Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


کیا تم آنے سے ڈرتے ہو؟

ARE YOU AFRAID OF COMING? (Urdu)


ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
ہفتے کی شام، 14 اگست، 2010
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Saturday Evening, August 14, 2010

’’اے محنت کشو اور بوجھ سےدبے ہوئے لوگو! میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11: 28)۔

یسوع کہتا ہے، ’’میرے پاس آؤ۔‘‘ اُس کے پاس آنا یہ انتہائی سادہ سی بات ہے۔ اِس کے باوجود آپ میں سے کچھ لوگوں کو خدا کے بیٹے کے پاس آنے سے خوف آتا ہے۔

میں نے ایک بار ایک ایسے شخص کے بارے میں پڑھا جو ایک اپارٹمنٹ میں رہتا تھا؛ ایک رات جب وہ سو رہا تھا تو وہاں آگ لگ گئی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو پوری عمارت شعلوں کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔ اس نے کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن راہداری پہلے ہی آگ اور دھوئیں سے بھر چکی تھی۔ وہ بھاگ کر کھڑکی تک گیا۔ اس نے نیچے دیکھا۔ پانچ منزل نیچے آگ بجھانے والی گاڑی موجود تھی۔ آگ بُجھانے والے عملے کے لوگوں نے ایک جال پھیلا رکھا تھا۔ ان میں سے ایک نے اسے پکارا: ’’نیچے چھلانگ لگا دو!‘‘ لیکن اسے چھلانگ لگانے سے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ جال بہت چھوٹا دکھائی دے رہا تھا، بس ایک معمولی سا گول جال جسے فائر فائٹرز نے کناروں سے تھام رکھا تھا۔ وہ بہت چھوٹا تھا اور وہ خود بہت بلندی پر تھا، پانچ منزل اوپر۔ وہ مسلسل سوچتا رہا اور فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ آیا چھلانگ لگائے یا نہیں۔ آخر کار فائر چیف نے پکارا: ’’جلدی کرو! چھلانگ لگا دو! عمارت گرنے والی ہے! چھلانگ لگا دو!‘‘ اس کے باوجود وہ شخص ہچکچاتا رہا، اسے بلندی کا خوف تھا، خطرے کا ڈر تھا، اور اسے خدشہ تھا کہ شاید جال اسے سنبھال نہ پائے۔ فائر چیف نے دوبارہ آواز دی: ’’جلدی کرو! چھلانگ لگا دو!‘‘ بے چینی، شک اور خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر وہ شخص کھڑکی سے مڑا اور واپس شعلوں کی طرف بھاگ گیا۔ عین اسی لمحے اس کے پیروں تلے سے فرش سرک گیا اور وہ پانچ منزل نیچے، آگ کے دہکتے ہوئے الاؤ میں جا گرا۔ بعد میں، جب راکھ کی چھان بین کی گئی تو اس کی لاش نہ مل سکی۔ وہ شعلوں کی نذر ہو کر راکھ ہو چکا تھا۔

کیا میں آپ کا موازنہ اُس آدمی سے کر سکتا ہوں؟ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ بالکل اُس جیسے ہیں؟ یسوع کہتا ہے، ”میرے پاس آؤ... اور میں تمہیں آرام بخشوں گا۔“ لیکن آپ اُس کے پاس آنے سے ڈرتے ہیں۔ آپ اُس پر بھروسہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔ آپ تشویش اور شک میں مبتلا ہیں۔ جیسا کہ یسوع نے کہا،

”پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے میرے پاس آنے سے انکار کرتے ہو“ (یوحنا 5: 40)۔

ہائے! میں آپ سے التجا کرتا ہوں، اُس کے پاس آئیں! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں، اُس کے پاس آئیں! میں آپ کو ترغیب دیتا ہوں، اُس کے پاس آئیں! مگر آپ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ آپ ہچکچاتے ہیں۔ لیکن آپ خدا کے بیٹے کے پاس آنے سے ڈرتے ہیں! نجات دہندہ کے پاس آنے سے آپ کے ڈرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

I۔ پہلی بات، آپ یسوع کے پاس آنے سے ڈرتے ہیں کیوں کہ آپ کی انتہائی فطرت اُسے مسترد کر دیتی ہے۔

اِشعیا نبی نے کہا،

’’لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور رد کیا؛ وہ ایک غمگین اِنسان تھا جو رنج سے آشنا تھا اور اُس شخص کی مانند تھا جِسے دیکھ کر لوگ مُنہ موڑ لیتے ہیں۔ وہ حقیر سمجھا گیا اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ جانی‘‘ (اشعیا 53: 3)۔

