Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

مسیح کا خُدا کا بیٹا ٹھہرنے کا ثبوت

!THE PROOF OF CHRIST’S SONSHIP
(Urdu)


ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے

.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
16 مئی، 2010، خُداوند کے دِن کی صبح
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, May 16, 2010

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

میں انتہائی شدت کے ساتھ ڈاکٹر ولبر ایم۔ سمتھ Dr. Wilbur M. Smith کو اُن کی مسیحی ادب پر نہایت وسیع شعور، اور 1963 میں فُلر سیمنری کو چھوڑنے میں اُن کے اتحاد کے لیے سراہایا کرتا تھا، کیونکہ اُس سیمنری نے بائبل کی صداقت سے منہ موڑ لیا تھا اور آزاد خیالی کو گلے سے لگانا شروع کر دیا تھا (دیکھیں ھیرالڈ لنڈسل،پی ایچ۔ ڈی۔ Harold Lindsell, Ph.D.، بائبل کے لیے جنگ، ایڈیشن1978، صفحات110۔112)۔ ڈاکٹر سمتھ نے رومیوں1:4 کے بارے میں ایک گہرا سوال پوچھا، ’’میں سوچتا ہوں کیوں ہمارے انتہائی زیادہ مبشران کبھی بھی اِس ایمان کو یقین دلاتی تلاوت کی منادی نہیں کرتے یا کم از کم اِس پر ایک واعظ بھی کبھی نہیں شائع کرتے؟‘‘ (ولبر ایم۔ سمتھ، ڈی۔ڈی۔ Wilbur M. Smith, D.D.، اِسی لیے، کھڑاTherefore, Stand ، کیٹز پبلیشنگ Keats Publishing، ایڈیشن1981، صفحہ583)۔ میرے خیال میں وجہ اِس حقیقت میں پنہاں ہے کہ گذشتہ 125 سالوں میں مسیح کے مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنے پر بہت ہی کم منادی کی گئی ہے، خاص طور پر جب سے ’’فیصلہ سازیت‘‘ سے سر اُبھارا۔ سی۔ جی۔ فنی C. G. Finney کے دور سے، واعظوں کو تدریجی طور پر انسان، اور انسان کیا کرتا ہے کے لیے وقف کر دیا گیا۔ اِن دِنوں میں، مبلغین کا خدا کی باتوں کو پس منظر میں لڑھکا دینے کا رُجحان ہو گیا تھا۔ اِس کی بجائے وہ انسان کے اعمال پر توجہ مرکوز کرتے تھے۔ یوں آج انجیلی بشارت والی مسیحیت بہت زیادہ حد تک علم الہٰیات ہونے کی بجائے مطالعۂ انسان بن گئی، علم مسیحی ہونے کی بجائے نفسیاتی بن گئی، مسیح کو مرکز ماننے کی بجائے انسان کو مرکز ماننے والی بن گئی ہے۔

ہر واعظ نے ماسوائے ایک کے، جو اعمال کی کتاب میں درج ہیں، مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو مرکزی بنایا۔ رسول مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں بات کیے بغیر منادی کر ہی نہیں سکا ہوگا! یہ اُس خوشخبری کا جس کی وہ منادی کرتے تھے انتہائی دِل تھا۔ آج، تاہم، اگر مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا تزکرہ کیا جاتا ہے، تو اِس کی درجہ بندی ایسٹر کی اتوار کی صبح کی جاتی ہے۔ تب بھی، پادری شاز و نادر ہی اِس کے نظریاتی پہلوؤں پر منادی کرتے ہیں۔

