Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

سچی اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق پولوس کی گواہی

PAUL’S FAITHFUL TESTIMONY
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 8 نومبر، 2009
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, November 8, 2009

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

یہاں پر ایک سادہ سی آیت ہے۔ یہ ایک واضح تلاوت ہے جو کہ ہمیں سچی مسیحیت کا انتہائی دِل اور انتہائی روحِ رواں پیش کرتی ہے۔ اِس آیت کو سمجھیں اور آپ نئے عہد نامے کے اہم موضوع کو گرفت میں لے لیں گے۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

I۔ اوّل، یہ تلاوت ایک سچا بیان ہے جس کو قبول کیا جانا چاہیے۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے…‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15الف)۔

جو رسول کہتا ہے قابلِ اعتماد ہے۔ یہ کوئی طلسماتی یا جادوئی کہانی نہیں ہے۔ یہ خُدا کی سچائی ہے، جو مسیح میں آشکارہ ہوتی ہے اور ساری بائبل میں جس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بعد میں، تیموتاؤس کے لیے اپنے دوسرے مراسلے میں، رسول نے اِس بارے میں بات کی

’’… وہ مقدس کتابیں جو تجھے میسح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2 تیموتاؤس3:‏15)۔

اور پطرس رسول نےکہا،

’’خُدا کے پاک لوگ پاک روح کی الہام سے خُدا کی طرف سے کلام کرتے تھے‘‘ (2پطرس1:‏21)۔

پس بائبل ہماری تلاوت میں وفادارانہ بات کہنے کا منبع ہے۔ رسولوں نے ’’مکارانہ تراشی ہوئی طلسماتی کہانیوں‘‘ کی پیروی نہیں کی تھی جب اُنہوں نے مسیح کے بارے میں بات کی، ’’اُس کی شہانت کے چشم دید گواہ تھے‘‘ (2 پطرس1:‏16)۔ اُنہوں نے مسیح کے بارے میں بات کی جب وہ اُس سے ذاتی طور پر ملے تھے،

’’… جسے ہم نے سُنا، جسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ جسے ہم نے غور سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے اُسے چھوا بھی ہے…‘‘ (1یوحنا1:‏1)۔

یہ تھے رسول،

’’دُکھ سہنے کے بعد اُس نے اپنے زندہ ہو جانے کے کئی قوی ثبوت بھی بہم پہنچائے اور وہ چالیس دِن تک اُنہیں نظر آتا رہا‘‘ (اعمال1:‏3)۔

اِس لیے، پولوس ہمیں جو بتانے جا رہا ہے پاک صحائف کی سچائی کے لیے انتہائی ایمان سے لبریز، ایک قابلِ اعتماد بیان ہے جو یقین کیے جانے اور قبول کیے جانے کا مستحق ہے۔ اِس کے باوجود شیطان نہیں چاہتا کہ آپ اِس پر یقین کریں۔ سپرجیئن Spurgeon نے کہا،

[شیطان] ہجوم میں سے ہی چپکے سے شامل ہو جاتا ہے، اور ایک [شخص کے] دِل میں سرگوشی کرتا ہے، ’’اِس پر یقین مت کرو!‘‘ اور دوسرے [کے]، ’’اِس پر ھنسو!‘‘ اور ایک اور دوسرے [کے]، ’’اِس سے دور رہو!‘‘ [اورکچھ بیچارے گنہگاروں کو، شیطان کہتا ہے] ’’اِس پر یقین مت کرو – یہ سچا ہونے کے لیے کچھ زیادہ ہی اچھا ہے۔‘‘ آئیے مجھے خود خُدا کے الفاظ میں شیطان کو جواب دے لینے دیجیے، ’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے۔‘‘ یہ اچھی ہے، اور یہ اتنی ہی سچی ہے جتنی کہ یہ اچھی ہے… میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ شیطان کو خود سے پرے دھکیل دیں گے، اور یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ سچی ہونے کے لیے نہایت اچھی ہے (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن C. H. Spurgeon، جلالی خوشخبری The Glorious Gospel، نئی پارک سٹریٹ کی واعظ گاہ The New Park Street Pulpit، پلگرم اشاعت خانے Pilgrim Publications، دوبارہ اشاعت 1981، جلد چہارم، صفحہ 158)۔

لہٰذا، میں آپ سے کہتا ہوں، اُن شکوک پر مت دھیان دیں جو شیطان آپ کے ذہن میں ڈالتا ہے۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

’’یسوع بچاتا ہے!‘‘ اِسے گائیں!

