Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا
ماتم کریں گے

THEY SHALL LOOK UPON ME
WHOM THEY HAVE PIERCED
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 21 مارچ، 2010
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, March 21, 2010

’’اور میں داؤد کے گھرانے اور یروشلیم کے باشندوں پر فضل اور مناجات کی رُوح نازل کروں گا اور وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے جیسے کوئی اکلوتے بچے کے لیے کرتا ہے، اور اُس کے لیے ایسے تلخی میں ہوں جیسے کوئی اپنے پہلوٹے کے لیے ہوتا ہے‘‘ (زکریاہ 12:10).

میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ ڈاکٹر جان ایف۔ والوورد کا اِن آیات پرتبصرہ سچا ہے، کہ یہ آیات ’’مسیح کی دوسری آمد پر‘‘ اسرائیل میں ایک عظیم حیات نو کے لیے انبیانہ حوالہ ہیں (جان ایف۔ والوورد، ٹی ایچ۔ ڈی۔John F. Walvoord, Th.D.، رائے بی۔ زُوک، ٹی ایچ۔ ڈی۔ Roy B. Zuck, Th.D.، ایڈیٹرز؛ بائبل کی آگاہی کا تبصرہ The Bible Knowledge Commentary، وکٹر بُکس Victor Books، 1985 ایڈیشن، صفحہ 1567؛ زکریا 12:10؛ 13:1 پر غور طلب بات)۔

میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ اپنے گناہ کی وجہ سے زیادہ غمگین، زیادہ ماتمی ہونا چاہتے ہیں۔ مگر سپرجیئن نے کہا، ’’وہ آدمی جو غم کرتا ہے کیونکہ وہ غم نہیں کرتا اکثر وہ شخص ہوتا ہے جو سب سے زیادہ غم کرتا ہے… میرا قیاس ہے کہ [دِل کی] سختی تقریباً جا چکی ہوتی ہےجب بہت زیادہ ماتم ہو چکا ہوتا ہے‘‘ (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، دِل کیسے نرم ہوتے ہیں How Hearts are Softened،‘‘ میٹروپولیٹن کی عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگرِم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت1974، جلد تینتیس، صفحہ 516)۔ آج کی صبح ہمارے لیے یہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنی تلاوت کے الفاظ کےساتھ شدت سے منسلک رہیں۔

’’اور میں داؤد کے گھرانے اور یروشلیم کے باشندوں پر فضل اور مناجات کی رُوح نازل کروں گا اور وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے جیسے کوئی اکلوتے بچے کے لیے کرتا ہے، اور اُس کے لیے ایسے تلخی میں ہوں جیسے کوئی اپنے پہلوٹے کے لیے ہوتا ہے ‘‘ (زکریاہ 12:10).

آئیے تلاوت میں دو عظیم سچائیوں کو دیکھتے ہیں۔

I۔ پہلی بات، خُدا کا روح انسان کو اپنے گناہ کے لیے ماتم کرواتا ہے۔

انسان اپنی برگشتہ حالت میں خود اپنے ہی دِل کو ازسرنو نیا نہیں کر سکتا۔ وہ قوت جو ہمیں ہمارے گناہوں پر ماتم کرنے کے لیے اُکساتی ہے خود ہم میں سے جنم نہیں لیتی ہے۔ ہماری تلاوت میں ہم خُدا کو کہتے ہوئے سُنتے ہیں،

’’میں [اُن لوگوں] پر فضل کی رُوح نازل کروں گا‘‘ (زکریاہ 12:10).

جب خُدا ایک شخص کے ساتھ نمٹتا ہے تو وہ اُس کے سخت دِل کو نرم کرنا شروع کرتا ہے۔ ایوب نے کہا،

’’خدا نے میرے دِل کو نرم بنا دیا، اور قادرِ مطلق نے مجھے ہراساں کردیا‘‘ (ایوب 23:16).

