اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔
واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 46 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔
جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔
نوجوان لوگو – صلیب کو اُٹھا لو!YOUNG PEOPLE – TAKE UP THE CROSS! ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔ |
یہ ایک ایسی تلاوت ہے جسے آپ ہمارے دور کی واعظ گاہوں یا منبروں سے یہاں مغربی دنیا میں شاذ و نادر ہی سنتے ہوں گے۔ اگر اس کا ذکر سرسری طور سے کیا جائے تو عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسیح صرف اپنے بارہ شاگردوں کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر بھی ایسا نہیں تھا۔ مسیح پوری بھیڑ سے مخاطب تھا۔
’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو [وہ ہجوم یا بھیڑ، نئی امریکن سٹینڈرڈ بائبل NASV] اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
لوقا اس بات کو مذید اور واضح کرتا ہے،
’’اور اُس نے اُن سب سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (لوقا 9: 23)۔
اب یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ لوگوں کا تقریباً یہ سارے کا سارا ہجوم مسیح میں ایمان لائے بغیر غیر تبدیل شدہ تھا۔ یہاں تک کہ خود شاگردوں میں، یہوداہ مسیح میں ایمان لائے بغیر غیر تبدیل شدہ تھا۔ یقینی طور پر تھوما کو ’’ایمان دار‘‘ کے طور پر شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مسیح کے جی اٹھنے کے بعد بھی اس نے دلیری سے کہا، ’’میں یقین نہیں کروں گا‘‘ (یوحنا 20: 25)۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس ہجوم میں سے زیادہ تر – تقریباً سبھی – غیر تبدیل شدہ نوجوانوں پر مشتمل تھے۔ یہ بات مشہور ہے کہ اس کے سامعین زیادہ تر نوجوان تھے۔ پطرس صرف 30 کے قریب تھا۔ باقی چھوٹے تھے۔ یوحنا صرف 17 سال کا تھا۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ میری ویب سائٹ کے ایک حالیہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ میرے واعظ پڑھنے والوں میں سے تقریباً 56% 34 سال سے کم عمر کے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میرے واعظ ان کو جوانی میں زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے یسوع کے دِل و دماغ میں چُبھ جانے والے واعظوں نے کیا، میرے واعظ ان نوجوانوں کو لُبھاتے ہیں جو ایک چیلنج کی تلاش میں ہیں!
بہت سے امریکی مبلغین کو یہ کتنا عجیب لگتا ہے کہ یسوع یہ کہہ کر گمراہ یا کھوئے ہوئے لوگوں کے لیے واعظ شروع کرے،
’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
مسیح نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ صلیب اٹھانے سے اس کا کیا مطلب ہے۔ اس نے کوئی وضاحت نہیں کی کیونکہ کوئی ضرورت بھی نہیں تھی۔ جیسا کہ ڈاکٹر رائیری Dr. Ryrie مسیح کے صلیب کے بارے میں پہلی بار ذکر سے تعلق رکھتے ہوئے کہا،
صلیب کے اِس حوالے کو کسی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ یہودیوں نے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کو رومیوں کے ہاتھوں مصلوب ہوتے دیکھا تھا (چارلس سی رائری، پی ایچ ڈی Charles C. Ryrie, Ph.D.، رائیری کا مطالعہ بائبل The Ryrie Study Bible، موڈی پریسMoody Press، 1978؛ متی 10: 38 پر غور طلب بات)۔
دوبارہ، لوقا 9: 23 میں متماثل حوالے سے تعلق رکھتے ہوئے ڈاکٹر رائیری نے کہا،
صلیب موت کے ایک آلے کے طور پر معروف تھی، اس لیے یہ یہاں پر پرانی زندگی کی موت سے نمائندگی کرتی ہے… (گذشتہ بات کے تسلسل میںibid.، لوقا 9: 23 پر غور طلب بات)۔
’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
نہیں، مسیح نے وضاحت نہیں کی کہ اس ہجوم سے اس کا کیا مطلب تھا، جو زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل تھا جو غیر تبدیل شدہ تھے۔ اس نے کوئی وضاحت نہیں کی کیونکہ کسی وضاحت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ سب جانتے تھے کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے – کہ انہیں اپنے آپ سے انکار کرنا پڑے گا اور اس کے ’’پیچھے آنے‘‘ کے لیے مرنا پڑے گا۔ کیا کوئی جدید مبشر ایسی بات کہنے کی جرأت کرے گا؟ اور پھر بھی مسیح نے یہ کہا – بغیر معذرت یا مزید وضاحت کے!