اپنی کتاب مسیح کے بغیر مسیحیت Christless Christianity میں، ڈاکٹر مائیکل ہورٹن Dr. Michael Horton واضح کرتے ہیں کہ بہت سے قدامت پسند گرجہ گھروں میں ایسٹر کے واعظ اکثر ’’کچھ اِس بارے میں ہوتے ہیں کہ کیسے یسوع نے اپنی دشواریوں پر سبقت حاصل کی اور ایسے ہی ہم بھی کر سکتے ہیں [یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ] مبشران آج انجیل کی بجائے مشہور نفسیات، سیاست، یا اخلاقیات پر بات کرنے کا اتنا ہی امکان رکھتے ہیں جتنا کہ [آزاد خیال والے]‘‘ (مائیکل ہورٹن، پی ایچ۔ ڈی۔ Michael Horton, Ph. D.، مسیح کے بغیر مسیحیت: امریکی کلیسیا کی متبادل انجیل Christless Christianity: The Alternative Gospel of the American Church، بیکر کتاب گھر Baker Books، 2008، صفحہ30)۔ حیرت ناک طور پر، ڈاکٹر آر۔ اے۔ ٹورے Dr. R. A. Torrey، جنہیں میں سراہاتا ہوں، اُن کی مشہور کتاب مسیح کے لیے کیسے کام کرنا ہے How to Work for Christ میں، ایک بھی واعظ مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں نہیں ہے (فیلیمنگ ایچ۔ ریول Fleming H. Revell، n.d.)۔ ڈاکٹر ٹورے نے مبلغین کے لیے 156 صفحات کے واعظوں کے خاکے پیش کیے، لیکن اُن میں سے ایک بھی خاکہ مکمل طور پر یسوع کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے لیے نہیں ہے! یقینی طور پر، آج یہ صورت حال اِس سے بھی بدتر ہے!

جدید حمدوثنا کے گیتوں کی کتابوں کی پڑتال کرتے ہیں میں نے صرف 10 حمدوثنا کے گیت مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر پائے۔ اُن میں سے ایک کے علاوہ باقی تمام بیسوی صدی سے پہلے لکھے گئے تھے۔ دو 18ویں صدی میں، تین 19ویں صدی میں، ایک 16ویں صدی میں، ایک 17صدی میں، ایک 15صدی میں، اور دو 8ویں صدی میں لکھے گئے تھے! وہ واحد واقعی میں اچھا مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا حمدوثنا کا گیت جو 20ویں صدی میں لکھا گیا شاعر پال ریڈر Paul Rader کا ’’دوبارہ جی اُٹھاAlive Again‘‘ ہے، لیکن میری معلومات کے مطابق یہ کسی بھی حمدوثنا کے گیتوں کی کتاب میں نظر نہیں آتا ہے۔ آپ مجھے پال ریڈر کے حمدوثنا کے گیت کی موسیقی اور شاعری کے لیے اِس ایڈریس P.O. Box 15308, Los Angeles CA 90015 پر درخواست لکھ سکتے ہیں۔ دوبارہ، میرا خیال ہے کہ مسیح کی مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر جدید حمدوثنا کے گیتوں کی کمی ظاہر کرتی ہے کہ اِس سب سے زیادہ اہم موضوع کو کافی عرصے ، یعنی فنی کے دِنوں سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ مسیح،

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4)،

لیکن شاید ہی کوئی اِس کی منادی کرتا ہے، اور ہم تقریباً اِس کے بارے میں کبھی گاتے بھی نہیں ہیں! اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اگر مغربی دُنیا میں گرجہ گھر ختم ہوتے اور مرجھاتے جا رہے ہیں! جی اُٹھے مسیح میں ایمان کے بغیر حیات نو کے لیے کوئی اُمید نہیں ہے، اور کوئی پیغام جیتا جاگتا نہیں ہے – کیونکہ آدھی انجیل تو بُھلا دی گئی ہے – ہماری منادی میں سے انتہائی زیادہ خارج کر دی گئی ہے! خُدا ہماری مدد کرے!

میں نے پایا کہ ہم یورپ اور امریکہ والوں کے مقابلے میں وہ جو تیسری دُنیا میں ہیں کہیں زیادہ جی اُٹھے مسیح پر زور دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اِس میں حیرانگی کی بات نہیں کہ مسیحیت وہاں پر بڑھ رہی ہے لیکن یہاں پر تھمی ہوئی ہے!

