اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
جب دروازہ بند ہوتا ہے تو آپ کیا کریں گے؟WHAT WILL YOU DO WHEN THE DOOR IS SHUT? ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔ |
میری آج رات کی تلاوت انتہائی سنجیدہ والی ہے۔ یسوع نے اُن لوگوں کو جو اُس کے گرد جمع تھے یہ انتہائی سنگین الفاظ۔ میں بتایا۔ ہم انہیں ’’خوفناک الفاظ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
’’تنگ [سُکڑے ہوئے] دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے‘‘ (لوقا 13: 24)۔
اُس نے اُن سے کہا کہ ’’تنگ دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرو۔‘‘ تنگ دروازہ یسوع خود ہے۔ انہوں نے کہا، متی 7: 13-14 میں،
’’تنگ دروازہ سے داخل ہو کیونکہ وہ دروازہ چوڑا اور وہ راستہ کُشادہ ہے جو ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے اور اُس سے داخل ہونے والے بہت ہیں۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں‘‘ (متی 7: 13۔14)۔
یوحنا 10 باب میں یسوع نے ’’پھاٹک‘‘ کی جگہ ’’دروازے‘‘ کے اندازِ اِظہار کا استعمال کیا۔ دونوں اسی کی طرف حوالہ دیتے ہیں۔ یوحنا 10: 9 میں، اس نے کہا،
’’دروازہ میں ہوں۔ اگر کوئی میرے ذریعہ داخل ہو تو نجات پائے گا …‘‘ (یوحنا 10: 9)۔
پس، ہماری تلاوت میں، یسوع نے کہا، ’’تنگ دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرو‘‘ – اُس [یسوع] میں داخل ہونے کی کوشش کرو – ’’اگر کوئی اندر داخل ہوتا ہے تو وہ نجات پائے گا‘‘ (یوحنا 10: 9)۔ لیکن یسوع نے کہا کہ آپ کو اُس [یسوع] میں ’’اندر داخل ہونے کی کوشش‘‘ کرنی چاہیے، ورنہ آپ کو نجات نہیں ملے گی۔ وہ انتہائی یونانی لفظ جس کا ترجمہ ’’جدوجہد‘‘ کیا گیا ہے وہ ’’اذیت ناک‘‘ ہے۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے یونانی اکثر فوجی جدوجہد اور کھیلوں کی لڑائیوں میں استعمال کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے بھرپور جدوجہد، یہاں تک کہ ’’لڑائی‘‘۔ ہم اسے یوں کہہ سکتے ہیں، ’’مسیح میں داخل ہونے کے لیے، سنجیدگی اور توجہ سے جدوجہد کریں، یہاں تک کہ لڑیں،‘‘ مسیح میں داخل ہونے کے موقع سے ’’استفادہ کریں‘‘! داخل ہونے کی ہر ممکن کوشش کریں! پیوریٹن جان ٹریپ نے کہا، ’’اذیت کی [حد تک] کوشش کریں… جیسا کہ انہوں نے اولمپک کھیلوں میں [انعامی] مالا کے لیے کیا تھا [رومیوں کے دور میں]… لیکن کوئی یہ نہ سوچے کہ [وہ] دن بھر شیطانی طرز زندگی گزار سکتا ہے اور پھر رات کو مسیح کے ساتھ کھانا کھا سکتا ہے – [یا] پروں کے بستر پر جنت میں جا سکتا ہے‘‘ (جان ٹریپ John Trapp، پرانے اور نئے عہد نامے پر تبصرہ Commentary on the Old and New Testaments، ٹرانسکی اشاعت خانے Transki Publications، دوبارہ اشاعت 1997، جلد پنجم volume 5، صفحہ 326؛ لوقا 13: 24 پر تبصرہ)۔ متھیو ھنری نے اِس کو مذید اور شدت سے کہا،
