس میں اتنی قوت نہیں ہوتی ہے کہ [اِسے] پیدا کر سکے۔ کیسے، پھر، یہ [نیا] جنم وقوع پزیر ہوتا ہے؟ اِس کا جواب ماسوائے خدا کے الفاظ کے کہیں نہیں ملتا۔ اِس کا سادہ سا مطلب ہوتا ہے کہ نئے جنم کو پیدا کرنے کی قوت کسی چیز یا کسی بندے میں قائم نہیں ہوتی ہے ماسوائے خدا کے (ولیم میکڈونلڈ William MacDonald، ایماندار کا بائبل پر تبصرہ Believer’s Bible Commentary، تھامس نیلسن پبلیشرز، 1995 اشاعت، صفحات 1467۔1468، یوحنا 1: 13 پر غور طلب بات)۔
وہ نظریہ، جو کہ بائبلی نظریہ ہے، مونرگیزم ہے – خدا نئے جنم اور مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کا مصنف ہے، نہ کہ انسان۔ چونکہ خدا، نہ کہ انسان، نیا جنم پیدا کرتا ہے، اس لیے انسان یقینی طور پر مسیح کے لیے اپنے دل میں داخل ہونے کے لیے دعا کرنے کے عمل سے خود کو نجات نہیں دلا سکتا! یا کسی اور دعا سے! تاریخ کے عظیم مسیحیوں میں سے کسی نے بھی یسوع کو اُن کے دِلوں میں داخل ہونے کے لیے نہیں کہا تھا – نہ لوتھر نے، نہ بعنیئن نے نہ وائٹ فیلڈ نے، نہ ویزلی نے، نہ سپرجئین نے۔ درحقیقت، مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے اِن مشہور لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی سرے سے کوئی دعا نہیں مانگی تھی جب وہ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوئے تھے! وہ سب کے سب تنہا مسیح میں ایمان کے وسیلے سے تبدیل ہوئے تھے – بغیر کسی دعا کے!
سپرجیئن نے ایک مذہبی خادم کے بارے میں بتایا جس نے لوگوں کے ایک گروہ سے پوچھا کہ ایک شخص کو کیسے نجات دلائی جا سکتی ہے،
ایک بوڑھے شخص نے جواب دیا، ’’ہم نجات پا جائیں گے اگر ہم توبہ کریں، اور اپنے گناہوں کو کرنا چھوڑ دیں، اور خدا کی طرف رجوع کریں۔‘‘ ’’جی ہاں،‘‘ ایک اوسط عمر کی [خاتوں] نے کہا، ’’اور سچے دِل کے ساتھ بھی۔‘‘ ’’اے،‘‘ ایک تیسرے بندے نے [کہا]، ’’اور دعا کے ساتھ‘‘؛ اور، ایک چوتھے نے اِضافہ کیا، ’’اِس کو دِل سے دعا ضرور مانگنی چاہیے‘‘ … اِس طرح، ہر ایک نے اپنا اپنا تھوڑا حصہ ڈالا … اُن تمام کے تمام لوگوں نے مبلغ کی [منظوری] کے لیے دیکھا اور سُنا؛ لیکن اُںہوں نے اُس کے شدید تر ترس کو بڑھاوا دیا: اُسے شروع سے شروع کرنا پڑا، اور اُن کو مسیح کی منادی کرنی پڑی۔ [غیر تبدیل شُدہ] ذہن ہمیشہ اپنے لیے ایک ایسا طریقہ اِختیار کرتا ہے جس میں وہ خود کام کر سکتا ہے اور عظیم بن سکتا ہے؛ لیکن خدا کا طریقہ بالکل متضاد ہوتا ہے (سی ایچ سپرجئین C. H. Spurgeon، تنگ کھڑکی کے پار سے Around the Wicket Gate، پِلگِرم پبلیشرز، دوبارہ اشاعت 1992، صفحہ 25)۔
یسوع نے آپ کو بچانے کے لیے درکار تمام کام کیے ہیں۔ وہ آپ کی جگہ صلیب پر مر گیا، آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے۔ اس نے اپنا قیمتی خون آپ کے گناہ کو خدا کی ریکارڈ کی کتابوں سے دھونے کے لیے بہایا۔ وہ آپ کو زندہ کرنے کے لیے مردوں میں سے جی اُٹھا۔ اب وہ آپ سے کہتا ہے،