ہم نے سرور بھری آواز سُنی ہے: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
تمام دُنیا میں نوید پھیلا دو: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
ہر سرزمین پرخبر بتا دو، ڈھلوانوں پر چڑھ کر اور لہروں کو پار کر کے؛
آگے بڑھو! یہ ہمارے خُداوند کا حکم ہے؛ یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
   (’’یسوع بچاتا ہے Jesus Saves‘‘ شاعر پرسیلہ جے۔ اونز
      Priscilla J. Owens‏، 1829۔1907)۔

II۔ دوئم، یہ تلاوت نجات دہندہ، گناہ اور نجات کے بارے میں ایک سچا بیان ہے۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

پہلے، یہ نجات دہندہ کے بارے میں بات کرتی ہے۔ ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے کہا،

یہ کلام پاک کی ایک انتہائی اہم آیت ہے کیونکہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ ’’مسیح یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ وہ عظیم ترین اُستاد بننے کے لیے نہیں آیا تھا جسے دُنیا کبھی جان چکی ہے، حالانکہ وہ وہ تھا۔ وہ کوئی اخلاقی مثال قائم کرنے کے لیے نہیں آیا تھا، مگر اُس نے ایسا کیا۔ وہ دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا تھا (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد پنجم، صفحہ 434؛ 1تیموتاؤس1:‏15 پر غور طلب بات)۔

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے دُنیا میں آیا۔‘‘ وہ آسمان سے ’’دُنیا میں آیا‘‘ تھا،

’’لیکن جب وقت پورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا… ‘‘ (گلِتیوں4:‏4)۔

’’اور کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا…‘‘ (یوحنا1:‏14)۔

مسیح دُنیا میں کیوں آیا تھا؟ ’’گنہگاروں کو بچانے کےلیے‘‘ (1 تیموتاؤس1:‏15)۔ یہی ہے جو یسوع نے خود کے بارے میں کہا،

’’کیونکہ ابنِ آدم گمشدہ کو ڈھونڈنے اور بچانے آیا ہے‘‘ (لوقا19:‏10)۔

یہی وجہ ہے کہ یسوع نے آپ کے گناہ خود پر لاد لیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے گتسمنی کے باغ میں خون پسینے کی مانند بہایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے خون میں تربتر کوڑے برداشت کیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صلیب کے لیے گیا، جہاں اُسکے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھونکے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صلیب پر ایک ہولناک موت مرا، خون، درد اور اذیت میں – ’’گنہگاروں کو بچانے کے لیے!‘‘ ’’یسوع بچاتا ہے۔‘‘ اِس کو دوبارہ گائیں!

ہم نے سرور بھری آواز سُنی ہے: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
تمام دُنیا میں نوید پھیلا دو: یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!
ہر سرزمین پرخبر بتا دو، ڈھلوانوں پر چڑھ کر اور لہروں کو پار کر کے؛
آگے بڑھو! یہ ہمارے خُداوند کا حکم ہے؛ یسوع بچاتا ہے! یسوع بچاتا ہے!

