Print Sermon

اِس ویب سائٹ کا مقصد ساری دُنیا میں، خصوصی طور پر تیسری دُنیا میں جہاں پر علم الہٰیات کی سیمنریاں یا بائبل سکول اگر کوئی ہیں تو چند ایک ہی ہیں وہاں پر مشنریوں اور پادری صاحبان کے لیے مفت میں واعظوں کے مسوّدے اور واعظوں کی ویڈیوز فراہم کرنا ہے۔

واعظوں کے یہ مسوّدے اور ویڈیوز اب تقریباً 1,500,000 کمپیوٹرز پر 221 سے زائد ممالک میں ہر ماہ www.sermonsfortheworld.com پر دیکھے جاتے ہیں۔ سینکڑوں دوسرے لوگ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی یو ٹیوب چھوڑ دیتے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر آ جاتے ہیں کیونکہ ہر واعظ اُنہیں یوٹیوب کو چھوڑ کر ہماری ویب سائٹ کی جانب آنے کی راہ دکھاتا ہے۔ یوٹیوب لوگوں کو ہماری ویب سائٹ پر لے کر آتی ہے۔ ہر ماہ تقریباً 120,000 کمپیوٹروں پر لوگوں کو 43 زبانوں میں واعظوں کے مسوّدے پیش کیے جاتے ہیں۔ واعظوں کے مسوّدے حق اشاعت نہیں رکھتے تاکہ مبلغین اِنہیں ہماری اجازت کے بغیر اِستعمال کر سکیں۔ مہربانی سے یہاں پر یہ جاننے کے لیے کلِک کیجیے کہ آپ کیسے ساری دُنیا میں خوشخبری کے اِس عظیم کام کو پھیلانے میں ہماری مدد ماہانہ چندہ دینے سے کر سکتے ہیں۔

جب کبھی بھی آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں ہمیشہ اُنہیں بتائیں آپ کسی مُلک میں رہتے ہیں، ورنہ وہ آپ کو جواب نہیں دے سکتے۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای۔میل ایڈریس rlhymersjr@sbcglobal.net ہے۔


پاک روح مسیح کو مرکز میں رکھتا ہے

THE HOLY SPIRIT IS CHRISTOCENTRIC
(Urdu)

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

لاس اینجلز کی بپتسمہ دینے والی عبادت گاہ میں دیا گیا ایک واعظ
خُداوند کے دِن کی صبح، 10 مئی، 2009
A sermon preached at the Baptist Tabernacle of Los Angeles
Lord's Day Morning, May 10, 2009

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

ہم مسیحی زندگی کے اُس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جس میں پاک روح کے بارے میں بہت باتیں ہوتی ہیں۔ اِس کے باوجود اِسی دور میں مغربی دُنیا میں کوئی بھی اعلیٰ معیار کا حیاتِ نو نہیں آیا۔ گرجا گھروں نے پاک روح پر زور دیا ہوا ہے، لیکن یہ سچا حیاتِ نو نہیں لا پایا، جیسا ماضی میں ہوا تھا۔ ہماری تلاوت روشنی ڈالتی ہے کیوں ایسا ہوا ہے۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

حقیقی حیاتِ نو ہمیشہ مرکز مسیح ہوتا ہے؛ یعنی کہ، مسیح تبلیغ کا مرکز ہوتا ہے۔

مذہبی سُدھار میں حیاتِ نو راستبازی پر زور دیے جانے کے دوران آیا۔ لوتھر Luther کی تبلیغ کا مرکز اِس حقیقت پر تھا کہ ہم مسیح میں ایمان کے ذریعے سے صرف راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں – کہ ایک شخص نیک کام کرنے سے خُدا کی حضوری میں خود کو راستباز نہیں ٹھہرا سکتا – کہ آپ کو تنہا مسیح کے وسیلے سے راستباز ٹھہرایا جانا چاہیے، اُس میں ایمان کے ذریعے سے۔ اُس اصرار کو خُدا کی جانب سے برکت ملی تھی، اور بہت بڑا حیاتِ نو آیا تھا، کیونکہ مسیح تبلیغ کے مرکز میں تھا۔

اٹھارویں صدی کی عظیم بیداری Great Awakening میں، حیاتِ نو احیاء [تجدید] پر زور دینے کے دوران آیا تھا۔ وائٹ فیلڈWhitefield، ویزلی Wesley اور دوسروں کی تبلیغ کا پورا زور احیاء، نئے جنم پر تھا۔ دوبارہ یہ مرکزِ مسیح تھی۔ تبلیغ میں اصرار اِس بات پر دیا گیا تھا کہ لوگ یسوع مسیح میں ایمان کے ذریعے سے ہی صرف دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔ مسیح اِس کے مرکز میں تھا۔ یہ اصرار 19 ویں صدی کے وسط میں دوسری اور تیسری عظیم بیداری میں جاری رہا تھا۔

لیکن 1859 کی تیسری بیداری کے بعد، یہ اصرار مسیح کے کام سے تیزی سے ہٹ کر انسان کے عمل کی جانب مُڑ گیا تھا۔ چارلس جی فنی Charles G. Finney اور اُس کے پیروکارو نے خُدا کے کاموں کے بجائے انسان کے ’’فیصلوںdecisions‘‘ پر زور دیا تھا۔

بیسوی صدی میں انسان کو مرکز مانی ہوئی یہ ’’فیصلہ سازیت decisionism‘‘ خشک اور بے جان ہو گئی۔ بے شمار لوگوں نے جان لیا تھا کہ فوق الفطرت پر تھوڑا اصرار تھا۔ اِس تمام میں خُدا کہاں پر تھا؟ لہٰذا، دوسرے رُخ پر ایک جھکاؤ آیا تھا، اور انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کا ایک حصے نے فوق الفطرت پر اصرار کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن ایسا کرنے سے اُن میں سے بے شمار لوگوں نے ایک مہلک غلطی کر ڈالی – اور وہ مسیح کے بجائے پاک روح کو مرکز میں رکھنے کی تھی۔ اِن لوگوں کی تبلیغ مذید اور مسیح کو مرکز مان کر نہیں رہی تھی۔ مسیح کا تذکرہ کیا تو جاتا تھا، لیکن حقیقت میں یہ پاک روح تھا جو اُن کے پیغام کا مرکز ہوتا تھا۔