جو سب کچھ جو بچا لیا جائے گا اسے تنگ دروازے سے اندر داخل ہونا چاہیے، انسان کی مکمل تبدیلی میں سے گزرنا چاہیے، جو کہ دوبارہ پیدا ہونے سے کم نہیں… جو لوگ تنگ دروازے سے اندر داخل ہوں گے ان کو داخل ہونے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ جنت میں پہنچنا ایک مشکل امر ہے، اور…بہت زیادہ دیکھ بھال، تکالیف سے نمٹے بغیر، مشقت اور محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں دعا میں خُدا کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے، یعقوب کی طرح کشتی لڑنی چاہیے، گناہ اور شیطان کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے دل سے … کوشش کرنی چاہیے۔ ایگونائیزیستھ Agonizesthe – ’’اذیت کی حالت میں رہنا؛ ان کی طرح کوشش کرو جو انعام جیتنے کے لیے دوڑتے ہیں؛ اپنی آخری حد تک خود کو اُکساتے ہوئے اور بروئےکار لاتے ہوئے پوری کوشش کریں‘‘ (تمام بائبل پر میتھیو ھنری کا تبصرہ Mathew Henry’s Commentary on the Whole Bible، ہینڈرکسن پبلشرز، 1996 دوبارہ اشاعت، جلد پنجم، صفحہ 586؛ لوقا 13: 24 آیت پر غور طلب بات)۔
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔
آہ، ہائے! کتنے لوگ یہاں ایسے ہیں جو صرف ’’اندر داخل ہونے کی تلاش کرتے ہیں۔‘‘ ’’تلاش‘‘ ’’کوشش‘‘ کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور لفظ ہے۔ یونانی لفظ ’’زیٹیوzeteō‘‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے ’’اتفاقاً سیکھنا، یا دریافت کرنا،‘‘ اس میں ڈھلنا، تھوڑا یہاں سے یا تھوڑا وہاں سے سیکھنا، بغیر کسی حقیقی جوش یا جدوجہد کے حقیقی طور پر مسیح میں داخل ہونے کے لیے لڑنا! آہ، اِن شوقیانہ شیخی خوروں اور سطحی گھٹیا لوگوں کا قسمت کس قدر افسوسناکی کے ساتھ انتظار کرتی ہے، جو محض اس کے ساتھ کھیلتے ہیں، جو نجات کے بارے میں صرف ذرا سا کچھ اور سیکھنا چاہتے ہیں، لیکن مسیح کے پاس جانے کے لیے اپنی راہ کی لڑائی لڑنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے! وہ بانسری بجائیں گے، چھلانگیں لگائیں گے، اور مذہب پر کھیلیں گے – اور محض ’’اندر داخل ہونے کی کوشش کریں گے، اور نہیں کر پائیں گے‘‘! وہ صرف مذہب کے ساتھ ’’کھیلواڑ‘‘ کر رہے ہیں!
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔
ڈاکٹر بی ایچ کیرل (1843۔1914) ساؤتھرن بپٹسٹ تھیالوجیکل سیمنری کے صدر تھے۔ ڈاکٹر کیرل نے کہا،
… ابھی تنگ دروازے سے اندر داخل ہونے کی کوشش کریں، کیونکہ بہت سے لوگ بعد میں اس میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور جب گھر کا مالک اٹھے گا اور دروازہ بند ہو جائے گا تو وہ اس قابل نہیں ہوں گے۔ پھر سوچ یہ ہے کہ وقت کی ایک حد ہے؛ کہ… ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اگر کوئی دنیا میں ساری محنت کو پیش کر دے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ یقینی طور پر یہاں ہمارے نجات دہندہ کی سوچ ہے۔ یہ اشعیا کا اصرار ہے:
’’جب تک خداوند مل سکتا ہے اُس کے طالب رہو، جب تک وہ نزدیک ہے اُسے پکارو‘‘ (اشعیا 55: 6)۔