جب تک خُدا معجزہ نہیں کرتا آپ کا دِل مُردہ اور بے حِس ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تک کہ اب بھی یہاں پر آپ میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے دِل کو نرم کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔ حتٰی کہ آپ میں سے یہاں پر کچھ لوگ ہیں جو اپنے گناہوں سے ہراساں ہونے کی خواہش کرتے ہیں۔ یہ مجھے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ خدا نے پہلے سے ہی آپ پر ’’فضل کی روح‘‘ کو اُنڈیلنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کے نرم دِل ہونے اور سزایابی میں آنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے کہ خُدا پہلےسے ہی آپکے دِل میں کام کر رہا ہے۔

مگر پاک روح کا کام ایک خُفیہ کام ہوتا ہے۔ آپ اپنی جسمانی حسیات کے ذریعے سے نہیں بتا سکتے کہ آیا وہ [پاک روح] کام کر رہا ہے۔ آپ شاید اتنا ہی سردمہر اور سخت محسوس کریں جتنا ہمیشہ کرتے ہیں، اور اِس کے باوجود مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کے دہانے ہی پر کھڑے ہوں – اِس کو جانے بغیر ہی۔ آپ شاید جانتے ہوں کہ خُدا کچھ نہ کچھ غیر معمولی آپ کی زندگی میں کر رہا ہے، مگر وہ ہو کیسے رہا ہے شاید یہ اب بھی آپ کے لیے ایک راز ہی ہو۔ حیرت میں مبتلا مت ہوئیں اگر خُدا آپ سے ابھی نمٹ رہا ہے، حالانکہ آپ یہ جانتے نہیں ہیں،

’’خدا بولتا ضرور ہے، کبھی اِس طرح، کبھی اُس طرح، خواہ اِنسان کو اُس کا احساس نہ ہو‘‘ (ایوب 33:14).

ہو سکتا ہے خُدا کا روح آپ کے دِل کو نرم اور آپ کو سزایابی میں آپ کے جانے بغیر ہی لا رہا ہو کہ وہ ہی یہ احساسات پیدا کر رہا ہے۔ آپ شاید انجیل کو سُن رہے ہوں اور اِس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوں جیسی کہ آپ نے پہلے کبھی بھی نہ کی ہو – اور اِس کے باوجود سمجھ نہ پائیں کہ خُدا آپ کو ’’شفقت کی رسّیوں‘‘ سے کھینچ رہا ہے (ہوشیع11:4)۔ آپ کو شاید احساس نہ ہو کہ خُدا آپ کو اپنے بیٹے کی جانب کھینچ رہا ہے – کہ ’’میں نے تجھے ابدی شفقت و محبت کے ساتھ کھینچا‘‘ (یرمیاہ31:3)۔

کبھی کبھار ایک شخص جو سالوں سے گرجہ گھر میں آتا رہا ہے گناہ کی سمجھ کا احساس اور انجیل میں ایک نئی دلچسپی محسوس کرنا شروع کرتا ہے۔ وہ تعجب کرتا ہے آیا اُس کے احساسات دُرست ہیں، اور آیا کہ وہ اِس قدر شدید ہیں، یا کہیں یہ صرف ایک جھوٹی تبدیلی کی جانب رہنمائی کریں۔ اور اِس کے باوجود وہ احساس دبتا نہیں ہے، کم نہیں ہوتا ہے۔ شاید وہ یہ سوچنے کی جرأت کرتا ہے کہ خُدا اُس کو کھینچ رہا ہے۔ مگر دوسرا احساس کہتا ہے، ’’یہ سب کا سب نظر کا دھوکہ ہے۔ یہ جو تمہارے ساتھ پہلے رونما ہوا تھا اُس سے کوئی مختلف نہیں ہے۔‘‘ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ یہ دوسرا احساس خُدا کی جانب سے آتا ہے؟ یہ کیا یہ وہ پرانا سانپ ہو سکتا ہے، جو اپنی پوری کوشش کر رہا ہے کہ آپ تبدیلی کی انتہائی دروازے پر پہنچ کر لڑکھڑا جائیں؟