’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
اِس تلاوت سے ہم دو سبق سیکھتے ہیں۔
I۔ پہلی بات، نوجوانوں کو شروع میں خود انکاری کا اور صلیب اُٹھانے کا سامنا کرنا چاہیے۔
مجھے یقین ہے کہ 18 سے 34 سال کی عمر کے لوگوں کے لیے صلیب کو اُٹھانے کا خاص لُبھاؤ یا دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ وہی ہیں جن سے یسوع اس دن بات کر رہا تھا، اور میں آج صبح اُنہی سے بات کر رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آج کے زیادہ تر واعظ ہمارے گرجا گھروں میں بوڑھے لوگوں کے تعصبات کو پورا کرنے کے لیے اُن کی مرضی کے مطابق سُنا دیے جاتے ہیں۔ کتنی بڑی غلطی ہے! اگر ہم نوجوان نسل تک اپنی بات نہیں پہنچاتے ہیں، تو ہمارے گرجا گھر برباد ہو جائیں گے۔ اور زیادہ تر جو نوجوان ہیں وہ بہلاوے وغیرہ جیسی باتوں سے تنگ آچکے ہیں جو انہیں ہمارے گرجا گھروں میں سُنائی جاتی ہیں۔ وہ چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک سخت مسیحیت چاہتے ہیں۔ وہ ایک ایسی مسیحیت چاہتے ہیں جو جرأت مند اور بہادر ہو، ایک ایسی مسیحیت جو ان سے ایک ایسی دنیا میں غیر مفاہمانہ زندگی گزارنے کا تقاضا کرتی ہے جو حقیقی مسیحیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اور یہ بالکل وہی للکارنے والی موت سے بچنے والی، خود کو قربان کرنے والی زندگی ہے جس کے لیے یسوع آپ کو بلاتا ہے، جیسا کہ اس نے پہلی صدی میں کیا تھا۔ اٹھو اے خدا کے جوان! یسوع نے آپ کو جو چیلنج دیا ہے اسے ذہن میں رکھیں!
’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
میں لاس اینجلز کے ایک اندرونی شہر کے گرجا گھر میں ایک اڑسٹھ سالہ پادری ہوں۔ ہمارا گرجا گھر سیاہ فاموں، مشرقیوں، ہسپانویوں، اور بہت سے شاندار سفید فام لوگوں سے بنا ہے۔ مذہبی خدمت یا منادی میں پچاس سال تک رہنے کے بعد، میں جانتا ہوں، کہ ہماری قوم کے نوجوان ہمارے بہت سے گرجا گھروں کی منافقت اور مردہ پن سے تنگ آچکے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ واعظ میں صرف ایک اور زندہ دِل گفتگو کے علاوہ کچھ اور چاہتے ہیں – جس کا مقصد گرجہ گھر میں بوڑھی خواتین اور مرد ہیں۔ میں ان بزرگوں کے خلاف نہیں ہوں۔ ہرگز نہیں! ان میں سے ایک اچھی فیصد تعداد اب بھی زیادہ متحرک، للکارنے والے پیغام چاہتی ہے جتنے کہ انہیں ہمارے دور میں دیے گئے ہیں۔
لیکن مسیح نے جو انقلابی چیلنج دیا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے، آپ کو مسیح کے ساتھ مصلوب کیا جانا چاہیے – بالکل شروع میں، بالکل پہلے ہی انجیلی بشارت کے واعظ کے دوران جو آپ سنتے ہیں۔ پولوس رسول نے کہا،
’’خدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں، سِوا اپنے خداوند یسوع مسیح کی صلیب کے جس کے ذریعے دُنیا میرے لیے مصلوب ہو گئی اور میں دُنیا کے لیے‘‘ (گلِتیوں 6: 14)۔
