Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

بائبل کا اِلہام اور غیبی ہدایت

THE INSPIRATION AND ILLUMINATION OF THE BIBLE
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی شام، 4 اکتوبر، 2009
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Evening, October 4, 2009

’’ہر صحیفہ خدا کے الہام سے ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16).

مہربانی سے اپنی بائبل 2۔ تیموتاؤس 3 باب کے لیے کھلی رکھیں۔ وہ حوالہ جو ڈاکٹر چعین Dr. Chan نے باکل ابھی پڑھا اِن الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے،

’’اور بدکار، دھوکہ باز لوگ فریب دیتے دیتے اور فریب کھاتے کھاتے بگڑتے چلے جائیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:13).

مغربی دُنیا اور امریکہ کے گرجہ گھروں میں ہم اب ایک بہت بڑے اِرتداد کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میں قائل ہو چکا ہوں کہ آج کے اِرتداد کے دو ذرائع ہیں۔ اِن دونوں ہی کی جڑی 18 ویں صدی میں ’’روشن خیالی Enlightenment‘‘ کی عقلیت پسندی میں ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب لوگوں نے انسانی وجوہات کو کلام پاک سے بالا رکھنا شروع کر دیا تھا۔ میں اکثر چارلس جی فنّی Charles G. Finney (1792۔1875) کا تزکرہ اُس ایک ہستی کے طور پر کرتا ہوں جس نے بائبلی تبدیلی کو ’’فیصلہ سازیت decisionism‘‘ کے ساتھ تبدیل کر دیا۔ مگر آج کے اِرتداد کا دوسرا ذریعہ بھی برابر ہی کا اہم ہے – یہ بائبلی تنقید ہے، جو کہ ’’آزاد خیال liberalism‘‘ کی حیثیت سے مہشور ہے۔ اِس کی جڑیں ایک جرمن عالم الٰہیات جوحان سیملر Johann Semler (1725۔1791) کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں ہیں۔ اُس کی کتاب کہلاتی تھی فلسفے کے بنیادی اُصولوں کی آزادانہ تفتیش پر ایک رسمی تاویل A Treatise on the Free Investigation of the Canon (1771۔1775)۔ سیملر نے تعلیم دی کہ ’’بائبل میں بہت کچھ ایسا ہے جو الہام سے نہیں ہے۔ [بائبل کے] کسی بھی حصے کی قدروقیمت کو فرد کے فیصلے پر چھوڑ دینا چاہیے‘‘ (جے۔ ڈی۔ ڈگلِس، پی ایچ۔ ڈی۔ J. D. Douglas, Ph.D.، ایڈیٹر، مسیحی تاریخ میں کون کون ہے Who’s Who in Christian History، ٹائی اینڈیل ہاؤس پبلیشرز Tyndale House Publishers، 1992، صفحہ 619)۔

وہ خالص عقلیت پسندی ہے، جو ایک انسان کے ذہن کو خُدا کے کلام کا۔ پاک ضحائف کا تنقیدنگار بنا ڈالتی ہے۔ سیملر کے خیالات کو جرمنی میں عقلیت پسند عالمین الٰہیات کے ذریعے سے بہت جلدی اپنا لیا گیا۔ وہاں سے ساری دُنیا کی علم الٰہیات کی سیمنریوں میں ’’بائبل کی تنقید نگاری‘‘ کے تصورات بہت جلدی پھیل گئے۔ آج تمام بڑی بڑی مذھبی جماعتیں ’’بائبل کی تنقید نگاری‘‘ کے زہر کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک آلودہ ہو چکی ہیں، جو کہ ’’تاریخی تنقیدی طریقہ کار‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ھیرالڈ لِنڈسل Dr. Harold Lindsell نے تاریخی تنقیدی طریقہ کار کو ’’بائبل کا سب سے بڑا دشمن‘‘ کہا (بائبل میزان میں The Bible in the Balance، ژونڈروان پبلیشنگ ہاؤس Zondervan Publishing House، 1979، صفحہ275)۔ میں ’’بائبل پر تنقیدنگاری‘‘ کو ’’چوہے مار زہر‘‘ کہتا ہوں کیونکہ وہ پروفیسرز چوہے ہیں جو آزاد خیال پادریوں کو یہ کھلاتے ہیں جو اُن کی سیمنریوں میں تعلیم کے لیے جاتے ہیں، اور یہ پادری پھر آزاد خیال گرجہ گھروں میں اِس کی تعلیم پھیلانے کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ بالاآخر اِن گرجہ گھروں میں آنے والے لوگ خود کو زہریلا کر لیتے ہیں۔ وہ روحانی طور پر قتل ہو چکے ہوتے ہیں۔ یوں جرمنی سے اِس زہر کے ذریعے سے تمام کی تمام مذھبی جماعت قتل ہو چکی ہوتی ہے۔