…یہ دس کنواریوں کی تمثیل میں [غالب] خیال ہے۔ ان پانچ احمق کنواریوں نے اندر جانے کی کوشش کی، اندر داخل ہونے کی بہت کوشش کی، اور کھٹکھٹا کر کہا، ’’خداوند، خُداوند، ہمارے لیے کھول دے‘‘ [متی 25: 11]...[ان کی] نااہلی یہ تھی کہ جدوجہد کرنے میں بہت دیر ہو چکی تھی، جب اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا تھا، جب دروازہ بند ہو گیا تھا، جب موقع ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ پھر وہ جاگتی ہیں۔ وہ بیدار ہوتی ہیں، اور کھلی آنکھوں کے ساتھ ایک خوفناک منظر دیکھتی ہیں، اُس سوال کی ابدی اہمیت کو محسوس کرتی ہیں کہ باہر اندھیرا اور موت اور جلاوطنی ہے، اور یہ کہ اندر زندگی اور جلال ہے۔ آخرکار ذاتی نجات کی عظیم اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے وہ اس کی تلاش کرتی ہیں، وہ کوشش کرتی ہیں، وہ کوشش کرتی ہیں، وہ دستک دیتی ہیں اور دعا کرتی ہیں، لیکن بے سود۔ ’’بہت دیر ہو چکی، بہت دیر ہو چکی، آپ ابھی داخل نہیں ہو سکتے‘‘ … لوگوں کے مسیح میں داخل ہونے کی نااہلی سے کیا مراد ہے؟ کہ … ہم آسانی سے سمجھ پائیں۔ خدا ہمیں یہاں زمین پر ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ [جس کی لمبائی] کی پیمائش وہ خود کرتا ہے۔ ہم خود اس کی پیمائش نہیں کر سکتے۔ خدا خود اس کا اندازہ لگاتا ہے۔ [موقع کا وقت کتنا ہے] کسی خاص شخص کے لیے صرف وہی جانتا ہے۔ وہ ایک اسکول کی لڑکی کو تین ہفتوں کا پیمانہ دے سکتا ہے۔ وہ کسی بدکار شخص کو ساٹھ سال کا پیمانہ دے سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم۔ یہ مکمل طور پر، قطعی طور پر، [صرف خدا کو معلوم ہے]۔ یہاں خدائی حاکمیت ہے۔ ہم اتنا جانتے ہیں: ایک وقت ہے جس میں مسیح پایا جا سکتا ہے، اور ایک وقت ہے جس میں وہ نہیں مل سکتا۔ اِس لیے میں کہتا ہوں، ’’محنت کرو، خُداوند کو ڈھونڈو جب تک کہ وہ مل نہ جائے…‘‘ میں نے جن حوالوں کا تزکرہ کیا ہے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ [عورتیں] مسیح میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن مسیح اس وقت پیچھے ہٹ گیا تھا۔ ایک بات دروازہ بند کر دیتی ہے، ہم جانتے ہیں، اور اسے ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے۔ اگر موت ہمیں مسیح میں سے تلاش کر لیتی ہے تو پھر ہمارے [لیے] کبھی بھی دوسرا موقع نہیں ملے گا ... ہم جانتے ہیں کہ دروازہ بند ہو گیا ہے۔ [لیکن] ہمارا نجات دہندہ ایک معاملے کے بارے میں بتاتا ہے جب وہ اُس [موت کے] وقت سے پہلے بند ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر کوئی روح القدس کے خلاف توہین کرے تو اس نے ابدی گناہ کیا ہے جس کی معافی نہ اس زندگی میں اور نہ ہی آنے والی زندگی میں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک وہ لوگ زندہ ہیں، [ان کے جسموں کے مرنے سے پہلے] وہ دروازہ بند پا سکتے ہیں، اور یہ بند ہونا ابدی ہے، اور اگرچہ وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے، لیکن اس کے بعد بھی اُن کے خلاف دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہی پایا جائے گا۔ جلدی اٹھنا، دیر تک بیٹھنا، رات دِن دستک دینا، عیسو کی مانند رونا، پھر انہیں توبہ کی کوئی جگہ نہیں ملتی (بی ایچ کیرول، ڈی ڈی B. H. Carroll, D.D.، چاروں اناجیل The Four Gospels، بیکر بک ہاؤس، 1976 کی دوبارہ اشاعت، جلد اول، صفحہ 131-135؛ لوقا 13: 24۔25 پر غور طلب بات)۔