آج، ہمارے پاس ٹیلی ویژن چینلز ہیں جن میں پاک روح کو سبقت دی جاتی ہے۔ اب ہمارے ہاں بے شمار گرجا گھر اور تحریکیں ہیں جو مسلسل پاک روح کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ اِس تحریک میں اُن کے درمیان پاک روح کے بارے میں تسلسل کے ساتھ تبلیغ ہوتی ہے۔ چاہے کتنے ہی مخلص یہ لوگ ہوں، میرے خیال میں وہ غلطی پر ہیں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ ہماری تلاوت ظاہر کرتی ہے کیوں وہ غلطی پر ہیں۔ مسیح نے کہا،

’’وہ [پاک رُوح] میرے [مسیح] بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

اِس کو سولہویں باب میں مسیح کے الفاظ کے ساتھ اکٹھا درج کیا گیا ہے،

’’وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا‘‘ (یوحنا 16:13).

اور پھر یاد رکھیں مسیح نے اگلی آیت میں کیا کہا،

’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا‘‘ (یوحنا 16:14).

یہ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ دورِ حاضرہ کی انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کی اِس مسیحی شاخ کے ساتھ کیا غلطی ہے، جو پاک روح پر ایک بے بنیاد اور غیر کلامی [جو انجیل میں نہیں ہے] زور دیتی ہے۔

’’وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا‘‘ (یوحنا 16:13).

’’وہ میرا جلال ظاہر کرے گا‘‘ (یوحنا 16:14).

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

پاک روح کا سچا کام ہماری منادی کے انتہائی مرکز میں مسیح کو رکھنا ہوتا ہے، ہماری نجات اور ہماری مسیحی زندگی کے انتہائی مرکز میں مسیح کو رکھنا ہوتا ہے۔

پاک روح پر اِس غیرکلامی اصرار کے خلاف ردعمل ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ ردعمل بائبل کی آگاہی اور علم الہٰیات کے اصرار کی سمت میں جُھکا ہوا ہے۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں، دراصل، پاک روح کے بارے میں ضرورت سے زیادہ باتیں ہو چکی ہیں۔ جس بات پر ہمیں زور دینے کی ضرورت ہے وہ بائبل کا مطالعہ اور علم الہٰیات ہے۔‘‘ لیکن، دوبارہ، چاہے وہ کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں، اور میں پُریقین ہوں کہ اُن میں سے بے شمار ہیں جو غلطی پر ہیں۔ یسوع نے کہا،

’’تُم پاک کلام کا بڑا گہرا مطالعہ کرتے ہو کیونکہ تُم سمجھتے ہو کہ اُس میں تمہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔ یہی پاک کلام میرے حق میں گواہی دیتا ہے‘‘ (یوحنا 5:39).

اِس لیے، دوبارہ، ہم دیکھتے ہیں کہ غلطی مسیح کو مرکز ماننے میں پنہاں نہیں ہے بلکہ یسوع مسیح بذات خود کی جگہ پر بائبل کے عقائد کو رکھنے میں ہے۔ بے شمار غیر کرشماتی حلقوں میں بائبل کا شعورخود مسیح کی آگاہی کو اکثر اِدھر اُدھر کر دیتا ہے۔

پاک روح اور بائبل کا مطالعہ، بے شک وہ اہم ہیں، ہماری منادی کے مرکز نہیں ہونے چاہیے۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

خود بائبل کا شعور، حالانکہ یہ اہم ہے، ہمارے پیغام کا مرکز نہیں ہونا چاہیے۔ بائبل ہماری مسیح کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔

یہی پاک کلام میرے حق میں گواہی دیتا ہے‘‘ (یوحنا 5:39).

یا، جیسا کہ پولوس رسول نے اِس کو تحریر کیا،

’’اور کس طرح تُو بچپن سے اُن مُقدس کتابوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لا کر نجات حاصل کرنے کا عرفان بخشتی ہیں‘‘ (2۔ تیموتاؤس 3:15).

مسیح یسوع کو انجیلی بشارت کے پرچار کی تعلیم کے ہمارے تمام واعظوں کا مرکز ہونا چاہیے!

یوحنا5:39 میں اُس یونانی لفظ ’’گواہی دیناtestify‘‘ کا مطلب ’’چشم دید گواہ witness‘‘ ہوتا ہے۔ پاک روح کے کام کو یا بائبل کی تعلیمات کو مسیح، ’’خُدا کا برّہ، جو جہاں کے گناہ اُٹھا لے جاتا ہے‘‘ کے بارے میں ’’گواہی دینی چاہیے‘‘ یا ’’چشم دید گواہ‘‘ ہونا چاہیے، (یوحنا1:29)۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

یوحنا کے سولہویں باب میں پاک روح ایک بے اعتقادے کے دِل میں اُس کے لیے مسیح کو مرکز بنانے میں جو کام کرتا ہے اُن کاموں میں سے تین کو پیش کیا گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ اِن تین باتوں کے بارے میں سوچیں جو پاک روح کرتا ہے۔ اگر آپ ابھی تک مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہیں تو آپ کو نہایت توجہ کے ساتھ سُننا چاہیے۔

I۔ پہلی بات، پاک روح آپ کو مسیح کی جانب نشاندہی کروانے کے لیے گناہ کے بارے میں قائل کرتا ہے

یوحنا16:8۔9 آیات پر غور کریں،

’’جب وہ مددگار [پاک روح] آ جائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے، وہ دنیا کو مجرم قرار دے گا: گناہ کے بارے میں اِس لیے کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا 16:8۔9).

