Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 42 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔

اُن کے لیے حوصلہ افزائی جو نجات سے دور نہیں ہیں

ENCOURAGEMENT TO THOSE WHO ARE NOT FAR FROM SALVATION
(Urdu)

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ خُداوند کے دِن کی صبح، 7 جون، 2009
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord’s Day Morning, June 7, 2009

’’جب یسوع نے دیکھا کہ اُس نے بڑی عقلمندی سے جواب دیا تو اُس سے کہا، تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

جب یسوع اِس شریعت کے عالم سے پہلی مرتبہ ملا تھا تو وہ شخص اُس کے خلاف تھا۔ اِس شریعت کے عالم نے ’’اُس کو آزمانے کی غرض سے ایک سوال پوچھا‘‘ (متی22:35)۔ یہ معلومات متی کی انجیل میں پیش کی گئی ہے مگر یہاں مرقس میں نہیں ہے۔ مگر مسیح کے خلاف یہ مخالفت نرم پڑ جاتی ہے جب اُس نے یسوع کو دوسرے شریعت کے عالموں کے جواب دیتے ہوئے سُنا۔ ’’یہ اندازہ لگا کر کہ اُس نے اُنہیں بخوبی جواب دیے‘‘ (مرقس12:28)، یوں لگتا ہے کہ اُس کا دِل یسوع کی جانب گداز ہو گیا تھا۔ پھر یسوع نے اُس کو بتایا کہ سب سے بڑا ترین حکم خُدا کو پیار کرنا ہے اور دوسرا عظیم ترین حکم اپنے پڑوسی کو اپنے برابر پیار کرنا ہے۔ یسوع نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا، ’’اِن سے بڑا اور کوئی حکم نہیں‘‘ (مرقس12:31)۔ یہیں پر ہے جہاں ہم اِس شریعت کے عالم کے غور و فکر کو دیکھتے ہیں۔ اُس کی یسوع کے خلاف عداوت نرم پڑ گئی اور اُس نے یسوع سے کہا، ’’اُستاد، تو نے سچ کہا‘‘ (مرقس12:32)،

’’کیونکہ خدا ایک ہے؛ اور اُس کے سِوا اور کوئی نہیں اور اُس سے سارے دل، ساری عقل اور ساری جان اور ساری طاقت سے محبت رکھنا اور اپنے پڑوسی سے اپنی طرح پیار کرنا ساری سوختنی قربانیوں اور ذبیحوں سے بڑھ کرہے‘‘ (مرقس 12:32ب۔33).

تب مسیح نے اُس کے ساتھ ہماری تلاوت کے الفاظ میں کلام کیا،

’’جب یسوع نے دیکھا کہ اُس نے بڑی عقلمندی سے جواب دیا تو اُس سے کہا، تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

میں اس شخص کے ساتھ مسیح کی ملاقات سے تین باتیں ظاہر کروں گا: (1) اُس کو یسوع کو آزمانے اور اُس کی مخالفت کرنے سے روکنے کے لیے قائل کیا گیا تھا؛ (2) اُس کے دِل کو یسوع نے کیا کہا اُسے سُننے اور اِس کو منظور کرنے کے لیے کُشادہ کیا گیا تھا؛ (3) وہ نجات کے نہایت قریب لایا گیا تھا۔ یہ ہیں وہ باتیں جو اُن کے ساتھ رونما ہوتی ہیں جو خُدا کے روح کے وسیلے سے بیدار ہونے جا رہے ہوتے ہیں، اور یوں نجات کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اور میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ اِس میں سے گزریں جس میں سے یہ شخص گزرا تھا تاکہ یسوع آپ سے کہہ سکے،

’’ تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

یسوع کا آپ کے بارے میں یہ کہنے کے لیے آپ کو اُس میں سے گزرنا چاہیے جس کا تجربہ اِس شریعت کے عالم نے کیا تھا۔