ایک اور شخص جو گرجہ گھر میں نیا ہوتا ہے شاید سوچے، ’’میں کیوں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسا مجھے احساس ہوتا ہے؟ کیا میرے ساتھ کوئی گڑبڑ تو نہیں؟ میں کیوں اِن عجیب و غریب جذبات کو محسوس کرتا ہوں جب میں منادی کو سُنتا ہوں؟‘‘ کیا یہ ممکن ہو گا کہ یہ خُدا کی ’’ہلکی سی دھیمی آواز‘‘ تو نہیں؟ (1سلاطین19:12)۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خُدا نے آپ پر ’’فضل اور مناجات کی روح‘‘ کو اُنڈیلنا شروع کر دیا ہے (زکریاہ12:10)؟

یہ ایک بہت بڑی بات ہوتی ہے جب خُدا کا روح آپ کے پاس ’’فضل کے روح‘‘ کی حیثیت سے آتا ہے – آپ کو آپ کے گناہ کی سمجھ دلانے کے لیے، اور اُس کےبیٹے کو ڈھونڈنے کی ضرورت کا احساس دلانے کے لیے۔ سپرجیئن نے کہا، ’’ہم اِس قدر بے فضل ہیں کہ ہم فضل کو اُس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک خُدا ہمیں ’فضل کے لیے فضل‘ نہیں بخشتا – فضل کو قبول کرنے کے لیے فضل‘‘ – مسیح میں خُدا کی محبت کو قبول کرنے کے لیے محبت (سپرجیئن، ibid.، صفحہ520)۔

غور کریں کہ تلاوت یہ بھی کہتی ہے، ’’میں [اُن پر] فضل اور مناجات کی روح اُنڈیلوں گا‘‘ (زکریاہ12:10)۔ وہ عبرانی لفظ جس نے ’’مناجاتsupplications‘‘ کا ترجمہ کیا اُس کا مطلب ’’پُرخلوص دعا‘‘ ہوتا ہے (سٹرانگ کانکورڈینس Strong’s Concordance # 8469)۔ سپرجیئن نے کہا، ’’یہ خواہشوں اور چاہتوں کی تخلیق ہوتی ہے جو خود کو دعاؤں میں ظاہر کرتی ہیں… الفاظ شاید ٹوٹے پھوٹے ہوں اور پریشان کُن ہوں؛ مگر الفاظ ہیں کیا؟ آہیں، آنسو، چھاتی کا پیٹنا، اور آنکھوں کا اُوپر کی جانب اُٹھنا – یہ سچی دعائیں ہوتی ہیں… کیا آپ کراہا رہے ہیں، رو رہے ہیں، آہیں بھر رہے ہیں – ’خداوندا، بچا لے، ورنہ میں مر گیا؛ مجھے مسیح بخش ورنہ میں مر جاؤں گا‘؟ ٹھیک ہے تو پھر، میں بھروسہ کرتا ہوں کہ آپ تلاوت کی مقدس بوچھاڑ کے تلے آ چکے ہیں – ’میں [اُن پر] فضل اور مناجات کی روح اُنڈیلوں گا‘‘ (سپرجیئن، ibid.، صفحہ521)۔

آپ جیسے ہیں ویسے ہی یسوع کے پاس آئیں، اپنے دِل کی سختی کا اقرار کرتے ہوئے۔ خود کو مسیح کے ہاتھوں میں سونپ دیں، جو آپ کی سختی کو پگھلا سکتا ہے اور آپ کے جرم کو مٹا سکتا ہے۔ سپرجیئن نےکہا، ’’وہ جو خشک ہڈیوں کو زندہ کر سکتا ہے، اور وہ ہی تنہا ہے جو سخت تر دِل کو گناہ پر ماتم کرنے کے لیے مجبور کر سکتا ہے‘‘ (سپرجیئن، ibid.)۔

II۔ دوسری بات، خُدا کا روح لوگوں کے دِلوں کو مسیح مصلوب کی جانب موڑتا ہے۔

تلاوت کہتی ہے،

’’اور میں [اُن پر] فضل اور مناجات کی رُوح نازل کروں گا اور وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے …‘‘ (زکریاہ 12:10).