خود مجھے بھی اُس ’’تاریخی تنقیدی طریقہ کار‘‘ کے جھوٹے عقیدے کی تعلیم دی گئی تھی۔ اِس کی مجھے دونوں مغربی بپتسمہ دینے والوں اور یونائیٹڈ پریسبائی ٹیریعئن کی سیمنریوں میں تعلیم دی گئی تھی جہاں سے میں نے گریجوایشن کی تعلیم مکمل کی تھی۔ مذید اور تفصیلات میں جائے بغیر مجھے واضح طور سے ایک حقیقت کے طور پر بیان کر دینا چاہیے کہ جس ہولناک اِرتداد کو آج ہم پروٹسٹنٹ اور بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں دیکھتے ہیں وہ اِنہی دونوں کینسرزدہ تعلیمات کے ذریعے سے آیا ہے: ’’فیصلہ سازیت‘‘ اور بائبل کی تنقیدنگاری۔‘‘ اور مجھے آپ پر واضح کر دینا چاہیے کہ یہ دونوں ہی تعلیمات مسیحیت کی طویل تاریخ میں نئی ہیں۔ 19 ویں صدی تک پروٹسٹنٹ اور بپتسمہ دینے والے گرجہ گھروں میں کوئی بھی ’’فیصلہ سازیت‘‘ میں یقین نہیں رکھتا تھا۔ اور 18 ویں صدی کے انتہائی آخر سے کچھ پہلے تک کوئی بھی ’’بائبل کی تنقید نگاری‘‘ میں یقین نہیں رکھتا تھا۔ یہ تاریخی حقیقت کا ایک بیان ہے۔ ابتدائی اُنیسویں صدی سے پہلے تمام کے تمام پروٹسٹنٹ اور بپتسمہ دینے والے گرجہ گھر بائبل کے ’’تمام و کمال زبانی الہام plenary verbal inspiration‘‘ کی تعلیم دیتے تھے۔ اِس بات کو ڈاکٹر لِینڈسل Dr. Lindsell کے ذریعے سے اُن کی دو زمانہ آفاق کتابوں بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible (ژونڈروان Zondervan، 1976) اور بائبل میزان میں The Bible in the Balance (ژونڈروان Zondervan، 1979) میں بہت خوبی کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ ’’تمام و کمال plenary‘‘ کا مطلب ہوتا ہے بائبل میں سے پیدائش سے لے کر مکاشفہ تک ’’سارے کا سارا۔‘‘ ’’زبانیverbal‘‘ کا مطلب ہوتا ہے کہ عبرانی اور یونانی بائبل کی پہلی نقول کے انتہائی الفاظ خُدا کے الہام سے تھے۔ ’’الہامinspiration‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’خُدا کے ذریعے سے پھونکا ہوا۔‘‘ لہٰذا، ساری بائبل کی پہلی نقول کے تمام الفاظ انبیا اور رسولوں کے ذریعے سے’’خُدا کے پھونکے ہوئے‘‘ تھے۔ یہ ہے ’’تمام و کمال زبانی الہام۔‘‘ یہ ہے جو سارے کے سارے پروٹسٹنٹ اور بپتسمہ دینے والے بائبل کے بارے میں ’’تاریخی تنقیدی طریقہ کار‘‘ کے ’’چوہے مار زہر‘‘ کے گرجہ گھروں کو قتل کرنا شروع کرنے سے پہلے یقین رکھتے تھے!