میں ای میل e-mail کے ذریعے سے ایک نوجوان آدمی کے ساتھ جو اپنی بیسویں دہائی میں ہے اور جو تیسری دُنیا کے ملک سے تعلق رکھتا ہے رابطے میں رہ چکا ہوں۔ وہ اپنے گزرے ہوئے تجربے کے بارے میں بتاتا ہے کہ ’’مسیحی ایمان کو چھوڑنے [اپنی طرف کرنے کی کوشش] کے لیے میرے بچپن میں مجھے شدید اذیت دی گئی تھی۔ میں مدد کے لیے چلایا، لیکن کوئی نہیں آیا، اور میں نے بہت سے [مسیحیوں] کو ختم ہوتے دیکھا ... بچوں کو اذیتیں دی جاتی [ہیں] اور انڈیا، مائیعن مار Myanmar میں پاگل خانوں میں رکھا جاتا، یسوع کو چھوڑنے کے لیے بار بار بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ... میں بچ جانے والوں میں سے ایک ہوں۔‘‘ جب میں نے وہ پڑھا میں رو پڑا۔ ہم اُس جیسے بچے یا نوجوان بالغ یہاں امریکہ میں کہاں پا سکتے ہیں، یا عمومی طور پر مغرب میں؟ اِس نوجوان آدمی نے کہا کہ اُس نے اور دوسرے بچوں نے جی اُٹھے مسیح سے ملاقات کی تھی۔ جب اُنہوں نے جی اُٹھے مسیح کا تجربہ کیا وہ جان گئے کہ وہ خُدا کا بیٹا ہے۔ پھر مارنے یا بجلی کے جھٹکے کے ساتھ اذیت کی کوئی مقدار اُنہیں یسوع کو چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتی تھی۔ وہ جانتے کہ وہ زندہ تھا – مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا! اِس نے اُنہیں حقیقی مسیحی بنایا! یہی ہے جو پولوس رسول ہماری تلاوت میں کہہ رہا ہے۔ مسیح،

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

جس یونانی لفظ نے ’’ٹھہرانے declared‘‘ کا ترجمہ کیا اُس کا مطلب ’’مخصوص کرنا،‘‘ ’’حدود متعین کرنا‘‘ ہوتا ہے (Strong #3724)۔ یسوع کو مخصوص کیا گیا تھا، اُس کی خُدا کے بیٹے کی حیثیت سے مُردوں میں سے جی اُٹھنےکے ذریعے سے حد مقرر کی گئی تھی۔ 1599 کی جینیوا بائبل The Geneva Bible کہتی ہے، ظاہر کیا اور تصدیق کی‘‘ (رومیوں1:4 پر غور طلب بات # 1)۔ مسیح کو مُردوں میں سےجی اُٹھنے کے ذریعے سے خُدا کے بیٹے کی حیثیت سے ’’ظاہر کیا گیا اور تصدیق کی گئی‘‘ تھی،

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

I۔ اوّل، یسوع کو کیسے خُدا کا بیٹا ٹھہرایا گیا تھا۔

یہ بنیادی طور پر یسوع کی تعلیمات کی وجہ سے نہیں تھا۔ اُس نے بہت سی شاندار باتوں کی تعلیم دی، جس میں پہاڑی واعظ بھی شامل ہے۔ لیکن تنہا اُس کی تعلیمات ہی ثابت نہیں کرتی کہ وہ خُدا کا بیٹا تھا۔ نہ ہی اُس کے معجزے، جی نہیں یہاں تک کہ تین آدمیوں کو مُردوں میں سے زندہ کرنا بھی نہیں۔ ایلیاہ نبی نے پرانے عہد نامے کے دور میں ایک لڑکے کومُردوں میں سے زندہ کیا تھا اور وہ خُدا کا بیٹا نہیں تھا (1۔سلاطین17:17۔24)۔ الیشع نے بھی ایک بچے کو مُردوں میں سے زندہ کیا تھا (2۔سلاطین4:32۔37) مگر الیشع خُدا کا بیٹا نہیں تھا۔ موسیٰ نے بھی بہت سے معجزے کیے تھے، جن میں بحرقلزم کا دو حصوں میں بٹنا بھی شامل ہے، مگر وہ خُدا کا بیٹا نہ تھا۔ وہ واحد نشان جو یسوع کا خدا کا بیٹا ہونے کا اعلان کرتا ہے تصدیق کرتا ہے وہ خود اُس کے اپنے بدن کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا تھا۔ خود یسوع نے کہا کہ اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ایک نشان تھا جو وہ بدکار نسل کو پیش کرے گا،