اُس لفظ ’’مجرم قرار دینے reprove‘‘ کا ترجمہ یونانی لفظ ’’ایلنیکھو elencho‘‘ سے کیا گیا ہے۔ لیوآن مورس Leon Morris کے مطابق، اِس لفظ کا مطلب ہوتا ہے،

’’بے نقاب کرنے کے لیے، سزاوار قرار دینے کے لیے، ایک مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لیے یا قائل کرنے کے مقصد کے لیے جَرح کرنا، خصوصی طور پر قانونی کاروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے‘‘ (لیوآن مورس Leon Morris، یوحنا کی انجیل کے مطابق The Gospel According to John، لندن، مارشل، مورگن اور سکاٹ London: Marshall, Morgan and Scott، 1972)۔

کیا یہ ایک گمراہ شخص کے دِل میں جو پاک روح کرتا ہے اُس کے بارے میں ایک اچھی تفصیل نہیں ہے؟ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک گمراہ شخص کے مسیح میں ایمان لا کر تبدیل ہونے سے پہلے اِس کے ہونے کی کوئی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ اِس کام کی ’’تربیتی علمpreparationism‘‘ بُلانے کے ذریعے سے اہمیت ختم کر دیتے ہیں۔ لیکن وہ اِس کام پر ایک غیر ضروری کام کی حیثیت سے نظر ڈالنے پر غلطی کرتے ہیں۔ ایک ایک گنہگار کے دِل میں مسیح کی جانب مُڑنے سے پہلے یہ کام کرنا پاک روح کے لیے ضروری نہ ہوتا تو پھر کیوں مسیح اِس کو یوحنا16:8۔9 آیات میں پاک روح کے پہلے کام کی حیثیت سے پیش کرتا؟ اگر آپ کو پاک روح کے وسیلے سے گناہ کے بارے میں مجرم قرار دیے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، تو پھر یسوع کیوں کہتا آپ کو اِس کی ضرورت پڑے گی؟

’’جب وہ مددگار آ جائے گا، وہ گناہ کی دنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16: 8۔9).

وہ جو اُس کے خلاف ہیں جس کو وہ ’’تربیتی علمpreparationism‘‘ بُلاتے ہیں ہمیں بتاتے ہیں کہ گنہگار کو مجرم قرار دیے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ کہتے ہیں کہ مجرم قرار نہ دیے ہوئے گنہگار مسیح کے پاس جا سکتے ہیں اور پاک روح کے وسیلے سے اُن کے دِلوں میں کیے گئے مجرم قرار دیے جانے کے اِس کام کے بغیر نجات پا سکتے ہیں۔ لیکن وہ غلطی پر ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ یسوع مسیح نے کہا یہ کام ضروری ہے۔

’’جب وہ مددگار آ جائے گا، وہ دنیا کو مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

جیسا کہ ڈاکٹر مورس اِس کو لکھتے ہیں، پاک روح کا مجرم قرار دینے میں کام ہے

’’بے نقاب کرنے کے لیے، سزاوار قرار دینے کے لیے، ایک مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لیے یا قائل کرنے یا غلط ثابت کرنے [مجرم قرار دینے] کے مقصد کے لیے جَرح کرنا، خصوصی طور پر قانونی کاروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے‘‘ (ibid.)۔

یہ ہی بلاشُبہ ہے جو پاک روح مسیح کو پانے کے لیے اُس میں ایمان لا کر تبدیل ہونے والے ایک انسان کے دِل کو تیار کرنے کے لیے کرتا ہے۔ اور میں، جو پاک روح کرتا ہے اُس کو بیان کرنے کے لیے اُس لفظ ’’تیار کرناprepare‘‘ کو استعمال کرنے کے لیے بالکل بھی نہیں ہچکچاؤں گا۔

دیکھا آپ نے، ایک گمراہ گنہگار کا دِل اور ذہن گناہ کے ذریعے سے اندھے کیے جاتے ہیں۔ مسیح میں ایمان نہ لایا ہوا ایک غیرتبدیل شُدہ دِل اِس قدر اندھا ہوتا ہے کہ خود سے اِتنا گنہگار ہونے کے لیے جتنا کہ وہ واقعی میں ہوتا ہے یقین ہی نہیں کرتا۔ لیکن بائبل تعلیم دیتی ہے کہ بے اعتقادہ دِل بَل کھایا ہوا اور بدچلن ہوتا ہے۔ کلام پاک کہتا ہے،

’’علاہ ازیں بنی آدم کے دل بدی سے اور اُن کے سینے عمر بھر دیوانگی سے بھرے رہتے ہیں‘‘ (واعظ 9:3).

اگر ہم آپ کے دِل کی گہرائیوں میں دیکھ پاتے، کیسا پاگل پن، کیسی دیوانگی اور گناہ ہم وہاں پر پاتے! کیسی بُرائی ہم پاتے اگر ہم اُن خیالات اور احساسات کو جان جاتے جو آپ کے دِل سے ہر روز گزرتے ہیں! کیا آپ کبھی کبھار اُس کے بارے میں سوچتے ہیں؟ کیا آپ کبھی اُن خیالات پر جو آپ کو آتے ہیں شرمندگی محسوس نہیں کرتے؟

ایک گمراہ شخص نے مجھ سے کہا، ’’پادری صاحب، مجھے ہر وقت گناہ سے بھرپور، دیوانے خیالات آتے ہیں!‘‘ کیا آپ نے اُس طرح سے محسوس کیا؟

پھر، بائبل تعلیم دیتی ہے کہ آپ کا دِل چالبازی اور دھوکہ بازی سے بھرا پڑا ہے۔ آپ کے پاس بالکل بھی ایک ایماندار دِل نہیں ہے! بائبل کہتی ہے،

’’دل سب چیزوں سے بڑھ کر حیلہ باز اور لا علاج ہوتا ہے‘‘ (یرمیاہ 17:9).

اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کا دِل بہانوں اور چکموں سے اور خود آرامی اور خود فریبی سے بھرا ہوتا ہے، جو آپ کو یسوع مسیح کو جاننے سے روکتا ہے۔ آپ صرف دوسروں کو دھوکا نہیں دیتے، بلکہ آپ خود کو بھی دھوکا دیتے ہو یہ سوچ کر کہ آپ ایک اچھے شخص ہیں – جب سچ مخالف ہوتا ہو: تو آپ کا دِل دھوکے باز، مکار اور انتہائی بُرا ہو جاتا ہے۔

اب، جب تک آپ وہ تسلیم نہیں کر لیتے، آپ خود کو مسیح کی ہمدردی کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور یہ خُدا کے پاک روح کا کام ہے کہ وہ آپ کو خود اپنے مسخ شُدہ دِل کی بدکاری، دھوکے بازی، دیوانگی اور بُرائی کو دیکھنے کے لیے مجبور کرے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاک روح آپ کو آپ کے گناہ کے لیے ’’مجرم قرار دیتا‘‘ ہے – آپ کو اپنے لیے مسیح کی ضرورت کو دیکھنے کے لیے تیار کرے۔

’’جب وہ مددگار آ جائے گا، وہ دنیا کو مجرم قرار دے گا (یوحنا 16:8).

پاک روح مقدمے میں ملوث ایک گنہگار کے وکیل کی مانند آپ کو قائل کرنے کے لیے کام کرتا ہے کہ آپ اپنے دِل میں ایک تباہ حال گنہگار ہیں۔ وہ آپ کے سامنے آپ کے گناہ کو بے نقاب کر ڈالتا ہے۔ وہ یہ آپ کو دکھاتا ہے۔ وہ ایسا شاید آپ کے ذہن میں کوئی مخصوص گناہ کو لانے کے ذریعے سے کرتا ہے جو آپ سے سرزد ہوا ہوتا ہے۔ وہ شاید آپ کے ضمیر کو اِس گناہ کے جرم کا احساس کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بائبل کہتی ہے،

’’اور یہ سُن کر سب چھوٹے بڑے خود اپنے ضمیر کے ملامت کرنے پر ایک ایک کر کے کھسکنے لگے یہاں تک کہ یسوع وہاں اکیلا رہ گیا‘‘ (یوحنا 8:9).

یہ پاک روح کا کام ہے، آپ کے خود اپنے ضمیر کو اُس گناہ کے بارے میں قائل کرنا۔

اگر آپ گناہ کرنے کا کوئی بہانہ تراشتے ہیں، تو پاک روح آپ کو غلط ثابت کرتا ہے، جیسے مقدمے میں ایک مخالف وکیل کرتا ہے۔ پاک روح آپ کے ساتھ آپ کے ضمیر میں بحث کرتا ہے، جب تک کہ قائل نہیں ہو جاتے کہ آپ کے ایک گناہ سے شدید بھرپور ایک دِل ہے، جب تک کہ آپ خود اپنے آپ میں کہنے کے لیے راضی نہیں ہو جاتے، ’’میری انتہائی فطرت گناہ سے بھرپور ہے۔ میں تباہ ہوچکا ہوں اور گمراہ ہو چکا ہوں۔ میں خود کو نجات نہیں دِلا سکتا۔‘‘ یہ پاک روح کا پہلا کام ہوتا ہے – گناہ کے بارے میں قائل کرنا، آپ کو قائل کرنا کہ آپ فطرتاً گنہگار ہوتے ہیں۔

جب تک آپ اِس منزل تک نہیں پہنچتے، مسیح کی خوشخبری ایک بھولی بسری تاریخ دکھائی دے گی، یا یونانی دیو مالائی کہانیوں میں سے ایک کہانی کی مانند دکھائی دے گی۔ آپ اپنے گناہوں کی ادائیگی کے لیے مسیح کی موت کے بارے میں اِس قدر زیادہ نہیں سوچیں گے جب تک کہ آپ باطن میں بُرائی، بدکاری، جعل سازی، اور آپ کے مکمل طور پر مسخ شُدہ دِل کی بل کھائی ہوئی دغا بازی کے بارے میں قائل نہیں ہو جاتے۔

پاک روح کے آپ کو آپ کے گناہ سے بھرپور دِل اور فطرت کے بارے میں قائل کرنے سے پہلے، آپ یسوع کے بارے میں اِس قدر شدت کے ساتھ نہیں سوچیں گے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ

’’لوگوں نے اُسے حقیر جانا اور ردّ کر دیا… جسے دیکھ کر لوگ مُنہ موڑ لیتے ہیں… ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ جانی‘‘ (اشعیا 53:3).

اوہ، پُریقین ہونے کے لیے، آپ مسیح کا تزکرہ شاید کرتے ہیں، یا یہاں تک کہ اُس کے بارے میں بائبل کی آیات سیکھتے ہیں، اور دعا میں مسیح کے نام کو بھی لیتے ہیں۔ لیکن اصل میں سچائی یہ ہے کہ مسیح سے اپنا مُنہ چُھپا لیتے ہیں – کیونکہ اپنے لیے آپ کو اُس کی کوئی حقیقی ضرورت دکھائی ہی نہیں دیتی – جب تک کہ پاک روح آپ کو قائل نہیں کر لیتا کہ آپ اُس یسوع کے بغیر بدنصیب اور تباہ حال ہیں۔ صرف جب آپ سچے طور پر قائل ہو جاتے ہیں کہ آپ مسخ ہو چکے ہیں صرف تب ہی آپ کو مسیح یسوع میں بچائے جانے پر یقین کرنے کے لیے کوئی حقیقی ضرورت دکھائی دے گی۔ یوحنا16:9 میں، یسوع نے کہا،

’’ گناہ کے بارے میں اِس لیے کہ لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے‘‘ (یوحنا16:9).

یوں، پاک روح آپ کی گناہ سے بھرپور فطرت سے تعلق رکھتے ہوئے آپ کو قائل کرتا ہے، جو کہ آپ نہیں جانتے تھے یا پہلے محسوس نہیں کرتے تھے۔ پاک روح مسیح کو مرکز میں رکھتا ہے جب وہ آپ کو گناہ کی سزایابی میں لاتا ہے۔ یہ سزایابی ہی کے وسیلے سے ہے کہ روح آپ کو مسیح کی ’’شدید ضرورت‘‘ محسوس کراتا ہے۔ یوں، مسیح آپ کے لیے خُدا کے روح کے قائل کر دینے والے عمل کے ذریعے سے مرکزی ہو جاتا ہے۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

II۔ دوسری بات، پاک روح آپ کی مسیح کی جانب نشاندہی کرنے کے لیے راستبازی کے بارے میں قائل کرتا ہے۔

آیت دس پر نظر ڈالیں،

’’راستبازی کے بارے میں اِس لیے کہ میں واپس باپ کے پاس جا رہا ہُوں اور تُم مجھے پھر نہ دیکھو گے‘‘ (یوحنا 16:10).

ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee یہ رائے پیش کرتے ہیں،

ہم خُدا کی حضوری میں کھڑے نہیں ہو سکتے اگر ہم ماسوائے معاف کیے گئے مجرموں کے علاوہ اور کچھ نہ ہوں۔ مسیح نے اپنی راستبازی ہمیں بخشی ہے… وہ ناصرف ہمارے گناہوں کو منہا کرتا ہے، بلکہ اپنی راستبازی کا اضافہ بھی کرتا ہے۔ اگر ہمیں خُدا کے سامنے اپنی کوئی سنوائی چاہیے تو ہمیں مسیح میں ہونا چاہیے اور وہ ہماری راستبازی ہے… وہ ہمارے قصوروں کے لیے بھیجا گیا تھا، اور وہ ہمارے جواز [راستبازی] کے لیے دوبارہ جی اُٹھا تھا (ڈاکٹر جے ورنن میگی Dr. J. Vernon McGee، بائبل میں سےThru the Bible، تھامس نیلسنThomas Nelson، 1983، جلد چہارم، صفحہ 473)۔

’’راستبازی کے بارے میں اِس لیے کہ میں واپس باپ کے پاس جا رہا ہُوں اور تُم مجھے پھر نہ دیکھو گے‘‘ (یوحنا 16:10).

جب یسوع زمین پر تھا، اُس نے گمراہ لوگوں پر ظاہر کیا کہ وہ راستباز نہیں تھے اور کہ اُنہیں اُس کی راستبازی کی ضرورت تھی۔ اب جبکہ وہ خُدا باپ کے داھنے ہاتھ پر آسمان میں اُٹھایا جا چکا ہے، تو پاک روح گمراہ لوگوں کو دکھانا جاری رکھتا ہے کہ وہ راستباز نہیں ہیں اور کہ اُنہیں اُن کے ریکارڈ میں منسوب کیے جانے کے لیے مسیح کی راستبازی کی ضرورت ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ خُدا کی راستبازی ہم میں مسیح میں ایمان کے وسیلے سے منسوب کی جاتی ہے،

’’مگر جو شخص اپنے کام پر نہیں بلکہ بے دینوں کو راستباز ٹھہرانے والے خدا پر ایمان رکھتا ہے، اُس کا ایمان اُس کے لیے راستبازی گنا جاتا ہے۔ پس جس شخص کو خدا اُس کے کاموں کا لحاظ کیے بغیر راستباز ٹھہراتا ہے، داؤد بھی اُس کی راستبازی کا ذکر اِسی طرح کرتا ہے‘‘ (رومیوں 4: 5۔6).

آئیں اب واپس چلیں اور یوحنا16:10 میں اُس آیت کے بارے میں دوبارہ سوچیں۔

’’راستبازی کے بارے میں اِس لیے کہ میں واپس باپ کے پاس جا رہا ہُوں اور تُم مجھے پھر نہ دیکھو گے‘‘ (یوحنا 16:10).

پہلی بات، اِس کا مطلب ہوتا ہے کہ پاک روح آپ کو قائل کرے گا کہ یسوع ایک راستباز ہستی ہے۔ وہ کوئی گستاخ یا ایک بدکار دھوکے باز نہیں تھا جیسا کہ لوگوں نے کہا۔ پینتیکوست کے روز، پاک روح نے اِن میں سے بے شمار لوگوں کو قائل کیا تھا کہ اصل میں ایک راستباز شخص تھا۔ پطرس نے کہا،

’’یسوع ناصری ایک شخص تھا جسے خدا نے تمہارے لیے بھیجا تھا اور اِس بات کی تصدیق اُن عظیم معجزوں، کارناموں اور نشانوں سے ہوتی ہے جو خدا نے اُس کی معرفت تمہارے درمیان دکھائے جیسا کہ تُم خود بھی جانتے ہو‘‘ (اعمال 2:22).

پاک روح نے اُن پر ظاہر کیا کہ یسوع اصل میں ’’خُدا کی جانب سے منظور کیا گیا ایک انسان‘‘ تھا، ایک راستباز ہستی، کوئی [کفر یا بے حرمتی کرنے والا] گستاخ نہیں تھا، یا بدروح کے قبضے میں کیا ہوا کوئی دھوکے باز نہیں تھا، جیسا کہ فریسیوں میں سے بے شمار لوگ کہہ رہے تھے۔ پاک روح وہی کام آج بھی کرتا ہے۔ وہ آپ کو دکھاتا ہے کہ یسوع راستباز ہے، خُدا کا بےگناہ بیٹا۔ پاک روح آپ کو دکھاتا ہے کہ صرف مسیح ہی آپ کو راستباز ٹھہرا سکتا ہے۔

لیکن، دوسری بات، پاک روح آپ کو دکھاتا ہے، کہ جب آپ یسوع کے پاس آتے ہیں، تو اُس کی کامل، بےگناہ راستبازی آپ کے ریکارڈ میں درج کر دی جاتی ہے اور آپ خدا کی نظر میں راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں، تاکہ خُدا آپ کے گناہ نہ دیکھ پائے، بلکہ صرف مسیح کی راستبازی نظر آئے۔ جیسا کہ ایک مشہورومعروف حمدوثنا کا گیت اِس کو لکھتا ہے،

جب وہ بِگل کی آواز کے ساتھ آئے گا،
   اوہ، میں شاید تب اُس میں تلاش کر لیا جاؤں؛
تنہا اُس کی راستبازی کو زیب تن کیے ہوئے،
   تخت کے سامنے بے عیب کھڑا ہوں۔
    (’’ٹھوس چٹان The Solid Rock،‘‘ شاعر ایڈورڈ موٹ Edward Mote، 1797۔1874)۔

’’تنہا اُس کی راستبازی کو زیب تن کیے ہوئے، تخت کے سامنے بے عیب کھڑا ہوں۔‘‘ ایک پشیمان گنہگار کو مسیح سے منسوب راستبازی کے پیش کیے جانے کو بیان کرنے کا کیسا ایک بالکل صحیح طریقہ!