ڈاکٹر گِل Dr. Gill نے کہا، ’’پہلی ہستی سے تیسری ہستی کی تبدیلی… کلام پاک میں بالکل بھی غیر معمولی نہیں ہے‘‘ (جان گِل، ڈی۔ڈی۔ John Gill, D.D.، پرانے عہد نامے کی ایک تفسیر An Exposition of the Old Testament، بپتسمہ دینے والے معیاری بیئرر The Baptist Standard Bearer، دوبارہ اشاعت1989، جلد ششم، صفحہ740؛ زکریاہ12:10 پر غور طلب بات)۔ یوحنا رسول نے کہا کہ تلاوت اُس وقت پوری ہو گئی تھی جب رومی سپاہیوں میں سے ایک صلیب پر یسوع کے مُردہ جسم کے پاس آتا ہے اور،

’’… ایک نے اپنا نیزہ لے کر یسوع کے پہلو میں مارا اور اُس کی پسلی چھید ڈالی … یہ ساری باتیں اِس لیے ہُوئیں کہ پاک کلام کا لکھا ہوا پُورا ہو جائے … وہ اُس پر جسے اُنہوں نے چھید ڈالا نظر کریں گے‘‘ (یوحنا 19:34، 36،37).

جیسا کہ ہم آج کی رات دیکھتے ہیں، سپاہیوں کے سردار نے صلیب پر اُس پر نگاہ ڈالی اور اپنے ایمان کا اقرار کیا۔

’’اور میں [اُن پر] فضل اور مناجات کی رُوح نازل کروں گا اور وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا نظر ڈالیں گے اور ایسا ماتم کریں گے … ‘‘ (زکریاہ 12:10).

سپرجیئن نے کہا،

گناہ کے لیے سچا دُکھ خُدا کے روح کے بغیر نہیں آتا؛ مگر خود خُدا کا روح بھی اِس پر کام نہیں کرتا ماسوائے اِس کے کہ ہماری رہنمائی یسوع مصلوب کی جانب کرے۔ یہ ایک بوڑھے [مذھبی خادم] کی خوبصورت رائے ہے، کہ آنکھیں کم از کم دو باتوں کے لیے بنی ہیں؛ پہلی بات دیکھنے کے لیے، اور دوسری بات، رونے کے لیے۔ وہ آنکھ جو چھیدے گئے [یسوع] کو دیکھتی ہیں وہ آنکھ ہے جو اُس کے لیے روتی ہے۔ اے شاؤل، جب تو دیکھنے کے لیے آتا ہے تو کہاں سب نظروں کو پڑنا چاہیے، حتٰی کہ اُس پر جس کو چھیدا گیا، تب تیری آنکھیں اُس کے لیے رونا شروع کرتی ہیں جس کے لیے تمام آنکھوں کو رونا چاہیے، یہاں تک کہ اُس گناہ کو بھی جس نے نجات دہندہ کو [مصلوب] کیا! یہاں کوئی بھی نجات دلانے والی توبہ نہیں ہے ماسوائے صلیب کی حد نگاہ میں… انجیلی بشارت کے پرچار کا روح رواں یہ ہے کہ یہ اُس پر نظر ڈالتی ہے جس کو اِس نے اِس کے گناہ سے چھیدا ہوتا ہے۔ گناہ کے لیے غم مسیح میں ایمان کے بغیر… مارتا ہے مگر برکت کبھی بھی نہیں دیتا (سپرجیئن، ibid.، صفحات521۔522)۔

اور سپرجیئن نےکہا،

یہ وہ ہے جو گناہ کی اِس قدر شدت کے ساتھ ہمارے خُداوند کے چھیدنے کو عطا کرتا ہے؛ اِسکا مطلب خُدا کا چھیدنا ہوتا ہے… میں آپ کی حیرت زدہ ہونے اور شرمندہ ہونے کے لیے منت کرتا ہوں کہ اُس کو چھیدا جانا چاہیے۔ یہ کوئی عام موت نہیں ہے! یہ قتل کوئی معمولی سا جرم نہیں ہے۔ اے انسان، وہ جس کو نیزے سے چھیدا گیا تھا تیرا خُدا تھا! صلیب پر اپنے خالق کو دیکھ، اپنے محسن، اپنے بہترین دوست کو دیکھ!

افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟
   اور کیا میرا حاکم اعلٰی مر گیا؟
کیا وہ اُس پاک سر کو نچھاور کر دے گا
   ایک ایسے کیڑے کے لیے جیسا میں ہوں؟
(’’افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟Alas! And Did My Saviour Bleed? ‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔ Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔
(سپرجئین، ibid.، صفحات 523۔524)۔

میں آپ کو مسیح کے دُکھوں کے بارے میں سوچتے رہنے پر رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں – آپ کو گناہ کے کفارے اور الٰہی انصاف کے قہر سے بچانے کے لیے۔ کیا آپ اُس درد کے بارے میں سُننے سے بوریت کا شکار ہو چکے ہیں جس سے یسوع آپ کو بچانے کے لیے گزرا؟ میں اُمید کرتا ہوں نہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اُس غم کے بارے میں سُننے سے تھکے نہیں ہونگے جس سے وہ گتسمنی کے باغ میں گزرا تھا، پسینہ ’’ایسے بہہ رہا تھا جیسے خون کے بڑے بڑے قطرے زمین پر گِر رہے ہوں‘‘ (لوقا22:44)۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اُس کے شاگردوں کے دستبردار ہونے، یہوداہ کے دھوکہ دینے، اُن کوڑوں کے پڑنے سے جن سے یسوع کی کمر پر گہرے گھاؤ پڑ گئے تھے، وہ ظالم کانٹوں کا تاج جس نے اُس کے ماتھے کو کچل ڈالا تھا، وہ شرمندگی اور لوگوں کا اُس پر تھوکنا، وہ ٹھٹھے بازی، اور وہ درد جو اُس نے جب اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں صلیب پر کیل ٹھونکے جا رہے تھے برداشت کیا اُس کے بارے میں سُننے سے تھکے نہیں ہیں۔

وہ آپ کے لیے ایک لعنت بنا ڈالا گیا، آپ کی جگہ پر ہولناک اذیت کو برداشت کیا، آپ کے گناہوں کی ادائیگی کے لیے، جب وہ ’’خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا‘‘ (1 پطرس2:24)۔ دوستو، یسوع کے دُکھوں کو ہمارے دِلوں کو پگھلا دینا چاہیے۔ میں دُکھ محسوس کرتا ہوں کہ میں آپ کو اُس کے دُکھوں کے بارے میں روئے بغیر بتا سکتا ہوں۔ میں خود اپنی سردمہری اور سختی پر ملامت کرتا ہوں کہ اپنے دِل میں مذید اور دُکھ کے بغیر اُس کے دُکھوں کو بتانے کے قابل ہوں۔ سوچیں! کیا کبھی بھی اُس کی مانند ایسا کوئی دُکھ تھا جو دُکھ اُس نے ہمارے لیے برداشت کیا؟

جب آپ کے ذہن کے سامنے صلیب پر آپ کے لیے مسیح کی محبت کا خیال خُدا کا روح لاتا ہے، تو اِس کو یقینی طور پر آپ کا دِل پگھلا ڈالنا چاہیے، اور آپ کو خود کو اُس یسوع کے حوالے کر دینے کا سبب بننا چاہیے! دِل کی سختی مر جاتی ہے جب ہم اِس قدر دُکھ اور درد کے ساتھ یسوع کو ہمارے لیے مرتا ہوا دیکھتے ہیں۔

وہ مجھ پر نظر ڈالیں گے جسے اُنہوں نے چھیدا تھا‘‘ (زکریاہ12:10)۔ وہ کون تھا جس نے نجات دہندہ کے ہاتھوں اور پیروں اور پسلی کو چھیدا تھا؟ وہ میں اور آپ تھے۔ وہ ہم تھے جنہوں نے اُس کو چھیدا تھا! ہمارے گناہ اُس کے چھیدے جانے کا سبب بنے تھے! پیلاطوس، وہ رومی گورنر جس نے اُس کا مقدمہ سُنا تھا، اُس نے کہا،

’’میں تو اُس شخص کو مجرم نہیں سمجھتا‘‘ (یوحنا 18:38).