’’لیکن اُس نے جواب میں اُن سے کہا: اِس زمانہ کے بُرے اور حرامکار لوگ نشان دیکھنا چاہتے ہیں؛ اور اُنہیں یُوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان نہ دیا جائے گا: کیونکہ جس طرح یُوناہ تین دِن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا؛ اُسی طرح ابنِ آدم تین دِن اور تین رات زمین کے اندر رہے گا‘‘ (متی 12:39۔40).

یسوع کو سردار کاہن کے سامنے یہ قبولنے پر مارا گیا تھا کہ وہ خُدا کا بیٹا تھا (متی26:63۔66)۔ جب وہ صلیب پر لٹکا ہوا تھا تو سردار کاہنوں نے اُس کا تمسخر اُڑایا، یہ کہتے ہوئے،

’’اِس کا توکل خدا پر ہے۔ اگر خدا اِسے چاہتا ہے تو اب بھی بچالے۔ کیونکہ اِس نے کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہُوں‘‘ (متی 27:43).

لیکن خُدا نے یسوع کے بارے میں اپنی منظوری اُسے مُردوں میں سے زندہ کر کے بحیثیت خُدا کے بیٹے کے ظاہر کی تھی۔ یسوع،

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

خُدا نے یسوع کے مردہ بدن کو تیسرے روز مُردوں میں سے زندہ کرنے کے ذریعے سے اُس کا خُدا کا بیٹا ہونے کا اعلان کیا!

II۔ دوئم، کیوں یسوع کا خُدا کا بیٹا ہونے کا اعلان ہوا تھا۔

ڈاکٹر چارلس ہاج Dr. Charles Hodge (1797۔1878)، جو پرنسٹن علم الہٰیات کی سیمنری میں نئے عہد نامے کے دیرینہ پروفیسر تھے اُنہوں نے کہا،

یہ اُس وقت تک نہیں ہوا تھا جب تک مسیح جی نہیں اُٹھا تھا کہ اُس کے خُدا کا بیٹا ہونے کا ثبوت مکمل ہوا تھا، یا رسولوں میں جانی جانے والی اُس کی مقبولیت کی تکمیل ... یہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث ہوا تھا کہ وہ خُدا کا بیٹا ثابت ہوا تھا... [کلام پاک کے] [بہت سے] حوالوں میں مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو مسیح نے جو تمام تعلیم دی اُس کی سچائی کے عظیم فیصلہ کُن ثبوت کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، اور اُس کے تمام دعوؤں کے اٹل پن کے لیے... جیسا کہ مسیح نے کھلے عام خود کو خُدا کا بیٹا ہونے کا اعلان کیا تھا، اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا اُس کے اعلان کی سچائی کے لیے خُدا کی مہر تھا۔ اگر وہ موت کی قوت کے تحت ہی جاری رہتا، تو خدا نے اِس طرح یسوع کے خدا کا بیٹا ہونے کے دعوےٰ کو [مسترد] ممنوع کیا ہوتا؛ مگر جیسا کہ خُدا نے یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کیا، خُدا نے عوامی طور پر یہ کہتے ہوئے منظور کیا، تو میرا بیٹا ہے، آج کے دِن میں نے تیرا یہی قرار کیا (چارلس ہوج، پی ایچ۔ ڈی۔ Charles Hodge, Ph. D.، رومیوں پر ایک تبصرہ A Commentary on Romans، دی بینر اور ٹرٹھ ٹرسٹ The Banner of Truth Trust، ایڈیشن 1997، صفحات20۔21؛ رومیوں1:4 پر غور طلب باتیں)۔