جی ہاں، آپ کی گناہ میں گری ہوئی برگشتہ فطرت ہی نجات دہندہ سے نفرت کرتی اور اسے رد کرتی ہے، کیونکہ نبی یسوع کو ’’لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور رد کیا‘‘ (اِشعیا 49: 7) کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ ’’لوگوں کا حقیر جانا ہوا اور رد کیا ہوا‘‘ ہے – یعنی عام انسانیت کا۔ وہ ’’وہ ہے جسے انسان حقیر جانتے ہیں‘‘۔ اور چونکہ آپ آدم کی گناہ میں گری ہوئی نسل کا حصہ ہیں، اس لیے آپ بھی اس سے نفرت کرتے اور اسے رد کرتے ہیں۔ آدم باغ میں اس سے چھپ گیا تھا۔ آدم نے کہا، ’’میں ڈر گیا‘‘ (پیدائش 3: 10)۔ ہمیں اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ آدم کی اولاد بھی یسوع کے پاس آنے سے ڈرتی ہے۔ اس کے پاس آنے کے حوالے سے آپ کا خوف بظاہر ایک مخلصانہ شک معلوم ہو سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک متکبر اور باغی دل سے جنم لیتا ہے۔ سپرجیئن نے کہا، ’’اگر آپ [یسوع پر] ایمان نہ لانے سے ڈرتے تو اس خوف میں کوئی معقولیت ہوتی؛ لیکن [یسوع پر] بھروسہ کرنے سے ڈرنا زیادہ سے زیادہ ایک حماقت ہے، اور [درحقیقت] یہ خداوند کو اس کی وفاداری اور سچائی کے مطابق ملنے والے اعزاز سے محروم رکھنے کا ایک دھوکہ آمیز طریقہ ہے‘‘ (سی ایچ سپرجیئن، تنگ دروازے سے گھوم کر Around the Wicket Gate، پلگرم پبلیکیشنز، 1992 دوبارہ اشاعت، صفحہ 48)۔ یسوع کہتا ہے،

’’میرے پاس آؤ … میں تمہیں آرام بخشوں گا۔‘‘

لیکن،

”پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے [اُس کے] پاس آنے سے انکار کرتے ہو“ (یوحنا 5: 40)۔

II۔ دوسری بات، آپ میں سے کچھ لوگ یسوع کے پاس آنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ آپ غلطی کرنے سے ڈرتے ہیں۔

یہ کیسا احمقانہ خوف ہے! بوڑھے پیوریٹن تھامس ہُکرThomas Hooker کا یہ مشہور قول ہے کہ ہر وہ شخص جو کوشش جاری رکھتا ہے، مسیح میں داخل ہو جائے گا (لوقا 13: 24 الف)۔ مگر اس کے برعکس یہ بات بھی سچ ہے کہ جو شخص مسیح میں داخل ہونے کی کوشش ترک کر دیتا ہے، وہ ”داخل نہ ہو سکے گا“ (لوقا 13: 24 ب)۔ میری والدہ کہا کرتی تھیں، ”اگر پہلی بار کامیابی نہ ملے تو کوشش کرو، بار بار کوشش کرو۔“ اگر آپ سے پہلے کوئی غلطی ہوئی تھی، تو وہی غلطی دوبارہ نہ دہرائیں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔ اگرچہ آپ نے اُس کے پاس آنے کی سو بار کوشش کی اور ناکام رہے، تو آپ کیسے جانتے ہیں کہ شاید ایک سو ایک والی کوشش میں آپ ”تنگ دروازے سے داخل“ ہو جائیں؟ (لوقا 13: 24)۔

کیا آپ کے خیال میں یہ کوئی خوفناک بات ہوگی اگر آپ کو یسوع کے پاس آنا ہو اور پھر بھی ہلاک ہو جائیں؟ جی ہاں، ایسا ہی ہوگا۔ لیکن چونکہ آپ کو بہرحال ہلاک ہونا ہی ہے، اس لیے سپرجیئن نے کہا، ”اس میں خطرہ زیادہ نہیں ہے“ تنگ دروازے سے گھوم کر Around the Wicket Gate، صفحہ 50)۔