اُس ’’ممسوح کو ختم کر دیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا‘‘ (دانی ایل9:26)۔ ہمارے گناہوں نے نجات دہندہ کو مصلوب کیا! سپرجیئن نے کہا، ’’اُس نے دُکھ برداشت کیے کیونکہ خُدا کے انصاف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کوئی اور دوسرا راستہ نہیں تھا، ہمارے بچائے جانے کے لیے کوئی اور دوسری راہ نہیں تھی۔ وہ تلوار [بلحاظ دیگر] جس نے ہمیں پیٹا اُس نے خُدا کے [بیٹے] کو [چھیدا]‘‘ (سپرجیئن، ibid.، صفحہ525)۔

کیا وہ [گناہ] کے لیے تھا جو میں نے کیا
   وہ صلیب پر کراہا تھا؟
حیرت انگیز رحم! انجانا فضل!
   اور پیمانے سے پرے محبت!
(’’افسوس! اور کیا میرے نجات دہندہ نے خون بہایا؟ Alas! And Did My Saviour Bleed?‘‘ شاعر آئزک واٹز، ڈی۔ڈی۔Isaac Watts, D.D.، 1674۔1748)۔

’’وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے جیسے کوئی اکلوتے بچے کے لیے کرتا ہے‘‘ (زکریاہ 12:10).

میں آپ کو سپرجیئن کے واعظ ’’کیسے دِلوں کو نرم کیا جاتا ہے How Hearts are Softened‘‘ کا مختصر کی ہوئی ذرا سی تبدیل شُدہ نقل پیش کرتا رہا ہوں۔ میں نے اِس کو دورِ حاضرہ کے ذہنوں کے لیے سادہ ترین بنانے کی کوشش کی ہے اور اِسے مختصر کیا ہے۔ ہائے، میں کس قدر خواہش کرتا ہوں کہ میں آپ کو اِس کی منادی ’’مبلغین کے شہزادے‘‘ کی اُسی ہمدردی اور رقت انگیز کیفیت کے ساتھ کر پاتا! اُس کو سُنیں جب وہ کہتا ہے،

میں کہوں گا، اُس چھیدے گئے انسان کی جانب نظر ڈالیں جب تک کہ خُود آپ کا اپنا دِل چھید نہ جائے۔ ایک بوڑھے [مذھبی خادم] نے کہا، ’صلیب پر نظر ڈالیں جب تک کہ وہ سب کچھ جو صلیب پر ہے تمہارے دِل میں اُتر نہ آئے۔‘ وہ مذید اور کہتا ہے: یسوع پر اُس وقت تک نظر ڈالیں جب تک وہ آپ پر نظر ڈال نہیں لیتا۔ باقاعدہ اُس نظارے [صلیب پر اذیتوں میں مبتلا نجات دہندہ] کو دیکھیں جب تک کہ وہ اپنے سر کو موڑتے ہوئے آپ پر نظر ڈالتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، جیسا اُس نے پطرس پر کیا تھا۔ یسوع کو اُس وقت تک دیکھیں جب تک آپ خود کو نہیں دیکھ لیتے: اُس کے لیے ماتم کریں جب تک آپ اپنے گناہ کے لیے ماتم نہیں کرتے (سپرجیئن، ibid.، صفحات525۔526)۔

’’وہ اس پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے جیسے کوئی اکلوتے بچے کے لیے کرتا ہے‘‘ (زکریاہ 12:10).