اوہ، بائبل کتنی بار ان لوگوں کی مثالیں دیتی ہے جنہوں نے ایک طویل مدت انتظار کیا – اور خدا نے دروازہ بند کر دیا – اور وہ کبھی نہیں بچائے گئے۔ اگرچہ وہ بہت عرصے بعد تک زندہ رہے خدا نے انہیں چھوڑ دیا۔ بائبل میں ہم ایک کے بعد ایک معاملے کو پڑھتے ہیں۔ میں آج رات ان میں سے صرف چند ایک ہی پیش کر سکتا ہوں۔
قائین اپنے بھائی ہابل سے حسد کرتا تھا، کیونکہ خدا نے ہابل کے خون کی قربانی کو قبول کیا، لیکن قائین کی سبزیوں کو رد کر دیا۔ قائین ناراض ہو گیا۔ خُدا نے اُس سے کہا، ’’اگر تُو اچھا کرے گا تو کیا تُو قبول نہیں کیا جائے گا؟‘‘ (پیدائش 4: 7)۔ لیکن قائین نے توبہ کرنے اور خون کی [قربانی کے] وسیلے خدا کے پاس آنے سے انکار کردیا۔ قائین کے لیے وقت ختم ہو گیا۔ ایک دن، اور ایک گھنٹے پر، خُدا نے قائین کو چھوڑ دیا۔ اس کا دماغ پھٹ گیا، اور اس نے ہابل کو قتل کر دیا۔ قائین برسوں زندہ رہا، لیکن اس کے بچائے جانے میں بہت دیر ہو چکی تھی۔ خدا نے اسے چھوڑ دیا! اس نے ناقابل معافی گناہ کیا تھا!
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے‘‘ (لوقا 13: 24)۔
نوح کے زمانے میں، خدا نے کہا،
’’میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ فانی ہے۔ اُس کی عمر ایک سو بیس برس تک ہو گی‘‘ (پیدائش6: 3)۔
دن گزرتے گئے۔ کیلنڈر کے صفحات پھاڑ کر پھینک دیے گئے۔ دہائیاں گزر گئیں – لیکن لوگوں نے توبہ نہیں کی اور خداوند کو تلاش نہیں کیا۔ سال گزرتے گئے۔ آخر کار ان 120 سالوں میں سے آخری سال کا آخری دن آ گیا۔ نوح نے ان کو آنے والی سزا کے بارے میں طویل عرصے اور شدت سے منادی کی تھی – لیکن وہ اپنی زندگی کو ویسے ہی بسر کرتے چلے گئے، گویا کوئی خطرہ نہیں، ’’کھانا اور پینا‘‘، بغیر کسی خوف کے، ’’اس دن تک جب تک کہ نوح کشتی میں داخل نہیں ہوا‘‘ (متی 24: 38)۔ ان الفاظ پر نشانی لگا لیں! – ’’اس دن تک جب تک کہ نوح کشتی میں داخل نہ ہوا‘‘! اس دن، ’’خُداوند نے اُسے اندر بند کر دیا‘‘ (پیدائش 7: 16)۔ پھر، اس دن، وہ بیدار ہوئے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی – لیکن بہت دیر ہو چکی تھی! خدا نے ان کو چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے ناقابل معافی گناہ کیا تھا! وہ سیلاب آنے سے پہلے سات دن زندہ رہے (پیدائش 7: 10)، لیکن ان کے لیے کشتی میں داخل ہونے میں بہت دیر ہو چکی تھی – ان کے بچائے جانے میں بہت دیر ہو چکی تھی! میں انہیں اپنے دماغ میں، ہاتھوں کے ناخنوں کے ساتھ، اور کھرچتے اور چیختے ہوئے دیکھ سکتا ہوں کہ خدا انہیں اندر جانے دے – لیکن بہت دیر ہو چکی تھی! ان میں سے ہر ایک سیلاب میں ڈوب گیا۔ خُدا نے ’’بے دینوں کی دنیا پر سیلاب‘‘ نازل کیا (2۔ پطرس 2: 5)۔ بہت دیر ہو گئی! بہت دیر ہو گئی! انہوں نے ہلچل مچائی، چھیڑ چھاڑ کی، اور مذہب پر کھیلا – یہاں تک کہ ’’گھر کا مالک [اُٹھ کھڑا ہوا]، اور… دروازہ بند کر دیا‘‘ (لوقا 13: 25)۔