I۔ اوّل، اُسے مسیح کو آزمانے اور اُس کی مخالفت سے روکنے کے لیے قائل کیا گیا تھا

۔

اِس شریعت کے عالم کے واقعے میں خُدا کے روح کا تزکرہ نا ہی تو متی میں اور نہ ہی مرقس کی انجیل میں ہے۔ مگر پاک روح انتہائی یقینی طور پر اِس شخص کے دِل میں کام کر رہا تھا، کیونکہ صرف خُدا کا روح ہی ایک شخص کی خدا کے لیے مخالفت اور مسیح کی جانب اُس کی عداوت کو توڑ سکتا ہے۔ اور میں اِس شخص کے دِل میں خُدا کے روح کے عمل کا ’’پوشیدہ ہاتھ‘‘ دیکھتا ہوں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ میں ایسی مخالفت اور عداوت نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ مسیح میں غیرتبدیل شُدہ ہیں تو آپ غلط ہیں۔ آپ بالکل اُس شریعت کے عالم کی مانند ہیں جو وہ مسیح کے خلاف بولا تھا، ’’اُسے آزمانے کے لیے‘‘ (متی 22:35)۔ چاہے کتنے ہی سمجھ سے بالا تر یا کُچلے ہوئے ہوں، آپ مسیح کی ضرور مخالفت کرتے ہیں اگر آپ ایک غیرنجات یافتہ حالت میں ہوتے ہیں۔ یوں، وہ شریعت کا عالم بیدار کیے جانے کے عمل میں ایک شخص کی تصویر پیش کرتا ہے، تبدیلی سے پہلے۔ سپرجیئن نے کہا،

یہ شخص ایک ذاتی دشمن [ایک دشمن] کے طور پر شروع ہوا تھا… متی کی انجیل میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ شریعت کے عالم نے یسوع کو ’’آزمانے کی‘‘ غرض سے ایک سوال پوچھا تھا [متی 22:35]۔ وہ اس لیے ایک دشمن تھا۔ لفظ ’’آزمائش‘‘ پرجو آپ کو پسند ہے تھوڑی سی بھی سمجھ ڈالیں اور یہ غیردوستانہ امتحان کے تصور اُجاگر کر دے گا (سی۔ ایچ۔ سپرجیئن، ’’غوروفکر اور صاف گوئی کے لیے For the Candid and Thoughtfull، ‘‘ میٹروپولیٹن عبادت گاہ کی واعظ گاہ The Metropolitan Tabernacle Pulpit، 1972، جلد XXVI، صفحہ 61)۔

باغِ عدن میں انسان کی برگشتگی سے تمام انسانوں نے ایک بدکار فطرت کو وراثت میں اپنایا ہے، وہ ایک جو خُدا کی مزاحمت کرتی اور مسیح کے لیے مخالفانہ ہے۔

’’اِس لیے کہ جسمانی نیّت خدا کی مخالفت کرتی ہے‘‘ (رومیوں 8:7).

چاہے وہ اِس کا اقرار کریں یا نا، تمام کے تمام غیرتبدیل شُدہ لوگ، زیادہ یا کم، اِن کے بارے میں فلپیوں3:18 میں کہا گیا ہے،

’’وہ مسیح کی صلیب کے دشمن ہیں‘‘ (فلپیوں 3:18).

انسان اپنی فطری حالت میں خُدا کے لیے مزاحمت کرتا ہے اور کم از کم کسی حد تک مسیح کی صلیب کا ایک دشمن ہوتا ہے۔ بائبل لوگوں کو اُن کی قدرتی حالت کی حیثیت سے یوں بیان کرتی ہے

’’کسی وقت تم [خُدا سے] بہت دور تھے اور اپنے بُرے چال چلن کے سبب سے اُس کے سخت دشمن تھے‘‘ (کُلسیوں 1:21).

انسانی ذہن خُدا کے خلاف بغاوت میں رہتا ہے۔ ایک فطرتی، غیرتبدیل شُدہ حالت میں، ایک انسان نا صرف خُدا کے لیے مخالف ہوتا ہے بلکہ مسیح کی صلیب کا دشمن بھی ہوتا ہے، لیکن روحانی طور پر اندھا بھی ہوتا ہے، اِس قدر زیادہ اندھا کہ اُس کے بارے میں کہا گیا ہے،

’’جس میں خدا کا پاک رُوح نہیں وہ خدا کی باتیں قبول نہیں کرتا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 2:14).