’’ہر صحیفہ خدا کے الہام سے ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16).

بے شک یہ آیت عبرانی اور یونانی بائبل کی پہلی نقول کے بارے میں بات کر رہی ہے، ناکہ کنگ جیمس بائبل KJV کے ترجمے کے بارے میں! 1950 سے پہلے مسیحی تاریخ میں ’’رُکمین اِزم Ruckmanism‘‘ کی حقیقت سے دور غلطیاں کبھی بھی نمودار نہیں ہوئی تھیں!

ڈاکٹر ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل Dr. W. A. Criswell (1909۔2002) جو کہ بائبل کے ایک بہت عظیم چیمپیئن ہیں اُنہوں نے کہا،

پولوس کے معنوں کو صاف ترین طور پر پیش کرنے کا طریقہ اُس کا یوں ترجمہ پیش کرنا ہے: ’’تمام صحائف، چونکہ خُدا کے پھونکے ہوئے ہیں، نفع بخش ہیں۔‘‘ وہ رائے… کہ پولوس یقین رکھتا تھا کہ [بائبل] کے کچھ حصے خُدا کے الہام سے نہیں تھے، احمقانہ ہے۔ پاک کلام کی ابتدا کے بارے میں لکھا ہے؛ یہ ’’خُدا کا پھونکا ہوا‘‘ ہے (تھیوپنیوسٹوس، یونانی theopneustos, Greek)، یعنی کہ، کلام پاک کے الفاظ خُود خُدا کی جانب سے موصول کیے جاتے ہیں… 2۔پطرس1:21 اضافی ثبوت مہیا کرتی ہے کہ پاک روح کلام پاک کے مصنفین کے ساتھ ہمکلام ہو کر بجا طور پر اُن [الفاظ] کو جو خُدا منتقل کرنے کی خواہش کرتا تھا پیش کرتا تھا۔ کیونکہ یہ سارے کا سارا خُدا کی جانب سے ’’پھونکا گیا… (ڈبلیو۔ اے۔ کرسویل، پی ایچ۔ ڈی۔ W. A. Criswell, Ph.D.، کرسویل کا مطالعۂ بائبل The Criswell Study Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1979، صفحہ1421؛ 2۔تیموتاؤس3:16 پر غور طلب بات) ۔

اور اِس طرح پولوس رسول نے واضح طور پر کہا،

’’ہر صحیفہ خدا کے الہام سے ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16).

اِس لیے ہم ڈاکٹر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں جو کہ پرانے وقتوں کے مغربی بپتسمہ دینے والوں کے حمد و ثنا کے گیتوں کے شاعر ہیں،

میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے؛
ساری کی ساری خُدائی طور پر الہویت والی،
میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے۔
   (’’میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے I Know the Bible is True‘‘ شاعر بی۔ بی۔ میکینی
      Dr. B. B. McKinney، 1886۔1952) ۔

اسے گائیں!

میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے؛
ساری کی ساری خُدائی طور پر الہویت والی،
میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے۔

فینی کے ذریعے سے حقیقی تبدیلی کے خلاف حملے اور سیملر کے ذریعے سے بائبل کے خلاف حملے اور وہ جو اُن کی پیروی کرتے ہیں ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ اُن میں شامل ہیں جن کے بارے میں رسول نے آیت 13 میں بات کی۔ اِس کا باآوازِ بُلند پڑھیں!

’’اور بدکار، دھوکہ باز لوگ فریب دیتے دیتے اور فریب کھاتے کھاتے بگڑتے چلے جائیں گے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:13).