دوبارہ، تلاوت کہتی ہے مسیح ’’دُنیا میں گنہگاروں کو بچانے کے لیے‘‘ آیا تھا۔ آپ تعجب کر سکتے ہیں کہ کیوں میں نے گذشتہ چند ہفتے ڈاروِن کے ارتقاء کے خلاف منادی میں صرف کیے۔ آپ کہہ سکتے ہیں، ’’وہ کیوں اِس کے بارے میں اِس قدر زیادہ بات کرتا ہے؟‘‘ اِس کا جواب سادہ ہے۔ ڈاروِن اِزم تعلیم دیتی ہے کہ انسان صرف ایک جانور ہے، محض ایک اور بہت بڑا بندر، جو نچلی نوع سے ارتقاء میں آیا۔ لیکن اگر ڈاروِن اِزم سچی ہے تو مسیح کو کیوں آنا پڑا تھا؟ اگر انسان ایک دوسرا جانور ہی ہے تو مسیح کو آسمان سے نیچے کیوں آنا پڑا اور صلیب پر کیوں مرنا پڑا؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کیوں – کیونکہ انسان خُدا کی ایک خاص تخلیق ہے۔ انسان زندگی کی نچلی انواع سے ارتقاء میں نہیں آیا۔ ’’خُدا نے انسان کو خود اپنی شبیہہ پر تخلیق کیا‘‘ (پیدائش1:‏27)۔ مگر آغاز میں انسان غلط راہ پر چل نکلا۔ اُس نے گناہ کیا، اور اپنے گناہ کے ذریعے سے،اُس کی تمام کی تمام آل اولاد فطرتی طور پر اور عمل کے ذریعے سے گنہگار بن گئی۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ انسان کو خُدا نے تخلیق کیا تھا، مگر وہ گناہ سے بھرپور ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح کو آنا پڑا اور صلیب پر مرنا پڑا، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا پڑا – مردوں اور عورتوں کو گناہ سے بچانے کے لیے!

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا…‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ گنہگار ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،

’’جیسا کہ پاک کلام میں لکھا ہے، کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں؛ کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خُدا کا طالب نہیں۔ سب کے سب گمراہ ہو گئے، وہ کسی کام کے نہیں رہے، کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں‘‘ (رومیوں3:‏10۔12)۔

چونکہ آپ گنہگار ہیں تو آپ خُدا کو خوش نہیں کر سکتے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنی شدید کوشش کرتے ہیں۔ آپ کے گناہ کا کفارہ مسیح مصلوب کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے،

’’وہ خود اپنے ہی بدن پر ہمارے گناہوں کا بوجھ لیے ہوئے صلیب پر چڑھ گیا…‘‘ (1پطرس2:‏24)۔

’’ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے؛ ہم میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی راہ لی؛ اور خُداوند نے ہم سے کی بدکاری [وہ گناہ] اُس پر لاد دی‘‘ (اشعیا53:‏6)۔

کورس گائیں، ’’یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی‘‘!

یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی،
   اُسی کا میں مکمل مقروض ہوں؛
گناہ نے ایک سُرخ مائل دھبہ چھوڑا تھا،
   اُس نے اُسے برف کی مانند سفید کر دیا ہے۔
(’’یسوع نے اِس تمام کی قیمت چکائی Jesus Paid It All‘‘ شاعرہ ایلوینہ ایم۔      ھال Elvina M. Hall‏، 1820۔1889)۔

گائیں ’’صلیب میں‘‘!

صلیب میں، صلیب میں،
   ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک کہ میری بے خود جان پا نہ لے
   دریا سے پرے آرام۔
(صلیب کے نزدیک Near the Cross‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبی
     Fanny J. Crosby‏ ، 1820۔1915)۔

کم ہیں جو آج کہتے ہیں، مگر آپ اُن میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔ آپ اُن میں سے ایک ہو سکتے ہیں جو کہتے ہیں، ’’میں یسوع کے بچانے کے لیے سب سے بڑا گنہگار ہوں۔‘‘ لیکن تلاوت پر دوبارہ نظر ڈالیں۔