ان الفاظ نے کافر دنیا کی نفی کی، اور مذہب تبدیل کرنے والے نوجوان کو بُلایا، جن سے اس نے بات کی، صلیب اُٹھانے والی ایک زندگی کے لیے بُلایا، خود دستبرداری کے لیے بُلایا، اورایک ایسی دنیا کے معمولی سے کافرانہ معیاروں کی یقینی موت کے لیے بُلایا جو [غلط راہوں پر جا چکی ہے] پاگل ہو چکی ہے۔ پولوس نے مسیح کی صلیب میں جلال ظاہر کیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صلیب پر مسیح کی موت ایک ایسی چیز تھی جس کی عزت اور تعریف کی جائے۔ آپ صحیح معنوں میں تبدیل نہیں ہو سکتے اگر آپ صلیب پر یسوع کی قربانی کو تاریخ کے سب سے اہم مرکز کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔ یہ اس صلیب پر تھا کہ یسوع آپ کے گناہ کا پورا کفارہ ادا کرنے کے لیے ایک خوفناک موت مرا۔ یہ اس صلیب پر تھا کہ اس نے آپ کے گناہوں کو دھونے کے لیے اپنا خون بہایا، اور آپ کو خُدا کی نظر میں گناہ سے پاک صاف کیا۔ نوجوانوں کو اپنے گناہوں کے متبادل کے طور پر یسوع کی خوفناک موت کا سامنا کرنا چاہیے، ’’اور نہ صرف [ان کے گناہوں] کے لیے، بلکہ پوری دنیا کے گناہوں کے لیے‘‘ (I یوحنا 2: 2)۔ پولوس نے صلیب پر یسوع کے مصلوب ہونے کو عزت اور تعظیم دی، کیونکہ یہ وہیں تھا کہ اس نے گنہگار انسان کو گناہ، موت اور جہنم کے شعلوں سے چھڑانے کے لیے اپنی زندگی دی! لیکن پولوس نے یہ بھی کہا کہ اس نے اپنے آپ کو مسیح کی صلیب سے اس قدر پہچانا کہ یہ اس کی اپنی ہو گئی جب اس نے کہا،
’’جس [مسیح] کے ذریعے دُنیا میرے لیے مصلوب ہو گئی اور میں دُنیا کے لیے‘‘ (گلِتیوں 6: 14)۔
پولوس رسول کے بارے میں مبلغین کے عظیم شہزادے سپرجئین نے کہا،
دنیا اور ہر وہ چیز جو دنیا کی تھی، پولوس کے لیے لاش بن گئی تھی، اور وہ اس کے لیے ایک لاش تھا… [دنیا] مردہ ہو جائے، نظروں سے اوجھل ہو جائے… اور اس کے بعد نظروں سے اوجھل ہو جائے… وہ مسیح جس نے صلیب پر انسانی شکل اختیار کی… ہماری روحوں پر قبضہ کر لیا ہے، اور [اب سے، ہم صرف اس کے لیے زندہ ہیں]۔ اس نے ہمارے پیاروں [اور دلوں] کو [اپنے قبضہ میں] کر لیا ہے۔ اس کے لیے ہماری ساری [محبت پگھلتی ہے]۔ خدا ہم سب کے ساتھ ایسا ہی کرے…آمین۔ (سی ایچ سپرجئینC. H. Spurgeon، ’’وہ صلیب ہمارا جلال The Cross Our Glory،‘‘ دی میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، پِلگِرم پبلیکیشنز، 1973، جلد XXXI، صفحہ 501)۔
مجھے یقین ہے کہ ہر غیر تبدیل شدہ نوجوان کو جو اس واعظ کو سنتا یا پڑھتا ہے اپنے آپ کو گہرائی سے جانچنا اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ واقعی مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہوا ہے، کیونکہ رسول کہتے ہیں،
’’اپنے آپ کو جانچو، کیا تم ایمان میں ہو؛ اپنے آپ کو ثابت کرو‘‘ (II کرنتھیوں 13: 5)۔
لیکن مسیح میں ایمان لا کر حقیقی طور پر تبدیل ہونے کے لیے آپ کو سنڈے اسکول کے سبق میں پولوس کے الفاظ کو دہرانے سے زیادہ کچھ کرنا چاہیے،
’’خدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں، سِوا اپنے خداوند یسوع مسیح کی صلیب کے جس کے ذریعے دُنیا میرے لیے مصلوب ہو گئی اور میں دُنیا کے لیے‘‘ (گلِتیوں 6: 14)۔
اُس کورس کو گائیں، ’’صلیب میں‘‘!