میں یقین کرتا ہوں کہ فنی اور سیملر کو اُس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ وہ بنیادی مسیحی شعور سے تعلق رکھتے ہوئے غلطی پر تھے اور اُنہوں نے دوسروں کو بھی دھوکہ دیا۔

’’ایپسٹیمولجی epistemology‘‘ فلسفے کی وہ شاخ ہے جو شعور کی ابتداء اور درستگی کی چھان بین کرتی ہے – ہم کیسے جانتے ہیں جو ہم جانتے ہیں (پال اے۔ ریڈر، پی ایچ۔ ڈی۔ Paul A. Reeder, Ph.D.، فلسفے کا تعارف Introduction to Philosophy، لوکس برادرز پبلیشرز Lucas Brothers Publishers، 1964، صفحہ97)۔ ہم کیسے جانتے ہیں کہ بائبل سچی ہے؟ عقلید پسندی ’’شعور کے ذریعے کو دلیل کے درجے پر رکھتی‘‘ ہے (ریڈرReeder، ibid.، صفحہ99)۔ مگر عقلید پسندی اِس تصور پر مشتمل ہے کہ انسانی وجہ سُراغ لگا سکتی ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ بائبل تعلیم دیتی ہے کہ انسان برگشتہ مخلوق ہے جن کے ’’خیالات فضول ثابت ہوئے، اور اُن کے ناسمجھ دِلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ عقلمند ہونے کا دعویٰ کرتے تھے مگر بے وقوف نکلے‘‘ (رومیوں1:21۔22)۔ اِس کے علاوہ، رسول نے کہا،

’’کوئی سمجھدار نہیں، کوئی خدا کا طالب نہیں‘‘ (رومیوں 3:11).

اِس اندھیری حالت میں انسانی دلیل خدا کے بارے میں خود اپنے آپ سے سچائی کو دریافت کرنے کے لیے نا اہل ہے۔ انسان کے گناہ سے تاریک ذہن کے لیے کہ وہ خُدا کو جان پائے، خُدا کو خود کو آشکارہ کرنا پڑتا ہے! ڈاکٹر لِینڈسل Dr. Lindsell نے کہا،

     بائبل کے لیے جنگ The Battle for the Bible دو کُلیدی یا بنیادی الٰہیاتی سوال پوچھتی ہے: (1) ہمارے مذھبی علم کا ذریعہ کیا ہے؛ یعنی کہ، ہم کہاں سے زندگی کے اہم ترین سوالات کے جوابات پاتے ہیں – جیسا کہ میں کہاں سے آیا ہوں؟ میں کون ہوں؟ زندگی کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اور میرے ساتھ کیا ہوگا جب میں مر جاؤں گا؟ (2) کیا وہ ذریعہ جس سے میں اپنے بنیادی سوالات کے یہ جوابات حاصل کرتا ہوں قابل اعتماد ہے – یعنی کہ، کیا ذریعہ مجھے سچائی بتاتا ہے؟
     اِن دونوں سوالات کے جوابات درج ذیل تھے۔ پہلا، مسیحی ایمان کی بنیاد دو خدا کے کلاموں میں پنہاں ہے، خدا کا کلام متجسم جو یسوع مسیح ہے جو خدائے خُدا ہے… اور تحریری خُدا کا کلام، جو کہ بائبل ہے۔ وہ واحد یسوع جس کو کلیسیا جان سکتی ہے وہ تحریری خُدا کے کلام کا یسوع ہے۔ بائبل کے بغیر خُدا کے بیٹے اور دُنیا کے نجات دہندہ کا کوئی علم نہیں ہو سکتا۔ اِسی لیے تحریری خُدا کا کلام مسیحی ایمان کے لیے بنیادی ہے۔
     دوسرا ردعمل تھا کہ تحریری خُدا کا کلام اپنے تمام حصوں میں قابلِ بھروسہ ہے۔ بائبل تصدیق شُدہ ہے اور تصدیق شُدہ خُدا کا کلام ہونے کی حیثیت سے یہ مکاشفائی ہے۔ خُدا نے لوگوں کو اُس بات کی پہنچان کرائی جو کہ وہ کسی دوسرے طریقہ سے نہیں جان سکتا تھا۔ خُدا نے خود کو قدرت میں آشکارہ کیا مگر انسان اُس کی قدرت کے ذریعے سے نہیں تلاش کر سکتا۔ اگر خُدا کو پہچانا جانا چاہے، تو اُس کو خود کو ظاہر کرنا چاہیے۔ وہ ایسا خصوصی انکشاف کے ذریعے سے کر چکا ہے، جو کہ خُدا کے بیٹے کے متجسم ہونے اور تحریری کلام کے ذریعے سے اُس بیٹے کے ظاہر ہونے پر مشتمل ہے۔ وہ تحریری کلام… چُنیدہ لوگوں کے ذریعے سے ترتیب دیا گیا تھا جن کے ذریعے سے پاک روح کام وہ تحریر کرواتا تھا جو خُدا تحریری طور پر چاہتا تھا… اور یہ الہامی خُدا کا کلام بےخطا ہے کیونکہ انبیا اور رسولوں نے پاک روح کے الہام کے تحت کام کیا جس نے اُنہیں غلطیاں کرنے سے روکے رکھا… جیسا کہ ایمان کا نیا ہیمسفائر کنفیشنHampshire Confession of Faith کہتا ہے، ’’مصنف کے طور پر اُس کے پاس خُدا ہے۔‘‘ [بائبل] یوں خُدا کا کلام ہے (لینڈسل Lindsell، بائبل میزان میں The Bible in the Balance، ibid.، صفحات11۔12)۔