پس، غیرتبدیل شُدہ شخص خُدا کا ا یک دشمن ہوتا ہے، مسیح کی صلیب کا ایک دشمن، اپنے ذہن میں ایک دشمن اور روحانی طور پر اندھا۔ اِس کو اُن ہولناک الفاظ میں قلمبند کیا جا سکتا ہے جو اُس کو اِس حیثیت سے بیان کرتے ہیں،

’’اپنے قصوروں کے باعث مردہ‘‘ (افسیوں 2:5).

اور گناہ کے لیے غلامی میں اس اِطلاق کو رسول کے فیصلے کے ساتھ یوں تلخیص کیا جا سکتا ہے،

’’وہ سب کے سب گناہ کے قابو میں ہیں‘‘ (رومیوں 3:9).

یعنی کہ، تمام کے تمام غیرتبدیل شُدہ لوگ گناہ کے ذریعےسے، خود اُن کی اپنی گناہ کی فطرت کی وجہ سے اور شیطان جو گناہ کا مصنف ہے اُس کے ذریعے سے غلبہ اور قابو میں کیے جاتے ہیں۔

عالمینِ الٰہیات اِس حالت کو ’’مکمل اخلاقی زوال‘‘ کہتے ہیں۔ ویسٹ منسٹر کونفیشن The Westminster Confession (IX. 3) مکمل اخلاقی زوال کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے،

انسان نے گناہ کی حالت میں اپنی برگشتگی کے ذریعے سے کسی بھی ایسی روحانی اچھائی کے لیے جو نجات کا ساتھ دیتی ہے کُلی طور پر اپنی مرضی کی اہلیت کو کھو دیا تھا؛ اِس لیے خُدا کی روح کے بغیر ایک انسان کی حیثیت سے اُس اچھائی کے کُلی طور پر [مخالف] ہونے سے، اور گناہ میں مُردہ ہونے سے، خود اپنی قوت کے وسیلے خود کو تبدیل کرنے کے لیے اہل نہیں ہے یا خود کو اِس کے لیے تیار کرے۔

اس شریعت کے عالم کے تبدیل ہونے کے لیے اور یسوع سے اصل میں کہنے کے لیے،

’’تُو نے سچ کہا‘‘ (مرقس 12:32).

خُداوند کو اُس کے دِل کو منور کرنا پڑا تھا۔ ویسٹ منسٹر کونفیشن کہتی ہے کہ ’’خُدا کا روح تلاوت بناتا ہے، بلکہ خصوصی طور پر کلام کی منادی کرتا ہے، جو گنہگاروں… کو منور کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے‘‘ (ویسٹ منسٹر بہت بڑی مسیحی تعلیم Westminster Larger Catechism 155)۔ اِس طرح، مسیح کی منادی کو شریعت کے عالم کو منور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ کیا آپ ایک واعظ کے ذریعے سے کبھی بھی کسی حد تک منور ہوئے ہیں؟ اگر نہیں، تو وہ واعظ آپ کے ایک کان سے گزر کر دوسرے سے نکل رہے ہیں اور آپ کے ذہن پر کوئی تاثر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

جب تک کہ پاک روح آپ کے دِل کو منور نہیں کرتا، آپ گناہ میں مُردہ رہیں گے اور خوشخبری کی حقیقت سے بے بہرہ رہیں گے۔ غور کریں کہ یہ شریعت کا عالم، اپنی فطرتی حالت میں، مسیح کے خلاف تھا۔ اِس طرح سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ضرور اُس کے دِل میں خُداوند کا کام رہا ہوگا جو اُس کو مسیح کی مخالفت کرنے سے روکنے کا سبب بنا تھا۔ اُس کی مسیح کو ’’آزمانے سے‘‘ روکنے کے لیے اور مسیح کو سُننے کا آغاز کرنے کے لیے خُداوند کے روح کے وسیلے سے رہنمائی کی گئی تھی۔

II۔ دوئم، اُس کے کان جو مسیح نے کہا اُس کو سُننے کے لیے کُھولے گئے تھے۔

مرقس 12 باب میں، ہم نے پڑھا کہ،

’’شریعت کے عالمین میں سے ایک عالم وہاں آیا، اور آپس میں اُن کی بحث سُن چکنے کے بعد اور یہ جان جانے کے بعد کہ اُس نے اُنہیں بہت خوب جواب دیا… شریعت کے عالم نے اُس سے کہا، اُستاد، بہت خوب! تُو نے سچ کہا‘‘ (مرقس 12:28،32).