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

پولوس نے کہا کہ وہ سب سے بڑا گنہگار ہے، گنہگاروں کا سردار۔ وہ سچ بول رہا تھا۔ اُس نے خُداوند یسوع مسیح کے خلاف گستاخیاں کیں۔ اُس نے مسیحیوں کو اذیتیں دیں اور اُنہیں قتل کیا۔ مگر یسوع نے اُس کو بچایا! اگر مسیح پولوس جیسے بدکار گنہگار کو بچا سکتا ہے تو وہ آپ کو بھی بچا سکتا ہے۔ اگر مسیح پولوس جیسا ایک شیطان شخص کو اپنے شاگردوں میں سے ایک میں بدل سکتا ہے تو وہ آپ کے گناہ بھی معاف کر سکتا ہے اور آپ کے دِل کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے اور آپ کو ایک حقیقی مسیح میں بدل سکتا ہے!

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا تھا۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں، مسیح آپ کو بچا سکتا ہے۔ لیکن میں آپ کو خبردار کرتا ہوں – اگر آپ محسوس نہیں کرتے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں، تو آپ اُس کے وسیلے سے بچائے نہیں جا سکتے۔ کیونکہ

’’مسیح یسوع گنہگاروں کو بچانے کے لیے دُنیا میں آیا،‘‘

اور کسی اورکو نہیں! وہ صرف گنہگاروں کو بچانے کے لیے آیا۔ لہٰذا، اگر آپ احتجاج کرتے ہیں کہ آپ گنہگار نہیں تو وہ آپ کو نہیں بچائے گا۔ خُدا آپ کو آپ کے گناہ کی سزایابی میں لائے۔ خُدا آپ کو یسوع کی جانب کھینچے۔ آپ اُس کی موت کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے جائیں، اور اُس کے خون کے وسیلے سے گناہ سے پاک صاف ہو جائیں! اپنے گیتوں کے ورق پر سے حمد و ثنا کا گیت نمبر7 گائیں!

بغیر ایک التجا کے، میں جیسا بھی ہوں،
   مگر کہ تیرا خون میرے لیے بہایا گیا،
اور کہ تو مجھے اپنے پاس بُلانے کے لیے بیقرار ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

انتظار کیے بغیر، میں جیسا بھی ہوں
   میری جان کو ایک تاریک دھبے سے چُھڑانے کے لیے،
تیرے لیے جس کا خون ایک داغ مٹا سکتا ہے،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!

بے شک اُچھالا گیا، میں جیسا بھی ہوں
   بہت سی کشمکشی میں، بہت سے شکوک میں،
اپنے میں خوف اور جھگڑوں کے ساتھ اور بغیر،
   اے خُدا کے برّے، میں آیا! میں آیا!
(’’میں جیسا بھی ہوں Just As I Am‘‘ شاعر شارلٹ ایلیٹ
     Charlotte Elliott‏، 1789۔1871)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: 1تیموتاؤس1:‏12۔16.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
’’ہائے، کیسا ایک چشمہ! Oh, What a Fountain!‘‘ (شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس
Dr. John R. Rice‏، 1895۔1980)۔

لُبِ لُباب

سچی اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق پولوس کی گواہی

PAUL’S FAITHFUL TESTIMONY

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’یہ بات سچ اور پوری طرح قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کو نجات دینے کے لیے دُنیا میں آیا؛ جن میں سب سے بڑا گنہگار میں ہوں‘‘ (1تیموتاؤس1:‏15)۔

I۔   اوّل، یہ تلاوت ایک سچا بیان ہے جس کو قبول کیا جانا چاہیے،
1تیموتاؤس1:‏15الف؛ 2تیموتاؤس3:‏15؛ 2پطرس1:‏21، 16؛ 1یوحنا1:‏1؛
اعمال1:‏3 .

II۔  دوئم، یہ تلاوت نجات دہندہ، گناہ اور نجات کے بارے میں ایک سچا بیان ہے،
1تیموتاؤس1:‏15ب؛ گلِتیوں4:‏4؛ یوحنا1:‏14؛
لوقا19:‏10؛ پیدائش1:‏27؛ رومیوں3:‏10۔12؛ 1پطرس2:‏24؛
اشعیا53:‏6 .