’’ہر صحیفہ خدا کے الہام سے ہے‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:16).

یوں، جب مصنفین نے اِسے تحریر کیا تو بائبل خود الہام کے وسیلے سے پیش کیے جانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ بائبل خود خُدا کے وسیلے سے ’’پھونکے جانے‘‘ کو دعویٰ کرتی ہے۔ وہ الفاظ جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے ضبط تحریر میں لائے گئے وہ اُن کے ذریعے سے پاک روح کی طرف سے ’’پھونکے گئے‘‘ تھے۔ اُس کورس کو دوبارہ گائیں!

میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے؛
ساری کی ساری خُدائی طور پر الہویت والی،
میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے۔

لیکن میں کیسے جان سکتا ہوں کہ یہ سچ ہے؟ میں کیسے کہہ سکتا ہوں، ’’ میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے‘‘؟ میں کہہ سکتا ہوں کہ بائبل الہام سے تھی کیونکہ اِس کو مجھ پر غیبی ہدایت کے وسیلے سے اُسی پاک روح کی طرف سے نازل کیا گیا جس نے اِس کو پہلی جگہ پر الہامی کیا۔ مہربانی سے زبور 119:130 کھولیں۔ اِس کو باآوازِ بُلند پڑھیں۔

’’تیرے کلام کی تشریح نور بخشتی ہے؛ اور سادہ لُوحوں کو سمجھ عطا کرتی ہے‘‘ (زبُور 119:130).

یہاں پر زبور نویس خُدا کے کلام کے غیبی ہدایت ہونے کے بارے میں بات کرتا ہے، جب وہ ایک انسانی دِل میں داخل ہوتے ہیں۔ ’’تیرے کلام کی تشریح نور بخشتی ہے۔‘‘

الہام رونما ہوتا تھا جب نبی اور رسول کلام کو تحریر میں لاتے تھے۔ غیبی ہدایت وقوع پزیر ہوتی تھی جب پاک روح اُن الفاظ کی سمجھ ہمیں عطا کرتا تھا۔ پولوس رسول نے اِس کے بارے میں کی جب اُس نے کہا،

’’پس ایمان کی بنیاد پیغام کے سُننے پر ہے اور پیغام کی بنیاد مسیح کے کلام پر‘‘ (رومیوں 10:17).