یوں یہ ثبوت کہ مسیح خُدا کا بیٹا تھا اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے دیا گیا، اور ہر اُس بات کی جس کی اُس نے تعلیم دی تصدیق کی۔

ڈاکٹر ولبر ایم۔ سمتھ نے کہا کہ مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضمانت دیتا ہے

... وہ سچائی، مسیح کے تمام بیان کی قابل اعتماد ہونے کی اہلیت ہے۔ [جب سے وہ جی اُٹھا] قبر میں سے دوبارہ [جیسا کہ اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ وہ کرے گا] اور یہ پیشنگوئی پوری ہوئی تھی، پھر مجھے یہ ہمیشہ لگتا ہے کہ باقی سب کچھ جو ہمارے خُداوند نے کبھی کہا وہ بھی سچ ہونا چاہیے... جب ہمارے خُداوند نے کہا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے گا ہمیشہ کی زندگی پائے گا، اور جو کوئی اُس پر ایمان لانے سے انکاری کرے گا ابدیت تک سزا پائے گا، اُس نے سچ کہا تھا... ہم کبھی بھی مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا تسلیم نہیں کر سکتے، اگر کسی بیان کی سچائی کے بارے میں جو کبھی بھی یسوع کے ہونٹوں سے ادا ہوا تھا کوئی شک کرتے ہیں (سمتھ، اِسی لیے کھڑا Therefore Stand، ibid. ، صفحات418۔419)۔

یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،

’’دیکھو، ہم یروشلیم جا رہے ہیں اور نبیوں نے جو کچھ اِبنِ آدم کے بارے میں لکھا ہے وہ پُورا ہوگا۔ وہ غیر یہودی لوگوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑائیں گے، بے عزت کریں گے اور اُس پر تھوکیں گے۔ اُسے کوڑوں سے ماریں گے اور قتل کرڈالیں گے۔ لیکن تیسرے دِن وہ پھرزندہ ہو جائے گا‘‘ (لوقا 18:31۔33).

یسوع نے جس کی لوقا18:31۔33 میں پیشن گوئی کی تھی وہ واقعی میں پورا ہوا تھا۔ اُس کا تمسخر اُڑایا گیا، مارا پیٹا گیا، تھوکا گیا، کوڑے لگوائے گئے اور مار ڈالنے کے لیے صلیب دی گئی۔ لیکن اُس کے مصلوبیت کے تیسرے روز وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ یسوع کی اپنے بارے میں پیشن گوئی کا بالکل اُسی طرح پورا ہونا ہر اُس بیان کی سچائی کی جو اُس نے کہی ضمانت دیتا ہے، کیونکہ وہ

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

کیونکہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا، بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے کہا ہوگا، تو ہم یقین کرسکتے ہیں کہ وہ اُس وقت بھی سچ بول رہا تھا جب اُس نے کہا،

’’اگر تُم تبدیل ہوکر چھوٹے بچوں کی مانند نہ بنو، تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگز داخل نہ ہوگے‘‘ (متی 18:3).

ہمیں اُن الفاظ کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے کیونکہ مُردوں میں سے جی اُٹھے خُدا کے بیٹے کے منہ سے ادا ہوئے تھے۔ کیا آپ مسیح میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ مسیح میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ خُدا کے بیٹے نے کہا کہ تم ’’آسمان کی بادشاہی میں داخل‘‘ نہیں ہوسکتے اگر تم تبدیل نہیں ہوئے ہو۔ اوہ، آپ کو کس قدر سنجیدگی کے ساتھ اپنی تبدیلی کو لینا چاہیے! آپ کو کتنی احتیاط کے ساتھ اِس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ آپ مسیح میں تبدیل ہو چکے ہیں!