اگر میں جاؤں گا تو زیادہ سے زیادہ ہلاک ہی ہو جاؤں گا؛
   میں نے کوشش کرنے کا تہیہ کر لیا ہے؛
کیونکہ اگر میں دور رہا، تو میں جانتا ہوں
   کہ مجھے ابدی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وہ آدمی چھلانگ لگانے سے ڈرتا تھا۔ ”کیا ہو گا اگر میں جال میں نہ گر پایا؟ کیا ہو گا اگر وہ مجھے سنبھال نہ سکے؟“ اور یوں وہ شعلوں کی نذر ہو گیا۔ یسوع کہتا ہے،

’’میرے پاس آؤ … میں تمہیں آرام بخشوں گا۔‘‘

لیکن،

”پھر بھی تم زندگی پانے کے لیے [اُس کے] پاس آنے سے انکار کرتے ہو“ (یوحنا 5: 40)۔

III۔ تیسری بات، آپ میں سے شاید کچھ لوگ اِس لیے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں تو وہ آپ کو مسترد کر دے گا۔

ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا! یہاں تک کہ بزرگ فریسی بھی اس بات کو سمجھتے تھے! انہوں نے کہا تھا: ”یہ شخص گناہ گاروں کو قبول کرتا ہے“ (لوقا 15: 2)۔ درحقیقت، یسوع کے زمین پر آنے کی بنیادی وجہ ہی گناہ گاروں کو بچانا تھا۔ پولوس رسول نے کہا: ”مسیح یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے دنیا میں آیا“ (I تیمتھیس 1: 15)۔

ذرا سوچیں کہ آپ کو آپ کے گناہوں کی سزا سے چھڑانے کے لیے یسوع کو کن حالات سے گزرنا پڑا!

’’اِس لیے کہ مسیح نے بھی یعنی راستباز نے ناراستوں کے گناہوں کے بدلے میں ایک ہی بار دُکھ اُٹھایا تاکہ وہ تمہیں خدا تک پہنچائے‘‘ (I پطرس 3: 18)۔

اُسے گتسمنی کے باغ میں دیکھیں، جو تاریکی میں دعا کر رہا ہے اور اُس کے پسینے کے قطرے گویا خون کی بڑی بوندوں کی مانند ہیں۔

وہاں میرے خُدا نے میری تمام خطائیں برداشت کیں؛
یہ فضل کے ذریعے سے یقین کیا جا سکتا ہے؛
لیکن جو دھشت ناکیاں اُس نے محسوس کیں
اِس قدر شدید ہیں کہ اُن کا تصور کرنا بھی محال ہے۔
کوئی بھی تیری طرح برداشت نہیں کر سکتا،
غمگین، تاریک گتسمنی!
کوئی بھی تیری طرح برداشت نہیں کر سکتا،
غمگین، تاریک گتسمنی!

ایک مقدس خدا کے خلاف گناہ؛
اس کے راست قوانین کے خلاف گناہ؛
اس کی محبت، اس کے خون کے خلاف گناہ؛
اس کے نام اور وجہ کے خلاف گناہ؛
سمندر کی طرح گناہ بھی بے پناہ –
مجھے چھپا لے، اے گتسمنی!
سمندر کی طرح گناہ بھی بے پناہ –
مجھے چھپا لے، اے گتسمنی!
   (’’گتسمنی Gethsemane‘‘ شاعر جوزف ہارٹ Joseph Hart، 1712۔1768؛ ہارٹ کے حمدوثنا ’’آؤ، اے گنہگارو Come, Ye Sinners‘‘ کی دُھن پر)۔

اُس کا سر، اُس کی داڑھی اور اُس کے کپڑے خون آلود پسینے سے شرابور تھے۔ اُس کی روح ’’موت کی حد تک غمگین‘‘ تھی۔ اُس نے آپ کے گناہ اپنے سر لے لیے تاکہ آپ کی جگہ خدا کے قہر کا سامنا کر سکے۔

گتسمنی کے باغ میں یہوداہ کی غداری کے بعد، سپاہی اُسے پینطُس پیلاطس کے سامنے لے گئے۔ اُنہوں نے اُس پر کفر بکنے کا الزام لگایا! وہاں وہ کامل انسان، خدا کا پاک فرزند کھڑا تھا، جس پر بے دین جھوٹوں نے کفر کا الزام عائد کیا تھا!