صلیب میں، صلیب میں،
ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
اُس دریا سے پرے سکون!
(صلیب کے نزدیک Near the Cross‘‘ شاعر فینی جے۔ کراسبیFanny J. Crosby ، 1820۔1915)۔
آپ نوجوان لوگ جو صحیح معنوں میں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہیں انہیں مسیح کی صلیب کا سامنا کرنا ہوگا اور اُنہیں پہلی ہی بار میں انجیل کی منادی سنتے ہی صلیب کو اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ آپ کو، کسی نہ کسی طریقے سے، ان الفاظ کے ساتھ للکارا جانا چاہیے جو مسیح نے غیر نجات یافتہ ہجوم کو دیے تھے جنہوں نے اُس دن اُس کو منادی کرتے ہوئے سنا،
’’جو کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری [خود میں قربانی] کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
یہ پہلی بات ہے جو آپ کے ساتھ ہونی چاہیے، ورنہ آپ کو مسیح میں ایمان لانے حقیقی تبدیلی کا تجربہ نہیں ہوگا۔ آپ کو اپنے آپ کو ’’مارنا‘‘ چاہیے، اور ’’[اپنی] صلیب اٹھانا چاہیے، اور [اس کی] پیروی کرنا چاہیے۔‘‘
اگر آپ کو یہ بات شروع میں نہیں بتائی جاتی ہے، تو یہ ایک سستی چال لگتی ہے، جب کوئی مبلغ آپ کو بعد میں کہتا ہے کہ آپ کو اپنے آپ کو مارنا پڑے گا، اور اپنی صلیب اٹھانا پڑے گی۔ آپ کا دل کہے گا، ’’انہوں نے مجھے جب میں پہلی بار گرجہ گھر آیا تو کیوں نہیں بتایا کہ ایک مسیحی بننا اتنا مشکل ہوگا؟‘‘ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ اور، درحقیقت، وہ اکثر ایسا ہی کرتے ہیں، گرجہ گھر میں ایک اور نشست کو بھرنے کے لیے – تھوڑی دیر کے لیے – کیونکہ آپ یقینی طور پر گناہ میں گر جائیں گے، اور بالآخر گرجہ گھر چھوڑ دیں گے، اگر آپ کو پہلی بار گرجہ گھر میں آنے پر یہ مشکل سچائی نہیں بتائی گئی۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج امریکہ میں اپنے گرجا گھروں میں تقریباً 90 % نوجوانوں کو کھو رہے ہیں! آپ کسی نوجوان کو اس حقیقت سے چھپا کر مسیحی ہونے کے لیے دھوکہ نہیں دے سکتے کہ یسوع نے کہا،
’’اُسے خود انکاری [خود میں قربانی] کر لینے دیں، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
لہٰذا، میں کہتا ہوں، یہ آپ کے لیے مسیح کا چیلنج ہے! اگر خدا آپ سے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے کے بارے میں بات کر رہا ہے، تو اپنے منصوبوں اور خواہشات اور گناہوں کے لیے مر جائیں۔ مسیح کے پاس آئیں اور اُس کے خون سے اپنے گناہوں سے پاک صاف ہو جائیں۔ ’’اور [اپنی] صلیب اٹھائیں اور [اس] کے پیچھے چلیں۔‘‘ کوئی بھی شخص کبھی حقیقی طور پر تبدیل نہیں ہوتا جو اپنے ہی شریر دل اور زندگی سے انکار نہ کرتا ہو۔ کوئی بھی شخص کبھی حقیقی طور پر نجات نہیں پاتا جو اپنی صلیب اٹھانے اور مسیح کی پیروی کرنے کو تیار نہ ہو۔ وہ کورس دوبارہ گائے، ’’صلیب میں۔‘‘
صلیب میں، صلیب میں،
ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
اُس دریا سے پرے سکون!