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔
عیسو نے ’’گوشت کے ایک لقمے کے عوض اپنا پیدائشی حق بیچ دیا‘‘ (عبرانیوں 12: 16)۔ اس نے کہا اس پیدائشی حق سے مجھے کیا فائدہ ہوگا؟ (پیدائش 25: 32)۔ ’’اور اُس نے کھایا پیا، اور اُٹھ کر اپنے راستے پر چلا گیا: یوں عیسو نے اپنے پیدائشی حق کو حقیر جانا‘‘ (پیدائش 25: 34)۔ سال تیزی سے گزر گئے۔ آخر کار عیسو نے دیکھا کہ اس کا پیدائشی حق سب سے اہم ہے۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے چالیس سال پہلے ناقابل معافی گناہ کیا تھا! اب وہ چیختا اور روتا تھا – لیکن بہت دیر ہو چکی تھی!
’’کیونکہ تم جانتے ہو کہ بعد میں جب اُس نے برکت پانے کی کوشش کی، تو ناکام رہا، کیونکہ اسے اپنی نیت بدلنے کا موقع نہ ملا، حالانکہ وہ آنسو بہا بہا کر اُس کی تلاش کرتا رہا‘‘ (عبرانیوں 12: 17)۔
اب عیسو کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی – ہمیشہ کے لیے! اور خدا نے کہا،
’’میں نے یعقوب سے محبت کی لیکن عیسو سے نفرت کی‘‘ (رومیوں 9: 13)۔
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔
مجھے یاد نہیں کہ میں نے یہ کہانی کہاں پڑھی تھی۔ یہ ڈاکٹر جان آر رائس کی کتابوں میں سے ایک میں ہے۔ میں نے اسے لکھا، لیکن مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے اسے کہاں پڑھا تھا۔ میں آپ کو دے دوں گا جیسا کہ میں نے برسوں پہلے لکھا تھا۔
ڈاکٹر رائس نے ایک بار ایک ایسے آدمی کے بارے میں بتایا جو انجیلی بشارت کے اِجلاسوں میں ایک کے بعد دوسری رات کو لگاتار اُنہیں منادی کرتے ہوئے سننے کے لیے آتا رہا۔ وہ شخص پیچھے بیٹھتا اور واعظ کے بعد ہنستا اور مذاق اڑاتا۔ پھر مبلغ کسی دوسری جگہ چلا گیا اور اِجلاس ختم ہو گئے۔ سال گزر گئے لیکن وہ شخص کبھی بھی نجات نہیں پا سکا۔
ایک رات ڈاکٹر رائس نے اپنی بہن سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اس نے کہا، ’’جون، کیا آپ کو مسٹر (فلاں فلاں) یاد ہیں؟‘‘ اس نے کہا، ’’ہاں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ عبادتوں کے لیے آیا تھا، لیکن وہ نجات نہیں لے پایا۔ اس نے واعظوں کا مذاق اڑایا اور تضحیک کی اور ہنسا۔‘‘
پھر ڈاکٹر رائس کی بہن نے اسے بتایا کہ اس آدمی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اس کے پیٹ میں تکلیف ہوئی اور وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر نے کہا، ’’بہت دیر ہو چکی ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا، گھر جا کر وصیت لکھو، تم زیادہ دن زندہ نہیں رہو گے۔‘‘