اور، ایک آخری مرتبہ، سپرجیئن نے کہا،

میں اُس کو صلیب پر لٹکا ہوا دیکھتا ہوں اور احتیاط کے ساتھ اُس کا معائنہ [اور اُس کا مشاہدہ] کرتا ہوں اُس کے کانٹوں سے گھرے سر سے لیکر نیچے اُس کے بابرکت پیروں تک، جو کیلوں کے ساتھ سرمئی خون کے چشمے تھے۔ میں اُن ہولناک کوڑوں کے [زخموں] پر جو یسوع نے برداشت کیے صلیب کے پیچھے رویا تھا؛ اور پھر سامنے کی جانب آتے ہوئے میں نے اُس کے چھیدے ہوئے ہاتھوں پر ٹکٹکی باندھ کر دیکھا، اور اُس سے ذرا دیر قبل [اُس کی چھیدی ہوئی] پسلی پر نظر دوڑائی تھی۔ پھر میں نے محسوس کیا جیسے کہ میں ایک اطمینان بخش غم اور ماتم سے بھرپور خوشی کے ساتھ مر پاؤں گا۔ ہائے، کس قدر تب میں نے [اُس یسوع] کو سراھا اور محبت کی!... ہائے میں! ہائے میں! کون ہے جو انسان کے بیٹوں کے درمیان اُس کی انجانی اذیتوں، اُس کے چھیدے جانے کی ذہنی اذیت، اُس کی بدحواسی اور دِل کے ٹوٹنے کے بارے میں مناسب طریقے سے بتا سکتا ہے؟ [جب میں تنہا] ہوتا ہوں تو میں اپنے چہرے کو چھپا لیتا ہوں اور سر کو جھکا لیتا ہوں؛ مگر یہاں [اِس واعظ گاہ میں] میں کیا کر سکتا ہوں؟ اے خُداوندا، تیرا خادم کیا کر سکتا ہے؟ (سپرجیئن، ibid.، صفحہ528)۔

میں صرف دعا مانگ سکتا ہوں کہ خُداوند آپ پر ’’فضل اور مناجات کا روح‘‘ اُنڈیلے گا کہ آپ شاید مجھ پر نظر ڈالیں جسے اُنہوں نے چھیدا تھا… اور… اُس کے لیے ماتم کریں‘‘ (زکریاہ12:10)۔ ہائے، میں کس قدر دعا مانگتا ہوں کہ آپ یسوع پر نظر ڈالیں گے کہ آپ اُس کے پاس آئیں گے، کہ آپ اُس کے پاس شفقت کی رسّیوں کے ساتھ کھینچے چلے آئیں گے، کہ آپ گناہ سےپاک صاف کیے جائیں گے اُس خون کے وسیلے سے جو اُس نے آپ کو بچانے کے لیے بہایا! آمین!

اگر اِس واعظ نے آپ کو برکت بخشی ہے تو مہربانی سے ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای۔میل بھیجیں اور اُنھیں بتائیں – (یہاں پر کلک کریں) rlhymersjr@sbcglobal.net۔ آپ کسی بھی زبان میں ڈاکٹر ہائیمرز کو خط لکھ سکتے ہیں، مگر اگر آپ سے ہو سکے تو انگریزی میں لکھیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈٓاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: زکریاہ12:10۔13:1.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہمارے گناہ سے بہت بڑا فضل Grace Greater Than Our Sin‘‘ (شاعر جولیا ایچ۔ جانسٹن Julia H. Johnston، 1849۔1919)۔

لُبِ لُباب

وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا
ماتم کریں گے

THEY SHALL LOOK UPON ME
WHOM THEY HAVE PIERCED

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’اور میں داؤد کے گھرانے اور یروشلیم کے باشندوں پر فضل اور مناجات کی رُوح نازل کروں گا اور وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا ایسا ماتم کریں گے جیسے کوئی اکلوتے بچے کے لیے کرتا ہے، اور اُس کے لیے ایسے تلخی میں ہوں جیسے کوئی اپنے پہلوٹے کے لیے ہوتا ہے‘‘ (زکریاہ 12:10)

.

I.   پہلی بات، خُدا کا روح انسان کو اپنے گناہ کے لیے ماتم کرواتا ہے،
زکریاہ12:10الف؛ ایوب23:16؛ 33:14؛ ہوشیع11:4؛
یرمیاہ31:3؛ 1سلاطین19:12 .

II.  دوسری بات، خُدا کا روح لوگوں کے دِلوں کو مسیح مصلوب کی جانب موڑتا ہے،
زکریاہ12:10ب؛ یوحنا19:34، 36، 37؛ لوقا22:44؛
1پطرس2:24؛ یوحنا18:38؛ دانی ایل 9:26 .