کیا یہ نجات اعمال سے ہے؟ یہ نہیں ہے! یہ تنہا مسیح میں ایمان کے ذریعے فضل سے نجات ہے! کوئی بھی اپنے آپ کو نہیں مارے گا جب تک کہ خدا اسے ایسا کرنے کا فضل نہ دے! کوئی بھی اپنی صلیب نہیں اٹھائے گا اور مسیح کی پیروی کلوری تک نہیں کرے گا جب تک کہ خُدا اسے ایسا کرنے کا فضل نہ دے! جیسا کہ پولوس رسول نے کہا،
’’کیونکہ مسیح کی خاطر تم پر یہ فضل ہوا کہ نہ صرف فقط اُس پر ایمان لاؤ بلکہ اُس کی خاطر دُکھ بھی سہو‘‘ (فلپیوں 1: 29)۔
مسیح کے پاس آئیں اور اُس کے ذریعے نجات پائیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ اس ’’مسیح کے پاس آنے‘‘ میں ’’[اپنے لیے] مرنے اور [اپنی] صلیب اٹھانے اور [اُس] کی پیروی کرنے کی خواہش شامل ہے‘‘ (مرقس 8: 34)۔ جیسا کہ ڈاکٹر جان آر رائس نے اپنے ایک دل کو چھو لینے والے گانے میں اسے بہت اچھی طرح سے بیان کیا ہے،
میں اسے کیا دوں؟ میں کیا پیش کروں؟
میں اپنے خداوند کی قربانی کا قرض کیسے ادا کروں؟
زمین کی ساری دولت نہیں، نہ اس کا سارا خزانہ ہی،
لیکن دل کی عقیدت اور محبت قیمت سے بڑھ کر!
میرے تمام دل کی محبت، میرے تمام پیارے خواب -
انہیں، خداوند یسوع، صرف اپنے لیے بنائیں۔
میں جو کچھ بھی ہوں، میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہوں -
خُداوند یسوع مجھے ہمیشہ کے لیے اپنانے کے لیے لے لے۔
مجھے کیوں بڑبڑانا، دُکھوں سے پیچھا چُھڑانا چاہیے،
یسوع کے نام میں دوستوں یا پیسے لُٹنے کے لیے خوفزدہ ہونا چاہیے؟
اوہ، مجھے خطروں اور سخت سزاؤں کو خوش آمدید کہنا چاہیے
اگر میں شاید یسوع کی شرم میں کچھ حصّہ بانٹ پاؤں!
میرے دِل کا تمام پیار، میرے تمام پیارے خواب،
اُنہیں صرف خُداوند یسوع تیرے لیے بنا دے۔
میں جو کچھ بھی ہوں، میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہوں،
خُداوند یسوع مجھے ہمیشہ کے لیے اپنانے کے لیے لے لے۔
(’’میرے دِل کا تمام پیار All My Heart’s Love ‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔
لیکن تلاوت میں ایک اور موضوع ہے جسے مجھے چھونا چاہیے۔
II۔ دوسری بات، ہر مسیحی کو، مسیحی میں ایمان لانے کی تبدیلی کے بعد، خود انکاری کو اور اپنی صلیب کے اٹھانے کو جاری رکھنا چاہیے۔
’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
خود انکاری اور صلیب اُٹھانا ہر مسیحی کی عمر بھر کی تلاش ہونی چاہیے۔ خود انکاری سے مسیح کا مطلب ہے ’’اپنی ذات کا انکار کرنا اور مسیح کے ساتھ نئے رشتے میں داخل ہونا... صلیب تنہا وہ دُکھ ہیں جو مسیح کے ساتھ ہمارے وفاداری کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور انتباہ یہ ہے کہ ہر ایک شاگرد کو اس طرح کے دکھوں میں اپنا حصہ ملے گا... مسیح اپنی صلیب کے ساتھ رہنمائی کرتا ہے، اور اس کے تمام شاگرد، ہر ایک اپنی صلیب سے لدا ہوا، ایک بہت بڑے جلوس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے، اُن لوگوں کی مانند جن کی مصلوب کیے جانے کے لیے رہنمائی کی جا رہی ہوتی ہے۔ پولوس اعداد و شمار کو بہت آگے تک لے جاتا ہے؛ [وہ] جو مسیح یسوع کے [ہیں] اُنہوں نے اپنے جسم کو … صلیب پر چڑھا دیا ہے (گلِتیوں 5: 24)؛ اور … مسیح کے ساتھ مصلوب کیے گئے ہیں‘‘ (آر سی ایچ لینسکی، ڈی ڈی R. C. H. Lenski, D.D.، مقدس مرقس کی انجیل کی تفسیر The Interpretation of St. Mark’s Gospel، آگسبرگ اشاعتی گھر Augsburg Publishing House، 1961، صفحات 348۔349)۔