میں یقین کرتا ہوں کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا اُس کے تاریک ہوئےدِل میں روشنی ڈال رہا تھا۔ یہ تنہا خُدا ہی کا کام ہے۔ آپ صرف مطالعے سے ہی کلام کو سمجھ نہیں سکتے۔ جو کچھ آپ کلام میں پڑھتے ہیں اُس کا خُدا کے روح کے وسیلے سے منور ہونا اور زندہ کیا جانا ضروری ہے، جیسا کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد خود رسولوں کے ساتھ رونما ہوا تھا۔

’’تب اُس نے اُن کا ذہن کھولا تاکہ وہ پاک کلام کو سمجھ سکیں‘‘ (لوقا 24:45).

یہ شریعت کا عالم اپنے ذہن میں بائبل کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا۔ مگر اِس لمحے تک اِس کی روحانی سچائی مکمل طور پر اس سے پوشیدہ تھی، جب خُداوند نے اُس کے دِل اور دماغ کو منور کیا، یہ کہنے کے لیے تحریک دی،

’’اُستاد، بہت خوب! تُو نے سچ کہا‘‘ (مرقس 12:32).

میں اِس کو کئی مرتبہ رونما ہوتا ہوا دیکھ چکا ہوں۔ ابھی گذشتہ ہی اِتوار، ایک نوجوان شخص جو ہمارے گرجہ گھر میں اپنی تمام زندگی آتا رہا ہے اُس نے مجھ سے پوچھا، ’’یسوع کو صلیب پر ہی کیوں مرنا تھا؟‘‘ میں تقریباً اپنے ہر واعظ میں کہتا ہوں، ’’مسیح صلیب پر انسان کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے مرا۔‘‘ میں تقریباً ہر واعظ میں اِس تاثر میں الفاظ کہتا ہوں۔ اور وہ نوجوان شخص مجھے ہر اِتوار کے بعد اِتوار کو وہ الفاظ بارہا کہتے ہوئے سُن چکا ہے۔ اِس کے باوجود اُس کے تاریک، اخلاقی زوال والے ذہن نے اُس کو قبول نہیں کیا جس کی میں منادی کرتا ہوں۔ اِس کے لیے خُدا کے روح کے منور کرنے والے عمل کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ یہ ہی ہے جو لُدیہ کے ساتھ اعمال16:14 میں ہوا تھا۔

’’خدا نے اُسے توفیق دی کہ وہ کشادہ دلی کے ساتھ پَولُس کا پیغام سُنے اور اُسے قبول کرے‘‘ (اعمال 16:14).

میں نے اُس لڑکے کی تذلیل نہیں کی جس نے مجھ سے وہ سوال پوچھا تھا۔ میں نے سادگی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر دُہرا دیا، ’’کلام پاک کے مطابق مسیح ہمارے گناہوں کے لیے مرا تھا‘‘ (1 کرنتھیوں15:3)۔ شاید کسی دِن خُداوند کا روح اِس آیت کو اُس کے دِل میں پنہاں کر دے گا۔ اُس لمحے میں خوشخبری کی سچائی دوپہر کی سورج کی مانند اُس کے دِل میں جگمگا جائے گی، لیکن اِس سے پہلے نہیں۔ آپ کو واقعی میں ایک واعظ سے اہم فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ خُدا آپ کے کانوں کو نہیں کھولتا۔ خود آپ میں خُداوند کے معجزے کے بغیر، آپ کے بارے میں یہ سچ ہوگا کہ،

’’تُم سُنتے تو رہو گے لیکن سمجھو گے نہیں … کیونکہ اِس قوم کے دل پر چربی چھاگئی ہے، اور وہ اونچا سننے لگے ہیں‘‘ (اعمال 28:26۔27؛ اشعیا 6:9۔10).