ڈلاس میں اُس موسم گرما میں گرمی تھی۔ ایسا اُن کے ہاں ایئر کنڈیشنر لگنے سے پہلے تھا۔ وہ کھڑکیاں کُھلی چھوڑ دیا کرتے تھے تاکہ ہوا کے جھونکے اندر آ سکیں۔ وہ شخص اپنے گھر میں ہفتوں تک پڑا مرتا رہا۔ کوئی اسے تسلی نہ دے سکا۔ اُنہوں نے بپتسمہ دینے والے مبلغ کو بُلا بھیجا، لیکن وہ اِس آدمی کو مسیح کو قبول کرنے پر آمادہ کرتا ہوا دکھائی نہ دیا۔ مرنے والا کہتا رہا کہ بہت دیر ہو گئی، اس نے بہت انتظار کیا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ اسے ڈلاس میں گرمی کی ان گرم راتوں میں کئی گز دور سے چیختے ہوئے سن سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اسے چیختے ہوئے سن سکتے ہیں، ’’اوہ خدا، مجھے مزید وقت چاہیے! اوہ خدا، میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں! اوہ، خدا، میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں! میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں! میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں!‘‘ بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے ناقابل معافی گناہ کیا تھا۔ وہ اسی طرح مر گیا، چیختا ہوا، ’’اوہ، خدا، میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہوں!‘‘
’’تنگ دروازے سے داخل ہونے کی پوری کوشش کرو: کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے لوگ اندر جانے کی کوشش کریں گے لیکن نہ جا سکیں گے۔ جب مالک مکان ایک دفعہ اُٹھ کر دروازہ بند کر دیتا ہے اور تم باہر کھڑے کھڑے کھٹکھٹائے جاتے ہو اور کہتے ہو، خداوندا، خداوندا، ہمارے لیے دروازہ کھول دے، اور وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو‘‘ (لوقا 13: 24۔25)۔
انتظار مت کریں! معاملے کو مزید نہ ٹالیں! مسیح گناہ کا پورا کفارہ ادا کرنے کے لیے صلیب پر مر گیا ہے۔ اُس کے پاس آئیں اور وہ اپنے خون سے آپ کے گناہوں کو صاف کر دے گا، اور آپ کو اپنی راستبازی کا لباس پہنائے گا۔ ’’خُداوند کو ڈھونڈیں جب تک کہ وہ مل نہ جائے، اُسے پکاریں جب تک کہ وہ قریب ہے‘‘ (اشعیا 55: 6)۔ ابھی مسیح میں ’’اندر داخل ہونے کی کوشش کریں‘‘، جب کہ وہ قریب ہے – اس سے پہلے کہ نجات کا دروازہ آپ کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے! ڈاکٹر رائس نے کہا،
آپ نے سُستی دکھائی اور اِنتظار کیا پھر بھی نجات دہندہ کو مسترد کیا؛
اِس قدر صبر کے ساتھ اُس کی تمام تنبیہات، اِس قدر مہربان اُس کی تمام التجائیں؛
یوں آپ نے منع کیا ہوا پھل کھایا، آپ نے شیطان کے وعدے کا اعتبار کیا؛
یوں آپ کا دِل سخت ہو چکا ہے؛ گناہ آپ کے ذہن کو تاریک کر چکا ہے۔
پھر کس قدر افسوسناک فیصلے کا سامنا آپ کو بغیر رحم کے ساتھ یاد کرنا ہوگا
کہ آپ نے سُستی دکھائی اور فضول میں وقت گزارا جب تک کہ روح چلا نہ گیا؛
کیسی الزام تراشی اور ماتم، اگر جب موت آپ کو بے اُمید پاتی ہے،
آپ نے فضول میں وقت گزار دیا اور سُستی دکھائی اور بہت زیادہ ہے انتطار کیا!
(’’اگر آپ نےزیادہ دیر سُستی دکھائی If You Linger Too Long‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1985)۔
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