اُنہوں نے اُس کے چہرے پر تھوکا۔ اُنہوں نے اُس کی داڑھی کے بال نوچ ڈالے۔ اُنہوں نے اُس کی پیٹھ پر کوڑے برسائے یہاں تک کہ ہڈیاں خون میں لت پت ہو کر نمایاں ہو گئیں۔ وہ اُسے کلوری لے گئے۔ اُنہوں نے اُس کے ہاتھوں اور پاؤں کو صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا۔ خدا نے منہ پھیر لیا، اور خدا اور انسان، دونوں کی طرف سے ٹھکرائے ہوئے – یسوع نے جان دے دی۔

’’دیکھو خدا کا برّہ جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ (یوحنا 1: 29)۔

اب، تو اے خوفزدہ گنہگار، کیا تو سمجھتا ہے کہ اُس نے یہ سب کچھ یونہی بلاوجہ کیا؟ ہرگز نہیں! اُس نے ”گناہوں کے لیے ایک ہی بار دکھ اٹھایا – یعنی راستباز نے ناراستوں کے لیے – تاکہ ہمیں خدا تک پہنچا سکے“ (I پطرس 3: 18)۔

کیا آپ ایسے نجات دہندہ کے پاس نہیں آ سکتے؟ کیا آپ اُس کے پاس آ کر اُس پر بھروسہ نہیں کر سکتے جس نے آپ سے اتنی محبت کی کہ آپ کی جگہ جان دے دی؟ کیا آپ یہ کہنے کے قابل نہیں ہو سکتے،

بغیر ایک التجا کے، میں جیسا بھی ہوں،
   مگر کہ تیرا خون میرے لیے بہایا گیا،
اور کہ تو مجھے اپنے پاس بُلانے کے لیے بیقرار ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعرہ شارلٹ ایلیٹ Charlotte Elliott، 1789۔1871)۔

اپنی ذات پر نظر ڈالنا چھوڑ دیں۔ اپنی ذات کی نفی کریں اور یسوع کو سربلند کریں! صرف یسوع پر نظر رکھیں۔ وہ دکھ اٹھاتا ہے۔ وہ خون بہاتا ہے۔ وہ مرتا ہے۔ وہ دفن کیا جاتا ہے۔ وہ مردوں میں سے جی اٹھتا ہے۔ وہ جلال میں آسمان پر اُٹھا لیا جاتا ہے۔ وہ بلندی پر آپ کے لیے دعا کرتا ہے۔ اُس کے پاس آئیں اور آپ نجات پا جائیں گے۔ دیگر تمام بھروسوں کو ترک کر دیں اور یسوع کے پاس آئیں، تب آپ موت سے زندگی کی طرف منتقل ہو جائیں گے! سپرجیئن نے کہا تھا، ’’اگر اُس پر بھروسہ کرتے ہوئے تم فنا [ہلاک] ہوجاتے ہیں، تو مجھے بھی ہلاک ہونا چاہیے۔‘‘ میں نے بس یہی کیا۔ میں یسوع کے پاس آیا۔ اُس نے اپنے پاک خون سے میرے گناہوں کو دھو ڈالا۔ اگر آپ اُس کے پاس آتے ہیں اور فنا [ہلاک] ہو جاتے ہیں، تو میں بھی ہلاک ہو جاؤں گا۔ یسوع پر جو خدا کا بیٹا ہے – اپنے اعتماد کو ثابت کرنے کے لیے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں؟ اُس نے کہا تھا،

’’میرے پاس آؤ … اور میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11: 28)۔


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

لُبِ لُباب

کیا تم آنے سے ڈرتے ہو؟

ARE YOU AFRAID OF COMING?

ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اے محنت کشو اور بوجھ سےدبے ہوئے لوگو! میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11: 28)۔

(یوحنا 5: 40)

I۔   پہلی بات، آپ یسوع کے پاس آنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیوں کہ آپ کی انتہائی فطرت اُسے مسترد کرتی ہے، اشعیا 53: 3؛ 49: 7؛ پیدائش 3: 10؛ یوحنا 5: 40۔

II۔  دوسری بات، آپ میں سے کچھ لوگ یسوع کے پاس آنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیوں کہ آپ غلطی کرنے سے ڈرتے ہیں، لوقا 13: 24۔

III۔ تیسری بات، آپ میں سے شاید کچھ لوگ اِس لیے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ اگر آپ یسوع کے پاس آتے ہیں تو وہ آپ کو مسترد کر دے گا، لوقا 15: 2؛ تیمتھیس 1: 15؛ I پطرس 3: 18؛ یوحنا 1: 29۔