اُس جی اُٹھے خُدا کے بیٹے نے یہ بھی کہا،

’’راہ، حق اور زندگی میں ہُوں۔ میرے وسیلہ کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا‘‘ (یوحنا 14:6).

کس قدر سنجیدگی کے ساتھ آپ کو وہ سُننا چاہیے جو یسوع نے کہا! آپ کو یسوع کے پاس آنے اور نجات پانے کے لیے کس قدر بے تاب ہونا چاہیے! آپ کو اپنے ذہن سے تمام توہماتی اور جھوٹے مذہبی تصورات کو نکالنے کے لیے کس قدر احتیاط برتنی چاہیے، اور تنہا یسوع ہی پر انحصار کرنا چاہیے – کیونکہ اُس نے کہا، ’’میرے وسیلے کے بغیر کوئی باپ کے پاس نہیں آتا۔‘‘

دوبارہ، جی اُٹھے خُدا کے بیٹے نے کہا،

’’جو کوئی میرے پاس آئے گا میں اُسے اپنے سے جدا نہ ہونے دُوں گا‘‘ (یوحنا 6:37).

اوہ، آپ کو اُس کے پاس آنے کے لیے کس قدر ’’اندر داخل ہونے کی کوشش‘‘ کرنی چاہیے! (لوقا13:24)۔ آپ کو یسوع کے پاس آنے کے لیے کس قدر محتاط اور سنجیدہ ہونا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ اُس نے کہا،

’’اَے محنت کشو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو! میرے پاس آؤ۔ میں تمہیں آرام بخشوں گا‘‘ (متی 11:28).

ہم دعا کر رہے ہیں کہ آپ مُردوں میں سے جی اُٹھےخُدا کے بیٹے کو سُنیں گے۔ ہم دعا کر رہے ہیں کہ آپ براہ راست اُس کے پاس آئیں گے، کہ آپ اُس خون کے ذریعے سے جو اُس نے صلیب پر بہایا اپنے گناہ سے دُھل کر پاک صاف ہو جائیں گے – اور اُس کی مُردوں میں سے جی اُٹھی زندگی کے باعث نجات پا لیں گے۔ اُس کو سُنیں! اُس پر یقین کریں جو یسوع نے کہا! یسوع کے پاس براہ راست آئیں اور نجات پائیں، بالکل جیسا اُس نے آپ سے کرنے کے لیے کہا – کیونکہ یسوع

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

واعظ سے پہلے دُعّا کی تھی ڈاکٹر کرہیٹن ایل۔ چَعینDr. Kreighton L. Chan ۔ لوقا18:31۔34 .
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’بُلند کرو، اپنی آوازیں ابھی بُلند کرو Lift Up, Lift Up Your Voices Now‘‘ (شاعر جان ایم۔ نیئلی John M. Neale، 1818۔1866)۔

لُبِ لُباب

مسیح کا خُدا کا بیٹا ٹھہرنے کا ثبوت

!THE PROOF OF CHRIST’S SONSHIP

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے


.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’پاکیزگی کی رُوح کے اعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث بڑی قدرت کے ساتھ خدا کا بیٹا ٹھہرا‘‘ (رومیوں 1:4).

I.   اوّل، یسوع کو کیسے خُدا کا بیٹا ٹھہرایا گیاتھا، 1۔سلاطین17:17۔24؛ 2۔سلاطین4:32۔37؛ متی12:39۔40؛ 26:63۔66؛ 27:43 .

II.  دوئم، کیوں یسوع کا خُدا کا بیٹا ہونے کا اعلان ہوا تھا، لوقا18:31۔33؛ متی18:3؛ یوحنا14:6؛ 6:37؛ لوقا13:24؛ متی11:28 .