مسیح باپ کے پاس جا چکا ہے، اور آپ اُس کو نہیں دیکھتے ہیں۔ لیکن پاک روح آپ کو قائل کرتا ہے کہ وہ وہاں پر ہے۔ پاک روح آپ کو اُس یسوع پر بھروسہ کرنے کے لیے بھی قائل کرتا ہے۔ جب آپ یسوع پر بھروسہ کرتے ہیں، تو آپ اُس کی راستبازی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ آپ ہوتے ہیں

’’… مسیح یسوع میں جسے اُس نے ہمارے لیے حکمت، راستبازی، پاکیزگی اور مخلصی ٹھہرایا‘‘ (1۔ کرنتھیوں 1:30).

’’مسیح میں‘‘ ہونے کا مطلب نوح کی کشتی میں ہونے کی مانند ہوتا ہے۔ نوح نے کشتی بنائی اور اُس میں ایمان کے وسیلے سے اندر چلا گیا۔

’’ایمان ہی سے نُوح نے اُن باتوں کے بارے میں جو مُستقبل میں پیش آنے والی تھیں، خدا کی طرف سے ہدایت پائی اور خدا ترسی کے باعث اُس پر عمل کیا اور ایک کشتی بنائی جس میں اُس کا سارا خاندان بچ نکلا۔ ایسا کرنے سے اُس نے دُنیا کو مُجرم ٹھہرایا اور اُس راستبازی کا وارث بنا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے‘‘ (عبرانیوں 11:7).

نوح کشتی میں چلا گیا تھا۔ کشتی نے اُس کو خُدا کی سزا سے بچایا تھا اور اُس کو محفوظ جگہ پر لے گئی تھی۔ مسیح کشتی کی مانند ہے۔ جب آپ ’’مسیح یسوع میں‘‘ ہوتے ہیں (1کرنتھیوں1:30) تو آپ سزا سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ’’ایمان کے وسیلے سے اُس راستبازی کے وارث‘‘ بن جاتے ہیں (عبرانیوں11:7)۔ آپ مسیح میں اِتنے ہی محفوظ ہوتے ہیں جتنا کہ نوح کشتی میں تھا!

جیسے نوح خُدا کے ذریعے سے کشتی میں لایا گیا تھا، ویسے ہی پاک روح آپ کو ’’مسیح یسوع میں‘‘ ڈالتا ہے۔

تنہا اُس کی راستبازی کو زیب تن کیے ہوئے،
   تخت کے سامنے بے عیب کھڑا ہوں۔

دُنیا اِس بات میں یقین نہیں کرتی۔ میں نے حال ہی میں ایک کاتھولک کاہن کے ساتھ ایک انٹرویو پڑھا جس میں کہا گیا تھا کہ جس طرز کی زندگی آپ بسر کرتے ہیں وہ تعین کرتی ہے کہ آپ آیا جنت میں جائیں گے یا نہیں۔ اُس نے کہا کہ آپ جنت میں جائیں گے اگر آپ ایک نیک زندگی بسر کرتے ہیں۔

یہ اُن اہم اِختلافات میں سے ایک ہے جو کاتھولک یقین کرتے ہیں اور جو بائبل تعلیم دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ایک نیک زندگی بسر کرنے سے جنت میں جاتے ہیں۔ لیکن کیا یہ ہی نہیں ہے جو دُنیا میں ہر کوئی سوچتا ہے؟ تقریباً ہر کوئی ہی یہ سوچتا ہے! لیکن وہ غلطی پر ہیں۔

اور یہی ہے جو آپ سوچیں گے، ایک قسم سے یا دوسری سے، جب تک کہ پاک روح آپ کو قائل نہیں کر دیتا کہ آپ کا گناہ سے بھرپور دِل کبھی بھی ایک بہتر نیک زندگی بسر کرنے کے انتہائی مسخ شُدہ ہے – اور کہ جب تک پاک روح آپ کو قائل نہیں کر لیتا کہ آپ کو تنہا مسیح کی راستبازی کے وسیلے سے ہی نجات پانی چاہیے۔ آپ کو یسوع کے پاس آنا چاہیے اور اُس کی راستبازی کے لبادے کو اُوڑھنا چاہیے ورنہ آپ سچے طور پر نجات پائے ہوئے نہیں ہوتے۔

نوح نے نجات اِس لیے نہیں پائی تھی کیونکہ اُس نے ’’ایک نیک زندگی بسر کی تھی!‘‘ جی نہیں – اُس نے نجات پائی تھی کیونکہ وہ کشتی میں تھا! آپ کو مسیح میں ہونا چاہیے! تنہا مسیح ہی آپ کو نجات دلا سکتا ہے! تنہا مسیح ہی آپ کو اپنی اچھائیاں اور اپنی راستبازی بخش سکتا ہے۔ آپ کو ’’مسیح یسوع میں‘‘ ہونا چاہیے (1کرنتھیوں1:30)۔ پاک روح تنہا وہ سب آپ کو بخش سکتا ہے۔ وہ آپ کے دِل اور زندگی کے مرکز میں آپ کو اُس کی منسوب کی گئی راستبازی کے لیے ضرورت کو دیکھانے کے ذریعے سے یسوع کو رکھتا ہے۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

’’جب وہ مددگار آ جائے گا تو جہاں تک گناہ، راستبازی اور اِنصاف کا تعلق ہے، وہ دنیا کو [قائل] مجرم قرار دے گا‘‘ (یوحنا 16:8).

III۔ تیسری بات، پاک روح آپ کی مسیح کی جانب نشاندہی کرنے کے لیے سزا کے بارے میں قائل کرتا ہے۔

آیت گیارہ پر نظر ڈالیں،

’’اِنصاف کے بارے میں اِس لیے کہ اِس دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا جا چُکا ہے‘‘ (یوحنا 16:11).