یہ مسلسل خود انکاری ہے۔ یہ مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے اور پوری مسیحی زندگی میں جاری رہنی چاہیے۔ یہ لوقا 9: 23 میں لفظ ’’روزانہ‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے،
’’اور اُس نے اُن سب سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے اور روزانہ اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے‘‘ (لوقا 9: 23)۔
پولوس رسول نے کہا،
’’میں مسیح کے ساتھ مصلوب ہو چکا ہوں‘‘ (گلِتیوں 2: 20)۔
اور اُس نے یہ بھی کہا،
’’میں روزانہ مرتا ہوں‘‘ (I کرنتھیوں 15: 31)۔
اُس کورس کو دوبارہ سے گائیں، ’’صلیب میں۔‘‘
صلیب میں، صلیب میں،
ہمیشہ میرا جلال ہو؛
جب تک میری بیخود روح پا نہ لے
اُس دریا سے پرے سکون!
خود انکاری اور صلیب کا اُٹھانا مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی سے شروع ہوتی ہے، لیکن مسیح کے حقیقی پیروکار کی زندگی میں تاحیات جاری رہتی ہے۔ اعمال 2: 42 میں ابتدائی مسیحیوں کی بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر ٹوزر نے کہا،
ان پہلے مسیحیوں کے لیے مسیح میں ایمان لانے کی تبدیلی کوئی منزل نہیں تھی۔ یہ ایک سفر کا آغاز تھا۔ اور بالکل یہیں پر ہے جہاں بائبل کا اصرار ہم سے مختلف ہے۔ آج سب کچھ ایمان کے ابتدائی عمل پر منحصر ہے۔ ایک مخصوص لمحے میں مسیح کے لیے ایک ’’فیصلہ‘‘ لیا جاتا ہے، اور اس کے بعد سب کچھ خود بخود ہو جاتا ہے... ہم اپنے سننے والوں کو اس خیال کو جذب کرنے کی اجازت دیتے ہیں کہ وہ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے ایمان کے عمل سے اپنی تمام ذمہ داریوں سے نمٹ سکتے ہیں ... اعمال کی کتاب میں ایمان ہر ایماندار کے لیے ایک آغاز تھا، نہ کہ اختتام ... یہ دل اور دماغ کا [ایک نیا] رویہ تھا جس نے ایماندار کو اپنی صلیب اٹھانے اور برّہ کے بچے کی پیروی کرنے کے لیے کہ وہ جہاں بھی گیا، آمادہ کیا اور اس قابل بنایا (اے ڈبلیو ٹوزر ڈی ڈی۔ A. W. Tozer, D.D.، ’’ایمان ایک سفر ہے Faith is a Journey،‘‘ آدھی رات کے بعد پیدا ہوا Born After Midnight، کرسچن اشاعتی خانے Christian Publications، 1989 ایڈیشن، صفحات 15۔16)۔
یہاں ایک بار پھر بائبل کی مسیحیت اور موجودہ دور کی انجیلی بشارت کے درمیان واضح [فرق] نظر آتا ہے، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ میں [جہاں بہت کم جسمانی ایذا دی جاتی ہے]۔ وہ جو مسیح کو قبول کرتے ہیں اُنہیں مسیح میں ایمان لا کر تبدیل کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ... ہم اپنے سننے والوں کے ساتھ اس وقت تک مکمل طور پر ایماندار نہیں ہوں گے جب تک کہ ہم انہیں دو ٹوک سچ نہیں بتائیں گے... اگر وہ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو وہی دشمن جنہوں نے اسے [یسوع کو] مصلوب کیا تھا، انہیں مصلوب کرنے کی کوشش کریں گے... وہ پہلے ایماندار پوری سمجھ کے ساتھ مسیح کی طرف ہوئے تھے کہ وہ [شامل ہونے کے لیے] ایک غیرمقبول مقصد میں شامل ہو رہے ہیں جس کے لیے اُنہیں ہر قیمت چکانی پڑے گی۔ وہ جانتے تھے کہ اب سے وہ نفرت انگیز اقلیتی گروہ کے رکن ہوں گے (ٹوزر Tozer، گذشتہ بات کے تسلسل میں ibid.، صفحات 17۔18)۔