خُداوند کے روح نے شریعت کے عالم کے کانوں کو کھول دیا تھا تاکہ وہ اصل میں سُن اور سمجھ سکے جو یسوع نے کہا۔ جب اُس کے کانوں کو کھولا گیا تو وہ کہہ پایا، ’’بہت خوب، اُستاد، تو نے سچ کہا‘‘ (مرقس12:32)۔ اور یہ آخری نقطے کی جانب ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

III۔ سوئم، وہ نجات کے انتہائی قریب لایا گیا تھا۔

’’اور جب یسوع نے دیکھا کہ اُس نے بڑی عقلمندی سے جواب دیا تو اُس سے کہا، تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

سپرجیئن نے کہا،

یہ شخص بادشاہت کے اس قدر نزدیک آ گیا تھا: کیا یہ اُس میں کبھی داخل ہوا؟ ہم نہیں جانتے… اُس کو ایسا کر لینا چاہیے تھا۔ [اُس کو پولوس رسول کے ساتھ کہنا چاہیے تھا] ’’میں کس قدر بدبخت انسان ہوں! کون مجھے اِس موت کے بدن سے چُھڑائے گا؟‘‘ (ibid.، صفحہ 68)۔

اُس کو دیکھ لینا چاہیے تھا کہ وہ خُداوند کو کامل طور پر پیار نہیں کر پایا اور کہ وہ ایک گنہگار تھا جس کو بچانے کے لیے مسیح کی ضرورت تھی۔

’’جب یسوع نے دیکھا کہ اُس نے بڑی عقلمندی سے جواب دیا تو اُس نے اُس سے کہا، تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

وہ انگریزی لفظ ’’عقلمندی سے discreetly‘‘ یونانی کا ترجمہ کرتا ہے جو کہتا ہے اُس نے یسوع کا جواب ’’سوچ بچار کے، سمجھ میں آ جانے والے طریقے میں‘‘ دیا (سٹرانگ Strong # 362, 363)۔ یہ رونما ہوا تھا کیونکہ خُداوند کے روح نے اُس کے کانوں کو نجات دہندہ نے جو کہا اُس کے الفاظ کو سُننے کے لیے کھولا تھا۔ نتیجے کے طور پر، اُس نے سوچ بچار کر یسوع کو جواب دیا۔

اگر آپ نجات کے اِس قدر قریب آ چکے ہیں کہ آپ اِس کے بارے میں سنجیدگی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ سوچ رہے ہیں، تو ہم آپ کے مسیح میں آنے کے لیے تمام راستے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم بالکل دروازے پر ہی کھڑے ہوتے ہیں جب مسیح آپ کو اندر مدعو کرتا ہے؟ کیوں تذبذب میں اور سوچتے ہوئے اور سوال کرتے ہوئے کھڑے رہیں؟ آپ کو اُس پر جو آپ سُن چکے ہیں عمل کرنے کے لیے ہلنا جانا چاہیے۔ مسیح میں چلے آئیں! وہ اپنے خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو دھو ڈالے گا اور آپ کی جان کو دائمی فیصلے سے بچا لے گا۔ مسیح میں چلے آئیں!

’’تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

جان کیلوِن نے کہا، ’’ستائش کے مقابلے میں مسیح کی گواہی زیادہ حوصلہ افزائی کرتی ہے۔‘‘ میں اِس بات پر اُن کے دُرست ہونے پر یقین کرتا ہوں۔ اتنی دور تک آ چکنے کے بعد، مسیح نے اُس شخص کو تمام راہ آنے کے لیے حوصلہ افزائی کی! مسیح میں آئیں اور وہ آپ کو بچا لے گا!

’’تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

مسیح شریعت کے عالم کی ایک قدم مذید اور آگے بڑھنے کے لیے اور اصل میں خُدا کی بادشاہی میں یسوع کے پاس آنے کے لیے حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

کیا بات آپ کو مسیح کے پاس آنے سے روکتی ہے؟ کیا یہ خوف ہے کہ آپ غیر مسیحی دوستوں کو کھو دیں گے؟ اُنہیں جانے دیجیے! آپ کسی نہ کسی طور پھر بھی جہنم میں اُنہیں کھو دیں گے – کیوں اُس ہولناک جگہ پر کوئی رفاقت نہیں ہوتی ہے،

’’جہاں اُن کا کیڑا مرتا نہیں، اور آگ بھی کبھی نہیں بجھتی‘‘ (مرقس 9:44).