’’اِس دُنیا کا شہزادہ‘‘ شیطان ہے۔ یسوع نے شیطان کو ’’اِس دُنیا کا شہزادہ‘‘ یوحنا14:30 میں کہا، جیسا کہ اُس نے اِس آیت میں کہا۔ شیطان کو ’’ہوا کی علمداری کا شہزادہ‘‘ افسیوں2:2 میں کہا گیا۔ غور کریں کہ شیطان کو ’’شہزادہ‘‘ کہا گیا نا کہ ’’بادشاہ‘‘۔ تنہا خُدا ہی بادشاہ ہے۔ مگر خُدا نے اِس گناہ سے بھرپور دُنیا کو شیطان کے ’’حوالے‘‘ کیا – اور کسی نا کسی دِن جلد ہی خُدا اِس کو واپس لے لے گا، کیونکہ خُدا شیطان پر قادر ہے۔

’’اور اِبلیس نے اُسے [یعنی یسوع کو] ایک اونچے مقام پر لے جا کر پل بھر میں دنیا کی ساری مملکتیں دکھا دیں۔ اور شیطان نے اُس سے کہا، میں یہ سارا اختیار اور شان و شوکت تجھے عطا کر دُوں گا کیونکہ یہ میرے سپرد کیے گئے ہیں؛ اور میں جسے چاہُوں دے سکتا ہُوں‘‘ (لوقا 4:5۔6).

جی ہاں، خُدا نے شیطان کو کچھ عرصہ کے لیے ’’اِس دُنیا کا شہزادہ‘‘ بننے کی اِجازت دی ہے ۔

مگر یوحنا16:11 ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان کو سزا پہلے ہی سے مل چکی ہے،

’’اِنصاف کے بارے میں اِس لیے کہ اِس دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا جا چُکا ہے‘‘ (یوحنا 16:11).

ڈاکٹر میگی یہ دانشمندانہ رائے پیش کرتے ہیں،

کیا اِس کا مطلب ہے کہ سزا کسی دِن آ رہی ہے؟ جی نہیں، اِس آیت میں نہیں۔ ’’انصاف کے بارے میں، کیونکہ اِس دُنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا جا چکا ہے۔‘‘ اِس دُنیا کے سردار یا شہزادے، شیطان کو پہلے ہی سزا سُنائی جا چکی ہے… ہم ایک سزا سُنائی ہوئی دُنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کوئی لوگوں کو کہتے ہوئے سُنتا ہے کہ وہ اپنے موقعے خود ہی ڈھونڈ لیں گے۔ وہ یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے اُن پر مقدمہ چل رہا ہو۔ میرے دوست [اگر آپ مسیح میں ایمان لا کر تبدیل نہیں ہوئے ہیں] تو آپ پر مقدمہ نہیں چل رہا ہے۔ خُدا آپ کو پہلے ہی سے ایک گمراہ گنہگار قرار دے چکا ہے، اور وہ آپ کو پہلے ہی سے سزا دے چکا ہے (ibid.)۔

شیطان کو پہلے ہی سے سزا مل چکی ہے۔ وہ سزا جلد ہی پوری کر دی جائے گی۔ خُدا ایسا مکاشفہ 20:10 میں کہتا ہے،

’’اور اِبلیس جس نے اُنہیں گمراہ کیا تھا گندھک اور آگ کی جھیل میں ڈالا جائے گا جہاں وہ حیوان اور جھوٹا نبی بھی ہوگا اور وہ دِن رات ابد تک عذاب میں رہیں گے‘‘ (مکاشفہ 20:10).

جو یوحنا نے انبیانہ طور پر (وقت سے آگے) مکاشفہ 20:10 میں دیکھا وہ پہلے ہی سے ایک طے شُدہ حقیقت ہے۔ شیطان کو پہلے ہی سے سزا سُنائی جا چکی ہے۔ یہ ایک ماضی کا گزرا ہوا ایک نتیجہ ہے کہ اُس کو آگ کی جھیل میں جھونکا جائے گا۔ شیطان تو محض اپنی سزا کے پورے کیے جانے کے لیے انتظارکر رہا ہے۔ شیطان موت کی قطار میں کھڑے ایک آدمی کی مانند ہے جو جہنم میں دائمی عذاب کے گیس چیمبر کا انتظار کر رہا ہے۔

اور پاک روح ایک گمراہ گنہگار کو قائل کرتا ہے کہ سزا اُس کے لیے بھی آ رہی ہے۔ آپ سزا کے تحت ہیں – بالکل ابھی،

’’اِنصاف کے بارے میں اِس لیے کہ اِس دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا جا چُکا ہے‘‘ (یوحنا 16:11).

صرف تنہا شیطان ہی موت کی قطار میں دائمی آگ کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔ آپ بھی موت کی قطار میں کھڑے ہیں۔ صرف پاک روح ہی آپ کو یہ خطرہ دکھا سکتا ہے۔ وہ مسیح کو مرکز میں رکھتا ہے – آپ پر یہ ظاہر کرنے کے ذریعے سے کہ آپ کو بھی سزا کا سامنا کرنا ہے جب تک کہ آپ مسیح یسوع میں نہیں۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

پاک روح کا مرکز مسیح ہوتا ہے۔ وہ مسیح کو آپ کی نجات سے تعلق رکھتے ہوئے ہر منزل کے مرکز میں مسیح کو رکھتا ہے!

مسیح نے کہا،

’’جو بیٹے پر ایمان نہیں لاتا اُس پر پہلے ہی سزا کا حکم ہو چُکا ہے‘‘ (یوحنا3: 18).

آپ پہلے ہی سے سزا پائے ہوئے ہیں اگر آپ مسیح میں نہیں ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر میگی نے اِس کو تحریر کیا،

میرے دوست… خُدا پہلے ہی سے آپ کو ایک گمراہ گنہگار قرار دے چکا ہے، اور وہ آپ کو پہلے ہی سے سزا سُنا چکا ہے (ibid.)۔

یسوع نے کہا،

’’جو بیٹے پر ایمان نہیں لاتا اُس پر پہلے ہی سزا کا حکم ہو چُکا ہے‘‘ (یوحنا3:18).