یہاں امریکہ میں جس طرح سے چیزیں چل رہی ہیں، اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ زیادہ تر انجیلی بشارت والے ’’ایک نفرت انگیز اقلیتی گروہ‘‘ بن جائیں گے۔ کچھ طریقوں سے یہ پہلے ہی سچ ہے۔ اس مرتی ہوئی دنیا میں یسوع کے سچے پیروکار بننے کے لیے، ہر سچے مسیحی کے لیے یہ ضروری ہو جائے گا کہ وہ مسیح کے الفاظ کو سنجیدگی سے اپنائے،
’’اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔
میں اسے کیا دوں؟ میں کیا پیش کروں؟
میں اپنے خداوند کی قربانی کا قرض کیسے ادا کروں؟
زمین کی ساری دولت نہیں، نہ اس کا سارا خزانہ ہی،
لیکن دل کی عقیدت اور محبت قیمت سے بڑھ کر!
میرے تمام دل کی محبت، میرے تمام پیارے خواب -
انہیں، خداوند یسوع، صرف اپنے لیے بنائیں۔
میں جو کچھ بھی ہوں، میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہوں -
خُداوند یسوع مجھے ہمیشہ کے لیے اپنانے کے لیے لے لے۔
مجھے کیوں بڑبڑانا، دُکھوں سے پیچھا چُھڑانا چاہیے،
یسوع کے نام میں دوستوں یا پیسے لُٹنے کے لیے خوفزدہ ہونا چاہیے؟
اوہ، مجھے خطروں اور سخت سزاؤں کو خوش آمدید کہنا چاہیے
اگر میں شاید یسوع کی شرم میں کچھ حصّہ بانٹ پاؤں!
میرے دِل کا تمام پیار، میرے تمام پیارے خواب،
اُنہیں صرف خُداوند یسوع تیرے لیے بنا دے۔
میں جو کچھ بھی ہوں، میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہوں،
خُداوند یسوع مجھے ہمیشہ کے لیے اپنانے کے لیے لے لے۔
(’’میرے دِل کا تمام پیار All My Heart’s Love ‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔
مسیح کے پاس آئیں۔ اُس کے خون سے اپنے گناہوں سے دُھل جائیں۔ مسیح میں خُدا کے فضل سے تبدیل ہو جائیں۔ اپنے آپ سے انکار کریں۔ اپنی صلیب اٹھائیں اور مسیح کی پیروی کریں، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے! ایک حقیقی مسیحی بننے کی یہی قیمت ہے!
اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔
(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ
www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔
یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
|
لُبِ لُباب نوجوان لوگو – صلیب کو اُٹھا لو! YOUNG PEOPLE – TAKE UP THE CROSS! ڈاکٹر آر ایل ہائیمرز جونیئر کی جانب سے ’’اور تب اُس نے سارے لوگوں کو اور اپنے شاگردوں کو اپنے پاس بُلایا اور اُن سے کہا، اگر کوئی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خود انکاری کرے، اپنی صلیب اُٹھا لے اور میرے پیچھے چلا آئے‘‘ (مرقس 8: 34)۔ (لوقا 9: 23؛ یوحنا 20: 25)
I۔ پہلی بات، نوجوانوں کو شروع میں خود انکاری کا اور صلیب اُٹھانے کا سامنا کرنا چاہیے، گلِتیوں 6: 14؛ I یوحنا 2: 2؛ II۔ دوسری بات، ہر مسیحی کو، مسیحی میں ایمان لانے کی تبدیلی کے بعد، خود انکاری کو اور اپنی صلیب کے اٹھانے کو جاری رکھنا چاہیے، لوقا 9: 23؛ گلتیوں 2: 20؛ I کرنتھیوں 15: 31۔ |