’’میرے پاس آؤ‘‘ (متی 11: 28)۔
’’آؤ، کیونکہ اب سب چیزیں تیار ہیں‘‘ (لوقا 14: 17)۔
جیسا کہ اس نوجوان شخص نے اُس گواہی میں کہا جو میں نے پہلے پڑھی تھی، ’’[مسیح] کی مزاحمت کو روکنا میرا مسئلہ تھا۔ اُس کے پاس آنا آسان تھا۔‘‘ ’’مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دو! مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دو!‘‘ کے الفاظ میرے ذہن میں گونجتے رہے۔ تاہم میری مرضی اب بھی اٹل تھی؛ میں ابھی بھی مسیح کے خلاف پرعزم تھا۔ یسوع نے میرے لیے خون بہایا اور مر گیا تھا لیکن میں اس کے خلاف مزاحمت نہیں چھوڑوں گا۔ اس نے مجھے پہلے سے زیادہ مجرم ٹھہرایا۔ میں اپنے گناہ کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا… ایک لمحے میں میں نے مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور اُس کے پاس چلا آیا۔ دعا پر انحصار کرنا چھوڑ دو! خود یسوع مسیح پر انحصار کریں۔ دعا آپ کو نہیں بچا سکتی! صرف مسیح ہی آپ کو بچا سکتا ہے!
مسیح کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں! خود کو مسیح کے حوالے کر دیں! مسیح کے سامنے شکست تسلیم کر لیں! مسیح میں آ جائیں! اُس کے پاس آئیں۔ اُس کے سامنے جُھکیں۔ تنہا وہ ہی آپ کو نجات دلا سکتا ہے۔ اُس سے کچھ بھی کرنے کے لیے نہ کہیں۔ اگر آپ ’’پوچھیں‘‘ گے تو آپ یقینی طور پر دعا میں قائم ہیں! وہ آپ کے لیے بددعا ہو گی! آپ کو مسیح میں قائم رہنا چاہیے – نہ کہ دعا میں! نہیں! نہیں! بغیر پوچھے اُس یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں! اُس کے پاس دعا مانگے بغیر آئیں!
’’آؤ، اے سب پیاسے لوگو، پانی کے پاس آؤ، اور تم جن کے پاس پیسے نہیں، آؤ، خریدو اور کھاؤ؛ تم آؤ … بِنا نقدی اور بِنا قیمت‘‘ (اشعیا 55: 1)۔
ہائے، رحم کا کیسا ایک چشمہ بہہ رہا ہے،
لوگوں کے مصلوب نجات دہندہ کے جانب سے نیچے کی طرف۔
قیمتی ہے وہ خون جو یسوع نے ہمارے گناہ بخشنے کے لیے بہایا،
ہمارے تمام گناہ کے لیے فضل اور معافی۔
(’’ہائے، کیسا ایک چشمہ! Oh, What a Fountain! ‘‘ شاعر جان آر۔ رائس John R. Rice، 1895 - 1980)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب دعا پر انحصار کرنا کیوں آپ کو جہنم میں بھیج دے گا WHY DEPENDING ON PRAYER WILL SEND YOU TO HELL ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’نہ ہی کسی طرح کسی کے فریب میں آنا کیونکہ وہ دِن نہیں آئے گا جب تک کہ لوگ ایمان سے برگشتہ نہ ہو جائیں …‘‘ (II تسالونیکیوں 2: 3)۔ (افسیوں 3: 17؛ 1: 1؛ یوحنا 14: 23؛ رومیوں 8: 9؛ I۔ پہلی بات، مکاشفہ 3: 20 ’’دل‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی، مکاشفہ 3: 20۔ II۔ دوسری بات، یوحنا 1: 12 ’’دل‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی، یوحنا 1: 12، 13؛ |