میں دعا مانگتا ہوں کہ پاک روح آپ کو قائل کرے کہ آپ پہلے ہی سے خُدا کی جانب سے مجرم ٹھہرائے جا چکے ہیں۔

’’اِنصاف کے بارے میں اِس لیے کہ اِس دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا جا چُکا ہے‘‘ (یوحنا 16:11).

میں دعا مانگتا ہوں کہ خُدا کا پاک روح آپ کو آپ کے گناہ سے بھرپور دِل، آپ کی مسخ شُدہ فطرت کے بارے میں قائل کرے۔ میں دعا مانگتا ہوں کہ وہ آپ کو قائل کرے کہ صرف مسیح کا خون اور راستبازی ہی آپ کو خُدا کی مخصوص سزا اور جہنم کی دائمی آگ سے نجات دلا سکتا ہے۔

اور یوں، پاک روح کا عظیم کام آپ کو قائل کرنا ہے کہ آپ کو یسوع مسیح کی ضرورت ہے۔ وہ صلیب پر آپ کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے قربان ہوا۔ اُس کا خون آپ کے گناہوں کو دھو سکتا ہے۔ پاک روح آپ کی مسیح کی جانب نشاندہی کراتا ہے۔

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ مسیح کے پاس آئیں اور تنہا اُسی کے وسیلے سے نجات پائیں۔ یہی ہے جس کی مذہبی سُدھار والے، پیوریٹن، پہلی عظیم بیداری کے ایونجیلسٹوں کے ساتھ ساتھ ہمارے بپٹست آباؤ اِجداد نے بھی تعلیم دی اِس سب سے زیادہ اہم موضوع پر خُدا کے کلام میں سے اُن کی تعلیمات کو مسترد کرنا غیر محفوظ ہے۔ کاش پاک روح آپ کو مسیح کی جانب اُس کے قیمتی خون سے پاک صاف ہونے کے لیے کھینچے!


اگر اس واعظ نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز آپ سے سُننا پسند کریں گے۔ جب ڈاکٹر ہائیمرز کو لکھیں تو اُنہیں بتائیں جس ملک سے آپ لکھ رہے ہیں ورنہ وہ آپ کی ای۔میل کا جواب نہیں دیں گے۔ اگر اِن واعظوں نے آپ کو برکت دی ہے تو ڈاکٹر ہائیمرز کو ایک ای میل بھیجیں اور اُنہیں بتائیں، لیکن ہمیشہ اُس مُلک کا نام شامل کریں جہاں سے آپ لکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہائیمرز کا ای میل ہے rlhymersjr@sbcglobal.net (‏click here) ۔ آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو کسی بھی زبان میں لکھ سکتے ہیں، لیکن اگر آپ انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تو انگریزی میں لکھیں۔ اگر آپ ڈاکٹر ہائیمرز کو بذریعہ خط لکھنا چاہتے ہیں تو اُن کا ایڈرس ہے P.O. Box 15308, Los Angeles, CA 90015.۔ آپ اُنہیں اِس نمبر (818)352-0452 پر ٹیلی فون بھی کر سکتے ہیں۔

(واعظ کا اختتام)
آپ انٹر نیٹ پر ہر ہفتے ڈاکٹر ہائیمرز کے واعظ www.sermonsfortheworld.com
یا پر پڑھ سکتے ہیں ۔ "مسودہ واعظ Sermon Manuscripts " پر کلک کیجیے۔

یہ مسوّدۂ واعظ حق اشاعت نہیں رکھتے ہیں۔ آپ اُنہیں ڈاکٹر ہائیمرز کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر سکتے
ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر ہائیمرز کے ہمارے گرجہ گھر سے ویڈیو پر دوسرے تمام واعظ اور ویڈیو پیغامات حق
اشاعت رکھتے ہیں اور صرف اجازت لے کر ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

واعظ سے پہلے کلام پاک کی تلاوت ڈاکٹرکرھیٹن ایل۔ چعین Dr. Kreighton L. Chan نے کی تھی: یوحنا 16:7۔11
واعظ سے پہلے اکیلے گیت مسٹر بینجیمن کینکیڈ گریفتھ Mr. Benjamin Kincaid Griffith
نے گایا تھا: ’’جی ہاں، میں جانتا ہوں!Yes, I Know! ‘‘ (شاعر آنہ ڈبلیو۔ واٹرمینAnna W. Waterman ، 1920)۔

لُبِ لُباب

پاک روح مسیح کو مرکز میں رکھتا ہے

THE HOLY SPIRIT IS CHRISTOCENTRIC

ڈاکٹر آر۔ ایل ہائیمرز، جونیئر کی جانب سے
by Dr. R. L. Hymers, Jr.

’’وہ میرے بارے میں گواہی دے گا‘‘ (یوحنا 15:26).

(یوحنا 16:13۔14؛ 5:39؛ 2۔ تیموتاؤس 3:15؛ یوحنا 1:29).

I.    پہلی بات، پاک روح آپ کو مسیح کی جانب نشاندہی کروانے کے لیے گناہ کے بارے میں قائل کرتا ہے یوحنا 16:8۔9؛ واعظ 9:3؛ یرمیاہ 17:9؛ یوحنا 8:9؛ اشعیا 53:3۔

II.   دوسری بات، پاک روح آپ کی مسیح کی جانب نشاندہی کرنے کے لیے راستبازی کے بارے میں قائل کرتا ہے، یوحنا 16:10؛ رومیوں 4:5۔6؛ اعمال 2:22؛ 1۔ کرنتھیوں 1:30؛ عبرانیوں 11:7۔

III. تیسری بات، پاک روح آپ کی مسیح کی جانب نشاندہی کرنے کے لیے سزا کے بارے میں قائل کرتا ہے۔ یوحنا 16:11؛ 14:30؛ افسیوں 2:2؛ لوقا 4:5۔6؛ مکاشفہ 20:10؛ یوحنا 3:18۔