ڈاکٹر میگی Dr. McGee نے رومیوں10:17 کے بارے میں کہا،

ایمان کسی فلسفے یا نفسیات یا کسی سیاسی اکسیر اعظم کی تبلیغ کے ذریعے سے نہیں آتا ہے؛ یہ خُدا کے کلام کی تبلیغ کرنے سے آتا ہے۔ جب تک آپ خُدا کا کلام نہیں سُنتے آپ نجات نہیں پا سکتے (جے۔ ورنن میگی، ٹی ایچ۔ ڈی۔ J. Vernon McGee, Th.D.، بائبل میں سے Thru the Bible، تھامس نیلسن پبلیشرز Thomas Nelson Publishers، 1983، جلد چہارم، صفحہ 720؛ رومیوں10:17 پر غور طلب بات)۔

میں نے اِس بات کو مغربی بپتسمہ دینے والوں کی آزاد خیال سیمنری میں سچا پایا تھا۔ طلبا میں سے دو میرا مسلسل ایک ’’بنیاد پرست‘‘ ہونے پر مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ وہ مسلسل مجھ پر بائبل میں یقین رکھنے کی وجہ سے تنقید کیا کرتے تھے۔ ایک کوریا سے آیا ہوا طالب علم تھا اور دوسرا مغربی ریاست سے ایک سفید فام طالب علم تھا۔ اُن دونوں نے ہی گرجہ گھر میں پرورش پائی تھی۔ وہ ’’گرجہ گھر کے بچے‘‘ تھے۔ اُنھوں نے جب وہ نوجوان ہی تھے تو ’’فیصلے‘‘ کر لیے تھے، مگر وہ شکی ہی رہے تھے۔ حالانکہ وہ ’’فیصلے‘‘ کر چکے تھے، وہ پھر بھی بے اعتقادے ہی تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ اُنھوں نے آزاد خیال پروفیسروں پر یقین کیا تھا جب وہ بائبل پر تنقید کیا کرتے تھے۔ اُن پروفیسروں ہی کی مانند، وہ بھی ابھی تک غیرنجات یافتہ ہی تھے۔

اِس کے باوجود میرے سیمنری چھوڑنے سے پہلے اُن دونوں ہی نے حقیقی تبدیلی کا تجربہ کر لیا تھا۔ اُن کے سچے طور پر نئے سرے سے دوبارہ جنم لے چکنے کے بعد اُن دونوں نے مجھے تلاش کیا اور مجھ سے خُدا کے کلام میں میرے ایمان پر میرا مذاق اُڑانے کے لیے معافی مانگی۔ ہم نے حقیقی تبدیلی میں اُن کے ذاتی طور پر یسوع مسیح کو جان چکنے کے بعد اکٹھے خوشی محسوس کی! وہ ’’گناہوں اور قصوروں میں مُردہ‘‘ رہ چکے تھے (افسیوں2:1)۔ مگر اب وہ ’’مسیح کے ساتھ زندہ کیے گئے‘‘ تھے (افسیوں2:5)۔ یسوع نے کہا،

’’…مُردے خدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اور وہ جو اُسے سُنیں گے، زندہ رہیں گے‘‘ (یوحنا 5:25).

کاش ایسا آپ کی زندگی میں بھی ہو جائے، اگر آپ ابھی تک مسیح میں ایمان نہیں لائے ہیں! تب آپ خود اپنے تجربے سے وہ کورس گا سکنے کے قابل ہو جائیں گے! اِسے گائیں!

میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں، میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے؛
ساری کی ساری خُدائی طور پر الہویت والی،
میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: 2۔ تیموتاؤس 3:13۔17.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
     نے گایا تھا: ’’میں جانتا ہوں بائبل سچی ہے I Know the Bible is True‘‘ (شاعر بی۔ بی۔ میکینی Dr. B. B. McKinney، 1886۔1952) ۔