کیا بات آپ کو مسیح کے پاس آنے سے روکتی ہے؟ کیا آپ اِس بات سے خوفزدہ ہیں کہ دوسرے کیا کہیں گے؟ بھول جائیں کہ وہ کیا کہیں گے! اُس دوسری دُنیا میں اُن کے الفاظ کی کوئی وقعت نہیں ہوگی،

’’جہاں اُن کا کیڑا مرتا نہیں، اور آگ بھی کبھی نہیں بجھتی‘‘ (مرقس 9:44).

کیا بات آپ کو مسیح کے پاس آنے سے روکتی ہے؟کیا یہ خوف ہے کہ آپ دولت یا رُتبہ کھو دیں؟ کیا ہوا اگر آپ کھو دیتے ہیں؟ کیسے ایک بہتر رُتبہ یا زیادہ دولت اور تحفظ آپ کی مدد کرے گا اگر آپ جہنم میں داخل ہوتے ہیں،

’’جہاں اُن کا کیڑا مرتا نہیں، اور آگ بھی کبھی نہیں بجھتی‘‘ (مرقس 9:44).

توبہ کریں! اپنے گناہوں سے منہ موڑیں اور مسیح کے لئے آئیں۔ آنے والی قیامت سے بچنے کےلیے کوئی اور راہ نہیں ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice نے اپنے روح کو چھو جانے والے گیتوں میں سے ایک میں کہا، جس کو مسٹر گریفتھ Mr. Griffith نے چند ایک لمحے پہلے ہی گایا،

کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظرانداز کیا۔
   کافی عرصہ جیسے میں اپنے گناہ کے ساتھ جکڑا رہا۔
کافی عرصہ میں نے اپنے رد کیے جانے کا بہانہ کیا،
   اور اب میں اُس کے بغیر کھو چکا ہوں۔
اب دیر ہو چکی ہے، ہائے، اس قدر تاخیر! اِس کے باوجود وہ دروازے پر کھٹکھٹاتا ہے،
   اور یسوع، پیارا مُنجی، ایک بار پھر بُلا رہا ہے۔
(’’کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980)۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہیمرز کے واعظwww.realconversion.com پر پڑھ سکتے ہیں
www.rlhsermons.com پر پڑھ سکتے ہیں ۔
"مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

You may email Dr. Hymers at rlhymersjr@sbcglobal.net, (Click Here) – or you may
write to him at P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015. Or phone him at (818)352-0452.

یہ مسودۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے تمام ویڈیو پیغامات حق اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے
جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک سے تلاوت ڈاکٹر کرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: مرقس12:28۔34.
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بنجامن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith نے گایا تھا:
(’’کافی دیر میں نے نجات دہندہ کو نظر انداز کیا Too Long I Neglected‘‘ شاعر ڈاکٹر جان آر۔ رائس Dr. John R. Rice، 1895۔1980) ۔

لُبِ لُباب

اُن کے لیے حوصلہ افزائی جو نجات سے دور نہیں ہیں

ENCOURAGEMENT TO THOSE WHO ARE NOT FAR FROM SALVATION
(Urdu)

ڈٓاکٹر آر۔ ایل۔ ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
.by Dr. R. L. Hymers, Jr

’’جب یسوع نے دیکھا کہ اُس نے بڑی عقلمندی سے جواب دیا تو اُس سے کہا، تُو خدا کی بادشاہی سے دُور نہیں ہے‘‘ (مرقس 12:34).

(متی 22:35؛ مرقس 12:28، 31، 32، 33)

I.   اوّل، اُسے مسیح کو آزمانے اور اُس کی مخالفت سے روکنے کے لیے قائل کیا گیا تھا،
متی 22:35؛ رومیوں8:7؛ فلپیوں3:18؛ کُلسِیوں1:21؛
1کرنتھیوں2:14؛ افسیوں2:5؛ رومیوں3:9؛ مرقس12:32.

II.  دوئم، اُس کے کان جو مسیح نے کہا اُس کو سُننے کے لیے کُھولے گئے تھے،
مرقس12:28، 32؛ لوقا24:45؛ 1کرنتھیوں15:3؛ اعمال16:14؛
اعمال28:26۔27؛ اشعیا6:9۔10 .

III. سوئم، وہ نجات کے انتہائی قریب لایا گیا تھا، رومیوں 7:24؛ مرقس9:44 .